عمر خیام، فردوسی اور حافظ شیرازی کا دیس ایران آج کل ایک بار پھر عالمی میڈیا کی سرخیوں میں ہے۔ مہنگائی، بے روزگاری اور حکومتی نظام سے بیزاری نے خاص طور پر نوجوانوں کو سڑکوں پر لا کھڑا کیا ہے۔
اطلاعات کے مطابق درجنوں شہری جان سے جا چکے ہیں، ہزاروں گرفتار ہوئے ہیں، اور حالات کے بگڑتے ہی فیس بک، ایکس، انسٹاگرام اور ٹیلیگرام جیسی معروف سوشل میڈیا سروسز بھی ملک میں بلاک کر دی گئیں۔
کوئی اسے عرب بہار کا ایرانی ایڈیشن قرار دے رہا ہے، تو کوئی بنگلہ دیش اور شام کی طرز پر انتشار پھیلانے کی امریکی سازش۔ ویسے بھی ایران کی تاریخ میں یہ باب نیا نہیں۔ 1953 میں ڈاکٹر مصدق کی حکومت کے خلاف سی آئی اے کی کارروائیوں کا حوالہ آج بھی بحث میں زندہ ہے۔
جب ڈاکٹر مصدق نے ایرانی تیل کمپنیوں کو قومی تحویل میں لینے کا فیصلہ کیا تو سی آئی اے نے ڈالروں کا استعمال کر کے ڈاکٹر مصدق کے خلاف مظاہرے کروائے اور حکومت چھوڑنے پر مجبور کیا۔
احتجاج کیوں بھڑکے؟
احتجاج کی تازہ لہر 28 دسمبر 2025 کو اٹھی اور دیکھتے ہی دیکھتے پورے ایران میں پھیل گئی۔ ابتدا میں کہا گیا کہ انڈوں، گوشت اور روزمرہ ضروریات کی قیمتوں میں اچانک اضافے نے عوام کو سڑکوں پر نکالا۔
بنیادی سبب یہ بتایا جا رہا ہے کہ ایرانی کرنسی کی قدر امریکی ڈالر کے مقابلے میں غیر معمولی حد تک گر گئی۔
تاریخ کی ستم ظریفی دیکھیے کہ جس ملک میں ایک دور میں شاہِ ایران کی شان و شوکت کے تذکرے ہوتے تھے، یہاں تک کہ 1970 میں 2500 سالہ جشنِ شاہنشاہی میں فرانس کے ہوٹلوں سے کھانے منگوائے گئے اور جنگل میں منگل کا سماں تھا، جس میں پاکستان کے سابق فوجی آمر یحییٰ خان بھی شریک ہونے پہنچے تھے، آج اسی ملک کے شہری انڈوں کی قیمتوں پر احتجاج کرتے دکھائی دے رہے ہیں۔
داخلی و خارجی دباؤ، چیلنجز کی بھرمار
یہ حقیقت ہے کہ ایران اس وقت اندرونی اور بیرونی، دونوں سطحوں پر شدید دباؤ کی زد میں ہے۔ 2024 کے بعد سے مہنگائی، کرنسی کی گرتی قدر اور توانائی کی قلت نے صورتحال کو مسلسل دباتے رکھا، جس کے نتیجے میں بار بار بجلی اور گیس کی بندشیں سامنے آئیں، اور صدر مسعود پزشکیاں کو عوام سے معذرت بھی کرنا پڑی۔
دوسری طرف علاقائی منظرنامے میں بھی ایران کو جھٹکے لگے۔ شام میں اسد حکومت کا خاتمہ، غزہ میں حماس کے بعض اہم ٹھکانوں اور شخصیات کے خلاف کارروائیاں، اور لبنان میں حزب اللہ کی قیادت کو نشانہ بنانے جیسے واقعات نے ایرانی اثرورسوخ پر سوالات اٹھا دیے۔
اعداد و شمار کیا کہتے ہیں؟
2025 کے آخری مہینوں میں زرِ مبادلہ کی منڈی میں بے مثال ہلچل دیکھی گئی۔
ایرانی ریال یا تومان تیزی سے گرا اور ڈالر کے مقابلے میں شرح تبادلہ تقریباً ایک لاکھ پینتالیس ہزار تومان تک پہنچنے کا تذکرہ ہوا۔
سرکاری ادارہ شماریات کے مطابق دسمبر 2025 میں مہنگائی 42.2 فیصد رہی، جو نومبر کے مقابلے میں 1.8 فیصد اضافہ تھا۔ خوراک کی قیمتیں سال بہ سال 72 فیصد بڑھیں، جبکہ صحت اور طبی سامان 50 فیصد تک مہنگا ہوا۔
پانی کے بحران کی بدانتظامی بھی عوامی بے چینی میں اضافہ کر رہی ہے۔ مزید یہ کہ ایرانی میڈیا کے مطابق حکومت نے 21 مارچ، ایرانی نئے سال، سے ٹیکس بڑھانے کا عندیہ دیا، جس سے شہریوں میں تشویش مزید بڑھی۔ اسی پس منظر میں احتجاج کے دوران یہ نعرہ بھی سنائی دیا، نہ غزہ، نہ لبنان، میری جان ایران پر قربان۔
احتجاج کا رخ کہاں گیا؟
وقت کے ساتھ احتجاج محض مہنگائی تک محدود نہ رہا۔ بدعنوانی، سخت گیر طرزِ حکمرانی، اور داخلی ضرورتوں کے مقابلے میں پراکسیز، مثلاً حزب اللہ اور حماس، کو ترجیح دینے کے الزامات بھی نمایاں ہوئے۔
ساتھ ہی ایران کو کرد، آذربائجانی، خوزستانی عرب اور بلوچ علاقوں میں علیحدگی پسند تحریکوں کے چیلنجز، اور امریکا اور اسرائیل جیسے طاقتور ممالک کے دباؤ کا بھی سامنا ہے۔
زرِ مبادلہ کی صورتحال نے بحران کو مزید گہرا کیا۔ بتایا گیا کہ 29 دسمبر کو ریال تاریخی کم ترین سطح پر گیا۔ حکومت نے 3 جنوری کو شرح میں مصنوعی بہتری لانے کی کوشش کی، مگر 6 جنوری تک کرنسی پھر نئی کم ترین حد توڑ گئی، اور اس کے ساتھ ہی خوراک سمیت ضروری اشیا کی قیمتیں مزید اوپر چلی گئیں۔
ماہرین کی نظر میں وجوہات
معاشی ماہرین کے مطابق حکومتی مانیٹری اور مالیاتی پالیسیاں، مسلسل بدانتظامی، دائمی بجٹ خسارہ اور بین الاقوامی پابندیوں کا تسلسل بنیادی اسباب ہیں۔ درآمدات پر انحصار کرنے والے کاروبار خاص طور پر متاثر ہوئے۔ شرحِ تبادلہ کے شدید اتار چڑھاؤ نے تاجروں کے لیے قیمتیں مقرر کرنا، سپلائی حاصل کرنا اور کاروبار چلانا مشکل بنا دیا۔
سیاسی مفہوم، نعرے، گرفتاریاں اور طاقت کا استعمال
رپورٹس کے مطابق احتجاج کی سیاسی جہت اس وقت نمایاں ہوئی جب مرگ بر خامنہ ای جیسے نعرے لگے، جن کا رخ سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی جانب سمجھا گیا۔
صدر پزشکیاں سے بھی عوامی توقعات کمزور پڑتی دکھائی دیں۔ کہا گیا کہ وہ 2024 میں گڈ گورننس کے وعدوں کے ساتھ آئے تھے، مگر پانی اور بجلی کی بندشیں جاری رہیں اور انٹرنیٹ سنسرشپ میں خاطر خواہ نرمی نہ آ سکی۔
اگرچہ پرامن احتجاج کے آئینی حق کی بات کی گئی اور نمائندوں سے ملاقات کے وعدے بھی سامنے آئے، مگر سیکورٹی اداروں پر صدارتی اختیار محدود بتایا جاتا ہے۔
یکم جنوری 2026 تک متعدد گرفتاریاں، اور بعض مقامات پر براہِ راست گولی چلانے کے واقعات کا ذکر بھی سامنے آیا، جن میں طلبہ، پنشنرز اور نوجوان شامل بتائے گئے۔
پس منظر میں جوہری معاہدہ، ٹرمپ اور نئی کشیدگیاں
اس تناظر میں 2013 میں حسن روحانی کے تبدیلی کے نعروں، 2015 کے جوہری معاہدے اور پابندیوں میں جزوی نرمی کا حوالہ بھی اہم ہے۔
پھر ڈونلڈ ٹرمپ کے اقتدار میں آنے کے بعد معاہدے سے دستبرداری، سفری پابندیوں میں سختی اور یروشلم سے متعلق امریکی فیصلوں نے خطے میں کشیدگی بڑھائی، اور ایران کی بے چینی میں اضافہ ہوا۔
تازہ مظاہروں کے دوران بھی امریکی بیانات، ٹویٹس اور سابق شاہِ ایران کے صاحبزادے رضا پہلوی کی سرگرمیوں کو بعض حلقے بیرونی پشت پناہی کے اشارے کے طور پر دیکھتے ہیں۔
کل لندن میں ایران کے سفارتخانے پر شاہِ ایران کے دور کا پرچم دوبارہ لہرایا گیا، اور یہ منظر بی بی سی سمیت دنیا بھر کے نیوز چینلز نے ایکسکلیوزلی نشر کیا۔
اندرونِ ملک، ثقافتی اور سیاسی غصہ
1979 سے پہلے ایران کو نسبتاً جدید اور کھلا معاشرہ سمجھا جاتا تھا۔ انقلاب کے بعد ولایتِ فقیہ کے نظام کے نفاذ کے ساتھ سماجی اور ثقافتی پابندیاں بڑھیں۔ فنونِ لطیفہ، گائیکی اور عوامی طرزِ زندگی پر قدغنیں لگیں۔ اسی تبدیلی نے ایک بڑے طبقے، خصوصاً نوجوانوں میں، ریاستی اور مذہبی قیادت کے خلاف ناراضی کو جنم دیا۔
ایران کے سیاسی ڈھانچے میں اگرچہ صدارتی اور پارلیمانی ادارے موجود ہیں، مگر اصل مرکزِ اختیار سپریم لیڈر ہے۔ مجلسِ خبرگان کو سپریم لیڈر کے انتخاب اور برطرفی کا اختیار حاصل ہے۔ پارلیمان کے 290 اراکین حکومت کی نگرانی کرتے ہیں، مگر آبادی کا بڑا حصہ، تیس سال سے کم عمر، ایسا ہے جو انقلاب کے بعد پیدا ہوا اور اپنی سماجی اور معاشی حقیقتوں میں جینے پر مجبور ہے۔
ایران کے لیے اس وقت سعودی عرب کی پالیسیاں بھی ایک چیلنج ہیں، جہاں ایم بی ایس نے مذہبی ماحول کے باوجود کنسرٹس اور عورتوں کو ڈرائیونگ کی اجازت دی، جس سے ایران پر یہ دباؤ بڑھ گیا ہے کہ وہ بھی لبرل اوپن نیس کی پالیسی کو آگے بڑھائے۔
یہی وہ دبی ہوئی چنگاری ہے جو اب بار بار بھڑکتی نظر آتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ یہ چنگاری وقتی دباؤ میں بجھ جائے گی، یا ایران کے اندر کوئی بڑا سیاسی اور سماجی موڑ پیدا کرے گی؟ کیا یہ ابھار وقتی ثابت ہوگا، یا تاریخ ایک بار پھر دہرائی جائے گی، جیسے خمینی ایئر فرانس کی فلائٹ سے پیرس سے تہران پہنچے تھے؟ کیا پرنس رضا شاہ بھی واشنگٹن سے اسی انداز میں لنگرانداز ہوں گے؟
خمینی کی آمد کے وقت 1979 میں ایک افواہ اڑی کہ ایران کی نامور ترین گلوکارہ خانم گگوش کو مذہبی پولیس نے گھر میں گھس کر مار دیا ہے، اگرچہ یہ بعد میں افواہ ہی ثابت ہوئی۔ اس موقع پر سندھی کے نامور رومانوی شاعر حسن درس نے خانم گگوش لکھی تھی، جس کا منظوم ترجمہ درج ذیل ہے۔
خانم گگوش کی تصویر کے فریم میں
ایک ملک قید ہے،
جس کی سرحدوں کے اندر جوانی ممنوع ہے۔
تاریخ کے سگریٹ کو
جب تیلی نے چھوا
تو وقت سلگ اٹھا،
اور ایک لمبی کش میں
درد کا سرمئی دھواں
ہوا میں بکھرنے لگا۔
خمینی
تم ایک راکھ کی طرح
اپنی قبر کی ایش ٹرے میں
بے معنی ہو کر جھڑ جاؤ گے۔
گگوش کی آنکھوں میں
ایک کربلا چونک کر جاگ اٹھتی ہے،
اور خوابوں کے حسین
اپنے قتل کی ناانصافی پر
ہر یزید، ہر خمینی کے
ابدی زوال اور موت کو روندتے ہوئے
دل کے نئے موسموں کے
نئے عنوان بن جاتے ہیں۔
درد کی اس پرانی جھیل پر
جب دیس اور پردیس کے پرندے
اکٹھے اڑان بھریں گے
تو نیلگوں آسمان میں بھی
پرندوں کا ایک بادل
جھیل پر سایہ کر دے گا۔
تب کروڑوں لڑکے اور لڑکیاں
جوانی کی شاخ پر
زندگی کی کمر میں بانہیں ڈالے
مسلسل ہنستے رہیں گے،
اور اُن قہقہوں میں
گگوش ہمیشہ جوان رہے گی۔
حسن درس