سینیئر صحافی اور معروف سیاسی تجزیہ کار اعزاز سید نے کہا ہے کہ سندھ کے عام شہریوں کا سیاسی شعور اور سیاسی سمجھ بوجھ دیگر صوبوں کے عوام کی بنسبت بہت زیادہ ہے۔ جیو نیوز کے پروگرام رپورٹ کارڈ میں انہوں نے واضح کیا کہ سندھ کی تقسیم یا اس کے انتظامی ڈھانچے میں کسی بھی قسم کی تبدیلی کا فیصلہ کرنا صرف اور صرف وہاں کے عوام کا حق ہے، پنجاب یا کسی اور صوبے کے لوگ وہاں کے مستقبل کا فیصلہ نہیں کر سکتے۔
پروگرام میں اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے اعزاز سید نے بتایا کہ انہیں سندھ کے تقریباً 95 فیصد اضلاع میں رہنے اور وہاں کے سیاسی و سماجی ماحول کو قریب سے سمجھنے کا موقع ملا ہے۔ اس تجربے کی روشنی میں وہ یہ بات پورے وثوق سے کہہ سکتے ہیں کہ سندھ کا عام شہری سیاست کو بہت بہتر انداز میں سمجھتا ہے۔
اعزاز سید کا کہنا تھا کہ سندھ کے عوام کے پاس سیاسی جماعتوں کے انتخاب کے اختیارات کافی محدود ہیں۔ وہاں پاکستان پیپلز پارٹی ہی مرکزی سیاسی قوت کے طور پر موجود ہے اور دیگر جماعتوں کی گنجائش کم ہے، مگر اس کے باوجود عام سندھی اپنے حقوق اور صوبائی مفادات کے تحفظ کے معاملے میں مکمل طور پر باخبر ہے۔
عوامی دباؤ اور پیپلز پارٹی کا موقف
سینیئر صحافی نے کہا کہ جب کینالز کا مسئلہ سامنے آیا تو عام سندھیوں نے اپنی نمائندہ جماعت پاکستان پیپلز پارٹی کو مجبور کیا کہ وہ وہی موقف اختیار کرے جو عام عوام کا ہے۔ سندھی عوام اپنی زبان، ثقافت اور دھرتی سے گہرا پیار کرتے ہیں۔ قیام پاکستان سے پہلے کی تاریخ بھی اس بات کی گواہ ہے کہ جب بھی سندھ کی حیثیت کو متاثر کرنے کی کوشش کی گئی، وہاں کے عوام نے سخت ردعمل دیا۔
انہوں نے سندھ اسمبلی کی صورتحال کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اسمبلی میں پیپلز پارٹی کی قیادت جو باتیں کر رہی ہے، وہ دراصل عام سندھی کے جذبات کی ترجمانی ہے۔ پیپلز پارٹی کے رہنما سعید غنی کے بیانات کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ان کی باتیں بہت جاندار اور اثر انگیز ہیں، کیونکہ پیپلز پارٹی اس وقت اپنے ذاتی سیاسی بقا اور عوامی اعتماد کو برقرار رکھنے کی جنگ بھی لڑ رہی ہے۔
اعزاز سید نے مزید کہا کہ پیپلز پارٹی کا یہ بیانیہ کہ "ہم سندھ کو نہیں توڑنے دیں گے اور اس کے لیے اپنی وزارتی اور سیٹیں بھی قربان کرنے کو تیار ہیں”، دراصل خود کو عام سندھی کے موقف کے ساتھ مکمل طور پر ہم آہنگ کرنے کی کوشش ہے۔
پنجاب اور دیگر علاقوں سے آنے والی آراء کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہمارے ہاں پنجاب میں لوگ بیٹھ کر یہ مشورے دیتے ہیں کہ سندھ کو اپنے انتظامی امور یوں چلانے چاہئیں۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ ایسے فیصلے لاہور یا اسلام آباد میں بیٹھ کر نہیں کیے جا سکتے۔ سندھ کے لوگوں کو خود یہ فیصلہ کرنے کا حق ہے کہ وہ اپنے صوبے کو کیسے چلانا چاہتے ہیں۔
حکومت سندھ نے دسمبر 2025 میں کراچی میں جدید ڈبل ڈیکر بس سروس متعارف کرائی، جس کا مقصد شہریوں کو آرام دہ، محفوظ اور معیاری پبلک ٹرانسپورٹ کی سہولت فراہم کرنا ہے۔ سروس کے ابتدائی مرحلے میں چین سے درآمد کی گئی پانچ ڈبل ڈیکر بسیں شامل کی گئیں۔
یہ بسیں تقریباً 22 کلومیٹر طویل روٹ پر چلتی ہیں، جو ماڈل کالونی سے شروع ہو کر شاہراہ فیصل، ڈرگ روڈ، نرسری، پی ای سی ایچ ایس، میٹروپول، ٹاور اور زینب مارکیٹ تک جاتا ہے۔ یہ راستہ کراچی کے اہم اور مصروف علاقوں کو آپس میں ملاتا ہے، جس کے باعث روزمرہ سفر کرنے والوں کے ساتھ خاندانوں، طلبہ اور سیاحوں کے لیے بھی یہ سروس توجہ کا مرکز بنی ہے۔
مکمل طور پر ایئر کنڈیشنڈ بسوں میں تقریباً 115 سے 120 مسافروں کے بیٹھنے اور سفر کرنے کی گنجائش ہے۔ بالائی منزل شہریوں کو سفر کے دوران کراچی کے مختلف علاقوں کا نسبتاً منفرد نظارہ بھی فراہم کرتی ہے، جبکہ بسوں میں آرام دہ نشستوں کے علاوہ حفاظتی نظام، کیمروں اور جی پی ایس کے ذریعے نگرانی جیسی سہولیات شامل ہیں۔
سروس کا کرایہ بھی عام شہریوں کی استطاعت کو مدنظر رکھتے ہوئے مقرر کیا گیا ہے۔ 15 کلومیٹر تک سفر کے لیے 80 روپے جبکہ اس سے زیادہ فاصلے کے لیے 120 روپے کرایہ رکھا گیا ہے۔ حکومت سندھ سروس کی باقی لاگت سبسڈی کی صورت میں برداشت کرتی ہے، جس کا مقصد شہریوں کے لیے سفری سہولت کو نسبتاً کم خرچ رکھنا ہے۔
سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن کے مطابق عوام کی جانب سے مثبت ردعمل برقرار رہنے کی صورت میں مستقبل میں مزید ڈبل ڈیکر بسیں درآمد کی جائیں گی اور سروس کو کراچی کی دیگر اہم شاہراہوں تک توسیع دینے پر بھی غور کیا جائے گا۔
یوں کراچی کی سڑکوں پر ڈبل ڈیکر بسیں صرف ایک نئی سفری سہولت کے طور پر نہیں بلکہ شہر کے پبلک ٹرانسپورٹ نظام میں ایک مختلف طرز کے سفر کے آغاز کے طور پر بھی سامنے آئی ہیں۔
سندھ حکومت اور آکسفرڈ پاکستان پروگرام کے مشترکہ اقدام ’بھٹو اسٹیم اسکالرشپ‘ کے تحت سندھ کے باصلاحیت طلبہ کو دنیا کی معروف یونیورسٹی آکسفرڈ یونیورسٹی میں اعلیٰ گریجویٹ تعلیم حاصل کرنے کا موقع فراہم کیا جا رہا ہے۔
اس پروگرام کا مقصد ایسے باصلاحیت نوجوانوں کی مالی معاونت کرنا ہے جو ماسٹرز، ایم فل یا پی ایچ ڈی جیسی اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، لیکن مالی وسائل کی کمی ان کی راہ میں رکاوٹ بن سکتی ہے۔
اس اسکالرشپ پروگرام کے تحت ہر سال سندھ سے تعلق رکھنے والے زیادہ سے زیادہ 6 طلبہ کو آکسفرڈ یونیورسٹی میں گریجویٹ تعلیم کے لیے مالی معاونت فراہم کی جائے گی۔
اس طرح سندھ کے مختلف اضلاع سے تعلق رکھنے والے باصلاحیت نوجوانوں کے لیے اعلیٰ تعلیم کے ایک ایسے موقع کا دروازہ کھلتا ہے جہاں مالی مشکلات ان کی تعلیمی پیش رفت میں رکاوٹ نہ بنیں۔
بھٹو اسکالرشپ میں خواتین امیدواروں کے لیے بھی خصوصی حصہ رکھا گیا ہے۔ پروگرام کے تحت تین اسکالرشپس شہید محترمہ بینظیر بھٹو کے نام سے خواتین امیدواروں کے لیے مختص ہیں، جبکہ مزید تین اسکالرشپس شہید ذوالفقار علی بھٹو کے نام سے اوپن میرٹ پر دی جائیں گی۔ اس طرح مجموعی طور پر ہر سال زیادہ سے زیادہ 6 طلبہ اس پروگرام سے فائدہ اٹھا سکیں گے۔
اسکالرشپ کے لیے امیدوار کا سندھ سے تعلق ہونا ضروری ہے۔ اس سلسلے میں سندھ کا ڈومیسائل، شناختی کارڈ اور مستقل رہائش کا سرٹیفکیٹ لازمی قرار دیا گیا ہے۔ یعنی امیدوار کو اپنے سندھ سے تعلق کا مطلوبہ سرکاری ریکارڈ فراہم کرنا ہوگا۔
منتخب امیدوار آکسفرڈ یونیورسٹی میں ماسٹرز، ایم فل یا ڈی فل کی تعلیم حاصل کرسکتے ہیں۔ پروگرام میں سائنس، ٹیکنالوجی، انجینئرنگ اور ریاضی یعنی STEM سے متعلق شعبوں کو ترجیح دی جاتی ہے۔ اس کے علاوہ ایسے شعبہ جات بھی ترجیحی بنیادوں پر دیکھے جاتے ہیں جن کا تعلق صوبہ سندھ کی ضروریات اور ترقی سے ہو۔
تاہم اس اسکالرشپ کے لیے ایک بنیادی شرط یہ ہے کہ امیدوار پہلے آکسفرڈ یونیورسٹی میں داخلے کی پیشکش حاصل کرے۔ صرف اسکالرشپ کے لیے درخواست دینا کافی نہیں ہوگا۔ امیدوار کو پہلے آکسفرڈ یونیورسٹی کے متعلقہ گریجویٹ پروگرام میں داخلے کے لیے درخواست دینا ہوگی اور وہاں سے باقاعدہ داخلے کی پیشکش حاصل کرنا ہوگی۔
اس کے بعد وہ آکسفرڈ پاکستان پروگرام کے ذریعے بھٹو گریجویٹ اسکالرشپ کے لیے درخواست دے سکے گا۔
امیدواروں کے لیے آکسفرڈ یونیورسٹی کے تعلیمی تقاضے پورے کرنا بھی ضروری ہوگا۔ اس کے ساتھ انگریزی زبان سے متعلق آکسفرڈ کی مقررہ شرائط بھی پوری کرنا ہوں گی۔ اس کا مطلب ہے کہ اسکالرشپ حاصل کرنے کے خواہش مند طالب علم کو نہ صرف اپنے تعلیمی میدان میں مضبوط ہونا ہوگا بلکہ آکسفرڈ یونیورسٹی کے داخلہ معیار پر بھی پورا اترنا ہوگا۔
بھٹو اسکالرشپ کی ایک نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ یہ مکمل مالی معاونت فراہم کرتی ہے۔ اسکالرشپ میں ٹیوشن فیس کے ساتھ رہنے کے اخراجات بھی شامل ہیں، جس سے منتخب طلبہ کو آکسفرڈ میں اپنی تعلیم کے دوران بڑے مالی بوجھ سے نجات مل سکتی ہے۔ تاہم سفری اخراجات عام طور پر اس اسکالرشپ کا حصہ نہیں ہوتے، اس لیے امیدواروں کو بیرون ملک سفر سے متعلق اخراجات کے لیے الگ انتظام کرنا پڑ سکتا ہے۔
اس پروگرام میں امیدواروں کا انتخاب کسی مخصوص شہر، ضلع یا علاقے کے لیے مختص کوٹے کی بنیاد پر نہیں کیا جاتا۔ انتخاب میں میرٹ، مالی ضرورت اور پاکستان کی ترقی میں امیدوار کے مستقبل کے ممکنہ کردار کو مدنظر رکھا جاتا ہے۔
اس لیے سندھ کے کسی بھی ضلع سے تعلق رکھنے والا باصلاحیت طالب علم اس موقع کے لیے امیدوار بن سکتا ہے، بشرطیکہ وہ مقررہ تعلیمی اور دیگر شرائط پوری کرتا ہو۔
خاص طور پر ایسے نوجوان جو آکسفرڈ یونیورسٹی سے داخلے کی پیشکش حاصل کرچکے ہیں، لیکن مالی وسائل کی کمی کے باعث وہاں تعلیم حاصل کرنے میں مشکل محسوس کرتے ہیں، ان کے لیے یہ اسکالرشپ اہم موقع بن سکتی ہے۔
اس پروگرام کے ذریعے سندھ کے باصلاحیت طلبہ کو دنیا کی ایک ممتاز یونیورسٹی میں اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے اور اپنی علمی و پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو مزید آگے بڑھانے کا موقع فراہم کیا جا رہا ہے۔
2026 کے لیے بھٹو گریجویٹ اسکالرشپس کے پہلے 4 اسکالرز کا انتخاب بھی آکسفرڈ پاکستان پروگرام نے کیا ہے۔ ان منتخب اسکالرز میں سندھ سے تعلق رکھنے والے باصلاحیت طلبہ شامل ہیں، جو اس پروگرام کے تحت آکسفرڈ یونیورسٹی میں اپنی اعلیٰ تعلیم جاری رکھیں گے۔
سندھ کے وزیر تعلیم سید سردار شاہ کے مطابق یہ اسکالرشپ چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو کا ایک خواب ہے، جس کی عملی تعبیر سندھ حکومت نے ممکن بنائی ہے۔ ان کے مطابق اس اقدام کے ذریعے سندھ کے باصلاحیت نوجوانوں کو اعلیٰ عالمی معیار کی تعلیم تک رسائی فراہم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
بھٹو اسٹیم اسکالرشپ سندھ کے ایسے نوجوانوں کے لیے ایک اہم موقع ہے جو اعلیٰ تعلیم کے لیے صلاحیت اور جذبہ رکھتے ہیں، آکسفرڈ یونیورسٹی میں داخلہ حاصل کرنے کی اہلیت رکھتے ہیں، مگر مالی وسائل کی کمی ان کے خواب کی تکمیل میں رکاوٹ بن سکتی ہے۔
پروگرام میں میرٹ، مالی ضرورت اور مستقبل میں پاکستان کے لیے کردار کو اہمیت دیے جانے کے باعث سندھ کے مختلف علاقوں سے تعلق رکھنے والے باصلاحیت نوجوان اس موقع سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔
کماری جیٹھی تلسیداس سپاہی ملانی سندھ کی سیاسی تاریخ کی ایک غیرمعمولی شخصیت تھیں۔ انہوں نے نہ صرف انگریزوں کے خلاف آزادی کی جدوجہد میں عملی حصہ لیا بلکہ تقسیم سے پہلے اور بعد میں قانون سازی، خواتین کے حقوق، تعلیم اور سماجی بہبود کے لیے بھی نمایاں خدمات انجام دیں۔
جیٹھی سپاہی ملانی 10 فروری 1906 کو حیدرآباد میں پیدا ہوئیں۔ انہوں نے حیدرآباد کے کندن مل گرلز ہائی اسکول اور کراچی کے تعلیمی اداروں سے تعلیم حاصل کی اور 1925 میں ڈی جے سندھ کالج، کراچی میں بھی زیر تعلیم رہیں۔ تعلیم مکمل کرنے کے بعد وہ شعبہ تدریس سے وابستہ رہیں اور 1929 میں کراچی کے ’دیا آشرم‘ کی پرنسپل مقرر ہوئیں۔
1930 میں انہوں نے ملازمت چھوڑ کر انڈین نیشنل کانگریس میں شمولیت اختیار کی اور انگریز راج کے خلاف جاری آزادی کی تحریک میں سرگرم حصہ لیا۔ نمک ستیہ گرہ، سول نافرمانی اور دیگر سیاسی تحریکوں میں شرکت کے باعث انہیں کئی مرتبہ گرفتار کرکے قید کیا گیا۔ وہ صرف سیاسی کارکن ہی نہیں بلکہ خواتین، بچوں اور تعلیم کی بہتری کے لیے کام کرنے والی سماجی مصلح بھی تھیں۔ انہوں نے گاندھی اسپتال کی سیکریٹری، میونسپل اسکول بورڈ کی رکن اور 1934 میں کراچی میونسپل کارپوریشن کی رکن کی حیثیت سے بھی خدمات انجام دیں۔ 1935 میں انہوں نے یورپ کا تعلیمی دورہ کیا اور وہاں کے تعلیمی نظام کا مطالعہ کیا۔
سندھ کی بمبئی پریزیڈنسی سے علیحدگی کے بعد 1937 میں قائم ہونے والی پہلی سندھ لیجسلیٹو اسمبلی میں وہ کانگریس کی امیدوار کی حیثیت سے خواتین کی مخصوص نشست، کراچی اور حیدرآباد، سے بلا مقابلہ منتخب ہوئیں۔ وہ سندھ اسمبلی کی انتہائی سرگرم ارکان میں شامل تھیں اور خواتین کے ملکیتی حقوق، مقامی اداروں، تعلیم اور سماجی انصاف سے متعلق قانون سازی میں حصہ لیا۔
جیٹھی بائی تلسیداس سپاہی ملانی 1939 سے 1946 تک سندھ لیجسلیٹو اسمبلی کی ڈپٹی اسپیکر رہیں۔ اس طرح وہ سندھ کی پارلیمانی تاریخ میں اس عہدے پر فائز ہونے والی پہلی خاتون بنیں۔ ممکنہ طور پر متحدہ ہندوستان میں بھی وہ اس منصب پر پہنچنے والی پہلی خاتون تھیں۔
1947 کی تقسیم کے بعد جیٹھی سپاہی ملانی سندھ چھوڑ کر بمبئی چلی گئیں۔ بھارت میں وہ 1952 سے 1962 تک بمبئی لیجسلیٹو کونسل کی رکن اور 1954 سے 1962 تک اس کونسل کی ڈپٹی چیئرمین، یعنی ڈپٹی اسپیکر، رہیں۔
انہوں نے تقسیم کے بعد بے گھر ہونے والے سندھی ہندوؤں کی بحالی اور آبادکاری میں بھرپور حصہ لیا۔ انہوں نے بمبئی میں ہجرت کرکے پہنچنے والے سندھیوں کے لیے مناسب رہائش کی فراہمی کی کوشش کی اور ’نوجیون کوآپریٹو ہاؤسنگ سوسائٹی‘ کے قیام میں بنیادی کردار ادا کیا۔ ماہم، ماتونگا، چیمبور اور لیمگٹن روڈ سمیت مختلف علاقوں میں قائم کی جانے والی رہائشی بستیوں کے ذریعے بہت سے بے گھر سندھی خاندانوں کو نئی زندگی شروع کرنے کا موقع ملا۔
سندھ کی یہ بہادر بیٹی 21 مئی 1978 کو انتقال کر گئیں۔
تاریخی تصاویر کا پس منظر
پورٹریٹ تصویر: سندھ اسمبلی میں نصب جیٹھی سپاہی ملانی کی یادگاری تصویر
بلفاسٹ ٹیلی گراف، 7 مئی 1959
یہ تصویر جیٹھی سپاہی ملانی کے برطانیہ کے پارلیمانی دورے کے دوران لی گئی۔ اخبار کے مطابق دولت مشترکہ کے 18 پارلیمنٹرینز پر مشتمل ایک وفد 12 روزہ دورے پر شمالی آئرلینڈ پہنچا تھا۔ وفد کی تین خواتین ارکان نے بینگور اسپتال کا دورہ کیا، جہاں اسپتال کی میٹرن مس ایس ایل کری نے ان کا استقبال کیا۔
تصویر میں بائیں جانب سے مس کری، بمبئی کی جیٹھی ٹی سپاہی ملانی، سسٹر ڈبلیو واٹسن، کینیا کی مسز پانڈیا اور ٹونگا کی مسز ہاویا توہاٹیہو نظر آ رہی ہیں۔ یہ تصویر ظاہر کرتی ہے کہ جیٹھی سپاہی ملانی عالمی سطح پر دولت مشترکہ کی پارلیمانی سرگرمیوں میں بھی بھارت اور بمبئی کی نمائندگی کرتی تھیں۔
سنڈرلینڈ ڈیلی ایکو اینڈ شپنگ گزٹ، 26 مئی 1959
یہ تصویر بھی ان کے 1959 کے برطانوی دورے سے متعلق ہے۔ تصویر میں جیٹھی سپاہی ملانی اپنی میزبان مسز رابنسن کے ساتھ نظر آ رہی ہیں۔ اخبار نے انہیں مسز رابنسن کی ’بھارتی مہمان‘ کے طور پر متعارف کرایا۔
سنڈرلینڈ ڈیلی ایکو اینڈ شپنگ گزٹ، 3 جون 1959
اس تصویر میں بمبئی لیجسلیٹو کونسل کی ڈپٹی چیئرمین کماری جیٹھی ٹی سپاہی ملانی اور سنڈرلینڈ کے ڈائریکٹر آف ایجوکیشن کی اہلیہ مسز مارگریٹ تھامپسن ’ویئر گلاس ورکس‘ کا دورہ کرتے ہوئے نظر آ رہی ہیں۔ کمپنی کے کمرشل ایگزیکٹو ڈائریکٹر ایل ڈی ووڈ انہیں کارخانے میں تیار ہونے والی شیشے کی کچھ مصنوعات دکھا رہے ہیں۔
یہ تصویر جیٹھی سپاہی ملانی کے دورے کی مطالعاتی نوعیت کو ظاہر کرتی ہے۔ ایک پارلیمانی رہنما کی حیثیت سے وہ صرف رسمی ملاقاتوں تک محدود نہیں رہیں بلکہ اسپتالوں، تعلیمی اداروں اور صنعتی مراکز کا دورہ کرکے وہاں کے انتظام، پیداوار اور سماجی ترقی کے طریقوں کا بھی مشاہدہ کرتی رہیں۔
یہ تاریخی تصاویر ہمیں بتاتی ہیں کہ سندھ کی ایک بیٹی نے آزادی کی تحریک سے لے کر سندھ اسمبلی، بمبئی لیجسلیٹو کونسل اور دولت مشترکہ کی بین الاقوامی پارلیمانی سرگرمیوں تک اپنی قابلیت اور جدوجہد سے نمایاں مقام حاصل کیا۔
سندھ کے سرکاری اسکولوں میں اساتذہ اور غیر تدریسی عملے کی حاضری کے طریقہ کار میں تبدیلی کی گئی ہے اور اس مقصد کے لیے چہرے کی شناخت، جی پی ایس اور جیو فینسنگ پر مبنی نیا نظام متعارف کرایا گیا ہے۔
FRAMES نامی یہ نظام اساتذہ اور دیگر ملازمین کی شناخت کے ساتھ ان کی اسکول میں موجودگی کی بھی تصدیق کرتا ہے۔ حاضری کے وقت جی پی ایس اور جیو فینسنگ کے ذریعے یہ جانچنے کی کوشش کی جاتی ہے کہ متعلقہ ملازم مقررہ اسکول کی حدود میں موجود ہے یا نہیں۔
نظام میں لائیو نیس اور اینٹی اسپوفنگ ٹیکنالوجی بھی شامل ہے، جس کا مقصد تصویر یا کسی دوسرے ذریعے سے کسی اور شخص کی جگہ حاضری لگانے کی کوششوں کو روکنا ہے۔ اس طرح نظام ملازم کی شناخت کے ساتھ اس کی حقیقی موجودگی کی تصدیق بھی کرتا ہے۔
RAMES کو ایسے علاقوں کے لیے بھی قابل استعمال بنایا گیا ہے جہاں انٹرنیٹ کی سہولت دستیاب نہ ہو۔ انٹرنیٹ نہ ہونے کی صورت میں حاضری ریکارڈ کی جاسکتی ہے اور کنکشن بحال ہونے کے بعد یہ ریکارڈ مرکزی نظام کے ساتھ منسلک ہوجاتا ہے۔
اس نظام کا پائلٹ اگست 2026 میں سندھ کے چھ اضلاع میں شروع کیا گیا، جس کے پہلے مرحلے میں تقریباً 49,500 تدریسی اور غیر تدریسی ملازمین شامل کیے گئے ہیں۔
نئے نظام میں ملازمین کے لیے اپنی حاضری کا ریکارڈ دیکھنے اور چھٹی کی درخواست جمع کرانے کی سہولت بھی موجود ہے۔ اس طرح حاضری سے متعلق ریکارڈ اور چھٹی کے بعض انتظامی امور کو بھی ڈیجیٹل نظام کے ذریعے منظم کیا جاسکتا ہے۔
FRAMES سندھ کے محکمہ اسکول ایجوکیشن اینڈ لٹریسی کے ڈیجیٹل اقدام کے طور پر متعارف کرایا گیا ہے۔ اس نظام کے ذریعے اسکولوں میں عملے کی حاضری کی نگرانی کو زیادہ شفاف اور مؤثر بنانے کی کوشش کی جارہی ہے۔
صوبائی وزیر تعلیم سردار علی شاہ کے مطابق FRAMES کو سندھ کے تمام سرکاری اسکولوں میں نافذ کیا جائے گا۔ پائلٹ مرحلے کے بعد اس نظام کو صوبے کے دیگر سرکاری اسکولوں تک توسیع دینے کا منصوبہ ہے۔
‘سانول کی شاعری ایک طرف محبوبوں کے ملاپ کا ذکر کرتی ہے، کہیں جدائی کے نوحے ہیں، اور بعض اشعار میں صرف درد ہی درد کی دھند چھائی ہوئی ہے۔ سانول عوام کا اور عوامی رنگوں کا مقبول شاعر ہے۔’
یہ خیالات نامور سندھی ادیب نصیر مرزا کے ہیں، جو انہوں نے سندھ کے سینئر اور عوامی شاعر سانول میرالی کے شعری مجموعے ‘یاروں سے کیسے حساب’ کے دیباچے میں لکھے ہیں۔
کتاب کے پچھلے صفحے پر جواد جعفری نے بالکل درست لکھا ہے کہ ‘سانول نے قلمی کام کو فرض سمجھ کر نبھایا ہے۔ ان کی کتاب گھٹن بھرے ماحول میں تازہ ہوا کے جھونکے کی مانند ثابت ہوئی ہے۔’
حیدرآباد سے ‘سمبارا’ پبلیکیشن کے تحت شائع ہونے والی اس کتاب میں سانول کے وہ گیت اور غزلیں شامل ہیں جنہیں سندھ کے معروف فنکاروں، شمن علی میرالی، ماسٹر منظور اور منظور سخیرانی سمیت دیگر فنکاروں نے گایا ہے۔
وہ شاعر واقعی خوش نصیب ہوتا ہے جس کی شاعری کو سریلی آوازیں جنگلوں اور بستیوں تک پہنچاتی ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ سانول کی شاعری سے میری شناسائی بھی انہی گلوکاروں کے ذریعے ہوئی۔
میں پورے یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ سانول کو جتنے لوگ جانتے ہیں، اتنے شاید ان ادیبوں کو بھی نہیں جانتے جو عمر بھر ادب کو دے کر درجنوں کتابیں لکھ چکے اور شائع کرا چکے ہیں، کیونکہ وہ صرف قارئین تک محدود رہتے ہیں، جبکہ سانول کے سامعین پوری دنیا میں پھیلے ہوئے ہیں۔ ان کی شاعری کے گائے ہوئے کلام لاکھوں بار انٹرنیٹ پر سنے اور دیکھے جا چکے ہیں۔
سانول کی شاعری ہر عمر اور ہر طبقے کے لوگوں کو متاثر کرتی ہے۔ ان کی شاعری کے تین رخ ہیں: ایک طرف محبت اور روح کو سکون دینے والی تخلیقات، دوسری طرف سماجی اور طبقاتی مسائل کی عکاسی، اور تیسری طرف انقلابی سوچ۔
انہوں نے کبھی کسی گلوکار سے اپنی شاعری گانے کی درخواست نہیں کی، نہ ہی شہرت نے انہیں مغرور بنایا۔ جتنا ان کا ادبی قد بڑھا، اتنی ہی عاجزی ان میں آئی۔ ان کا پہلا شعری مجموعہ ‘نین بھیگے رہے’ 24 سال پہلے شائع ہو چکا ہے۔ 1983 سے ادبی دنیا میں قدم رکھنے والے سانول کی شاعری 1986 سے اب تک ڈیڑھ سو کے قریب فنکار گا چکے ہیں۔
سانول نہ صرف خود شاعر ہیں بلکہ انہوں نے اپنی اولاد کی تربیت بھی ادبی انداز میں کی ہے اور ان کے بیٹے بھی شاعری کرتے اور گنگناتے ہیں۔ ان کی شاعری میں نہ فحاشی ہے، نہ بے راہ روی، نہ نعرہ بازی اور نہ درباری سوچ۔ انہوں نے اپنے ذہن میں یہ بات بٹھا لی ہے کہ محبت کے قحط کے اس دور میں محبت کا سفیر بننا ہے۔
مثلاً ان کے اشعار:
‘پیار کیا نہیں جاتا، پیار ہو جاتا ہے عشق آنکھوں سے اظہار ہو جاتا ہے کس کو اپنا بنانا کس کے بس میں نہیں یہ ازل سے ہی بیوپار ہو جاتا ہے’
‘کس کو اپنا بنانا بس میں نہیں یہ ازل سے ہی قرار ہو جاتا ہے’
سانول کی شاعری امید، حوصلے اور تسلی سے بھرپور ہے:
‘ماضی جیسا بھی گزرا ہو مستقبل میں اجالا ہوگا’
وہ دوسروں کا حساب کرنے کے بجائے اپنا احتساب کرتے ہیں۔ ان کی فطرت میں سادگی، اخلاص اور صوفیانہ سوچ نمایاں ہے:
‘کیا حساب محبوبوں سے جینے کے وعدے ہو جن سے’
‘چاہے خوشی دیں یا غم لبوں سے کچھ نہیں کہنا ان سے’
سانول کی شاعری میں محبوب کے بغیر زندگی ادھوری محسوس ہوتی ہے:
‘زندگی کا سفر اجنبی لگتا ہے تیرے بغیر گھر اجنبی لگتا ہے’
اور درد کی کیفیت کچھ یوں بیان کرتے ہیں:
‘افسوس زندگی کا سہارا نہیں ملتا لوگ بہت ملتے ہیں، مگر پیارا نہیں ملتا’
وہ اپنی تنہائی کو یوں بیان کرتے ہیں:
‘ہر روز تقدیر کے تارے دیکھتا ہوں حسین ہزار، مگر سہارے دیکھتا ہوں’
جس دور میں بھارتی فلمی انداز کے گیتوں کا رواج تھا، اس وقت سانول کا بڑا چرچا تھا۔ ان کی کامیابی میں شمن علی میرالی کا کردار اہم رہا۔ جس طرح بیدل مسرور کی آواز نے شیخ ایاز کی تخلیق ‘سچ بڑا مجرم ہے’ کو مقبول بنایا، اسی طرح شمن علی میرالی کی آواز نے سانول کو عوامی شہرت دی۔
وہ آپس میں رشتہ دار نہیں ہیں، اور نہ ہی ذات پات کی بنیاد پر شمن نے انہیں کبھی برتر سمجھا ہے۔ سانول کی تخلیقی صلاحیت آج بھی قائم و دائم ہے۔
سانول نے ادب کی مختلف اصناف میں نہ صرف اپنی پہچان بنائی بلکہ خود کو منوایا بھی ہے۔ وزن و بحر کے تسلسل میں کچھ کمیوں کے باوجود، ان کی تقریباً 95 فیصد تخلیقات وزن و بحر کے مطابق لکھی گئی ہیں اور ان میں روانی بھی کمال کی ہے۔
شہرت کی بلندیوں تک پہنچنے کے باوجود سانول نے اپنی سادگی، سنجیدگی، سچائی، ثابت قدمی اور عاجزی کو نہیں چھوڑا۔ ان کا خلوص سے بھرپور انداز اور گرمجوشی سے ملنا نہ صرف بڑی بات ہے بلکہ ملنے والوں کے لیے حوصلہ افزا بھی ہوتا ہے۔
ان کا شائع شدہ شعری مجموعہ ‘یارن سان ڪهڙا ليکا’ امید ہے کہ دیگر شعرا کے لیے بھی باعثِ حوصلہ بنے گا اور نئی نسل کو ماضی کی موسیقی کو نئے انداز میں پیش کرنے کی تحریک دے گا۔
اس شعری مجموعے میں غزلوں کے ساتھ ساتھ گیتوں کی تعداد زیادہ ہے۔ اگرچہ ان گیتوں پر تفصیل سے لکھنے کی ضرورت ہے، لیکن یہاں چند گیتوں کا ذکر کیا جاتا ہے:
‘روتا دیکھتے مجھے ہنساتے’
‘دوست نہ رہا دوست، یار نہ رہا یار’
‘ہنسنے والے، ہنستے رہو، ہنسنے میں خدا راضی ہے’
‘میرا خون بڑھتا ہے، تم ہنستے رہو محبوب’
‘میں تو منت کرتا ہوں، ملنے کے لیے’
‘بے درد کو دل دے کر پچھتایا’
‘میرے دلبر کو سمجھاؤ’
‘جو مجھ سے وفا کرے، اس کو میں دوں دل’
‘روتا ہوں یار کی خاطر’
‘درد دل میں یار نہ ہے، تب ہی تو دل دکھاتے ہو’
‘یاروں سے کیسے حساب’
‘نہ تھا نبھانا مجھ سے پیار، کیوں کیا؟’
‘وقت وقت کی بات ہے’
سانول میرالی سندھ کا عوامی سرمایہ ہیں، کیونکہ دیہی علاقوں کے لوگ انہیں خوب جانتے ہیں۔ ان کے گیت گاتے ہیں اور ان کے میوزک البمز تحفے کے طور پر ایک دوسرے کو دیتے آئے ہیں۔ پولیس جیسے محکمے میں ہونے کے باوجود انہوں نے خود کو کبھی روایتی پولیس والا محسوس نہیں ہونے دیا۔
وہ ایک سخی دل انسان ہیں، جن کا دسترخوان کشادہ ہے اور جو سندھ کی مہمان نوازی کی روایت کے بہترین امین ہیں۔
لاڑکانہ آرٹس کونسل میں اپنی کتاب کی تقریبِ رونمائی کے موقع پر انہوں نے انکشاف کیا تھا کہ ان کی زیادہ تر شاعری ان کی محرومیوں کا ردعمل ہے۔ یتیمی کے دکھ نے انہیں زندگی میں جو تلخ تجربات دیے، وہ آج بھی ان کے لیے دردناک یادیں ہیں۔ اسی لیے ان کی شاعری بچپن میں والدین کی جدائی کے بعد پیش آنے والے حالات کا عکس ہے۔
سانول میرالی ایک نہایت حساس اور معصوم دل انسان ہیں، جو آسانی سے آبدیدہ ہو جاتے ہیں۔ کم از کم دو مواقع پر راقم خود ان کے رونے کا گواہ رہا ہے۔ ایک بار جب ان کے قدردان افسر شیر از نظیر عباسی کا شکارپور سے تبادلہ ہوا تو وہ اپنے آنسو نہ روک سکے، اور دوسری بار لاڑکانہ آرٹس کونسل میں اپنی کتاب کی تقریب کے دوران والدین کو یاد کرتے ہوئے رو پڑے۔
سانول میرالی طلبہ کا ہجوم ساتھ رکھنے یا اس پر فخر کرنے کے قائل نہیں، بلکہ خاموشی سے ان کی ادبی تربیت کرتے رہتے ہیں۔ یہ ایک مثبت روایت ہے، جسے جتنا سراہا جائے کم ہے۔
سندھ کے ضلع خیرپور کے شہر گمبٹ میں قائم گمبٹ انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز نے جگر کی پیوندکاری کے شعبے میں پاکستان بھر میں اپنی ایک منفرد شناخت بنائی ہے۔
اس مرکز کی سب سے نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ مستحق مریضوں کو جگر کی پیوندکاری مفت فراہم کی جاتی ہے، جس کے اخراجات کی بنیادی مالی معاونت حکومت سندھ کرتی ہے۔
جنوری 2016 میں قائم ہونے والے اس ادارے کا مقصد جدید اور پیچیدہ طبی سہولیات کو صرف بڑے شہروں تک محدود رکھنے کے بجائے ملک کے دور دراز علاقوں کے مریضوں تک پہنچانا تھا۔ گمبٹ میں اس نوعیت کے علاج کی سہولت نے ان مریضوں کے لیے ایک نیا راستہ پیدا کیا جن کے لیے جگر کی پیوندکاری کے نجی شعبے میں آنے والے بھاری اخراجات برداشت کرنا ممکن نہیں۔
پاکستان میں جگر کی پیوندکاری مہنگے ترین طبی علاج میں شمار ہوتی ہے اور نجی شعبے میں اس پر لاکھوں روپے خرچ ہو سکتے ہیں۔ ایسے میں مفت ٹرانسپلانٹ کی سہولت خاص طور پر کم آمدنی والے خاندانوں کے لیے غیر معمولی اہمیت رکھتی ہے۔
گمبٹ میں ٹرانسپلانٹ کا سفر غیر ملکی ماہرین کی معاونت سے شروع ہوا۔ ابتدائی مرحلے میں جرمنی اور دیگر ممالک سے آنے والے ماہر سرجنوں نے یہاں آپریشن کیے۔ بعد ازاں ادارے نے اپنی مقامی ماہر طبی ٹیم تیار کی، جو پیچیدہ جگر کی پیوندکاری کے آپریشن انجام دینے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
ہسپتال انتظامیہ کے مطابق 2016 سے اب تک یہاں 1,500 سے زائد مفت جگر کی پیوندکاریاں کی جا چکی ہیں۔ اس پروگرام کی رسائی کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ 1,000 ٹرانسپلانٹ مکمل ہونے کے مرحلے پر مریضوں کی ایک بڑی تعداد سندھ سے باہر سے گمبٹ پہنچی تھی۔
سندھ حکومت کے اس وقت جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق 1,000 جگر ٹرانسپلانٹ مکمل ہونے تک 460 مریض سندھ، 347 پنجاب، 141 بلوچستان، 36 خیبر پختونخوا، 9 کشمیر اور 4 افغانستان سے تعلق رکھتے تھے۔ اس طرح ان 1,000 مریضوں میں نصف سے زیادہ کا تعلق سندھ کے علاوہ دیگر علاقوں سے تھا۔
گمبٹ کی اہمیت صرف مفت علاج تک محدود نہیں۔ ادارے میں ایسے پیچیدہ مریضوں کے علاج پر بھی توجہ دی گئی ہے جن کے لیے خصوصی طبی مہارت، تجربہ اور جدید سہولیات درکار ہوتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ یہ مرکز سندھ کے ایک نسبتاً چھوٹے شہر میں قائم ہونے کے باوجود ملک کے مختلف حصوں سے آنے والے مریضوں کے لیے اہم طبی مرکز بن چکا ہے۔
گمبٹ انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز کے ڈائریکٹر ڈاکٹر رحیم بخش بھٹی کے مطابق یہاں صرف پاکستان ہی نہیں بلکہ مختلف ممالک سے بھی مریض علاج کے لیے آتے ہیں۔
گمبٹ کا تجربہ اس اعتبار سے بھی اہم ہے کہ پیچیدہ اور مہنگے طبی علاج کی سہولت کو بڑے شہری مراکز تک محدود رکھنے کے بجائے ایک نسبتاً دور دراز شہر میں فراہم کیا گیا۔ جگر کی پیوندکاری جیسے علاج میں مفت سہولت کی فراہمی نے ان خاندانوں کے لیے بھی علاج کا امکان پیدا کیا ہے جو نجی شعبے کے اخراجات برداشت کرنے کی استطاعت نہیں رکھتے۔
سندھ کے دور دراز علاقوں میں کسی مریض کو بروقت اسپتال پہنچانا کئی خاندانوں کے لیے ایک بڑا چیلنج ہوتا ہے، خصوصاً حادثے یا اچانک طبی ہنگامی صورتحال میں، جب چند منٹ بھی انتہائی اہم ہوتے ہیں۔
ایسے حالات میں سندھ انٹیگریٹڈ ایمرجنسی اینڈ ہیلتھ سروسز، یعنی ایس آئی ای ایچ ایس، کی 1122 ایمبولینس سروس اہم کردار ادا کرتی ہے۔ اسی سروس سے وابستہ ارم جٹ سندھ کی ان خواتین میں شامل ہیں جو ایمبولینس چلا کر ہنگامی طبی خدمات کی فراہمی میں اپنا کردار ادا کر رہی ہیں۔
ارم جٹ ایس آئی ای ایچ ایس کی 1122 ایمبولینس سروس کے عمرکوٹ مرکز میں بطور ایمبولینس ڈرائیور خدمات انجام دے رہی ہیں۔ یہ سروس سندھ حکومت کی معاونت سے کام کرنے والا غیر منافع بخش ادارہ ہے، جو صوبے کے تمام 30 اضلاع میں 24 گھنٹے مفت ہنگامی ایمبولینس سروس فراہم کرتا ہے۔
سندھ کے کئی دور دراز علاقوں میں اسپتال تک رسائی کے لیے طویل فاصلہ طے کرنا پڑتا ہے۔ حادثات، اچانک بیماری یا کسی دوسری طبی ہنگامی صورتحال میں یہ فاصلہ مریض اور اس کے اہل خانہ کے لیے مزید مشکلات پیدا کر سکتا ہے، اس لیے ایمبولینس سروس کا بروقت پہنچنا انتہائی اہمیت رکھتا ہے۔
ایس آئی ای ایچ ایس کے مطابق 1122 ایمبولینسوں میں تربیت یافتہ طبی عملہ اور ہنگامی طبی آلات موجود ہوتے ہیں، جن کی مدد سے مریض کو اسپتال پہنچانے سے پہلے ابتدائی طبی امداد اور ضروری ہنگامی نگہداشت فراہم کی جاتی ہے۔
اس سروس کا ایک اہم پہلو خواتین کی شمولیت بھی ہے۔ ارم جٹ ان ہی خواتین میں شامل ہیں جو عمرکوٹ کے دیہی اور دشوار گزار علاقوں میں ایمبولینس چلا کر ضرورت مند مریضوں تک ہنگامی طبی مدد پہنچانے کی ذمہ داری نبھا رہی ہیں۔
ایمبولینس ڈرائیور کی ذمہ داری صرف گاڑی چلانے تک محدود نہیں ہوتی۔ ہنگامی صورتحال میں مریض تک بروقت پہنچنا، اسے محفوظ طریقے سے طبی مرکز منتقل کرنا اور راستے میں طبی عملے کے ساتھ تعاون کرنا اس ذمہ داری کا حصہ ہے۔
بطور خاتون ایمبولینس ڈرائیور ارم جٹ کو مقامی لوگوں کی جانب سے ملنے والے ردعمل پر بھی خوشی ہے۔ ان کا کام اس بات کی مثال ہے کہ خواتین ہنگامی طبی خدمات جیسے شعبے میں بھی اہم ذمہ داریاں سنبھال سکتی ہیں اور مشکل حالات میں لوگوں کی مدد کر سکتی ہیں۔
سندھ جیسے صوبے میں، جہاں شہری مراکز سے دور علاقوں میں طبی سہولیات تک رسائی ایک اہم مسئلہ ہے، مفت اور 24 گھنٹے دستیاب ایمبولینس سروس کئی خاندانوں کے لیے بروقت طبی مدد کا ذریعہ بنتی ہے۔
ارم جٹ اسی نظام کا حصہ ہیں اور عمرکوٹ میں اپنی ذمہ داری ادا کرتے ہوئے ان لوگوں تک پہنچ رہی ہیں جنہیں ہنگامی صورتحال میں فوری طبی مدد کی ضرورت ہوتی ہے۔
حیدرآباد کی تحصیل قاسم آباد میں پوسٹ آفس کے قریب واقع گورنمنٹ گرلز ہائی اسکول میں ان دنوں تزئین و آرائش اور بنیادی سہولیات کی فراہمی کا کام جاری ہے۔
اسکول کی عمارت کے بیرونی حصوں، کلاس رومز اور دالانوں میں مزدور رنگ و روغن کر رہے ہیں، جبکہ اسکول کی ضروری مرمت کا کام بھی کیا جا رہا ہے۔
محکمہ تعلیم سندھ کی جانب سے صوبے کے تمام سرکاری اسکولوں کو بنیادی ضروریات پوری کرنے کے لیے حال ہی میں اسکول اسپیسفک بجٹ جاری کیا گیا ہے۔ اسی بجٹ کے تحت قاسم آباد کے اس گرلز ہائی اسکول میں بھی مختلف بنیادی کام کیے جا رہے ہیں۔
اسکول میں پرانے اور خراب فرنیچر کی مرمت، واش رومز میں پانی کی فراہمی کا انتظام، خراب نلکوں کی تبدیلی اور پرانے دروازوں اور کھڑکیوں کو تبدیل کرنے کا کام کیا جا رہا ہے۔ اس کے علاوہ کلاس رومز، دالانوں اور عمارت کے بیرونی حصوں کو بھی رنگ و روغن کیا جا رہا ہے۔
اسکول کی لائبریری اور کمپیوٹر لیب میں بھی بنیادی سہولیات فراہم کی گئی ہیں۔ طالبات کے لیے ٹیبلٹس بھی رکھے گئے ہیں، جن کے ذریعے مختلف ایپلی کیشنز کی مدد سے مختلف مضامین پڑھائے جاتے ہیں۔
ڈیجیٹل ذرائع کی اس سہولت کے باعث طالبات کو روایتی تدریسی طریقہ کار کے ساتھ ساتھ ٹیکنالوجی کے ذریعے بھی تعلیم حاصل کرنے کا موقع مل رہا ہے۔
تقریباً 750 طالبات والے گورنمنٹ گرلز ہائی اسکول قاسم آباد میں اسکول اسپیسفک بجٹ کے تحت میدان میں نئی بینچیں بھی نصب کی گئی ہیں، جہاں طالبات وقفے کے دوران بیٹھ سکتی ہیں۔
اسکول کی اسسٹنٹ ہیڈمسٹریس شوکت آرا کے مطابق اسکول اسپیسفک بجٹ کے اجرا کے بعد سرکاری اسکولوں میں بنیادی سہولیات اور تعلیمی ماحول مزید بہتر ہوگا اور سرکاری اسکولوں کی مجموعی کارکردگی نجی اسکولوں سے بھی بہتر ہو جائے گی۔
پاکستان میں کاروبار شروع کرنا صرف سرمایہ کاری کرنے کا نام نہیں۔ کسی نئے کاروبار کو رجسٹریشن، لائسنس، اجازت ناموں، سرٹیفکیٹس اور مختلف سرکاری محکموں سے منظوریوں کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔ جب یہ تمام مراحل الگ الگ دفاتر، فارم اور طریقہ کار سے وابستہ ہوں تو کاروباری افراد کو وقت اور رقم خرچ کرنے کے ساتھ ساتھ طویل انتظامی مراحل سے بھی گزرنا پڑتا ہے۔
اسی مسئلے کو کم کرنے کے لیے سندھ حکومت نے سندھ بزنس ون اسٹاپ شاپ، یعنی ’ایس باس‘ قائم کیا ہے۔ یہ ایک مرکزی ڈیجیٹل نظام ہے جس کا مقصد کاروبار سے متعلق مختلف رجسٹریشن، لائسنس، سرٹیفکیٹس اور اجازت ناموں کے حصول کے طریقہ کار کو ایک ہی آن لائن پلیٹ فارم پر لانا ہے۔
ایس باس سندھ انویسٹمنٹ ڈیپارٹمنٹ نے ورلڈ بینک کے تعاون سے چلنے والے ’کمپیٹیٹو اینڈ لائیوایبل سٹی آف کراچی‘ منصوبے کے تحت تیار کیا۔ اس کا باضابطہ آغاز 22 جولائی 2025 کو وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کیا۔
ابتدائی مرحلے میں 9 سرکاری محکموں کی 32 ای لائسنسنگ خدمات آن لائن کی گئیں۔ تاہم منصوبے کا دائرہ ابتدائی خدمات سے کہیں وسیع رکھا گیا ہے۔ سندھ حکومت نے 16 اہم ریگولیٹری اداروں کے طریقہ کار کو آسان بنا کر ایک مربوط ڈیجیٹل نظام میں شامل کرنے کا منصوبہ بنایا ہے، جس کے تحت 130 سے زیادہ ریگولیٹری خدمات کو ڈیجیٹل کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔
ایس باس کا مقصد صرف سرکاری فارم کو آن لائن منتقل کرنا نہیں بلکہ کاروباری افراد اور سرکاری اداروں کے درمیان رابطے کے پورے عمل کو ڈیجیٹل بنانا ہے۔ اس نظام میں آن لائن درخواست جمع کرانے، فیس کی ڈیجیٹل ادائیگی، درخواست کی پیش رفت دیکھنے، ایس ایم ایس اور ای میل کے ذریعے اطلاعات حاصل کرنے، ڈیش بورڈ اور ای سرٹیفیکیشن جیسی سہولیات شامل ہیں۔
نظام کو شناخت کی تصدیق اور ڈیجیٹل ادائیگی کے لیے نادرا، سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان اور ون لنک جیسے قومی نظاموں سے بھی مربوط کیا گیا ہے۔
اس نظام کے تحت کاروباری افراد کو مختلف مراحل کے لیے سرکاری دفاتر کے بار بار چکر لگانے کی ضرورت کم ہوسکتی ہے۔ مطلوبہ دستاویزات، فیس اور درخواست کے طریقہ کار سے متعلق معلومات ایک مرکزی ڈیجیٹل پلیٹ فارم پر دستیاب ہوسکتی ہیں، جبکہ درخواست جمع کرانے کے بعد اس کی حیثیت بھی آن لائن دیکھی جاسکتی ہے۔
منظوری کے بعد متعلقہ دستاویزات ڈیجیٹل شکل میں حاصل کرنے کی سہولت بھی اس نظام کا حصہ ہے۔ اس طرح کاغذی کارروائی اور دستی طریقہ کار پر انحصار کم کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔
یہ سہولت خاص طور پر چھوٹے کاروبار شروع کرنے والے افراد، نئے کاروباری افراد اور سرمایہ کاروں کے لیے اہم ہوسکتی ہے۔ کاروبار شروع کرنے کے ابتدائی مرحلے میں مختلف سرکاری تقاضوں کو پورا کرنے میں لگنے والا وقت اور انتظامی پیچیدگی بعض اوقات کاروباری سرگرمی کے آغاز میں رکاوٹ بن سکتی ہے۔ ایک مربوط ڈیجیٹل نظام کا مقصد انہی مراحل کو آسان اور زیادہ قابل رسائی بنانا ہے۔
نومبر 2025 کی سرکاری پیش رفت کے مطابق 19 میں سے 13 ادارے اس نظام میں شامل ہوچکے تھے، جبکہ 54 ریگولیٹری لائسنس، سرٹیفکیٹس اور دیگر اجازت ناموں کو ڈیجیٹل کیا جاچکا تھا۔ اسی عرصے تک 4,089 ای پرمٹس جاری کیے گئے تھے۔ اس کے بعد مزید خدمات کو نظام میں شامل کرنے کا عمل جاری رہا۔
ایس باس کی اہمیت اس بات میں ہے کہ یہ کاروباری افراد کو مختلف سرکاری محکموں سے متعلق خدمات تک ایک مرکزی پلیٹ فارم کے ذریعے رسائی دینے کی کوشش کرتا ہے۔ اگر مختلف اجازت ناموں، رجسٹریشن اور سرٹیفیکیشن کے مراحل ایک ہی نظام سے منسلک ہوں تو کاروباری افراد کے لیے انتظامی بوجھ کم ہوسکتا ہے اور سرکاری اداروں کے لیے بھی درخواستوں کی نگرانی اور ریکارڈ کو منظم رکھنا آسان ہوسکتا ہے۔
تاہم کسی بھی ڈیجیٹل حکومتی نظام کی کامیابی صرف اس بات سے طے نہیں ہوتی کہ کتنی خدمات آن لائن کردی گئی ہیں۔ اصل اہمیت اس بات کی ہے کہ شہری ان خدمات کو کتنی آسانی سے استعمال کرسکتے ہیں، درخواستوں پر کتنی تیزی سے کارروائی ہوتی ہے، نظام کتنا قابل اعتماد ہے اور مختلف محکموں کے درمیان ڈیجیٹل رابطہ کس حد تک مؤثر رہتا ہے۔
ایس باس اسی وسیع تر تبدیلی کا حصہ ہے جس میں کاروبار سے متعلق سرکاری خدمات کو روایتی دفتری طریقہ کار سے نکال کر ایک مربوط ڈیجیٹل نظام میں منتقل کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔
کم دفاتر کے چکر، کم کاغذی کارروائی، آن لائن ادائیگی، درخواست کی ڈیجیٹل نگرانی اور الیکٹرانک سرٹیفیکیشن جیسے اقدامات کاروباری افراد کے لیے وقت اور انتظامی لاگت کم کرنے میں مددگار ہوسکتے ہیں۔
آسان اور قابل رسائی کاروباری ماحول صرف تاجروں اور سرمایہ کاروں کے لیے سہولت نہیں ہوتا بلکہ اس کا تعلق نئی سرمایہ کاری، کاروبار کے قیام، روزگار کے مواقع اور مجموعی معاشی سرگرمی سے بھی ہوتا ہے۔
سندھ بزنس ون اسٹاپ شاپ اسی مقصد کے تحت سندھ میں کاروباری خدمات کو ایک مرکزی ڈیجیٹل نظام سے جوڑنے کی کوشش ہے، جس کی کامیابی کا اصل پیمانہ یہ ہوگا کہ ایک عام کاروباری شخص کے لیے کاروبار شروع کرنے اور اسے قانونی تقاضوں کے مطابق چلانے کا عمل حقیقت میں کتنا آسان ہوتا ہے۔
ساگا ڈیجیٹل، سندھ میں بدلتی حکمرانی، ٹیکنالوجی اور عوامی سہولت کے پیچھے موجود اصل کہانی آپ تک پہنچاتا ہے۔