Tag: حکومت

  • سندھ حکومت کا تمام قیدیوں کے بچوں کو نجی تعلیمی اداروں میں مفت تعلیم دینے کا اعلان

    سندھ حکومت کا تمام قیدیوں کے بچوں کو نجی تعلیمی اداروں میں مفت تعلیم دینے کا اعلان

     سندھ حکومت نے صوبے کے تمام جیلوں میں قید سزا یافتہ قیدیوں کے بچوں کو نجی تعلیمی اداروں میں پرائمری سے یونیورسٹی تک مفت تعلیم دینے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ان بچوں کی تعلیمی اخراجات صوبائی حکومت ادا کرے گی۔

    سندھ کے محکمہ جیل خانہ جات کے رکارڈ کے مطابق سندھ میں کل 27 جیلیں ہیں، جن میں سے تین بند ہیں۔ بقیہ 24 جیلوں میں اس وقت 24 ہزار قیدی موجود ہیں۔

    محکمہ تعلیم سندھ، محکمہ جیل خانہ جات اور غیر سرکاری تنظیم ‘پیغام پاکستان’ کے اشتراک سے صوبے کے جیلوں میں قید قیدیوں کے بچوں کو مفت تعلیم کا بندوبست کیا جائے گا۔

    ساگا ڈیجیٹل سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر تعلیم سندھ سردار علی شاہ نے کہا جب کسی فرد کو سزا ہوتی ہے اور جیل میں آجاتا ہے تو ان کے خاندان کی کفالت کے ساتھ بچوں کی تعلیم بری طرح متاثر ہوتی ہے اور بغیر تعلیم کے بچے جرائم کرنا شروع کردیتے ہیں۔

    سردار علی شاہ کے مطابق: ‘یہ ریاست کی ذمی داری ہے کہ وہ تمام شہریوں کو مساوی حقوق دے، اس لیے سندھ حکومت نے فیصلہ کیا کہ صوبے کی جیلوں میں موجود قیدیوں کے بچوں کو اچھے نجی تعلیمی اداروں میں مفت تعلیم دی جائے۔

    ‘اب تک ہمارے پاس چار ہزار قیدیوں کے بچوں کے کوائف موصول ہوگئے ہیں، جن کی مفت تعلیم کے لیٹر جاری کیے جارہے ہیں۔ اس لیٹر کے ساتھ قیدیوں کے بچے کسی بھی اچھی پراویٹ سکول میں داخلہ لیں اور ان تعلیمی اداروں کا مکمل خرچہ سندھ حکومت ادا کرے گی۔

    ‘یہ تعلیم پرائمری سے یونیورسٹی تک دی جائے گی۔ اس وقت سندھ کے تمام جیلوں میں 24 ہزار قیدی موجود ہیں۔ تمام قیدیوں کے بچوں کے کوائف آجائیں تو پھر اندازہ ہوگا کہ کتنے بچوں کو مفت تعلیم دی جائے گی۔’

  • وفاقی حکومت، سرکاری افسران کے اثاثوں کی مکمل معلومات کو خفیہ کیوں رکھنا چاہتی ہے؟

    وفاقی حکومت، سرکاری افسران کے اثاثوں کی مکمل معلومات کو خفیہ کیوں رکھنا چاہتی ہے؟

    وفاقی حکومت نے گریڈ 17 اور اس سے اوپر کے سرکاری افسران کے اثاثوں کی مکمل تفصیلات عوام کے سامنے لانے سے انکار کرتے ہوئے کہا ہے کہ سکیورٹی وجوہات کی بنا پر صرف اثاثوں کی منتخب اور غیر حساس معلومات عوام کے لیے جاری کی جائیں گی۔

    حکومت کا کہنا ہے کہ اس سلسلے میں نئے نظام کے تحت اثاثوں کی تفصیلات جمع، جانچ اور پھر محدود معلومات عوام کے سامنے پیش کی جائیں گی۔

    روزنامہ ڈان کے مطابق وزیر خزانہ کے سیکریٹری امداد اللہ بوسل نے قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ و محصولات کے اجلاس میں بتایا کہ سرکاری افسران کے اثاثوں کی مکمل تفصیلات ظاہر نہیں کی جائیں گی۔ تاہم اس نظام کے تحت گریڈ 17 اور اس سے اوپر کے افسران کے اثاثوں سے متعلق منتخب معلومات رواں سال دسمبر تک عوام کے سامنے لائی جائیں گی۔

    حکومت نے یہ فیصلہ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی شرائط پوری کرنے کے لیے کیے جانے والے اقدامات کے تحت کیا ہے۔ تاہم قائمہ کمیٹی کے ارکان نے حکومت کے مؤقف پر سوالات اٹھائے۔ ارکان کا کہنا تھا کہ جب صدر اور وزیراعظم سمیت سیاست دانوں کو اپنے اثاثوں کی مکمل تفصیلات ظاہر کرنا پڑتی ہیں تو سرکاری افسران کے لیے الگ اصول کیوں ہونا چاہیے۔

    ارکان نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ عوامی عہدوں پر کام کرنے والے افسران کے اثاثوں میں شفافیت کیوں نہیں ہونی چاہیے۔ ان کا مؤقف تھا کہ سرکاری افسران بھی ریاستی اختیارات استعمال کرتے ہیں، اس لیے ان کے مالی معاملات میں شفافیت ضروری ہے۔

    وزیر خزانہ کے سیکریٹری نے اس اعتراض کا براہِ راست جواب نہیں دیا۔ تاہم انہوں نے بتایا کہ اس حوالے سے اسٹیبلشمنٹ ڈویژن اور وفاقی محصولات کے ادارے نے بڑے پیمانے پر تکنیکی کام مکمل کیا ہے۔

    نئے نظام کے تحت افسران اپنے اثاثوں اور آمدن کی تفصیلات مقررہ طریقہ کار کے مطابق جمع کرائیں گے۔

    حکومت نے وفاقی سرکاری افسران کے اثاثوں اور آمدن کی تفصیلات جمع کرانے کے موجودہ دستی نظام کو ختم کرکے اسے آن لائن کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

    اس مقصد کے لیے وفاقی محصولات کے ادارے کے آن لائن نظام پر ایک نیا انتظام کیا گیا ہے۔ گریڈ 17 اور اس سے اوپر کے تمام وفاقی افسران کو مالی سال 2025-26 کے لیے اپنی آمدن اور اثاثوں کی تفصیلات اسی آن لائن نظام کے ذریعے جمع کرانا ہوں گی۔

    اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کی جانب سے جاری کردہ یادداشت کے مطابق افسران کو اپنی تفصیلات جمع کرانے کے لیے مقررہ آن لائن نظام استعمال کرنا ہوگا۔ اثاثوں کی تفصیلات جمع کرانے کی آخری تاریخ 30 اکتوبر 2026 مقرر کی گئی ہے۔

    نئے طریقہ کار کے تحت سرکاری افسران کو پہلے اپنا نام، عہدہ، فعال ذاتی ای میل، موبائل فون نمبر اور قومی شناختی کارڈ نمبر اپنے متعلقہ ادارے کے انتظامی افسر کو فراہم کرنا ہوگا۔ متعلقہ افسر یہ معلومات وفاقی محصولات کے ادارے کو بھیجے گا۔

    اس کے بعد متعلقہ سرکاری افسر کے لیے آن لائن نظام پر اکاؤنٹ بنایا جائے گا۔ اکاؤنٹ بننے کے بارے میں افسر کو ای میل، پیغام یا مقررہ طریقے سے اطلاع دی جائے گی۔

    افسر اپنا شناختی کارڈ نمبر اور ایک مرتبہ استعمال ہونے والے پاس ورڈ کے ذریعے اکاؤنٹ فعال کرے گا اور پھر اپنا پاس ورڈ مقرر کرے گا۔

    آن لائن نظام میں داخل ہونے کے بعد افسر کو اثاثوں کی تفصیلات جمع کرانے کا اختیار دیا جائے گا۔ اس حصے میں مختلف معلومات درج کرنا ہوں گی۔ حکومت نے اس مقصد کے لیے تفصیلات کی ایک مخصوص فہرست بھی تیار کی ہے۔

    جمع کرائی جانے والی معلومات کی جانچ بھی کی جائے گی۔ وفاقی محصولات کا ادارہ خطرے کی بنیاد پر افسران کی فراہم کردہ معلومات کی جانچ کرے گا۔ اگر کسی افسر کی طرف سے ظاہر کیے گئے اثاثوں اور دستیاب معلومات میں کوئی فرق سامنے آیا تو اس کی اطلاع متعلقہ انتظامی ادارے کو دی جائے گی۔

    نئے نظام کے تحت کسی افسر کے اثاثوں میں بے ضابطگی سامنے آنے کی صورت میں اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کارروائی کر سکے گا۔ اس طرح حکومت نے اثاثوں کی تفصیلات جمع کرانے کے ساتھ ساتھ ان کی جانچ کا طریقہ کار بھی وضع کیا ہے۔

    اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کے مطابق اثاثوں کی تفصیلات کے غیر حساس حصوں میں سے منتخب معلومات وفاقی محصولات کے ادارے کی ویب سائٹ پر عوام کے لیے جاری کی جائیں گی۔ تاہم مکمل اثاثہ جات اور دیگر حساس معلومات عوام کے سامنے نہیں لائی جائیں گی۔

    حکومت کا کہنا ہے کہ مکمل معلومات جاری نہ کرنے کی ایک بڑی وجہ سرکاری افسران کی سکیورٹی ہے۔ حکام کے مطابق تمام تفصیلات عوامی سطح پر جاری کرنے سے بعض افسران کے لیے سکیورٹی کے مسائل پیدا ہوسکتے ہیں۔

    دوسری جانب شفافیت کے حوالے سے یہ فیصلہ اہم بحث کو جنم دے سکتا ہے، خاص طور پر اس لیے کہ حکومت خود سرکاری اداروں میں احتساب اور شفافیت بہتر بنانے کے لیے اثاثوں کی ڈیجیٹل تفصیلات جمع کرنے کا نظام متعارف کرا رہی ہے۔

    حکومت کے مطابق نئے نظام کا مقصد سرکاری افسران کے اثاثوں کی تفصیلات کو ایک مرکزی اور ڈیجیٹل نظام میں لانا، ان کی جانچ کرنا اور بے ضابطگیوں کی صورت میں کارروائی کرنا ہے۔ اس کے ساتھ عوام کو بھی اثاثوں سے متعلق منتخب غیر حساس معلومات فراہم کی جائیں گی۔

    اثاثوں کی تفصیلات میں کسی غلطی کی صورت میں افسران کو اس کی درستی کا موقع بھی دیا جائے گا۔ نئے طریقہ کار کے تحت 30 نومبر 2026 تک آن لائن نظام میں غلط معلومات کی اصلاح کی جا سکے گی، تاہم اس کے لیے متعلقہ انتظامی افسر کی منظوری ضروری ہوگی۔

    یوں حکومت نے ایک طرف سرکاری افسران کے اثاثوں کی تفصیلات کو ڈیجیٹل بنانے اور ان کی جانچ کا نظام شروع کر دیا ہے، جبکہ دوسری طرف مکمل معلومات عوام کے سامنے نہ لانے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس فیصلے پر پارلیمان میں شفافیت، احتساب اور سرکاری افسران کے لیے یکساں اصولوں کے حوالے سے مزید بحث متوقع ہے۔

  • سندھ کے تاریخی بندرگاہ کیٹی بندر کی از سر نو بحالی کے لیے سندھ حکومت نے کیا منصوبہ بندی کی ہے؟

    سندھ کے تاریخی بندرگاہ کیٹی بندر کی از سر نو بحالی کے لیے سندھ حکومت نے کیا منصوبہ بندی کی ہے؟

    دریائے سندھ کے ڈیلٹا میں واقع سندھ کے ضلع ٹھٹھہ کا تاریخی شہر کیٹی بندر ایک بار پھر بڑے بحری اور تجارتی منصوبے کے مرکز میں آگیا ہے۔ تاریخی طور پر یہاں ایک اہم بندرگاہ موجود تھی، جبکہ اب سندھ حکومت نے کیٹی بندر کو جدید گہرے سمندر کی بندرگاہ اور بڑے تجارتی مرکز میں تبدیل کرنے کا منصوبہ پیش کیا ہے۔

    حالیہ دنوں وزیراعلیٰ سندھ نے منصوبے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ سندھ حکومت شہید محترمہ بینظیر بھٹو کے وژن کے مطابق کیٹی بندر کو جدید گہرے سمندر کی بندرگاہ میں تبدیل کرے گی۔

    سندھ حکومت کے مطابق مجوزہ کیٹی بندر انٹیگریٹڈ کوریڈور کو صرف ایک بندرگاہ تک محدود نہیں رکھا جائے گا، بلکہ اسے بحری تجارت، لاجسٹکس، صنعت، توانائی، ماہی گیری اور سیاحت کے ایک مربوط مرکز کے طور پر ترقی دینے کا منصوبہ ہے۔

    حکومت کے مطابق یہ منصوبہ پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت آگے بڑھایا جائے گا، جبکہ کیٹی بندر میری ٹائم، فشریز اینڈ پیٹرولیم اکنامک کوریڈور میں ایک ارب سے ڈھائی ارب ڈالر تک کی سرمایہ کاری کی صلاحیت موجود ہے۔

    مجوزہ منصوبے میں گہرے سمندر کی بندرگاہ کے ساتھ لاجسٹکس اور گوداموں کی سہولیات، صنعتی زونز، توانائی کا بنیادی ڈھانچہ، جدید ماہی گیری بندرگاہ، سمندری خوراک کی پراسیسنگ اور برآمدی سہولیات شامل ہوں گی۔

    کیٹی بندر کو مستقبل کے توانائی کے گیٹ وے کے طور پر بھی ترقی دینے کی تجویز ہے، جہاں ایل این جی، آر ایل این جی اور ایل پی جی کی درآمدی سہولیات سمیت توانائی کے دیگر بنیادی ڈھانچے قائم کرنے کا منصوبہ ہے۔

    فزیبلٹی اسٹڈی کے مطابق مجوزہ ترقی کے لیے تقریباً چار ہزار ایکڑ اراضی کی نشاندہی بھی کی جاچکی ہے۔

    منصوبے کے پہلے مرحلے میں کیٹی بندر اور شاہ بندر میں جدید سہولیات سے آراستہ چھوٹی ماہی گیری کی بندرگاہیں قائم کرنے کی تجویز ہے۔ ان بندرگاہوں میں جدید نیلامی ہال، کولڈ اسٹوریج، کشتیوں کے لنگر انداز ہونے کی سہولیات اور ماہی گیری سے متعلق دیگر خدمات فراہم کی جائیں گی۔

    دوسرے مرحلے میں مکمل تجارتی گہرے سمندر کی بندرگاہ تعمیر کرنے کا منصوبہ ہے۔

    سندھ حکومت کے مطابق منصوبے میں دلچسپی رکھنے والی چینی فرم چائنا ہاربر انجینئرنگ کمپنی نے کیٹی بندر پورٹ کا ماسٹر پلان بھی پیش کیا ہے۔ منصوبے میں نئی گہرے پانی کی بحری گزرگاہ، متعدد ٹرمینلز اور لاجسٹکس انفراسٹرکچر شامل ہیں۔

    ماسٹر پلان کے پہلے مرحلے میں پانچ سو میٹر طویل بحری جہازوں کے لنگر انداز ہونے اور سامان یا مسافروں کو اتارنے کے لیے مضبوط ساحلی پلیٹ فارم تعمیر کرنے کے ساتھ ملٹی پرپز ٹرمینل کی تجویز دی گئی ہے، جبکہ ابتدائی انجینئرنگ لاگت تقریباً پانچ کروڑ 22 لاکھ امریکی ڈالر بتائی گئی ہے۔

    سندھ حکومت کے اس منصوبے سے کیٹی بندر سندھ کے ساحلی علاقے میں ایک نئے بحری اور تجارتی مرکز کے طور پر سامنے آسکتا ہے۔ منصوبے کا مقصد بندرگاہی سرگرمیوں، برآمدات، ماہی گیری، توانائی، صنعت اور روزگار کو ایک ہی اقتصادی کوریڈور سے جوڑنا ہے۔

    سندھ حکومت کے مطابق کیٹی بندر کی ترقی سے کراچی کی بندرگاہ پر دباؤ کم کرنے، پاکستان کے بحری اور لاجسٹکس نیٹ ورک کو وسعت دینے اور سندھ کے ساحلی علاقوں کی معاشی صلاحیت کو بروئے کار لانے میں مدد مل سکتی ہے۔

  • 6 اگست 1990:جب صدر غلام اسحاق خان نے وزیر اعظم بینظیر بھٹو کی منتخب حکومت برطرف کی

    6 اگست 1990:جب صدر غلام اسحاق خان نے وزیر اعظم بینظیر بھٹو کی منتخب حکومت برطرف کی

    6 اگست 1990 کا دن پاکستان کی سیاسی، جمہوری اور آئینی تاریخ میں ایک اہم اور تاریخی موڑ کی حیثیت رکھتا ہے۔ اس دن اُس وقت کے صدر غلام اسحاق خان نے آئین کے آرٹیکل 58 (2) (ب) کے تحت اپنے صدارتی اختیارات کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے وزیر اعظم بینظیر بھٹو کی منتخب حکومت کو برطرف کر دیا اور قومی اسمبلی کو تحلیل کرکے ایک نیا سیاسی بحران پیدا کر دیا۔

    1977 میں وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کی منتخب حکومت ختم کرنے کے بعد جنرل ضیاء الحق نے ملک میں مارشل لا نافذ کیا اور ایک ایسے تاریک دور کی بنیاد رکھی جس نے پاکستان کی سیاسی تاریخ کو اپنی فاشسٹ اور آمرانہ طرزِ حکومت سے ہلا کر رکھ دیا۔

    فوجی ظلم و بربریت کے اس دور میں سیاسی کارکنوں، پاکستان پیپلز پارٹی کے کارکنوں اور جمہوریت پسند افراد پر ناقابلِ بیان تشدد کیا گیا۔ مخالفین کی آواز دبانے کے لیے سرِعام کوڑے مارے گئے، قیدیوں کو طویل قید اور تنہائی کی سزائیں دی گئیں۔

    ملک میں خوف اور ہراس کا ایسا ماحول پیدا کیا گیا تاکہ کوئی بھی آمر کے خلاف آواز بلند نہ کر سکے۔ جنرل ضیاء کی آمریت کا سب سے بزدلانہ اور سیاہ ترین اقدام ذوالفقار علی بھٹو کو عدالتی قتل کے ذریعے پھانسی دینا تھا۔

    لیکن تاریخ کی حقیقت یہ ہے کہ بھٹو کی شہادت نے مظلوم عوام کو خوفزدہ کرنے کے بجائے ان کے اندر جمہوریت اور مزاحمت کی آگ کو مزید بھڑکا دیا۔

    سندھ سمیت پورے پاکستان میں عوامی سطح پر ایک تاریخی جدوجہد شروع ہوئی جس نے آمریت کی بنیادوں کو ہلا کر رکھ دیا۔

    والد کی شہادت اور اپنی ذات پر ہونے والی بے شمار قید و بند اور نظر بندیوں کے باوجود، کم عمر بینظیر بھٹو نے اپنے والد کے مشن کو جاری رکھا اور کسانوں، مزدوروں اور عوام کا سہارا بن کر سامنے آئیں۔

    ایم آر ڈی، یعنی تحریک بحالی جمہوریت کے تحت ملک میں آمریت کے خلاف جو زبردست تحریک چلی، اس میں ہزاروں نوجوانوں اور خواتین نے گرفتاریاں دیں اور اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔ اس پُرعزم جدوجہد نے جنرل ضیاء کے اقتدار کی بنیادیں ہلا دیں۔

    آخرکار 17 اگست 1988 کو ایک طیارہ حادثے میں جنرل ضیاء الحق کی موت کے بعد ملک میں نومبر 1988 میں عام انتخابات ہوئے۔

    آئی ایس آئی کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل حمید گل نے انتخابات میں بینظیر بھٹو کا راستہ روکنے کے لیے تمام مخالف جماعتوں کو ملا کر اسلامی جمہوری اتحاد (IJI) بنایا، لیکن اس کے باوجود پاکستان پیپلز پارٹی (PPP) نے 93 نشستیں حاصل کر کے تمام سیاسی جماعتوں پر برتری حاصل کی۔

    پاکستان پیپلز پارٹی کے ٹکٹوں کے لیے ملک بھر میں ایسا جوش و خروش تھا کہ تقریباً اٹھارہ ہزار سے زائد درخواستیں موصول ہوئیں۔

    انتخابات میں پاکستان پیپلز پارٹی اکثریتی جماعت بن کر سامنے آئی۔ پاکستان کی فوجی اسٹیبلشمنٹ نے مجبوری میں بینظیر بھٹو کو مشروط طور پر اقتدار دینے کا فیصلہ کیا۔

    صرف 35 برس کی عمر میں بینظیر بھٹو نے دنیا کی کم عمر ترین اور مسلم دنیا کی پہلی خاتون وزیر اعظم کے طور پر حلف اٹھایا۔ طویل آمریت کے خلاف جدوجہد کی وجہ سے دنیا بھر میں ان کی تعریف کی گئی، اور مغربی دنیا میں مثبت تاثر پیدا ہونے کے باعث پاکستان کو ملنے والی غیر ملکی امداد، جو پہلے 2.6 ارب ڈالر تھی، بڑھ کر 3.4 ارب ڈالر تک پہنچ گئی۔

    دسمبر 1988سے اگست 1990 تک بینظیر بھٹو کا 18 ماہ کا دورِ حکومت سمجھوتوں، سازشوں اور سیاسی اتار چڑھاؤ کی ایک المناک داستان ہے۔ انہیں اقتدار سے دور رکھنے کی کوششیں انتخابات سے پہلے ہی شروع ہو چکی تھیں۔

    بینظیر بھٹو کو اقتدار کی باگ ڈور دینے سے پہلے پاکستان کی فوجی اسٹیبلشمنٹ کو ان کے بارے میں کچھ خدشات تھے۔ اسی لیے آرمی چیف جنرل اسلم بیگ نے بینظیر بھٹو سے ملاقات کر کے درج ذیل شرائط رکھیں:

    1۔ ملک کے صدر غلام اسحاق خان ہی رہیں گے۔

    2۔ وزیر خارجہ لیفٹیننٹ جنرل (ر) صاحبزادہ یعقوب علی خان ہوں گے۔

    3۔ بھارت کے ساتھ تعلقات، کشمیر اور افغانستان سے متعلق معاملات فوجی قیادت کے مشورے سے طے کیے جائیں گے۔

    4۔ جنرل ضیاء الحق کے خاندان سمیت اُن تمام فوجی افسران کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی جائے گی جن پر مارشل لا کے دور میں ظلم و زیادتی کے الزامات تھے۔

    5۔ پاکستان کی ایٹمی پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں کی جائے گی۔

    6۔ فوج میں تقرریوں اور تبادلوں کے معاملات میں مداخلت نہ کرنے کی ضمانت لی جائے گی۔

    بیوروکریسی کے اعلیٰ عہدے پر موجود صدر غلام اسحاق خان نے پہلے ہی دن سے بینظیر بھٹو کو انتظامی اور قانونی رکاوٹیں کھڑی کرکے مشکلات میں ڈالنا شروع کر دیا۔

    بینظیر بھٹو کے وزیرِ اعظم بننے کے بعد کئی دنوں تک کوئی بھی سرکاری فائل ان کے پاس نہیں بھیجی گئی بلکہ تمام فائلیں براہِ راست ایوانِ صدر بھیجی جاتی رہیں۔

    صدر غلام اسحاق خان اور وزیرِ اعظم بینظیر بھٹو کے درمیان پہلا بڑا اختلاف مارشل لا کے دور کے سیاسی قیدیوں کی رہائی اور عام معافی کے معاملے پر ہوا۔

    صدر غلام اسحاق خان قانونی جواز کا سہارا لے کر سیاسی قیدیوں کی رہائی روکنا چاہتے تھے، لیکن وزیرِ اعظم بینظیر بھٹو نے ایک انتظامی حکم (ایگزیکٹو آرڈر) جاری کرکے مارشل لا کے دور میں قید تمام سیاسی کارکنوں کو جیلوں سے رہا کرنے کا حکم دے دیا۔

    اس کے بعد وزیرِ اعظم بینظیر بھٹو نے آئی ایس آئی کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل حمید گل کو عہدے سے ہٹا کر لیفٹیننٹ جنرل شمس الرحمن کلو کو نیا ڈی جی آئی ایس آئی مقرر کر دیا۔

    اس کے بعد پاکستان کی مسلح افواج میں ایک اہم تقرری کا معاملہ سامنے آیا۔ جنرل ضیاء الحق نے اپنے قابلِ اعتماد ساتھی جنرل اختر عبدالرحمان کو چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی مقرر کیا تھا، لیکن وہ 17 اگست 1988 کو جنرل ضیاء الحق کے ساتھ فضائی حادثے میں جاں بحق ہو گئے تھے۔

    آرمی چیف جنرل اسلم بیگ اس عہدے پر اپنی پسند کے جنرل کو مقرر کرنا چاہتے تھے، لیکن وزیرِ اعظم بینظیر بھٹو نے پاکستان کی تینوں مسلح افواج میں سب سے سینئر فوجی افسر، بحریہ کے سربراہ ایڈمرل افتخار سروہی کو چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی مقرر کر دیا۔

    اس طرح ملک میں سول اور فوجی قیادت کے تعلقات مسلسل خراب ہوتے گئے۔

    دوسری طرف ملک کے مختلف صوبوں میں مختلف سیاسی جماعتوں کی حکومتیں قائم تھیں۔ سندھ اور سرحد (موجودہ خیبر پختونخوا) میں پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومتیں تھیں، جبکہ پنجاب میں میاں نواز شریف اور بلوچستان میں نواب اکبر بگٹی وزیرِ اعلیٰ تھے۔

    پنجاب میں میاں نواز شریف کی قیادت میں اسلامی جمہوری اتحاد (آئی جے آئی) کی حکومت نے وفاقی حکومت کے خلاف سخت محاذ قائم کر لیا۔

    ستمبر 1989 میں ایم کیو ایم نے بینظیر حکومت سے اپنی حمایت واپس لے لی۔ کراچی میں امن و امان کی خراب صورتِ حال کے پیشِ نظر فوج نے آئین کے آرٹیکل 245 کے تحت مکمل اختیارات طلب کیے، لیکن بینظیر بھٹو نے ایسے اختیارات دینے کی مخالفت کی، جس کے نتیجے میں حکومت اور فوج کے تعلقات میں کشیدگی پیدا ہو گئی۔

    24 اکتوبر 1989کو اپوزیشن نے 98 ارکان کے دستخطوں کے ساتھ وزیرِ اعظم بینظیر بھٹو کی حکومت کے خلاف تحریکِ عدم اعتماد جمع کرائی۔ یکم نومبر کو ہونے والی رائے شماری میں حکومت نے 124 ووٹ حاصل کرکے کامیابی حاصل کی، اور اس طرح بینظیر بھٹو کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک ناکام ہو گئی، لیکن اس سیاسی کشمکش نے ملکی نظام کو اندر سے کمزور کر دیا۔

    ایم کیو ایم اور پیپلز پارٹی کے سیاسی راستے الگ ہونے کے بعد کراچی اور حیدرآباد میں نسلی نفرت اور تصادم کو ہوا دی گئی۔ اس وقت سندھ، خاص طور پر کراچی اور حیدرآباد، شدید نسلی اور سیاسی کشیدگی کی لپیٹ میں تھے۔ مہاجر قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) اور پاکستان پیپلز پارٹی کے درمیان بڑھتی ہوئی سیاسی کشمکش اور شہری علاقوں میں مسلح سرگرمیوں نے صورتِ حال کو انتہائی خراب کر دیا۔

    سندھیوں اور اردو بولنے والوں کے درمیان فاصلے بڑھتے گئے اور ایک دوسرے پر اعتماد کم ہوتا گیا۔

    اپریل 1990 میں کراچی میں آل پاکستان مہاجر اسٹوڈنٹس فیڈریشن کے گروپوں کے درمیان مسلح تصادم شروع ہوا، جس میں پیپلز اسٹوڈنٹس فیڈریشن (پی ایس ایف) کے چند کارکن مارے گئے۔

    جوابی کارروائی میں پیپلز اسٹوڈنٹس فیڈریشن کے کراچی کے صدر نجیب احمد کی قیادت میں پی ایس ایف کے کارکنوں نے عزیز آباد میں ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین کی رہائش گاہ پر فائرنگ کی۔ اس کے جواب میں ایم کیو ایم کے کارکنوں نے نجیب احمد کو قتل کر دیا۔

    دونوں جماعتوں نے ایک دوسرے کے کئی کارکنوں کو اغوا کرکے یرغمال بنا لیا۔ بعد میں کور 5 کے کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل نصیر اختر کی مداخلت کے بعد فوج کی موجودگی میں دونوں فریقوں نے اپنے اپنے یرغمال کارکن ایک دوسرے کے حوالے کیے۔

    اسی طرح کی صورتِ حال حیدرآباد میں بھی پیدا کی گئی۔ ایم کیو ایم کے کارکنوں نے کھاہی روڈ، فقیر جو پڑ، واڈھن جو پڑ، گاڑی کھاتہ اور دیگر کئی سندھی آبادیوں پر حملے کیے۔ ان حملوں کے نتیجے میں کئی سندھی خاندان بے گھر ہو گئے اور ان کے گھروں پر قبضے کیے گئے۔ بہت سے لوگ مارے گئے، جبکہ لڑکیوں کے ساتھ زیادتی کے چند واقعات بھی رپورٹ ہوئے۔ وارداتوں کے بعد ملزمان حیدرآباد کے پکا قلعہ میں جا کر پناہ لیتے تھے۔

    پکا قلعہ آپریشن

    مئی 1990 میں حکومت نے پکا قلعہ میں آپریشن کیا۔

    حکومت اور انتظامیہ کا مؤقف تھا کہ پکا قلعہ کے اندر غیر قانونی اسلحے کے ذخیرے موجود ہیں اور وہاں سے دہشت گردی کی سرگرمیاں چلائی جا رہی ہیں۔ اس لیے آپریشن کا مقصد اسلحہ برآمد کرنا اور ملزمان کو گرفتار کرنا تھا۔

    اس آپریشن کے دوران شدید مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا۔ قلعے کے اندر سخت فائرنگ اور محاصرہ ہوا، جس کے نتیجے میں عام شہری، جن میں خواتین اور بچے بھی شامل تھے، بڑی تعداد میں جاں بحق اور زخمی ہوئے۔

    پکا قلعہ آپریشن نے حیدرآباد کے سماجی ڈھانچے اور پاکستان کی سیاست پر گہرے اور دیرپا اثرات چھوڑے۔

    سیاسی اتحاد کا خاتمہ

    یہ آپریشن ایسے وقت میں ہوا جب 1988 کا کراچی معاہدہ اب بھی نافذ تھا، جس کے تحت پاکستان پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم مل کر حکومت چلا رہی تھیں۔ اس آپریشن کے بعد دونوں جماعتوں کے راستے ہمیشہ کے لیے الگ ہو گئے، اور وفاق میں بینظیر بھٹو کی حکومت کے خلاف عدم اعتماد کی فضا مزید مضبوط ہو گئی۔

    نسلی تعصب اور پولرائزیشن میں اضافہ

    اس واقعے نے حیدرآباد کی دو بڑی لسانی برادریوں (اردو بولنے والے اور سندھی بولنے والے) کے درمیان فاصلے مزید بڑھا دیے، جس کے باعث شہر میں کئی دہائیوں تک بے اعتمادی کا ماحول قائم رہا۔

    وفاقی حکومت کی برطرفی: اگست 1990 میں صدر غلام اسحاق خان نے آئین کے آرٹیکل 58(2)(ب) کا استعمال کرتے ہوئے محترمہ بینظیر بھٹو کی پہلی حکومت کو کرپشن، بدامنی اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے الزامات کے تحت برطرف کر دیا۔

    اس فیصلے کے جواز میں حیدرآباد کے ان واقعات کو بھی ایک اہم محرک کے طور پر پیش کیا گیا۔

    نتیجہ اور تاریخی حیثیت

    محترمہ بینظیر بھٹو کے دور میں پکا قلعہ آپریشن ریاست کی رٹ بحال کرنے کی ایک کوشش تھا، لیکن اس کا انجام انتہائی متنازع اور افسوسناک ثابت ہوا۔تاریخی اعتبار سے یہ واقعہ سندھ کی شہری سیاست کا ایک نہایت تلخ اور اہم باب سمجھا جاتا ہے، جس نے ہمیشہ کے لیے حیدرآباد کے امن، ہم آہنگی اور سیاسی مستقبل پر گہرے اثرات چھوڑے۔

    برطرفی کے اہم اسباب اور آئینی جواز

    غلام اسحاق خان منتخب حکومت کو برطرف کرنے کا پختہ ارادہ کر چکے تھے، اور روئیداد خان، شریف الدین پیرزادہ اور دیگر قانونی ماہرین کی مدد سے اس کے لیے ریفرنس تیار کیے گئے۔ 6 اگست 1990 کو جاری کیے گئے حکم نامے میں برطرفی کی درج ذیل اہم وجوہات بیان کی گئیں:

    بدعنوانی اور کرپشن کے الزامات: حکومت کے عہدیداروں اور وزراء پر کرپشن، اقربا پروری، بدانتظامی اور سرکاری فنڈز کے غلط استعمال کے الزامات لگائے گئے۔

    آرٹیکل 58(2)(ب) کا استعمال: آٹھویں آئینی ترمیم کے ذریعے صدر کو حاصل اختیارات کے تحت یہ مؤقف اختیار کیا گیا کہ حکومت آئین اور قانون کے دائرے میں رہ کر کام کرنے میں ناکام ہو چکی ہے۔

    سول ملٹری تعلقات: خارجہ پالیسی، دفاعی معاملات اور اہم عہدوں پر تقرریوں کے معاملے میں فوجی قیادت اور ایوانِ صدر کے ساتھ پیدا ہونے والی کشیدگی نے بھی اس برطرفی میں اہم کردار ادا کیا۔

    نگران حکومت اور عدالتی ردعمل

    عبوری حکومت: 6 اگست 1990 کو غلام مصطفیٰ جتوئی کی سربراہی میں نگران حکومت قائم کی گئی، جس میں بینظیر بھٹو کے سیاسی مخالفین بھی شامل تھے۔

    احتساب ریفرنس: روئیداد خان کو احتساب کا قلمدان دیا گیا اور بینظیر بھٹو کے خلاف مختلف ریفرنس، جن کے حق میں کوئی ثبوت موجود نہیں تھے، خصوصی عدالتوں میں بھیجے گئے، جہاں سے وہ بعد میں مکمل طور پر بری ہو گئیں۔

    عدالتی فیصلے: برطرفی کے خلاف سندھ، لاہور اور پشاور ہائی کورٹ میں درخواستیں دائر کی گئیں۔ لاہور ہائی کورٹ اور سندھ ہائی کورٹ نے اسمبلی کی برطرفی کو درست قرار دیا، جس سے وفاقی سیاست میں ایک انتہائی خراب روایت قائم ہوئی۔

    6 اگست 1990 کا واقعہ پاکستان کی سیاسی اور جمہوری تاریخ کا ایک تاریک باب ہے۔ اس واقعے نے یہ ثابت کیا کہ منتخب نمائندوں کو اپنی آئینی مدت پوری کرنے کا موقع دیے بغیر ہی اختیارات کی کشمکش اور آئینی ہتھکنڈوں کے ذریعے حکومت سے ہٹا دیا گیا۔

    یہ قدم ملکی سیاست میں اسٹیبلشمنٹ کی مضبوط گرفت اور طاقت کے توازن کو نقصان پہنچانے کی ایک واضح مثال تھا، جس کے اثرات کے باعث آنے والی کئی دہائیوں تک پاکستان میں جمہوریت کے استحکام اور اقتصادی ترقی شدید متاثر رہی۔

  • عمران خان کے بیٹوں کا والد کی صحت پر اظہار تشویش، حکومت نے الزامات مسترد کر دیے

    عمران خان کے بیٹوں کا والد کی صحت پر اظہار تشویش، حکومت نے الزامات مسترد کر دیے

    سابق وزیراعظم عمران خان کے دونوں بیٹوں نے اپنے والد کی صحت پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ پاکستانی حکام انہیں اپنے والد سے ملاقات کی اجازت نہیں دے رہے، جبکہ حکومت نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ عمران خان کو قانون اور جیل قواعد کے مطابق خاندان، وکلا اور ڈاکٹروں تک مناسب رسائی حاصل ہے۔ یہ دعوے اور جوابات امریکی نشریاتی ادارے سی این این کو دیے گئے انٹرویوز اور بیانات میں سامنے آئے ہیں۔

    سی این این کے مطابق سابق وزیراعظم عمران خان کی گرفتاری کو تین سال مکمل ہونے پر ان کے بیٹے قاسم خان اور سلیمان عیسیٰ خان نے لندن سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ انہیں گزشتہ سات ماہ سے اپنے والد کی صحت کے بارے میں کوئی مستند اطلاع نہیں ملی۔ ان کا کہنا تھا کہ نہ خاندان کو ملاقات کی اجازت دی جا رہی ہے، نہ وکلا کو اور نہ ہی ڈاکٹروں کو، جس کی وجہ سے انہیں اپنے والد کی صحت کے بارے میں شدید خدشات لاحق ہیں۔

    دوسری جانب عمران خان کی جماعت پاکستان تحریک انصاف کے ہزاروں کارکنوں نے بدھ کے روز ملک کے مختلف شہروں میں ریلیاں نکالیں اور عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کی رہائی کا مطالبہ کیا۔

    واضح رہے کہ عمران خان 2018 سے 2022 تک پاکستان کے وزیراعظم رہے۔ انہیں 2022 میں قومی اسمبلی میں عدم اعتماد کی تحریک کے ذریعے اقتدار سے ہٹایا گیا تھا۔ اس کے بعد وہ موجودہ حکومت کے خلاف ملک بھر میں جلسے کرتے رہے۔ عمران خان نے اپنی حکومت کے خاتمے کا الزام حکومت، اسٹیبلشمنٹ اور امریکا پر عائد کیا تھا، تاہم فوج اور امریکا دونوں نے ان الزامات کی تردید کی تھی۔

    بعد ازاں عمران خان کو بدعنوانی اور ریاستی راز افشا کرنے سمیت مختلف مقدمات میں سزا سنائے جانے کے بعد گرفتار کر لیا گیا۔ عمران خان اور ان کی جماعت ان مقدمات کو سیاسی انتقام قرار دیتی ہے، جبکہ حکومت کا مؤقف ہے کہ تمام کارروائیاں قانون کے مطابق کی جا رہی ہیں۔

    سی این این کے مطابق قاسم اور سلیمان اپنی والدہ جمائما گولڈ اسمتھ کے ساتھ 2004 میں والدین کی علیحدگی کے بعد سے برطانیہ میں مقیم ہیں۔ دونوں بھائیوں کا کہنا ہے کہ جب بھی وہ میڈیا پر اپنے والد کے حق میں بات کرتے ہیں تو پاکستان آنے کی راہ میں مزید رکاوٹیں کھڑی کر دی جاتی ہیں۔

    قاسم خان نے کہا کہ وہ پاکستان آکر اپنے والد سے ملنا چاہتے ہیں لیکن انہیں سفر کی اجازت نہیں مل رہی۔ ان کے بقول اس بات کی کوئی وجہ نہیں کہ انہیں پاکستان آنے کی اجازت نہ دی جائے۔

    اس کے جواب میں پاکستان کی وزارت اطلاعات نے سی این این کو بتایا کہ قاسم اور سلیمان دونوں کے پاس بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے قومی شناختی کارڈ موجود ہیں، اس لیے انہیں پاکستان آنے کے لیے ویزے کی ضرورت ہی نہیں۔ وزارت اطلاعات نے کہا کہ دونوں بھائیوں کے الزامات گمراہ کن ہیں اور ایک انتظامی معاملے کو سیاسی رنگ دینے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

    تاہم قاسم اور سلیمان کا کہنا تھا کہ ان کے قومی شناختی کارڈ کی مدت ختم ہو چکی ہے اور ان کی تجدید نہیں کی گئی، جبکہ وزارت اطلاعات نے اس مخصوص دعوے پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔

    ادھر انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے بھی ایک بیان جاری کرتے ہوئے پاکستانی حکام سے مطالبہ کیا کہ عمران خان اور بشریٰ بی بی کو بغیر کسی شرط کے اپنے اہل خانہ اور وکلا سے ملاقات کا حق دیا جائے۔ تنظیم نے کہا کہ

    دونوں کو مناسب طبی سہولتیں فراہم کی جائیں اور اگر انہیں تنہائی میں رکھا گیا ہے تو اس عمل کو فوری طور پر ختم کیا جائے۔

    پاکستانی حکومت نے سی این این کو جاری اپنے تفصیلی بیان میں کہا کہ عمران خان کو سات ماہ تک رابطوں سے محروم رکھنے یا خاندان، وکلا اور ڈاکٹروں سے ملاقات نہ کرانے کے دعوے مکمل طور پر غلط ہیں۔ حکومت کے مطابق ریکارڈ سے ثابت ہوتا ہے کہ عمران خان کو متعدد مواقع پر ملاقات اور رابطے کی سہولت دی گئی۔

    حکومت نے بتایا کہ عمران خان نے 21 مارچ 2026 کو اپنے ایک بیٹے سے ٹیلی فون پر بات بھی کی تھی، جس سے واضح ہوتا ہے کہ ان کے رابطے مکمل طور پر بند نہیں کیے گئے بلکہ پاکستان جیل قواعد، عدالتی احکامات اور سکیورٹی تقاضوں کے مطابق منظم کیے جا رہے ہیں۔

    حکومت نے عمران خان کی صحت کے بارے میں بھی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ان کی طبی حالت مستحکم ہے، انہیں کسی سنگین یا نظرانداز کی گئی بیماری کا سامنا نہیں اور انہیں ڈاکٹروں کی ہدایات کے مطابق علاج، ادویات اور طبی معائنہ مسلسل فراہم کیا جا رہا ہے۔

    بیان میں عمران خان کی رہائش کی تفصیلات بھی بیان کی گئیں۔ حکومت کے مطابق وہ تقریباً 30 سے 35 قیدیوں کے لیے مختص سات کمروں پر مشتمل ایک علیحدہ احاطے میں رہ رہے ہیں، جہاں انہیں بستر، گدہ، تکیے، کمبل، میز، کرسی، صفائی کی سہولتیں، ورزش کا سامان، کشادہ راہداری اور سبزہ بھی دستیاب ہے۔ حکومت کا کہنا تھا کہ یہ صورتحال اس تاثر سے بالکل مختلف ہے جو عوام کے سامنے پیش کیا جا رہا ہے۔

    تاہم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے ماضی میں بھی تحریک انصاف کے کارکنوں اور رہنماؤں کی بڑے پیمانے پر گرفتاریوں کو من مانی کارروائیاں قرار دیا ہے۔ قاسم خان نے سی این این کو بتایا کہ ان کی جماعت کے کئی کارکن اب بھی انسداد دہشت گردی کے مقدمات میں زیر حراست ہیں جبکہ متعدد افراد کو فوجی عدالتوں سے سزائیں بھی سنائی جا چکی ہیں۔

    جب دونوں بھائیوں سے پوچھا گیا کہ کیا ان کے والد حکومت کے ساتھ کسی مفاہمتی معاہدے پر آمادہ ہو سکتے ہیں، تو سلیمان خان نے کہا کہ عمران خان اس وقت تک ایسا کوئی معاہدہ نہیں کریں گے جب تک دیگر سیاسی قیدیوں کے مسئلے کا بھی کوئی حل نہ نکلے۔ قاسم خان نے بھی کہا کہ فی الحال ایسا امکان کم دکھائی دیتا ہے۔

    قاسم خان نے مزید کہا کہ حکومت ان کے والد کی تازہ طبی رپورٹ بھی جاری نہیں کر رہی، اس لیے انہیں خدشہ ہے کہ گزشتہ چند ماہ میں عمران خان کی صحت مزید خراب ہو سکتی ہے۔ انہوں نے عالمی برادری سے اپیل کی کہ وہ پاکستان کی صورتحال کا نوٹس لے اور اس معاملے پر توجہ دے۔

  • سندھ حکومت کا نجی اسکولوں کو منظوری کے بغیر فیس میں اضافہ واپس  لینے کی ہدایت

    سندھ حکومت کا نجی اسکولوں کو منظوری کے بغیر فیس میں اضافہ واپس  لینے کی ہدایت

    سندھ حکومت نے صوبے بھر کے نجی تعلیمی اداروں کو خبردار کیا ہے کہ رجسٹریشن اتھارٹی کی پیشگی منظوری کے بغیر ٹیوشن فیس یا کسی بھی دوسری مد میں اضافہ نہیں کیا جا سکتا۔

     حکومت نے واضح کیا ہے کہ اگر کسی اسکول نے مقررہ قواعد کی خلاف ورزی کرتے ہوئے اضافی فیس وصول کی ہے تو اسے فوری طور پر یہ عمل روکنا ہوگا اور والدین سے وصول کی گئی اضافی رقم واپس کرنا ہوگی، بصورت دیگر متعلقہ قوانین کے تحت سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

    محکمہ اسکول ایجوکیشن اینڈ لٹریسی سندھ کے ماتحت ڈائریکٹوریٹ آف انسپیکشن اینڈ رجسٹریشن آف پرائیویٹ انسٹی ٹیوشنز کی جانب سے جاری ہدایات میں کہا گیا ہے کہ حالیہ دنوں میں مختلف نجی اسکولوں کے خلاف فیسوں میں غیر معمولی اضافے اور والدین سے منظور شدہ فیس کے علاوہ اضافی رقوم وصول کرنے کی شکایات موصول ہوئی ہیں۔ ان شکایات کی بنیاد پر متعلقہ اداروں کو طلب کرکے ان کا مؤقف سنا گیا اور بعد ازاں تمام نجی اسکولوں کے لیے عمومی ہدایات جاری کی گئی ہیں۔

    حکام کے مطابق سندھ پرائیویٹ ایجوکیشنل انسٹی ٹیوشنز (ریگولیشن اینڈ کنٹرول) رولز 2005 کے تحت کسی بھی نجی اسکول کو رجسٹریشن اتھارٹی کی منظوری کے بغیر ٹیوشن فیس بڑھانے کی اجازت نہیں۔ اس قانون کی خلاف ورزی کرنے والے اداروں کے خلاف جرمانے سمیت دیگر قانونی کارروائی کی جا سکتی ہے۔

    ڈائریکٹوریٹ نے تمام نجی اسکولوں کو ہدایت دی ہے کہ اگر کسی ادارے نے منظور شدہ فیس سے زیادہ رقم وصول کی ہے تو وہ فوری طور پر اضافی وصولی بند کرے اور والدین کو ان کی رقم واپس کرے۔ اس کے علاوہ متعلقہ اسکولوں کو مقررہ مدت کے اندر عمل درآمد کی رپورٹ اور رقم کی واپسی کے ثبوت بھی جمع کرانے ہوں گے

    ڈائریکٹوریٹ آف پرائیویٹ اسکولز کی ایڈیشنل ڈائریکٹر رافعہ ملاح کے مطابق عام طور پر نجی اسکول رجسٹریشن کی تجدید کے وقت ٹیوشن فیس میں سالانہ پانچ فیصد اضافے کی درخواست دیتے ہیں۔ درخواست کا جائزہ لینے کے بعد اگر رجسٹریشن اتھارٹی منظوری دے تو ہی نئی فیس نافذ کی جا سکتی ہے۔ اس کے بغیر کسی بھی قسم کا اضافہ غیر قانونی تصور ہوگا۔

    انہوں نے کہا کہ حکومت نے والدین کی شکایات کو سنجیدگی سے لیا ہے اور واضح پیغام دیا ہے کہ کسی بھی نجی اسکول کو اپنی مرضی سے فیس بڑھانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ اگر کوئی ادارہ ایسا کرتا ہے تو اس کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی ہوگی۔

    حکومت کی جانب سے جاری آگاہی مہم میں بھی نجی اسکولوں کو یاد دلایا گیا ہے کہ سالانہ فیس میں زیادہ سے زیادہ پانچ فیصد اضافہ بھی صرف اس صورت میں ممکن ہے جب اس کی باقاعدہ منظوری متعلقہ حکام سے حاصل کی گئی ہو۔ اس سے زیادہ یا منظوری کے بغیر کیا گیا کوئی بھی اضافہ قابل قبول نہیں ہوگا۔

    آگاہی مہم میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ تعلیم ہر بچے کا بنیادی حق ہے، کوئی عیاشی نہیں۔ اس لیے نجی تعلیمی اداروں کو چاہیے کہ وہ معیاری تعلیم کو عام لوگوں کی پہنچ میں رکھنے کے لیے ذمہ داری کا مظاہرہ کریں اور ایسے فیصلوں سے گریز کریں جن سے والدین پر غیر ضروری مالی بوجھ پڑے۔

    حکومت نے نجی اسکولوں کو ہدایت دی ہے کہ وہ صرف وہی فیس وصول کریں جو ڈائریکٹوریٹ آف پرائیویٹ اسکولز سے منظور شدہ ہو۔ اس کے علاوہ کسی بھی قسم کے پوشیدہ اخراجات، اضافی چارجز یا غیر منظور شدہ رقوم والدین سے وصول نہ کی جائیں۔

    سرکلر میں مزید کہا گیا ہے کہ تمام نجی اسکول اپنی منظور شدہ فیس کی تفصیلات نمایاں طور پر اسکول کے نوٹس بورڈ اور استقبالیہ پر آویزاں کریں تاکہ والدین آسانی سے معلوم کر سکیں کہ ان سے وصول کی جانے والی رقم حکومتی منظوری کے مطابق ہے یا نہیں۔

    حکام کا کہنا ہے کہ بعض والدین نے شکایت کی تھی کہ ٹیوشن فیس کے علاوہ مختلف عنوانات سے اضافی رقوم طلب کی جا رہی ہیں، جن کی باقاعدہ منظوری موجود نہیں۔ ان شکایات کے بعد حکومت نے تمام نجی تعلیمی اداروں کو متنبہ کیا ہے کہ اس قسم کی وصولیاں فوری طور پر بند کی جائیں۔

    سرکلر میں سندھ پرائیویٹ ایجوکیشنل انسٹی ٹیوشنز (ریگولیشن اینڈ کنٹرول) رولز 2005 کے رول 7(4) اور رول 7(6) کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ رجسٹریشن اتھارٹی کی منظوری کے بغیر ٹیوشن فیس یا کسی دوسری مد میں رقم وصول کرنا قانون کی خلاف ورزی ہے۔

    اسی طرح سندھ پرائیویٹ ایجوکیشنل انسٹی ٹیوشنز (ریگولیشن اینڈ کنٹرول) آرڈیننس 2001 کی دفعہ 11 کے مطابق خلاف ورزی کرنے والے اداروں پر پانچ لاکھ روپے تک جرمانہ عائد کیا جا سکتا ہے، جبکہ سنگین خلاف ورزی کی صورت میں دفعہ 8 کے تحت اسکول کی رجسٹریشن معطل یا منسوخ بھی کی جا سکتی ہے۔

    حکومت نے والدین کو بھی یقین دہانی کرائی ہے کہ اگر کسی اسکول کی جانب سے منظور شدہ فیس سے زیادہ رقم طلب کی جائے تو وہ متعلقہ حکام سے رجوع کریں۔ والدین کو شکایت درج کرانے کے لیے فارم بھی فراہم کیے جائیں گے تاکہ ان کے مسائل کا بروقت ازالہ کیا جا سکے۔

    رافعہ ملاح نے کہا کہ نجی تعلیمی اداروں کو چاہیے کہ وہ والدین کے ساتھ منصفانہ اور ذمہ دارانہ رویہ اختیار کریں۔ انہوں نے کہا کہ اسکولوں اور والدین کے درمیان اعتماد اسی وقت قائم رہ سکتا ہے جب تمام مالی معاملات شفاف ہوں اور قوانین پر مکمل عمل کیا جائے۔

    تعلیمی ماہرین کے مطابق گزشتہ چند برسوں میں نجی اسکولوں کی فیسوں میں مسلسل اضافے کے باعث متوسط اور کم آمدنی والے خاندان شدید مالی مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔ ان کے نزدیک حکومت کی جانب سے قواعد پر سختی سے عمل درآمد نہ صرف والدین کو ریلیف دے گا بلکہ نجی تعلیمی شعبے میں شفافیت اور احتساب کو بھی فروغ ملے گا۔

    والدین نے بھی سندھ حکومت کے اس اقدام کا خیر مقدم کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ فیسوں سے متعلق قوانین پر یکساں عمل درآمد یقینی بنایا جائے، تمام نجی اسکولوں کی نگرانی کی جائے اور ایسے اداروں کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائے جو حکومتی منظوری کے بغیر فیسوں میں اضافہ یا مختلف عنوانات سے اضافی رقوم وصول کرتے ہیں۔

  • 18ویں ترمیم، صوبائی خودمختاری کے خلاف کسی بھی ترمیم کی مخالفت کریں گے: پیپلز پارٹی

    18ویں ترمیم، صوبائی خودمختاری کے خلاف کسی بھی ترمیم کی مخالفت کریں گے: پیپلز پارٹی

    پاکستان پیپلز پارٹی نے 18ویں ترمیم، صوبائی حقوق اور صوبائی خودمختاری سے متصادم آئین میں کسی بھی ممکنہ ترمیم کی حمایت نہ کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کراچی کو وفاق کے ماتحت چلانے، این ایف سی ایوارڈ میں کٹوتی اور 18ویں ترمیم کے خلاف مطالبات کو آئین کی خلاف ورزی قرار دے کر مسترد کر دیا ہے۔

    پیپلز پارٹی نے وفاقی حکومت کو خبردار کیا ہے کہ اگر 18ویں ترمیم کو رول بیک کرنے کی کوشش کی گئی تو 26ویں اور 27ویں آئینی ترامیم کا ازسرنو جائزہ لیا جائے۔ پارٹی نے مطالبہ کیا کہ قومی مالیاتی کمیشن (این ایف سی) کا فوری اجلاس بلا کر نئے مالیاتی ایوارڈ کا اجرا کیا جائے۔

    یہ مطالبات جمعرات کو پاکستان پیپلز پارٹی سندھ کے زیر اہتمام منعقدہ سیمینار میں کیے گئے، جس کا عنوان تھا: ’’کراچی کو وفاق کے ماتحت چلانے، این ایف سی ایوارڈ میں کٹوتی، 18ویں ترمیم اور صوبائی خودمختاری کے خلاف باتیں، سندھ کو ون یونٹ کی طرف دھکیلنے کی سازش تو نہیں؟‘‘

    سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے پیپلز پارٹی سندھ کے صدر نثار احمد کھوڑو نے کہا کہ وفاقی حکومت آئین کے تحت صوبوں کو صرف وفاقی قوانین پر عملدرآمد کے لیے ہدایات دے سکتی ہے، کسی شہر کا انتظامی کنٹرول نہیں سنبھال سکتی۔ انہوں نے کہا کہ 18ویں ترمیم تمام سیاسی جماعتوں کے اتفاق رائے سے آئین کا حصہ بنی اور اسے رول بیک نہیں ہونے دیا جائے گا۔

    سابق چیئرمین سینیٹ میاں رضا ربانی نے کہا کہ کراچی سندھ کا دارالحکومت تھا، ہے اور رہے گا۔ ان کے مطابق کراچی یا گوادر کو وفاق کے ماتحت کرنے کے لیے پارلیمنٹ میں دو تہائی اکثریت سے آئینی ترمیم درکار ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ 18ویں ترمیم کو واپس لینے کی کسی بھی کوشش کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے۔

    رضا ربانی نے کہا کہ آئین کے تحت ہر پانچ سال بعد نیا این ایف سی ایوارڈ جاری ہونا ضروری ہے، تاہم وفاقی حکومت اس حوالے سے اپنی آئینی ذمہ داری پوری نہیں کر رہی۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ صوبوں کو زیادہ مالی اور انتظامی اختیارات دیے جائیں۔

    سیمینار سے سینیٹر بیرسٹر ضمیر گھمرو، سینئر صحافی مظہر عباس، وسعت اللہ خان، کراچی پریس کلب کے صدر فاضل جمیلی، وکیل شہاب سرکی اور نورالہدیٰ شاہ نے بھی خطاب کیا۔ مقررین نے 18ویں ترمیم، صوبائی خودمختاری اور سندھ کے آئینی حقوق کے تحفظ پر زور دیا اور کراچی کو وفاق کے ماتحت کرنے کی تجاویز کی مخالفت کی۔

    سیمینار کے اختتام پر منظور کی گئی قراردادوں میں کراچی کو وفاق کے ماتحت چلانے، این ایف سی میں صوبوں کے حصے میں کٹوتی اور 18ویں ترمیم کے خلاف کسی بھی اقدام کو مسترد کرتے ہوئے وفاقی حکومت سے فوری طور پر نیا این ایف سی ایوارڈ جاری کرنے اور صوبائی خودمختاری سے متعلق آئینی تقاضے پورے کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔

  • مجوزہ 28ویں آئینی ترمیم: ووٹ کے لیے عمر کی حد 25 سال، کیا پی ٹی آئی کے اکثریتی ووٹرز کو الیکشن سے باہر رکھنے کی کوشش؟

    مجوزہ 28ویں آئینی ترمیم: ووٹ کے لیے عمر کی حد 25 سال، کیا پی ٹی آئی کے اکثریتی ووٹرز کو الیکشن سے باہر رکھنے کی کوشش؟

    وفاقی حکومت کی جانب سے مجوزہ 28ویں آئینی ترمیم میں ووٹ ڈالنے کی عمر 18 سے بڑھا کر 25 سال کرنے کی تجویز نے سوشل میڈیا اور سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق اگر یہ تجویز منظور ہو گئی تو جین زی (جنریشن زی) کی بڑی تعداد ووٹ کے حق سے محروم ہو سکتی ہے۔

    وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی و عوامی امور رانا ثنااللہ نے اتوار کو جیو نیوز کے پروگرام ’جرگہ‘ میں بات چیت کرتے ہوئے اشارہ دیا تھا کہ حکومت ووٹنگ کی عمر بڑھانے کی تجویز پر غور کر رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جب الیکشن لڑنے کی کم از کم عمر 25 سال مقرر ہے تو ووٹ ڈالنے کی عمر بھی 25 سال ہونی چاہیے۔

    رانا ثنااللہ کے مطابق اس اقدام سے ایسے ووٹرز سامنے آئیں گے جو زیادہ سمجھداری اور پختگی کے ساتھ اپنے نمائندوں کا انتخاب کر سکیں گے۔

    اس تجویز پر سب سے شدید ردعمل سابق وزیراعظم عمران خان کی جماعت پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کے حامیوں کی جانب سے سامنے آیا۔ پارٹی رہنماؤں کا مؤقف ہے کہ 25 سال سے کم عمر نوجوانوں کی بڑی تعداد پی ٹی آئی کا ووٹ بینک ہے۔

    پی ٹی آئی کے ترجمان شیخ وقاص اکرم نے اتوار کو ایک بیان میں کہا کہ ووٹ ڈالنے کی عمر 18 سے بڑھا کر 25 سال کرنے کی تجویز نوجوانوں کے جمہوری حق کو محدود کرنے کے مترادف ہے۔ انہوں نے رانا ثنااللہ کے بیان پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ قانون کے تحت 18 سال سے زائد عمر کے شہری ووٹ ڈال سکتے ہیں، ملازمت کر سکتے ہیں اور مسلح افواج میں بھی خدمات انجام دے سکتے ہیں۔

    سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر بھی اس معاملے پر بحث جاری ہے۔ نوجوانوں کی بڑی تعداد عمر کی حد بڑھانے کی شدید مخالف ہے۔ ایک صارف اسمہ خلیجی نے سوال اٹھایا کہ اگر ووٹ ڈالنے کی عمر 25 سال کی جاتی ہے تو کیا 25 سال سے کم عمر افراد سے ٹیکس بھی نہیں لیا جائے گا؟

    پی ٹی آئی کے سابق سیکریٹری جنرل اسد عمر نے طنزیہ انداز میں لکھا کہ اگر گاڑی چلانے کی عمر 18 سال ہے تو پھر گاڑی میں بیٹھنے کی عمر بھی 18 سال مقرر کر دینی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کو نوجوانوں سے خوف ہے کیونکہ وہ حکومتی بیانیہ قبول کرنے کو تیار نہیں۔

    سینیئر صحافی مطیع اللہ جان نے بھی اس تجویز پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اگر یہ ترمیم منظور ہو گئی تو 18 سال کی عمر میں نوجوان شادی اور والدین بننے کے اہل تو ہوں گے، مگر ووٹ ڈالنے کا حق نہیں رکھیں گے۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں شاہ رخ خان اور کاجول کی ایک فلمی تصویر بھی شیئر کی اور لکھا: ‘پارو! اگر آئین میں 28ویں ترمیم ہو گئی تو ہم کیا کریں گے؟’

    دوسری جانب حکومتی حلقوں کا کہنا ہے کہ ووٹنگ کی عمر بڑھانے کا معاملہ ابھی صرف تجویز کی حد تک ہے اور اس پر مختلف سطحوں پر مشاورت جاری ہے۔ حکومتی ذرائع کے مطابق آئینی ترامیم جیسے حساس معاملات میں جلد بازی نہیں کی جائے گی۔

    وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے پچھلے دنوں واضح کیا تھا کہ حکومت اتحادی جماعتوں اور دیگر اسٹیک ہولڈرز کی مشاورت کے بغیر کوئی آئینی ترمیم نہیں کرے گی۔

    سیاسی مبصرین کے مطابق ووٹنگ کی عمر میں اضافے کی تجویز ایک حساس معاملہ ہے کیونکہ پاکستان کی آبادی کا بڑا حصہ نوجوانوں پر مشتمل ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر حکومت اس تجویز کو عملی شکل دینا چاہتی ہے تو اسے پارلیمنٹ اور عوام دونوں کی وسیع حمایت حاصل کرنا ہوگی۔

  • سندھ : خواتین کے لیے مقتل گاہ کیوں ؟

    سندھ : خواتین کے لیے مقتل گاہ کیوں ؟

    ملک کے دوسرے صوبوں کی طرح سندھ کی خواتین کو بھی اب تک نہ تو انسانی برابری کا درجہ حاصل ہو سکا ہے اور نہ ہی آئین کے مطابق حقوق حاصل ہو سکے ہیں۔ دوسرے صوبوں کے مقابلے میں البتہ پیپلز پارٹی کی سندھ حکومت نے اسمبلیوں میں خواتین کے حق میں نئے قوانین بہت بنائے ہیں۔
    جہاں تک ان پر عمل درآمد کا تعلق ہے تو اس معاملے پر کہنے کے لیے کچھ زیادہ نہیں ہے۔ کیونکہ سالوں پہلے ان قوانین کے آنے سے اب تک خواتین کی حالت پر ان قوانین کے ہونے سے کوئی فرق نہیں پڑا۔ وہی گھریلو تشدد، وہی جنسی ہراسمنٹ، وہی کاروکاری کے نام پر خواتین کے قتل اور بے بسی کی خودکشیاں، وہی ورثے کے روڈوں پر دھرنے اور احتجاج! بلکہ وقت گزرنے کے ساتھ کوئی کمی آنے کے بجائے ان پر تشدد اور ظلم میں اضافہ ہی ہوتا رہا ہے، کیونکہ نئے قوانین پر عمل تو درکنار قانونی ادارے ہی سندھ میں سیاسی وڈیروں کے گھر کی لونڈی بن کر رہ گئے ہیں۔ تو ایسے میں کیا امید کی جا سکتی ہے کہ سندھ کی مجبور و محکوم خواتین کو خواتین کے حقوق کے لیے بنائے گئے قوانین سے کوئی تحفظ حاصل کرنا ممکن ہو۔ کیونکہ ان قوانین کے بارے میں کوئی آگاہی مہم نہیں چلائی گئی، نہ ان پر عمل درآمد کے لیے کوئی خاص اقدامات اٹھائے گئے، نہ کوئی ٹاسک فورس بنی، نہ ہی بجٹ ایلوکیٹ کیا گیا۔

    کسی اسمبلی ممبر یا منسٹر سے کبھی اس بارے میں کچھ نہیں پوچھا گیا کہ ان قوانین کے پاس ہونے سے خواتین کو کتنا فائدہ پہنچا۔ 2004 میں سندھ ہائی کورٹ نے جرگوں پر پابندی لگائی لیکن جرگے ہوتے رہے اور جاری ہیں۔ سینکڑوں بے گناہ خواتین کو ہر سال کاروکاری کے الزام میں قتل کیا جاتا ہے اور یہ سلسلہ جاری ہے۔ یہ اور بات ہے کہ کسی وڈیرے یا جاگیردار کی بیٹی قتل نہیں ہوتی، غیرت کے نام پر قتل ہونے والی سندھ کے غریب خاندانوں کی لڑکیاں ہوتی ہیں جو پہلے ہی ان کی دو وقت کی روٹی کھلانے سے بھی تنگ ہوتے ہیں۔

    ابھی تک سندھ میں لڑکیوں کو بیچنے کا رواج بھی چلا آ رہا ہے اور ہماری حکومتوں نے اس کارِ خیر میں بھی کبھی مداخلت نہیں کی۔ عورت کی بدقسمتی کہ وہ مجموعی طور پر گھریلو تشدد اور ذہنی تشدد کی تو کھانے، پانی اور آکسیجن کی طرح عادی بنا دی گئی ہے۔ اور اس کی نہ کوئی سزا ہے نہ حساب کتاب۔ لیکن حیرت کی بات کہ اکیسویں صدی میں بھی اس کا سانس لینا ہی سب سے بڑا جرم ہے۔ سندھ کی حکمران جماعت نے سرداری نظام کو اپنے اقتدار کی خاطر عوام کا خون پلا کر اتنا بڑا آدمخور بنا دیا ہے کہ اس کے سامنے قانون، اخلاق، اقدار اور انسانیت کا تصور ہی ماضی کا قصہ بن گیا ہے۔

    جدید دور میں شدت سے یہ بات محسوس ہو رہی ہے کہ سماجی، سیاسی اور حکومتی فیصلہ ساز اداروں میں عورت کی تعداد بہت ہی کم اور نہ ہونے کے برابر ہے، یہی وجہ ہے کہ عورت کی آواز بہت کم سنائی دیتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ سماج، سیاست اور حکومت کے فیصلہ ساز اداروں تک عورتوں کی رسائی کیسے بڑھائی جائے کہ عورتوں کے مسائل کو اہمیت حاصل ہو سکے؟

    عورت ہمیشہ غلام نہیں رہی ہے۔ تاریخ میں ہزاروں سال پہلے ایسے ادوار بھی رہے ہیں جب عورتوں کو مرکزی حیثیت حاصل رہی ہے، ان سماجوں کو "مادر سری” سماج کہا جاتا ہے۔ فریڈرک اینگلس کے مطابق شروعاتی انسانی سماجوں میں ملکیت مشترکہ اور نسل ماں کے نام سے جانی جاتی تھی۔ پھر نجی ملکیت کا تصور پیدا ہوا اور زرعی پیداوار بڑھی۔ مردوں کے پاس زمین اور وسائل کا کنٹرول آیا۔ خاندان کا ڈھانچہ "پدر شاہی” میں تبدیل ہوا تو عورتوں کو گھروں تک محدود کر دیا گیا۔ طاقت کے محور ادارے سیاست، فوج، مذہب اور معیشت مردوں کے کنٹرول میں چلے گئے، عورت سے سماج کی لیڈرشپ چھن گئی اور وہ غلام بن گئی۔

    لیکن یہ ہزاروں سال پہلے کی کتھا ہے۔ اکیسویں صدی کے جدید سائنس و ٹیکنالوجی اور انسانی برابری کے دور میں بھی ترقی یافتہ ممالک کو چھوڑ کر باقی دنیا خاص طور پر جنوبی ایشیا کی خواتین کی اکثریت کے حالات بہتر نہیں، لیکن پاکستان کی خواتین ان سب میں بھی تعلیم، روزگار اور تحفظ میں سب سے پیچھے ہیں۔

    سندھ کی موجودہ سماجی صورتحال بیڈ گورننس، طاقتور اور بااثر سرکاری سیاسی وڈیروں کی ناجائز اجارہ داری کی پیدا کردہ لاقانونیت کی وجہ سے ماضی کے مقابلے میں بہت زیادہ خراب ہے۔ اس کے سب سے زیادہ سندھ کی 80 فیصد غریب طبقے کی خواتین اور بچے نشانہ بن رہے ہیں۔

    صنفی تفریق معاشرے کی جڑوں تک اس قدر پھیلی ہوئی ہے کہ مرد تو مرد، خواتین بھی زیادہ تر وہی سوچتی اور کرتی ہیں جو مردانہ معاشرہ ان سے چاہتا ہے۔ اس کو چیلنج کرنے کی ہمت ہماری سیاسی پارٹیوں تک میں نہیں پیدا ہو سکی۔ سیاسی جماعتیں جس طرح ایک عرصے سے ملک کی آدھی آبادی کے مسائل سے لاتعلق ہیں، اس کا ان کو ابھی اندازہ اور احساس نہیں کہ مستقبل میں یہ ان کی کتنی بڑی کوتاہی ثابت ہو سکتی ہے۔ سیاسی پارٹیوں کے منشوروں میں اکثر یہ تصور کر لیا جاتا ہے کہ جب انقلاب آئے گا تو اس کے بعد سب طبقوں کے ساتھ انصاف ہوگا۔ وہ خواتین کو محض ایک طبقہ سمجھ لیتے ہیں جو بڑی غلط فہمی ہے۔ خواتین اس ملک کی اور دنیا کی آدھی آبادی ہیں، کوئی چھوٹا طبقہ نہیں ہیں۔

    پھر کلاس کی بات آجاتی ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ ملک کی اکثریتی خواتین کا تعلق لوئر کلاس کی مزدور، ہاری، ملازم طبقے سے ہے۔ ان کو جینے کے لیے بنیادی انسانی حقوق تعلیم، صحت، روزگار اور تحفظ حاصل نہیں ہیں۔ ان حقوق کے لیے خواتین کو اپنے سیاسی پلیٹ فارم بنا کر جدوجہد کرنا ہوگی۔ خواتین کی سماجی تنظیمیں بہت اچھا کام کر رہی ہیں لیکن ان کی پہنچ محدود اور مخصوص ہے کیونکہ وہ سیاسی پلیٹ فارم نہیں ہیں۔

    سرکاری طور پر اس جدید دور میں صنفی تفریق کے خاتمے کے لیے سارے ملک کے درسگاہوں کے ساتھ سب سرکاری اداروں خاص طور پر پولیس، عدلیہ، وکلا کے لیے صنفی حساسیت پیدا کرنے کے لیے خواتین کے حقوق کے بارے میں کورس/ کوڈ آف کنڈکٹ ترتیب دے کر اسمبلیوں سے قانون پاس کروا کر اسے ملک بھر میں نافذ کیا جائے اور اسے پڑھنا اور اس پر عمل کرنا لازمی قرار دیا جائے اور اس پر عمل نہ کرنے کی جوابدہی ہونی چاہیے۔ یہ خواتین کی عزت اور حقوق کے تحفظ میں مددگار ہو سکتا ہے اگر اس پر عمل درآمد ہو۔ ورنہ پہلے ہی بہت سے قوانین کے مسودے فائلوں میں بند پڑے ہیں۔ ملک کی خواتین کے لیے بنیادی انسانی حقوق اور عزت و تحفظ کا خواب کبھی حقیقت نہیں بن سکے گا۔ البتہ مریم نواز شریف جیسی دبنگ خاتون سے اس سلسلے میں کوئی پیشرفت کرنے کی امید کی جا سکتی ہے۔

  • اگر آپ موٹر سائیکل چلاتے ہیں اور پیٹرول مہنگا ہونے پر پریشان ہیں تو خوش ہوجائیں سندھ حکومت نے آپ کو سبسیڈی دینے کا فیصلہ کیا ہے ۔۔۔۔ مگر آپ کو یہ رقم ملے گی کیسے ؟؟

    اگر آپ موٹر سائیکل چلاتے ہیں اور پیٹرول مہنگا ہونے پر پریشان ہیں تو خوش ہوجائیں سندھ حکومت نے آپ کو سبسیڈی دینے کا فیصلہ کیا ہے ۔۔۔۔ مگر آپ کو یہ رقم ملے گی کیسے ؟؟

    ‏

    آئیے سندھ حکومت کی اس اسکیم پر نظر ڈالتے ہیں ۔۔۔

    سندھ میں مجموعی طور پر 68 لاکھ موٹرسائیکل رجسٹرڈ ہیں جن کو ماہانہ دو ہزار روپے یعنی ہر ورکنگ ڈے ایک لیٹر پیٹرول کے حساب سے فی لیٹر ایک سو روپے سبسڈی دینے کا منصوبہ ہے۔

    لیکن یہ رقم حاصل کرنے کے کئے کچھ دشوار گزار راستوں سے گزرنا پڑے گا ۔۔۔
    اگر آپ کی موٹرسائیکل آپ کے نام پر رجسٹرڈ نہیں ہے تو پہلے اپنے نام کروا لیں ۔
    پریشان نہ ہوں ۔۔ حکومت نے موٹرسائیکل رجسٹریشن اور ٹرانسفر کی مفت سہولت کا اعلان کردیا ہے

    سندھ حکومت کے محکمہ ایکسائزنے موٹرسائیکل سبسڈی ایپ بنانا شروع کی ہے ۔
    حکومت کا دعویٰ ہے چند دن میں یہ موبائل ایپلیکیشن تیار ہوگی ۔
    یوں سمجھ لیں آپ گھر بیٹھے خود کو رجسٹر کروائیں گے

    لیکن رکیں ۔۔
    کیا آپ کا بینک اکائونٹ ہے ؟ نہیں تو فوری بینک اکاوئنٹ کھلوائیں اور موٹرسائیکل اپنے نام ضرور ٹرانسفر کروالیں
    ۔ اگر آپ کے نام سے ایک سے زائد موٹرسائیکل رجسٹرڈ ہیں تب بھی آپ کو ایک ہی موٹرسائیکل پر سبسڈی ملے گی ۔
    اگر آپ کے نام سے موٹرسائیکل کے ساتھ کار بھی رجسٹرڈ ہے تو سبسڈی ملے گی یا نہیں ؟ اس کا فیصلہ ابھی نہیں ہوا
    لگتا تو یہ ہے کہ ایسی صورت حال میں آپ کو صرف موٹرسائیکل کے لئے سبسڈی دی جائے گی ۔