Tag: حکومت

  • مجوزہ 28ویں آئینی ترمیم: ووٹ کے لیے عمر کی حد 25 سال، کیا پی ٹی آئی کے اکثریتی ووٹرز کو الیکشن سے باہر رکھنے کی کوشش؟

    مجوزہ 28ویں آئینی ترمیم: ووٹ کے لیے عمر کی حد 25 سال، کیا پی ٹی آئی کے اکثریتی ووٹرز کو الیکشن سے باہر رکھنے کی کوشش؟

    وفاقی حکومت کی جانب سے مجوزہ 28ویں آئینی ترمیم میں ووٹ ڈالنے کی عمر 18 سے بڑھا کر 25 سال کرنے کی تجویز نے سوشل میڈیا اور سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق اگر یہ تجویز منظور ہو گئی تو جین زی (جنریشن زی) کی بڑی تعداد ووٹ کے حق سے محروم ہو سکتی ہے۔

    وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی و عوامی امور رانا ثنااللہ نے اتوار کو جیو نیوز کے پروگرام ’جرگہ‘ میں بات چیت کرتے ہوئے اشارہ دیا تھا کہ حکومت ووٹنگ کی عمر بڑھانے کی تجویز پر غور کر رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جب الیکشن لڑنے کی کم از کم عمر 25 سال مقرر ہے تو ووٹ ڈالنے کی عمر بھی 25 سال ہونی چاہیے۔

    رانا ثنااللہ کے مطابق اس اقدام سے ایسے ووٹرز سامنے آئیں گے جو زیادہ سمجھداری اور پختگی کے ساتھ اپنے نمائندوں کا انتخاب کر سکیں گے۔

    اس تجویز پر سب سے شدید ردعمل سابق وزیراعظم عمران خان کی جماعت پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کے حامیوں کی جانب سے سامنے آیا۔ پارٹی رہنماؤں کا مؤقف ہے کہ 25 سال سے کم عمر نوجوانوں کی بڑی تعداد پی ٹی آئی کا ووٹ بینک ہے۔

    پی ٹی آئی کے ترجمان شیخ وقاص اکرم نے اتوار کو ایک بیان میں کہا کہ ووٹ ڈالنے کی عمر 18 سے بڑھا کر 25 سال کرنے کی تجویز نوجوانوں کے جمہوری حق کو محدود کرنے کے مترادف ہے۔ انہوں نے رانا ثنااللہ کے بیان پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ قانون کے تحت 18 سال سے زائد عمر کے شہری ووٹ ڈال سکتے ہیں، ملازمت کر سکتے ہیں اور مسلح افواج میں بھی خدمات انجام دے سکتے ہیں۔

    سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر بھی اس معاملے پر بحث جاری ہے۔ نوجوانوں کی بڑی تعداد عمر کی حد بڑھانے کی شدید مخالف ہے۔ ایک صارف اسمہ خلیجی نے سوال اٹھایا کہ اگر ووٹ ڈالنے کی عمر 25 سال کی جاتی ہے تو کیا 25 سال سے کم عمر افراد سے ٹیکس بھی نہیں لیا جائے گا؟

    پی ٹی آئی کے سابق سیکریٹری جنرل اسد عمر نے طنزیہ انداز میں لکھا کہ اگر گاڑی چلانے کی عمر 18 سال ہے تو پھر گاڑی میں بیٹھنے کی عمر بھی 18 سال مقرر کر دینی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کو نوجوانوں سے خوف ہے کیونکہ وہ حکومتی بیانیہ قبول کرنے کو تیار نہیں۔

    سینیئر صحافی مطیع اللہ جان نے بھی اس تجویز پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اگر یہ ترمیم منظور ہو گئی تو 18 سال کی عمر میں نوجوان شادی اور والدین بننے کے اہل تو ہوں گے، مگر ووٹ ڈالنے کا حق نہیں رکھیں گے۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں شاہ رخ خان اور کاجول کی ایک فلمی تصویر بھی شیئر کی اور لکھا: ‘پارو! اگر آئین میں 28ویں ترمیم ہو گئی تو ہم کیا کریں گے؟’

    دوسری جانب حکومتی حلقوں کا کہنا ہے کہ ووٹنگ کی عمر بڑھانے کا معاملہ ابھی صرف تجویز کی حد تک ہے اور اس پر مختلف سطحوں پر مشاورت جاری ہے۔ حکومتی ذرائع کے مطابق آئینی ترامیم جیسے حساس معاملات میں جلد بازی نہیں کی جائے گی۔

    وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے پچھلے دنوں واضح کیا تھا کہ حکومت اتحادی جماعتوں اور دیگر اسٹیک ہولڈرز کی مشاورت کے بغیر کوئی آئینی ترمیم نہیں کرے گی۔

    سیاسی مبصرین کے مطابق ووٹنگ کی عمر میں اضافے کی تجویز ایک حساس معاملہ ہے کیونکہ پاکستان کی آبادی کا بڑا حصہ نوجوانوں پر مشتمل ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر حکومت اس تجویز کو عملی شکل دینا چاہتی ہے تو اسے پارلیمنٹ اور عوام دونوں کی وسیع حمایت حاصل کرنا ہوگی۔

  • سندھ : خواتین کے لیے مقتل گاہ کیوں ؟

    سندھ : خواتین کے لیے مقتل گاہ کیوں ؟

    ملک کے دوسرے صوبوں کی طرح سندھ کی خواتین کو بھی اب تک نہ تو انسانی برابری کا درجہ حاصل ہو سکا ہے اور نہ ہی آئین کے مطابق حقوق حاصل ہو سکے ہیں۔ دوسرے صوبوں کے مقابلے میں البتہ پیپلز پارٹی کی سندھ حکومت نے اسمبلیوں میں خواتین کے حق میں نئے قوانین بہت بنائے ہیں۔
    جہاں تک ان پر عمل درآمد کا تعلق ہے تو اس معاملے پر کہنے کے لیے کچھ زیادہ نہیں ہے۔ کیونکہ سالوں پہلے ان قوانین کے آنے سے اب تک خواتین کی حالت پر ان قوانین کے ہونے سے کوئی فرق نہیں پڑا۔ وہی گھریلو تشدد، وہی جنسی ہراسمنٹ، وہی کاروکاری کے نام پر خواتین کے قتل اور بے بسی کی خودکشیاں، وہی ورثے کے روڈوں پر دھرنے اور احتجاج! بلکہ وقت گزرنے کے ساتھ کوئی کمی آنے کے بجائے ان پر تشدد اور ظلم میں اضافہ ہی ہوتا رہا ہے، کیونکہ نئے قوانین پر عمل تو درکنار قانونی ادارے ہی سندھ میں سیاسی وڈیروں کے گھر کی لونڈی بن کر رہ گئے ہیں۔ تو ایسے میں کیا امید کی جا سکتی ہے کہ سندھ کی مجبور و محکوم خواتین کو خواتین کے حقوق کے لیے بنائے گئے قوانین سے کوئی تحفظ حاصل کرنا ممکن ہو۔ کیونکہ ان قوانین کے بارے میں کوئی آگاہی مہم نہیں چلائی گئی، نہ ان پر عمل درآمد کے لیے کوئی خاص اقدامات اٹھائے گئے، نہ کوئی ٹاسک فورس بنی، نہ ہی بجٹ ایلوکیٹ کیا گیا۔

    کسی اسمبلی ممبر یا منسٹر سے کبھی اس بارے میں کچھ نہیں پوچھا گیا کہ ان قوانین کے پاس ہونے سے خواتین کو کتنا فائدہ پہنچا۔ 2004 میں سندھ ہائی کورٹ نے جرگوں پر پابندی لگائی لیکن جرگے ہوتے رہے اور جاری ہیں۔ سینکڑوں بے گناہ خواتین کو ہر سال کاروکاری کے الزام میں قتل کیا جاتا ہے اور یہ سلسلہ جاری ہے۔ یہ اور بات ہے کہ کسی وڈیرے یا جاگیردار کی بیٹی قتل نہیں ہوتی، غیرت کے نام پر قتل ہونے والی سندھ کے غریب خاندانوں کی لڑکیاں ہوتی ہیں جو پہلے ہی ان کی دو وقت کی روٹی کھلانے سے بھی تنگ ہوتے ہیں۔

    ابھی تک سندھ میں لڑکیوں کو بیچنے کا رواج بھی چلا آ رہا ہے اور ہماری حکومتوں نے اس کارِ خیر میں بھی کبھی مداخلت نہیں کی۔ عورت کی بدقسمتی کہ وہ مجموعی طور پر گھریلو تشدد اور ذہنی تشدد کی تو کھانے، پانی اور آکسیجن کی طرح عادی بنا دی گئی ہے۔ اور اس کی نہ کوئی سزا ہے نہ حساب کتاب۔ لیکن حیرت کی بات کہ اکیسویں صدی میں بھی اس کا سانس لینا ہی سب سے بڑا جرم ہے۔ سندھ کی حکمران جماعت نے سرداری نظام کو اپنے اقتدار کی خاطر عوام کا خون پلا کر اتنا بڑا آدمخور بنا دیا ہے کہ اس کے سامنے قانون، اخلاق، اقدار اور انسانیت کا تصور ہی ماضی کا قصہ بن گیا ہے۔

    جدید دور میں شدت سے یہ بات محسوس ہو رہی ہے کہ سماجی، سیاسی اور حکومتی فیصلہ ساز اداروں میں عورت کی تعداد بہت ہی کم اور نہ ہونے کے برابر ہے، یہی وجہ ہے کہ عورت کی آواز بہت کم سنائی دیتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ سماج، سیاست اور حکومت کے فیصلہ ساز اداروں تک عورتوں کی رسائی کیسے بڑھائی جائے کہ عورتوں کے مسائل کو اہمیت حاصل ہو سکے؟

    عورت ہمیشہ غلام نہیں رہی ہے۔ تاریخ میں ہزاروں سال پہلے ایسے ادوار بھی رہے ہیں جب عورتوں کو مرکزی حیثیت حاصل رہی ہے، ان سماجوں کو "مادر سری” سماج کہا جاتا ہے۔ فریڈرک اینگلس کے مطابق شروعاتی انسانی سماجوں میں ملکیت مشترکہ اور نسل ماں کے نام سے جانی جاتی تھی۔ پھر نجی ملکیت کا تصور پیدا ہوا اور زرعی پیداوار بڑھی۔ مردوں کے پاس زمین اور وسائل کا کنٹرول آیا۔ خاندان کا ڈھانچہ "پدر شاہی” میں تبدیل ہوا تو عورتوں کو گھروں تک محدود کر دیا گیا۔ طاقت کے محور ادارے سیاست، فوج، مذہب اور معیشت مردوں کے کنٹرول میں چلے گئے، عورت سے سماج کی لیڈرشپ چھن گئی اور وہ غلام بن گئی۔

    لیکن یہ ہزاروں سال پہلے کی کتھا ہے۔ اکیسویں صدی کے جدید سائنس و ٹیکنالوجی اور انسانی برابری کے دور میں بھی ترقی یافتہ ممالک کو چھوڑ کر باقی دنیا خاص طور پر جنوبی ایشیا کی خواتین کی اکثریت کے حالات بہتر نہیں، لیکن پاکستان کی خواتین ان سب میں بھی تعلیم، روزگار اور تحفظ میں سب سے پیچھے ہیں۔

    سندھ کی موجودہ سماجی صورتحال بیڈ گورننس، طاقتور اور بااثر سرکاری سیاسی وڈیروں کی ناجائز اجارہ داری کی پیدا کردہ لاقانونیت کی وجہ سے ماضی کے مقابلے میں بہت زیادہ خراب ہے۔ اس کے سب سے زیادہ سندھ کی 80 فیصد غریب طبقے کی خواتین اور بچے نشانہ بن رہے ہیں۔

    صنفی تفریق معاشرے کی جڑوں تک اس قدر پھیلی ہوئی ہے کہ مرد تو مرد، خواتین بھی زیادہ تر وہی سوچتی اور کرتی ہیں جو مردانہ معاشرہ ان سے چاہتا ہے۔ اس کو چیلنج کرنے کی ہمت ہماری سیاسی پارٹیوں تک میں نہیں پیدا ہو سکی۔ سیاسی جماعتیں جس طرح ایک عرصے سے ملک کی آدھی آبادی کے مسائل سے لاتعلق ہیں، اس کا ان کو ابھی اندازہ اور احساس نہیں کہ مستقبل میں یہ ان کی کتنی بڑی کوتاہی ثابت ہو سکتی ہے۔ سیاسی پارٹیوں کے منشوروں میں اکثر یہ تصور کر لیا جاتا ہے کہ جب انقلاب آئے گا تو اس کے بعد سب طبقوں کے ساتھ انصاف ہوگا۔ وہ خواتین کو محض ایک طبقہ سمجھ لیتے ہیں جو بڑی غلط فہمی ہے۔ خواتین اس ملک کی اور دنیا کی آدھی آبادی ہیں، کوئی چھوٹا طبقہ نہیں ہیں۔

    پھر کلاس کی بات آجاتی ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ ملک کی اکثریتی خواتین کا تعلق لوئر کلاس کی مزدور، ہاری، ملازم طبقے سے ہے۔ ان کو جینے کے لیے بنیادی انسانی حقوق تعلیم، صحت، روزگار اور تحفظ حاصل نہیں ہیں۔ ان حقوق کے لیے خواتین کو اپنے سیاسی پلیٹ فارم بنا کر جدوجہد کرنا ہوگی۔ خواتین کی سماجی تنظیمیں بہت اچھا کام کر رہی ہیں لیکن ان کی پہنچ محدود اور مخصوص ہے کیونکہ وہ سیاسی پلیٹ فارم نہیں ہیں۔

    سرکاری طور پر اس جدید دور میں صنفی تفریق کے خاتمے کے لیے سارے ملک کے درسگاہوں کے ساتھ سب سرکاری اداروں خاص طور پر پولیس، عدلیہ، وکلا کے لیے صنفی حساسیت پیدا کرنے کے لیے خواتین کے حقوق کے بارے میں کورس/ کوڈ آف کنڈکٹ ترتیب دے کر اسمبلیوں سے قانون پاس کروا کر اسے ملک بھر میں نافذ کیا جائے اور اسے پڑھنا اور اس پر عمل کرنا لازمی قرار دیا جائے اور اس پر عمل نہ کرنے کی جوابدہی ہونی چاہیے۔ یہ خواتین کی عزت اور حقوق کے تحفظ میں مددگار ہو سکتا ہے اگر اس پر عمل درآمد ہو۔ ورنہ پہلے ہی بہت سے قوانین کے مسودے فائلوں میں بند پڑے ہیں۔ ملک کی خواتین کے لیے بنیادی انسانی حقوق اور عزت و تحفظ کا خواب کبھی حقیقت نہیں بن سکے گا۔ البتہ مریم نواز شریف جیسی دبنگ خاتون سے اس سلسلے میں کوئی پیشرفت کرنے کی امید کی جا سکتی ہے۔

  • اگر آپ موٹر سائیکل چلاتے ہیں اور پیٹرول مہنگا ہونے پر پریشان ہیں تو خوش ہوجائیں سندھ حکومت نے آپ کو سبسیڈی دینے کا فیصلہ کیا ہے ۔۔۔۔ مگر آپ کو یہ رقم ملے گی کیسے ؟؟

    اگر آپ موٹر سائیکل چلاتے ہیں اور پیٹرول مہنگا ہونے پر پریشان ہیں تو خوش ہوجائیں سندھ حکومت نے آپ کو سبسیڈی دینے کا فیصلہ کیا ہے ۔۔۔۔ مگر آپ کو یہ رقم ملے گی کیسے ؟؟

    آئیے سندھ حکومت کی اس اسکیم پر نظر ڈالتے ہیں ۔۔۔

    سندھ میں مجموعی طور پر 68 لاکھ موٹرسائیکل رجسٹرڈ ہیں جن کو ماہانہ دو ہزار روپے یعنی ہر ورکنگ ڈے ایک لیٹر پیٹرول کے حساب سے فی لیٹر ایک سو روپے سبسڈی دینے کا منصوبہ ہے۔

    لیکن یہ رقم حاصل کرنے کے کئے کچھ دشوار گزار راستوں سے گزرنا پڑے گا ۔۔۔
    اگر آپ کی موٹرسائیکل آپ کے نام پر رجسٹرڈ نہیں ہے تو پہلے اپنے نام کروا لیں ۔
    پریشان نہ ہوں ۔۔ حکومت نے موٹرسائیکل رجسٹریشن اور ٹرانسفر کی مفت سہولت کا اعلان کردیا ہے

    سندھ حکومت کے محکمہ ایکسائزنے موٹرسائیکل سبسڈی ایپ بنانا شروع کی ہے ۔
    حکومت کا دعویٰ ہے چند دن میں یہ موبائل ایپلیکیشن تیار ہوگی ۔
    یوں سمجھ لیں آپ گھر بیٹھے خود کو رجسٹر کروائیں گے

    لیکن رکیں ۔۔
    کیا آپ کا بینک اکائونٹ ہے ؟ نہیں تو فوری بینک اکاوئنٹ کھلوائیں اور موٹرسائیکل اپنے نام ضرور ٹرانسفر کروالیں
    ۔ اگر آپ کے نام سے ایک سے زائد موٹرسائیکل رجسٹرڈ ہیں تب بھی آپ کو ایک ہی موٹرسائیکل پر سبسڈی ملے گی ۔
    اگر آپ کے نام سے موٹرسائیکل کے ساتھ کار بھی رجسٹرڈ ہے تو سبسڈی ملے گی یا نہیں ؟ اس کا فیصلہ ابھی نہیں ہوا
    لگتا تو یہ ہے کہ ایسی صورت حال میں آپ کو صرف موٹرسائیکل کے لئے سبسڈی دی جائے گی ۔

  • لیبر مارکیٹ کا بحران: پاکستان میں بے روزگاری اضافہ: لیبر فورس سروے 2024-25 کے اہم انکشافات

    لیبر مارکیٹ کا بحران: پاکستان میں بے روزگاری اضافہ: لیبر فورس سروے 2024-25 کے اہم انکشافات

    وفاقی حکومت کے فیڈرل بیورو آف اسٹیٹسٹکس کے تازہ جاری کردہ لیبر فورس سروے 2024-25 کے اعداد و شمار کے مطابق پاکستان کی مجموعی لیبر فورس تقریباً 83.1 ملین افراد پر مشتمل ہے، جو کہ پچھلے لیبر فورس سروے 2020-21 میں دیے گئے 71.76 ملین افراد کے مقابلے میں 15.8 فیصد زائد ہے۔

    حالیہ سروے کے اہم نکات کے مطابق ملک کی معیشت، روزگار کے مواقع اور صوبائی سطح پر فرق واضح طور پر ظاہر ہوتا ہے۔ اس رپورٹ کے مطابق پاکستان کی لیبر مارکیٹ ایک بڑی اور متحرک قوت رکھتی ہے، تاہم اس میں کئی چیلنجز بھی موجود ہیں، خصوصاً صوبوں کے درمیان عدم توازن اور غیر رسمی شعبے کا زیادہ ہونا۔

    رپورٹ کے مطابق سال 2024-25 میں پاکستان کی مجموعی لیبر فورس میں سب سے بڑا حصہ پنجاب کا ہے جہاں 48.2 ملین افراد لیبر فورس میں شامل ہیں۔ اس کے بعد سندھ میں 18.5 ملین، خیبر پختونخوا میں 12.5 ملین اور بلوچستان میں 4.0 ملین افراد شامل ہیں۔ یہ اعداد و شمار واضح کرتے ہیں کہ آبادی اور معاشی سرگرمیوں کے لحاظ سے پنجاب ملک کی لیبر فورس میں مرکزی حیثیت رکھتا ہے۔

    مجموعی لیبر فورس میں سے تقریباً 77.2 ملین افراد برسر روزگار ہیں، جو کہ ایک مثبت اشارہ ہے کہ بڑی تعداد میں لوگ کسی نہ کسی معاشی سرگرمی سے وابستہ ہیں۔ یہاں بھی پنجاب سرفہرست ہے جہاں 44.7 ملین افراد کام کر رہے ہیں، جبکہ سندھ میں 17.5 ملین، خیبر پختونخوا میں 11.3 ملین اور بلوچستان میں 3.8 ملین افراد ملازمت کر رہے ہیں۔ تاہم یہ بھی واضح ہے کہ مختلف صوبوں میں روزگار کے مواقع یکساں نہیں ہیں۔

    لیبر فورس میں شرکت کی شرح ملک بھر میں اوسطاً 46.3 فیصد ہے، یعنی تقریباً آدھی بالغ آبادی معاشی سرگرمیوں میں حصہ لے رہی ہے۔ پنجاب میں یہ شرح سب سے زیادہ 49.0 فیصد ہے، جبکہ سندھ میں 44.7 فیصد، بلوچستان میں 41.7 فیصد اور خیبر پختونخوا میں 41.2 فیصد ریکارڈ کی گئی ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ کم ترقی یافتہ علاقوں میں لوگ کم تعداد میں لیبر مارکیٹ کا حصہ بنتے ہیں۔

    بے روزگاری کی صورتحال بھی رپورٹ میں نمایاں کی گئی ہے۔ ملک بھر میں بے روزگاری کی اوسط شرح 7.1 فیصد ہے، جو کہ 2020-21 کے اعداد و شمار کے مقابلے میں بڑھ گئی ہے۔ پچھلی رپورٹ کے مطابق 2020-21 میں بے روزگاری کی شرح 6.3 فیصد تھی۔ پچھلے سال یعنی 2024-25 میں خیبر پختونخوا میں بے روزگاری کی شرح سب سے زیادہ 9.6 فیصد تھی، جبکہ سندھ میں 7.3 فیصد تھی۔ اس کے برعکس پنجاب میں 5.3 فیصد اور بلوچستان میں 5.5 فیصد بے روزگاری کی شرح تھی۔ یہ فرق ظاہر کرتا ہے کہ ملک کے مختلف حصوں میں روزگار کے مواقع یکساں نہیں ہیں اور بعض علاقوں میں نوجوانوں کو نوکری حاصل کرنے میں زیادہ مشکلات پیش آتی ہیں۔

    روزگار اور آبادی کے تناسب کے لحاظ سے قومی سطح پر یہ شرح 43.0 فیصد ہے۔ پنجاب اس معاملے میں بھی آگے ہے جہاں یہ شرح 45.4 فیصد ہے، جبکہ سندھ میں 42.3 فیصد، بلوچستان میں 39.3 فیصد اور خیبر پختونخوا میں 37.2 فیصد ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ پنجاب میں روزگار کے مواقع نسبتاً زیادہ دستیاب ہیں۔

    مختلف شعبوں کے لحاظ سے دیکھا جائے تو پاکستان میں اب بھی زراعت سب سے بڑا روزگار فراہم کرنے والا شعبہ ہے، جس میں 33.1 فیصد افراد کام کر رہے ہیں۔ اس کے بعد کمیونٹی اور سماجی خدمات کا شعبہ 19.5 فیصد، تھوک و خوردہ تجارت 16.0 فیصد، مینوفیکچرنگ 14.8 فیصد، تعمیرات 9.9 فیصد اور ٹرانسپورٹ 6.6 فیصد کے ساتھ شامل ہیں۔ یہ اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ پاکستان کی معیشت اب بھی بڑی حد تک زرعی بنیادوں پر قائم ہے، تاہم خدمات اور تجارت کے شعبے بھی اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔

    روزگار کی نوعیت کے حوالے سے رپورٹ بتاتی ہے کہ 43.5 فیصد افراد ملازم ہیں، جبکہ 36.1 فیصد افراد خود روزگار ہیں۔ اس کے علاوہ 19.1 فیصد افراد بلا معاوضہ خاندانی کارکن ہیں اور صرف 1.3 فیصد افراد آجر ہیں۔ یہ صورتحال اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ ملک میں غیر رسمی معیشت کا حجم بہت بڑا ہے اور باقاعدہ کاروباری ادارے کم ہیں۔

    اجرتوں کے حوالے سے بھی اہم معلومات سامنے آئی ہیں۔ ملک میں اوسط ماہانہ تنخواہ تقریباً 39,042 روپے ہے۔ بلوچستان میں سب سے زیادہ اوسط تنخواہ 41,780 روپے ہے، جبکہ خیبر پختونخوا میں 39,974 روپے، سندھ میں 39,801 روپے اور پنجاب میں 38,189 روپے ہے۔ یہ فرق مختلف علاقوں میں معاشی سرگرمیوں، مہنگائی اور روزگار کی نوعیت کو ظاہر کرتا ہے۔

    رپورٹ میں جدید دور کے ایک اہم رجحان یعنی گیگ ورک پر بھی روشنی ڈالی گئی ہے۔ تقریباً 2.9 فیصد افراد گیگ ورک کو اپنی بنیادی ملازمت کے طور پر اختیار کیے ہوئے ہیں، جبکہ 10.6 فیصد افراد اسے اضافی آمدن کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔ خاص طور پر خواتین میں گیگ ورک کا رجحان زیادہ دیکھا گیا ہے، جہاں 15.0 فیصد خواتین اضافی کام کے طور پر اس میں شامل ہیں، جبکہ مردوں کی شرح 9.8 فیصد ہے۔ یہ ظاہر کرتا ہے کہ آن لائن اور فری لانس مواقع خواتین کے لیے نئے راستے کھول رہے ہیں۔

    مجموعی طور پر یہ رپورٹ پاکستان کی لیبر مارکیٹ کی ایک جامع تصویر پیش کرتی ہے۔ ایک طرف بڑی تعداد میں لوگ روزگار سے وابستہ ہیں، جبکہ دوسری طرف علاقائی تفاوت، غیر رسمی معیشت کا پھیلاؤ اور محدود صنعتی ترقی جیسے مسائل بھی واضح ہیں۔ مستقبل میں پالیسی سازوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ روزگار کے مواقع بڑھانے، ہنر مندی کو فروغ دینے اور صنعتی شعبے کو مضبوط بنانے پر توجہ دیں تاکہ ملک کی معیشت مزید مستحکم ہو سکے۔

  • جین زی کے مطالبے پر عام انتخابات: 12 فروری کو 12 کروڑ سے زائد بنگلہ دیشی ووٹرز نئی حکومت کا انتخاب کریں گے

    جین زی کے مطالبے پر عام انتخابات: 12 فروری کو 12 کروڑ سے زائد بنگلہ دیشی ووٹرز نئی حکومت کا انتخاب کریں گے

    بنگلہ دیش کے عوام طویل حکمرانی کرنے والی جماعت عوامی لیگ کی شرکت کے بغیر ہونے والے عام انتخابات میں 12 فروری کونئےحکمران کا انتخاب کریں گے، جس میں جین زی یعنی نوجوان ووٹرز فیصلہ کن کردار ادا کریں گے۔

    سیاسی مبصرین اس الیکشن کو انتہائی اور دلچسپ قرار دے رہے ہیں کیوں کہ سابق وزیر اعظم شیخ حسینہ واجد اقتدار سے بے دخل ہونے کے بعد ملک سے باہر ہیں اور ان کی جماعت کو ملک میں پابندیوں کا سامنا ہے۔

    جمعرات کو ہونے والے عام انتخابات کے سلسلے میں کافی گہماگہمی دیکھی جارہی ہے۔

    الیکشن کمیشن کے اعداد و شمار کے مطابق کُل 12 کروڑ 80 لاکھ ووٹرز ہیں، جن میں سے 44 فیصد کی عمر 18 سے 37 سال کے درمیان ہے اور تقریباً 50 لاکھ افراد پہلی بار ووٹ ڈالیں گے۔

    فیصلہ کن کردار

    بنگلہ دیش کی سیاست ایک اہم اور دلچسپ مرحلے میں داخل ہوچکی ہے کیوں کہ کئی برس تک شیخ حسینہ کے دورِ حکومت میں اپوزیشن جماعتیں یا تو انتخابات کا بائیکاٹ کرتی رہیں یا ان کے رہنماؤں کو بڑے پیمانے پر گرفتاریوں کا سامنا کرنا پڑا۔

    تاہم اب منظرنامہ بدل چکا ہے۔ 2024 کی عوامی بغاوت کے نتیجے میں شیخ حسینہ حکومت کے خاتمے کے بعد نوجوان ووٹرز کا کہنا ہے کہ یہ 2009 کے بعد یہ پہلا موقع ہے جب بنگلہ دیش میں حقیقی اور جمہوری انتخابات ہو رہے ہیں۔

    عوامی لیگ 15 سالہ طویل اقتدار کے بعد مقابلے سے باہرہوچکی ہے۔ اب حکمرانی کے لیے بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) کو سب سے مضبوط امیدوار تصور کیا جا رہا ہے۔

    تاہم جماعتِ اسلامی کی قیادت میں قائم اتحاد بھی میدان میں ہے، سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ان دونوں جماعتوں کے درمیان کانٹے کا مقابلہ متوقع ہے۔

    جماعت اسلامی کی قیادت میں بننے والے انتخابی اتحاد میں شیخ حسینہ حکومت کے خلاف بغاوت کی بنیاد رکھنے اور اس کی قیادت کرنے والے نوجوانوں کی جماعت بھی شامل ہے۔

    بی این پی کے سربراہ طارق رحمان نے غیر ملکی خبر رساں ادارے سے گفتگو میں کہا ہے کہ ان کی جماعت پارلیمان کی 300 نشستوں میں سے 292 پر انتخاب لڑ رہی ہے اور انہیں حکومت بنانے کے لیے درکار اکثریت حاصل ہونے کا پورا یقین ہے۔

    بنگلہ دیش کے عام انتخابات کا خطے پر کیا اثرات ہوں گے؟

    سینئر تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ 12 فروری کو ہونے والے انتخابات میں واضح اور فیصلہ کن نتیجہ سامنے آنا ضروری ہے کیوں کہ شیخ حسینہ کی برطرفی کے بعد مہینوں تک جاری رہنے والے عدم استحکام کی وجہ سے قومی معیشت بھی متاثر ہوئی ہے۔

    اس الیکشن کے نتائج صرف داخلی نہیں بلکہ خطے کی سیاست پر بھی اثرانداز ہوں گے۔ خطے کی دو بڑی طاقتیں چین اور انڈیا بھی اس الیکشن کے نتائج کا انتظار کررہی ہیں ۔

    شیخ حسینہ کو انڈیا نواز سمجھا جاتا تھا اور اقتدار سے بے دخلی کے بعد وہ نئی دہلی منتقل ہو گئیں۔ ان کے جانے کے بعد بنگلہ دیش میں چین کا اثر و رسوخ بڑھتا ہوا جبکہ انڈیا کا کردار نسبتاً کمزور دکھائی دے رہا ہے۔

    سیاسی مبصرین کے مطابق اگر جماعت اسلامی کی قیادت میں حکومت بنتی ہے تو بنگلہ دیش کا جھکاؤ پاکستان کی جانب بڑھ سکتا ہے، جو انڈیا کا دیرینہ حریف اور مسلم اکثریتی ملک ہے۔

    جماعت اسلامی کی جین زی اتحادی جماعت بھی نئی دہلی کی بالادستیکو اپنے اہم خدشات میں شمار کرتی ہے اور اس کے رہنماؤں کی حالیہ ملاقاتیں چینی سفارتکاروں سے ہو چکی ہیں۔

    دوسری طرف جماعت اسلامی کا کہنا ہے کہ وہ کسی ایک ملک کی طرف جھکاؤ کے بجائے اسلامی اصولوں پر مبنی معاشرے اور خودمختار خارجہ پالیسی کی حامی ہے۔

    جبکہ طارق رحمان کہتے ہیں کہ اگر بی این پی حکومت بناتی ہے تو وہ ہر اس ملک کے ساتھ دوستانہ تعلقات قائم کرے گی جو بنگلہ دیش اور اس کے عوام کے مفاد میں ہو۔

    بنگلہ دیش ایک نظر میں

    بارہ فروری 2026 کے انتخابات بنگلہ دیش کی 55 سالہ تاریخ کے اہم ترین انتخابات قرار دیے جا رہے ہیں۔ ملک کی آبادی 17 کروڑ سے زائد ہے اور یہ دنیا کا آٹھواں بڑا ملک ہے۔ گزشتہ 25 برسوں میں بنگلہ دیش کی معیشت تیزی سے ترقی کرتی رہی تاہم حالیہ برسوں میں اس رفتار میں کمی آئی ہے بلکہ مشکلات کا شکار ہے۔

    بنگلہ دیش کی 90 فیصد آبادی مسلمان ہے جبکہ تقریباً 8 فیصد ہندو اور دیگر مذاہب سے تعلق رکھتے ہیں۔

    ملک کی آبادی نوجوانوں پر مشتمل ہے اور ووٹرز کا بڑا حصہ 30 سال سے کم عمر افراد پر مشتمل ہے۔

    معیشت اور کرپشن اہم مسئلہ

    ملکی جی ڈی پی 461 ارب ڈالر ہے ،فی کس آمدنی تقریباً 1,990 ڈالر ہے۔ بنگلہ دیش بینک کے مطابق جون 2025 تک مالی سال میں معاشی شرح نمو 3.97 فیصد رہی۔

    اقتصادی محاذ پر بنگلہ دیش شدید دباؤ کا شکار ہے۔ بلند افراط زر، زرمبادلہ کے ذخائر میں کمی اور سرمایہ کاری کی رفتار میں سست روی نے ملک کو 2022 سے اب تک بین الاقوامی مالیاتی اداروں، بشمول آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک، سے اربوں ڈالر کی مالی معاونت حاصل کرنے پر مجبور کیا ہے۔

    بنگلہ دیش کو مہنگائی، زرِمبادلہ کے ذخائر میں کمی اور سرمایہ کاری کی سست رفتاری کا سامنا ہے۔سروے کے مطابق ووٹرز کے لیے سب سے بڑا مسئلہ کرپشن اور اس کے بعد مہنگائی ہے۔

    سیاسی جماعتیں

    اس انتخابی مرحلے میں 59 رجسٹرڈ سیاسی جماعتیں حصہ لے رہی ہیں تاہم شیخ حسینہ واجد کی جماعت عوامی لیگ کی رجسٹریشن معطل کر دی گئی ہے جس کے باعث وہ انتخابات میں حصہ نہیں لے رہی۔ 51

    جماعتیں عملی طور پر انتخابی میدان میں ہیں جبکہ مجموعی طور پر 1,981 امیدوار مقابلہ کر رہے ہیں جن میں 249 آزاد امیدوار بھی شامل ہیں۔

  • حال ہی میں پاکستان حکومت کا نیپاہ وائرس کے پھیلاؤ روکنے کے لیے مسافروں کی اسکریننگ کا فیصلہ، مگر یہ وائرس ہے کیا؟

    حال ہی میں پاکستان حکومت کا نیپاہ وائرس کے پھیلاؤ روکنے کے لیے مسافروں کی اسکریننگ کا فیصلہ، مگر یہ وائرس ہے کیا؟

    انڈین ریاست مغربی بنگال میں نیپاہ وائرس کے حالیہ کیسز سامنے آنے کے بعد حال ہی میں پاکستان میں احتیاطی اقدامات سخت کر دیے گئے تھے، وفاقی حکام نے ہوائی اڈوں اور دیگر داخلی راستوں پر مسافروں کی اسکریننگ جاری رکھنے کی ہدایت دی، تاکہ کسی ممکنہ خطرے سے بروقت نمٹا جا سکے۔

    نیپاہ وائرس کیا ہے؟
    نیپاہ وائرس ایک خطرناک اور متعدی وائرس ہے جو انسانوں اور جانوروں دونوں کو متاثر کر سکتا ہے۔ یہ پہلی بار 1998 میں ملائیشیا میں رپورٹ ہوا تھا۔ اس کے بعد انڈیا، بنگلہ دیش اور دیگر قریبی علاقوں میں وقفے وقفے سے اس کے کیسز سامنے آتے رہے ہیں۔

    یہ وائرس کہاں سے پھیلتا ہے؟


    ماہرین کے مطابق نیپاہ وائرس کا قدرتی میزبان پھل کھانے والی چمگادڑیں ہیں۔ وائرس چمگادڑ کے لعاب یا فضلے سے آلودہ پھلوں کے ذریعے پھیل سکتا ہے۔ متاثرہ جانوروں، خصوصاً سور، سے انسان میں منتقلی بھی ممکن ہے۔ بعض کیسز میں انسان سے انسان قریبی رابطے، کھانسی، تھوک یا جسمانی رطوبت کے ذریعے وائرس منتقل ہو سکتا ہے۔

    علامات کیا ہوتی ہیں؟


    نیپاہ وائرس کی علامات عموماً پانچ سے 14 دن کے اندر ظاہر ہوتی ہیں۔ ابتدائی علامات میں بخار، سر درد، پٹھوں میں درد اور متلی شامل ہو سکتی ہیں۔ سنگین صورت میں سانس لینے میں دشواری، ذہنی الجھن، بے ہوشی اور دماغ کی سوجن بھی سامنے آ سکتی ہے۔ بعض مریض کومہ میں جا سکتے ہیں یا موت بھی واقع ہو سکتی ہے۔ مختلف عالمی رپورٹس میں اموات کی شرح 40 سے 75 فیصد تک بتائی گئی ہے۔

    علاج اور ویکسین کی صورتحال
    فی الحال نیپاہ وائرس کے لیے کوئی مخصوص ویکسین یا علاج دستیاب نہیں۔ مریضوں کا علاج علامات کے مطابق کیا جاتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ بروقت تشخیص اور احتیاطی تدابیر ہی اس بیماری سے بچاؤ کا مؤثر ذریعہ ہیں۔

    پاکستان میں احتیاطی اقدامات
    حکام کے مطابق پڑوسی ممالک میں کیسز کی موجودگی، بین الاقوامی آمد و رفت اور ملک میں چمگادڑوں کی موجودگی ممکنہ خطرات میں شامل ہیں۔ اسی لیے ہوائی اڈوں پر اسکریننگ، ہسپتالوں کو الرٹ رکھنے اور مشتبہ مریضوں کو فوری طور پر الگ کرنے کی ہدایات دی گئی ہیں۔

    شہریوں کے لیے ہدایات
    عوام کو مشورہ دیا گیا ہے کہ گرے ہوئے یا کٹے ہوئے پھل استعمال نہ کریں۔ چمگادڑوں اور جنگلی جانوروں سے فاصلہ رکھیں۔ بیمار افراد سے غیر ضروری قریبی رابطے سے گریز کریں اور ہاتھ باقاعدگی سے صابن سے دھوئیں۔ بخار کے ساتھ ذہنی الجھن یا غیر معمولی علامات کی صورت میں فوری طور پر ڈاکٹر یا قریبی ہسپتال سے رجوع کیا جائے۔

    حکام کا کہنا ہے کہ صورتحال پر مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے اور عوام کو خوفزدہ ہونے کے بجائے احتیاط اور آگاہی اختیار کرنے کی ضرورت ہے۔

  • سندھ حکومت نے سستے آٹے کے لیے 85 ارب روپے کی سبسڈی دی، مگر آٹا سستا کیوں نہیں؟

    سندھ حکومت نے سستے آٹے کے لیے 85 ارب روپے کی سبسڈی دی، مگر آٹا سستا کیوں نہیں؟

    وزیر خوراک سندھ مخدوم محبوب الزمان کے مطابق آٹے کے بحران سے بچنے اور صوبے کی عوام کو سستا آٹے دینے کے لیے سندھ حکومت نے 85 ارب روپے کی سبسڈی دی ہے۔

    یہ رقم عوام کے ٹیکس سے جمع ہوئی۔ مقصد یہ بتایا گیا کہ بازار میں آٹا سستا رہے اور قلت پیدا نہ ہو۔

    حکومتی دعووں کے باوجود عام شہری یہ سوال کر رہا ہے کہ سستا آٹا کہاں ہے۔ کراچی سمیت کئی شہروں میں آٹا مہنگا رہا۔ دستیابی بھی اکثر مشکل رہی۔ عوام کا تاثر ہے کہ سبسڈی کا فائدہ انہیں براہ راست نہیں ملا۔

    سرکاری ریکارڈ کے مطابق سبسڈی کا بڑا حصہ فلور ملز کو دیا گیا۔ چونکہ بڑی فلور ملز زیادہ تر کراچی میں ہیں، اس لیے سبسڈی بھی زیادہ تر یہیں گئی۔ اس کے باوجود یہی شہر آٹے کی قیمتوں کے حوالے سے سب سے زیادہ شکایات کرتا رہا۔

    محکمہ خوراک کا مؤقف ہے کہ گندم کی خریداری اور آٹے کی پیداوار ان کی ذمہ داری ہے۔ سستا آٹا عوام تک پہنچانا کسی اور محکمے کا کام ہے۔ یہ واضح نہیں ہو سکا کہ وہ محکمہ کون سا ہے اور اس کی نگرانی کون کرتا ہے۔

    اسی دوران حکومت نے بڑی مقدار میں گندم ذخیرہ کی۔ سرکاری سطح پر اعتراف کیا گیا کہ گندم کی 3 لاکھ 65 ہزار بوریاں خراب ہو گئیں۔ یہ نقصان بارش، کھلے آسمان تلے ذخیرہ اور انتظامی کمزوریوں سے جوڑا گیا۔

    ایک گندم کی بوری 100 کلو وزن کی ہوتی ہے۔ ایک بوری کی قیمت تقریباً 9 ہزار 500 روپے بتائی گئی۔ اگر خراب، چوری یا ضائع ہونے والی بوریاں 3 لاکھ 65 ہزار مانی جائیں تو مجموعی طور پر ضائع ہونے والی گندم کی مالیت 3 ارب 46 کروڑ 75 لاکھ روپے بنتی ہے۔

    وزیر خوراک کا کہنا ہے کہ اتنے بڑے ذخیرے میں کچھ نقصان ہونا معمول کی بات ہے۔ مگر عوام کے لیے یہ نقصان معمولی نہیں۔ یہ وہی پیسہ ہے جو صحت، تعلیم اور روزگار پر خرچ ہو سکتا تھا۔

    سندھ میں آج بھی لاکھوں لوگ ایسے ہیں جو روزانہ خوراک کی فکر میں رہتے ہیں۔ کئی خاندان ایسے ہیں جو پورا مہینہ گندم خریدنے کی سکت نہیں رکھتے۔ ایسے میں سرکاری گندم کا ضائع ہونا محض اعداد کا معاملہ نہیں رہتا۔

    اس کے ساتھ باردانہ نہ ملنے کی شکایات بھی سامنے آئیں۔ گندم ذخیرہ کرنے پر کروڑوں روپے کرایہ ادا کیا گیا۔ یہ رقم بھی عوام کے ٹیکس سے دی گئی۔

    حکومتی بیانات میں چوہوں کا ذکر بھی آیا۔ کہا گیا کہ گھروں میں رکھی گندم بھی خراب ہو جاتی ہے۔ مگر عوام یہ سوال ضرور کرتی ہے کہ اگر نقصان معمول کا حصہ ہے تو پھر جواب دہی کس کی ہے۔

    گندم صرف اناج نہیں۔ یہ غریب کی زندگی سے جڑی ہوئی چیز ہے۔ اس کا ہر دانہ ریاستی فیصلوں کا حساب مانگتا ہے۔

  • ایران میں سلگتی چنگاری کا انجام کیا ہوگا؟

    ایران میں سلگتی چنگاری کا انجام کیا ہوگا؟

    عمر خیام، فردوسی اور حافظ شیرازی کا دیس ایران آج کل ایک بار پھر عالمی میڈیا کی سرخیوں میں ہے۔ مہنگائی، بے روزگاری اور حکومتی نظام سے بیزاری نے خاص طور پر نوجوانوں کو سڑکوں پر لا کھڑا کیا ہے۔
    اطلاعات کے مطابق درجنوں شہری جان سے جا چکے ہیں، ہزاروں گرفتار ہوئے ہیں، اور حالات کے بگڑتے ہی فیس بک، ایکس، انسٹاگرام اور ٹیلیگرام جیسی معروف سوشل میڈیا سروسز بھی ملک میں بلاک کر دی گئیں۔

    کوئی اسے عرب بہار کا ایرانی ایڈیشن قرار دے رہا ہے، تو کوئی بنگلہ دیش اور شام کی طرز پر انتشار پھیلانے کی امریکی سازش۔ ویسے بھی ایران کی تاریخ میں یہ باب نیا نہیں۔ 1953 میں ڈاکٹر مصدق کی حکومت کے خلاف سی آئی اے کی کارروائیوں کا حوالہ آج بھی بحث میں زندہ ہے۔
    جب ڈاکٹر مصدق نے ایرانی تیل کمپنیوں کو قومی تحویل میں لینے کا فیصلہ کیا تو سی آئی اے نے ڈالروں کا استعمال کر کے ڈاکٹر مصدق کے خلاف مظاہرے کروائے اور حکومت چھوڑنے پر مجبور کیا۔

    احتجاج کیوں بھڑکے؟

    احتجاج کی تازہ لہر 28 دسمبر 2025 کو اٹھی اور دیکھتے ہی دیکھتے پورے ایران میں پھیل گئی۔ ابتدا میں کہا گیا کہ انڈوں، گوشت اور روزمرہ ضروریات کی قیمتوں میں اچانک اضافے نے عوام کو سڑکوں پر نکالا۔
    بنیادی سبب یہ بتایا جا رہا ہے کہ ایرانی کرنسی کی قدر امریکی ڈالر کے مقابلے میں غیر معمولی حد تک گر گئی۔

    تاریخ کی ستم ظریفی دیکھیے کہ جس ملک میں ایک دور میں شاہِ ایران کی شان و شوکت کے تذکرے ہوتے تھے، یہاں تک کہ 1970 میں 2500 سالہ جشنِ شاہنشاہی میں فرانس کے ہوٹلوں سے کھانے منگوائے گئے اور جنگل میں منگل کا سماں تھا، جس میں پاکستان کے سابق فوجی آمر یحییٰ خان بھی شریک ہونے پہنچے تھے، آج اسی ملک کے شہری انڈوں کی قیمتوں پر احتجاج کرتے دکھائی دے رہے ہیں۔

    داخلی و خارجی دباؤ، چیلنجز کی بھرمار

    یہ حقیقت ہے کہ ایران اس وقت اندرونی اور بیرونی، دونوں سطحوں پر شدید دباؤ کی زد میں ہے۔ 2024 کے بعد سے مہنگائی، کرنسی کی گرتی قدر اور توانائی کی قلت نے صورتحال کو مسلسل دباتے رکھا، جس کے نتیجے میں بار بار بجلی اور گیس کی بندشیں سامنے آئیں، اور صدر مسعود پزشکیاں کو عوام سے معذرت بھی کرنا پڑی۔

    دوسری طرف علاقائی منظرنامے میں بھی ایران کو جھٹکے لگے۔ شام میں اسد حکومت کا خاتمہ، غزہ میں حماس کے بعض اہم ٹھکانوں اور شخصیات کے خلاف کارروائیاں، اور لبنان میں حزب اللہ کی قیادت کو نشانہ بنانے جیسے واقعات نے ایرانی اثرورسوخ پر سوالات اٹھا دیے۔

    اعداد و شمار کیا کہتے ہیں؟

    2025 کے آخری مہینوں میں زرِ مبادلہ کی منڈی میں بے مثال ہلچل دیکھی گئی۔
    ایرانی ریال یا تومان تیزی سے گرا اور ڈالر کے مقابلے میں شرح تبادلہ تقریباً ایک لاکھ پینتالیس ہزار تومان تک پہنچنے کا تذکرہ ہوا۔

    سرکاری ادارہ شماریات کے مطابق دسمبر 2025 میں مہنگائی 42.2 فیصد رہی، جو نومبر کے مقابلے میں 1.8 فیصد اضافہ تھا۔ خوراک کی قیمتیں سال بہ سال 72 فیصد بڑھیں، جبکہ صحت اور طبی سامان 50 فیصد تک مہنگا ہوا۔

    پانی کے بحران کی بدانتظامی بھی عوامی بے چینی میں اضافہ کر رہی ہے۔ مزید یہ کہ ایرانی میڈیا کے مطابق حکومت نے 21 مارچ، ایرانی نئے سال، سے ٹیکس بڑھانے کا عندیہ دیا، جس سے شہریوں میں تشویش مزید بڑھی۔ اسی پس منظر میں احتجاج کے دوران یہ نعرہ بھی سنائی دیا، نہ غزہ، نہ لبنان، میری جان ایران پر قربان۔

    احتجاج کا رخ کہاں گیا؟

    وقت کے ساتھ احتجاج محض مہنگائی تک محدود نہ رہا۔ بدعنوانی، سخت گیر طرزِ حکمرانی، اور داخلی ضرورتوں کے مقابلے میں پراکسیز، مثلاً حزب اللہ اور حماس، کو ترجیح دینے کے الزامات بھی نمایاں ہوئے۔

    ساتھ ہی ایران کو کرد، آذربائجانی، خوزستانی عرب اور بلوچ علاقوں میں علیحدگی پسند تحریکوں کے چیلنجز، اور امریکا اور اسرائیل جیسے طاقتور ممالک کے دباؤ کا بھی سامنا ہے۔

    زرِ مبادلہ کی صورتحال نے بحران کو مزید گہرا کیا۔ بتایا گیا کہ 29 دسمبر کو ریال تاریخی کم ترین سطح پر گیا۔ حکومت نے 3 جنوری کو شرح میں مصنوعی بہتری لانے کی کوشش کی، مگر 6 جنوری تک کرنسی پھر نئی کم ترین حد توڑ گئی، اور اس کے ساتھ ہی خوراک سمیت ضروری اشیا کی قیمتیں مزید اوپر چلی گئیں۔

    ماہرین کی نظر میں وجوہات

    معاشی ماہرین کے مطابق حکومتی مانیٹری اور مالیاتی پالیسیاں، مسلسل بدانتظامی، دائمی بجٹ خسارہ اور بین الاقوامی پابندیوں کا تسلسل بنیادی اسباب ہیں۔ درآمدات پر انحصار کرنے والے کاروبار خاص طور پر متاثر ہوئے۔ شرحِ تبادلہ کے شدید اتار چڑھاؤ نے تاجروں کے لیے قیمتیں مقرر کرنا، سپلائی حاصل کرنا اور کاروبار چلانا مشکل بنا دیا۔

    سیاسی مفہوم، نعرے، گرفتاریاں اور طاقت کا استعمال

    رپورٹس کے مطابق احتجاج کی سیاسی جہت اس وقت نمایاں ہوئی جب مرگ بر خامنہ ای جیسے نعرے لگے، جن کا رخ سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی جانب سمجھا گیا۔
    صدر پزشکیاں سے بھی عوامی توقعات کمزور پڑتی دکھائی دیں۔ کہا گیا کہ وہ 2024 میں گڈ گورننس کے وعدوں کے ساتھ آئے تھے، مگر پانی اور بجلی کی بندشیں جاری رہیں اور انٹرنیٹ سنسرشپ میں خاطر خواہ نرمی نہ آ سکی۔

    اگرچہ پرامن احتجاج کے آئینی حق کی بات کی گئی اور نمائندوں سے ملاقات کے وعدے بھی سامنے آئے، مگر سیکورٹی اداروں پر صدارتی اختیار محدود بتایا جاتا ہے۔
    یکم جنوری 2026 تک متعدد گرفتاریاں، اور بعض مقامات پر براہِ راست گولی چلانے کے واقعات کا ذکر بھی سامنے آیا، جن میں طلبہ، پنشنرز اور نوجوان شامل بتائے گئے۔

    پس منظر میں جوہری معاہدہ، ٹرمپ اور نئی کشیدگیاں

    اس تناظر میں 2013 میں حسن روحانی کے تبدیلی کے نعروں، 2015 کے جوہری معاہدے اور پابندیوں میں جزوی نرمی کا حوالہ بھی اہم ہے۔
    پھر ڈونلڈ ٹرمپ کے اقتدار میں آنے کے بعد معاہدے سے دستبرداری، سفری پابندیوں میں سختی اور یروشلم سے متعلق امریکی فیصلوں نے خطے میں کشیدگی بڑھائی، اور ایران کی بے چینی میں اضافہ ہوا۔

    تازہ مظاہروں کے دوران بھی امریکی بیانات، ٹویٹس اور سابق شاہِ ایران کے صاحبزادے رضا پہلوی کی سرگرمیوں کو بعض حلقے بیرونی پشت پناہی کے اشارے کے طور پر دیکھتے ہیں۔
    کل لندن میں ایران کے سفارتخانے پر شاہِ ایران کے دور کا پرچم دوبارہ لہرایا گیا، اور یہ منظر بی بی سی سمیت دنیا بھر کے نیوز چینلز نے ایکسکلیوزلی نشر کیا۔

    اندرونِ ملک، ثقافتی اور سیاسی غصہ

    1979 سے پہلے ایران کو نسبتاً جدید اور کھلا معاشرہ سمجھا جاتا تھا۔ انقلاب کے بعد ولایتِ فقیہ کے نظام کے نفاذ کے ساتھ سماجی اور ثقافتی پابندیاں بڑھیں۔ فنونِ لطیفہ، گائیکی اور عوامی طرزِ زندگی پر قدغنیں لگیں۔ اسی تبدیلی نے ایک بڑے طبقے، خصوصاً نوجوانوں میں، ریاستی اور مذہبی قیادت کے خلاف ناراضی کو جنم دیا۔

    ایران کے سیاسی ڈھانچے میں اگرچہ صدارتی اور پارلیمانی ادارے موجود ہیں، مگر اصل مرکزِ اختیار سپریم لیڈر ہے۔ مجلسِ خبرگان کو سپریم لیڈر کے انتخاب اور برطرفی کا اختیار حاصل ہے۔ پارلیمان کے 290 اراکین حکومت کی نگرانی کرتے ہیں، مگر آبادی کا بڑا حصہ، تیس سال سے کم عمر، ایسا ہے جو انقلاب کے بعد پیدا ہوا اور اپنی سماجی اور معاشی حقیقتوں میں جینے پر مجبور ہے۔

    ایران کے لیے اس وقت سعودی عرب کی پالیسیاں بھی ایک چیلنج ہیں، جہاں ایم بی ایس نے مذہبی ماحول کے باوجود کنسرٹس اور عورتوں کو ڈرائیونگ کی اجازت دی، جس سے ایران پر یہ دباؤ بڑھ گیا ہے کہ وہ بھی لبرل اوپن نیس کی پالیسی کو آگے بڑھائے۔

    یہی وہ دبی ہوئی چنگاری ہے جو اب بار بار بھڑکتی نظر آتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ یہ چنگاری وقتی دباؤ میں بجھ جائے گی، یا ایران کے اندر کوئی بڑا سیاسی اور سماجی موڑ پیدا کرے گی؟ کیا یہ ابھار وقتی ثابت ہوگا، یا تاریخ ایک بار پھر دہرائی جائے گی، جیسے خمینی ایئر فرانس کی فلائٹ سے پیرس سے تہران پہنچے تھے؟ کیا پرنس رضا شاہ بھی واشنگٹن سے اسی انداز میں لنگرانداز ہوں گے؟

    خمینی کی آمد کے وقت 1979 میں ایک افواہ اڑی کہ ایران کی نامور ترین گلوکارہ خانم گگوش کو مذہبی پولیس نے گھر میں گھس کر مار دیا ہے، اگرچہ یہ بعد میں افواہ ہی ثابت ہوئی۔ اس موقع پر سندھی کے نامور رومانوی شاعر حسن درس نے خانم گگوش لکھی تھی، جس کا منظوم ترجمہ درج ذیل ہے۔

    خانم گگوش کی تصویر کے فریم میں
    ایک ملک قید ہے،
    جس کی سرحدوں کے اندر جوانی ممنوع ہے۔

    تاریخ کے سگریٹ کو
    جب تیلی نے چھوا
    تو وقت سلگ اٹھا،

    اور ایک لمبی کش میں
    درد کا سرمئی دھواں
    ہوا میں بکھرنے لگا۔

    خمینی
    تم ایک راکھ کی طرح
    اپنی قبر کی ایش ٹرے میں
    بے معنی ہو کر جھڑ جاؤ گے۔

    گگوش کی آنکھوں میں
    ایک کربلا چونک کر جاگ اٹھتی ہے،

    اور خوابوں کے حسین
    اپنے قتل کی ناانصافی پر
    ہر یزید، ہر خمینی کے
    ابدی زوال اور موت کو روندتے ہوئے

    دل کے نئے موسموں کے
    نئے عنوان بن جاتے ہیں۔

    درد کی اس پرانی جھیل پر
    جب دیس اور پردیس کے پرندے
    اکٹھے اڑان بھریں گے

    تو نیلگوں آسمان میں بھی
    پرندوں کا ایک بادل
    جھیل پر سایہ کر دے گا۔

    تب کروڑوں لڑکے اور لڑکیاں
    جوانی کی شاخ پر
    زندگی کی کمر میں بانہیں ڈالے
    مسلسل ہنستے رہیں گے،

    اور اُن قہقہوں میں
    گگوش ہمیشہ جوان رہے گی۔

    حسن درس

     

  • کیا ساڑھے سولہ ارب روپے کے باوجود پیپلز پرائمری ہیلتھ کیئر انیشی ایٹو (پی پی ایچ آئی) سندھ میں بنیادی علاج واقعی موجود ہے؟

    کیا ساڑھے سولہ ارب روپے کے باوجود پیپلز پرائمری ہیلتھ کیئر انیشی ایٹو (پی پی ایچ آئی) سندھ میں بنیادی علاج واقعی موجود ہے؟

    کیا آپ کو معلوم ہے کہ سندھ حکومت ہر سال عوام کے ٹیکس سے تقریباً ساڑھے سولہ ارب روپے پیپلز پرائمری ہیلتھ کیئر انیشی ایٹو سندھ کو دیتی ہے۔ یہ ادارہ صوبے میں بنیادی صحت کے نظام کی ذمہ داری سنبھالے ہوئے ہے اور اسے عام طور پر پی پی ایچ آئی کہا جاتا ہے۔

    پی پی ایچ آئی سندھ سنہ 2012 کے بعد صوبے کے بیشتر دیہی بنیادی صحت مراکز کے انتظامات سنبھال چکا ہے۔ کاغذوں میں اس کا مقصد سادہ ہے، دیہات تک علاج پہنچانا، ماں اور بچے کی صحت بہتر بنانا اور ایسے مریضوں کو سہولت دینا جو شہروں تک نہیں پہنچ سکتے۔

    اس خطیر رقم کے بدلے پی پی ایچ آئی پر لازم ہے کہ وہ بنیادی صحت مراکز چلائے۔ دیہی علاقوں میں روزمرہ علاج کی سہولت فراہم کرے۔ حاملہ خواتین اور نوزائیدہ بچوں کی نگہداشت یقینی بنائے۔ مراکز میں ڈاکٹر، طبی عملہ اور ضروری ادویات دستیاب رکھے۔

    ادارے کا دعویٰ ہے کہ سندھ بھر میں سینکڑوں بنیادی صحت مراکز فعال ہیں اور دیہی آبادی کو علاج کی سہولت میسر ہے۔ رپورٹس میں اعداد و شمار موجود ہیں، عمارتیں موجود ہیں اور نظام کاغذ پر مکمل دکھائی دیتا ہے۔

    لیکن زمینی حقیقت پر سوالات اب بھی اپنی جگہ ہیں۔ کیا آپ کے گاؤں کا بنیادی صحت مرکز روزانہ کھلتا ہے۔ کیا ڈاکٹر مقررہ وقت پر موجود ہوتا ہے۔ کیا مریض کو دوا ملتی ہے یا صرف پرچی پکڑا دی جاتی ہے۔ کیا ایمرجنسی کی صورت میں فوری علاج ممکن ہوتا ہے۔

    اگر مراکز واقعی فعال ہیں تو پھر مریض شہروں کا رخ کیوں کرتے ہیں۔ غریب خاندان نجی اسپتالوں پر قرض کیوں اٹھاتے ہیں۔ بنیادی سہولت ہونے کے باوجود عوام دربدر کیوں نظر آتے ہیں۔

    یہ بھی ایک کم معلوم حقیقت ہے کہ کئی دیہی مراکز میں عمارت تو موجود ہے مگر عملہ عارضی ہے یا بار بار تبدیل ہوتا رہتا ہے، جس سے علاج کا تسلسل متاثر ہوتا ہے اور مریض کا اعتماد ٹوٹتا ہے۔

    اصل سوال یہی ہے کہ جب سندھ حکومت ہر سال ساڑھے سولہ ارب روپے پی پی ایچ آئی کو دیتی ہے تو عوام کا حق ہے کہ وہ پوچھیں۔ یہ پیسہ کہاں خرچ ہو رہا ہے۔ سہولت صرف فائلوں میں ہے یا زمین پر بھی۔ اور اگر علاج میسر نہیں تو اس کی ذمہ داری کس پر عائد ہوتی ہے۔

  • پارلیمانوں میں تاریخی، دلچسپ واقعات: انڈین لیجسلیٹو اسمبلی میں بھگت سنگھ نے بم کیوں پھینکے؟

    پارلیمانوں میں تاریخی، دلچسپ واقعات: انڈین لیجسلیٹو اسمبلی میں بھگت سنگھ نے بم کیوں پھینکے؟

     

    جب انڈین لیجسلیٹو اسمبلی کے اجلاس کے اندر بھگت سنگھ نے بم پھینکے.

    بھگت سنگھ برصغیر کا وہ انقلابی کردار ہے جس نے نہایت کم عمری میں ہی برصغیر کی سیاست اور انگریز سامراج سے آزادی کی جدوجہد پر اَن مِٹ نقوش چھوڑے۔

    27 ستمبر 1907 کو لائل پور (موجودہ فیصل آباد) کے تعلقہ جڑانوالہ کے ایک چھوٹے سے گاؤں بنگا (جس کا نام بعد میں بھگت پور رکھا گیا) میں پیدا ہونے والے بھگت سنگھ کو محض 23 برس کی عمر میں 23 مارچ 1931 کو لاہور سینٹرل جیل میں تختہ دار پر چڑھا دیا گیا۔

    بھگت سنگھ برطانوی سامراج کے بربریت سے سخت نالاں تھے۔ جب وہ صرف 12 برس کے تھے تو امرتسر میں جلیانوالہ باغ میں قتلِ عام کا واقعہ پیش آیا، جس نے اُن کی سوچ اور شعور پر گہرے اثرات مرتب کیے۔ کم عمری ہی میں وہ ہندوستاں سوشلسٹ ریپبلکن ایسوسی ایشن کے رکن اور رہنما کے طور پر ابھرے۔

    اُس دور میں انگریز حکومت نے ہندوستان کے سیاسی مستقبل کے تعین کے لیے ۔سائمن کمیشن قائم کیا، جس میں ایک بھی مقامی ہندوستانی شامل نہ تھا۔ اس پر برصغیر کی تمام سیاسی جماعتوں اور رہنماؤں نے سائمن کمیشن کے بائیکاٹ کا اعلان کیا۔

    جب سائمن کمیشن بمبئی پہنچنے والا تھا تو لاہور میں معروف سیاسی، سماجی، فلاحی اور قوم پرست رہنما لالا لجپت رائے کی قیادت میں لاہور ریلوے اسٹیشن پر احتجاج ہوا۔ اس احتجاج پر پولیس سپرنٹنڈنٹ جیمس اسکاٹ کی قیادت میں شدید تشدد کیا گیا، جس کے نتیجے میں ہندوستان کی مرکزی اسمبلی کے رکن اور کانگریس کے مرکزی رہنما لالا لجپت رائے زخمی ہوئے اور بعد ازاں وفات پا گئے۔

    اس واقعے کے بعد نوجوان بھگت سنگھ نے لالا لجپت رائے کے خون کا بدلہ لینے کا فیصلہ کیا۔ 17 دسمبر 1928 کو بھگت سنگھ نے اپنے ساتھی راج گرو کے ہمراہ پولیس سپرنٹنڈنٹ جیمس اسکاٹ کے بجائے غلطی سے ایک اور نوجوان پولیس افسر جان سانڈرز کو قتل کر دیا۔ اس واقعے کے بعد وہ روپوش ہو کر لکھنؤ چلے گئے۔

    بھگت سنگھ کی جانب سے اسمبلی میں بم پھینکنے والے واقعے کی شایع خبر
    بھگت سنگھ کی جانب سے اسمبلی میں بم پھینکنے والے واقعے کی شایع خبر

    اس کے بعد بھگت سنگھ اور اُن کے ساتھیوں نے انگریز سرکار کے سامنے ایک بڑا دھماکا کرنے کا فیصلہ کیا۔ چنانچہ 8 اپریل 1929 کو دہلی میں مرکزی قانون ساز اسمبلی کے جاری اجلاس کے دوران بھگت سنگھ نے اپنے ساتھی بتوکیشور دت کے ساتھ دو کم شدت والے بم پھینکے، جن سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ انہوں نے اسمبلی میں پمفلٹ اچھالے، آزادی کے نعرے لگائے اور خود کو گرفتار کرا دیا۔

    بروز پیر، 8 اپریل 1929

    مرکزی قانون ساز اسمبلی، دہلی

    ہندوستان کی تیسری مرکزی اسمبلی کا چوتھا اجلاس معمول کے مطابق اسپیکر وِٹھل بھائی پٹیل (سردار ولبھ بھائی پٹیل کے بڑے بھائی) کی صدارت میں جاری تھا۔ اس اجلاس میں سندھ کے دو اراکین، سیٹھ حاجی عبداللہ ہارون اور وڈیرہ محمد پناہ خان ڈکھن سمیت کُل 94 اراکین موجود تھے۔

    سوال و جواب کے وقفے میں دو سوالات کے بعد اسپیکر نے اعلان کیا کہ اب ایوان میں ‘دی ٹریڈ ڈسپیوٹس بل‘ پر دوبارہ بحث کا آغاز کیا جائے گا۔ اس کے بعد میاں محمد شاہنواز (مغربی وسطی پنجاب — مسلم)، کرنل جی ڈی کرافورڈ (بنگال — یورپی)، ایم کے اچاریہ، سی ایس رنگا ایئر، فضل ابراہیم رحمت اللہ (بمبئی سینٹرل ڈویژن، مسلم دیہی) اور سر بھوپیندر ناتھ مترا نے بل پر تقاریر کیں۔

    آخر میں اسپیکر نے قرارداد پیش کی کہ یہ بل جیسا کہ اسٹینڈنگ کمیٹی سے منظور ہو کر آیا ہے، ویسے ہی اس ایوان سے بھی منظور کیا جائے۔ ووٹنگ کے نتیجے میں بل کے حق میں 56 اور مخالفت میں 38 ووٹ پڑے۔ اسپیکر ابھی بل کی منظوری کا اعلان ہی کر رہے تھے کہ وزیٹرز گیلری سے چند بم ایوان میں اچھال دیے گئے۔ اگرچہ کوئی جانی نقصان نہ ہوا، تاہم چند اراکین زخمی ہو گئے۔

    اسی دوران بھگت سنگھ اور اُن کے ساتھی ‘انقلاب زندہ باد‘ کے نعرے لگاتے ہوئے ایوان میں پمفلٹ پھینکتے رہے۔ دھماکوں کے بعد ایوان میں افراتفری پھیل گئی، مگر بھگت سنگھ اور اُن کے ساتھی فرار ہونے کے بجائے نعرے لگاتے ہوئے خود گرفتاری کے لیے پیش ہو گئے۔ اسپیکر بھی اپنی نشست چھوڑ کر چلے گئے، لیکن کچھ دیر بعد واپس آئے اور کارروائی ملتوی کرتے ہوئے اعلان کیا کہ اجلاس بروز جمعرات، 11 اپریل 1929، صبح 11 بجے دوبارہ ہوگا۔

    اسمبلی میں بم دھماکے کے باوجود 11 اپریل 1929 کو اجلاس منعقد ہوا۔ اس اجلاس میں اسپیکر نے ایک قرارداد پیش کی جو متفقہ طور پر منظور کر لی گئی۔ قرارداد میں کہا گیا:  ‘یہ ایوان اس ماہ کی آٹھ تاریخ کی صبح ہونے والے وحشیانہ اور غیر انسانی حملے پر اپنے دکھ اور غصے کا اظہار کرتا ہے اور سردار سر بومانجی دلال اور دیگر زخمی ہونے والوں سے گہری ہمدردی کا اظہار کرتا ہے۔

    ‘یہ ایوان خدائے مہربان کا شکر ادا کرتا ہے کہ اس حملے کے سنگین نتائج برآمد نہ ہوئے۔ یہ ایوان اس حملے کی مکمل مذمت کرتا ہے اور اعلیٰ حکام کو یقین دلاتا ہے کہ ایسے جرائم کے اعادے کو روکنے کے لیے جو بھی مناسب اقدامات ضروری ہوں، اُن میں اس ایوان کا مکمل تعاون حاصل ہوگا۔‘

    اس واقعے کے بعد بھگت سنگھ اور اُن کے ساتھیوں پر مقدمات چلائے گئے۔ ٹرائل کے بعد بھگت سنگھ کو اسمبلی میں بم پھینکنے کے جرم میں عمر قید، جب کہ پولیس سارجنٹ جان سانڈرز کے قتل کے الزام میں سزائے موت سنائی گئی۔

    23 مارچ 1931 کو بھگت سنگھ، راج گرو اور سکھ دیو کو لاہور سینٹرل جیل میں پھانسی دے دی گئی۔ اُن کے جسدِ خاکی ورثا کے حوالے کرنے کے بجائے رات کی تاریکی میں گنڈا سنگھ والا گاؤں میں آخری رسومات ادا کر کے راکھ دریائے ستلج میں بہا دی گئی۔