وزیر خوراک سندھ مخدوم محبوب الزمان کے مطابق آٹے کے بحران سے بچنے اور صوبے کی عوام کو سستا آٹے دینے کے لیے سندھ حکومت نے 85 ارب روپے کی سبسڈی دی ہے۔
یہ رقم عوام کے ٹیکس سے جمع ہوئی۔ مقصد یہ بتایا گیا کہ بازار میں آٹا سستا رہے اور قلت پیدا نہ ہو۔
حکومتی دعووں کے باوجود عام شہری یہ سوال کر رہا ہے کہ سستا آٹا کہاں ہے۔ کراچی سمیت کئی شہروں میں آٹا مہنگا رہا۔ دستیابی بھی اکثر مشکل رہی۔ عوام کا تاثر ہے کہ سبسڈی کا فائدہ انہیں براہ راست نہیں ملا۔
سرکاری ریکارڈ کے مطابق سبسڈی کا بڑا حصہ فلور ملز کو دیا گیا۔ چونکہ بڑی فلور ملز زیادہ تر کراچی میں ہیں، اس لیے سبسڈی بھی زیادہ تر یہیں گئی۔ اس کے باوجود یہی شہر آٹے کی قیمتوں کے حوالے سے سب سے زیادہ شکایات کرتا رہا۔
محکمہ خوراک کا مؤقف ہے کہ گندم کی خریداری اور آٹے کی پیداوار ان کی ذمہ داری ہے۔ سستا آٹا عوام تک پہنچانا کسی اور محکمے کا کام ہے۔ یہ واضح نہیں ہو سکا کہ وہ محکمہ کون سا ہے اور اس کی نگرانی کون کرتا ہے۔
اسی دوران حکومت نے بڑی مقدار میں گندم ذخیرہ کی۔ سرکاری سطح پر اعتراف کیا گیا کہ گندم کی 3 لاکھ 65 ہزار بوریاں خراب ہو گئیں۔ یہ نقصان بارش، کھلے آسمان تلے ذخیرہ اور انتظامی کمزوریوں سے جوڑا گیا۔
ایک گندم کی بوری 100 کلو وزن کی ہوتی ہے۔ ایک بوری کی قیمت تقریباً 9 ہزار 500 روپے بتائی گئی۔ اگر خراب، چوری یا ضائع ہونے والی بوریاں 3 لاکھ 65 ہزار مانی جائیں تو مجموعی طور پر ضائع ہونے والی گندم کی مالیت 3 ارب 46 کروڑ 75 لاکھ روپے بنتی ہے۔
وزیر خوراک کا کہنا ہے کہ اتنے بڑے ذخیرے میں کچھ نقصان ہونا معمول کی بات ہے۔ مگر عوام کے لیے یہ نقصان معمولی نہیں۔ یہ وہی پیسہ ہے جو صحت، تعلیم اور روزگار پر خرچ ہو سکتا تھا۔
سندھ میں آج بھی لاکھوں لوگ ایسے ہیں جو روزانہ خوراک کی فکر میں رہتے ہیں۔ کئی خاندان ایسے ہیں جو پورا مہینہ گندم خریدنے کی سکت نہیں رکھتے۔ ایسے میں سرکاری گندم کا ضائع ہونا محض اعداد کا معاملہ نہیں رہتا۔
اس کے ساتھ باردانہ نہ ملنے کی شکایات بھی سامنے آئیں۔ گندم ذخیرہ کرنے پر کروڑوں روپے کرایہ ادا کیا گیا۔ یہ رقم بھی عوام کے ٹیکس سے دی گئی۔
حکومتی بیانات میں چوہوں کا ذکر بھی آیا۔ کہا گیا کہ گھروں میں رکھی گندم بھی خراب ہو جاتی ہے۔ مگر عوام یہ سوال ضرور کرتی ہے کہ اگر نقصان معمول کا حصہ ہے تو پھر جواب دہی کس کی ہے۔
گندم صرف اناج نہیں۔ یہ غریب کی زندگی سے جڑی ہوئی چیز ہے۔ اس کا ہر دانہ ریاستی فیصلوں کا حساب مانگتا ہے۔
