Tag: حکومت

  • 6 اگست 1990:جب صدر غلام اسحاق خان نے وزیر اعظم بینظیر بھٹو کی منتخب حکومت برطرف کی

    6 اگست 1990:جب صدر غلام اسحاق خان نے وزیر اعظم بینظیر بھٹو کی منتخب حکومت برطرف کی

    6 اگست 1990 کا دن پاکستان کی سیاسی، جمہوری اور آئینی تاریخ میں ایک اہم اور تاریخی موڑ کی حیثیت رکھتا ہے۔ اس دن اُس وقت کے صدر غلام اسحاق خان نے آئین کے آرٹیکل 58 (2) (ب) کے تحت اپنے صدارتی اختیارات کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے وزیر اعظم بینظیر بھٹو کی منتخب حکومت کو برطرف کر دیا اور قومی اسمبلی کو تحلیل کرکے ایک نیا سیاسی بحران پیدا کر دیا۔

    1977 میں وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کی منتخب حکومت ختم کرنے کے بعد جنرل ضیاء الحق نے ملک میں مارشل لا نافذ کیا اور ایک ایسے تاریک دور کی بنیاد رکھی جس نے پاکستان کی سیاسی تاریخ کو اپنی فاشسٹ اور آمرانہ طرزِ حکومت سے ہلا کر رکھ دیا۔

    فوجی ظلم و بربریت کے اس دور میں سیاسی کارکنوں، پاکستان پیپلز پارٹی کے کارکنوں اور جمہوریت پسند افراد پر ناقابلِ بیان تشدد کیا گیا۔ مخالفین کی آواز دبانے کے لیے سرِعام کوڑے مارے گئے، قیدیوں کو طویل قید اور تنہائی کی سزائیں دی گئیں۔

    ملک میں خوف اور ہراس کا ایسا ماحول پیدا کیا گیا تاکہ کوئی بھی آمر کے خلاف آواز بلند نہ کر سکے۔ جنرل ضیاء کی آمریت کا سب سے بزدلانہ اور سیاہ ترین اقدام ذوالفقار علی بھٹو کو عدالتی قتل کے ذریعے پھانسی دینا تھا۔

    لیکن تاریخ کی حقیقت یہ ہے کہ بھٹو کی شہادت نے مظلوم عوام کو خوفزدہ کرنے کے بجائے ان کے اندر جمہوریت اور مزاحمت کی آگ کو مزید بھڑکا دیا۔

    سندھ سمیت پورے پاکستان میں عوامی سطح پر ایک تاریخی جدوجہد شروع ہوئی جس نے آمریت کی بنیادوں کو ہلا کر رکھ دیا۔

    والد کی شہادت اور اپنی ذات پر ہونے والی بے شمار قید و بند اور نظر بندیوں کے باوجود، کم عمر بینظیر بھٹو نے اپنے والد کے مشن کو جاری رکھا اور کسانوں، مزدوروں اور عوام کا سہارا بن کر سامنے آئیں۔

    ایم آر ڈی، یعنی تحریک بحالی جمہوریت کے تحت ملک میں آمریت کے خلاف جو زبردست تحریک چلی، اس میں ہزاروں نوجوانوں اور خواتین نے گرفتاریاں دیں اور اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔ اس پُرعزم جدوجہد نے جنرل ضیاء کے اقتدار کی بنیادیں ہلا دیں۔

    آخرکار 17 اگست 1988 کو ایک طیارہ حادثے میں جنرل ضیاء الحق کی موت کے بعد ملک میں نومبر 1988 میں عام انتخابات ہوئے۔

    آئی ایس آئی کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل حمید گل نے انتخابات میں بینظیر بھٹو کا راستہ روکنے کے لیے تمام مخالف جماعتوں کو ملا کر اسلامی جمہوری اتحاد (IJI) بنایا، لیکن اس کے باوجود پاکستان پیپلز پارٹی (PPP) نے 93 نشستیں حاصل کر کے تمام سیاسی جماعتوں پر برتری حاصل کی۔

    پاکستان پیپلز پارٹی کے ٹکٹوں کے لیے ملک بھر میں ایسا جوش و خروش تھا کہ تقریباً اٹھارہ ہزار سے زائد درخواستیں موصول ہوئیں۔

    انتخابات میں پاکستان پیپلز پارٹی اکثریتی جماعت بن کر سامنے آئی۔ پاکستان کی فوجی اسٹیبلشمنٹ نے مجبوری میں بینظیر بھٹو کو مشروط طور پر اقتدار دینے کا فیصلہ کیا۔

    صرف 35 برس کی عمر میں بینظیر بھٹو نے دنیا کی کم عمر ترین اور مسلم دنیا کی پہلی خاتون وزیر اعظم کے طور پر حلف اٹھایا۔ طویل آمریت کے خلاف جدوجہد کی وجہ سے دنیا بھر میں ان کی تعریف کی گئی، اور مغربی دنیا میں مثبت تاثر پیدا ہونے کے باعث پاکستان کو ملنے والی غیر ملکی امداد، جو پہلے 2.6 ارب ڈالر تھی، بڑھ کر 3.4 ارب ڈالر تک پہنچ گئی۔

    دسمبر 1988سے اگست 1990 تک بینظیر بھٹو کا 18 ماہ کا دورِ حکومت سمجھوتوں، سازشوں اور سیاسی اتار چڑھاؤ کی ایک المناک داستان ہے۔ انہیں اقتدار سے دور رکھنے کی کوششیں انتخابات سے پہلے ہی شروع ہو چکی تھیں۔

    بینظیر بھٹو کو اقتدار کی باگ ڈور دینے سے پہلے پاکستان کی فوجی اسٹیبلشمنٹ کو ان کے بارے میں کچھ خدشات تھے۔ اسی لیے آرمی چیف جنرل اسلم بیگ نے بینظیر بھٹو سے ملاقات کر کے درج ذیل شرائط رکھیں:

    1۔ ملک کے صدر غلام اسحاق خان ہی رہیں گے۔

    2۔ وزیر خارجہ لیفٹیننٹ جنرل (ر) صاحبزادہ یعقوب علی خان ہوں گے۔

    3۔ بھارت کے ساتھ تعلقات، کشمیر اور افغانستان سے متعلق معاملات فوجی قیادت کے مشورے سے طے کیے جائیں گے۔

    4۔ جنرل ضیاء الحق کے خاندان سمیت اُن تمام فوجی افسران کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی جائے گی جن پر مارشل لا کے دور میں ظلم و زیادتی کے الزامات تھے۔

    5۔ پاکستان کی ایٹمی پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں کی جائے گی۔

    6۔ فوج میں تقرریوں اور تبادلوں کے معاملات میں مداخلت نہ کرنے کی ضمانت لی جائے گی۔

    بیوروکریسی کے اعلیٰ عہدے پر موجود صدر غلام اسحاق خان نے پہلے ہی دن سے بینظیر بھٹو کو انتظامی اور قانونی رکاوٹیں کھڑی کرکے مشکلات میں ڈالنا شروع کر دیا۔

    بینظیر بھٹو کے وزیرِ اعظم بننے کے بعد کئی دنوں تک کوئی بھی سرکاری فائل ان کے پاس نہیں بھیجی گئی بلکہ تمام فائلیں براہِ راست ایوانِ صدر بھیجی جاتی رہیں۔

    صدر غلام اسحاق خان اور وزیرِ اعظم بینظیر بھٹو کے درمیان پہلا بڑا اختلاف مارشل لا کے دور کے سیاسی قیدیوں کی رہائی اور عام معافی کے معاملے پر ہوا۔

    صدر غلام اسحاق خان قانونی جواز کا سہارا لے کر سیاسی قیدیوں کی رہائی روکنا چاہتے تھے، لیکن وزیرِ اعظم بینظیر بھٹو نے ایک انتظامی حکم (ایگزیکٹو آرڈر) جاری کرکے مارشل لا کے دور میں قید تمام سیاسی کارکنوں کو جیلوں سے رہا کرنے کا حکم دے دیا۔

    اس کے بعد وزیرِ اعظم بینظیر بھٹو نے آئی ایس آئی کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل حمید گل کو عہدے سے ہٹا کر لیفٹیننٹ جنرل شمس الرحمن کلو کو نیا ڈی جی آئی ایس آئی مقرر کر دیا۔

    اس کے بعد پاکستان کی مسلح افواج میں ایک اہم تقرری کا معاملہ سامنے آیا۔ جنرل ضیاء الحق نے اپنے قابلِ اعتماد ساتھی جنرل اختر عبدالرحمان کو چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی مقرر کیا تھا، لیکن وہ 17 اگست 1988 کو جنرل ضیاء الحق کے ساتھ فضائی حادثے میں جاں بحق ہو گئے تھے۔

    آرمی چیف جنرل اسلم بیگ اس عہدے پر اپنی پسند کے جنرل کو مقرر کرنا چاہتے تھے، لیکن وزیرِ اعظم بینظیر بھٹو نے پاکستان کی تینوں مسلح افواج میں سب سے سینئر فوجی افسر، بحریہ کے سربراہ ایڈمرل افتخار سروہی کو چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی مقرر کر دیا۔

    اس طرح ملک میں سول اور فوجی قیادت کے تعلقات مسلسل خراب ہوتے گئے۔

    دوسری طرف ملک کے مختلف صوبوں میں مختلف سیاسی جماعتوں کی حکومتیں قائم تھیں۔ سندھ اور سرحد (موجودہ خیبر پختونخوا) میں پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومتیں تھیں، جبکہ پنجاب میں میاں نواز شریف اور بلوچستان میں نواب اکبر بگٹی وزیرِ اعلیٰ تھے۔

    پنجاب میں میاں نواز شریف کی قیادت میں اسلامی جمہوری اتحاد (آئی جے آئی) کی حکومت نے وفاقی حکومت کے خلاف سخت محاذ قائم کر لیا۔

    ستمبر 1989 میں ایم کیو ایم نے بینظیر حکومت سے اپنی حمایت واپس لے لی۔ کراچی میں امن و امان کی خراب صورتِ حال کے پیشِ نظر فوج نے آئین کے آرٹیکل 245 کے تحت مکمل اختیارات طلب کیے، لیکن بینظیر بھٹو نے ایسے اختیارات دینے کی مخالفت کی، جس کے نتیجے میں حکومت اور فوج کے تعلقات میں کشیدگی پیدا ہو گئی۔

    24 اکتوبر 1989کو اپوزیشن نے 98 ارکان کے دستخطوں کے ساتھ وزیرِ اعظم بینظیر بھٹو کی حکومت کے خلاف تحریکِ عدم اعتماد جمع کرائی۔ یکم نومبر کو ہونے والی رائے شماری میں حکومت نے 124 ووٹ حاصل کرکے کامیابی حاصل کی، اور اس طرح بینظیر بھٹو کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک ناکام ہو گئی، لیکن اس سیاسی کشمکش نے ملکی نظام کو اندر سے کمزور کر دیا۔

    ایم کیو ایم اور پیپلز پارٹی کے سیاسی راستے الگ ہونے کے بعد کراچی اور حیدرآباد میں نسلی نفرت اور تصادم کو ہوا دی گئی۔ اس وقت سندھ، خاص طور پر کراچی اور حیدرآباد، شدید نسلی اور سیاسی کشیدگی کی لپیٹ میں تھے۔ مہاجر قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) اور پاکستان پیپلز پارٹی کے درمیان بڑھتی ہوئی سیاسی کشمکش اور شہری علاقوں میں مسلح سرگرمیوں نے صورتِ حال کو انتہائی خراب کر دیا۔

    سندھیوں اور اردو بولنے والوں کے درمیان فاصلے بڑھتے گئے اور ایک دوسرے پر اعتماد کم ہوتا گیا۔

    اپریل 1990 میں کراچی میں آل پاکستان مہاجر اسٹوڈنٹس فیڈریشن کے گروپوں کے درمیان مسلح تصادم شروع ہوا، جس میں پیپلز اسٹوڈنٹس فیڈریشن (پی ایس ایف) کے چند کارکن مارے گئے۔

    جوابی کارروائی میں پیپلز اسٹوڈنٹس فیڈریشن کے کراچی کے صدر نجیب احمد کی قیادت میں پی ایس ایف کے کارکنوں نے عزیز آباد میں ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین کی رہائش گاہ پر فائرنگ کی۔ اس کے جواب میں ایم کیو ایم کے کارکنوں نے نجیب احمد کو قتل کر دیا۔

    دونوں جماعتوں نے ایک دوسرے کے کئی کارکنوں کو اغوا کرکے یرغمال بنا لیا۔ بعد میں کور 5 کے کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل نصیر اختر کی مداخلت کے بعد فوج کی موجودگی میں دونوں فریقوں نے اپنے اپنے یرغمال کارکن ایک دوسرے کے حوالے کیے۔

    اسی طرح کی صورتِ حال حیدرآباد میں بھی پیدا کی گئی۔ ایم کیو ایم کے کارکنوں نے کھاہی روڈ، فقیر جو پڑ، واڈھن جو پڑ، گاڑی کھاتہ اور دیگر کئی سندھی آبادیوں پر حملے کیے۔ ان حملوں کے نتیجے میں کئی سندھی خاندان بے گھر ہو گئے اور ان کے گھروں پر قبضے کیے گئے۔ بہت سے لوگ مارے گئے، جبکہ لڑکیوں کے ساتھ زیادتی کے چند واقعات بھی رپورٹ ہوئے۔ وارداتوں کے بعد ملزمان حیدرآباد کے پکا قلعہ میں جا کر پناہ لیتے تھے۔

    پکا قلعہ آپریشن

    مئی 1990 میں حکومت نے پکا قلعہ میں آپریشن کیا۔

    حکومت اور انتظامیہ کا مؤقف تھا کہ پکا قلعہ کے اندر غیر قانونی اسلحے کے ذخیرے موجود ہیں اور وہاں سے دہشت گردی کی سرگرمیاں چلائی جا رہی ہیں۔ اس لیے آپریشن کا مقصد اسلحہ برآمد کرنا اور ملزمان کو گرفتار کرنا تھا۔

    اس آپریشن کے دوران شدید مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا۔ قلعے کے اندر سخت فائرنگ اور محاصرہ ہوا، جس کے نتیجے میں عام شہری، جن میں خواتین اور بچے بھی شامل تھے، بڑی تعداد میں جاں بحق اور زخمی ہوئے۔

    پکا قلعہ آپریشن نے حیدرآباد کے سماجی ڈھانچے اور پاکستان کی سیاست پر گہرے اور دیرپا اثرات چھوڑے۔

    سیاسی اتحاد کا خاتمہ

    یہ آپریشن ایسے وقت میں ہوا جب 1988 کا کراچی معاہدہ اب بھی نافذ تھا، جس کے تحت پاکستان پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم مل کر حکومت چلا رہی تھیں۔ اس آپریشن کے بعد دونوں جماعتوں کے راستے ہمیشہ کے لیے الگ ہو گئے، اور وفاق میں بینظیر بھٹو کی حکومت کے خلاف عدم اعتماد کی فضا مزید مضبوط ہو گئی۔

    نسلی تعصب اور پولرائزیشن میں اضافہ

    اس واقعے نے حیدرآباد کی دو بڑی لسانی برادریوں (اردو بولنے والے اور سندھی بولنے والے) کے درمیان فاصلے مزید بڑھا دیے، جس کے باعث شہر میں کئی دہائیوں تک بے اعتمادی کا ماحول قائم رہا۔

    وفاقی حکومت کی برطرفی: اگست 1990 میں صدر غلام اسحاق خان نے آئین کے آرٹیکل 58(2)(ب) کا استعمال کرتے ہوئے محترمہ بینظیر بھٹو کی پہلی حکومت کو کرپشن، بدامنی اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے الزامات کے تحت برطرف کر دیا۔

    اس فیصلے کے جواز میں حیدرآباد کے ان واقعات کو بھی ایک اہم محرک کے طور پر پیش کیا گیا۔

    نتیجہ اور تاریخی حیثیت

    محترمہ بینظیر بھٹو کے دور میں پکا قلعہ آپریشن ریاست کی رٹ بحال کرنے کی ایک کوشش تھا، لیکن اس کا انجام انتہائی متنازع اور افسوسناک ثابت ہوا۔تاریخی اعتبار سے یہ واقعہ سندھ کی شہری سیاست کا ایک نہایت تلخ اور اہم باب سمجھا جاتا ہے، جس نے ہمیشہ کے لیے حیدرآباد کے امن، ہم آہنگی اور سیاسی مستقبل پر گہرے اثرات چھوڑے۔

    برطرفی کے اہم اسباب اور آئینی جواز

    غلام اسحاق خان منتخب حکومت کو برطرف کرنے کا پختہ ارادہ کر چکے تھے، اور روئیداد خان، شریف الدین پیرزادہ اور دیگر قانونی ماہرین کی مدد سے اس کے لیے ریفرنس تیار کیے گئے۔ 6 اگست 1990 کو جاری کیے گئے حکم نامے میں برطرفی کی درج ذیل اہم وجوہات بیان کی گئیں:

    بدعنوانی اور کرپشن کے الزامات: حکومت کے عہدیداروں اور وزراء پر کرپشن، اقربا پروری، بدانتظامی اور سرکاری فنڈز کے غلط استعمال کے الزامات لگائے گئے۔

    آرٹیکل 58(2)(ب) کا استعمال: آٹھویں آئینی ترمیم کے ذریعے صدر کو حاصل اختیارات کے تحت یہ مؤقف اختیار کیا گیا کہ حکومت آئین اور قانون کے دائرے میں رہ کر کام کرنے میں ناکام ہو چکی ہے۔

    سول ملٹری تعلقات: خارجہ پالیسی، دفاعی معاملات اور اہم عہدوں پر تقرریوں کے معاملے میں فوجی قیادت اور ایوانِ صدر کے ساتھ پیدا ہونے والی کشیدگی نے بھی اس برطرفی میں اہم کردار ادا کیا۔

    نگران حکومت اور عدالتی ردعمل

    عبوری حکومت: 6 اگست 1990 کو غلام مصطفیٰ جتوئی کی سربراہی میں نگران حکومت قائم کی گئی، جس میں بینظیر بھٹو کے سیاسی مخالفین بھی شامل تھے۔

    احتساب ریفرنس: روئیداد خان کو احتساب کا قلمدان دیا گیا اور بینظیر بھٹو کے خلاف مختلف ریفرنس، جن کے حق میں کوئی ثبوت موجود نہیں تھے، خصوصی عدالتوں میں بھیجے گئے، جہاں سے وہ بعد میں مکمل طور پر بری ہو گئیں۔

    عدالتی فیصلے: برطرفی کے خلاف سندھ، لاہور اور پشاور ہائی کورٹ میں درخواستیں دائر کی گئیں۔ لاہور ہائی کورٹ اور سندھ ہائی کورٹ نے اسمبلی کی برطرفی کو درست قرار دیا، جس سے وفاقی سیاست میں ایک انتہائی خراب روایت قائم ہوئی۔

    6 اگست 1990 کا واقعہ پاکستان کی سیاسی اور جمہوری تاریخ کا ایک تاریک باب ہے۔ اس واقعے نے یہ ثابت کیا کہ منتخب نمائندوں کو اپنی آئینی مدت پوری کرنے کا موقع دیے بغیر ہی اختیارات کی کشمکش اور آئینی ہتھکنڈوں کے ذریعے حکومت سے ہٹا دیا گیا۔

    یہ قدم ملکی سیاست میں اسٹیبلشمنٹ کی مضبوط گرفت اور طاقت کے توازن کو نقصان پہنچانے کی ایک واضح مثال تھا، جس کے اثرات کے باعث آنے والی کئی دہائیوں تک پاکستان میں جمہوریت کے استحکام اور اقتصادی ترقی شدید متاثر رہی۔

  • عمران خان کے بیٹوں کا والد کی صحت پر اظہار تشویش، حکومت نے الزامات مسترد کر دیے

    عمران خان کے بیٹوں کا والد کی صحت پر اظہار تشویش، حکومت نے الزامات مسترد کر دیے

    سابق وزیراعظم عمران خان کے دونوں بیٹوں نے اپنے والد کی صحت پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ پاکستانی حکام انہیں اپنے والد سے ملاقات کی اجازت نہیں دے رہے، جبکہ حکومت نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ عمران خان کو قانون اور جیل قواعد کے مطابق خاندان، وکلا اور ڈاکٹروں تک مناسب رسائی حاصل ہے۔ یہ دعوے اور جوابات امریکی نشریاتی ادارے سی این این کو دیے گئے انٹرویوز اور بیانات میں سامنے آئے ہیں۔

    سی این این کے مطابق سابق وزیراعظم عمران خان کی گرفتاری کو تین سال مکمل ہونے پر ان کے بیٹے قاسم خان اور سلیمان عیسیٰ خان نے لندن سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ انہیں گزشتہ سات ماہ سے اپنے والد کی صحت کے بارے میں کوئی مستند اطلاع نہیں ملی۔ ان کا کہنا تھا کہ نہ خاندان کو ملاقات کی اجازت دی جا رہی ہے، نہ وکلا کو اور نہ ہی ڈاکٹروں کو، جس کی وجہ سے انہیں اپنے والد کی صحت کے بارے میں شدید خدشات لاحق ہیں۔

    دوسری جانب عمران خان کی جماعت پاکستان تحریک انصاف کے ہزاروں کارکنوں نے بدھ کے روز ملک کے مختلف شہروں میں ریلیاں نکالیں اور عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کی رہائی کا مطالبہ کیا۔

    واضح رہے کہ عمران خان 2018 سے 2022 تک پاکستان کے وزیراعظم رہے۔ انہیں 2022 میں قومی اسمبلی میں عدم اعتماد کی تحریک کے ذریعے اقتدار سے ہٹایا گیا تھا۔ اس کے بعد وہ موجودہ حکومت کے خلاف ملک بھر میں جلسے کرتے رہے۔ عمران خان نے اپنی حکومت کے خاتمے کا الزام حکومت، اسٹیبلشمنٹ اور امریکا پر عائد کیا تھا، تاہم فوج اور امریکا دونوں نے ان الزامات کی تردید کی تھی۔

    بعد ازاں عمران خان کو بدعنوانی اور ریاستی راز افشا کرنے سمیت مختلف مقدمات میں سزا سنائے جانے کے بعد گرفتار کر لیا گیا۔ عمران خان اور ان کی جماعت ان مقدمات کو سیاسی انتقام قرار دیتی ہے، جبکہ حکومت کا مؤقف ہے کہ تمام کارروائیاں قانون کے مطابق کی جا رہی ہیں۔

    سی این این کے مطابق قاسم اور سلیمان اپنی والدہ جمائما گولڈ اسمتھ کے ساتھ 2004 میں والدین کی علیحدگی کے بعد سے برطانیہ میں مقیم ہیں۔ دونوں بھائیوں کا کہنا ہے کہ جب بھی وہ میڈیا پر اپنے والد کے حق میں بات کرتے ہیں تو پاکستان آنے کی راہ میں مزید رکاوٹیں کھڑی کر دی جاتی ہیں۔

    قاسم خان نے کہا کہ وہ پاکستان آکر اپنے والد سے ملنا چاہتے ہیں لیکن انہیں سفر کی اجازت نہیں مل رہی۔ ان کے بقول اس بات کی کوئی وجہ نہیں کہ انہیں پاکستان آنے کی اجازت نہ دی جائے۔

    اس کے جواب میں پاکستان کی وزارت اطلاعات نے سی این این کو بتایا کہ قاسم اور سلیمان دونوں کے پاس بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے قومی شناختی کارڈ موجود ہیں، اس لیے انہیں پاکستان آنے کے لیے ویزے کی ضرورت ہی نہیں۔ وزارت اطلاعات نے کہا کہ دونوں بھائیوں کے الزامات گمراہ کن ہیں اور ایک انتظامی معاملے کو سیاسی رنگ دینے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

    تاہم قاسم اور سلیمان کا کہنا تھا کہ ان کے قومی شناختی کارڈ کی مدت ختم ہو چکی ہے اور ان کی تجدید نہیں کی گئی، جبکہ وزارت اطلاعات نے اس مخصوص دعوے پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔

    ادھر انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے بھی ایک بیان جاری کرتے ہوئے پاکستانی حکام سے مطالبہ کیا کہ عمران خان اور بشریٰ بی بی کو بغیر کسی شرط کے اپنے اہل خانہ اور وکلا سے ملاقات کا حق دیا جائے۔ تنظیم نے کہا کہ

    دونوں کو مناسب طبی سہولتیں فراہم کی جائیں اور اگر انہیں تنہائی میں رکھا گیا ہے تو اس عمل کو فوری طور پر ختم کیا جائے۔

    پاکستانی حکومت نے سی این این کو جاری اپنے تفصیلی بیان میں کہا کہ عمران خان کو سات ماہ تک رابطوں سے محروم رکھنے یا خاندان، وکلا اور ڈاکٹروں سے ملاقات نہ کرانے کے دعوے مکمل طور پر غلط ہیں۔ حکومت کے مطابق ریکارڈ سے ثابت ہوتا ہے کہ عمران خان کو متعدد مواقع پر ملاقات اور رابطے کی سہولت دی گئی۔

    حکومت نے بتایا کہ عمران خان نے 21 مارچ 2026 کو اپنے ایک بیٹے سے ٹیلی فون پر بات بھی کی تھی، جس سے واضح ہوتا ہے کہ ان کے رابطے مکمل طور پر بند نہیں کیے گئے بلکہ پاکستان جیل قواعد، عدالتی احکامات اور سکیورٹی تقاضوں کے مطابق منظم کیے جا رہے ہیں۔

    حکومت نے عمران خان کی صحت کے بارے میں بھی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ان کی طبی حالت مستحکم ہے، انہیں کسی سنگین یا نظرانداز کی گئی بیماری کا سامنا نہیں اور انہیں ڈاکٹروں کی ہدایات کے مطابق علاج، ادویات اور طبی معائنہ مسلسل فراہم کیا جا رہا ہے۔

    بیان میں عمران خان کی رہائش کی تفصیلات بھی بیان کی گئیں۔ حکومت کے مطابق وہ تقریباً 30 سے 35 قیدیوں کے لیے مختص سات کمروں پر مشتمل ایک علیحدہ احاطے میں رہ رہے ہیں، جہاں انہیں بستر، گدہ، تکیے، کمبل، میز، کرسی، صفائی کی سہولتیں، ورزش کا سامان، کشادہ راہداری اور سبزہ بھی دستیاب ہے۔ حکومت کا کہنا تھا کہ یہ صورتحال اس تاثر سے بالکل مختلف ہے جو عوام کے سامنے پیش کیا جا رہا ہے۔

    تاہم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے ماضی میں بھی تحریک انصاف کے کارکنوں اور رہنماؤں کی بڑے پیمانے پر گرفتاریوں کو من مانی کارروائیاں قرار دیا ہے۔ قاسم خان نے سی این این کو بتایا کہ ان کی جماعت کے کئی کارکن اب بھی انسداد دہشت گردی کے مقدمات میں زیر حراست ہیں جبکہ متعدد افراد کو فوجی عدالتوں سے سزائیں بھی سنائی جا چکی ہیں۔

    جب دونوں بھائیوں سے پوچھا گیا کہ کیا ان کے والد حکومت کے ساتھ کسی مفاہمتی معاہدے پر آمادہ ہو سکتے ہیں، تو سلیمان خان نے کہا کہ عمران خان اس وقت تک ایسا کوئی معاہدہ نہیں کریں گے جب تک دیگر سیاسی قیدیوں کے مسئلے کا بھی کوئی حل نہ نکلے۔ قاسم خان نے بھی کہا کہ فی الحال ایسا امکان کم دکھائی دیتا ہے۔

    قاسم خان نے مزید کہا کہ حکومت ان کے والد کی تازہ طبی رپورٹ بھی جاری نہیں کر رہی، اس لیے انہیں خدشہ ہے کہ گزشتہ چند ماہ میں عمران خان کی صحت مزید خراب ہو سکتی ہے۔ انہوں نے عالمی برادری سے اپیل کی کہ وہ پاکستان کی صورتحال کا نوٹس لے اور اس معاملے پر توجہ دے۔

  • سندھ حکومت کا نجی اسکولوں کو منظوری کے بغیر فیس میں اضافہ واپس  لینے کی ہدایت

    سندھ حکومت کا نجی اسکولوں کو منظوری کے بغیر فیس میں اضافہ واپس  لینے کی ہدایت

    سندھ حکومت نے صوبے بھر کے نجی تعلیمی اداروں کو خبردار کیا ہے کہ رجسٹریشن اتھارٹی کی پیشگی منظوری کے بغیر ٹیوشن فیس یا کسی بھی دوسری مد میں اضافہ نہیں کیا جا سکتا۔

     حکومت نے واضح کیا ہے کہ اگر کسی اسکول نے مقررہ قواعد کی خلاف ورزی کرتے ہوئے اضافی فیس وصول کی ہے تو اسے فوری طور پر یہ عمل روکنا ہوگا اور والدین سے وصول کی گئی اضافی رقم واپس کرنا ہوگی، بصورت دیگر متعلقہ قوانین کے تحت سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

    محکمہ اسکول ایجوکیشن اینڈ لٹریسی سندھ کے ماتحت ڈائریکٹوریٹ آف انسپیکشن اینڈ رجسٹریشن آف پرائیویٹ انسٹی ٹیوشنز کی جانب سے جاری ہدایات میں کہا گیا ہے کہ حالیہ دنوں میں مختلف نجی اسکولوں کے خلاف فیسوں میں غیر معمولی اضافے اور والدین سے منظور شدہ فیس کے علاوہ اضافی رقوم وصول کرنے کی شکایات موصول ہوئی ہیں۔ ان شکایات کی بنیاد پر متعلقہ اداروں کو طلب کرکے ان کا مؤقف سنا گیا اور بعد ازاں تمام نجی اسکولوں کے لیے عمومی ہدایات جاری کی گئی ہیں۔

    حکام کے مطابق سندھ پرائیویٹ ایجوکیشنل انسٹی ٹیوشنز (ریگولیشن اینڈ کنٹرول) رولز 2005 کے تحت کسی بھی نجی اسکول کو رجسٹریشن اتھارٹی کی منظوری کے بغیر ٹیوشن فیس بڑھانے کی اجازت نہیں۔ اس قانون کی خلاف ورزی کرنے والے اداروں کے خلاف جرمانے سمیت دیگر قانونی کارروائی کی جا سکتی ہے۔

    ڈائریکٹوریٹ نے تمام نجی اسکولوں کو ہدایت دی ہے کہ اگر کسی ادارے نے منظور شدہ فیس سے زیادہ رقم وصول کی ہے تو وہ فوری طور پر اضافی وصولی بند کرے اور والدین کو ان کی رقم واپس کرے۔ اس کے علاوہ متعلقہ اسکولوں کو مقررہ مدت کے اندر عمل درآمد کی رپورٹ اور رقم کی واپسی کے ثبوت بھی جمع کرانے ہوں گے

    ڈائریکٹوریٹ آف پرائیویٹ اسکولز کی ایڈیشنل ڈائریکٹر رافعہ ملاح کے مطابق عام طور پر نجی اسکول رجسٹریشن کی تجدید کے وقت ٹیوشن فیس میں سالانہ پانچ فیصد اضافے کی درخواست دیتے ہیں۔ درخواست کا جائزہ لینے کے بعد اگر رجسٹریشن اتھارٹی منظوری دے تو ہی نئی فیس نافذ کی جا سکتی ہے۔ اس کے بغیر کسی بھی قسم کا اضافہ غیر قانونی تصور ہوگا۔

    انہوں نے کہا کہ حکومت نے والدین کی شکایات کو سنجیدگی سے لیا ہے اور واضح پیغام دیا ہے کہ کسی بھی نجی اسکول کو اپنی مرضی سے فیس بڑھانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ اگر کوئی ادارہ ایسا کرتا ہے تو اس کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی ہوگی۔

    حکومت کی جانب سے جاری آگاہی مہم میں بھی نجی اسکولوں کو یاد دلایا گیا ہے کہ سالانہ فیس میں زیادہ سے زیادہ پانچ فیصد اضافہ بھی صرف اس صورت میں ممکن ہے جب اس کی باقاعدہ منظوری متعلقہ حکام سے حاصل کی گئی ہو۔ اس سے زیادہ یا منظوری کے بغیر کیا گیا کوئی بھی اضافہ قابل قبول نہیں ہوگا۔

    آگاہی مہم میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ تعلیم ہر بچے کا بنیادی حق ہے، کوئی عیاشی نہیں۔ اس لیے نجی تعلیمی اداروں کو چاہیے کہ وہ معیاری تعلیم کو عام لوگوں کی پہنچ میں رکھنے کے لیے ذمہ داری کا مظاہرہ کریں اور ایسے فیصلوں سے گریز کریں جن سے والدین پر غیر ضروری مالی بوجھ پڑے۔

    حکومت نے نجی اسکولوں کو ہدایت دی ہے کہ وہ صرف وہی فیس وصول کریں جو ڈائریکٹوریٹ آف پرائیویٹ اسکولز سے منظور شدہ ہو۔ اس کے علاوہ کسی بھی قسم کے پوشیدہ اخراجات، اضافی چارجز یا غیر منظور شدہ رقوم والدین سے وصول نہ کی جائیں۔

    سرکلر میں مزید کہا گیا ہے کہ تمام نجی اسکول اپنی منظور شدہ فیس کی تفصیلات نمایاں طور پر اسکول کے نوٹس بورڈ اور استقبالیہ پر آویزاں کریں تاکہ والدین آسانی سے معلوم کر سکیں کہ ان سے وصول کی جانے والی رقم حکومتی منظوری کے مطابق ہے یا نہیں۔

    حکام کا کہنا ہے کہ بعض والدین نے شکایت کی تھی کہ ٹیوشن فیس کے علاوہ مختلف عنوانات سے اضافی رقوم طلب کی جا رہی ہیں، جن کی باقاعدہ منظوری موجود نہیں۔ ان شکایات کے بعد حکومت نے تمام نجی تعلیمی اداروں کو متنبہ کیا ہے کہ اس قسم کی وصولیاں فوری طور پر بند کی جائیں۔

    سرکلر میں سندھ پرائیویٹ ایجوکیشنل انسٹی ٹیوشنز (ریگولیشن اینڈ کنٹرول) رولز 2005 کے رول 7(4) اور رول 7(6) کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ رجسٹریشن اتھارٹی کی منظوری کے بغیر ٹیوشن فیس یا کسی دوسری مد میں رقم وصول کرنا قانون کی خلاف ورزی ہے۔

    اسی طرح سندھ پرائیویٹ ایجوکیشنل انسٹی ٹیوشنز (ریگولیشن اینڈ کنٹرول) آرڈیننس 2001 کی دفعہ 11 کے مطابق خلاف ورزی کرنے والے اداروں پر پانچ لاکھ روپے تک جرمانہ عائد کیا جا سکتا ہے، جبکہ سنگین خلاف ورزی کی صورت میں دفعہ 8 کے تحت اسکول کی رجسٹریشن معطل یا منسوخ بھی کی جا سکتی ہے۔

    حکومت نے والدین کو بھی یقین دہانی کرائی ہے کہ اگر کسی اسکول کی جانب سے منظور شدہ فیس سے زیادہ رقم طلب کی جائے تو وہ متعلقہ حکام سے رجوع کریں۔ والدین کو شکایت درج کرانے کے لیے فارم بھی فراہم کیے جائیں گے تاکہ ان کے مسائل کا بروقت ازالہ کیا جا سکے۔

    رافعہ ملاح نے کہا کہ نجی تعلیمی اداروں کو چاہیے کہ وہ والدین کے ساتھ منصفانہ اور ذمہ دارانہ رویہ اختیار کریں۔ انہوں نے کہا کہ اسکولوں اور والدین کے درمیان اعتماد اسی وقت قائم رہ سکتا ہے جب تمام مالی معاملات شفاف ہوں اور قوانین پر مکمل عمل کیا جائے۔

    تعلیمی ماہرین کے مطابق گزشتہ چند برسوں میں نجی اسکولوں کی فیسوں میں مسلسل اضافے کے باعث متوسط اور کم آمدنی والے خاندان شدید مالی مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔ ان کے نزدیک حکومت کی جانب سے قواعد پر سختی سے عمل درآمد نہ صرف والدین کو ریلیف دے گا بلکہ نجی تعلیمی شعبے میں شفافیت اور احتساب کو بھی فروغ ملے گا۔

    والدین نے بھی سندھ حکومت کے اس اقدام کا خیر مقدم کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ فیسوں سے متعلق قوانین پر یکساں عمل درآمد یقینی بنایا جائے، تمام نجی اسکولوں کی نگرانی کی جائے اور ایسے اداروں کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائے جو حکومتی منظوری کے بغیر فیسوں میں اضافہ یا مختلف عنوانات سے اضافی رقوم وصول کرتے ہیں۔

  • 18ویں ترمیم، صوبائی خودمختاری کے خلاف کسی بھی ترمیم کی مخالفت کریں گے: پیپلز پارٹی

    18ویں ترمیم، صوبائی خودمختاری کے خلاف کسی بھی ترمیم کی مخالفت کریں گے: پیپلز پارٹی

    پاکستان پیپلز پارٹی نے 18ویں ترمیم، صوبائی حقوق اور صوبائی خودمختاری سے متصادم آئین میں کسی بھی ممکنہ ترمیم کی حمایت نہ کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کراچی کو وفاق کے ماتحت چلانے، این ایف سی ایوارڈ میں کٹوتی اور 18ویں ترمیم کے خلاف مطالبات کو آئین کی خلاف ورزی قرار دے کر مسترد کر دیا ہے۔

    پیپلز پارٹی نے وفاقی حکومت کو خبردار کیا ہے کہ اگر 18ویں ترمیم کو رول بیک کرنے کی کوشش کی گئی تو 26ویں اور 27ویں آئینی ترامیم کا ازسرنو جائزہ لیا جائے۔ پارٹی نے مطالبہ کیا کہ قومی مالیاتی کمیشن (این ایف سی) کا فوری اجلاس بلا کر نئے مالیاتی ایوارڈ کا اجرا کیا جائے۔

    یہ مطالبات جمعرات کو پاکستان پیپلز پارٹی سندھ کے زیر اہتمام منعقدہ سیمینار میں کیے گئے، جس کا عنوان تھا: ’’کراچی کو وفاق کے ماتحت چلانے، این ایف سی ایوارڈ میں کٹوتی، 18ویں ترمیم اور صوبائی خودمختاری کے خلاف باتیں، سندھ کو ون یونٹ کی طرف دھکیلنے کی سازش تو نہیں؟‘‘

    سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے پیپلز پارٹی سندھ کے صدر نثار احمد کھوڑو نے کہا کہ وفاقی حکومت آئین کے تحت صوبوں کو صرف وفاقی قوانین پر عملدرآمد کے لیے ہدایات دے سکتی ہے، کسی شہر کا انتظامی کنٹرول نہیں سنبھال سکتی۔ انہوں نے کہا کہ 18ویں ترمیم تمام سیاسی جماعتوں کے اتفاق رائے سے آئین کا حصہ بنی اور اسے رول بیک نہیں ہونے دیا جائے گا۔

    سابق چیئرمین سینیٹ میاں رضا ربانی نے کہا کہ کراچی سندھ کا دارالحکومت تھا، ہے اور رہے گا۔ ان کے مطابق کراچی یا گوادر کو وفاق کے ماتحت کرنے کے لیے پارلیمنٹ میں دو تہائی اکثریت سے آئینی ترمیم درکار ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ 18ویں ترمیم کو واپس لینے کی کسی بھی کوشش کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے۔

    رضا ربانی نے کہا کہ آئین کے تحت ہر پانچ سال بعد نیا این ایف سی ایوارڈ جاری ہونا ضروری ہے، تاہم وفاقی حکومت اس حوالے سے اپنی آئینی ذمہ داری پوری نہیں کر رہی۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ صوبوں کو زیادہ مالی اور انتظامی اختیارات دیے جائیں۔

    سیمینار سے سینیٹر بیرسٹر ضمیر گھمرو، سینئر صحافی مظہر عباس، وسعت اللہ خان، کراچی پریس کلب کے صدر فاضل جمیلی، وکیل شہاب سرکی اور نورالہدیٰ شاہ نے بھی خطاب کیا۔ مقررین نے 18ویں ترمیم، صوبائی خودمختاری اور سندھ کے آئینی حقوق کے تحفظ پر زور دیا اور کراچی کو وفاق کے ماتحت کرنے کی تجاویز کی مخالفت کی۔

    سیمینار کے اختتام پر منظور کی گئی قراردادوں میں کراچی کو وفاق کے ماتحت چلانے، این ایف سی میں صوبوں کے حصے میں کٹوتی اور 18ویں ترمیم کے خلاف کسی بھی اقدام کو مسترد کرتے ہوئے وفاقی حکومت سے فوری طور پر نیا این ایف سی ایوارڈ جاری کرنے اور صوبائی خودمختاری سے متعلق آئینی تقاضے پورے کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔

  • مجوزہ 28ویں آئینی ترمیم: ووٹ کے لیے عمر کی حد 25 سال، کیا پی ٹی آئی کے اکثریتی ووٹرز کو الیکشن سے باہر رکھنے کی کوشش؟

    مجوزہ 28ویں آئینی ترمیم: ووٹ کے لیے عمر کی حد 25 سال، کیا پی ٹی آئی کے اکثریتی ووٹرز کو الیکشن سے باہر رکھنے کی کوشش؟

    وفاقی حکومت کی جانب سے مجوزہ 28ویں آئینی ترمیم میں ووٹ ڈالنے کی عمر 18 سے بڑھا کر 25 سال کرنے کی تجویز نے سوشل میڈیا اور سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق اگر یہ تجویز منظور ہو گئی تو جین زی (جنریشن زی) کی بڑی تعداد ووٹ کے حق سے محروم ہو سکتی ہے۔

    وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی و عوامی امور رانا ثنااللہ نے اتوار کو جیو نیوز کے پروگرام ’جرگہ‘ میں بات چیت کرتے ہوئے اشارہ دیا تھا کہ حکومت ووٹنگ کی عمر بڑھانے کی تجویز پر غور کر رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جب الیکشن لڑنے کی کم از کم عمر 25 سال مقرر ہے تو ووٹ ڈالنے کی عمر بھی 25 سال ہونی چاہیے۔

    رانا ثنااللہ کے مطابق اس اقدام سے ایسے ووٹرز سامنے آئیں گے جو زیادہ سمجھداری اور پختگی کے ساتھ اپنے نمائندوں کا انتخاب کر سکیں گے۔

    اس تجویز پر سب سے شدید ردعمل سابق وزیراعظم عمران خان کی جماعت پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کے حامیوں کی جانب سے سامنے آیا۔ پارٹی رہنماؤں کا مؤقف ہے کہ 25 سال سے کم عمر نوجوانوں کی بڑی تعداد پی ٹی آئی کا ووٹ بینک ہے۔

    پی ٹی آئی کے ترجمان شیخ وقاص اکرم نے اتوار کو ایک بیان میں کہا کہ ووٹ ڈالنے کی عمر 18 سے بڑھا کر 25 سال کرنے کی تجویز نوجوانوں کے جمہوری حق کو محدود کرنے کے مترادف ہے۔ انہوں نے رانا ثنااللہ کے بیان پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ قانون کے تحت 18 سال سے زائد عمر کے شہری ووٹ ڈال سکتے ہیں، ملازمت کر سکتے ہیں اور مسلح افواج میں بھی خدمات انجام دے سکتے ہیں۔

    سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر بھی اس معاملے پر بحث جاری ہے۔ نوجوانوں کی بڑی تعداد عمر کی حد بڑھانے کی شدید مخالف ہے۔ ایک صارف اسمہ خلیجی نے سوال اٹھایا کہ اگر ووٹ ڈالنے کی عمر 25 سال کی جاتی ہے تو کیا 25 سال سے کم عمر افراد سے ٹیکس بھی نہیں لیا جائے گا؟

    پی ٹی آئی کے سابق سیکریٹری جنرل اسد عمر نے طنزیہ انداز میں لکھا کہ اگر گاڑی چلانے کی عمر 18 سال ہے تو پھر گاڑی میں بیٹھنے کی عمر بھی 18 سال مقرر کر دینی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کو نوجوانوں سے خوف ہے کیونکہ وہ حکومتی بیانیہ قبول کرنے کو تیار نہیں۔

    سینیئر صحافی مطیع اللہ جان نے بھی اس تجویز پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اگر یہ ترمیم منظور ہو گئی تو 18 سال کی عمر میں نوجوان شادی اور والدین بننے کے اہل تو ہوں گے، مگر ووٹ ڈالنے کا حق نہیں رکھیں گے۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں شاہ رخ خان اور کاجول کی ایک فلمی تصویر بھی شیئر کی اور لکھا: ‘پارو! اگر آئین میں 28ویں ترمیم ہو گئی تو ہم کیا کریں گے؟’

    دوسری جانب حکومتی حلقوں کا کہنا ہے کہ ووٹنگ کی عمر بڑھانے کا معاملہ ابھی صرف تجویز کی حد تک ہے اور اس پر مختلف سطحوں پر مشاورت جاری ہے۔ حکومتی ذرائع کے مطابق آئینی ترامیم جیسے حساس معاملات میں جلد بازی نہیں کی جائے گی۔

    وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے پچھلے دنوں واضح کیا تھا کہ حکومت اتحادی جماعتوں اور دیگر اسٹیک ہولڈرز کی مشاورت کے بغیر کوئی آئینی ترمیم نہیں کرے گی۔

    سیاسی مبصرین کے مطابق ووٹنگ کی عمر میں اضافے کی تجویز ایک حساس معاملہ ہے کیونکہ پاکستان کی آبادی کا بڑا حصہ نوجوانوں پر مشتمل ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر حکومت اس تجویز کو عملی شکل دینا چاہتی ہے تو اسے پارلیمنٹ اور عوام دونوں کی وسیع حمایت حاصل کرنا ہوگی۔

  • سندھ : خواتین کے لیے مقتل گاہ کیوں ؟

    سندھ : خواتین کے لیے مقتل گاہ کیوں ؟

    ملک کے دوسرے صوبوں کی طرح سندھ کی خواتین کو بھی اب تک نہ تو انسانی برابری کا درجہ حاصل ہو سکا ہے اور نہ ہی آئین کے مطابق حقوق حاصل ہو سکے ہیں۔ دوسرے صوبوں کے مقابلے میں البتہ پیپلز پارٹی کی سندھ حکومت نے اسمبلیوں میں خواتین کے حق میں نئے قوانین بہت بنائے ہیں۔
    جہاں تک ان پر عمل درآمد کا تعلق ہے تو اس معاملے پر کہنے کے لیے کچھ زیادہ نہیں ہے۔ کیونکہ سالوں پہلے ان قوانین کے آنے سے اب تک خواتین کی حالت پر ان قوانین کے ہونے سے کوئی فرق نہیں پڑا۔ وہی گھریلو تشدد، وہی جنسی ہراسمنٹ، وہی کاروکاری کے نام پر خواتین کے قتل اور بے بسی کی خودکشیاں، وہی ورثے کے روڈوں پر دھرنے اور احتجاج! بلکہ وقت گزرنے کے ساتھ کوئی کمی آنے کے بجائے ان پر تشدد اور ظلم میں اضافہ ہی ہوتا رہا ہے، کیونکہ نئے قوانین پر عمل تو درکنار قانونی ادارے ہی سندھ میں سیاسی وڈیروں کے گھر کی لونڈی بن کر رہ گئے ہیں۔ تو ایسے میں کیا امید کی جا سکتی ہے کہ سندھ کی مجبور و محکوم خواتین کو خواتین کے حقوق کے لیے بنائے گئے قوانین سے کوئی تحفظ حاصل کرنا ممکن ہو۔ کیونکہ ان قوانین کے بارے میں کوئی آگاہی مہم نہیں چلائی گئی، نہ ان پر عمل درآمد کے لیے کوئی خاص اقدامات اٹھائے گئے، نہ کوئی ٹاسک فورس بنی، نہ ہی بجٹ ایلوکیٹ کیا گیا۔

    کسی اسمبلی ممبر یا منسٹر سے کبھی اس بارے میں کچھ نہیں پوچھا گیا کہ ان قوانین کے پاس ہونے سے خواتین کو کتنا فائدہ پہنچا۔ 2004 میں سندھ ہائی کورٹ نے جرگوں پر پابندی لگائی لیکن جرگے ہوتے رہے اور جاری ہیں۔ سینکڑوں بے گناہ خواتین کو ہر سال کاروکاری کے الزام میں قتل کیا جاتا ہے اور یہ سلسلہ جاری ہے۔ یہ اور بات ہے کہ کسی وڈیرے یا جاگیردار کی بیٹی قتل نہیں ہوتی، غیرت کے نام پر قتل ہونے والی سندھ کے غریب خاندانوں کی لڑکیاں ہوتی ہیں جو پہلے ہی ان کی دو وقت کی روٹی کھلانے سے بھی تنگ ہوتے ہیں۔

    ابھی تک سندھ میں لڑکیوں کو بیچنے کا رواج بھی چلا آ رہا ہے اور ہماری حکومتوں نے اس کارِ خیر میں بھی کبھی مداخلت نہیں کی۔ عورت کی بدقسمتی کہ وہ مجموعی طور پر گھریلو تشدد اور ذہنی تشدد کی تو کھانے، پانی اور آکسیجن کی طرح عادی بنا دی گئی ہے۔ اور اس کی نہ کوئی سزا ہے نہ حساب کتاب۔ لیکن حیرت کی بات کہ اکیسویں صدی میں بھی اس کا سانس لینا ہی سب سے بڑا جرم ہے۔ سندھ کی حکمران جماعت نے سرداری نظام کو اپنے اقتدار کی خاطر عوام کا خون پلا کر اتنا بڑا آدمخور بنا دیا ہے کہ اس کے سامنے قانون، اخلاق، اقدار اور انسانیت کا تصور ہی ماضی کا قصہ بن گیا ہے۔

    جدید دور میں شدت سے یہ بات محسوس ہو رہی ہے کہ سماجی، سیاسی اور حکومتی فیصلہ ساز اداروں میں عورت کی تعداد بہت ہی کم اور نہ ہونے کے برابر ہے، یہی وجہ ہے کہ عورت کی آواز بہت کم سنائی دیتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ سماج، سیاست اور حکومت کے فیصلہ ساز اداروں تک عورتوں کی رسائی کیسے بڑھائی جائے کہ عورتوں کے مسائل کو اہمیت حاصل ہو سکے؟

    عورت ہمیشہ غلام نہیں رہی ہے۔ تاریخ میں ہزاروں سال پہلے ایسے ادوار بھی رہے ہیں جب عورتوں کو مرکزی حیثیت حاصل رہی ہے، ان سماجوں کو "مادر سری” سماج کہا جاتا ہے۔ فریڈرک اینگلس کے مطابق شروعاتی انسانی سماجوں میں ملکیت مشترکہ اور نسل ماں کے نام سے جانی جاتی تھی۔ پھر نجی ملکیت کا تصور پیدا ہوا اور زرعی پیداوار بڑھی۔ مردوں کے پاس زمین اور وسائل کا کنٹرول آیا۔ خاندان کا ڈھانچہ "پدر شاہی” میں تبدیل ہوا تو عورتوں کو گھروں تک محدود کر دیا گیا۔ طاقت کے محور ادارے سیاست، فوج، مذہب اور معیشت مردوں کے کنٹرول میں چلے گئے، عورت سے سماج کی لیڈرشپ چھن گئی اور وہ غلام بن گئی۔

    لیکن یہ ہزاروں سال پہلے کی کتھا ہے۔ اکیسویں صدی کے جدید سائنس و ٹیکنالوجی اور انسانی برابری کے دور میں بھی ترقی یافتہ ممالک کو چھوڑ کر باقی دنیا خاص طور پر جنوبی ایشیا کی خواتین کی اکثریت کے حالات بہتر نہیں، لیکن پاکستان کی خواتین ان سب میں بھی تعلیم، روزگار اور تحفظ میں سب سے پیچھے ہیں۔

    سندھ کی موجودہ سماجی صورتحال بیڈ گورننس، طاقتور اور بااثر سرکاری سیاسی وڈیروں کی ناجائز اجارہ داری کی پیدا کردہ لاقانونیت کی وجہ سے ماضی کے مقابلے میں بہت زیادہ خراب ہے۔ اس کے سب سے زیادہ سندھ کی 80 فیصد غریب طبقے کی خواتین اور بچے نشانہ بن رہے ہیں۔

    صنفی تفریق معاشرے کی جڑوں تک اس قدر پھیلی ہوئی ہے کہ مرد تو مرد، خواتین بھی زیادہ تر وہی سوچتی اور کرتی ہیں جو مردانہ معاشرہ ان سے چاہتا ہے۔ اس کو چیلنج کرنے کی ہمت ہماری سیاسی پارٹیوں تک میں نہیں پیدا ہو سکی۔ سیاسی جماعتیں جس طرح ایک عرصے سے ملک کی آدھی آبادی کے مسائل سے لاتعلق ہیں، اس کا ان کو ابھی اندازہ اور احساس نہیں کہ مستقبل میں یہ ان کی کتنی بڑی کوتاہی ثابت ہو سکتی ہے۔ سیاسی پارٹیوں کے منشوروں میں اکثر یہ تصور کر لیا جاتا ہے کہ جب انقلاب آئے گا تو اس کے بعد سب طبقوں کے ساتھ انصاف ہوگا۔ وہ خواتین کو محض ایک طبقہ سمجھ لیتے ہیں جو بڑی غلط فہمی ہے۔ خواتین اس ملک کی اور دنیا کی آدھی آبادی ہیں، کوئی چھوٹا طبقہ نہیں ہیں۔

    پھر کلاس کی بات آجاتی ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ ملک کی اکثریتی خواتین کا تعلق لوئر کلاس کی مزدور، ہاری، ملازم طبقے سے ہے۔ ان کو جینے کے لیے بنیادی انسانی حقوق تعلیم، صحت، روزگار اور تحفظ حاصل نہیں ہیں۔ ان حقوق کے لیے خواتین کو اپنے سیاسی پلیٹ فارم بنا کر جدوجہد کرنا ہوگی۔ خواتین کی سماجی تنظیمیں بہت اچھا کام کر رہی ہیں لیکن ان کی پہنچ محدود اور مخصوص ہے کیونکہ وہ سیاسی پلیٹ فارم نہیں ہیں۔

    سرکاری طور پر اس جدید دور میں صنفی تفریق کے خاتمے کے لیے سارے ملک کے درسگاہوں کے ساتھ سب سرکاری اداروں خاص طور پر پولیس، عدلیہ، وکلا کے لیے صنفی حساسیت پیدا کرنے کے لیے خواتین کے حقوق کے بارے میں کورس/ کوڈ آف کنڈکٹ ترتیب دے کر اسمبلیوں سے قانون پاس کروا کر اسے ملک بھر میں نافذ کیا جائے اور اسے پڑھنا اور اس پر عمل کرنا لازمی قرار دیا جائے اور اس پر عمل نہ کرنے کی جوابدہی ہونی چاہیے۔ یہ خواتین کی عزت اور حقوق کے تحفظ میں مددگار ہو سکتا ہے اگر اس پر عمل درآمد ہو۔ ورنہ پہلے ہی بہت سے قوانین کے مسودے فائلوں میں بند پڑے ہیں۔ ملک کی خواتین کے لیے بنیادی انسانی حقوق اور عزت و تحفظ کا خواب کبھی حقیقت نہیں بن سکے گا۔ البتہ مریم نواز شریف جیسی دبنگ خاتون سے اس سلسلے میں کوئی پیشرفت کرنے کی امید کی جا سکتی ہے۔

  • اگر آپ موٹر سائیکل چلاتے ہیں اور پیٹرول مہنگا ہونے پر پریشان ہیں تو خوش ہوجائیں سندھ حکومت نے آپ کو سبسیڈی دینے کا فیصلہ کیا ہے ۔۔۔۔ مگر آپ کو یہ رقم ملے گی کیسے ؟؟

    اگر آپ موٹر سائیکل چلاتے ہیں اور پیٹرول مہنگا ہونے پر پریشان ہیں تو خوش ہوجائیں سندھ حکومت نے آپ کو سبسیڈی دینے کا فیصلہ کیا ہے ۔۔۔۔ مگر آپ کو یہ رقم ملے گی کیسے ؟؟

    آئیے سندھ حکومت کی اس اسکیم پر نظر ڈالتے ہیں ۔۔۔

    سندھ میں مجموعی طور پر 68 لاکھ موٹرسائیکل رجسٹرڈ ہیں جن کو ماہانہ دو ہزار روپے یعنی ہر ورکنگ ڈے ایک لیٹر پیٹرول کے حساب سے فی لیٹر ایک سو روپے سبسڈی دینے کا منصوبہ ہے۔

    لیکن یہ رقم حاصل کرنے کے کئے کچھ دشوار گزار راستوں سے گزرنا پڑے گا ۔۔۔
    اگر آپ کی موٹرسائیکل آپ کے نام پر رجسٹرڈ نہیں ہے تو پہلے اپنے نام کروا لیں ۔
    پریشان نہ ہوں ۔۔ حکومت نے موٹرسائیکل رجسٹریشن اور ٹرانسفر کی مفت سہولت کا اعلان کردیا ہے

    سندھ حکومت کے محکمہ ایکسائزنے موٹرسائیکل سبسڈی ایپ بنانا شروع کی ہے ۔
    حکومت کا دعویٰ ہے چند دن میں یہ موبائل ایپلیکیشن تیار ہوگی ۔
    یوں سمجھ لیں آپ گھر بیٹھے خود کو رجسٹر کروائیں گے

    لیکن رکیں ۔۔
    کیا آپ کا بینک اکائونٹ ہے ؟ نہیں تو فوری بینک اکاوئنٹ کھلوائیں اور موٹرسائیکل اپنے نام ضرور ٹرانسفر کروالیں
    ۔ اگر آپ کے نام سے ایک سے زائد موٹرسائیکل رجسٹرڈ ہیں تب بھی آپ کو ایک ہی موٹرسائیکل پر سبسڈی ملے گی ۔
    اگر آپ کے نام سے موٹرسائیکل کے ساتھ کار بھی رجسٹرڈ ہے تو سبسڈی ملے گی یا نہیں ؟ اس کا فیصلہ ابھی نہیں ہوا
    لگتا تو یہ ہے کہ ایسی صورت حال میں آپ کو صرف موٹرسائیکل کے لئے سبسڈی دی جائے گی ۔

  • لیبر مارکیٹ کا بحران: پاکستان میں بے روزگاری اضافہ: لیبر فورس سروے 2024-25 کے اہم انکشافات

    لیبر مارکیٹ کا بحران: پاکستان میں بے روزگاری اضافہ: لیبر فورس سروے 2024-25 کے اہم انکشافات

    وفاقی حکومت کے فیڈرل بیورو آف اسٹیٹسٹکس کے تازہ جاری کردہ لیبر فورس سروے 2024-25 کے اعداد و شمار کے مطابق پاکستان کی مجموعی لیبر فورس تقریباً 83.1 ملین افراد پر مشتمل ہے، جو کہ پچھلے لیبر فورس سروے 2020-21 میں دیے گئے 71.76 ملین افراد کے مقابلے میں 15.8 فیصد زائد ہے۔

    حالیہ سروے کے اہم نکات کے مطابق ملک کی معیشت، روزگار کے مواقع اور صوبائی سطح پر فرق واضح طور پر ظاہر ہوتا ہے۔ اس رپورٹ کے مطابق پاکستان کی لیبر مارکیٹ ایک بڑی اور متحرک قوت رکھتی ہے، تاہم اس میں کئی چیلنجز بھی موجود ہیں، خصوصاً صوبوں کے درمیان عدم توازن اور غیر رسمی شعبے کا زیادہ ہونا۔

    رپورٹ کے مطابق سال 2024-25 میں پاکستان کی مجموعی لیبر فورس میں سب سے بڑا حصہ پنجاب کا ہے جہاں 48.2 ملین افراد لیبر فورس میں شامل ہیں۔ اس کے بعد سندھ میں 18.5 ملین، خیبر پختونخوا میں 12.5 ملین اور بلوچستان میں 4.0 ملین افراد شامل ہیں۔ یہ اعداد و شمار واضح کرتے ہیں کہ آبادی اور معاشی سرگرمیوں کے لحاظ سے پنجاب ملک کی لیبر فورس میں مرکزی حیثیت رکھتا ہے۔

    مجموعی لیبر فورس میں سے تقریباً 77.2 ملین افراد برسر روزگار ہیں، جو کہ ایک مثبت اشارہ ہے کہ بڑی تعداد میں لوگ کسی نہ کسی معاشی سرگرمی سے وابستہ ہیں۔ یہاں بھی پنجاب سرفہرست ہے جہاں 44.7 ملین افراد کام کر رہے ہیں، جبکہ سندھ میں 17.5 ملین، خیبر پختونخوا میں 11.3 ملین اور بلوچستان میں 3.8 ملین افراد ملازمت کر رہے ہیں۔ تاہم یہ بھی واضح ہے کہ مختلف صوبوں میں روزگار کے مواقع یکساں نہیں ہیں۔

    لیبر فورس میں شرکت کی شرح ملک بھر میں اوسطاً 46.3 فیصد ہے، یعنی تقریباً آدھی بالغ آبادی معاشی سرگرمیوں میں حصہ لے رہی ہے۔ پنجاب میں یہ شرح سب سے زیادہ 49.0 فیصد ہے، جبکہ سندھ میں 44.7 فیصد، بلوچستان میں 41.7 فیصد اور خیبر پختونخوا میں 41.2 فیصد ریکارڈ کی گئی ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ کم ترقی یافتہ علاقوں میں لوگ کم تعداد میں لیبر مارکیٹ کا حصہ بنتے ہیں۔

    بے روزگاری کی صورتحال بھی رپورٹ میں نمایاں کی گئی ہے۔ ملک بھر میں بے روزگاری کی اوسط شرح 7.1 فیصد ہے، جو کہ 2020-21 کے اعداد و شمار کے مقابلے میں بڑھ گئی ہے۔ پچھلی رپورٹ کے مطابق 2020-21 میں بے روزگاری کی شرح 6.3 فیصد تھی۔ پچھلے سال یعنی 2024-25 میں خیبر پختونخوا میں بے روزگاری کی شرح سب سے زیادہ 9.6 فیصد تھی، جبکہ سندھ میں 7.3 فیصد تھی۔ اس کے برعکس پنجاب میں 5.3 فیصد اور بلوچستان میں 5.5 فیصد بے روزگاری کی شرح تھی۔ یہ فرق ظاہر کرتا ہے کہ ملک کے مختلف حصوں میں روزگار کے مواقع یکساں نہیں ہیں اور بعض علاقوں میں نوجوانوں کو نوکری حاصل کرنے میں زیادہ مشکلات پیش آتی ہیں۔

    روزگار اور آبادی کے تناسب کے لحاظ سے قومی سطح پر یہ شرح 43.0 فیصد ہے۔ پنجاب اس معاملے میں بھی آگے ہے جہاں یہ شرح 45.4 فیصد ہے، جبکہ سندھ میں 42.3 فیصد، بلوچستان میں 39.3 فیصد اور خیبر پختونخوا میں 37.2 فیصد ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ پنجاب میں روزگار کے مواقع نسبتاً زیادہ دستیاب ہیں۔

    مختلف شعبوں کے لحاظ سے دیکھا جائے تو پاکستان میں اب بھی زراعت سب سے بڑا روزگار فراہم کرنے والا شعبہ ہے، جس میں 33.1 فیصد افراد کام کر رہے ہیں۔ اس کے بعد کمیونٹی اور سماجی خدمات کا شعبہ 19.5 فیصد، تھوک و خوردہ تجارت 16.0 فیصد، مینوفیکچرنگ 14.8 فیصد، تعمیرات 9.9 فیصد اور ٹرانسپورٹ 6.6 فیصد کے ساتھ شامل ہیں۔ یہ اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ پاکستان کی معیشت اب بھی بڑی حد تک زرعی بنیادوں پر قائم ہے، تاہم خدمات اور تجارت کے شعبے بھی اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔

    روزگار کی نوعیت کے حوالے سے رپورٹ بتاتی ہے کہ 43.5 فیصد افراد ملازم ہیں، جبکہ 36.1 فیصد افراد خود روزگار ہیں۔ اس کے علاوہ 19.1 فیصد افراد بلا معاوضہ خاندانی کارکن ہیں اور صرف 1.3 فیصد افراد آجر ہیں۔ یہ صورتحال اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ ملک میں غیر رسمی معیشت کا حجم بہت بڑا ہے اور باقاعدہ کاروباری ادارے کم ہیں۔

    اجرتوں کے حوالے سے بھی اہم معلومات سامنے آئی ہیں۔ ملک میں اوسط ماہانہ تنخواہ تقریباً 39,042 روپے ہے۔ بلوچستان میں سب سے زیادہ اوسط تنخواہ 41,780 روپے ہے، جبکہ خیبر پختونخوا میں 39,974 روپے، سندھ میں 39,801 روپے اور پنجاب میں 38,189 روپے ہے۔ یہ فرق مختلف علاقوں میں معاشی سرگرمیوں، مہنگائی اور روزگار کی نوعیت کو ظاہر کرتا ہے۔

    رپورٹ میں جدید دور کے ایک اہم رجحان یعنی گیگ ورک پر بھی روشنی ڈالی گئی ہے۔ تقریباً 2.9 فیصد افراد گیگ ورک کو اپنی بنیادی ملازمت کے طور پر اختیار کیے ہوئے ہیں، جبکہ 10.6 فیصد افراد اسے اضافی آمدن کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔ خاص طور پر خواتین میں گیگ ورک کا رجحان زیادہ دیکھا گیا ہے، جہاں 15.0 فیصد خواتین اضافی کام کے طور پر اس میں شامل ہیں، جبکہ مردوں کی شرح 9.8 فیصد ہے۔ یہ ظاہر کرتا ہے کہ آن لائن اور فری لانس مواقع خواتین کے لیے نئے راستے کھول رہے ہیں۔

    مجموعی طور پر یہ رپورٹ پاکستان کی لیبر مارکیٹ کی ایک جامع تصویر پیش کرتی ہے۔ ایک طرف بڑی تعداد میں لوگ روزگار سے وابستہ ہیں، جبکہ دوسری طرف علاقائی تفاوت، غیر رسمی معیشت کا پھیلاؤ اور محدود صنعتی ترقی جیسے مسائل بھی واضح ہیں۔ مستقبل میں پالیسی سازوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ روزگار کے مواقع بڑھانے، ہنر مندی کو فروغ دینے اور صنعتی شعبے کو مضبوط بنانے پر توجہ دیں تاکہ ملک کی معیشت مزید مستحکم ہو سکے۔

  • جین زی کے مطالبے پر عام انتخابات: 12 فروری کو 12 کروڑ سے زائد بنگلہ دیشی ووٹرز نئی حکومت کا انتخاب کریں گے

    جین زی کے مطالبے پر عام انتخابات: 12 فروری کو 12 کروڑ سے زائد بنگلہ دیشی ووٹرز نئی حکومت کا انتخاب کریں گے

    بنگلہ دیش کے عوام طویل حکمرانی کرنے والی جماعت عوامی لیگ کی شرکت کے بغیر ہونے والے عام انتخابات میں 12 فروری کونئےحکمران کا انتخاب کریں گے، جس میں جین زی یعنی نوجوان ووٹرز فیصلہ کن کردار ادا کریں گے۔

    سیاسی مبصرین اس الیکشن کو انتہائی اور دلچسپ قرار دے رہے ہیں کیوں کہ سابق وزیر اعظم شیخ حسینہ واجد اقتدار سے بے دخل ہونے کے بعد ملک سے باہر ہیں اور ان کی جماعت کو ملک میں پابندیوں کا سامنا ہے۔

    جمعرات کو ہونے والے عام انتخابات کے سلسلے میں کافی گہماگہمی دیکھی جارہی ہے۔

    الیکشن کمیشن کے اعداد و شمار کے مطابق کُل 12 کروڑ 80 لاکھ ووٹرز ہیں، جن میں سے 44 فیصد کی عمر 18 سے 37 سال کے درمیان ہے اور تقریباً 50 لاکھ افراد پہلی بار ووٹ ڈالیں گے۔

    فیصلہ کن کردار

    بنگلہ دیش کی سیاست ایک اہم اور دلچسپ مرحلے میں داخل ہوچکی ہے کیوں کہ کئی برس تک شیخ حسینہ کے دورِ حکومت میں اپوزیشن جماعتیں یا تو انتخابات کا بائیکاٹ کرتی رہیں یا ان کے رہنماؤں کو بڑے پیمانے پر گرفتاریوں کا سامنا کرنا پڑا۔

    تاہم اب منظرنامہ بدل چکا ہے۔ 2024 کی عوامی بغاوت کے نتیجے میں شیخ حسینہ حکومت کے خاتمے کے بعد نوجوان ووٹرز کا کہنا ہے کہ یہ 2009 کے بعد یہ پہلا موقع ہے جب بنگلہ دیش میں حقیقی اور جمہوری انتخابات ہو رہے ہیں۔

    عوامی لیگ 15 سالہ طویل اقتدار کے بعد مقابلے سے باہرہوچکی ہے۔ اب حکمرانی کے لیے بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) کو سب سے مضبوط امیدوار تصور کیا جا رہا ہے۔

    تاہم جماعتِ اسلامی کی قیادت میں قائم اتحاد بھی میدان میں ہے، سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ان دونوں جماعتوں کے درمیان کانٹے کا مقابلہ متوقع ہے۔

    جماعت اسلامی کی قیادت میں بننے والے انتخابی اتحاد میں شیخ حسینہ حکومت کے خلاف بغاوت کی بنیاد رکھنے اور اس کی قیادت کرنے والے نوجوانوں کی جماعت بھی شامل ہے۔

    بی این پی کے سربراہ طارق رحمان نے غیر ملکی خبر رساں ادارے سے گفتگو میں کہا ہے کہ ان کی جماعت پارلیمان کی 300 نشستوں میں سے 292 پر انتخاب لڑ رہی ہے اور انہیں حکومت بنانے کے لیے درکار اکثریت حاصل ہونے کا پورا یقین ہے۔

    بنگلہ دیش کے عام انتخابات کا خطے پر کیا اثرات ہوں گے؟

    سینئر تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ 12 فروری کو ہونے والے انتخابات میں واضح اور فیصلہ کن نتیجہ سامنے آنا ضروری ہے کیوں کہ شیخ حسینہ کی برطرفی کے بعد مہینوں تک جاری رہنے والے عدم استحکام کی وجہ سے قومی معیشت بھی متاثر ہوئی ہے۔

    اس الیکشن کے نتائج صرف داخلی نہیں بلکہ خطے کی سیاست پر بھی اثرانداز ہوں گے۔ خطے کی دو بڑی طاقتیں چین اور انڈیا بھی اس الیکشن کے نتائج کا انتظار کررہی ہیں ۔

    شیخ حسینہ کو انڈیا نواز سمجھا جاتا تھا اور اقتدار سے بے دخلی کے بعد وہ نئی دہلی منتقل ہو گئیں۔ ان کے جانے کے بعد بنگلہ دیش میں چین کا اثر و رسوخ بڑھتا ہوا جبکہ انڈیا کا کردار نسبتاً کمزور دکھائی دے رہا ہے۔

    سیاسی مبصرین کے مطابق اگر جماعت اسلامی کی قیادت میں حکومت بنتی ہے تو بنگلہ دیش کا جھکاؤ پاکستان کی جانب بڑھ سکتا ہے، جو انڈیا کا دیرینہ حریف اور مسلم اکثریتی ملک ہے۔

    جماعت اسلامی کی جین زی اتحادی جماعت بھی نئی دہلی کی بالادستیکو اپنے اہم خدشات میں شمار کرتی ہے اور اس کے رہنماؤں کی حالیہ ملاقاتیں چینی سفارتکاروں سے ہو چکی ہیں۔

    دوسری طرف جماعت اسلامی کا کہنا ہے کہ وہ کسی ایک ملک کی طرف جھکاؤ کے بجائے اسلامی اصولوں پر مبنی معاشرے اور خودمختار خارجہ پالیسی کی حامی ہے۔

    جبکہ طارق رحمان کہتے ہیں کہ اگر بی این پی حکومت بناتی ہے تو وہ ہر اس ملک کے ساتھ دوستانہ تعلقات قائم کرے گی جو بنگلہ دیش اور اس کے عوام کے مفاد میں ہو۔

    بنگلہ دیش ایک نظر میں

    بارہ فروری 2026 کے انتخابات بنگلہ دیش کی 55 سالہ تاریخ کے اہم ترین انتخابات قرار دیے جا رہے ہیں۔ ملک کی آبادی 17 کروڑ سے زائد ہے اور یہ دنیا کا آٹھواں بڑا ملک ہے۔ گزشتہ 25 برسوں میں بنگلہ دیش کی معیشت تیزی سے ترقی کرتی رہی تاہم حالیہ برسوں میں اس رفتار میں کمی آئی ہے بلکہ مشکلات کا شکار ہے۔

    بنگلہ دیش کی 90 فیصد آبادی مسلمان ہے جبکہ تقریباً 8 فیصد ہندو اور دیگر مذاہب سے تعلق رکھتے ہیں۔

    ملک کی آبادی نوجوانوں پر مشتمل ہے اور ووٹرز کا بڑا حصہ 30 سال سے کم عمر افراد پر مشتمل ہے۔

    معیشت اور کرپشن اہم مسئلہ

    ملکی جی ڈی پی 461 ارب ڈالر ہے ،فی کس آمدنی تقریباً 1,990 ڈالر ہے۔ بنگلہ دیش بینک کے مطابق جون 2025 تک مالی سال میں معاشی شرح نمو 3.97 فیصد رہی۔

    اقتصادی محاذ پر بنگلہ دیش شدید دباؤ کا شکار ہے۔ بلند افراط زر، زرمبادلہ کے ذخائر میں کمی اور سرمایہ کاری کی رفتار میں سست روی نے ملک کو 2022 سے اب تک بین الاقوامی مالیاتی اداروں، بشمول آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک، سے اربوں ڈالر کی مالی معاونت حاصل کرنے پر مجبور کیا ہے۔

    بنگلہ دیش کو مہنگائی، زرِمبادلہ کے ذخائر میں کمی اور سرمایہ کاری کی سست رفتاری کا سامنا ہے۔سروے کے مطابق ووٹرز کے لیے سب سے بڑا مسئلہ کرپشن اور اس کے بعد مہنگائی ہے۔

    سیاسی جماعتیں

    اس انتخابی مرحلے میں 59 رجسٹرڈ سیاسی جماعتیں حصہ لے رہی ہیں تاہم شیخ حسینہ واجد کی جماعت عوامی لیگ کی رجسٹریشن معطل کر دی گئی ہے جس کے باعث وہ انتخابات میں حصہ نہیں لے رہی۔ 51

    جماعتیں عملی طور پر انتخابی میدان میں ہیں جبکہ مجموعی طور پر 1,981 امیدوار مقابلہ کر رہے ہیں جن میں 249 آزاد امیدوار بھی شامل ہیں۔

  • حال ہی میں پاکستان حکومت کا نیپاہ وائرس کے پھیلاؤ روکنے کے لیے مسافروں کی اسکریننگ کا فیصلہ، مگر یہ وائرس ہے کیا؟

    حال ہی میں پاکستان حکومت کا نیپاہ وائرس کے پھیلاؤ روکنے کے لیے مسافروں کی اسکریننگ کا فیصلہ، مگر یہ وائرس ہے کیا؟

    انڈین ریاست مغربی بنگال میں نیپاہ وائرس کے حالیہ کیسز سامنے آنے کے بعد حال ہی میں پاکستان میں احتیاطی اقدامات سخت کر دیے گئے تھے، وفاقی حکام نے ہوائی اڈوں اور دیگر داخلی راستوں پر مسافروں کی اسکریننگ جاری رکھنے کی ہدایت دی، تاکہ کسی ممکنہ خطرے سے بروقت نمٹا جا سکے۔

    نیپاہ وائرس کیا ہے؟
    نیپاہ وائرس ایک خطرناک اور متعدی وائرس ہے جو انسانوں اور جانوروں دونوں کو متاثر کر سکتا ہے۔ یہ پہلی بار 1998 میں ملائیشیا میں رپورٹ ہوا تھا۔ اس کے بعد انڈیا، بنگلہ دیش اور دیگر قریبی علاقوں میں وقفے وقفے سے اس کے کیسز سامنے آتے رہے ہیں۔

    یہ وائرس کہاں سے پھیلتا ہے؟


    ماہرین کے مطابق نیپاہ وائرس کا قدرتی میزبان پھل کھانے والی چمگادڑیں ہیں۔ وائرس چمگادڑ کے لعاب یا فضلے سے آلودہ پھلوں کے ذریعے پھیل سکتا ہے۔ متاثرہ جانوروں، خصوصاً سور، سے انسان میں منتقلی بھی ممکن ہے۔ بعض کیسز میں انسان سے انسان قریبی رابطے، کھانسی، تھوک یا جسمانی رطوبت کے ذریعے وائرس منتقل ہو سکتا ہے۔

    علامات کیا ہوتی ہیں؟


    نیپاہ وائرس کی علامات عموماً پانچ سے 14 دن کے اندر ظاہر ہوتی ہیں۔ ابتدائی علامات میں بخار، سر درد، پٹھوں میں درد اور متلی شامل ہو سکتی ہیں۔ سنگین صورت میں سانس لینے میں دشواری، ذہنی الجھن، بے ہوشی اور دماغ کی سوجن بھی سامنے آ سکتی ہے۔ بعض مریض کومہ میں جا سکتے ہیں یا موت بھی واقع ہو سکتی ہے۔ مختلف عالمی رپورٹس میں اموات کی شرح 40 سے 75 فیصد تک بتائی گئی ہے۔

    علاج اور ویکسین کی صورتحال
    فی الحال نیپاہ وائرس کے لیے کوئی مخصوص ویکسین یا علاج دستیاب نہیں۔ مریضوں کا علاج علامات کے مطابق کیا جاتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ بروقت تشخیص اور احتیاطی تدابیر ہی اس بیماری سے بچاؤ کا مؤثر ذریعہ ہیں۔

    پاکستان میں احتیاطی اقدامات
    حکام کے مطابق پڑوسی ممالک میں کیسز کی موجودگی، بین الاقوامی آمد و رفت اور ملک میں چمگادڑوں کی موجودگی ممکنہ خطرات میں شامل ہیں۔ اسی لیے ہوائی اڈوں پر اسکریننگ، ہسپتالوں کو الرٹ رکھنے اور مشتبہ مریضوں کو فوری طور پر الگ کرنے کی ہدایات دی گئی ہیں۔

    شہریوں کے لیے ہدایات
    عوام کو مشورہ دیا گیا ہے کہ گرے ہوئے یا کٹے ہوئے پھل استعمال نہ کریں۔ چمگادڑوں اور جنگلی جانوروں سے فاصلہ رکھیں۔ بیمار افراد سے غیر ضروری قریبی رابطے سے گریز کریں اور ہاتھ باقاعدگی سے صابن سے دھوئیں۔ بخار کے ساتھ ذہنی الجھن یا غیر معمولی علامات کی صورت میں فوری طور پر ڈاکٹر یا قریبی ہسپتال سے رجوع کیا جائے۔

    حکام کا کہنا ہے کہ صورتحال پر مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے اور عوام کو خوفزدہ ہونے کے بجائے احتیاط اور آگاہی اختیار کرنے کی ضرورت ہے۔