کیا آپ کو معلوم ہے کہ سندھ حکومت ہر سال عوام کے ٹیکس سے تقریباً ساڑھے سولہ ارب روپے پیپلز پرائمری ہیلتھ کیئر انیشی ایٹو سندھ کو دیتی ہے۔ یہ ادارہ صوبے میں بنیادی صحت کے نظام کی ذمہ داری سنبھالے ہوئے ہے اور اسے عام طور پر پی پی ایچ آئی کہا جاتا ہے۔
پی پی ایچ آئی سندھ سنہ 2012 کے بعد صوبے کے بیشتر دیہی بنیادی صحت مراکز کے انتظامات سنبھال چکا ہے۔ کاغذوں میں اس کا مقصد سادہ ہے، دیہات تک علاج پہنچانا، ماں اور بچے کی صحت بہتر بنانا اور ایسے مریضوں کو سہولت دینا جو شہروں تک نہیں پہنچ سکتے۔
اس خطیر رقم کے بدلے پی پی ایچ آئی پر لازم ہے کہ وہ بنیادی صحت مراکز چلائے۔ دیہی علاقوں میں روزمرہ علاج کی سہولت فراہم کرے۔ حاملہ خواتین اور نوزائیدہ بچوں کی نگہداشت یقینی بنائے۔ مراکز میں ڈاکٹر، طبی عملہ اور ضروری ادویات دستیاب رکھے۔
ادارے کا دعویٰ ہے کہ سندھ بھر میں سینکڑوں بنیادی صحت مراکز فعال ہیں اور دیہی آبادی کو علاج کی سہولت میسر ہے۔ رپورٹس میں اعداد و شمار موجود ہیں، عمارتیں موجود ہیں اور نظام کاغذ پر مکمل دکھائی دیتا ہے۔
لیکن زمینی حقیقت پر سوالات اب بھی اپنی جگہ ہیں۔ کیا آپ کے گاؤں کا بنیادی صحت مرکز روزانہ کھلتا ہے۔ کیا ڈاکٹر مقررہ وقت پر موجود ہوتا ہے۔ کیا مریض کو دوا ملتی ہے یا صرف پرچی پکڑا دی جاتی ہے۔ کیا ایمرجنسی کی صورت میں فوری علاج ممکن ہوتا ہے۔
اگر مراکز واقعی فعال ہیں تو پھر مریض شہروں کا رخ کیوں کرتے ہیں۔ غریب خاندان نجی اسپتالوں پر قرض کیوں اٹھاتے ہیں۔ بنیادی سہولت ہونے کے باوجود عوام دربدر کیوں نظر آتے ہیں۔
یہ بھی ایک کم معلوم حقیقت ہے کہ کئی دیہی مراکز میں عمارت تو موجود ہے مگر عملہ عارضی ہے یا بار بار تبدیل ہوتا رہتا ہے، جس سے علاج کا تسلسل متاثر ہوتا ہے اور مریض کا اعتماد ٹوٹتا ہے۔
اصل سوال یہی ہے کہ جب سندھ حکومت ہر سال ساڑھے سولہ ارب روپے پی پی ایچ آئی کو دیتی ہے تو عوام کا حق ہے کہ وہ پوچھیں۔ یہ پیسہ کہاں خرچ ہو رہا ہے۔ سہولت صرف فائلوں میں ہے یا زمین پر بھی۔ اور اگر علاج میسر نہیں تو اس کی ذمہ داری کس پر عائد ہوتی ہے۔
