Tag: سندھ

  • سکھر: دریائے سندھ کے کنارے واقع ‘ستین جو آستھان’ کے متعلق کون سی روایتیں جڑی ہیں؟

    سکھر: دریائے سندھ کے کنارے واقع ‘ستین جو آستھان’ کے متعلق کون سی روایتیں جڑی ہیں؟

    سکھر کے تاریخی منظرنامے میں میر معصوم شاہ بکھری ایک منفرد اور اہم شخصیت کے طور پر یاد کیے جاتے ہیں۔ محقق سید امداد حسین شاہ کے مطابق، یہ شخصیت نہ صرف سندھ کے مغلیہ دور کی حکومتی اور فوجی ذمہ داریوں کی نمائندگی کرتی ہے بلکہ علمی، ادبی اور ثقافتی خدمات کی بھی علامت ہے۔ انہوں ساگا ڈیجیٹل کو بتایا کہ میر معصوم شاہ بکھری نے سندھ میں انتظامی اصلاحات کیں، مقامی مسائل حل کیے اور سندھ کی تحریری تاریخ میں نمایاں حصہ ڈالا۔ ان کی معروف تصنیف “تاریخِ معصومی” سندھ کی قدیم تاریخ اور معاشرتی حقائق کے لیے ایک اہم ماخذ ہے۔

    سید امداد حسین شاہ نے مزید کہا کہ میر معصوم شاہ بکھری کی شخصیت میں ادب، شعر و شاعری اور خطاطی کا بھی گہرا تعلق تھا، اور وہ اس دور کے علمی حلقوں میں فعال کردار ادا کرتے رہے۔

    دیگر محققین کے مطابق، مغل شہنشاہ اکبر کے دور میں انہیں سندھ کا گورنر مقرر کیا گیا، جہاں انہوں نے نہ صرف انتظامی امور سنبھالے بلکہ مقامی عوام کی فلاح و بہبود کے لیے بھی اقدامات کیے۔ ان کی بصیرت اور قیادت نے سکھر اور اس کے گرد و نواح کے علاقوں کو امن و استحکام فراہم کیا۔

    سید امداد حسین شاہ کے مطابق، میر معصوم شاہ بکھری نے اپنی زندگی میں ایک منفرد تعمیر، مینار بنانے کا فیصلہ کیا جو کہ کتب مینار کی طرز پر ہے ۔ یہ مینار نہ صرف شہر کی پہچان ہے بلکہ مغلیہ فنِ تعمیر اور عددی اہتمام کی ایک مثال بھی ہے۔ مینار کی تعمیر کا آغاز تقریباً 1595ء میں ہوا اور بعد میں میر معصوم شاہ کے بیٹے نے اسے مکمل کروایا۔

    مینار کی خاص بات اس کی عددی ترتیب اور پیمائش ہے: بنیاد اور اندرونی سیڑھیاں 84 عدد میں رکھی گئی ہیں، جبکہ عمارت کی اونچائی بھی تقریباً 84 فٹ ہے۔ بعض تاریخی حوالوں میں بتایا گیا ہے کہ مینار کی بنیاد بھی 84 فٹ چوڑی ہے، جو اس کی مضبوطی اور استحکام کی دلیل ہے۔ اوپری حصہ گنبد نما ہے، جہاں سے شہر اور دریائے سندھ کے علاقوں کا نظارہ ممکن ہوتا ہے۔ سید امداد حسین شاہ کے مطابق یہ ترتیب محض جمالیاتی نہیں بلکہ اس دور کے فنِ تعمیر اور علامتی اہمیت کی بھی عکاس ہے۔

    مینار کو دیگر محققین کے مطابق اکثر “نگرانی ٹاور” کے طور پر بھی استعمال کیا جاتا تھا تاکہ شہر اور دریائے سندھ کے اردگرد کے علاقوں پر نظر رکھی جا سکے۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ یہ عمارت علمی اور ثقافتی علامت بھی تھی۔ تحقیقی کتب اور مقامی دستاویزات میں ذکر ہے کہ مینار کی تعمیر میں سرخ اینٹیں، چونے کے پتھر اور مقامی و راجستھان سے منگوائے گئے پتھر استعمال کیے گئے، جو نہ صرف اس کی مضبوطی بلکہ فنّی خوبصورتی کی بھی دلیل ہیں۔

    یہ مینار گھومتی سیڑھیوں کے ذریعے چوٹی تک جاتی ہے، جو مغلیہ فنِ تعمیر کی مہارت کی عکاس ہے۔ مزید قابل ذکر بات یہ ہے کہ مینار کے ساتھ ہی میر معصوم شاہ بکھری کو دفن کیا گیا اور اسی مقام پر ان کے خاندان کے دیگر افراد کی قبریں بھی موجود ہیں، جس سے یہ جگہ نہ صرف تاریخی بلکہ یادگار مقام بھی بن جاتی ہے۔

    مینار اور میر معصوم شاہ بکھری کی شخصیت آج بھی شہریوں اور سیاحوں کے لیے کشش کا مرکز ہیں۔ ان کی علمی، ادبی، حکومتی اور فوجی خدمات کے علاوہ یہ عمارت فنِ تعمیر اور عددی اہتمام کی مثال کے طور پر موجود ہے۔ دیگر محققین بھی متفق ہیں کہ میر معصوم شاہ اور ان کا مینار سندھ کے تاریخی اور ثقافتی ورثے کا لازمی حصہ ہیں، جن کی موجودگی شہر کی شناخت اور تاریخی تعلیم کے لیے اہم ہے۔

    سید امداد حسین شاہ نےکہا کہ تاریخی ورثے کی حفاظت نہ صرف مقامی حکومت بلکہ ثقافتی اداروں کی مشترکہ ذمہ داری ہے تاکہ آنے والی نسلیں اس کی اصل اہمیت سے واقف رہیں۔ مینار کی حفاظت، مرمّت اور تحقیقی کام جاری رہنا چاہیے تاکہ یہ تاریخی ورثہ زندہ اور آنے والی نسلوں کے لیے محفوظ رہے۔ اس کے ساتھ ہی، میر معصوم شاہ کی علمی اور حکومتی خدمات بھی یاد رکھنا ضروری ہے تاکہ سندھ کی تاریخ کا یہ اہم باب ہمیشہ زندہ رہے

  • اقوام متحدہ نے سندھ کے قدیم لوک ساز بوڑینڈو کو عالمی ثقافتی ورثے کی فہرست میں شامل کرلیا

    اقوام متحدہ نے سندھ کے قدیم لوک ساز بوڑینڈو کو عالمی ثقافتی ورثے کی فہرست میں شامل کرلیا

    اقوام متحدہ کے تعلیمی، سائنسی اور ثقافتی ادارے (یونیسکو) نے سندھو تہذیب کے پانچ ہزار سال قدیم شہر موہن جو دڑو کے قدیمی آثار سے کھدائی کے دوران ملنے والے قدیم لوک ساز بوڑینڈو کو عالمی ثقافتی ورثے میں شامل کرلیا۔

    نئی دہلی میں یونیسکو کی بین الحکومتی کمیٹی برائے تحفظ غیر مادی ثقافتی ورثہ کے منگلو کو ہونے والے بیسویں اجلاس میں سندھ کے قدیم لوک ساز بوڑینڈو کو عالمی غیر مادی ثقافتی ورثے کی فہرست میں شامل کیا گیا۔

    انڈیا میں پاکستان کی ہائی کمیشن نے سماجی رابطے کی ویب سائیٹ ایکص (سابق ٹوئٹر) پر اس خبر کی تصدیق کی۔

    https://x.com/PakinIndia/status/1998407287174832225

    ایکس کی پوسٹ میں پاکستان کے فرسٹ سیکریٹری شعیب سرور نے سندھ کے قدیم ساز بوڑینڈو کو عالمی ثقافتی ورثے میں شامل کرنے پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بوڑینڈو انڈس سویلائزیشن کی پانچ ہزار سال قدیم تہذیب کی جیتی جاگتی بازگشت ہے جو انسان کی تخلیقی صلاحیت اور یہ مقامی ثقافتی روح کی علامت ہے۔ اندراج پاکستان کی ثقافتی روایات اور مشترکہ انسانی ورثے کا اعتراف اور مسرت کا موقع ہے۔

    بوڑینڈو بنیادی طور پر چرواہوں کا ساز ہے مگر اب یہ میوزک کا اہم حصہ ہے۔ یہ موسیقی کا آلہ مٹی سے گولائی میں بنایا جاتا ہے۔ کسی زمانے میں یہ ساز کچا بجایا جاتا تھا مگر اب اسے بھٹی میں پکاتے ہیں۔

    بوڑینڈو مٹی سے بنا ساز ہے اس لیے یہ بھی کہا جاتا ہے کہ انسان کے بنائے ہوئے اوائلی سازوں میں سے ایک ساز ہے۔ اور یہ پُھونک سے بجنے والے سازوں میں آتا ہے۔ جیسے بانسری، الگوزو، مرلی وغیرہ۔

    اس وقت سندھ میں بوڑینڈو بجانے والے بہت ہے کم لوگ رہ گئے ہیں۔ ان میں سے ذوالفقار لونڈ سب سے زیادہ مشہور اور اچھا بوڑینڈو بجانے والے ہیں۔
    ذوالفقار لونڈ کو بوڑینڈو بجانے پر پرائیڈ آف پرفارمنس ایوارڈ اور سندھ کا سب سے مشہور شاہ لطیف ایوارڈ بھی مل چکا ہے۔

  • کوٹری: ‘مردانہ طاقت کے لیے مفید’ دریائے سندھ کی بغیر چھلکے والی بام مچھلی

    کوٹری: ‘مردانہ طاقت کے لیے مفید’ دریائے سندھ کی بغیر چھلکے والی بام مچھلی

    سردیوں کی صبح کوٹری بیراج کے نیچے دھند کے ہلکے پردے میں لپٹی ہوئی ہے۔ دریائے سندھ کا پانی گہرا اور خاموش ہے، مگر اس خاموشی میں ایک کشتی کی ہلکی سی آواز ابھرتی ہے۔ یہ عبدالمجید ملاح کی کشتی ہے۔

    ایک ایسا ماہی گیر جو اپنی پوری زندگی اسی دریا کے ساتھ گزارتا آیا ہے۔

    عبدالمجید ملاح 50 سال کے سادہ مزاج شخص ہیں۔ لیکن دریا کے معاملے میں ان کا تجربہ کسی کتاب سے کہیں زیادہ ہے۔ جال سنبھالتے ہوئے وہ بتاتے ہیں کہ دریا کے ہر موسم کی اپنی زبان ہوتی ہے اور وہ زبان صرف وہی سمجھ سکتا ہے جو نسلوں سے ان پانیوں میں سانس لے رہا ہو۔

    ساگا ڈیجیٹل سے گفتگو کرتے ہوئے عبدالمجید ملاح نے کہا: ‘کچھ مچھلیاں روایتی طور پر ‘گرم’ سمجھی جاتی ہیں اور لوگ انہیں جسمانی طاقت، خاص طور پر مردانہ توانائی کے لیے فائدہ مند مانتے ہیں۔

    عبدالمجید کے مطابق الّاچی مچھلی، سینگاڑہ اور بام سب سے زیادہ گرم تاثیر والی اور طاقت بخش مچھلیاں سمجھی جاتی ہیں۔ ‘بغیر جھلکے والی مچھلی ہمیشہ سے مردانہ طاقت کے لیے خاص طور پر مفید مانی جاتی رہی ہے۔’

    یہ تمام باتیں روایتی علم اور مقامی اعتقادات کا حصہ ہیں، جو ماہی گیروں کی نسلوں میں منتقل ہوتی رہی ہیں۔ عبدالمجید انہیں یقین کے ساتھ بیان کرتا ہے، لیکن ساتھ یہ بھی بتاتے ہیں کہ یہ باتیں اس کے بزرگوں کے تجربات اور مشاہدات کا حصہ تھیں۔

    وہ مسکراتے ہوئے کہتا ہے کہ اگر کوئی شخص یہ گرم تاثیر والی مچھلیاں کھا لے تو شدید سردی میں بھی دریائے سندھ کے ٹھنڈے پانی میں چھلانگ لگا سکتا ہے۔ اسے یقین ہے کہ دریا بھی طاقت دیتا ہے اور مچھلی بھی۔

    جال کھینچتے ہوئے اس کے ہاتھ میں ایک تازہ سینگاڑہ آتی ہے۔ وہ اسے دیکھ کر کہتا ہے کہ یہ دریا کی بہترین مچھلیوں میں شمار ہوتی ہے۔ ذائقے میں بھی اعلیٰ، اور روایتی اعتبار سے طاقت بخش بھی۔

    دھوپ کی ہلکی سی کرنیں جیسے ہی دریا پر پڑتی ہیں، منظر بدلنے لگتا ہے۔ پانی کی سطح چمکنے لگتی ہے، اور عبدالمجید کشتی کو آہستہ آہستہ کنارے کی طرف لے جاتا ہے۔

    اس کے چہرے پر اطمینان ہے، اس کا آج کا دن بھی دریا کے نام رہا۔

    کنارے پر اترتے ہوئے وہ کہتا ہے کہ دریا انسان کی محنت کا بدلہ ضرور دیتا ہے۔

    اس کے نزدیک سندھ کا دریا صرف پانی نہیں، روزگار، روایت، طاقت اور زندگی کا استعارہ ہے۔

    عبدالمجید کی باتیں سائنس کی نہیں، بلکہ صدیوں سے چلے آنے والے لوک علم کا حصہ ہیں۔

    کوٹری بیراج کے نیچے بہتا ہوا دریائے سندھ آج بھی ایسے لوگوں کی زندگیوں کا مرکز ہے، جو اس کے رحم و کرم، اس کی سخاوت اور اس کی کہانیوں کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں۔

  • ایک بچی کی موت کے باعث بننے والا سندھ کا قانون (امل عمر) ایکٹ 2019 کیا ہے؟

    ایک بچی کی موت کے باعث بننے والا سندھ کا قانون (امل عمر) ایکٹ 2019 کیا ہے؟

    سندھ میں حادثات، فائرنگ، حملوں یا کسی بھی ایمرجنسی میں زخمی شخص کو بغیر کسی قانونی کارروائی یا پولیس رپورٹ کا انتظار کیے فوری طبی امداد کو یقینی بنانے کے لیے نافذ کیا جانے والا قانون ایک بچی کی موت کے بعد بنایا گیا۔

    اس قانون کو سندھ اِنجرڈ پرسنز کمپلسری میڈیکل ٹریٹمنٹ (امل عمر) ایکٹ 2019 کا نام دیا گیا۔
    13 اگست 2018 میں امل عمر اور ان کے والدین کراچی میں ایک کانسرٹ دیکھنے جارہے تھے۔ ٹریفک سگنل پر ان کی گاڑی کے قریب ایک ڈکیت آگیا، ڈکیتی کے بعد پولیس کی جانب سے ہونے والی فائرنگ کے نتیجے میں امل کی موت واقع ہوئی۔

    اس واقع میں پولیس کے کردار پر تو انگلیاں اُٹھیں لیکن ساتھ ہی پرائیوٹ ہسپتال بھی تنقید کا نشانہ بنے۔ جب امل عمر کو گولی لگی تو ان کے والدین اُنہیں قریب ترین ہسپتال نیشنل میڈیکل سینٹر لے گئے۔ امل کی والدہ کے مطابق ہسپتال کے عملے نے ان کے مدد کرنے کے بجائے تاخیر سے کام لیا جس کی وجہ سے ان کا انتقال ہوگیا۔

    سپریم کورٹ نے اس واقعے کا از خود نوٹس لیا۔ سوشل میڈیا پر وائرل پوسٹس میں صارفین نے سندھ حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔

    جس کے بعد سندھ حکومت نے سندھ اِنجرڈ پرسنز کمپلسری میڈیکل ٹریٹمنٹ قانون اسمبلی سے پاس کرایا۔ اس قانون کو (امل عمر) ایکٹ 2019 کا نام دیا گیا۔

    یہ قانون اس لیے بنایا گیا تھا تاکہ حادثات، فائرنگ، حملوں یا کسی بھی ایمرجنسی میں زخمی شخص کو بغیر کسی قانونی کارروائی یا پولیس رپورٹ کا انتظار کیے فوری طبی امداد مل سکے۔

    اس کی وجہ وہ واقعات تھے جن میں اسپتالوں نے خوف یا غلط فہمی کی وجہ سے فوری علاج سے انکار کیا، اور جانیں ضائع ہو گئیں۔
    اس قانون کے مطابق سندھ میں کوئی بھی ہسپتال، چاہے وہ سرکاری ہو یا نجی، کسی بھی زخمی کو داخل کرنے یا ابتدائی طبی امداد دینے سے انکار نہیں کر سکتا۔

    ہسپتال پولیس کیس کے ڈر سے مریض کو نہیں روک سکتے، نہ ہی پولیس رپورٹ یا ایف آئی آر کا انتظار کیا جائے گا۔ جان بچانا ہمیشہ پہلی ترجیح ہوگی۔
    قانون یہ بھی واضح کرتا ہے کہ مریض یا لواحقین سے فوری طور پر پیسے مانگ کر علاج روکنا بھی جرم ہے۔ ہسپتال پر لازم ہے کہ وہ ابتدائی علاج کرے، مریض کو اسٹبلائز کرے، اور اگر ضرورت ہو تو مناسب سہولت والے ہسپتال ریفر کرے۔

    اگر کوئی ہسپتال اس قانون کی خلاف ورزی کرے تو اس پر جرمانہ بھی ہو سکتا ہے، اور ہسپتال انتظامیہ کے خلاف قانونی کارروائی بھی کی جا سکتی ہے۔
    یہ ایکٹ ہنگامی حالات میں انسانی جان کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے بنایا گیا تھا، تاکہ کسی بھی زخمی شخص کی زندگی کاغذی کارروائی یا غلط فہمیوں کی وجہ سے ضائع نہ ہو۔

    اگر آپ یا آپ کے آس پاس کبھی کوئی حادثہ پیش آئے، تو یاد رکھیے: سندھ کے کسی بھی ہسپتال کی قانونی ذمہ داری ہے کہ وہ فوری علاج فراہم کرے۔