Tag: سندھ

  • جدید مشینوں کے دور میں بھی سندھ کے لوہار کا صدیوں پرانا ہنر زندہ ہے

    جدید مشینوں کے دور میں بھی سندھ کے لوہار کا صدیوں پرانا ہنر زندہ ہے

    سندھ کے دیہی معاشرے میں لوہار کی بھٹی، ہتھوڑے کی آواز اور دہکتے ہوئے لوہے کو مختلف شکلوں میں ڈھالنے کا عمل آج بھی دیکھا جا سکتا ہے۔ ایک ایسے دور میں جب ٹریکٹر، ہارویسٹر اور دوسری جدید زرعی مشینیں کھیتی باڑی کا حصہ بن چکی ہیں، لوہار کا روایتی پیشہ مکمل طور پر ختم نہیں ہوا۔

    سندھ کے بعض علاقوں میں ہنرمند آج بھی کسانوں کے لیے درانتیاں، کدالیں، کلہاڑیاں اور دوسرے زرعی اوزار بناتے یا ان کی مرمت کرتے ہیں۔

    یہ پیشہ اس بات کی مثال ہے کہ جدید ٹیکنالوجی کے پھیلاؤ کے باوجود بعض روایتی ہنر اپنی افادیت برقرار رکھتے ہیں۔ زرعی مشینیں بڑے پیمانے پر کام انجام دے سکتی ہیں، لیکن ہر چھوٹے کام کے لیے مشین کا استعمال ضروری نہیں ہوتا۔ فصل کے مخصوص حصوں کی کٹائی، گھاس صاف کرنے، چھوٹے رقبوں پر کام کرنے اور اوزاروں کی دھار درست رکھنے کے لیے ہاتھ سے استعمال ہونے والے آلات اب بھی کارآمد ہیں۔

    درانتی: کسان کے ہاتھ میں فصل کاٹنے کا اوزار

    درانتی لوہار کے بنائے جانے والے اہم زرعی اوزاروں میں شامل ہے۔ اس کا خم دار، دھار دار بلیڈ گھاس، چارہ اور فصل کے تنوں کو کاٹنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ اس کی شکل اور جسامت کام کی نوعیت کے مطابق مختلف ہو سکتی ہے۔

    گندم جیسی فصلوں کی کٹائی میں درانتی ہاتھ سے کام کرنے والے کسانوں کے لیے مفید ہے۔ چھوٹے کھیتوں، تنگ جگہوں اور ان مقامات پر جہاں بڑی مشین پہنچانا مشکل ہو، ہاتھ سے چلنے والے اوزار عملی اہمیت رکھتے ہیں۔ تاہم، یہ کہنا درست نہیں ہوگا کہ ہر علاقے میں فصلوں کی کٹائی کے لیے آج بھی درانتی ہی سب سے زیادہ استعمال ہوتی ہے، کیونکہ اس کا انحصار فصل، رقبے، مزدوری کی دستیابی اور مشینی زراعت کے پھیلاؤ پر ہوتا ہے۔

    درانتی کی افادیت صرف اسے بنانے تک محدود نہیں۔ مسلسل استعمال سے اس کی دھار کند ہو جاتی ہے، بلیڈ کو نقصان پہنچ سکتا ہے اور لکڑی کا دستہ ڈھیلا ہو سکتا ہے۔ لوہار ایسے اوزاروں کی دھار تیز کرنے، ان کی شکل درست کرنے اور ضرورت کے مطابق مرمت کرنے میں مدد دیتا ہے۔ یوں کسان کو ہر مرتبہ نیا اوزار خریدنے کی ضرورت نہیں پڑتی۔

    کدال، کلہاڑی اور دوسرے زرعی اوزار

    لوہار کے ہنر کی اہمیت سمجھنے کے لیے ان اوزاروں کو دیکھنا ضروری ہے جو کھیتی باڑی کے مختلف مراحل میں استعمال ہوتے ہیں۔

    کدال زمین کی سطح پر کام کرنے، جڑی بوٹیاں نکالنے اور بعض حالات میں مٹی کو ڈھیلا کرنے کے لیے استعمال ہوتی ہے۔ اس کا مضبوط اور مناسب زاویے والا دھاتی حصہ کام کی سہولت پر اثر انداز ہوتا ہے۔

    کلہاڑی لکڑی کاٹنے، شاخیں تراشنے اور کھیتوں یا دیہی گھروں میں لکڑی سے متعلق کاموں کے لیے استعمال ہوتی ہے۔ اس کی دھار اور دھاتی سرے کی مضبوطی اس کی کارکردگی کے لیے اہم ہیں۔

    بیلچے اور پھاوڑے زمین کھودنے، مٹی اٹھانے اور کھیتوں میں مختلف کاموں کے لیے کارآمد ہیں۔ ان کے دھاتی حصوں کو نقصان پہنچنے پر مرمت کی ضرورت پیش آ سکتی ہے۔

    ہل کے بعض دھاتی حصے بھی روایتی لوہار کے ہنر سے وابستہ رہے ہیں۔ پاکستان میں زرعی آلات کی تیاری کے حوالے سے اقوام متحدہ کے صنعتی ترقی کے ادارے کی ایک رپورٹ میں لوہار کی چھوٹی دکانوں کو زرعی اوزار بنانے والے شعبے کا حصہ قرار دیا گیا ہے۔ اس رپورٹ کے مطابق، ایسی دکانیں روایتی طور پر ہل کے پرزے اور دوسرے اوزار تیار کرتی رہی ہیں، جبکہ ان میں استعمال ہونے والے خام مال میں پرانا اور ناکارہ لوہا بھی شامل ہوتا ہے۔

    لوہار کا کام صرف نیا اوزار بنانا نہیں

    لوہار کے پیشے کا ایک کم معروف پہلو اوزاروں کی مرمت اور دوبارہ قابل استعمال بنانے کا کام ہے۔ کسی اوزار کی دھار کند ہونے یا اس کا دھاتی حصہ خراب ہونے پر اسے درست کیا جا سکتا ہے، بشرطیکہ نقصان کی نوعیت اس کی مرمت کی اجازت دیتی ہو۔

    روایتی طریقے میں کاریگر دھات کو بھٹی میں گرم کرتا ہے، پھر ہتھوڑے سے اس کی شکل بناتا یا درست کرتا ہے۔ اس کے بعد ضرورت کے مطابق اسے ٹھنڈا کیا جاتا ہے اور دھار یا سطح کی تکمیل کی جاتی ہے۔ مختلف اقسام کی دھاتوں اور اوزاروں کے لیے گرم کرنے، ٹھنڈا کرنے اور دھار لگانے کے طریقے مختلف ہو سکتے ہیں؛ ہر اوزار کے لیے ایک ہی طریقہ مناسب نہیں ہوتا۔

    اس کام میں تجربے کی اہمیت بہت زیادہ ہے۔ کاریگر کو یہ سمجھنا پڑتا ہے کہ دھات کو کس حد تک گرم کرنا ہے، کہاں ضرب لگانی ہے اور بلیڈ کو کس شکل میں رکھنا ہے۔ اگر دھات کی ساخت اور حرارت کا مناسب خیال نہ رکھا جائے تو اوزار کی مضبوطی اور کارکردگی متاثر ہو سکتی ہے۔

    یہ ہنر محض جسمانی محنت نہیں، بلکہ عملی علم، مشاہدے اور مسلسل تجربے کا مجموعہ ہے۔

    پرانے لوہے کا نیا استعمال

    روایتی لوہار کے کام کا ایک اور اہم پہلو دھات کو دوبارہ استعمال کرنا ہے۔ بعض ورکشاپس میں پرانے لوہے اور گاڑیوں کے ناکارہ پرزوں سے نئے آلات تیار کیے جاتے ہیں۔

    پرانے لوہے کو دوبارہ قابل استعمال بنانا بعض حالات میں خام مال کی لاگت کم کر سکتا ہے اور دھاتی اشیا کی عمر بڑھا سکتا ہے۔ البتہ اس عمل کے ماحولیاتی فوائد کا انحصار دھات کی نوعیت، اسے گرم کرنے کے لیے استعمال ہونے والے ایندھن، توانائی کے استعمال اور باقی ماندہ کچرے کے انتظام پر ہوتا ہے۔

    سندھ میں لوہار اور دیہی معیشت کا تاریخی تعلق

    سندھ کے زرعی معاشرے میں روایتی دستکاروں کا کردار صرف اشیا تیار کرنے تک محدود نہیں رہا۔ تاریخی طور پر دیہی آبادی کی روزمرہ ضروریات پوری کرنے کے لیے مختلف پیشہ ور افراد ایک دوسرے پر انحصار کرتے تھے۔ کسان کو زرعی اوزار درکار ہوتے تھے، بڑھئی لکڑی کے حصے تیار کرتا تھا اور دوسرے ہنرمند مختلف ضروریات پوری کرتے تھے۔

    انیسویں صدی کے اواخر کے سندھ کی دیہی معیشت پر مبنی تاریخی تحقیق میں لوہار اور بڑھئی جیسے کاریگروں کا ذکر موجود ہے، جو زراعت کے لیے ضروری اوزار تیار کرتے تھے۔ اس تحقیق میں فصل کی پیداوار کی تقسیم کے روایتی طریقوں کا بھی ذکر ملتا ہے، جن کے تحت بعض اوقات کھیتی باڑی ممکن بنانے میں مدد دینے والے افراد کو پیداوار کا حصہ دیا جاتا تھا۔ یہ شواہد اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ روایتی دیہی معیشت میں دستکاروں کی خدمات کو زرعی سرگرمیوں سے الگ نہیں سمجھا جاتا تھا۔ تاہم، اس روایت کو سندھ کے ہر علاقے اور ہر دور میں یکساں رائج قرار نہیں دیا جا سکتا۔

    اس تاریخی تعلق کا ایک اہم پہلو یہ ہے کہ کسان اور لوہار کی ضروریات ایک دوسرے سے جڑی ہوئی تھیں۔ کسان کو ایسے اوزار درکار تھے جو اس کے کام کے مطابق ہوں، جبکہ لوہار کی آمدنی مقامی طلب اور کسانوں کی خریداری کی استطاعت سے متاثر ہوتی تھی۔ جدید زرعی نظام میں بھی مرمت اور مقامی سطح پر اوزار تیار کرنے کی ضرورت بعض علاقوں میں اس تعلق کو برقرار رکھ سکتی ہے۔

    لوہار کی نئی نسل کے سامنے چیلنج

    روایتی ہنر کے برقرار رہنے کا مطلب یہ نہیں کہ اسے معاشی مشکلات کا سامنا نہیں۔ مشینی پیداوار، تیار شدہ زرعی آلات کی دستیابی، خام مال کی قیمت، بجلی اور ایندھن کے اخراجات اور کم منافع چھوٹی ورکشاپوں کے لیے اہم مسائل بن سکتے ہیں۔ تاہم، ان مسائل کی شدت جاننے کے لیے سندھ کے مختلف اضلاع میں لوہاروں کی آمدنی، کام کے حجم، دکانوں کی تعداد اور نئی نسل کی پیشہ ورانہ ترجیحات پر تازہ تحقیق ضروری ہے۔

    یہ بھی اہم ہے کہ ہر روایتی لوہار صرف ہاتھ سے کام نہیں کرتا۔ بعض ورکشاپس میں بجلی سے چلنے والی مشینیں، گرائنڈر، ویلڈنگ کے آلات اور دوسرے جدید ذرائع استعمال کیے جاتے ہیں۔ اس لیے روایتی لوہار اور جدید ٹیکنالوجی کو ایک دوسرے کی ضد سمجھنا درست نہیں۔ کئی کاموں میں مشین کاریگر کی محنت کم کر سکتی ہے، جبکہ اوزار کی آخری شکل، مرمت اور دھار درست کرنے کے لیے تجربہ کار ہاتھوں کی ضرورت برقرار رہ سکتی ہے۔

    اگر یہ پیشہ نئی نسل تک منتقل کرنا ہے تو صرف اس کی ثقافتی اہمیت بیان کرنا کافی نہیں ہوگا۔ کاریگروں کو بہتر آلات، محفوظ کام کی جگہ، معیاری خام مال، فنی تربیت اور اپنی مصنوعات کی بہتر منڈی تک رسائی دینے جیسے اقدامات بھی اہم ہو سکتے ہیں۔

    ایک زرعی اوزار سے آگے کی کہانی

    سندھ کے لوہار کی کہانی دراصل اس ہنر کی کہانی ہے جو بدلتے ہوئے معاشرے میں اپنی جگہ برقرار رکھنے کی کوشش کر رہا ہے۔ درانتی، کدال اور دوسرے اوزار بظاہر سادہ دھاتی اشیا ہیں، لیکن ان کی تیاری اور مرمت میں عملی علم، تجربہ اور محنت شامل ہے۔

    اس پیشے کی اصل اہمیت شاید اسی حقیقت میں پوشیدہ ہے کہ ہر زرعی ضرورت کا حل بڑی مشین نہیں ہوتی۔ بعض اوقات کھیت میں کام کرنے والے کسان کے لیے ایک مناسب دھار والی درانتی، درست شکل کی کدال یا مرمت شدہ اوزار ہی سب سے زیادہ کارآمد ثابت ہوتا ہے۔ اور اس ضرورت کو پورا کرنے والا لوہار آج بھی دیہی معیشت کے اس حصے سے جڑا ہوا ہے جسے صرف جدید مشینوں کی تعداد سے نہیں سمجھا جا سکتا۔

  • حیدرآباد کا یتیم بچہ جو سندھ کے مسلمانوں کا معمار بنا: حسن علی آفندی، سندھ مدرستہ الاسلام اور ایک عظیم تعلیمی سفر

    حیدرآباد کا یتیم بچہ جو سندھ کے مسلمانوں کا معمار بنا: حسن علی آفندی، سندھ مدرستہ الاسلام اور ایک عظیم تعلیمی سفر

    تخلیقِ تاریخ کا راز ان افراد کے ہاتھوں میں ہوتا ہے جو حالات کی سنگلاخ چٹانوں کو اپنی محنت، علم کی روشنی اور غیر متزلزل عزم سے توڑ کر قوموں کی سمت بدل دیتے ہیں۔

    انیسویں صدی کے وسط میں جب سندھ کے مسلمان تعلیم، معاشی ترقی اور فکری بیداری سے محروم ہو کر مایوسی اور سیاسی پسماندگی کا شکار تھے، تو حیدرآباد کے ایک غریب اور یتیم بچے نے اپنی انتھک محنت اور بصیرت سے ایسی تاریخ رقم کی جس نے آگے چل کر برصغیر کے مسلمانوں کو قائدِ اعظم محمد علی جناح جیسا عظیم قائد فراہم کیا۔

    یہ داستان ہے خان بہادر حسن علی آفندی اور ان کے شاہکار ادارے سندھ مدرستہ الاسلام کی، جس کی بنیاد کراچی کے دل میں رکھی گئی اور جس نے برصغیر کے مسلمانوں کی تعلیمی اور سیاسی تاریخ پر گہرے اثرات مرتب کیے۔

    ایک یتیم بچے کا عزمِ مصمم اور جدوجہدِ حیات

    14 اگست 1830 کو حیدرآباد، سندھ کے آخوند خاندان میں آنکھ کھولنے والے حسن علی آفندی ابھی بچپن ہی میں تھے کہ ان کے والد کا سایہ سر سے اٹھ گیا۔ ان کے بڑے بھائی نے ان کی پرورش کی اور خاندانی روایات کے مطابق انہیں مقامی مکتب میں عربی، فارسی اور قرآن کی تعلیم دلوائی۔

    تعلیم مکمل کرنے کے بعد انہیں نوشہرو فیروز میں ڈپٹی کلکٹر کے دفتر میں ایک معمولی ملازمت مل گئی۔ لیکن یہیں سے ان کے سفر نے نیا موڑ لیا۔ ایک عیسائی دوست کے مشورے پر انہوں نے انگریزی زبان سیکھنا شروع کی۔ اس دور میں بہت سے مسلمان انگریزی کو غیر مسلموں کی زبان سمجھ کر اس سے اجتناب کرتے تھے، لیکن حسن علی آفندی کا نقطۂ نظر مختلف اور دور اندیشانہ تھا۔

    ان کے خیال میں زبان محض ابلاغ کا ذریعہ ہے اور اس کا تعلق اسے بولنے والوں کے مذہب سے نہیں۔ انگریزی زبان میں موجود علمی ذخیرے سے استفادہ مسلمانوں کی فکری اور مادی ترقی کے لیے ضروری تھا۔

    انہوں نے تیل کے چراغ کی مدھم روشنی میں راتوں کو جاگ جاگ کر انگریزی پڑھی۔ انڈس فلوٹیلا کے جھرک میں واقع بندرگاہی مرکز میں ملازمت کے دوران ان کی ملاقات برطانوی جج مسٹر مڈلٹن سے ہوئی۔ حسن علی کی انگریزی زبان پر مہارت اور علمی وسعت سے متاثر ہو کر جج صاحب انہیں کراچی کی صدر کورٹ لے آئے، جہاں ان کی قانونی قابلیت کی بنیاد پر انہیں رسمی ڈگری کے بغیر وکالت کرنے کی خصوصی اجازت ملی۔

    حسن علی آفندی سندھ کے ابتدائی مسلم وکلا میں شمار ہوتے تھے اور بعد میں مسلسل 14 سال تک پہلے غیر یورپی پبلک پراسیکیوٹر رہے۔ معاشی اور سماجی طور پر مستحکم ہونے کے بعد انہوں نے اپنی توانائیاں اور وسائل مسلمان برادری کی تعلیمی اور سماجی بیداری کے لیے وقف کر دیے۔

    سندھ مدرستہ الاسلام کا قیام: بولٹن مارکیٹ کے گودام سے شاندار عمارت تک

    سر سید احمد خان کی علی گڑھ تحریک سے متاثر ہو کر اور ان سے ملاقاتوں کے بعد حسن علی آفندی نے سندھ کے مسلمانوں کے لیے ایک جدید تعلیمی ادارے کا خواب دیکھا۔

    انجمنِ اسلام اور تعلیمی سفر کا آغاز

    انہوں نے 1884 میں انجمنِ اسلام قائم کی اور یکم ستمبر 1885 کو سندھ مدرستہ الاسلام کا باقاعدہ آغاز کراچی میں بولٹن مارکیٹ کے قریب ایک چھوٹی سی کرائے کی دو منزلہ عمارت میں کیا، جو اس سے پہلے گودام کے طور پر استعمال ہوتی تھی۔

    سنگِ بنیاد اور تعمیراتی ارتقا

    چار نومبر 1887 کو وائسرائے ہند لارڈ ڈفرن نے ادارے کی موجودہ شاندار عمارت کا سنگِ بنیاد رکھا۔

    عمر بن محمد داؤد پوتا کا دورِ پرنسپل شپ

    دادو کے ایک کسان کے بیٹے اور شمس العلماء ڈاکٹر عمر بن محمد داؤد پوتا نے سندھ مدرستہ الاسلام سے میٹرک کیا، پھر کیمبرج سے اعلیٰ تعلیم حاصل کی اور 1930 میں اسی ادارے کے پرنسپل بنے۔ ان کے دور سے متعلق ایک روایت کے مطابق، رخصت ہوتے وقت طلبہ نے انہیں برقی کیتلی کا تحفہ پیش کیا تھا، جو اس زمانے میں جدت کی علامت سمجھی جاتی تھی۔

    جیمز اسٹریچن کا تعمیراتی شاہکار

    سندھ مدرستہ الاسلام کی مرکزی عمارت محض ایک تعلیمی ادارہ نہیں بلکہ وکٹورین گوتھک اور نو ساراسینک طرزِ تعمیر کا ایک نمایاں نمونہ ہے۔

    عظیم الشان معمار

    اس خوبصورت عمارت کا نقشہ برطانوی انجینئر جیمز اسٹریچن نے تیار کیا تھا، جو اس وقت کراچی میونسپلٹی کے ممتاز انجینئر تھے۔

    تعمیراتی خصوصیات

    عمارت کی تعمیر میں گِزری کے پیلے تراشیدہ پتھر استعمال کیے گئے ہیں۔ اس کی بلند قوسیں، محرابیں اور مرکزی گھڑیال کا مینار وکٹورین دور کی تعمیراتی خصوصیات کے ساتھ مقامی طرزِ تعمیر اور آرائشی عناصر کا امتزاج پیش کرتے ہیں۔

    جامع تعلیمی کمپلیکس

    سندھ مدرستہ الاسلام کا کمپلیکس مختلف حصوں پر مشتمل تھا، جن میں ہندو اور مسلمان طلبہ کے لیے الگ الگ بورڈنگ ہاؤس، مرکزی ہال، مساجد اور پرنسپل کی وسیع رہائش گاہ شامل تھی۔ یہیں سے ادارے کے تعلیمی اور انتظامی امور چلائے جاتے تھے۔

    تاریخی دستاویزات اور قائدِ اعظم محمد علی جناح

    سندھ مدرستہ الاسلام کا سب سے بڑا تاریخی اعزاز یہ ہے کہ قائدِ اعظم محمد علی جناح نے یہاں تعلیم حاصل کی۔ ادارے کے آرکائیو میں محفوظ جنرل رجسٹر اس تعلق کا ایک اہم تاریخی ریکارڈ ہے۔

    قائدِ اعظم کا داخلہ

    محمد علی جناح کا نام سندھ مدرستہ الاسلام کے جنرل رجسٹر میں داخلہ نمبر 114 کے تحت درج ہے۔ وہ 4 جولائی 1887 کو پہلی بار اس ادارے میں داخل ہوئے، جہاں ان کا نام ‘محمد علی جناح بھائی’ درج کیا گیا۔ بمبئی اور گوادر کے سفر کے بعد وہ 23 دسمبر 1892 کو دوبارہ داخل ہوئے اور اپنی تعلیم جاری رکھی۔

    وصیت اور تاریخی وابستگی

    قائدِ اعظم کو اپنے مادرِ علمی سے گہری وابستگی تھی۔ انہوں نے 1939 میں اپنی وصیت میں اپنی ذاتی جائیداد کا ایک تہائی حصہ سندھ مدرستہ الاسلام کے لیے مختص کیا۔ 1943 میں جب یہ ادارہ ڈگری کالج بنا تو قائدِ اعظم اس کے افتتاح کے لیے کراچی آئے تھے۔

    نامور فارغ التحصیل شخصیات اور معمارانِ قوم

    سندھ مدرستہ الاسلام محض ایک اسکول نہیں تھا بلکہ ایسا ادارہ تھا جہاں سے برصغیر کی سیاست، علم، ادب اور دفاع کے متعدد نامور افراد نے تعلیم حاصل کی۔

    قائدِ اعظم محمد علی جناح، بانیِ پاکستان۔

    سر عبداللہ ہارون، تحریکِ پاکستان کے اہم رہنما اور صنعت کار۔

    سر شاہنواز بھٹو، سندھ کے ممتاز رہنما اور بمبئی سے سندھ کی انتظامی علیحدگی کے حامی، جو ذوالفقار علی بھٹو کے والد تھے۔

    خان بہادر ایوب کھوڑو، سندھ کے سابق وزیرِ اعلیٰ اور اہم سیاسی رہنما۔

    شمس العلماء ڈاکٹر عمر بن محمد داؤد پوتا، معروف ماہرِ تعلیم اور عربی و فارسی کے عالم۔

    سر غلام حسین ہدایت اللہ، تحریکِ پاکستان کے رہنما اور قیامِ پاکستان کے بعد سندھ کے پہلے گورنر۔

    علامہ آئی آئی قاضی، فلسفی، دانشور اور سندھ یونیورسٹی کے بانی وائس چانسلر۔

    پیر الٰہی بخش، قیامِ پاکستان کے بعد سندھ کے پہلے وزیرِ تعلیم۔

    ایئر مارشل عظیم داؤد پوتا، پاکستان ایئر فورس کے نامور افسر اور سندھ کے سابق گورنر۔

    عبدالستار کوہاٹی، ماہرِ تعلیم اور منتظم

    عبدالستار کوہاٹی کا شمار سندھ مدرستہ الاسلام کے ممتاز منتظمین اور ماہرینِ تعلیم میں ہوتا ہے۔ قیامِ پاکستان کے بعد اور ادارے کے کالج بننے سے پہلے انہوں نے اسکول میں ہیڈ ماسٹر اور بعد ازاں پرنسپل کی حیثیت سے انتظامی اور تدریسی ذمہ داریاں سنبھالیں۔

    ان کے دورِ انتظامیہ کی نمایاں خصوصیات میں تعلیمی نظم و ضبط، اساتذہ کی تربیت اور بورڈنگ ہاؤس کا نظام شامل تھے۔ سندھ اور بلوچستان سے آنے والے طلبہ کی اخلاقی اور علمی تربیت پر خصوصی توجہ دی جاتی تھی۔ وہ اس بات کے حامی تھے کہ سندھ مدرستہ الاسلام اپنی تاسیسی روایت برقرار رکھتے ہوئے طلبہ کو جدید علوم کے ساتھ اسلامی اقدار سے بھی جوڑے رکھے۔

    محمد ابراہیم جویو، طالب علم اور مدرس

    سندھ کے نامور روشن خیال دانشور، ادیب اور ماہرِ تعلیم محمد ابراہیم جویو کا بھی اس ادارے سے گہرا تعلق رہا۔ انہوں نے 1934 میں سندھ مدرستہ الاسلام سے میٹرک کیا اور اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے بعد 1941 میں اسی ادارے میں استاد کی حیثیت سے ملازمت اختیار کی۔

    1947 میں انہوں نے جاگیردارانہ نظام اور تعلیمی پسماندگی کے خلاف اپنی معروف کتاب ‘Save Sindh, Save the Sub-Continent’ لکھی۔ اس دور کے صوبائی وزیرِ تعلیم پیر الٰہی بخش اور ادارے کی انتظامیہ نے ان کی سیاسی تحریروں کے باعث انہیں تدریسی ملازمت سے برطرف کر دیا تھا۔ تاہم، آگے چل کر وہ سندھی ادب اور تعلیمی بیداری کی ایک نمایاں آواز بنے۔

    یہ دونوں شخصیات اس بات کی مثال ہیں کہ سندھ مدرستہ الاسلام نے صرف قائدِ اعظم جیسے سیاست دان ہی پیدا نہیں کیے بلکہ عبدالستار کوہاٹی اور محمد ابراہیم جویو جیسے قابل اساتذہ اور تعلیمی منتظمین بھی دیے۔

    تحریکِ پاکستان کا فکری مرکز اور ادارے کا ارتقائی سفر

    1930 اور 1940 کی دہائیوں میں سندھ مدرستہ الاسلام محض ایک تعلیمی ادارہ نہیں رہا تھا بلکہ سندھ میں مسلم لیگ اور تحریکِ پاکستان کی سرگرمیوں کا ایک اہم فکری اور سیاسی مرکز بن گیا تھا۔ یہاں کے اساتذہ اور طلبہ نے بمبئی سے سندھ کی علیحدگی کی تحریک، 1940 کی قراردادِ لاہور کی حمایت اور 1946 کے انتخابات کے سیاسی ماحول میں اہم کردار ادا کیا۔

    1885 میں بولٹن مارکیٹ کے قریب ایک گودام سے شروع ہونے والا یہ سفر 1943 میں کالج کے قیام تک پہنچا۔ قیامِ پاکستان کے بعد بھی یہ ادارہ قومی تعلیمی منظرنامے کا اہم حصہ رہا۔ بالآخر فروری 2012 میں اسے چارٹرڈ سرکاری جامعہ، سندھ مدرستہ الاسلام یونیورسٹی، کا درجہ دیا گیا۔ آج بھی یہ ادارہ اپنی تاریخی عمارت اور تعلیمی روایت کے ساتھ علم کی روشنی پھیلا رہا ہے۔

    حسن علی آفندی نے 20 اگست 1895 کو وفات پائی اور ان کی خواہش کے مطابق انہیں حیدرآباد کے آفندی باغ میں سپردِ خاک کیا گیا۔ وہ آج ہمارے درمیان موجود نہیں، لیکن بولٹن مارکیٹ کی اس چھوٹی سی عمارت سے روشن ہونے والی شمع نے سندھ اور برصغیر کی تعلیمی تاریخ پر گہرے اثرات مرتب کیے۔

    ایک یتیم بچے کی محنت، لگن اور تعلیمی وژن کا ثمر ہے کہ سندھ مدرستہ الاسلام آج بھی تاریخ کا ایک اہم مینار ہے، جس سے وابستہ شخصیات نے پاکستان کی سیاسی، علمی اور سماجی تشکیل میں اپنا کردار ادا کیا۔

  • زاویہ: ملتان اور سندھ کی یک رنگی

    زاویہ: ملتان اور سندھ کی یک رنگی

    کبھی دریائے سندھ کے کنارے کھڑے ہو کر یہ سوال کیا جائے کہ ملتان کہاں ختم ہوتا ہے اور سندھ کہاں سے شروع ہوتا ہے تو شاید تاریخ کا جواب نقشے سے مختلف ہو۔

    موجودہ نقشے پر ملتان پنجاب میں ہے اور سندھ ایک الگ صوبہ، مگر تاریخ کے وسیع تر تناظر میں دیکھا جائے تو دریائے سندھ کے بہاؤ، تجارتی راستوں، قافلوں، ہجرتوں، خانقاہوں، صوفی سلسلوں، زبانوں اور لوک روایات نے سندھ اور ملتان کے درمیان ایسا رشتہ قائم کیا جسے محض انتظامی سرحدوں سے بیان نہیں کیا جا سکتا۔

    یہ رشتہ کسی بادشاہ نے قائم نہیں کیا، کسی فرمان نے اسے جنم نہیں دیا۔ دریا نے اسے راستہ دیا، قافلوں نے وسعت دی، تاجروں نے مضبوط کیا، علما نے علم اور صوفیا نے روحانی رنگ دیا، جبکہ عام لوگوں نے اسے نسل در نسل زندہ رکھا۔ اگر اس پورے تعلق کی سب سے خوبصورت داستان تلاش کی جائے تو شاید وہ بغداد سے شروع ہو کر ملتان، اُچ اور سندھ تک پہنچنے والی صوفی روایت میں ملتی ہے۔

    اُچ شریف: جہاں ملتان کی روحانی آواز سندھ تک پہنچی

    اُچ شریف کو ملتان اور سندھ کے درمیان روحانی پل کہا جائے تو شاید مبالغہ نہ ہو۔ جلال الدین بخاریؒ، المعروف مخدوم جہانیاں جہاں گشتؒ، نے دہلی، مکہ، مدینہ، بیت المقدس اور بغداد سمیت کئی مقامات کے سفر کیے اور بعد میں اُچ میں اپنی روحانی سرگرمیوں کو فروغ دیا۔ یہاں تک کہ 1362 میں انہوں نے جنوبی سندھ میں ایک سیاسی تنازع کے حل کے لیے بھی کردار ادا کیا۔ 

    یعنی اُچ کی خانقاہ محض ایک مقامی روحانی مرکز نہیں تھی؛ اس کے روابط ملتان، دہلی، سندھ، حجاز اور وسطی ایشیا تک پھیلے ہوئے تھے۔

    ملتان اور سندھ: ایک ہی سہروردی روحانی نیٹ ورک

    یہاں ایک اہم تاریخی نکتہ سامنے آتا ہے۔ تحقیقی مطالعات میں واضح کیا گیا ہے کہ تیرہویں اور چودہویں صدی میں ملتان اور اُچ سہروردی سرگرمیوں کے دو اہم مراکز بن گئے تھے اور اسی نیٹ ورک نے سندھ میں سہروردی اثرات کو مضبوط کیا۔ 

    اس کا مطلب یہ نہیں کہ ملتان سندھ تھا یا سندھ ملتان، بلکہ حقیقت یہ ہے کہ دونوں ایک وسیع روحانی نیٹ ورک کے اہم مراکز تھے۔ یہ فرق سمجھنا تاریخ کے لیے بہت ضروری ہے۔

    پھر سندھ نے اس روحانی روایت کو اپنی زبان دے دی

    یہاں داستان کا ایک نیا باب کھلتا ہے۔ ملتان کی خانقاہی روایت سندھ پہنچی تو سندھ نے اسے اپنے مزاج کے مطابق جذب کیا۔ یہاں تصوف صرف خانقاہوں تک محدود نہیں رہا بلکہ شاعری، موسیقی اور لوک داستانوں کا حصہ بن گیا۔ بیت اور وائی کی صورت میں اس نے اظہار کے نئے رنگ اختیار کیے۔ 

    پھر سندھ کی سرزمین نے دنیا کو ایک ایسا صوفی شاعر دیا جس کی آواز آج بھی دریائے سندھ کے کناروں سے سنائی دیتی ہے: حضرت شاہ عبداللطیف بھٹائیؒ۔

    شاہ عبداللطیف بھٹائیؒ نے سندھ کی لوک داستانوں، موسیقی اور صوفی فکر کو ایک ایسی شعری وحدت دی جو آج بھی سندھ کی تہذیبی شناخت کا بنیادی حصہ ہے۔ محکمہ ثقافت، حکومت سندھ کے مطابق، شاہ عبداللطیف بھٹائیؒ صوفی شاعر ہونے کے ساتھ موسیقی کے ماہر بھی تھے اور ان کی درگاہ پر ان کے متعین کردہ سُروں اور موسیقی کی روایت آج تک جاری ہے۔

    شاہ لطیفؒ اور ملتان کی روحانی روایت: دو راستے، ایک پیغام

    ایک طرف ملتان ہے، جہاں بہاء الدین زکریاؒ، شاہ رکن عالمؒ، جلال الدین سرخ بخاریؒ اور مخدوم جہانیاں جہاں گشتؒ کی روحانی روایت موجود ہے؛ دوسری طرف سندھ ہے، جہاں شاہ عبداللطیف بھٹائیؒ، لال شہباز قلندرؒ، سچل سرمستؒ اور دیگر صوفیا کی عظیم روایت پروان چڑھی۔

    ان سب کو ایک ہی شخصیت یا ایک ہی سلسلے میں شامل کرنا تاریخی طور پر درست نہیں ہوگا، لیکن ان کے درمیان روحانی اور تہذیبی مکالمہ ضرور دیکھا جا سکتا ہے۔

    ملتان کی خانقاہی روایت نے تصوف کو ایک منظم روحانی نیٹ ورک دیا، جبکہ سندھ نے اسی وسیع صوفی مزاج کو اپنی زبان، موسیقی اور لوک داستانوں میں ڈھال دیا۔ یہی وہ مقام ہے جہاں دونوں خطوں کی تاریخ ایک دوسرے سے گفتگو کرتی محسوس ہوتی ہے۔

    شاہ لطیفؒ کے سُر اور ملتان کی سماعی روایت

    یہ تعلق موسیقی تک بھی پہنچتا ہے۔ سندھ کے سرکاری ثقافتی ماخذ کے مطابق، سندھ میں سماع کی روایت کے تاریخی مباحث میں بہاء الدین زکریاؒ کے خانوادے سے منسلک روحانی روایات کا ذکر بھی آتا ہے۔ اسی طرح شاہ عبداللطیف بھٹائیؒ کے سماع اور ان کی اپنی موسیقی کی تشکیل کا بھی تفصیلی ذکر ملتا ہے۔

    شاہ لطیفؒ نے سندھ کی لوک داستانوں کو اپنے سُروں میں ڈھالا۔ سسی پنوں، مومل رانجھا، سوہنی میہار، نوری، ماروی، لیلا چنیسر اور سورٹھ جیسے کردار ان کے صوفیانہ شعور میں انسانی تلاش، محبت، قربانی اور روحانی سفر کی علامت بن گئے۔ یہ وہ مقام ہے جہاں ملتان کی خانقاہ اور سندھ کی شاعری ایک دوسرے کو سمجھنے لگتی ہیں۔

    ملتان کے مزار اور سندھ کی درگاہیں: عوامی تہذیب کے دو مراکز

    ملتان میں حضرت بہاء الدین زکریاؒ اور حضرت شاہ رکن عالمؒ کے مزارات ہوں یا سندھ میں شاہ عبداللطیف بھٹائیؒ اور لال شہباز قلندرؒ کی درگاہیں، یہ سب صرف مذہبی عقیدت کے مقامات نہیں بلکہ عوامی تہذیب کے مراکز بھی ہیں۔ یہاں لوگ صرف دعا کے لیے نہیں آتے؛ یہاں قصے، موسیقی، بازار، دستکاری اور مسافر بھی آتے ہیں۔ 

    سب سے بڑھ کر مختلف طبقات کے لوگ ایک ہی جگہ جمع ہوتے ہیں۔ یہی خانقاہی تہذیب کا وہ پہلو ہے جس نے صدیوں تک معاشرے کو جوڑے رکھا۔

    تجارت نے روحانی راستوں کے ساتھ بازار بھی آباد کیے

    اگر صوفیا نے دلوں کو جوڑا تو تاجروں نے شہروں کو جوڑا۔ ملتان صدیوں تک ایک اہم تجارتی مرکز رہا۔ اس تعلق کا ایک اہم ثبوت شکارپور ہے۔ تحقیقی مطالعات کے مطابق، ملتان کے بعض تجارتی خاندان بعد کے ادوار میں شکارپور منتقل ہوئے اور شکارپور نے وسطی ایشیا اور ایران سے جڑے بڑے تجارتی نیٹ ورک میں اہم کردار ادا کیا۔

    یوں ملتان کے تاجر سندھ پہنچے، سندھ کے بازار وسطی ایشیا سے جڑے اور علاقائی تجارت بین الاقوامی تجارت کا حصہ بن گئی۔ یہ تاریخ بتاتی ہے کہ ماضی کی دنیا آج کے صوبائی نقشے سے کہیں زیادہ مربوط تھی۔

    شکارپور کے بازاروں میں ملتان کی بازگشت

    شکارپور کی تاریخی تجارت کا جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ سندھ صرف زراعت اور دریائی تہذیب کا نام نہیں تھا بلکہ ایک بڑے تجارتی نیٹ ورک کا حصہ بھی تھا۔ شکارپور کے ہندو ساہوکاروں اور تاجروں کے تجارتی روابط وسطی ایشیا، افغانستان اور ایران تک پھیلے ہوئے تھے اور اس وسیع تجارتی دنیا میں ملتان بھی ایک اہم کڑی تھا۔ یوں سندھ کا شکارپور اور پنجاب کا ملتان ایک وسیع بین الاقوامی تجارتی دنیا کے دو اہم پڑاؤ بن گئے۔

    یہی وہ مقام ہے جہاں تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ تہذیبیں صرف شاعری سے نہیں بنتیں؛ بازار بھی تہذیبیں بناتے ہیں۔

    زبانیں مختلف، روح ایک

    ملتان کی سرائیکی اور سندھ کی سندھی اپنی اپنی عظیم لسانی شناختیں ہیں۔ لیکن دونوں کی صوفی شاعری میں عشق، فراق، سفر، محبوب کی تلاش، صبر، قربانی اور انسان کو انسان سے جوڑنے کی کوشش جیسے موضوعات بار بار سامنے آتے ہیں۔ 

    یہی وجہ ہے کہ جب سرائیکی کافی سنی جاتی ہے یا شاہ لطیفؒ کا بیت پڑھا جاتا ہے تو زبان مختلف ہونے کے باوجود احساس اجنبی نہیں لگتا، کیونکہ شاید تہذیب زبان سے پہلے دل میں جنم لیتی ہے۔

    اجرک اور کاشی: دو شناختیں، ایک خطے کا ہنر

    سندھ کی اجرک اپنی جگہ ایک مکمل تہذیبی علامت ہے اور ملتان کی نیلی کاشی اپنی جگہ ایک منفرد فن۔ دونوں کو ایک دوسرے کا متبادل کہنا درست نہیں، لیکن دونوں میں ایک چیز مشترک ہے: ہنر کا نسل در نسل سفر۔ سندھ نے کپڑے پر رنگوں کو تاریخ بنایا، جبکہ ملتان نے مٹی، اینٹ اور فن تعمیر پر رنگوں کو شناخت کا حصہ بنایا۔ 

    ایک طرف اجرک کا نقش ہے، دوسری طرف شاہ رکن عالمؒ کے مزار کی کاشی کاری، اور دونوں کے پیچھے ایسا معاشرہ ہے جس نے فن کو محض آرائش نہیں بلکہ شناخت سمجھا۔

    دریا، زراعت اور لوگوں کا رہن سہن

    سندھ اور ملتان کے روایتی معاشروں کو سمجھنے کے لیے دریا اور زراعت کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ دریا نے زمین دی، زمین نے فصل دی، فصل نے معیشت بنائی، معیشت نے بازار پیدا کیے اور بازاروں نے شہروں کو جوڑا۔ اسی لیے دونوں خطوں کی روایتی زندگی میں زراعت، زمین، خاندان، برادری، مہمان نوازی اور بزرگوں کا احترام نمایاں سماجی اقدار رہے ہیں۔

    فرق اپنی جگہ موجود ہیں اور یہی فرق دونوں کو خوبصورت بناتے ہیں۔ سندھ، سندھ ہے اور ملتان، ملتان۔ دونوں کی اپنی الگ شناخت، زبان، لباس اور تہذیبی مزاج ہے، لیکن ان کے درمیان صدیوں کا مکالمہ ضرور موجود ہے۔

    اصل کہانی سرحد نہیں، رابطے کی ہے

    تاریخ یہ نہیں بتاتی کہ ملتان اور سندھ ہمیشہ ایک ہی سیاسی وحدت رہے۔ ایسا کہنا درست نہیں ہوگا۔ تاریخ اس سے زیادہ دلچسپ بات بتاتی ہے: سیاسی طور پر الگ ہونے کے باوجود دونوں خطے ایک دوسرے سے مسلسل رابطے میں رہے۔ 

    کبھی تجارت کے ذریعے، کبھی تصوف کے ذریعے، کبھی علم کے ذریعے، کبھی ہجرت کے ذریعے اور کبھی اس دریا کے ذریعے جو دونوں کے درمیان زندگی کی علامت بن کر بہتا رہا۔

    اور پھر دریائے سندھ

    شاید اس پورے سفر کا سب سے خوبصورت کردار کوئی انسان نہیں بلکہ دریائے سندھ ہے۔ وہ دریا جس نے تہذیبیں بنتے دیکھیں، قافلوں کو گزرتے دیکھا، تاجروں کو ایک شہر سے دوسرے شہر جاتے دیکھا، صوفیا کے مراکز آباد ہوتے دیکھے، ملتان کی طرف سے آنے والی روحانی خوشبو کو سندھ کی وادیوں تک پہنچتے دیکھا اور سندھ کی صوفی آواز کو دوبارہ ملتان اور پورے وسیب تک پہنچتے دیکھا۔

    شاید ملتان اور سندھ کو یوں سمجھنا چاہیے

    ملتان اولیا کی خانقاہوں کا شہر ہے اور سندھ صوفی شاعری اور لوک روحانیت کی سرزمین۔ ملتان میں بہاء الدین زکریاؒ ہیں، شاہ رکن عالمؒ ہیں، اُچ میں جلال الدین بخاریؒ ہیں، جبکہ سندھ میں شاہ عبداللطیف بھٹائیؒ، لال شہباز قلندرؒ اور سچل سرمستؒ ہیں۔ 

    یہ سب ایک ہی شخصیت یا ایک ہی سلسلے کے نام نہیں، مگر ایک ایسے تہذیبی خطے کے بڑے چراغ ضرور ہیں جہاں تصوف نے انسان کو انسان سے جوڑنے کی کوشش کی۔

    دریا بہتا رہا، بہتا رہے گا

    صدیاں گزر گئیں۔ سلطنتیں بدل گئیں۔ حکمران آئے اور چلے گئے۔ تجارتی راستے بدلے۔ شہروں کی اہمیت بدلی۔ نقشے بدلے۔ لیکن ایک چیز نہیں بدلی: دریائے سندھ کا بہاؤ۔

    شاید اسی دریا کی طرح ملتان اور سندھ کا تہذیبی تعلق بھی بہتا رہا۔ کبھی خانقاہ بن کر، کبھی قافلہ بن کر، کبھی بازار بن کر، کبھی شعر بن کر، کبھی ساز بن کر اور کبھی کسی درویش کی زبان سے نکلے ہوئے ایک سادہ سے جملے کی صورت میں: انسان کو انسان سے جوڑو۔

    شاید یہی ملتان کی خانقاہوں سے سندھ کے صوفی کلام تک پہنچنے والی سب سے بڑی مشترکہ آواز ہے۔

    اسی لیے جب ہم حضرت بہاء الدین زکریاؒ کے مزار پر کھڑے ہوتے ہیں، شاہ رکن عالمؒ کے گنبد کو دیکھتے ہیں، اُچ شریف میں جلال الدین بخاریؒ کی خانقاہ کا تصور کرتے ہیں یا بھٹ شاہ میں شاہ عبداللطیف بھٹائیؒ کے سُر سنتے ہیں تو دراصل ہم تاریخ کے الگ الگ ابواب نہیں پڑھ رہے ہوتے بلکہ ایک بڑے تہذیبی سفر کے مختلف پڑاؤ دیکھ رہے ہوتے ہیں۔

    بغداد کی فکر سے ملتان کی خانقاہ تک، ملتان کی خانقاہ سے اُچ تک، اُچ سے سندھ تک، اور سندھ کی شاعری سے آج کے انسان تک۔

    اس پورے سفر کے نیچے، خاموشی سے، صدیوں سے ایک دریا بہہ رہا ہے۔

    دریائے سندھ۔

    جو صرف پانی نہیں، بلکہ تاریخ، تہذیب، رابطے اور ملتان و سندھ کے صدیوں پرانے رشتے کی ایک بڑی علامت بھی ہے۔

  • سندھ اور بلوچستان کا فراموش کردہ انتظامی بازو: کراچی ڈسٹرکٹ لوکل بورڈ کی تاریخ، حدود اور فلاحی خدمات

    سندھ اور بلوچستان کا فراموش کردہ انتظامی بازو: کراچی ڈسٹرکٹ لوکل بورڈ کی تاریخ، حدود اور فلاحی خدمات

    تاریخ کے جھروکوں میں جھانکیں تو معلوم ہوتا ہے کہ کراچی محض بندرگاہ یا چند شہری علاقوں کا نام نہیں، بلکہ اس کے پس منظر میں ایک وسیع دیہی اور علاقائی نیٹ ورک بھی موجود تھا، جس نے برطانوی دور حکومت میں نچلی سطح پر سماجی، تعلیمی اور طبی ڈھانچے کی تشکیل میں اہم کردار ادا کیا۔

    قیام پاکستان سے قبل جہاں شہری حدود میں کراچی میونسپلٹی سرگرم تھی، وہیں دیہی، زرعی، ڈیلٹائی اور ساحلی علاقوں کی فلاح و بہبود کی ذمہ داری کراچی ڈسٹرکٹ لوکل بورڈ پر عائد تھی۔

    22  اکتوبر 1928 کی وہ تاریخی تصویر، جس میں شیوارام دیوان مل، غلام مرتضیٰ شاہ، سردار اللہ بخش گبول، کے بی اے ایچ ماما اور دیگر معتبر شخصیات دکھائی دیتی ہیں، اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ اس خطے کے انتظامی امور میں ہندو، مسلمان، پارسی اور دیگر مقامی برادریوں سے تعلق رکھنے والی شخصیات کس طرح شریک تھیں۔

    جغرافیائی حدود: حب ندی سے سن اور مکران تک

    برطانوی دور میں کراچی ضلع کی حدود آج کے کراچی سے بہت مختلف اور وسیع تھیں۔ کراچی ڈسٹرکٹ لوکل بورڈ کا دائرہ اختیار صرف شہر تک محدود نہیں تھا، بلکہ اس میں دور دراز دیہی اور ساحلی علاقے بھی شامل تھے۔

    دریائے سندھ کا بایاں کنارہ

    موجودہ ٹھٹہ، سجاول، جھرک اور بدین کے ساحلی اور ڈیلٹائی علاقوں سمیت شاہ بندر، کیٹی بندر اور میرپور ساکرو کے علاقے بھی اس انتظامی نظام سے وابستہ تھے۔ یاد رہے کہ ٹھٹہ کو 1948 میں کراچی سے الگ کرکے علیحدہ ضلع بنایا گیا تھا۔

    دریائے سندھ کا دایاں کنارہ

    جامشورو، دادو اور کوٹری سے لے کر معروف سیاست دان اور مفکر جی ایم سید کے آبائی قصبے سن اور لعل شہباز قلندر کی نگری سیہون شریف تک کے علاقوں کے انتظامی تعلقات کی نوعیت کو سمجھنے کے لیے اس دور کی ضلعی حدود اور مقامی حکومت کے ریکارڈ کا جائزہ لینا ضروری ہے۔

    مغربی اور ساحلی سرحدیں

    حب ندی سے لسبیلہ اور مکران کی ساحلی پٹی تک کے تجارتی راستوں اور دیہی آبادیوں کے انتظامی تعلق کی درست نوعیت جاننے کے لیے متعلقہ تاریخی دستاویزات کی مدد درکار ہے۔

    تعلیمی خدمات: دیہی سندھ اور بلوچستان میں روشنی کی کرن

    ڈسٹرکٹ لوکل بورڈ کی نمایاں ذمہ داریوں میں دیہی اور پسماندہ علاقوں میں ابتدائی تعلیم کا فروغ شامل تھا۔

    اسکولوں کا قیام

    ملیر، گھارو، ٹھٹہ، مانجھند، سن اور بدین کے دیہی علاقوں میں پرائمری اسکولوں کے قیام اور تعلیمی سہولتوں کی فراہمی میں مقامی انتظامی اداروں کا کردار اہم تھا۔ تاہم، بورڈ کے تحت قائم ہونے والے اسکولوں کی درست تعداد اور ان کے مقامات کی تصدیق تاریخی ریکارڈ سے کی جانی چاہیے۔

    سندھی زبان کی ترویج

    دیہی علاقوں میں سندھی زبان میں ابتدائی تعلیم کی فراہمی نے بچوں کو اپنی مادری زبان میں پڑھنے اور لکھنے کے مواقع فراہم کیے۔ اس حوالے سے بورڈ کے تعلیمی ریکارڈ سے اس کی پالیسی اور عملی اقدامات کی مزید تفصیلات حاصل کی جا سکتی ہیں۔

    تعلیمی وظائف

    غریب کسانوں اور مزدوروں کے بچوں کے لیے وظائف اور دیگر تعلیمی سہولتوں کی فراہمی سے متعلق دعووں کی تصدیق کے لیے متعلقہ سرکاری دستاویزات کا جائزہ ضروری ہے۔

    طبی خدمات اور وبائی امراض کے خلاف اقدامات

    زیریں سندھ کے دیہی علاقوں میں ملیریا، ہیضہ اور چیچک جیسی بیماریاں صحت عامہ کے لیے سنگین چیلنج تھیں۔

    دیہی ڈسپنسریاں

    مقامی حکومتوں کے تحت مختلف قصبوں اور تعلقہ مراکز میں طبی سہولتوں کی فراہمی کی کوششیں کی جاتی تھیں۔ کراچی ڈسٹرکٹ لوکل بورڈ کے زیر انتظام ڈسپنسریوں کی تعداد، مقامات اور مفت یا رعایتی ادویات کی فراہمی سے متعلق تفصیلات کی تصدیق تاریخی ریکارڈ سے کی جانی چاہیے۔

    مویشیوں کی صحت

    سندھ کی دیہی معیشت میں مال مویشیوں کو بنیادی اہمیت حاصل تھی۔ ان کی بیماریوں کی روک تھام کے لیے ویٹرنری خدمات اور ویکسینیشن کے انتظامات اہم تھے۔ تاہم، بورڈ کے تحت تعینات عملے اور اس کی خدمات کی تفصیلات کے لیے مستند دستاویزات درکار ہیں۔

    ہنگامی امداد

    پہلی جنگ عظیم کے بعد پھیلنے والی عالمی وباؤں اور مختلف ادوار میں قحط اور قدرتی آفات نے خطے کی آبادی کو متاثر کیا۔ ان مواقع پر کراچی ڈسٹرکٹ لوکل بورڈ کے فنڈز سے امدادی سرگرمیوں کی نوعیت اور وسعت کا تعین متعلقہ تاریخی ریکارڈ کی مدد سے کیا جانا چاہیے۔

    فلاحی خدمات، معیشت اور بنیادی ڈھانچہ

    پینے کے پانی کی فراہمی

    دیہی اور خشک علاقوں میں پانی کی فراہمی کے لیے تالابوں، کنوؤں اور پانی ذخیرہ کرنے کے دیگر ذرائع کو اہمیت حاصل تھی۔ کراچی ڈسٹرکٹ لوکل بورڈ کے تحت تعمیر یا مرمت کیے جانے والے آبی ذخائر کی تفصیلات کی تصدیق ضروری ہے۔

    سڑکوں اور مواصلات کا نظام

    زرعی پیداوار کو منڈیوں اور کراچی کی بندرگاہ تک پہنچانے کے لیے سڑکوں کا نیٹ ورک اہم تھا۔ دیہی علاقوں میں سڑکوں کی تعمیر اور دیکھ بھال سے تجارت، آمدورفت اور مقامی آبادی کو فائدہ پہنچتا تھا۔

    مسافر خانے

    تاریخی تجارتی راستوں پر مسافروں اور تجارتی قافلوں کے لیے مسافر خانوں کی اہمیت مسلمہ تھی۔ تاہم، کراچی ڈسٹرکٹ لوکل بورڈ کے تحت ایسے مراکز کی تعمیر اور دیکھ بھال کے دعووں کی تصدیق کے لیے دستاویزی شواہد درکار ہیں۔

    حب ندی اور تاریخی بند مراد: آبی وسائل کی اہمیت

    کراچی اور بلوچستان کی سرحد کے قریب واقع حب ندی کا علاقہ زراعت اور پانی کی فراہمی کے حوالے سے اہمیت رکھتا تھا۔ اس خطے کی آبی تاریخ میں بند مراد کا ذکر بھی ملتا ہے، تاہم اس کی تعمیر، تاریخی حیثیت اور دیکھ بھال میں کراچی ڈسٹرکٹ لوکل بورڈ کے کردار کی تصدیق ضروری ہے۔

    بند مراد کی دیکھ بھال

    حب ندی کے علاقے میں پانی کو ذخیرہ کرنے اور زرعی ضروریات پوری کرنے کے لیے مقامی آبی ڈھانچے اہم تھے۔ بند مراد کی تعمیر یا مرمت میں بورڈ کے کردار کے بارے میں حتمی بات کہنے کے لیے متعلقہ تاریخی دستاویزات درکار ہیں۔

    زراعت اور آبادکاری

    حب ندی کے اطراف اور گڈاپ، منگھوپیر اور ملیر کے علاقوں میں زراعت مقامی معیشت کا اہم حصہ تھی۔ آبپاشی کے ذرائع، نہری گزرگاہوں اور آبی ڈھانچے کی دیکھ بھال سے متعلق سرگرمیوں نے ان علاقوں کی زرعی پیداوار پر اثر ڈالا ہوگا، تاہم ان کاموں کو براہ راست کراچی ڈسٹرکٹ لوکل بورڈ سے منسوب کرنے کے لیے مستند شواہد ضروری ہیں۔

    خلاصہ کلام یہ کہ قیام پاکستان سے قبل کراچی ڈسٹرکٹ لوکل بورڈ کی تاریخ کراچی اور اس کے گرد و نواح کے دیہی علاقوں میں مقامی حکومت، تعلیم، صحت اور بنیادی سہولتوں کی فراہمی کے ارتقا کو سمجھنے کے لیے اہم ہے۔

    اس ادارے کی حدود، خدمات اور اس سے وابستہ شخصیات کے کردار کو مستند تاریخی دستاویزات کی روشنی میں مرتب کرنے سے سندھ اور بلوچستان کے اس مشترکہ انتظامی ورثے کے کئی فراموش کردہ پہلو سامنے آ سکتے ہیں۔

    اس تاریخی نوعیت کی نایاب تصویر اور اس سے وابستہ پس منظر کو سامنے لانے میں محقق کراچی ڈاکٹر سہیل انصاری کی کاوشوں اور بصیرت کا اہم کردار ہے۔ ان کے تعاون کے بغیر اس تاریخی باب کو اجاگر کرنا ممکن نہ ہوتا۔ ہم ان کے تہ دل سے مشکور ہیں۔

  • موہن جو دڑو کی دریافت سے سکھر بیراج تک، سندھ کے محسن، کراچی کی لارنس روڈ کے سر لارنس کی ایک بھولی بسری داستان

    موہن جو دڑو کی دریافت سے سکھر بیراج تک، سندھ کے محسن، کراچی کی لارنس روڈ کے سر لارنس کی ایک بھولی بسری داستان

    کراچی کی تاریخی شاہراہوں اور قدیم گلیوں کی اپنی ایک زبان دانی اور حافظہ ہوتا ہے۔ لارنس روڈ کراچی کے پرانے اور تاریخی علاقوں سے گزرتی ہے، جہاں برطانوی دور کی کئی پرانی عمارتیں، مساجد، مندر، چڑیا گھر اور بازار موجود ہیں۔

    بدلتے وقت کے ساتھ، گو کہ بلدیاتی کاغذات میں ’لارنس روڈ‘ کا نام تبدیل کرکے ’نشتر روڈ‘ رکھ دیا گیا ہو، لیکن اس شہرِ قائد کے پرانے اور اصیل کراچی واسیوں، قدیم تاجروں اور تاریخی شعور رکھنے والوں کے لبوں پر آج بھی یہ سڑک ’لارنس روڈ‘ ہی کے نام سے پکاری جاتی ہے۔

    آخر یہ ’لارنس‘ کون تھے؟

    یہ شخصیت انگریز افسر شاہی کا کوئی عام پرزہ نہیں، بلکہ سر ہنری اسٹیولی لارنس تھے، جنہوں نے 1916 سے 1920 کے درمیان بحیثیت ’کمشنر سندھ‘ اس خطے کی قسمت، معیشت اور سب سے بڑھ کر اس کی ہزاروں سالہ قدیم تاریخی شناخت کی بنیادیں ازسرِ نو استوار کیں۔ اگر سکھر بیراج نہ ہوتا تو آج کا سندھ زرعی اعتبار سے بنجر اور قحط کا شکار ہوتا، اور اگر سر لارنس کی آثارِ قدیمہ سے متعلق بصیرت نہ ہوتی تو موہن جو دڑو کی پانچ ہزار سالہ قدیم اور باوقار شہری تہذیب شاید دہائیوں تک مٹی کے ٹیلوں کے نیچے گمنام دفن رہتی۔

    تاریخ کا نیا موڑ: محمد بن قاسم اور راجہ داہر سے قبل سندھ کی شناخت

    سر ہنری لارنس کے دورِ کمشنری سے پہلے، سندھ کی تحریری اور عام فہم تاریخ کا افق انتہائی محدود تھا۔ مورخین، مستشرقین اور مقامی مؤلفین سندھ کی تاریخ کا آغاز بنیادی طور پر ’چچ نامہ‘ کے صفحات، راجہ داہر کے عہد اور 712 میں عماد الدین محمد بن قاسم کی آمد سے ہی فرض کرتے تھے۔

    سندھ کو محض ایک جغرافیائی گزرگاہ، فاتحین کا بابِ اسلام یا قرونِ وسطیٰ کے راجواڑوں کا علاقہ سمجھا جاتا تھا۔ اس سے پہلے کا زمانہ اساطیری کہانیوں اور ناخواندہ روایات کے دھندلکوں میں چھپا ہوا تھا۔

    سر لارنس محض ایک سویلین افسر نہیں تھے، بلکہ وہ سندھ کے قدیم آثار، اس کے جغرافیے اور برصغیر کی قدیم تہذیبوں کا گہرا تحقیقی اور عمیق ادراک رکھتے تھے۔ انہوں نے اس روایتی اور محدود تاریخی بیانیے کو چیلنج کیا۔

    آر ڈی بینرجی کی تعیناتی اور موہن جو دڑو کا سفر

    1917 کے دوران سر لارنس نے انڈین آرکیالوجیکل سروے کے مغربی سرکل کے اس وقت کے سپرنٹنڈنٹ راکھال داس بینرجی کو سندھ طلب کیا۔ انہوں نے بینرجی کو سندھ بھر کے قدیم ٹیلوں، آثار اور تاریخی مقامات کی سائنسی درجہ بندی کا باقاعدہ حکم جاری کیا۔

    انہی کی براہِ راست سرپرستی اور انتظامی احکامات کے تحت آر ڈی بینرجی نے 1918–1919 میں ضلع لاڑکانہ کے قریب واقع موہن جو دڑو کے پراسرار اور گمنام ٹیلوں کا رخ کیا۔ اس وقت تک عام خیال یہ تھا کہ یہ ٹیلے شاید کسی درمیانی دور کے بدھ مت کے اسٹوپا کی باقیات ہیں۔

    لیکن جب بینرجی نے ابتدائی کھدائی اور سروے کے بعد سر لارنس کو اپنی رپورٹس پیش کیں تو سر لارنس کی علمی پرکھ نے فوراً اندازہ لگا لیا کہ یہ محض دوسری یا تیسری صدی کا اسٹوپا نہیں، بلکہ اس کے نیچے مہروں اور اینٹوں کی جو چنائی ہے، وہ قبل از تاریخ کے ایک عظیم الشان دور کی طرف اشارہ کرتی ہے۔

    سر لارنس نے بمبئی حکومت سے ہنگامی فنڈز کی منظوری کروائی اور اس مقام کو اینٹیں چرانے والوں اور مقامی تجاوزات سے محفوظ کرنے کا فوری انتظامی حکم دیا۔ اگرچہ باقاعدہ وسیع کھدائی بعد میں 1922 میں سر جان مارشل کی قیادت میں شروع ہوئی، لیکن وہ سر ہنری لارنس ہی کا تاریخی فیصلہ اور بصیرت تھی جس نے موہن جو دڑو کو عالمی تاریخی نقشے پر ابھارا۔

    اس ایک دریافت نے سندھ کی تاریخ کو راجہ داہر اور عرب فتح سے 5,000 سال پیچھے دھکیل کر اسے مصر اور میسوپوٹیمیا کی قدیم رین شہری تہذیبوں کے شانہ بشانہ کھڑا کر دیا۔

    سندھ کی معاشی شہ رگ، سکھر بیراج کا بانی

    سندھ کا زرعی اور معاشی جائزہ لیا جائے تو سندھ کی زندگی کا تمام تر انحصار دریائے سندھ پر ہے۔ لیکن سر لارنس کے کمشنر بننے سے قبل، سندھ میں آب پاشی کا نظام انتہائی غیر یقینی اور دیسی نوعیت کا تھا۔ زمینیں صرف گرمیوں میں دریا کے چڑھاؤ اور سیلابی نہروں کے رحم و کرم پر تھیں؛ اگر دریا میں طغیانی نہ آتی تو قحط اور فاقہ کشی سندھ کے کسانوں کا مقدر بن جاتی۔

    التوا کے شکار منصوبے کا احیا

    دریائے سندھ پر سکھر کے مقام پر بیراج بنانے کا خیال سب سے پہلے 1847 میں کپتان فائف نے پیش کیا تھا، لیکن مالیاتی اور تکنیکی الجھنوں کے باعث برطانوی ہندوستانی حکومت اس پر ستر سال تک ہچکچاہٹ کا شکار رہی۔

    1916 میں چارج سنبھالتے ہی سر ہنری اسٹیولی لارنس نے اس التوا کے شکار منصوبے کو اپنی اولین ترجیح بنایا۔ انہوں نے چیف انجینئروں کی ایک باصلاحیت ٹیم تشکیل دی، جس نے 1913 کی ناقص تجاویز کا ازسرِ نو سائنسی اور مالیاتی تجزیہ کرکے ایک انتہائی جامع اور عملی فزیبلٹی رپورٹ تیار کی۔

    بمبئی کونسل کے ساتھ اعصاب شکن لابنگ کا سامنا

    چوں کہ اس وقت سندھ انتظامی طور پر بمبئی پریزیڈنسی کا ایک حصہ تھا، اس لیے بمبئی کے حکمران سندھ پر اتنا بھاری سرمایہ خرچ کرنے کو تیار نہ تھے۔ سر لارنس نے ایک سخت گیر منتظم اور ماہرِ معیشت کی حیثیت سے بمبئی کے گورنر اور دہلی کی مرکزی حکومت کو قائل کیا کہ یہ بیراج نہ صرف سندھ بلکہ پورے برصغیر کو غذائی طور پر خودکفیل بنا دے گا۔

    انہی کی محنت، خلوص اور مسلسل خط و کتابت کے نتیجے میں 1920 میں اس عظیم الشان منصوبے کو بمبئی حکومت نے حتمی منظوری کی راہ پر ڈالا، جس کا سنگِ بنیاد بعد میں 1923 میں رکھا گیا اور 1932 میں لائیڈ بیراج، یعنی سکھر بیراج، نے کام شروع کیا۔

    معاشی انقلاب اور دائمی زراعت

    سکھر بیراج کی تعمیر نے سندھ کی قسمت بدل دی۔ 80 لاکھ ایکڑ کی سیرابی: سندھ کے بنجر اور غیر آباد خطے اچانک شاداب ہو گئے۔ بارہ ماہ نہری نظام: دنیا کے سب سے بڑے نہری نظام، بشمول نارا کینال، روہڑی کینال، رائس کینال اور دادو کینال، کا وجود ممکن ہوا، جس سے سندھ سال میں دو فصلیں، ربیع اور خریف، پیدا کرنے کے قابل ہوا۔

    کراچی بندرگاہ کے لیے ایندھن: سندھ کی بمپر کپاس اور چاول نے کراچی بندرگاہ کے ذریعے عالمی منڈیوں میں دھاک بٹھائی، جس سے کراچی کو ایک بین الاقوامی تجارتی مرکز کا درجہ ملا۔

    آج 90 سال سے زائد عرصہ گزر جانے کے بعد بھی سکھر بیراج سندھ کی معیشت کی شہ رگ ہے اور صوبے کے 80 فیصد سے زائد زرعی رقبے کو سیراب کر رہا ہے۔ اس عظیم معاشی انقلاب کے پیچھے جو بنیادی دماغ اور انتظامی جرات تھی، وہ سر ہنری اسٹیولی لارنس ہی کی تھی۔

    کراچی کے بنیادی ڈھانچے کی توسیع اور جنگِ عظیم کا بحران

    بطور کمشنر سندھ، سر لارنس کا کراچی شہر سے تعلق بھی نہایت گہرا اور انقلابی نوعیت کا تھا۔ ان کا دورِ حکومت پہلی جنگِ عظیم کے انتہائی نازک اور پرآشوب سالوں پر محیط تھا۔

    بندر روڈ کی توسیع اور تجارتی زوننگ

    پہلی جنگِ عظیم کے دوران کراچی بندرگاہ برطانوی ہند کی اہم ترین جنگی اور تجارتی بندرگاہ بن کر ابھری۔ سر لارنس نے بندرگاہ سے لے کر شہر کے اندرونی حصوں تک مال برداری اور تجارت کو آسان بنانے کے لیے موجودہ ایم اے جناح روڈ، سابقہ بندر روڈ، کی چوڑائی، پختگی اور اس کی رابطہ سڑکوں کی توسیع کے منصوبے منظور کرائے۔

    انہی کے دور میں کراچی پورٹ ٹرسٹ کی ایسٹ وارف کو باقاعدہ ریلوے لائن سے جوڑا گیا تاکہ پنجاب اور بلوچستان کی اجناس براہِ راست گودیوں تک پہنچ سکیں۔ انہوں نے شہر کے اندرونی تجارتی حصوں، مثلاً برنس روڈ، کپڑا مارکیٹ اور بمبئی بازار، کی تجارتی زوننگ کی بنیاد رکھی۔

    غذائی بحران اور سستے غلے کی دکانیں

    1918 میں پہلی جنگِ عظیم کے اختتام پر جب پورا برصغیر شدید بارشوں کی کمی، قحط، ذخیرہ اندوزی اور اسپینش فلو کی مہلک وبا کی لپیٹ میں آیا تو سر لارنس نے کراچی اور سندھ کے عوام کو بھوک اور تباہی سے بچانے کے لیے حیران کن انتظامی صلاحیتوں کا اس طرح مظاہرہ کیا کہ: ’انہوں نے کراچی بندرگاہ سے غلے اور گندم کی بے دریغ برآمد پر ہنگامی پابندی عائد کی۔‘

    ’ذخیرہ اندوزوں کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے غلے کی قیمتیں سرکاری طور پر مقرر کیں۔‘

    ’کراچی کے غریب طبقے، بندرگاہ کے مزدوروں اور عام شہریوں کے لیے سرکاری سرپرستی میں راشن شاپس، یعنی سستے غلے کی دکانیں، قائم کیں، جہاں رعایتی نرخوں پر راشن اور گندم فراہم کی جاتی تھی۔‘

    یہ وہ اقدامات تھے جن کا نتیجہ یہ نکلا کہ جب ہندوستان کے دیگر صوبے قحط اور فسادات کی آگ میں جل رہے تھے، کراچی سمیت سندھ کے عوام اس شدید غذائی بحران سے محفوظ رہے۔

    لارنس روڈ، ایک نام جو مٹایا نہ جا سکا

    سر ہنری اسٹیولی لارنس بعد میں بمبئی کے قائم مقام گورنر بھی رہے اور 29 جون 1949 کو اس دنیا سے رخصت ہوئے، لیکن سندھ اور کراچی کے لیے ان کی خدمات کا نقش اتنا گہرا تھا کہ کراچی کے ہندوؤں، مسلمانوں اور پارسیوں نے مل کر ان کی یاد میں اس اہم سڑک کا نام ’لارنس روڈ‘ رکھا تھا، جو کراچی کے پرانے تجارتی اور صنعتی علاقوں کو نیو کراچی اور سول لائنز سے جوڑتی تھی۔

    اگرچہ ہم نے تختیوں پر نام بدلنے کی روایتی روش پر عمل کرتے ہوئے اس سڑک کا نام کاغذی حد تک تبدیل کر دیا ہے، لیکن تاریخ کی سچائی کو سرکاری نوٹیفکیشنز کے ذریعے نہیں بدلا جا سکتا۔

    جب بھی کراچی کا کوئی باسی لارنس روڈ سے گزرتا ہے، جب بھی موہن جو دڑو کا ذکر دنیا کے سامنے سندھ کے فخر کے طور پر ابھرتا ہے، اور جب بھی سکھر بیراج کے 66 دروازوں سے سندھو ندی کا پانی نکل کر سندھ کے کھیتوں کو سیراب کرتا ہے، تب تاریخ خاموشی سے سر ہنری اسٹیولی لارنس کی بصیرت کو سلام پیش کرتی ہے۔ وہ سندھ کے ایک سچے نوآبادیاتی محسن تھے، جنہوں نے اس دھرتی کو اس کا ہزاروں سالہ شاندار ماضی بھی لوٹایا اور اس کے مستقبل کی معاشی ضمانت بھی فراہم کی۔

  • سندھ میں پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کا بڑھتا رجحان: ’ترقی کے امکانات‘ یا مالی خطرات؟

    سندھ میں پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کا بڑھتا رجحان: ’ترقی کے امکانات‘ یا مالی خطرات؟

    جب ایشیائی ترقیاتی بینک (اے ڈی بی) نے اپریل 2023 میں 39 کلومیٹر طویل شاہراہِ شہید ذوالفقار علی بھٹو، جسے پہلے ملیر ایکسپریس وے کہا جاتا تھا، کے لیے مالی معاونت فراہم کرنے سے انکار کیا تو سندھ حکومت نے اس منصوبے کو سرکاری و نجی شعبے کی شراکت داری کے تحت آگے بڑھانے کا فیصلہ کیا۔

    منصوبے سے متاثرہ افراد کی تنظیم انڈیجینس رائٹس الائنس (آئی آر اے) نے ملیر ایکسپریس وے کی تعمیر کو اس بنیاد پر چیلنج کیا تھا کہ اس سے ملیر ندی کا قدرتی ماحول متاثر ہوگا۔ تنظیم کے ان خدشات کے تناظر میں 2025 کی شدید بارشوں کے دوران ملیر ندی کے ماحول اور سیلابی صورت حال پر بھی سوالات اٹھے۔

    تاہم، ایشیائی ترقیاتی بینک منصوبے کے لیے مالی معاونت فراہم کرنے سے پہلے ہی انکار کر چکا تھا۔ اس فیصلے کے بعد سندھ حکومت نے نجی شعبے سے سرمایہ کاری حاصل کرکے منصوبے پر کام جاری رکھنے کا راستہ اختیار کیا۔ منصوبے کے ڈیزائن میں متعدد تبدیلیاں کی گئیں اور آئی آر اے کے بعض تحفظات دور کرنے کی کوشش کی گئی۔

    سندھ حکومت کا مؤقف تھا کہ ملیر ایکسپریس وے ان منصوبوں میں شامل ہے جنہیں سرکاری و نجی شراکت داری کے ذریعے مکمل کیا جا رہا ہے۔ بالآخر یہ منصوبہ مجموعی طور پر 60 ارب 70 کروڑ روپے کی لاگت سے مکمل ہوا۔

    تاہم، ملیر ایکسپریس وے سندھ حکومت کا پہلا سرکاری و نجی شراکت داری کا منصوبہ نہیں تھا۔ صوبائی حکومت اس طریقۂ کار کے تحت پہلے بھی کئی منصوبے مکمل کر چکی ہے، جبکہ متعدد دیگر منصوبے مختلف مراحل میں ہیں۔

    نجی سرمایہ کاری کے ساتھ مالی خطرات بھی جڑے ہیں

    سرکاری و نجی شراکت داری، جسے انگریزی میں پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ اور مختصراً پی پی پی کہا جاتا ہے، کا بنیادی تصور یہ ہے کہ حکومت کسی منصوبے کی تعمیر، مالی معاونت، انتظام یا دیکھ بھال کے لیے نجی شعبے کو شریک کرتی ہے۔ اس طریقۂ کار سے حکومت کو ابتدا ہی میں پورا سرمایہ اپنے وسائل سے فراہم نہیں کرنا پڑتا اور نجی شعبے کی مہارت سے فائدہ اٹھانے کا موقع ملتا ہے۔

    لیکن نجی سرمایہ کاری کا مطلب یہ نہیں کہ منصوبے کی لاگت ختم ہوگئی یا حکومت کی مالی ذمہ داری باقی نہیں رہی۔ معاہدے کی نوعیت کے مطابق ان اخراجات کی ادائیگی بالآخر حکومت، عوام یا ٹیکس دہندگان کو کسی نہ کسی صورت میں کرنا پڑ سکتی ہے۔

    مالی وسائل کی محدود دستیابی حکومت کو ایسی نجی سرمایہ کاری قبول کرنے سے نہیں روکنی چاہیے جو بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں کو زیادہ مؤثر انداز میں مکمل کرنے میں مدد دے سکتی ہو۔ تاہم، مالی مشکلات کو سرکاری و نجی شراکت داری کا ایسا ذریعہ بھی نہیں بننا چاہیے جس کے ذریعے آج کے اخراجات کو مستقبل کی مالی ذمہ داریوں میں تبدیل کر دیا جائے۔

    پاکستان میں نجی بجلی گھروں، یعنی انڈیپنڈنٹ پاور پروڈیوسرز (آئی پی پیز)، کا تجربہ اس حوالے سے اہم ہے۔ بجلی کے شعبے میں معاہدوں، ادائیگیوں اور لاگت سے متعلق مسائل کے باعث گردشی قرضہ ایک بڑا چیلنج بنا ہوا ہے۔ 

    اس تجربے سے یہ سبق ملتا ہے کہ نجی سرمایہ کاری حاصل کرنا کافی نہیں، بلکہ معاہدوں کی شرائط، مستقبل کے اخراجات اور حکومت کی ادائیگی کی صلاحیت کو بھی مدنظر رکھنا ضروری ہے۔

    اصل سوال یہ نہیں ہونا چاہیے کہ پاکستان کو سرکاری و نجی شراکت داری کے مزید منصوبوں کی ضرورت ہے یا نہیں۔ اہم سوال یہ ہے کہ کیا درست منصوبوں کا انتخاب کیا جا رہا ہے؟ کیا تعمیر، دیکھ بھال اور پوری مدت کے اخراجات کو شامل کرکے دیکھا جائے تو یہ منصوبے روایتی سرکاری طریقۂ کار کے مقابلے میں زیادہ فائدہ مند ثابت ہوتے ہیں؟ کیا حکومت ان مالی خطرات کو سمجھتی ہے جو معاہدوں کے تحت اس کے ذمے رہتے ہیں؟ اور کیا وہ مستقبل میں ان اخراجات کو برداشت کرنے کی صلاحیت بھی رکھتی ہے؟

    پاکستان کو نجی سرمایہ کاری کی ضرورت ہے، لیکن بنیادی ڈھانچے کی اشد ضرورت بھی اس حقیقت کو مزید اہم بناتی ہے کہ منصوبوں کی مالی منصوبہ بندی درست ہو۔ آئی پی پیز کا تجربہ پالیسی سازوں کو یاد دلاتا ہے کہ سرمایہ کاری متحرک کرنا اس پورے عمل کا صرف پہلا مرحلہ ہے۔

    آج کے ترقیاتی بجٹ سے کسی خرچ کو نکال دینے کا مطلب یہ نہیں کہ اس سے جڑے مالی خطرات بھی مستقبل میں ختم ہو جائیں گے۔

    سندھ میں بنیادی سہولتوں کے لیے متعدد منصوبے

    ان خطرات کو مدنظر رکھتے ہوئے سندھ حکومت کو مستقبل کی مالی ذمہ داریوں کی پیش بندی بھی کرنی چاہیے، کیونکہ صوبائی حکومت صحت، تعلیم، ٹرانسپورٹ، پانی کی فراہمی، گندے پانی کی صفائی، صنعتی ترقی، جنگلات اور سیاحت سمیت مختلف شعبوں میں پی پی پی کے تحت منصوبوں پر کام کر رہی ہے۔

    سندھ کے وزیراعلیٰ سید مراد علی شاہ نے مالی سال 2026-27 کے بجٹ پر گفتگو کرتے ہوئے سرکاری و نجی شراکت داری کے منصوبوں کے لیے 109 ارب روپے مختص کرنے کا ذکر کیا تھا۔ انہوں نے اس ضمن میں کیٹی بندر بندرگاہ، سندھ انٹرنیشنل فنانشل سینٹر اور گرین انرجی ڈیٹا سینٹر جیسے بڑے منصوبوں کا بھی ذکر کیا تھا، جنہیں سرکاری و نجی شراکت داری کے تحت مکمل کرنے کا منصوبہ ہے۔

    محکمہ خزانہ سندھ کے تحت قائم پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ یونٹ کی سرکاری ویب سائٹ پر موجود معلومات کے مطابق، ان منصوبوں میں سے کچھ مکمل ہو چکے ہیں یا فعال ہیں، بعض زیرِ تعمیر ہیں، جبکہ متعدد منصوبے سرمایہ کاروں سے پیشکشیں طلب کرنے، فزیبلٹی کی تیاری یا ابتدائی منظوری کے مراحل میں ہیں۔

    ان منصوبوں میں صوبے کے مختلف علاقوں میں جنگلات کی بحالی، دریائے سندھ پر گھوٹکی۔ کندھ کوٹ پل، کراچی میں ماربل سٹی اور این ای ڈی سائنس اینڈ ٹیکنالوجی پارک شامل ہیں۔

    ماضی میں سندھ حکومت نے دریائے سندھ پر جھرک۔ ملاں کاتیار پل کی تعمیر سرکاری و نجی شراکت داری کے تحت مکمل کی تھی۔ تقریباً ساڑھے چار ارب روپے کی لاگت سے تعمیر کیے گئے اس منصوبے میں الجسر پاکستان پرائیویٹ لمیٹڈ نے نجی شراکت دار کے طور پر حصہ لیا، جبکہ محکمہ ورکس اینڈ سروسز سندھ اس منصوبے سے وابستہ سرکاری محکمہ تھا۔

    یہ پل اور اس سے منسلک تقریباً 25 کلومیٹر طویل سڑک فروری 2017 میں ٹریفک کے لیے کھول دی گئی۔ اس منصوبے کا مقصد دریائے سندھ کے دونوں اطراف آمدورفت کو آسان بنانا اور علاقے کے لوگوں کو بہتر سفری سہولت فراہم کرنا تھا۔ 

    تاہم، منصوبے کے مالی ڈھانچے، سرکاری ادائیگیوں اور نجی شراکت دار کی سرمایہ کاری کی مکمل تفصیلات کا جائزہ لیے بغیر اس کی مجموعی مالی لاگت اور حکومت پر پڑنے والے بوجھ کا حتمی تعین نہیں کیا جا سکتا۔

    اسی طرح تھر میں کوئلے کے منصوبوں کی معاونت کے لیے بھی کئی منصوبے سرکاری و نجی شراکت داری کے تحت مکمل کیے گئے ہیں، جن میں مائی بختاور انٹرنیشنل ایئرپورٹ بھی شامل ہے۔

    حکومتی ذرائع کے مطابق، جامشورو اور مٹیاری میں دریائی جنگلات کی بحالی کا ایک بڑا منصوبہ پی پی پی کے تحت جاری ہے، جس کی تخمینہ شدہ لاگت 32 ارب روپے ہے۔

    اس منصوبے کا مقصد 35 ہزار ہیکٹر رقبے پر دریائی جنگلات بحال کرنا، گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں کمی لانا اور کاربن کریڈٹ کے ذریعے آمدنی کے امکانات پیدا کرنا ہے۔ اگر منصوبے پر مؤثر انداز میں عمل درآمد ہوتا ہے تو اس سے ماحولیاتی تحفظ اور موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔

     اس کے ساتھ ساتھ صوبائی حکومت کاربن کریڈٹ سے آمدنی بھی حاصل کر سکتی ہے، تاہم اس کا انحصار منصوبے کے نتائج اور کاربن کریڈٹ کے متعلقہ ضوابط پر ہوگا۔

    گھوٹکی۔ کندھ کوٹ پل کا منصوبہ شمالی سندھ کی معاشی اور معاشرتی ترقی کے لیے اہمیت کا حامل ہے۔ اس منصوبے کی کل لاگت 46 ارب 13 کروڑ روپے درج ہے۔ اس کے تحت دریائے سندھ پر پل اور رابطہ سڑکیں تعمیر کی جائیں گی۔ اس کی تکمیل سے دونوں علاقوں کے درمیان سفر کا فاصلہ کم ہونے اور بالائی سندھ میں تجارتی سرگرمیوں کو فروغ ملنے کی توقع ہے۔

    تاہم، اس کے حقیقی فوائد کا انحصار تعمیراتی معیار، لاگت پر قابو، بروقت تکمیل اور عوام کے لیے سفری سہولتوں پر ہوگا۔

    صحت، تعلیم، پانی اور ٹرانسپورٹ کے منصوبے

    صحت اور تعلیم کے شعبوں میں بھی سرکاری و نجی شراکت داری کے متعدد منصوبے موجود ہیں۔ ان میں کراچی کے بچوں کے اسپتال، بدین کے ڈاکٹر سکندر علی مندھرو سول اسپتال، علاقائی خون مراکز اور سرکاری اسکولوں کے انتظام میں نجی اداروں کی شرکت شامل ہے۔

    نجی شعبے کو ان خدمات کے انتظام میں شریک کرنے سے سہولتوں کا معیار بہتر بنانے میں مدد مل سکتی ہے، لیکن حکومت کی ذمہ داری صرف انتظامی اختیارات نجی اداروں کو سونپنے تک محدود نہیں ہونی چاہیے۔ اسے علاج کے معیار، اسکولوں میں تعلیم، خدمات کی دستیابی اور غریب خاندانوں کے لیے ان سہولتوں کے حصول میں استطاعت کو بھی مدنظر رکھنا ہوگا۔ بالخصوص صحت اور تعلیم جیسے بنیادی شعبوں میں عوامی مفاد کو مالی منافع پر ترجیح دینا ضروری ہے۔

    پانی کی قلت اور نکاسی آب کے مسائل سے دوچار کراچی سمیت سندھ کے دیگر شہروں کے لیے بھی کئی منصوبے تجویز کیے گئے ہیں۔ ان میں کراچی کے لیے سمندری پانی صاف کرنے کا پلانٹ شامل ہے، جس کی مجوزہ گنجائش روزانہ 50 لاکھ گیلن ہے۔ اس کے علاوہ سکھر میں پانی کی فراہمی کے نظام کو بہتر بنانے اور کراچی میں گندے پانی کو صاف کرکے دوبارہ استعمال کرنے کے منصوبے بھی شامل ہیں۔

    ان منصوبوں کی تکمیل سے پینے کے صاف پانی کی فراہمی بہتر بنانے اور پانی کے ضیاع میں کمی لانے میں مدد مل سکتی ہے۔ تاہم، ان کے لیے سرمایہ کاری کے انتظام، پانی کی قیمت، بجلی کے اخراجات اور طویل مدتی دیکھ بھال کے معاملات پہلے سے واضح کرنا ہوں گے تاکہ شہریوں پر ناقابلِ برداشت مالی بوجھ نہ پڑے۔

    ٹرانسپورٹ کے شعبے میں کراچی اور حیدرآباد کے لیے 500 بجلی سے چلنے والی بسوں کی فراہمی کا منصوبہ بھی شامل ہے۔ حکومتی ذرائع کے مطابق، ان میں کراچی کے لیے 450 اور حیدرآباد کے لیے 50 بسیں مختص کرنے کی تجویز ہے۔ 

    اس کے علاوہ کراچی کے یلو لائن بس منصوبے کے لیے بسوں کی فراہمی، ان کے آپریشن اور دیکھ بھال سے متعلق منصوبہ بھی درج ہے۔ برقی بسیں شہری آلودگی کم کرنے میں مدد دے سکتی ہیں، لیکن اس مقصد کے حصول کے لیے قابلِ اعتماد خدمات، مناسب راستے، باقاعدہ دیکھ بھال اور عام شہریوں کی پہنچ میں کرائے ضروری ہیں۔

    سندھ حکومت کے کئی دوسرے منصوبے فزیبلٹی کے مرحلے میں ہیں۔ ان میں صنعتی مراکز، فنی تربیت کے اداروں کا انتظام نجی شعبے کے حوالے کرنا، غیر رسمی تعلیم کا فروغ، اسکولوں میں شمسی توانائی کی تنصیب، مویشیوں کے جدید فارم اور گاڑیوں کی فٹنس جانچ کے مراکز شامل ہیں۔ اسی طرح فطرت پر مبنی سیاحت، سکھر۔ روہڑی پل، پلازما سے ادویات تیار کرنے کی سہولت اور اساتذہ کی تربیت کے ادارے سے متعلق منصوبے بھی ابتدائی طور پر منظور شدہ تصورات کی فہرست میں شامل ہیں۔

    شفاف معاہدے اور عوامی جواب دہی ناگزیر

    کسی منصوبے کا اعلان ہونا اس بات کی ضمانت نہیں کہ اس کی تعمیر شروع ہو چکی ہے، اس کے لیے مکمل مالی وسائل دستیاب ہیں یا کسی نجی سرمایہ کار کے ساتھ حتمی معاہدہ طے پا چکا ہے۔ فزیبلٹی کی تیاری، ابتدائی منظوری، سرمایہ کاروں سے پیشکشیں طلب کرنا، تعمیر اور منصوبے کا فعال ہونا الگ الگ مراحل ہیں۔ اس لیے ہر منصوبے کی موجودہ حیثیت اور پیش رفت کی تصدیق ضروری ہے۔

    سندھ میں پی پی پی منصوبوں کی کامیابی کے لیے ضروری ہے کہ حکومت ہر منصوبے کی مجموعی لاگت، نجی سرمایہ کار کی ذمہ داریوں، سرکاری ضمانتوں، ممکنہ سبسڈی، صارفین سے وصول کیے جانے والے معاوضوں اور معاہدے کی مدت کی تفصیلات واضح کرے۔ 

    منصوبوں کے لیے بولی کے عمل اور معاہدوں کی اہم شرائط عوام کے سامنے لائی جائیں اور آزادانہ نگرانی کا مؤثر نظام قائم کیا جائے۔ تمام مراحل شفاف انداز میں مکمل کرنا لازمی ہے۔

    اگر کسی منصوبے میں حکومت نے مستقبل میں ادائیگیوں کی ضمانت دی ہے تو ان ذمہ داریوں کو بھی مالی منصوبہ بندی میں شامل کرنا چاہیے۔ اسی طرح منصوبوں کے انتخاب میں صرف سرمایہ کاری کی دستیابی کو بنیاد بنانے کے بجائے یہ دیکھنا ضروری ہے کہ آیا متعلقہ منصوبہ عوام کی حقیقی ضرورت پوری کرتا ہے اور کیا اسے روایتی سرکاری طریقۂ کار کے تحت مکمل کرنا زیادہ مناسب ہوگا۔

    اس کے علاوہ، تمام سرکاری منصوبوں، خاص طور پر پی پی پی کے تحت تعمیر ہونے والے منصوبوں کے آغاز سے پہلے ان کے ماحول پر ممکنہ اثرات کا جائزہ لینا بھی ضروری ہے۔ متعلقہ قوانین کے تحت جہاں ماحولیاتی اثرات کا جائزہ (ای آئی اے) لازم ہو، وہاں اسے مستند ادارے سے کرانا اور اس کے نتائج کو منصوبہ بندی میں شامل کرنا چاہیے۔

    نجی شعبے کی سرمایہ کاری سندھ میں بنیادی سہولتوں کی بہتری کا اہم ذریعہ بن سکتی ہے، لیکن اس کے لیے شفاف معاہدے، درست منصوبہ بندی اور عوامی جواب دہی ناگزیر ہیں۔ اگر آج کے ترقیاتی اخراجات کو کم ظاہر کرنے کے لیے مستقبل کی مالی ذمہ داریوں کو نظرانداز کیا گیا تو اس کی قیمت آنے والے برسوں میں حکومت اور عوام دونوں کو ادا کرنا پڑ سکتی ہے۔

    ترقی کی کامیابی کا اصل معیار منصوبوں کی تعداد یا ان پر خرچ ہونے والی رقم نہیں، بلکہ ان کے ذریعے عوام کو ملنے والی بہتر، قابلِ اعتماد اور سستی سہولتیں ہیں۔ سرکاری و نجی شراکت داری اسی وقت مفید ثابت ہو سکتی ہے جب اس سے حکومت کے وسائل کا بہتر استعمال ہو، مالی خطرات قابو میں رہیں اور عوام کو طویل مدت تک اس کے فوائد حاصل ہوں۔

  • سندھ میں پینے کے پانی کا بحران سنگین، غیر مؤثر حکومتی پالیسیوں کے باعث عوام مشکلات کا شکار

    سندھ میں پینے کے پانی کا بحران سنگین، غیر مؤثر حکومتی پالیسیوں کے باعث عوام مشکلات کا شکار

    پانی کے ماہرین، ماحولیاتی ماہرین، انسانی حقوق اور اقلیتی حقوق کے کارکنوں اور سرکاری حکام نے سندھ کی پوری آبادی کو صاف اور محفوظ پینے کا پانی فراہم کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ صاف پانی تک رسائی ہر انسان کا بنیادی حق ہے، لیکن حکومتی پالیسیوں اور انتظامی خامیوں کے باعث سندھ کے عوام آلودہ پانی، قلت اور پینے کے صاف پانی کی ناکافی فراہمی جیسے مسائل کا سامنا کر رہے ہیں۔

    پانی اور انسانی حقوق کے موضوع پر منعقدہ مشاورتی اجلاس میں کہی گئی۔ اجلاس کا اہتمام قومی کمیشن برائے انسانی حقوق (این سی ایچ آر) نے اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام (یو این ڈی پی) اور یورپی یونین کے اشتراک سے کیا۔ اس میں قومی کمیشن برائے حقوق اطفال اور قومی کمیشن برائے وقارِ نسواں نے بھی تعاون کیا۔

    اجلاس سے قومی کمیشن برائے انسانی حقوق کی چیئرپرسن رابعہ جویری آغا، کمیشن میں تحقیق اور معلومات کی تیاری کی سربراہ زویا رحمان، قومی کمیشن برائے حقوق اطفال کی پروگرام سربراہ ماہَم آفریدی اور ماحولیاتی صحافی عافیہ سلام نے خطاب کیا۔

    اجلاس میں محکمہ جنگلات کے چیف کنزرویٹر ریاض احمد وگن، محکمہ آبپاشی اور سندھ ماحولیاتی تحفظ ایجنسی کے نمائندوں سمیت سول سوسائٹی کے کارکنوں، محققین اور پانی کے ماہرین نے شرکت کی۔

    اجلاس کو بتایا گیا کہ یہ مشاورتی اجلاس پاکستان میں پانی اور انسانی حقوق کے حوالے سے قومی کمیشن برائے انسانی حقوق کے وسیع تر عمل کا حصہ ہے۔ اس سلسلے میں ملک کے مختلف صوبوں اور اسلام آباد میں مشاورت کی جا رہی ہے۔ ان اجلاسوں سے حاصل ہونے والی معلومات کی بنیاد پر ایک جامع قومی رپورٹ تیار کی جائے گی، جس میں انسانی حقوق سے متعلق اہم مسائل، ادارہ جاتی خامیوں اور ان کے حل کے لیے تجاویز شامل ہوں گی۔

    اجلاس میں سندھ میں پانی کی قلت اور غیر منصفانہ تقسیم کے اثرات پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔ شرکا نے دریائے سندھ میں کوٹری بیراج کے نیچے میٹھے پانی کے بہاؤ میں کمی، ساحلی علاقوں میں سمندری پانی کی پیش قدمی اور زمین میں نمکیات کی مقدار بڑھنے کے مسائل پر تشویش ظاہر کی۔ ان مسائل سے ماہی گیری، زراعت، مینگرووز کے جنگلات اور ساحلی آبادیوں کے روزگار کو پہنچنے والے نقصانات بھی زیرِ بحث آئے۔

    شرکا نے کہا کہ پانی کی غیر منصفانہ تقسیم کے باعث نہری نظام کے آخری سرے پر واقع علاقوں کے کسانوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ نہروں کے ابتدائی حصوں میں پانی کی دستیابی اور آخری حصوں تک پانی کی رسائی کے درمیان فرق چھوٹے کسانوں اور ہاریوں کے لیے سنگین مسائل پیدا کرتا ہے۔ پانی کی کمی، زمین میں سیم و تھور اور زرعی پیداوار متاثر ہونے سے دیہی آبادی کے روزگار اور غذائی تحفظ کو بھی خطرات لاحق ہوتے ہیں۔

    اجلاس میں کراچی میں پانی کی فراہمی اور تقسیم کے مسائل بھی زیرِ بحث آئے۔ شرکا نے شہر میں پانی کی بڑی پائپ لائنوں سے محلوں تک فراہمی، پانی کے ٹینکروں پر بڑھتے ہوئے انحصار اور پانی کی قیمتوں کے باعث پیدا ہونے والی مشکلات کا جائزہ لیا۔ غیر رسمی آبادیوں میں پینے کے پانی اور نکاسی آب کی سہولتوں کی کمی کو بھی اہم مسئلہ قرار دیا گیا۔

    تھرپارکر میں زیرِ زمین پانی کے بڑھتے ہوئے کھارے پن اور دیہی و شہری علاقوں میں پانی کے معیار سے متعلق مسائل پر بھی توجہ دی گئی۔ شرکا نے اس امر پر زور دیا کہ پانی کی فراہمی کے منصوبوں کے ساتھ اس کے معیار کو یقینی بنانا بھی ضروری ہے، تاکہ لوگوں کو ایسا پانی دستیاب ہو جو ان کی صحت کے لیے نقصان دہ نہ ہو۔

    اجلاس میں سیلاب اور خشک سالی کے دوران صاف پانی کی مسلسل فراہمی، تباہ شدہ آبی منصوبوں کی بحالی اور پانی کے معیار سے متعلق معلومات عوام تک پہنچانے کی ضرورت پر بھی بات ہوئی۔ شرکا کے مطابق پانی سے متعلق مسائل کے حل کے لیے سرکاری اداروں کے درمیان بہتر رابطہ، عوام کی شمولیت اور شکایات کے ازالے کا مؤثر نظام ضروری ہے۔

    اجلاس کے دوران قومی کمیشن برائے انسانی حقوق کی جانب سے پانی اور انسانی حقوق سے متعلق رپورٹ پیش کی گئی، جس کے بعد سینیئر ماحولیاتی صحافی عافیہ سلام کی زیرِ نگرانی مکالمہ ہوا۔

    اس موقع پر شرکا نے سندھ کے مختلف علاقوں کے تجربات اور شواہد کی روشنی میں موجودہ پالیسیوں اور ان پر عمل درآمد میں خامیوں کی نشاندہی کرتے ہوئے قابلِ عمل تجاویز پیش کرنے پر تبادلہ خیال کیا۔

    سول سوسائٹی کی جانب سے سیمی کمال، عمر کریم، ذوالفقار ہالیپوٹو، ناصر پنہور، زاہد فاروق، یاسر دریا، شجاع الدین قریشی، سعید بلوچ اور حفیظ بلوچ سمیت دیگر افراد نے سندھ میں پانی کی دستیابی، تقسیم اور معیار سے متعلق مسائل پر اپنے خیالات کا اظہار کیا۔

    شرکا نے اس ضرورت پر زور دیا کہ سندھ میں پانی کی فراہمی، معیار، رسائی اور قیمتوں سے متعلق مسائل کے حل کے لیے واضح ذمہ داریاں متعین کی جائیں اور سرکاری اداروں کے احتساب کو مؤثر بنایا جائے، تاکہ ہر شہری کو صاف اور محفوظ پینے کا پانی میسر آ سکے۔

  • ’پرسنل آبزرویشنز آن سندھ‘: 1843 میں شائع ہونے والی سندھ کی تاریخ، سماج، زراعت اور دریائے سندھ پر ایک اہم دستاویز

    ’پرسنل آبزرویشنز آن سندھ‘: 1843 میں شائع ہونے والی سندھ کی تاریخ، سماج، زراعت اور دریائے سندھ پر ایک اہم دستاویز

    تھامس پوسٹنز کی کتاب ’پرسنل آبزرویشنز آن سندھ‘ 1843 میں لندن سے شائع ہوئی۔ یہ کتاب انیسویں صدی کی سندھ کے بارے میں ایک اہم تاریخی ماخذ ہے، جس میں خطے کی تاریخ، جغرافیہ، زراعت، تجارت، دریائے سندھ، مقامی آبادی، سماجی رسوم و رواج اور سیاسی حالات کا احوال بیان کیا گیا ہے۔

    کتاب کے مصنف کیپٹن تھامس پوسٹنز برطانوی فوج میں افسر تھے۔ وہ سندھ اور بلوچستان میں برطانوی سیاسی ایجنٹ کے معاون کے طور پر بھی کام کر چکے تھے۔ اس سرکاری حیثیت کی وجہ سے انہیں سندھ کے حکمرانوں، مقامی آبادی، تجارتی سرگرمیوں اور سیاسی حالات کا مشاہدہ کرنے کے مواقع ملے۔

    اس کتاب کی اشاعت کا سال سندھ کی تاریخ میں خاص اہمیت رکھتا ہے۔ 1843 میں برطانوی فوجی مہم کے نتیجے میں ٹالپر حکمرانوں کی حکومت ختم ہوئی اور سندھ برطانوی قبضے میں چلا گیا۔ اس لیے یہ کتاب ایسے دور کی تصویر پیش کرتی ہے جب سندھ کا سیاسی، انتظامی اور معاشی نظام ایک بڑی تبدیلی سے گزر رہا تھا۔

    کتاب کا مکمل عنوان واضح کرتا ہے کہ مصنف نے سندھ کے باشندوں کے رہن سہن، رسم و رواج، زمین کی پیداواری صلاحیت، تاریخ، حالیہ سیاسی واقعات اور برطانوی حکومت کے ساتھ سندھ کے تعلقات کو اپنے مطالعے کا موضوع بنایا۔

    سندھ کی جغرافیائی اور قدرتی صورتحال

    کتاب میں سندھ کی جغرافیائی ساخت، زمین، قدرتی ماحول اور دریائے سندھ کی اہمیت پر گفتگو کی گئی ہے۔ مصنف نے دریا کے بہاؤ، اس کے کناروں، مقامی آبادیوں اور زرعی سرگرمیوں کے درمیان تعلق کو بیان کیا ہے۔

    انیسویں صدی میں سندھ کی زراعت، آمدورفت اور روزگار کا بڑا حصہ دریائے سندھ سے وابستہ تھا۔ دریا کا پانی، موسمی سیلاب، زمین کی زرخیزی اور مقامی آبپاشی کے طریقے لوگوں کی زندگی پر براہ راست اثر انداز ہوتے تھے۔ پوسٹنز کے مشاہدات ان حالات کو سمجھنے کے لیے اہم تاریخی مواد فراہم کرتے ہیں۔

    آج بھی اس کتاب کے جغرافیائی اور ماحولیاتی بیانات کی مدد سے دریائے سندھ کے تاریخی کردار، قدیم آبادیوں، زرعی نظام اور زمین کے استعمال پر تحقیق کی جا سکتی ہے۔ تاہم، ان مشاہدات کو جدید سائنسی تحقیق کا متبادل نہیں سمجھنا چاہیے، بلکہ انہیں دوسرے تاریخی اور سائنسی شواہد کے ساتھ ملا کر دیکھنا چاہیے۔

    سندھ کے باشندے اور سماجی زندگی

    پوسٹنز نے سندھ کی آبادی اور مختلف سماجی گروہوں کے بارے میں بھی لکھا ہے۔ کتاب میں مسلمان آبادی، سندھ میں آباد افغانوں اور ایرانیوں، کسانوں، مقامی سرداروں اور دیگر گروہوں کا ذکر ملتا ہے۔ اس کے علاوہ لوری یا بلوچ بھاٹوں اور گویوں سے متعلق مواد بھی کتاب کے موضوعات میں شامل ہے۔

    یہ تفصیلات اس دور کے سندھ کی سماجی ساخت کو سمجھنے کے لیے اہم ہیں۔ ان سے یہ جاننے میں مدد مل سکتی ہے کہ مختلف برادریاں زراعت، تجارت، حکمرانی اور مقامی معاشرت میں کیا کردار ادا کرتی تھیں۔

    تاہم، مصنف کی جانب سے استعمال کی گئی سماجی درجہ بندی کو احتیاط سے پڑھنا ضروری ہے۔ وہ برطانوی نوآبادیاتی دور کے نمائندے تھے، اس لیے ان کی اصطلاحات اور تشریحات لازمی طور پر مقامی لوگوں کی اپنی شناخت اور سماجی تصورات کی مکمل نمائندگی نہیں کرتیں۔

    زراعت، فصلیں اور زمین کی پیداوار

    کتاب میں سندھ کی زرعی معیشت اور قدرتی وسائل پر خاص توجہ دی گئی ہے۔ مصنف نے زمین کی پیداواری صلاحیت، مختلف فصلوں، درختوں، لکڑی اور دیگر وسائل کا ذکر کیا ہے۔

    کتاب کے بارے میں سندھی انسائیکلوپیڈیا کی معلومات کے مطابق، پوسٹنز نے جنوبی سندھ میں چاول کی کاشت اور اس کی پیداوار کا ذکر کیا ہے۔ انہوں نے شمالی سندھ میں گندم اور جوار جیسی فصلوں کی اہمیت پر بھی بات کی ہے۔

    یہ معلومات اس لیے اہم ہیں کہ سندھ کے مختلف علاقوں میں زرعی حالات یکساں نہیں رہے۔ پانی کی دستیابی، زمین کی نوعیت، موسم اور آبپاشی کے طریقوں نے فصلوں کی کاشت اور پیداوار کو متاثر کیا۔

    پوسٹنز کی تحریر سے یہ بھی اندازہ ہوتا ہے کہ برطانوی حکام سندھ کی زمین اور قدرتی وسائل کو معاشی نقطۂ نظر سے دیکھتے تھے۔ ان کی دلچسپی صرف مقامی زراعت کے مطالعے تک محدود نہیں تھی، بلکہ زمین کی پیداوار بڑھانے، محصولات حاصل کرنے اور تجارتی مواقع تلاش کرنے سے بھی وابستہ تھی۔

    دریائے سندھ، مقامی کشتیاں اور ماہی گیری

    دریائے سندھ اس کتاب کے اہم موضوعات میں شامل ہے۔ پوسٹنز نے دریا کی قدرتی صورتحال، مقامی کشتیوں، سفر کے دورانیے، ہواؤں کے اثرات اور آبی راستوں پر گفتگو کی ہے۔ مچھلیوں اور دیگر جانوروں کا ذکر بھی ان کے مشاہدات میں شامل ہے۔

    یہ معلومات ظاہر کرتی ہیں کہ اس زمانے میں دریائے سندھ محض پانی کا ذریعہ نہیں تھا، بلکہ آمدورفت، تجارت، ماہی گیری اور روزگار کا ایک اہم وسیلہ بھی تھا۔ مقامی کشتیاں مختلف بستیوں کو آپس میں ملاتی تھیں اور سامان کی نقل و حمل میں کردار ادا کرتی تھیں۔

    کتاب میں کشتیوں اور دریائی سفر سے متعلق تفصیلات جدید سڑکوں اور ریلوے کے قیام سے پہلے سندھ کے سفری اور تجارتی نظام کو سمجھنے میں مدد دیتی ہیں۔

    اسی طرح مچھلیوں اور دیگر جانداروں کے بارے میں مصنف کے مشاہدات تاریخی ماحولیاتی تحقیق کے لیے ابتدائی مواد فراہم کرتے ہیں۔ تاہم، ان بیانات کی بنیاد پر کسی نوع کی سابقہ آبادی یا دریا کے ماحولیاتی نظام میں تبدیلی کے بارے میں حتمی نتیجہ اخذ کرنے کے لیے مزید شواہد درکار ہوں گے۔

    کلہوڑا اور ٹالپر حکمرانوں کی تاریخ

    پوسٹنز نے سندھ کی سیاسی تاریخ پر بھی روشنی ڈالی ہے۔ کتاب میں قدیم تاریخ، سکندر اعظم کی مہم، کلہوڑا حکمرانوں اور ٹالپر خاندان کے عروج سے متعلق موضوعات شامل ہیں۔ مصنف نے کلہوڑا اقتدار کے قیام اور عبداللہ خان ٹالپر کا ذکر بھی کیا ہے۔

    یہ تاریخی مواد اس لیے اہم ہے کہ کتاب اس وقت شائع ہوئی جب سندھ میں اقتدار کا نظام بنیادی تبدیلی سے گزر رہا تھا۔ ٹالپر حکمرانوں کی شکست کے بعد سندھ پر برطانوی قبضہ قائم ہوا اور اس کے سیاسی و انتظامی ڈھانچے میں تبدیلیاں آئیں۔

    پوسٹنز کی تحریر سے سندھ کے حکمران خاندانوں، سیاسی تعلقات اور حکمرانی کے نظام کے بارے میں معلومات حاصل کی جا سکتی ہیں۔ تاہم، ان کے تاریخی بیانات کو سندھی روایات، فارسی تواریخ، کتبوں اور دوسرے ہم عصر تاریخی ذرائع کے ساتھ ملا کر پڑھنا ضروری ہے۔

    خصوصاً ان واقعات کے بارے میں احتیاط ضروری ہے جنہیں برطانوی مداخلت کے جواز کے طور پر پیش کیا گیا، کیونکہ مصنف کا تعلق اسی فوجی اور سیاسی نظام سے تھا جس نے سندھ پر قبضہ کیا۔

    جاگیرداری نظام اور حکومتی محصولات

    کتاب میں سندھ کے حکومتی نظام، جاگیروں اور زمین سے حاصل ہونے والی آمدنی پر بھی بحث کی گئی ہے۔

    جاگیر عام طور پر زمین کی آمدنی یا اس سے متعلق حقوق کی ایسی صورت تھی جو کسی شخص یا خاندان کو مخصوص ذمہ داریوں کے عوض دی جاتی تھی۔ اس نظام کی نوعیت مختلف ادوار اور علاقوں میں مختلف ہو سکتی تھی۔

    پوسٹنز کے بیان سے حکمرانوں، مقامی سرداروں، زمین داروں اور محصول وصول کرنے والوں کے درمیان تعلقات کو سمجھنے میں مدد ملتی ہے۔ اس دور میں زمین سے حاصل ہونے والی آمدنی سیاسی طاقت اور مقامی سماجی نظام سے گہرا تعلق رکھتی تھی۔

    سندھی انسائیکلوپیڈیا میں پوسٹنز کے حوالے سے زمین سے محصولات وصول کرنے اور سندھ کی سالانہ سرکاری آمدنی 80 لاکھ روپے بتائے جانے کا ذکر بھی ملتا ہے۔

    تجارت اور برطانوی مفادات

    پوسٹنز نے سندھ کی تجارت اور برطانوی حکومت کے تجارتی مفادات پر بھی گفتگو کی ہے۔ کتاب میں سندھ کی تجارت کی اہمیت سے متعلق ایک الگ حصہ شامل ہے۔

    سندھ کی جغرافیائی حیثیت نے اسے دریائی اور زمینی تجارتی راستوں کے ذریعے مختلف علاقوں سے منسلک کیا۔ مقامی منڈیاں، دریائی آمدورفت اور بیرونی علاقوں سے رابطے اس کی معاشی زندگی کا حصہ تھے۔

    کتاب کے تجارتی بیانات سے اس دور کی اقتصادی سرگرمیوں کو سمجھنے میں مدد ملتی ہے، لیکن ان کا مطالعہ کرتے وقت یہ سوال بھی اہم ہے کہ مصنف موجودہ تجارتی نظام کی وضاحت کر رہا تھا یا برطانوی تجارت کے لیے نئے امکانات تلاش کر رہا تھا۔

    چونکہ پوسٹنز برطانوی فوج اور سیاسی انتظامیہ سے وابستہ تھے، اس لیے ان کی تحریر میں مقامی معیشت کے مشاہدات کے ساتھ برطانوی مفادات کی جھلک بھی موجود ہو سکتی ہے۔

    برطانوی فوجی مہم اور سندھ پر قبضہ

    کتاب کا ایک اہم حصہ سندھ اور برطانوی حکومت کے تعلقات سے متعلق ہے۔ اس میں سندھ کے ساتھ برطانوی تعلقات کی ابتدا، برطانوی حکومت کو حاصل مراعات، 1838 کی کابل مہم، سندھ میں بمبئی فوج کی آمد، سیاسی معلومات جمع کرنے اور دوآبے کی جنگ سے متعلق موضوعات شامل ہیں۔

    ان موضوعات سے سندھ پر برطانوی مداخلت کے پس منظر کو سمجھنے میں مدد ملتی ہے۔ اس دور میں افغانستان سے متعلق برطانوی پالیسی اور خطے میں اپنے اثرورسوخ کو بڑھانے کی خواہش نے سندھ کی جغرافیائی حیثیت کو مزید اہم بنا دیا تھا۔

    پوسٹنز کی تحریر سے معلوم ہوتا ہے کہ برطانوی حکام سندھ کے سیاسی حالات اور مقامی حکمرانوں کے ساتھ تعلقات کو کس نظر سے دیکھتے تھے۔ لیکن ان کے بیان کو سندھ کی فتح کی مکمل اور غیر جانب دار تاریخ نہیں سمجھنا چاہیے۔

    مصنف خود برطانوی فوجی اور سیاسی نظام کا حصہ تھا۔ اس لیے برطانوی مداخلت کے اسباب، فوجی کارروائیوں اور ان کے نتائج سے متعلق اس کے بیانات کو دوسرے تاریخی ذرائع کے ساتھ جانچنا ضروری ہے، خصوصاً ان ذرائع کے ساتھ جو سندھ کے مقامی نقطۂ نظر کی نمائندگی کرتے ہیں۔

    کتاب میں شامل تاریخی تصاویر

    کتاب کی ایک اہم خصوصیت اس میں شامل تصاویر بھی ہیں۔ سندھی انسائیکلوپیڈیا کی معلومات کے مطابق، ان میں سندھی خواتین، پلو مچھلی پکڑنے والے مچھیرے، اونٹ پر سوار بلوچ شخص، سندھی کسان، دریائے سندھ کی کشتیاں، دریائے سندھ سے سکھر یا سیہون کے مناظر سے متعلق تصاویر، حقہ، کنویں سے پانی نکالنے کے لیے اونٹ کے استعمال، موسیقی کے سازوں اور ہتھیاروں کی تصاویر شامل ہیں۔

    یہ تصویری مواد انیسویں صدی میں سندھ کے لوگوں، لباس، پیشوں، آلات اور روزمرہ زندگی کی اس دور میں پیش کی جانے والی نمائندگی کو سمجھنے میں مدد دیتا ہے۔

    خصوصاً زراعت، ماہی گیری، پانی نکالنے کے روایتی طریقوں اور دریائی آمدورفت پر تحقیق کرنے والوں کے لیے یہ تصاویر دلچسپی کا باعث ہو سکتی ہیں۔

    تاہم، ان تصاویر کو عکاسی یا مصوری کے ذریعے بنائی گئی تاریخی نمائندگی سمجھنا چاہیے۔

    کتاب کی تاریخی اہمیت

    ’پرسنل آبزرویشنز آن سندھ‘کی سب سے بڑی اہمیت یہ ہے کہ یہ سندھ کی تاریخ، سماج، معیشت، زراعت، تجارت، دریائے سندھ اور سیاسی حالات کو ایک ہی جگہ جمع کرتی ہے۔

    یہ کتاب انیسویں صدی کے سندھ کے بارے میں تحقیق کرنے والے تاریخ دانوں، صحافیوں، ماہرین ماحولیات اور سماجی محققین کے لیے ایک اہم ابتدائی ماخذ ہے۔ اس میں موجود تفصیلات سے مزید سوالات اٹھائے جا سکتے ہیں اور دوسرے تاریخی شواہد کی مدد سے ان کی جانچ کی جا سکتی ہے۔

    تاہم، کتاب کی حدود کو نظرانداز نہیں کرنا چاہیے۔ پوسٹنز نے سندھ کو ایک برطانوی فوجی افسر اور سیاسی اہلکار کی حیثیت سے دیکھا۔ اس لیے ان کے مشاہدات میں اس دور کے نوآبادیاتی مفادات، سیاسی ترجیحات اور سماجی تصورات کا اثر موجود ہو سکتا ہے۔

    اس کتاب کو نہ تو مکمل طور پر مسترد کرنا چاہیے اور نہ ہی اس کے ہر بیان کو بلا تحقیق درست تسلیم کرنا چاہیے۔ اس کی اصل تاریخی افادیت اس وقت بڑھتی ہے جب اس کے بیانات کو مقامی تاریخی روایات، فارسی تواریخ، سرکاری دستاویزات، کتبوں اور دیگر ہم عصر ذرائع کے ساتھ ملا کر پڑھا جائے۔

    مجموعی طور پر، تھامس پوسٹنز کی یہ کتاب 1843 کے سندھ کو سمجھنے کے لیے ایک اہم تاریخی دستاویز ہے۔ یہ ہمیں اس دور کی زمین، دریا، زراعت، تجارت، سماجی زندگی اور سیاسی تبدیلیوں کے بارے میں ایک برطانوی افسر کے مشاہدات فراہم کرتی ہے۔ اس کی اہمیت صرف ماضی کی معلومات میں نہیں، بلکہ اس موقع میں بھی ہے کہ ہم ان مشاہدات کو دوسرے شواہد کے ساتھ پرکھیں اور سندھ کی تاریخ کو زیادہ جامع اور متوازن انداز میں سمجھنے کی کوشش کریں۔

  • 17 اکتوبر 1984 کا ٹوڑھی پھاٹک سانحہ: مکمل تاریخ اور پس منظر

    17 اکتوبر 1984 کا ٹوڑھی پھاٹک سانحہ: مکمل تاریخ اور پس منظر

    1983 کی ایم آر ڈی تحریک سے کوئی اتفاق کرتا ہو یا نہ کرتا ہو، لیکن اس تحریک میں سندھ کے لوگوں کے تاریخی غصے اور جدوجہد نے نہ صرف فوجی آمر ضیا الحق کی نیندیں حرام کر دی تھیں بلکہ عالمی سطح پر سندھ کی مزاحمت کی ایک نئی شکل بھی سامنے آئی۔

    ایم آر ڈی تحریک کے خاتمے کے بعد فوجی آمر ضیا الحق نے سندھی عوام سے بدلہ لینے کے لیے سندھ کے کور کمانڈر اور زون سی کے مارشل لا ایڈمنسٹریٹر لیفٹیننٹ جنرل ایس ایم عباسی کو ہٹا کر لیفٹیننٹ جنرل جہانداد خان کو پانچویں کور کا کمانڈر اور سندھ کا مارشل لا ایڈمنسٹریٹر مقرر کر دیا۔

    اس کے کچھ عرصے بعد سندھ کے تعلیمی اداروں میں ایک سازش کے تحت طلبہ تنظیموں کے درمیان خونی لڑائیوں کا سلسلہ شروع کروا دیا گیا۔

    1983 میں شفیع محمد کرنانی جساف کے مرکزی صدر تھے۔ تاہم 1984 میں جب شفیع کرنانی کی جگہ گل محمد جکھرانی جساف کے صدر بنے تو ان کی صدارت کا دور پورے سندھ میں، خاص طور پر سندھ یونیورسٹی، ایل ایم سی جامشورو، سپیریئر سائنس کالج خیرپور، ٹیکنیکل کالج خیرپور، لطیف یونیورسٹی خیرپور، قائد عوام انجینئرنگ یونیورسٹی نواب شاہ، چانڈکا میڈیکل کالج اور ڈگری کالج لاڑکانہ میں طلبہ تنظیموں کے درمیان مسلح جھڑپوں کا دور ثابت ہوا۔

    کراچی میں 14 اگست 1984 کو سندھ میڈیکل کالج (ایس ایم سی) کے ہاسٹل میں ایک واقعہ پیش آیا۔ حکومتی ظلم و جبر کے خلاف جب سندھی طلبہ نے ہاسٹل پر سیاہ جھنڈے لہرائے تو ضیاء الحق کے حامی ایک غیر سندھی طلبہ تنظیم کے ارکان کو یہ بات پسند نہ آئی۔ 

    انہوں نے ایک منظم سازش کے تحت سندھی طلبہ پر حملہ کر دیا۔ اس حملے میں سندھی طالب علم حنیف میمن شہید ہو گئے۔

    اس کے بعد سندھی طلبہ کا گھیراؤ کیا گیا اور برما جیسرانی، ویرسی مل، اسلم پرویز اور بابر جمالی سمیت تقریباً ڈھائی سو طلبہ کو گرفتار کر لیا گیا۔ بعد میں زیادہ تر طلبہ کو رہا کر دیا گیا، لیکن برما جیسرانی، ویرسی مل، اسلم پرویز، بابر جمالی اور دیگر طلبہ کو لانڈھی جیل بھیج دیا گیا۔ یہ طلبہ طویل عرصے تک جیل میں رہے۔

    17 اکتوبر 1984 کو ٹوڑھی پھاٹک کے واقعے سے پہلے جساف، سپاف اور بی ایس او کے درمیان ہونے والی جھڑپوں میں چانڈکا میڈیکل کالج لاڑکانہ کے دو طالب علم میر اشتیاق تالپور اور روپ چند بھی مارے جا چکے تھے۔

    سپاف لاڑکانہ کے ضلعی صدر صفی اللہ جوکیو کو گولیاں مار کر شدید زخمی کر دیا گیا تھا۔ سندھ میں سپاف اور جساف کے درمیان شدید کشیدگی پائی جاتی تھی۔

    اسی دوران جساف کے کارکنوں نے چانڈکا میڈیکل کالج لاڑکانہ میں ’جشنِ لطیف‘ منانے کا اعلان کیا۔ ایک افواہ یہ بھی پھیل گئی کہ وہ سپاف کے کارکنوں سے لڑنے کے لیے آ رہے ہیں۔

    چناںچہ 17 اکتوبر 1984 کو سندھ یونیورسٹی جامشورو سے لاڑکانہ جانے کے لیے سندھ یونیورسٹی، مہران انجینئرنگ یونیورسٹی اور ایل ایم سی جامشورو کے تقریباً ڈیڑھ سو طلبہ بسوں میں سوار ہوئے۔ وہ جامشورو سے چانڈکا میڈیکل کالج لاڑکانہ جا رہے تھے۔

    جب یہ بسیں مانجھند اور کھانوٹ کے درمیان انڈس ہائی وے پر واقع ٹوڑھی پھاٹک کے پتھریلے اور ویران علاقے میں پہنچیں تو سکیورٹی فورسز نے بسوں پر فائرنگ کر دی۔

    اس فائرنگ کے نتیجے میں پانچ نوجوان شہید ہو گئے۔ ان میں عبدالمالک خشک، ذکریا میمن، امان اللہ وسطڑو، انور عباسی اور سندھ یونیورسٹی کی مرکزی کینٹین میں کام کرنے والے محنت کش مٹھو بلیدی شامل تھے۔

    اس واقعے میں کئی طلبہ زخمی ہوئے، جبکہ سو سے زیادہ طلبہ کو گرفتار کر لیا گیا۔

    فوجی حکومت نے سندھ کے محکمہ اطلاعات کے ذریعے ایک اعلامیہ جاری کیا۔ اس میں دعویٰ کیا گیا کہ حکومت کو مطلوب انتہائی خطرناک مجرموں اور سکیورٹی فورسز کے درمیان مقابلے کے بعد پانچ مجرم مارے گئے ہیں۔ 

    اعلامیے میں یہ بھی کہا گیا کہ مختلف جرائم میں مطلوب گل محمد جکھرانی اور ستار موریو کو ان کے گروہ سمیت گرفتار کر لیا گیا ہے۔

    اس واقعے کے خلاف پورا سندھ سراپا احتجاج بن گیا۔ سندھ کے کونے کونے میں مظاہرے کیے گئے۔ صوبے میں پہیہ جام کی تاریخی ہڑتال ہوئی۔ لاڑکانہ میں احتجاج کے دوران پولیس کی فائرنگ سے جساف کے کارکن زخمی ہوئے۔

    شدید احتجاج کے نتیجے میں گرفتار کیے گئے بیشتر طلبہ کو رہا کر دیا گیا۔ تاہم ٹوڑھی پھاٹک واقعے کا مقدمہ جیئے سندھ اسٹوڈنٹس فیڈریشن (جساف) کے رہنماؤں گل محمد جکھرانی، ڈاکٹر دودو مہیری، ستار موریو، عمرالدین زرداری، سکندر میرانی، اقبال عرف دریا خان تونیو، نظیر تونیو اور سلیمان جتوئی کے خلاف باقاعدہ طور پر مانجھند تھانے میں درج کیا گیا۔

    فوجی آمر ضیا الحق کی حکومت ٹوڑھی سانحے کے قیدیوں کے خلاف فوجی عدالت میں مقدمہ چلانا چاہتی تھی، لیکن سندھ میں شدید احتجاج کے بعد حکومت نے سندھ ہائی کورٹ کے جسٹس عبدالرزاق تھہیم کی سربراہی میں ایک عدالتی ٹریبونل قائم کیا۔ ٹریبونل کی ابتدائی سماعتیں حیدرآباد میں ہوئیں، جس کے بعد اس کی کارروائی کراچی میں جاری رہی۔

    مارچ 1985 میں غیر جماعتی انتخابات کے نتیجے میں محمد خان جونیجو ملک کے وزیراعظم منتخب ہوئے۔ ٹوڑھی مقدمے کے قیدیوں کی رہائی کے لیے قومی اسمبلی میں لیاقت علی خان جتوئی کے والد مرحوم عبدالحمید خان جتوئی، سائیں امداد محمد شاہ، قاضی شفیق مہیسَر، جنید سومرو اور سندھ سے تعلق رکھنے والے اسمبلی کے دیگر ارکان نے اہم کردار ادا کیا۔

    دسمبر 1985 میں ملک سے مارشل لا اٹھانے اور فوجی عدالتیں ختم کرنے کا اعلان کیا گیا۔

    ٹوڑھی پھاٹک مقدمے کے قیدی طلبہ گل محمد جکھرانی، دودو مہیری، ستار موریو، عمرالدین زرداری، سکندر میرانی، دریا خان اقبال تونیو، نظیر تونیو اور سلیمان جتوئی کے خلاف اسلحے، اغوا، توڑ پھوڑ اور دیگر الزامات کے تحت مختلف مقدمات درج کیے گئے تھے۔

    ان کے مقدمات کی سماعت جسٹس عبدالرزاق تھہیم کے ٹریبونل میں ہوتی رہی۔ اس دوران گل محمد جکھرانی نے ٹریبونل میں اپنا ایک تاریخی تحریری بیان جمع کرایا، جو بعد میں ’تاریخ ہمارے ساتھ انصاف کرے گی‘ کے عنوان سے کتابی صورت میں شائع ہوا۔

    ٹوڑھی پھاٹک مقدمے میں گرفتار طلبہ کی پیروی کرنے والے وکلا میں ماما یوسف لغاری، عبدالحفیظ پیرزادہ، مجیب پیرزادہ، حفیظ لاکھو، سابق سینیٹر مرحوم حسین شاہ راشدی، نورالدین سرکی، نعمت اللہ قریشی، چاچا حفیظ قریشی، نورالحق قریشی، اعجاز ہکڑو اور پرویز قریشی شامل تھے۔

     17  اگست 1988 کو فوجی آمر ضیاالحق ایک فضائی حادثے میں ہلاک ہو گئے۔ 16 نومبر 1988 کو ملک میں عام انتخابات ہوئے، جن میں پاکستان پیپلز پارٹی نے کامیابی حاصل کی۔ 2 دسمبر 1988 کو محترمہ بینظیر بھٹو ملک کی وزیراعظم بنیں۔

    مارچ 1989 میں بینظیر بھٹو کی حکومت کے دور میں ٹوڑھی سانحے کے تمام قیدی ضمانت پر رہا کر دیے گئے۔

    جیل سے رہائی کے بعد ٹوڑھی پھاٹک کے قیدیوں نے پورے سندھ کا دورہ کیا۔ ہر شہر میں ان کا شاندار استقبال کیا گیا۔

    بعد میں واقعے کی جگہ پر ٹوڑھی پھاٹک کے شہیدوں کی یاد میں ایک یادگار تعمیر کی گئی۔ تاہم اب یہ یادگار خستہ حالی کا شکار ہے۔

    ٹوڑھی پھاٹک مقدمے کے قیدیوں کا مختصر تعارف

     گل محمد جکھرانی

    گل محمد جکھرانی جساف کے کارکن سے ترقی کرتے ہوئے اس کے مرکزی صدر کے عہدے تک پہنچے۔ قوم پرست کارکن انہیں عزت کی نگاہ سے دیکھتے تھے۔ اس دور میں وہ بہت سے نوجوانوں کے لیے ایک مثالی شخصیت تھے۔

    ٹوڑھی پھاٹک مقدمے سے رہائی کے بعد انہوں نے جیئے سندھ سے علیحدگی اختیار کر لی اور ممتاز علی بھٹو کی سندھ نیشنل فرنٹ میں شامل ہو گئے۔ بعد میں انہوں نے اس جماعت سے بھی استعفیٰ دے دیا۔ 23 دسمبر 2007 کو انہوں نے نوڈیرو میں محترمہ بینظیر بھٹو سے ملاقات کی اور پیپلز پارٹی میں شامل ہو گئے۔ 

    بعد میں وہ پیپلز پارٹی کے ٹکٹ پر قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے۔ ان کا حلقہ کندھ کوٹ اور کشمور تھا۔ اس کے بعد وہ ضلع کونسل کندھ کوٹ اور کشمور کے چیئرمین کے ساتھ ساتھ پیپلز پارٹی ضلع کندھ کوٹ اور کشمور کے صدر بھی ہیں۔

    ستار موریو

    ستار موریو جساف کے کارکن سے ترقی کرتے ہوئے اس کے مرکزی رہنماؤں میں شامل ہوئے۔ انہوں نے اپنی زندگی کا ایک طویل عرصہ جیل اور روپوشی میں گزارا۔

    ٹوڑھی پھاٹک واقعے کے بعد انہوں نے جیئے سندھ سے علیحدگی اختیار کر لی اور علی حیدر شاہ کے ساتھ میر مرتضیٰ بھٹو کی جماعت میں شامل ہو گئے۔ میر مرتضیٰ بھٹو کی شہادت کے بعد انہوں نے آصف علی زرداری سے ملاقات کی اور پیپلز پارٹی میں شمولیت اختیار کر لی۔ 

    انہیں پیپلز پارٹی ضلع لاڑکانہ کا نائب صدر مقرر کیا گیا۔

    ستار موریو کچھ عرصہ بیمار رہنے کے بعد چھ ستمبر 2017 کو اس دنیا سے رخصت ہو گئے۔

    ڈاکٹر دودو مہیری

    ڈاکٹر دودو مہیری طویل عرصے تک جساف سے وابستہ رہے۔ ٹوڑھی پھاٹک واقعے کے بعد انہیں بھی قید کا سامنا کرنا پڑا۔ رہائی کے بعد وہ مختلف قوم پرست جماعتوں اور گروہوں سے وابستہ رہے۔

    انہیں خفیہ اداروں نے مبینہ طور پر اٹھایا اور طویل عرصے تک لاپتا رکھا۔ وہ اپنے سیاسی سفر کے دوران ڈاکٹر قادر مگسی اور سید جلال محمود شاہ کے ساتھ بھی وابستہ رہے۔ 

    2018 کے عام انتخابات کے دوران وہ پیپلز پارٹی میں شامل ہو گئے۔

    عمرالدین زرداری

    عمرالدین زرداری دادو کے قریب ککڑ کے علاقے میں واقع گاؤں سہراب زرداری کے رہنے والے تھے۔ وہ جساف کے سرگرم رہنما تھے اور مہران انجینئرنگ یونیورسٹی جامشورو میں مکینیکل انجینئرنگ کے آخری سال کے طالب علم تھے۔

    وہ پڑھے لکھے اور نظریاتی کارکن تھے۔ قوم پرست سیاست سے وابستہ ہونے کے ساتھ ساتھ سوشلزم کے بڑے حامی بھی تھے۔ جیل میں رہتے ہوئے بھی وہ لیکچروں اور تحریروں کے ذریعے اپنی جدوجہد جاری رکھتے تھے۔ وہ ٹوڑھی پھاٹک واقعے کے قیدیوں میں شامل تھے۔

    جیل سے رہائی کے بعد وہ کچھ عرصہ خاموش رہے۔ بعد میں ذاتی تعلقات کی بنیاد پر کچھ عرصے کے لیے آصف علی زرداری کے قریب بھی رہے، لیکن انہوں نے نہ کوئی مالی فائدہ حاصل کیا اور نہ ہی پیپلز پارٹی میں شمولیت اختیار کی۔

    زندگی کے آخری حصے میں وہ شدید بیمار ہو گئے اور اپنے گاؤں میں گوشہ نشینی کی زندگی گزارنے لگے۔ بالآخر مئی 2018 میں ان کا انتقال ہو گیا۔

    نظیر تونیو

    نظیر تونیو آج بھی سائیں جی ایم سید کے نظریے سے وابستہ ہیں، تاہم وہ عملی سیاست میں سرگرم نہیں ہیں۔ وہ اپنے شہر قمبر کے شہری اتحاد کے سرگرم رہنما ہیں اور سماجی و فلاحی کاموں میں حصہ لیتے ہیں۔

    سکندر میرانی

    سکندر میرانی لاڑکانہ کے بہار پور محلے کے رہائشی ہیں۔ انہوں نے اپنی جوانی کا بیشتر حصہ جساف کے ساتھ گزارا۔ رہائی کے بعد وہ کچھ عرصے تک سیاسی طور پر سرگرم رہے، لیکن اب زیادہ فعال نہیں ہیں۔ تاہم وہ آج بھی سائیں جی ایم سید کے نظریے سے وابستہ ہیں۔

    اقبال تونیو عرف دریا خان

    اقبال تونیو، جنہیں دریا خان کے نام سے بھی جانا جاتا تھا، جساف کے سرگرم رہنما تھے۔ ٹوڑھی پھاٹک مقدمے سے رہائی کے بعد وہ کافی عرصے تک سیاسی طور پر سرگرم رہے۔ بعد میں بیماری کے باعث گوشہ نشین ہو گئے۔ بالآخر ان کا انتقال ہو گیا اور وہ اپنے خالق حقیقی سے جا ملے۔

    سلیمان جتوئی

    سلیمان جتوئی کا تعلق لاڑکانہ کے قریب آباد جتوئی گاؤں سے ہے۔ وہ جساف کے مرکزی عہدوں پر فائز رہے۔ انہوں نے مہران انجینئرنگ یونیورسٹی جامشورو سے گریجویشن کی۔

    جیل سے رہائی کے بعد انہیں محکمہ ایکسائز میں افسر مقرر کیا گیا۔ کچھ عرصہ قبل وہ محکمہ ایکسائز سے ریٹائر ہو گئے۔ آج کل کراچی میں رہتے ہیں اور عملی سیاست میں سرگرم نہیں ہیں، تاہم نظریاتی طور پر آج بھی سائیں جی ایم سید کے فکر و فلسفے سے وابستہ ہیں۔

  • حیدرآباد کا ہیریٹیج گیسٹ ہاؤس، سندھ میں ثقافتی سیاحت کے فروغ کی کوشش

    حیدرآباد کا ہیریٹیج گیسٹ ہاؤس، سندھ میں ثقافتی سیاحت کے فروغ کی کوشش

    حیدرآباد میں قائم دی ہیریٹیج گیسٹ ہاؤس سندھ ٹورازم ڈیولپمنٹ کارپوریشن کے تحت سیاحوں کے لیے رہائش کی سہولت فراہم کر رہا ہے۔ اس کا مقصد حیدرآباد آنے والے سیاحوں کو قیام کی مناسب سہولت فراہم کرنے کے ساتھ شہر اور اس کے گردونواح میں موجود تاریخی اور ثقافتی مقامات کی جانب متوجہ کرنا ہے۔

    حیدرآباد سندھ کی تاریخ اور ثقافت کا ایک اہم مرکز ہے، جہاں سندھ میوزیم، شاہی بازار، پکا قلعہ، مکھی ہاؤس اور دیگر تاریخی مقامات موجود ہیں۔ شہر سے ہالا سمیت سندھ کے مختلف ثقافتی اور تاریخی مقامات تک بھی رسائی ممکن ہے۔

    ایسے میں سیاحوں کے لیے معیاری رہائش کی سہولت اہمیت رکھتی ہے، کیونکہ اس سے زائرین کو صرف چند گھنٹوں کے بجائے شہر میں زیادہ وقت گزارنے اور مختلف مقامات دیکھنے کا موقع مل سکتا ہے۔

    دی ہیریٹیج گیسٹ ہاؤس میں فیملی رومز، کچن، پارکنگ اور وائی فائی جیسی بنیادی سہولیات دستیاب ہیں، جبکہ سندھ ٹورازم ڈیولپمنٹ کارپوریشن کی جانب سے آن لائن بکنگ کی سہولت بھی فراہم کی گئی ہے۔

    حکومت سندھ ثقافتی، تاریخی اور آثار قدیمہ کی سیاحت کو فروغ دینے کے لیے مختلف منصوبوں پر کام کر رہی ہے۔ ایسے گیسٹ ہاؤسز اس سیاحتی انفراسٹرکچر کا حصہ بن سکتے ہیں، جہاں سیاح قیام کرکے حیدرآباد اور قریبی علاقوں کے تاریخی ورثے کو بہتر طور پر دیکھ سکیں۔

    اگر رہائش کے ساتھ تاریخی مقامات کے دورے، مقامی گائیڈز، روایتی دستکاری، ثقافتی بازاروں اور قریبی سیاحتی مقامات کو ایک مربوط سیاحتی پیکیج سے جوڑا جائے تو حیدرآباد کو سندھ میں ثقافتی سیاحت کے ایک اہم مرکز کے طور پر مزید فروغ دیا جا سکتا ہے۔

    اس سے نہ صرف سیاحوں کے لیے سفر آسان ہوگا بلکہ مقامی ہوٹلوں، ریستورانوں، ٹرانسپورٹ، دستکاروں اور دیگر کاروباروں کے لیے بھی معاشی مواقع پیدا ہو سکتے ہیں۔

    حیدرآباد کا ہیریٹیج گیسٹ ہاؤس اسی بڑے مقصد کا ایک حصہ ہے کہ سندھ آنے والے سیاحوں کو تاریخ، ثقافت اور مقامی زندگی کو قریب سے دیکھنے کے لیے بہتر رہائش اور سفری سہولیات فراہم کی جائیں۔