سندھ کی سرزمین صدیوں سے تہذیب، ثقافت، روحانیت اور قدرتی حسن کی امین رہی ہے۔ دریائے سندھ کے ڈیلٹا سے لے کر بحیرہ عرب کے ساحلوں تک پھیلے ہوئے جزائر نہ صرف جغرافیائی اہمیت کے حامل ہیں بلکہ ان کا تعلق مقامی آبادیوں کی تاریخ، مذہبی وابستگی، روزگار اور ثقافتی شناخت سے بھی جڑا ہوا ہے۔
انہی جزائر میں ضلع ملیر کے ساحلی علاقے کے قریب واقع شاہ حسن جزیرہ بھی شامل ہے، جو تقریباً 350 ایکڑ رقبے پر مشتمل ایک تاریخی، مذہبی اور ماحولیاتی اہمیت کا حامل مقام ہے۔
گزشتہ چند برسوں کے دوران سندھ کے ساحلی جزائر، خصوصاً ڈنگی اور بھنڈار جزائر، وفاق اور صوبے کے درمیان اختیارات اور ملکیت کے تنازع کا موضوع رہے ہیں۔ ان جزائر پر وفاقی حکومت کی جانب سے ترقیاتی منصوبوں اور سرمایہ کاری کے نام پر پیش رفت کی کوششوں کو سندھ کے سیاسی، سماجی اور قوم پرست حلقوں نے سخت مزاحمت کا سامنا کیا۔
سندھ کے عوام کا مؤقف رہا ہے کہ آئین اور ملکی قوانین کے مطابق سندھ کے ساحلی جزائر صوبہ سندھ کی ملکیت ہیں، لہٰذا ان سے متعلق کسی بھی منصوبے میں صوبائی حکومت اور مقامی آبادی کو اعتماد میں لینا ناگزیر ہے۔
اب ایک مرتبہ پھر شاہ حسن جزیرہ قومی سطح پر بحث کا مرکز بن گیا ہے۔ وفاقی وزارتِ بحری امور کی جانب سے اس جزیرے کو سیاحتی مرکز میں تبدیل کرنے کے اعلان اور بعد ازاں پورٹ قاسم اتھارٹی کی جانب سے درختوں اور جنگلی جھاڑیوں کی صفائی کے لیے این او سی جاری کیے جانے کے بعد مقامی آبادی، سندھ انڈیجینس رائٹس الائنس اور درگاہ کے متولیوں میں شدید تشویش پائی جاتی ہے۔
شاہ حسن جزیرہ محض ایک غیر آباد زمین کا ٹکڑا نہیں، بلکہ یہ ایک ایسی جگہ ہے جہاں تقریباً آٹھ سو برس سے ایک بزرگ ہستی، حضرت شاہ حسنؒ کی درگاہ قائم ہے۔ اس درگاہ کے ساتھ ایک وسیع اور قدیم قبرستان بھی موجود ہے، جہاں سینکڑوں افراد مدفون ہیں۔ مقامی روایات اور خاندانوں کے مطابق اس درگاہ اور قبرستان کا تعلق ملیر کے علاقے رزاق آباد میں آباد سید محمود شاہ کے خاندان سے ہے، جو نسل در نسل اس مذہبی ورثے کی دیکھ بھال کرتے آئے ہیں۔
یہ جزیرہ مقامی لوگوں کے لیے صرف ایک جغرافیائی شناخت نہیں بلکہ ان کی تاریخ، عقیدت اور اجتماعی یادداشت کا حصہ ہے۔ ہر سال سندھ کے مختلف اضلاع سے سینکڑوں زائرین یہاں حاضری دینے آتے ہیں۔ سمندر کے بیچ واقع یہ درگاہ کئی نسلوں سے لوگوں کے لیے روحانی سکون اور عقیدت کا مرکز رہی ہے۔ ایسے میں اگر کسی ترقیاتی منصوبے کے نتیجے میں اس مقام کی ہیئت، ماحول یا تاریخی شناخت متاثر ہوتی ہے تو یہ صرف زمین کا مسئلہ نہیں رہتا بلکہ یہ ثقافتی اور مذہبی حقوق کا معاملہ بھی بن جاتا ہے۔
پورٹ قاسم اتھارٹی کا مؤقف ہے کہ حساس صنعتی علاقوں اور واٹر چینل سے ملحقہ مقامات پر آگ لگنے کے بڑھتے ہوئے خطرات کے پیش نظر جنگلی جھاڑیوں اور کیکر کے درختوں کی صفائی ضروری ہے۔ اتھارٹی کے مطابق جاری کردہ این او سی صرف غیر ضروری جھاڑیوں کی صفائی تک محدود ہے اور اس کا مقصد صنعتی سرگرمیوں اور ماحول کو ممکنہ خطرات سے محفوظ بنانا ہے۔
مزید برآں، نوٹیفکیشن میں یہ وضاحت بھی کی گئی ہے کہ محفوظ، آرائشی یا ماحولیاتی اہمیت کے حامل درختوں کی کٹائی کی اجازت نہیں دی گئی۔
تاہم، مقامی آبادی اور سماجی تنظیموں کے تحفظات اس سے کہیں زیادہ گہرے ہیں۔ سندھ انڈیجینس رائٹس الائنس کے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ ماضی میں بھی ترقیاتی منصوبوں کے نام پر مقامی لوگوں کو ان کی زمینوں، روزگار اور وسائل سے محروم کیا جاتا رہا ہے۔ ان کے مطابق پورٹ قاسم، پاکستان اسٹیل مل، پورٹ قاسم انڈسٹریل زون، ملیر انڈسٹریل پارک، ایجوکیشن سٹی، بحریہ ٹاؤن اور دیگر منصوبوں کے دوران مقامی افراد کو نہ تو مناسب روزگار ملا اور نہ ہی ان کے بنیادی حقوق کا تحفظ یقینی بنایا گیا۔ یہ اعتراض صرف جذباتی نوعیت کا نہیں بلکہ اس کے پیچھے تاریخی تجربات بھی موجود ہیں۔
سندھ کے ساحلی علاقوں میں کئی دہائیوں کے دوران ہونے والی صنعتی اور رہائشی توسیع نے مقامی آبادیوں کے سماجی ڈھانچے، ماہی گیری، زرعی زمینوں اور قدرتی ماحول پر گہرے اثرات مرتب کیے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ شاہ حسن جزیرے کے معاملے میں مقامی لوگ کسی بھی سرکاری اقدام کو شک کی نگاہ سے دیکھ رہے ہیں۔ ماحولیاتی نقطۂ نظر سے بھی یہ معاملہ غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔
شاہ حسن جزیرے پر موجود تمر، دیوی اور دیگر مقامی درخت سمندری ماحولیاتی نظام کا حصہ ہیں۔ یہ درخت نہ صرف سمندری طوفانوں اور مدوجزر کے اثرات کو کم کرنے میں مدد دیتے ہیں بلکہ ساحلی کٹاؤ کو روکنے اور مقامی حیاتیاتی تنوع کو برقرار رکھنے میں بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ ماہرین ماحولیات کے مطابق ساحلی علاقوں میں درختوں کی بے دریغ کٹائی مستقبل میں ماحولیاتی بحران کو جنم دے سکتی ہے۔
اس کے علاوہ، آثارِ قدیمہ اور ثقافتی ورثے کے تحفظ کا پہلو بھی نہایت اہم ہے۔ دنیا بھر میں قدیم مزارات، قبرستانوں اور مذہبی مقامات کو قومی ورثے کے طور پر محفوظ کیا جاتا ہے۔ اگر شاہ حسن کی درگاہ واقعی آٹھ سو برس قدیم ہے تو اس کی باقاعدہ آثارِ قدیمہ کی بنیاد پر تحقیق، دستاویز بندی اور قانونی تحفظ کی ضرورت ہے۔
بدقسمتی سے پاکستان میں کئی تاریخی مقامات عدم توجہی اور منصوبہ بندی کے فقدان کے باعث اپنی اصل شناخت کھو چکے ہیں۔ یہاں بنیادی سوال یہ نہیں کہ ترقی ہونی چاہیے یا نہیں، بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ ترقی کا ماڈل کیا ہو؟ کیا ترقی کا مطلب مقامی آبادی کو نظر انداز کر کے ان کے وسائل پر قبضہ کرنا ہے؟ کیا سیاحت کے فروغ کے نام پر تاریخی مقامات کی اصل روح کو تبدیل کیا جا سکتا ہے؟ اور کیا کسی بھی منصوبے سے قبل متعلقہ فریقین، ماہرین آثارِ قدیمہ، ماہرین ماحولیات اور مقامی نمائندوں سے مشاورت نہیں ہونی چاہیے؟
ایک ذمہ دار حکومت کا کردار یہی ہونا چاہیے کہ وہ تنازعات کو جنم دینے کے بجائے اعتماد سازی کو فروغ دے۔ حکومتِ سندھ کو چاہیے کہ وہ شاہ حسن جزیرے کی ملکیت، تاریخی حیثیت اور قانونی پوزیشن کو واضح کرے۔ اسی طرح وفاقی حکومت اور پورٹ قاسم اتھارٹی پر بھی لازم ہے کہ وہ تمام متعلقہ دستاویزات اور منصوبہ بندی کو عوام کے سامنے لائیں اور اس بات کو یقینی بنائیں کہ کسی بھی ترقیاتی سرگرمی سے درگاہ، قبرستان، قدرتی ماحول اور مقامی آبادی کے مفادات متاثر نہ ہوں۔
ضرورت اس امر کی بھی ہے کہ شاہ حسن جزیرے کو ایک متنازع منصوبے کے بجائے ایک مشترکہ ورثے کے طور پر دیکھا جائے۔ اگر یہاں سیاحت کو فروغ دینا مقصود ہے تو اس کے لیے دنیا کے کامیاب ماڈلز کو اختیار کیا جا سکتا ہے، جہاں مقامی آبادی کو شراکت دار بنایا جاتا ہے، تاریخی مقامات کو اصل حالت میں محفوظ رکھا جاتا ہے اور ماحولیات کے تحفظ کو اولین ترجیح دی جاتی ہے۔
شاہ حسن جزیرہ آج صرف ایک جزیرے کا نام نہیں، بلکہ یہ سندھ کے تاریخی ورثے، مقامی حقوق، ماحولیاتی تحفظ اور وفاق و صوبے کے تعلقات کا ایک اہم امتحان بن چکا ہے۔ آنے والے دنوں میں یہ فیصلہ صرف ایک منصوبے کے مستقبل کا تعین نہیں کرے گا بلکہ اس بات کا بھی تعین کرے گا کہ ہم اپنی تاریخ، اپنے بزرگوں کے آثار اور آنے والی نسلوں کے حق میں کیا فیصلہ کرتے ہیں۔
اگر اس مسئلے کو دانشمندی، شفافیت اور مقامی شمولیت کے اصولوں کے تحت حل کیا گیا تو شاہ حسن جزیرہ سندھ کے لیے ایک مثالی ماڈل بن سکتا ہے۔ لیکن اگر ماضی کی طرح مقامی آوازوں کو نظر انداز کیا گیا تو یہ تنازع نہ صرف شدت اختیار کر سکتا ہے بلکہ ریاستی اداروں اور عوام کے درمیان اعتماد کے فقدان میں مزید اضافہ بھی کر سکتا ہے۔
روہڑی میں واقع تاریخی گانگوٹی فٹبال گراؤنڈ کی تزئین و آرائش کا کام مکمل کر لیا گیا ہے، جہاں جدید مصنوعی فٹبال ٹرف، فلڈ لائٹس، نیا پویلین اور تماشائیوں کے لیے نئی گیلری تعمیر کر دی گئی ہے۔
سندھ حکومت کا کہنا ہے کہ ان اقدامات کا مقصد اس تاریخی کھیل کے میدان کو جدید سہولیات سے آراستہ کرتے ہوئے فٹبال کی سرگرمیوں کو فروغ دینا ہے۔
حکومتی منصوبے کے تحت گراؤنڈ میں مصنوعی فٹبال ٹرف بچھایا گیا ہے، جبکہ فلڈ لائٹس کی تنصیب بھی مکمل ہو چکی ہے، جس کے بعد رات کے وقت بھی فٹبال میچز اور دیگر کھیلوں کی سرگرمیاں منعقد کی جا سکیں گی۔ منصوبے میں نیا پویلین اور تماشائیوں کے لیے نئی گیلری بھی تعمیر کی گئی ہے۔
گانگوٹی فٹبال گراؤنڈ کو سندھ کی کھیلوں کی تاریخ کا اہم ورثہ تصور کیا جاتا ہے۔ یہ میدان ایک زمانے میں نہ صرف شمالی سندھ بلکہ پورے خطے میں فٹبال کا نمایاں مرکز رہا، جہاں ہزاروں شائقین اہم مقابلے دیکھنے کے لیے جمع ہوتے تھے۔
تاریخی ریکارڈ کے مطابق گانگوٹی گراؤنڈ روہڑی کے قدیم ترین کھیل کے میدانوں میں شمار ہوتا ہے۔ انیسویں صدی کے آخر میں یہ علاقہ نشیبی اور جھاڑیوں پر مشتمل تھا، جسے بعد ازاں روہڑی میونسپل کمیٹی نے عوامی کھیلوں کے میدان میں تبدیل کیا۔
سن 1843 میں سندھ پر برطانوی قبضے اور 1878 میں روہڑی تک ریلوے لائن پہنچنے کے بعد برطانوی ریلوے افسران اور ملازمین نے یہاں فٹبال کھیلنا شروع کیا۔ مقامی نوجوان بھی اس کھیل سے وابستہ ہوئے اور دیکھتے ہی دیکھتے روہڑی شمالی سندھ میں فٹبال کا ایک اہم مرکز بن گیا۔
اسی میدان میں بیسویں صدی کے آغاز میں ‘کان کپ’ فٹبال ٹورنامنٹ کی بنیاد رکھی گئی۔ یہ ٹورنامنٹ روہڑی کے معروف معالج ڈاکٹر ہری چندرائے کیسوانی نے اپنے کم عمر بیٹے ‘کان’ کی یاد میں شروع کیا تھا۔ انہوں نے ایک بڑی چاندی کی ٹرافی تیار کروائی اور تقریباً 1925 سے ہر سال 23 دسمبر کو سات روزہ ٹورنامنٹ منعقد کیا جانے لگا۔
کان کپ اپنے دور کے نمایاں فٹبال مقابلوں میں شمار ہوتا تھا، جس میں افغانستان، بہاولپور، کوئٹہ، کراچی، جیکب آباد، خان پور، رحیم یار خان، شکارپور، سکھر اور روہڑی سمیت مختلف علاقوں کی ٹیمیں حصہ لیتی تھیں۔
تاریخی ریکارڈ کے مطابق بعض میچوں میں دس ہزار سے زائد شائقین گانگوٹی گراؤنڈ پہنچتے تھے۔ مقابلوں کے دوران عارضی بازار اور کھانے پینے کے اسٹال بھی لگائے جاتے تھے، جبکہ ضلع سکھر کے فاتح اسکولوں کی ٹیموں کو بھی ٹورنامنٹ میں شرکت کا موقع دیا جاتا تھا، جس سے نوجوان کھلاڑیوں کی حوصلہ افزائی ہوتی تھی۔
دستاویزی شواہد کے مطابق 1936 کے بعد کان کپ اپنے اصل نام سے منعقد نہیں ہوا، تاہم گانگوٹی گراؤنڈ میں فٹبال کی سرگرمیاں جاری رہیں۔ 1972 کے ایک ٹورنامنٹ کی افتتاحی تقریب اور 1974 کے فائنل کی تاریخی تصاویر بھی دستیاب ہیں، جو اس میدان کی مسلسل کھیلوں کی سرگرمیوں کی عکاسی کرتی ہیں۔
تاریخی حوالوں کے مطابق گانگوٹی گراؤنڈ کی زمین ابتدا میں کوٹائی سادات کی ملکیت تھی، جسے بعد ازاں برطانوی دور میں عوامی کھیلوں کے لیے روہڑی میونسپلٹی کے حوالے کر دیا گیا اور یہ شہر کا مرکزی کھیلوں کا میدان بن گیا۔
حکومت سندھ کی جانب سے گانگوٹی فٹبال گراؤنڈ کی بحالی اور جدید سہولیات کی فراہمی کے لیے مختلف ترقیاتی منصوبے مکمل کیے گئے ہیں۔ حکام کے مطابق منصوبوں کا معائنہ سندھ حکومت کے مانیٹرنگ اینڈ ایویلیوایشن سیل نے بھی کیا، جس نے کام کو اطمینان بخش قرار دیا۔ حکام کا کہنا ہے کہ جدید سہولیات کی فراہمی سے روہڑی اور شمالی سندھ میں فٹبال کے فروغ اور نوجوان کھلاڑیوں کو بہتر مواقع فراہم کرنے میں مدد ملے گی۔
سندھ حکومت نے صوبے بھر کے نجی تعلیمی اداروں کو خبردار کیا ہے کہ رجسٹریشن اتھارٹی کی پیشگی منظوری کے بغیر ٹیوشن فیس یا کسی بھی دوسری مد میں اضافہ نہیں کیا جا سکتا۔
حکومت نے واضح کیا ہے کہ اگر کسی اسکول نے مقررہ قواعد کی خلاف ورزی کرتے ہوئے اضافی فیس وصول کی ہے تو اسے فوری طور پر یہ عمل روکنا ہوگا اور والدین سے وصول کی گئی اضافی رقم واپس کرنا ہوگی، بصورت دیگر متعلقہ قوانین کے تحت سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
محکمہ اسکول ایجوکیشن اینڈ لٹریسی سندھ کے ماتحت ڈائریکٹوریٹ آف انسپیکشن اینڈ رجسٹریشن آف پرائیویٹ انسٹی ٹیوشنز کی جانب سے جاری ہدایات میں کہا گیا ہے کہ حالیہ دنوں میں مختلف نجی اسکولوں کے خلاف فیسوں میں غیر معمولی اضافے اور والدین سے منظور شدہ فیس کے علاوہ اضافی رقوم وصول کرنے کی شکایات موصول ہوئی ہیں۔ ان شکایات کی بنیاد پر متعلقہ اداروں کو طلب کرکے ان کا مؤقف سنا گیا اور بعد ازاں تمام نجی اسکولوں کے لیے عمومی ہدایات جاری کی گئی ہیں۔
حکام کے مطابق سندھ پرائیویٹ ایجوکیشنل انسٹی ٹیوشنز (ریگولیشن اینڈ کنٹرول) رولز 2005 کے تحت کسی بھی نجی اسکول کو رجسٹریشن اتھارٹی کی منظوری کے بغیر ٹیوشن فیس بڑھانے کی اجازت نہیں۔ اس قانون کی خلاف ورزی کرنے والے اداروں کے خلاف جرمانے سمیت دیگر قانونی کارروائی کی جا سکتی ہے۔
ڈائریکٹوریٹ نے تمام نجی اسکولوں کو ہدایت دی ہے کہ اگر کسی ادارے نے منظور شدہ فیس سے زیادہ رقم وصول کی ہے تو وہ فوری طور پر اضافی وصولی بند کرے اور والدین کو ان کی رقم واپس کرے۔ اس کے علاوہ متعلقہ اسکولوں کو مقررہ مدت کے اندر عمل درآمد کی رپورٹ اور رقم کی واپسی کے ثبوت بھی جمع کرانے ہوں گے
ڈائریکٹوریٹ آف پرائیویٹ اسکولز کی ایڈیشنل ڈائریکٹر رافعہ ملاح کے مطابق عام طور پر نجی اسکول رجسٹریشن کی تجدید کے وقت ٹیوشن فیس میں سالانہ پانچ فیصد اضافے کی درخواست دیتے ہیں۔ درخواست کا جائزہ لینے کے بعد اگر رجسٹریشن اتھارٹی منظوری دے تو ہی نئی فیس نافذ کی جا سکتی ہے۔ اس کے بغیر کسی بھی قسم کا اضافہ غیر قانونی تصور ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ حکومت نے والدین کی شکایات کو سنجیدگی سے لیا ہے اور واضح پیغام دیا ہے کہ کسی بھی نجی اسکول کو اپنی مرضی سے فیس بڑھانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ اگر کوئی ادارہ ایسا کرتا ہے تو اس کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی ہوگی۔
حکومت کی جانب سے جاری آگاہی مہم میں بھی نجی اسکولوں کو یاد دلایا گیا ہے کہ سالانہ فیس میں زیادہ سے زیادہ پانچ فیصد اضافہ بھی صرف اس صورت میں ممکن ہے جب اس کی باقاعدہ منظوری متعلقہ حکام سے حاصل کی گئی ہو۔ اس سے زیادہ یا منظوری کے بغیر کیا گیا کوئی بھی اضافہ قابل قبول نہیں ہوگا۔
آگاہی مہم میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ تعلیم ہر بچے کا بنیادی حق ہے، کوئی عیاشی نہیں۔ اس لیے نجی تعلیمی اداروں کو چاہیے کہ وہ معیاری تعلیم کو عام لوگوں کی پہنچ میں رکھنے کے لیے ذمہ داری کا مظاہرہ کریں اور ایسے فیصلوں سے گریز کریں جن سے والدین پر غیر ضروری مالی بوجھ پڑے۔
حکومت نے نجی اسکولوں کو ہدایت دی ہے کہ وہ صرف وہی فیس وصول کریں جو ڈائریکٹوریٹ آف پرائیویٹ اسکولز سے منظور شدہ ہو۔ اس کے علاوہ کسی بھی قسم کے پوشیدہ اخراجات، اضافی چارجز یا غیر منظور شدہ رقوم والدین سے وصول نہ کی جائیں۔
سرکلر میں مزید کہا گیا ہے کہ تمام نجی اسکول اپنی منظور شدہ فیس کی تفصیلات نمایاں طور پر اسکول کے نوٹس بورڈ اور استقبالیہ پر آویزاں کریں تاکہ والدین آسانی سے معلوم کر سکیں کہ ان سے وصول کی جانے والی رقم حکومتی منظوری کے مطابق ہے یا نہیں۔
حکام کا کہنا ہے کہ بعض والدین نے شکایت کی تھی کہ ٹیوشن فیس کے علاوہ مختلف عنوانات سے اضافی رقوم طلب کی جا رہی ہیں، جن کی باقاعدہ منظوری موجود نہیں۔ ان شکایات کے بعد حکومت نے تمام نجی تعلیمی اداروں کو متنبہ کیا ہے کہ اس قسم کی وصولیاں فوری طور پر بند کی جائیں۔
سرکلر میں سندھ پرائیویٹ ایجوکیشنل انسٹی ٹیوشنز (ریگولیشن اینڈ کنٹرول) رولز 2005 کے رول 7(4) اور رول 7(6) کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ رجسٹریشن اتھارٹی کی منظوری کے بغیر ٹیوشن فیس یا کسی دوسری مد میں رقم وصول کرنا قانون کی خلاف ورزی ہے۔
اسی طرح سندھ پرائیویٹ ایجوکیشنل انسٹی ٹیوشنز (ریگولیشن اینڈ کنٹرول) آرڈیننس 2001 کی دفعہ 11 کے مطابق خلاف ورزی کرنے والے اداروں پر پانچ لاکھ روپے تک جرمانہ عائد کیا جا سکتا ہے، جبکہ سنگین خلاف ورزی کی صورت میں دفعہ 8 کے تحت اسکول کی رجسٹریشن معطل یا منسوخ بھی کی جا سکتی ہے۔
حکومت نے والدین کو بھی یقین دہانی کرائی ہے کہ اگر کسی اسکول کی جانب سے منظور شدہ فیس سے زیادہ رقم طلب کی جائے تو وہ متعلقہ حکام سے رجوع کریں۔ والدین کو شکایت درج کرانے کے لیے فارم بھی فراہم کیے جائیں گے تاکہ ان کے مسائل کا بروقت ازالہ کیا جا سکے۔
رافعہ ملاح نے کہا کہ نجی تعلیمی اداروں کو چاہیے کہ وہ والدین کے ساتھ منصفانہ اور ذمہ دارانہ رویہ اختیار کریں۔ انہوں نے کہا کہ اسکولوں اور والدین کے درمیان اعتماد اسی وقت قائم رہ سکتا ہے جب تمام مالی معاملات شفاف ہوں اور قوانین پر مکمل عمل کیا جائے۔
تعلیمی ماہرین کے مطابق گزشتہ چند برسوں میں نجی اسکولوں کی فیسوں میں مسلسل اضافے کے باعث متوسط اور کم آمدنی والے خاندان شدید مالی مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔ ان کے نزدیک حکومت کی جانب سے قواعد پر سختی سے عمل درآمد نہ صرف والدین کو ریلیف دے گا بلکہ نجی تعلیمی شعبے میں شفافیت اور احتساب کو بھی فروغ ملے گا۔
والدین نے بھی سندھ حکومت کے اس اقدام کا خیر مقدم کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ فیسوں سے متعلق قوانین پر یکساں عمل درآمد یقینی بنایا جائے، تمام نجی اسکولوں کی نگرانی کی جائے اور ایسے اداروں کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائے جو حکومتی منظوری کے بغیر فیسوں میں اضافہ یا مختلف عنوانات سے اضافی رقوم وصول کرتے ہیں۔
یہ جنرل یحییٰ خان کے مارشل لا کا دور تھا۔ 1970 میں سندھ کی تاریخ میں پہلی مرتبہ چار سندھی نوجوان خواتین کو ون یونٹ کے خلاف احتجاج اور ووٹر فہرستیں سندھی زبان میں شائع کرنے کے مطالبے پر حیدرآباد میں بھوک ہڑتال شروع کرنے کے جرم میں گرفتار کیا گیا۔ بعد ازاں ملٹری کورٹ نے انہیں سزائیں سنائیں اور مختلف جیلوں میں بھیج دیا۔
پاکستان اپنے قیام کے وقت مختلف قومیتوں کے درمیان برابری اور باہمی احترام کی بنیاد پر قائم ہوا تھا، لیکن قیام کے بعد ملک کو مسلسل طاقت، دباؤ، دھاندلی، جوڑ توڑ، نظریہ ضرورت اور مرکزیت پسند سوچ کے تحت چلایا گیا۔ اشرافیہ کو صوبوں کو حاصل محدود خودمختاری بھی گوارا نہ تھی۔
چنانچہ 22 نومبر 1954 کو اس وقت کے وزیراعظم محمد علی بوگرہ نے ون یونٹ کے قیام کا اعلان کیا تاکہ صوبوں کو ختم کر کے ملک کو ایک ہی انتظامی اکائی کے طور پر چلایا جا سکے۔ بعد ازاں 5 اکتوبر 1955 کو گورنر جنرل اسکندر مرزا نے اسے باضابطہ نافذ کر دیا۔
سندھ اسمبلی کے چند ارکان کے سوا اکثر ارکان نے اس سندھ دشمن فیصلے کی حمایت کرتے ہوئے ون یونٹ کے حق میں قرارداد منظور کر لی۔ اس فیصلے نے ملک کی اخوت اور بھائی چارے کی فضا کو شدید متاثر کیا۔ بالخصوص چھوٹے صوبوں نے اسے اپنے حقوق پر ضرب قرار دیا۔
اگرچہ سندھ میں ون یونٹ کے خلاف شدید نفرت موجود تھی، لیکن ابتدا میں کوئی مضبوط عوامی تحریک سامنے نہ آ سکی۔ 4 مارچ 1967 کو سندھ یونیورسٹی جامشورو کے طلبہ کا احتجاج بظاہر وائس چانسلر حسن علی عبدالرحمن کی بحالی اور حیدرآباد کے کمشنر مسرور احسن کی برطرفی کے لیے تھا، لیکن پولیس تشدد اور گرفتاریوں نے پورے سندھ میں احتجاج کی لہر دوڑا دی۔
اس تحریک کی قیادت حیدرآباد اسٹوڈنٹس فیڈریشن کے پلیٹ فارم سے یوسف لغاری، جام ساقی، یوسف ٹالپر، مسعود نورانی، اعجاز قریشی، شکور داؤدپوٹو، میر تھیبو، کامل راجپر، اقبال ترین اور دیگر رہنما کر رہے تھے۔ تحریک اتنی مضبوط ہوئی کہ سائیں جی ایم سید، مخدوم طالب المولیٰ، کامریڈ حیدر بخش جتوئی، رسول بخش پلیجو اور دیگر سیاسی رہنما بھی اس کی حمایت میں آگے آئے۔ ذوالفقار علی بھٹو نے بھی کچھ عرصہ اینٹی ون یونٹ جلسوں میں شرکت کی، مگر بعد میں الگ ہو کر اپنی سیاسی جماعت قائم کر لی۔
طلبہ ہی اس تحریک کی اصل قوت بنے۔ بعد میں 1970 میں ‘زمینوں کی نیلامی بند کرو’ اور ‘ووٹر فہرستیں سندھی زبان میں شائع کرو’ کی تحریک شروع ہوئی۔ گرفتاری دینے کا فیصلہ کیا گیا تو چار سندھی نوجوان خواتین نے حیدرآباد میں اپنی گرفتاریاں پیش کیں۔ جنرل یحییٰ خان کی ملٹری کورٹ نے انہیں سزائیں سنائیں اور مختلف جیلوں میں منتقل کر دیا۔
ان چار بہادر خواتین کا مختصر تعارف درج ذیل ہے۔
اختر بلوچ
اختر بلوچ، معروف انقلابی اور لوک گلوکارہ جیجی زرینہ بلوچ کی صاحبزادی تھیں۔ جب انہوں نے گرفتاری دی تو ان کی عمر صرف انیس برس تھی۔ ملٹری کورٹ نے انہیں سزا سنائی۔ بعد میں انہوں نے جیل کی زندگی پر سندھ کی پہلی خاتون قیدی کی یادداشت ‘قیدیانی کی ڈائری’ تحریر کی، جو ایک اہم تاریخی دستاویز سمجھی جاتی ہے۔ 1972 میں ان کی شادی رسول بخش پلیجو کے چھوٹے بھائی غلام قادر پلیجو سے ہوئی۔ سابق سینیٹر سسئی پلیجو ان کی صاحبزادی ہیں۔
ریاض میمن
ریاض میمن کو ملٹری کورٹ نے سزا دے کر پشاور سینٹرل جیل بھیج دیا۔ رہائی کے بعد ان کی شادی مسعود نورانی سے ہوئی، جو سندھ کی طلبہ تحریک اور 4 مارچ 1967 کے تاریخی واقعے کے اہم رہنماؤں میں شمار ہوتے ہیں۔ مسعود نورانی بعد میں سندھ کے ایڈووکیٹ جنرل بھی رہے۔ ان کی صاحبزادی ایاز لطیف پلیجو کی شریک حیات ہیں۔
نسیم سندھی
نسیم سندھی کا اصل نام نسیم ببر تھا۔ گرفتاری کے وقت ان کی عمر صرف سولہ برس تھی۔ ملٹری کورٹ نے انہیں ایک سال قید کی سزا سنائی۔ وہ حیدرآباد اور سکھر سینٹرل جیلوں میں قید رہیں۔ بعد میں ان کی شادی قومی کارکن یوسف خاصخیلی سے ہوئی، جو ‘پناہ جگر خاصخیلی’ کے نام سے معروف ہوئے۔
نسیم ببر ‘نسیم سندھی’ کے نام سے شہرت پائیں۔ وہ ابتدا میں ہیرآباد، حیدرآباد میں مقیم رہیں۔ شوہر کے انتقال کے بعد ان کی طبیعت ناساز رہنے لگی، جس کے باعث وہ اکثر کراچی میں اپنی صاحبزادی کونج خاصخیلی کے پاس رہتی تھیں۔ 27 ستمبر 2020 کو ان کا انتقال ہوگیا۔
شمیم بہرانی
گرفتاری دینے والی چوتھی نوجوان خاتون شمیم بہرانی تھیں۔ انہیں بھی ملٹری کورٹ نے سزا سنائی اور سکھر سینٹرل جیل بھیج دیا۔ اس وقت ان کی عمر بھی تقریباً سولہ سے بائیس برس کے درمیان تھی۔
ان چاروں نوجوان خواتین نے اپنی سزا کے خلاف رحم کی کوئی اپیل نہیں کی اور اپنی جرات، استقامت اور قومی شعور سے سندھ کی تاریخ میں ایک نئی مثال قائم کی۔
ان خواتین کی گرفتاری کے بعد طلبہ، ادیبوں اور دانشوروں نے بڑے پیمانے پر بھوک ہڑتالیں کیں اور تاریخی احتجاجی جلوس نکالے۔ اس مشترکہ جدوجہد میں سندھ کے مختلف طبقات ایک آواز بن گئے اور بالآخر حکومت کو ون یونٹ کے خاتمے کا اعلان کرنا پڑا۔
سندھ کی تاریخ، زراعت، آبپاشی، آثار قدیمہ اور ماحولیات کے شعبوں میں اگر کسی ایک شخصیت نے غیر معمولی خدمات انجام دیں تو ان میں محمد حسین پنہور، جنہیں عام طور پر ایم ایچ پنہور کے نام سے جانا جاتا ہے، نمایاں مقام رکھتے ہیں۔ وہ ایک ایسے محقق تھے جنہوں نے اپنی پوری زندگی سندھ کی تاریخ، ثقافت، جغرافیہ، زراعت اور آبی وسائل کے مطالعے کے لیے وقف کر دی۔
ان کی علمی خدمات کا دائرہ اتنا وسیع ہے کہ انہیں ‘ون مین سندھالوجسٹ’ یعنی اکیلا سندھ شناس بھی کہا جاتا ہے۔
ایم ایچ پنہور 25 دسمبر 1925 کو ضلع دادو کے گاؤں ابراہیم پنہور میں پیدا ہوئے۔ ان کا تعلق ایک کسان گھرانے سے تھا۔ ابتدائی تعلیم اپنے آبائی علاقے میں حاصل کی جبکہ میٹرک کی تعلیم میہڑ سے مکمل کی۔ تعلیم کے حصول کا شوق بچپن ہی سے ان کی شخصیت کا نمایاں پہلو تھا۔
انہوں نے 1949 میں این ای ڈی انجینئرنگ کالج کراچی (جو کہ بعد میں یونیورسٹی بنا) سے مکینیکل اور الیکٹریکل انجینئرنگ میں بی ایس کی ڈگری حاصل کی اور نمایاں کامیابی کے باعث طلائی تمغہ بھی حاصل کیا۔ بعد ازاں حکومت سندھ کی جانب سے وظیفہ ملنے پر امریکہ کی یونیورسٹی آف وسکونسن سے زرعی انجینئرنگ میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کی۔
اعلیٰ تعلیم مکمل کرنے کے بعد انہوں نے 1953 میں محکمہ زراعت سندھ میں بطور زرعی انجینئر اپنی عملی زندگی کا آغاز کیا۔ اس دور میں سندھ زراعت کے میدان میں کئی چیلنجز سے دوچار تھا۔ آبپاشی، زیر زمین پانی، سیم و تھور اور زرعی مشینری کے مسائل کسانوں کے لیے بڑی مشکلات کا باعث تھے۔ ایم ایچ پنہور نے ان مسائل کے حل کے لیے بھرپور کام کیا اور جلد ہی ایک ماہر انجینئر کے طور پر پہچان حاصل کر لی۔
انہوں نے حکومت سندھ اور بعد ازاں مغربی پاکستان کی حکومت میں مختلف اہم عہدوں پر خدمات انجام دیں۔ 1958 سے 1969 تک وہ سندھ اور بلوچستان کے سپرنٹنڈنگ انجینئر رہے۔ اس عرصے میں انہوں نے زرعی زمینوں کی ہمواری کے لیے سینکڑوں بلڈوزروں کے استعمال کی نگرانی کی، متعدد ورکشاپس قائم کیں، ہزاروں ٹیوب ویل نصب کرائے اور زرعی مشینری کے استعمال کو فروغ دیا۔ ان کی کوششوں سے سندھ میں زیر زمین پانی کے استعمال اور زرعی پیداوار میں نمایاں بہتری آئی۔
ایم ایچ پنہور کو زیر زمین پانی اور آبپاشی کے نظام پر غیر معمولی مہارت حاصل تھی۔ انہوں نے سندھ اور بلوچستان کے آبی وسائل کا تفصیلی سروے کیا اور اس موضوع پر متعدد تحقیقی کتابیں لکھیں۔ ان کی تحقیق نے ماہرین کو یہ سمجھنے میں مدد دی کہ سندھ میں پانی کے ذخائر کس طرح استعمال کیے جا سکتے ہیں اور سیم و تھور کے مسائل پر کس طرح قابو پایا جا سکتا ہے۔
انہوں نے سندھ میں زیر زمین پانی کے موضوع پر 10 کتابیں تحریر کیں، جبکہ تھر اور کوہستان کے صحرائی علاقوں اور انجینئرنگ سے متعلق متعدد تحقیقی مضامین بھی لکھے۔
انہوں نے اپنی اہلیہ فرزانہ پنہور کے ساتھ مل کر بھی تحقیق میں حصہ لیا۔ فرزانہ خود بھی ایک ممتاز سائنس دان، محقق اور زرعی ماہر تھیں۔ انہوں نے زراعت، غذائی سائنس، حیاتی کیمیا اور ماحولیات کے شعبوں میں سو سے زائد تحقیقی مضامین تحریر کیے اور اپنی علمی خدمات کے باعث کئی بین الاقوامی اعزازات حاصل کیے۔
میاں بیوی نے مل کر زراعت اور باغبانی کے مختلف موضوعات پر تحقیق کی اور متعدد مشترکہ مقالات شائع کیے۔ ان کی مشترکہ تحقیق میں پھلوں کی پائیدار کاشت، سندھ میں جھینگا فارمنگ کے امکانات، سمندری پودوں سے خوردنی تیل کی پیداوار، نامیاتی کھاد، زرعی ماحولیات اور پھلوں کی پیداوار میں بہتری جیسے موضوعات شامل تھے۔
فرزانہ پنہور نے ایم ایچ پنہور کے تحقیقی کام میں نہ صرف بھرپور علمی معاونت فراہم کی بلکہ ان کے باغبانی فارم اور تحقیقی منصوبوں میں بھی اہم کردار ادا کیا۔ دونوں نے مل کر سندھ میں سائنسی تحقیق، جدید زراعت اور باغبانی کے فروغ کے لیے گراں قدر خدمات انجام دیں، جن کے اثرات آج بھی زرعی شعبے میں محسوس کیے جاتے ہیں۔
ایم ایچ پنہور 21 اپریل 2007 کو اس دنیا سے رخصت ہو گئے، لیکن ان کی علمی میراث آج بھی زندہ ہے۔ سندھ کی تاریخ پر تحقیق کرنے والا شاید ہی کوئی طالب علم ہوگا جو ان کی کتابوں سے واقف نہ ہو۔ ان کی تحریریں آج بھی جامعات، تحقیقی اداروں اور علمی حلقوں میں حوالہ سمجھی جاتی ہیں۔
ان کے چار بیٹے ہیں۔ رفیع حسین (جو 2004 میں انتقال کر گئے)، طارق حسین، سنی حسین اور محمد علی۔ دو بیٹے، سنی اور طارق، امریکہ میں مقیم ہیں۔ ان کے چاروں بیٹے پہلی اہلیہ سے تھے، جن کا انتقال 1999 میں ہوا، جبکہ ان کی دوسری اہلیہ فرزانہ، جو حیاتی کیمیا (بایو کیمسٹری) کی ماہر تھیں، 2020 میں وفات پا گئیں۔
پھلوں کی نئی اقسام متعارف
1964 میں ایم ایچ پنہور نے پھلوں کی کاشت کے لیے ٹنڈو جام سے تین کلومیٹر دور 109 ایکڑ پر پھیلا ایک باغبانی فارم قائم کیا، جو بعد ازاں 1985 میں ایک تحقیقی مرکز میں تبدیل کر دیا گیا، جہاں سندھ کے موسم کے مطابق پھلوں کی نئی اقسام متعارف کرانے پر کام کیا گیا۔
انہوں نے امریکہ، برازیل، یورپ اور آسٹریلیا سے نئی اقسام منگوائیں اور ان کی آزمائش کی۔ ان تجربات کے نتیجے میں پھلوں کی کئی نئی اور بہتر اقسام متعارف ہوئیں، جن میں لیچی بھی شامل ہے، جو اس سے پہلے سندھ میں زیادہ معروف نہیں تھی۔
انہوں نے آم کی کئی غیر ملکی اقسام بھی متعارف کروائیں اور اپنے فارم پر چالیس سے زائد اقسام کے آم اگائے۔ انہوں نے لو شگر ویرائٹی ‘کیٹ’ (Keitt) متعارف کرائی، جس میں صرف 4 سے 6 فیصد شگر ہوتی ہے اور ذیابیطس کے مریض بھی اس کو استعمال کر سکتے ہیں۔ ایم ایچ پنہور کے بیٹے سنی پنہور کے مطابق یہ ویرائٹی بیرون ملک بھی ایکسپورٹ کی جاتی ہے۔
آم کے علاوہ انہوں نے آڑو، آلوچہ، سیب، ناشپاتی، انگور، انجیر، انار، جاپانی پھل، بیری، بادام اور پیکان جیسے پھلوں کی ایسی اقسام پر تحقیق کی جو سندھ کے گرم موسم میں کامیابی سے اگائی جا سکیں۔ انہوں نے کٹھل، پپیتا، گریپ فروٹ، لیموں اور کیلے کی بہتر اقسام کو بھی فروغ دیا۔
سندھ کی زراعت میں انقلابی اصلاحات
ایم ایچ پنہور نے زراعت، آبپاشی، باغبانی، تاریخ، آثار قدیمہ اور سندھ شناسی پر 40 سے زائد کتابیں تحریر کیں۔ ان کی معروف کتابوں میں ‘کرونولوجیکل ڈکشنری آف سندھ’، ‘سورس میٹریل آن سندھ’، ‘سندھ شناسی’ اور ‘سندھ میں آبپاشی کی چھ ہزار سالہ تاریخ’ شامل ہیں۔ ان کتابوں کو آج بھی محققین اور طلبہ بطور حوالہ استعمال کرتے ہیں۔
انہوں نے ماحولیات اور قدرتی وسائل کے تحفظ پر بھی توجہ دی۔ ان کا خیال تھا کہ سندھ کی ترقی کا انحصار پانی، زمین اور ماحول کے دانشمندانہ استعمال پر ہے۔ انہوں نے بارہا خبردار کیا کہ اگر آبی وسائل کو درست انداز میں استعمال نہ کیا گیا تو مستقبل میں سنگین مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔ آج جب سندھ میں پانی کی قلت ایک بڑا مسئلہ بن چکی ہے تو ان کی کئی باتیں حقیقت بنتی دکھائی دیتی ہیں۔
انہوں نے ‘سندھ میں آبپاشی کی 6000 سالہ تاریخ’ کے نام سے لکھی گئی اپنی کتاب میں دریائے سندھ کے بہاؤ اور اس کی زراعت میں اہمیت پر کھل کر لکھا ہے۔
وہ لکھتے ہیں کہ سندھ کی تاریخ دراصل دریائے سندھ کی پیداوار کی تاریخ اور اس کے بہاؤ میں آنے والی تبدیلیوں کی تاریخ ہے۔ دریائے سندھ کے راستے بدلنے سے اکثر قحط، بھوک، اموات اور حکمران خاندانوں کی تبدیلیاں رونما ہوتی رہی ہیں۔ سندھ کی تقریباً اسی فیصد آبادی دریائے سندھ کے میدانوں میں آباد رہی ہے۔
وہ لکھتے ہیں کہ سندھ جیسے خطے میں زرعی پیداوار کو سمجھنے کے لیے آبپاشی کے نظام کو سمجھنا بھی بہت ضروری ہے۔ 1850 تک آبپاشی کا نظام بہت ابتدائی نوعیت کا تھا اور دریائے سندھ کے بہاؤ کے بارے میں بھی مکمل معلومات موجود نہیں تھیں۔
دریائے سندھ بہتے ہوئے اپنے ساتھ بڑی مقدار میں سلٹ (مٹی) لاتا ہے۔ سیلاب کے موسم میں پانی کے ہر ہزار حصوں میں تقریباً چھ حصے سلٹ شامل ہوتی ہے۔ یہ عمل کئی دہائیوں تک جاری رہتا ہے، جس کی وجہ سے سلٹ کے پہاڑ نما ٹیلے دریا کے دونوں کناروں پر بنتے رہتے ہیں، جس کی وجہ سے دریا اپنے بہاؤ کو تبدیل کرتا رہا ہے۔
ایم ایچ پنہور لکھتے ہیں کہ قدیم زمانے سے لے کر کلہوڑا اور تالپور حکمرانوں تک دریائے سندھ کے بعض پرانے بہاؤ کو نہروں کے طور پر استعمال کیا جاتا رہا۔ جب بھی سیلاب آتا تھا، ان نہروں کے ذریعے پانی دور دراز علاقوں تک پہنچتا تھا۔
1932 میں سکھر بیراج کی نہروں کی منصوبہ بندی بھی انہی قدیم راستوں کو مدنظر رکھ کر کی گئی۔ بعد میں گڈو اور کوٹری بیراج کی نہروں کے لیے بھی انہی قدیم راستوں سے فائدہ اٹھایا گیا۔
سکھر بیراج بننے سے سندھ کی زراعت میں انقلاب برپا ہو گیا۔ بیراج سے نکلنے والے کینالوں نے سندھ کے میدانی علاقے کے تقریباً ساٹھ فیصد حصے کو سیراب کرنا شروع کیا۔ اگلے تیس برسوں میں مزید دو بیراج، گڈو اور کوٹری کے مقام پر تعمیر کیے گئے۔ ان بیراجوں کی تعمیر سے پہلے بہت سی نہروں کے پرانے دہانے آج بھی حفاظتی بندوں کے اندر موجود ہیں اور ماہرین آثار قدیمہ کے لیے خاص دلچسپی کا باعث ہیں۔
بعض پرانی نہریں نئی نہروں میں شامل تو ہو گئیں، لیکن ان کے کچھ حصے آج بھی موجود ہیں۔ اگرچہ ان نہروں کے کناروں پر آباد بہت سی بستیاں اب ختم ہو چکی ہیں اور ان نہروں کی زمینیں دوبارہ کاشت کے لیے استعمال ہونے لگی ہیں، مگر سندھ میں شدید بارشوں کے بعد یہ قدرتی دریائی راستے ظاہر ہو جاتے ہیں اور وہ ایک لمبی جھیل کا منظر پیش کرنے لگتے ہیں۔ مقامی طور پر ان راستوں کو واہڑ اور ڈھورا کہا جاتا ہے، جو کئی علاقوں میں اب بھی موجود ہیں۔
پنہور کے مطابق جب بھی دریائے سندھ اپنا راستہ بدلتا تھا تو متاثرہ علاقوں کا آبپاشی نظام مکمل طور پر تباہ ہو جاتا تھا، جس کے نتیجے میں لوگوں کی ہجرت، بدامنی، بیماریوں، قحط، بھوک اور اموات میں اضافہ ہوتا اور آبادی کم ہو جاتی تھی۔
گزشتہ پانچ ہزار سال کی سندھ کی تاریخ دراصل خوشحالی اور زوال، آبادی میں اضافے اور کمی، حکمران خاندانوں کی تبدیلی، تہذیبوں کے عروج و زوال اور شہروں و بستیوں کے ویران ہونے کی تاریخ ہے۔
سندھ میں کلہوڑا خاندان نے اپنے دارالحکومت کئی مرتبہ تبدیل کیے، جس کی بڑی وجہ دریائے سندھ میں سیلاب اور اس کا سمت تبدیل کرنا ہوتا تھا۔ کلہوڑا دور کی باقیات سندھ کے کئی علاقوں میں اب بھی موجود ہیں، جیسا کہ ضلع دادو میں خیرپور ناتھن شاہ کے قریب میاں نصیر خان کا مقبرہ اور قبرستان، خدا آباد میں میاں یار محمد کلہوڑو کا مقبرہ اور جامع مسجد، ضلع مٹیاری میں ہالا کے قریب خدا آباد میں کلہوڑا قبرستان، اور حیدرآباد میں میاں غلام شاہ کا مقبرہ، پکا قلعہ اور کلہوڑا قبرستان آج بھی قائم ہیں۔
ماضی میں دریا کی سمت میں تبدیلی کی ان تباہیوں کے بعد زمین پر کھنڈرات کے ڈھیر باقی رہ جاتے تھے، جنہیں سندھ میں عام طور پر ‘دڑو’ کہا جاتا ہے، جیسا کہ موہن جو دڑو، کاہو جو دڑو۔ ان دڑوں میں مٹی کے برتنوں کے ٹکڑے، پکی اینٹیں اور دیگر قدیم اشیا بکھری ہوئی ملتی ہیں۔
سندھ میں حفاظتی بند تعمیر ہونے سے پہلے دریائے سندھ ہر بڑے سیلاب کے دوران اپنے کناروں سے نکل کر دور دراز علاقوں تک پھیل جاتا تھا، جس کے نتیجے میں متعدد بستیاں صفحۂ ہستی سے مٹ جاتیں، جبکہ لوگ محفوظ مقامات کی طرف ہجرت کرنے پر مجبور ہو جاتے تھے۔ اسی وجہ سے دادو اور جامشورو اضلاع میں آج بھی کئی قدیم دیہات قدرتی یا مصنوعی مٹی کے اونچے ٹیلوں پر آباد ہیں۔ سیہون کے قریب بوبک، بختیارپور اور آراضی ایسی تاریخی بستیاں ہیں جو آج بھی بلند مقامات پر قائم ہیں اور ماضی کے تباہ کن سیلابوں کی یاد دلاتی ہیں۔
ایم ایچ پنہور کے مطابق دریائے سندھ کے کناروں پر موجود گھنے جنگلات سیلابی پانی کے بہاؤ کو متوازن رکھنے میں اہم کردار ادا کرتے تھے۔ ان کے خیال میں جنگلات سیلابی میدانوں میں پانی کی رفتار کم کر دیتے تھے، جبکہ دریا کے اصل دھارے میں پانی کا بہاؤ نسبتاً تیز رہتا تھا، جس سے دریا کا قدرتی راستہ زیادہ مستحکم رہتا تھا۔
تاہم دریائے سندھ میں پانی کی مسلسل کمی اور حکومتوں کی ماحول دشمن پالیسیوں کے باعث سندھ کے وسیع دریائی جنگلات تقریباً ختم ہو چکے ہیں۔ ماہرین ماحولیات کے مطابق ان جنگلات کی تباہی نے نہ صرف ماحولیاتی توازن کو متاثر کیا بلکہ گرمیوں میں سندھ کے درجہ حرارت میں غیر معمولی اضافے کی ایک بڑی وجہ بھی یہی ماحولیاتی تبدیلی بنی ہے۔
تحقیق اور تاریخ میں دلچسپی
1969 میں ایم ایچ پنہور نے سرکاری ملازمت چھوڑ دی اور نجی مشاورت کا شعبہ اختیار کیا۔ انہوں نے ایک کنسلٹنسی ادارہ قائم کیا جو آبپاشی، نکاسی آب، زراعت، باغبانی اور سائنسی آلات کے شعبوں میں خدمات فراہم کرتا تھا۔ تاہم ان کی اصل پہچان صرف انجینئر نہیں بلکہ ایک تاریخ کے محقق اور دانشور کی تھی۔
سرکاری ملازمت سے فراغت کے بعد انہوں نے اپنی توانائیاں تحقیق اور تصنیف کے لیے وقف کر دیں۔
پنہور کو سندھ کی تاریخ سے غیر معمولی دلچسپی تھی۔ نوجوانی کے زمانے میں انہوں نے سندھ کے معروف مؤرخین کی کتابیں پڑھنا شروع کیں اور پھر عمر بھر اس شعبے سے وابستہ رہے۔ ان کا ماننا تھا کہ سندھ کی تاریخ کو سائنسی بنیادوں پر دوبارہ مرتب کرنے کی ضرورت ہے۔
اسی سوچ کے تحت انہوں نے قدیم دستاویزات، تاریخی حوالوں، آثار قدیمہ، جغرافیہ اور دریائے سندھ کے قدیم راستوں کا تفصیلی مطالعہ کیا۔
انہوں نے سندھ میں اپنی سرکاری ملازمت کے دوران سندھ کے چپے چپے کو چھان مارا اور قدیم آثار اور تاریخ پر مضامین اور کتابیں تحریر کیں۔ ان کے صاحبزادے سنی پنہور کے مطابق تاریخ نویسی کے میدان میں ان کا سب سے بڑا کارنامہ یہ تھا کہ انہوں نے سندھ کی تاریخ کو محض روایتی داستانوں کے بجائے تحقیقی اور سائنسی انداز میں پیش کرنے کی کوشش کی۔
سنی پنہور کہتے ہیں کہ ان کے والد سندھ کی سائنسی تاریخ نویسی کے بانیوں میں شمار ہوتے ہیں۔ انہوں نے قدیم سندھ کی تہذیب، دریائے سندھ کے بہاؤ، قدیم شہروں، قدیم ریاستوں اور مختلف ادوار کے سیاسی و سماجی حالات پر گہری تحقیق کی۔ ان کی تصانیف کی تعداد درجنوں میں ہے۔
اپنی سوانح حیات میں ایم ایچ پنہور لکھتے ہیں کہ ان کی نظر میں تاریخ صرف بادشاہوں، جرنیلوں، جنگوں اور قتل عام کی کہانی نہیں ہوتی بلکہ یہ عام لوگوں کی محنت، پیداوار اور زندگی کی تاریخ ہوتی ہے۔ سندھ کی تاریخ پر اس کے جغرافیے، ارضیات، ماحولیات، آب و ہوا، مٹی، آبپاشی کے پانی، نہروں، زیر زمین پانی، اس کے معیار اور مقدار، دریائے سندھ کے پانی اور اس کے بدلتے ہوئے راستوں کا گہرا اثر رہا ہے۔
اسی طرح زمین کی زرخیزی اور اس کی صلاحیت بھی اہم رہی ہے، جس کے ذریعے خوراک، چارہ، ریشہ، ایندھن، پھل، سبزیاں، لکڑی، صنعتی فصلیں اور مویشی پالے جاتے رہے ہیں۔
ایم ایچ پنہور کی علمی خدمات کے اعتراف میں حکومت پاکستان نے انہیں 1992 میں تمغۂ امتیاز سے نوازا۔ اس کے علاوہ مختلف جامعات، زرعی اداروں اور علمی تنظیموں نے انہیں متعدد اعزازات اور لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈز دیے۔ انہیں پاکستان کے ممتاز ماہر باغبانی، محقق اور سندھ شناس کے طور پر تسلیم کیا گیا۔
ان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ ایک ہی وقت میں انجینئر، مورخ، ماہر آثار قدیمہ، ماہر ماحولیات، زرعی سائنس دان اور مصنف تھے۔ یہ خصوصیت بہت کم شخصیات میں پائی جاتی ہے۔ انہوں نے مختلف علوم کو آپس میں جوڑ کر سندھ کی تاریخ اور ترقی کو سمجھنے کی کوشش کی۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے کام کو آج بھی منفرد حیثیت حاصل ہے۔
سندھ کی تہذیب کے عروج و زوال میں دریا کا کردار
وہ لکھتے ہیں کہ موہن جو دڑو اچانک ختم نہیں ہوا تھا۔ تقریباً 2000 قبل مسیح میں شدید خشک سالی کے باعث بارشوں میں ساٹھ فیصد یا اس سے زیادہ کمی آ گئی، جس کی وجہ سے یہ شاہکار تہذیب بتدریج زوال کا شکار ہوئی۔ دریائے سندھ میں پانی کی مقدار بھی کم ہو گئی۔ دیگر مقامی دریا، جیسا کہ سرسوتی، درشدوتی اور ہاکڑہ کا آبی نظام بھی خشک سالی کی وجہ سے سوکھ گیا۔
مشرقی نارا اسی نظام کا جنوبی حصہ تھا۔ گندم اور جو کی سردیوں کی کاشت میں نمایاں کمی آ گئی۔ لوگوں نے مویشی پالنے کے خانہ بدوش طرز زندگی کو اختیار کرنا شروع کر دیا۔
ان کے مطابق موہن جو دڑو کی مکمل تباہی کے بعد وہ تہذیب ایک نئی شکل میں تبدیل ہوئی جسے ‘جھوکر تہذیب’ کہا جاتا ہے۔ موہن جو دڑو کے شہر کو تقریباً 1650 قبل مسیح میں ترک کر دیا گیا۔ لکھنے کا فن بھی رفتہ رفتہ ختم ہوتا گیا اور تقریباً 300 قبل مسیح تک یہ تقریباً ناپید ہو چکا تھا، جو شدید خشک ماحول کے آغاز کے ساتھ موافق تھا۔
لاڑکانہ شہر سے تقریباً 10 کلومیٹر مغرب کی جانب، گاؤں مٹھو دیرو کے قریب جھوکر جو دڑو واقع ہے۔ اس قدیم آثار کے مقام کو برطانوی دور کے ماہر آثار قدیمہ این جی مجمدار نے 1928 میں دریافت کیا اور یہاں کھدائی کرائی۔ جھوکر جو دڑو سے ہڑپہ تہذیب کے آخری دور، جسے کاپر دور (چالکولیتھک دور) بھی کہا جاتا ہے، کے آثار بھی ملے ہیں۔
قدیم زمانے میں دریائے سندھ کی ایک شاخ اس دڑے کے قریب سے گزرتی تھی اور اسی کے کنارے جھوکر کا قدیم شہر آباد تھا۔ اس کے علاوہ یہاں سے ایک قدیم تجارتی راستہ بھی گزرتا تھا، جو مغرب سے سندھ کی طرف آتا تھا۔
پنہور صاحب کے مطابق جھوکر تہذیب موہن جو دڑو تہذیب کی ایک کمزور اور زوال پذیر شکل تھی۔ اس کے باوجود ماہرین آثار قدیمہ ان دونوں کے درمیان تعلقات کے واضح شواہد دیکھ سکتے ہیں۔ عام لوگ اور حکومتیں اکثر یہ نہیں سمجھتیں کہ خشک سالی پوری قوموں اور تہذیبوں کو تباہ کر سکتی ہے۔ ا
نہوں نے یہ مثال اس لیے دی ہے کہ تاریخ کو سمجھنے کے لیے کئی دوسرے علوم کی بھی ضرورت ہوتی ہے۔ اگر ان علوم کا مطالعہ نہ کیا جائے تو تاریخ کی درست تصویر ہمارے سامنے نہیں آ سکتی اور حقیقت مسخ ہو سکتی ہے۔
پنہور صاحب لکھتے ہیں کہ کلائمیٹ چینج نے وادی سندھ کو صدیوں پہلے سے متاثر کرنا شروع کیا۔ تاریخی حوالوں سے انہوں نے لکھا ہے کہ دریائے سندھ میں پانی کی کمی کے ساتھ ساتھ موسمیاتی تبدیلی نے اس علاقے کی زراعت کو شدید متاثر کیا ہے۔
اپنی انگریزی کتاب ‘سندھ اسٹڈیز’ میں پنہور لکھتے ہیں کہ آب و ہوا نے ہمیشہ انسانی زندگی پر گہرا اثر ڈالا ہے۔ اسی نے یہ طے کیا کہ لوگ کہاں شکار کریں، کہاں رہائش اختیار کریں، کس قسم کا لباس پہنیں اور کن علاقوں میں زراعت کریں۔
تقریباً ساڑھے چار ہزار سال پہلے وادی سندھ کے شہروں میں زیادہ تر مکانات پکی اینٹوں یا پتھر کی بنیادوں پر اینٹوں سے تعمیر کیے جاتے تھے، کیونکہ اس وقت موسم نسبتاً خشک اور گرم تھا۔ گھروں کی دیواریں موٹی ہوتی تھیں اور ان پر مٹی کا پلستر کیا جاتا تھا تاکہ اندرونی حصہ شدید گرمی سے محفوظ رہے۔ اسی وجہ سے گھروں میں کھڑکیاں بھی کم رکھی جاتی تھیں۔
اس دور میں سندھ کے گھروں میں روشندان بھی نہیں بنائے جاتے تھے تاکہ شمال سے آنے والی سرد ہوائیں اندر داخل نہ ہوں۔
بعد ازاں، تقریباً سن 1500 تک سندھ میں گھروں کی تعمیر کا انداز بدل گیا۔ گھروں کے جنوبی رخ پر برآمدے بنائے جانے لگے تاکہ کمروں کو دھوپ سے بچایا جا سکے اور گرمیوں میں جنوب سے آنے والی ٹھنڈی ہواؤں سے فائدہ اٹھایا جا سکے۔ اس زمانے میں گھروں کے جنوب یا مغرب کی جانب کھڑکیاں اور روشندان کم رکھے جاتے تھے تاکہ سردیوں میں شمال سے آنے والی ٹھنڈی ہواؤں سے بچاؤ ممکن ہو۔
جنوبی سندھ میں، خاص طور پر حیدرآباد سمیت مانجھند سے جنوب کے علاقوں میں، کچھ عرصہ پہلے تک ہوا پکڑنے والے خصوصی مینار، جن کو سندھی میں ‘منگھ’ (ونڈ کیچر) کہا جاتا تھا، بنائے جاتے تھے، جو گرمیوں میں جنوب مغرب سے آنے والی ہواؤں کو گھروں کے اندر لے آتے تھے۔ تاہم کراچی میں ایسے ونڈ کیچر عام نہیں تھے، کیونکہ یہاں مستقل بنیادوں پر سمندر اور خشکی سے باری باری ہوائیں چلتی تھیں، اس لیے مغرب کی جانب کھلے مکانات زیادہ موزوں سمجھے جاتے تھے۔
سندھ کی قدیم قوم، موہانا یا سولنگی
ایم ایچ پنہور کے مطابق ماہی گیر یا ماچھی (جن کو سولنگی بھی کہا جاتا ہے) دراصل ماہی گیر ہی ہیں، جو سندھ کی سب سے قدیم قوم ہیں۔ ماہی گیری کا کام کرنے والوں کو سندھ میں کئی ناموں سے پکارا جاتا ہے، جیسا کہ ملاح، موہانا یا میربحر۔
ان کے مطابق غالب امکان ہے کہ یہ موہانا موہن جو دڑو کے زمانے کے ماہی گیر تھے اور بحیرہ عرب کے راستے دلمون (موجودہ بحرین) اور خلیج فارس سے ہوتے ہوئے میسوپوٹیمیا تک سفر کرتے تھے۔ اس زمانے میں سندھ کو ‘میلوہا’ بھی کہا جاتا تھا۔ ممکن ہے کہ یہ نام ‘موہانا’ سے نکلا ہو یا موہانا لفظ بعد میں میلوہا سے بنا ہو۔ دونوں الفاظ کا مطلب ماہی گیر یا کشتی چلانے والے لوگوں سے متعلق ہے۔
وہ یاد کر کے لکھتے ہیں کہ 1970 تک سولنگی یا ماچھی لوگ ہر سال موہن جو دڑو کے سامنے ایک جگہ جمع ہوتے تھے اور ایک پیر کی قبر کے قریب رات بھر گانا، رقص اور بعض روایتی رسومات ادا کرتے تھے۔
پاکستان فشر فوک فورم کے جنرل سیکریٹری اور منچھر جھیل کے ماہی گیروں کے رہنما مصطفیٰ میرانی کے مطابق ماہی گیری سے وابستہ برادریوں کے مختلف نام دراصل ان کی سماجی حیثیت میں تبدیلی کی عکاسی کرتے ہیں۔
ان کے بقول، جب کسی ماہی گیر خاندان کی معاشی اور سماجی حالت بہتر ہوتی تو وہ ‘ماچھی’ کے بجائے ‘سولنگی’ کہلانے لگتا، جبکہ ‘ملاح’ برادری کے بعض خاندان وقت کے ساتھ ‘میرانی’ کے نام سے پہچانے جانے لگے۔ یہ تبدیلی دراصل معاشرے میں زیادہ باوقار شناخت حاصل کرنے کی ایک کوشش تھی۔
موہانا لوگوں کی معیشت دریائے سندھ کے بہاؤ کے استحکام پر منحصر تھی۔ جب دریا اپنا راستہ بدل لیتا تھا تو مال بردار اور مسافر بردار کشتیوں کے مالکان کا کاروبار کئی دہائیوں تک متاثر رہتا تھا، یہاں تک کہ لوگ دریا کے نئے بہاؤ کے کنارے دوبارہ آباد ہو جاتے۔ وہ ماہر ماہی گیر تھے اور ممکن ہے بعض اوقات سمندری قزاقی بھی کرتے ہوں۔
وہ لکھتے ہیں کہ جب بھی دریائے سندھ نے اپنا راستہ بدلا، ماہی گیروں کو معاشی نقصان اٹھانا پڑا کیونکہ نئے راستے کے کناروں پر آبادیاں موجود نہیں ہوتی تھیں اور تجارت و سامان کی نقل و حمل رک جاتی تھی۔ سکندر اعظم کے حملے کے بعد تقریباً سن 700 سے 1758 تک دریائے سندھ میں بڑی تبدیلیاں رونما ہوئیں، جن کے نتیجے میں زیر زمین کاشت رقبہ، آبادی اور تجارت میں نمایاں کمی آئی۔
دریا کے معمولی راستہ تبدیل کرنے کے واقعات بھی سندھ کے تمام لوگوں کو متاثر کرتے تھے، لیکن غالباً موہانا یا سولنگی برادری سب سے زیادہ نقصان اٹھاتی تھی۔
انگریز دور میں ریلوے کی آمد سے پہلے دریائے سندھ کے دونوں کناروں پر متعدد بندرگاہیں، جن کو مقامی طور پر ‘پتن’ کہتے تھے، موجود تھیں۔ ریلوے آنے سے پہلے بھی انڈس اسٹیم بوٹ فلوٹیلا (1843 تا 1878) نے موہانوں کے روایتی کاروبار کو تقریباً 35 سے 40 سال تک متاثر کیا۔ بعد ازاں ریلوے شروع ہونے پر کشتیوں کے ذریعے تجارت دس فیصد سے بھی کم رہ گئی اور بہت سے ماہی گیر بے روزگار ہو گئے۔
سولنگی یا موہانا برادریاں اگرچہ مذہب کے اعتبار سے مسلمان تھیں، لیکن عملی طور پر انہیں معاشرے میں وہی امتیازی سلوک برداشت کرنا پڑتا تھا جو اچھوت سمجھی جانے والی سناتن یا ہندو مذہب کی ذاتوں (شیڈول کاسٹس) کے ساتھ روا رکھا جاتا تھا۔ انہیں سماجی تفریق، محرومی اور کمتر حیثیت کا سامنا رہتا تھا۔
ایم ایچ پنہور اپنی سوانح حیات میں اپنے بچپن کے ایک سیلاب کی صورتحال کا تفصیلی طور پر ذکر کرتے ہیں۔ 1930 کے جولائی کے آخر میں دریائے سندھ نے گاؤں رادھن کے قریب، نو گوٹھ کے سامنے حفاظتی بند توڑ دیا اور چودھویں اور پندرھویں صدی کے اپنے قدیم راستے پر بہنے لگا۔ دریا کا پانی مہا، جوبرجی، ستیارو، پیر گھنیو اور ٹلٹی کی جھیلوں سے گزرتا ہوا دوبارہ دریائے سندھ کے مرکزی بہاؤ میں جا ملا۔
‘سیلابی پانی نے ہمارے گاؤں کو چاروں طرف سے گھیر لیا، لیکن میرے ماموں محمد صالح کی بروقت کوششوں سے گاؤں بچ گیا۔ انہوں نے فوری طور پر لوگوں کو جمع کیا اور گاؤں کے گرد حفاظتی بند تعمیر کروا دیا۔ اس بند کی خاص بات یہ تھی کہ اس کی دونوں اطراف مناسب ڈھلوان تھی اور اوپر کی چوڑائی اتنی تھی کہ اس پر بیل گاڑی بھی آسانی سے گزر سکتی تھی،’ انہوں نے اپنی سوانح حیات میں لکھا۔
پورا گاؤں خالی کرا لیا گیا تھا اور صرف چند مرد وہاں رہ گئے تھے۔ ‘میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ کشتیاں لوگوں، مویشیوں اور گھریلو سامان کو محفوظ مقامات پر منتقل کر رہی تھیں۔ اس عمر میں مجھے سیلاب سے ہونے والے معاشی نقصان کا کوئی اندازہ نہیں تھا۔’
وہ لکھتے ہیں کہ اس واقعے کے بعد دریائے سندھ کے بارے میں ان کی دلچسپی مسلسل بڑھتی چلی گئی۔ دریا کو سمجھنے کے لیے ان کو جغرافیہ، آبی وسائل، پانی کے بہاؤ کے اصول، نہری نظام، آبپاشی، نکاسی آب، دریا اور نہروں سے پانی کے رساؤ، دریاؤں کے اپنے راستے بنانے اور بدلنے کے عمل، کٹاؤ، ڈیلٹا کی تشکیل، ماضی کی موسمی تبدیلیوں اور ان کے دریائے سندھ پر اثرات کا مطالعہ کرنا پڑا۔
‘اس کے ساتھ ساتھ میں نے یہ جاننے کی کوشش بھی کی کہ دریا راستے کیوں بدلتا ہے، بستیاں کیوں ویران ہوتی ہیں، آبادی کیوں نقل مکانی کرتی ہے، ان تبدیلیوں سے سماجی بے چینی کیسے جنم لیتی ہے، حکومتیں اور حکمران خاندان کیسے بدلتے ہیں، بیرونی مداخلت کیا اثرات مرتب کرتی ہے، اور ان تمام عوامل نے لوگوں کی زندگی، خوراک، زراعت، مویشی پالنے اور جنگلات پر کیا اثر ڈالا۔’
پنجاب اور سندھ کے بالائی علاقوں میں متعدد بیراجوں کی تعمیر کے بعد دریائے سندھ کی شاندار ماہی گیری کا دور عملاً ختم ہو گیا۔ سندھی ماہی گیر اب دریائے سندھ اور اس سے وابستہ تقریباً 22 لاکھ 12 ہزار ایکڑ رقبے پر پھیلے قدرتی آبی علاقوں میں پہلے کی طرح مچھلی کا شکار نہیں کر سکتے تھے۔ سندھ کے ماہی گیر پنجاب اور خیبرپختونخوا کے دریائے سندھ کے شمالی علاقوں میں ہجرت کر گئے اور آج بھی ان کی کئی نسلیں وہاں آباد ہیں۔
صرف ماہی گیر ہی نہیں، بلکہ دیہی آبادی بھی جانوروں سے حاصل ہونے والی پروٹین کے سب سے سستے اور معیاری ذریعے، یعنی مچھلی، سے محروم ہو گئی۔
وہ لکھتے ہیں: ‘مجھے یاد ہے کہ 1935 میں مچھلی کی قیمت بکرے کے گوشت سے بھی نصف سے کم ہوتی تھی۔ اس زمانے میں اگرچہ سردیوں میں دریائے سندھ میں پانی کم ہوتا تھا، لیکن گرمیوں میں پانی کی کوئی کمی نہیں ہوتی تھی۔ گرمیوں کا اضافی پانی جھیلوں کو بھر دیتا تھا اور سردیوں میں معمولی مقدار میں پانی بھی اس پورے آبی نظام اور مچھلی کی دولت کو برقرار رکھنے کے لیے کافی ہوتا تھا۔’
تاہم آج صورتحال یکسر بدل چکی ہے۔ دریائے سندھ میں پانی کی مسلسل کمی نے نہ صرف ماہی گیری کے شعبے کو شدید نقصان پہنچایا ہے بلکہ سندھ کی زراعت بھی سنگین بحران سے دوچار ہے۔ خصوصاً خریف کی فصلوں کو مطلوبہ مقدار میں آبپاشی کا پانی میسر نہ ہونے کے باعث زرعی پیداوار میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے، جس کے اثرات کسانوں کی آمدنی، دیہی معیشت اور صوبے کی غذائی پیداوار پر بھی واضح طور پر محسوس کیے جا رہے ہیں۔
ایم ایچ پنہور انسٹی ٹیوٹ آف سندھ اسٹڈیز
ایم ایچ پنہور کی علمی خدمات کو محفوظ رکھنے کے لیے حکومت سندھ کے محکمہ ثقافت اور سندھ یونیورسٹی کے تعاون سے جامشورو میں ایم ایچ پنہور انسٹی ٹیوٹ آف سندھ اسٹڈیز قائم کیا گیا ہے۔ سندھ یونیورسٹی میں تین ایکڑ پر محیط یہ ادارہ ایم ایچ پنہور ٹرسٹ کے تحت ان کے خاندان کی کوششوں سے وجود میں آیا۔
اس کا مقصد سندھ کی تاریخ، ثقافت، ادب، آثار قدیمہ، ماحولیات اور سماجی علوم پر تحقیق کو فروغ دینا اور اس علمی ورثے کو آنے والی نسلوں تک محفوظ انداز میں پہنچانا ہے۔
پنہور کی سب سے بڑی پہچان ان کی غیر معمولی ذاتی لائبریری بھی تھی۔ انہوں نے اپنی پوری زندگی میں تقریباً پچاس ہزار نایاب اور اہم کتابیں جمع کیں، جن میں تاریخ، زراعت، انجینئرنگ، ماحولیات، آبی وسائل اور سندھ شناسی سمیت متعدد موضوعات شامل تھے۔ یہ صرف ایک ذاتی کتب خانہ نہیں بلکہ علم و تحقیق کا ایک منفرد خزانہ تھا۔
ان کے فرزند سنی پنہور کے مطابق یہ لائبریری حیدرآباد کے علاقے لطیف آباد میں واقع ان کے گھر کے ایک حصے میں قائم تھی، مگر شدید بارشوں اور سیلاب کے باعث اسے بڑا نقصان پہنچا۔ پنہور نے اپنی نگرانی میں کتابوں کی بحالی کی بھرپور کوشش کی، لیکن بے شمار نایاب کتابیں ضائع ہو گئیں۔ ان کی وفات کے بعد خاندان نے سندھ یونیورسٹی سے درخواست کی کہ اس قیمتی ذخیرۂ علم کو محفوظ رکھنے کے لیے جامعہ میں جگہ فراہم کی جائے۔
سابق وائس چانسلر مرحوم مظہر الحق صدیقی نے اس مقصد کے لیے تین ایکڑ زمین مختص کی، جبکہ محکمہ ثقافت سندھ کے مالی تعاون سے ادارے کی عمارت تعمیر کی گئی۔
آج یہ ادارہ سندھ سے متعلق نایاب کتابوں، مخطوطات، نقشوں، تاریخی دستاویزات اور تحقیقی مواد کو ڈیجیٹل شکل میں محفوظ کر رہا ہے، تاکہ محققین، طلبہ اور عام قارئین آسانی سے اس سے استفادہ کر سکیں۔ اس کے ساتھ ساتھ ادارہ سیمینارز، کانفرنسوں، تحقیقی منصوبوں اور علمی اشاعتوں کے ذریعے سندھ کے علمی اور ثقافتی ورثے کے تحفظ اور فروغ میں بھی اہم کردار ادا کر رہا ہے۔
جون 2003 میں ایم ایچ پنہور نے سندھ کی علمی اور سماجی ترقی کے لیے ایک ٹرسٹ بھی قائم کیا۔ انہوں نے اپنی جائیداد، لائبریری، دفتر اور دیگر اثاثے اسی ٹرسٹ کے نام وقف کر دیے تاکہ آنے والی نسلیں ان کے علمی سرمائے سے فائدہ اٹھا سکیں۔ یہ فیصلہ ان کی علم دوستی، دور اندیشی اور سندھ سے گہری وابستگی کا ایسا ثبوت ہے جو آج بھی ان کے نام کو زندہ رکھے ہوئے ہے۔
ایم ایچ پنہور اپنی زندگی کے آخری دنوں تک زراعت اور باغبانی کے شعبوں میں سرگرم رہے۔ وہ زمین، پانی، آبپاشی، زراعت، فصلوں کی پیداوار، بعد از برداشت طریقۂ کار (پری ہارویسٹ اور پوسٹ ہارویسٹ) اور دیگر زرعی موضوعات پر گہری تحقیق کرتے رہے۔ انہوں نے ان موضوعات پر سیکڑوں تحقیقی مضامین اور متعدد کتابیں لکھیں، جو آج بھی سندھ کی تاریخ، زراعت اور ترقی کے حوالے سے اہم معلومات کا ذریعہ سمجھی جاتی ہیں۔
ایم ایچ پنہور کی زندگی اس بات کی روشن مثال ہے کہ ایک فرد اپنی محنت، تحقیق اور علم دوستی کے ذریعے پورے معاشرے پر گہرے اثرات مرتب کر سکتا ہے۔ انہوں نے سندھ کے ماضی کو سمجھنے، حال کے مسائل کی نشاندہی کرنے اور مستقبل کے لیے رہنمائی فراہم کرنے میں جو کردار ادا کیا، وہ ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔
ان کی شخصیت نہ صرف سندھ بلکہ پورے پاکستان کے علمی ورثے کا ایک اہم باب ہے۔ آج بھی جب سندھ کی تاریخ، زراعت، آبپاشی یا ماحولیات کا ذکر ہوتا ہے تو ایم ایچ پنہور کا نام احترام سے لیا جاتا ہے اور ان کی خدمات آنے والی نسلوں کے لیے مشعل راہ بنی ہوئی ہیں۔
وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ آئندہ مالی سال 2026-27 کے بجٹ میں صوبے کا ترقیاتی پروگرام 575 ارب روپے سے کم کرکے 400 ارب روپے کر دیا گیا۔
جمعرات کو پوسٹ بجٹ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ وفاقی حکومت کے ساتھ طے پانے والے معاہدے کے تحت قومی سطح کی اہم ضروریات کے لیے سندھ کو اپنے ترقیاتی بجٹ میں کمی کرنا پڑ رہی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ وفاق کے ساتھ ہونے والے اس انتظام کی بنیاد ایک مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) ہے، جس کے تحت ساتویں قومی مالیاتی کمیشن (این ایف سی) ایوارڈ میں سندھ کے آئینی حق کا مکمل تحفظ کیا گیا ہے۔ اس معاہدے کے تحت سندھ کے لیے وفاقی محصولات میں 13.350 کھرب روپے کی بنیاد پر حصہ یقینی بنایا گیا ہے۔
وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ آئین کے آرٹیکل 160 کے تحت صوبوں کو وفاق کو گرانٹس دینے کا اختیار حاصل ہے اور قومی دفاع اور قومی یکجہتی کے مفاد میں چاروں صوبائی حکومتوں نے مشترکہ طور پر وفاق کی مالی معاونت کی ہے۔
انہوں نے کہا کہ قومی مالیاتی کمیشن (این ایف سی) کے تحت وفاقی بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے لیے 15 ہزار 264 ارب روپے محصولات کا ہدف مقرر کیا گیا ہے، جبکہ صوبوں کو ان کا حصہ 13 ہزار 350 ارب روپے تک ملنے کی توقع ہے۔
وزیراعلیٰ نے بتایا کہ اس حد سے زیادہ حاصل ہونے والی آمدنی پہلے صوبوں کے ذریعے منتقل ہوگی اور بعد ازاں وفاق کو دی جائے گی۔
انہوں نے امید ظاہر کی کہ ایف بی آر رواں سال اپنا ہدف حاصل کر لے گا کیونکہ محصولات میں 23 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا جا رہا ہے۔ تاہم انہوں نے کہا کہ قومی اسٹریٹجک اقدامات کی مالی ضروریات پوری کرنے کے لیے وفاقی حکومت ٹیکس حکام پر مزید دباؤ ڈال سکتی ہے۔
مراد علی شاہ نے کہا کہ مئی تک سندھ کو وفاقی منتقلیوں میں 441 ارب روپے کی کمی کا سامنا ہے، جبکہ صوبائی وصولیوں میں بھی 52 ارب روپے کا خسارہ ہے، جس کے باعث مجموعی بجٹ خسارہ تقریباً 300 ارب روپے تک پہنچ گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ مالی دباؤ کے باوجود صوبے کے مجموعی اخراجات 850 ارب روپے سے تجاوز ہونے کی توقع ہے۔ ان اخراجات میں ترقیاتی منصوبوں کے لیے فنڈز، کسانوں کے لیے امدادی پیکیج، ایندھن اور بجلی پر سبسڈی، اور گل پلازہ واقعے سے متعلق اضافی اخراجات شامل ہیں۔
وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ صوبہ ماضی میں ایک ہزار ارب روپے کے ریکارڈ ترقیاتی پروگرام پر عمل درآمد کر چکا ہے اور رواں سال بھی ترقیاتی اخراجات کی رفتار برقرار رکھی گئی ہے۔
زرعی شعبے کے بارے میں انہوں نے بتایا کہ حکومتی معاونت کے نتیجے میں گندم کی پیداوار گزشتہ سال کے 35 لاکھ ٹن کے مقابلے میں بڑھ کر 49 لاکھ ٹن تک پہنچ گئی ہے، جو زرعی شعبے کی بہتری کا واضح ثبوت ہے۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ طے شدہ 260 ارب روپے سے زائد اگر کوئی قومی ضرورت سامنے آتی ہے تو اس کی مالی ذمہ داری وفاقی حکومت اپنے وسائل سے پوری کرے گی۔
مراد علی شاہ کا کہنا تھا کہ سندھ حکومت نے مالی نظم و ضبط کو مدنظر رکھتے ہوئے فیصلے کیے ہیں تاکہ ترقیاتی کام متاثر نہ ہوں۔ انہوں نے کہا کہ ہماری پالیسی کا بنیادی اصول یہ ہے کہ مالی احتیاط ترقی کے راستے میں رکاوٹ نہیں بلکہ اس کے فروغ کا ذریعہ بننی چاہیے۔
وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا کہ سندھ کو وفاقی منتقلیوں کی مد میں 2 ہزار 263 ارب روپے ملنے کی توقع ہے، جبکہ صوبائی آمدنی کا ہدف 456 ارب روپے مقرر کیا گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ صوبے کی مجموعی آمدنی 3 ہزار 83 ارب روپے ہے، جبکہ مجموعی بجٹ کا حجم 3 ہزار 525 ارب روپے تک پہنچ گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن کے لیے ایک ہزار 264 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔
انہوں نے یاد دلایا کہ 2022 میں 15 فیصد اور 2025 میں 10 فیصد ایڈہاک ریلیف دیا گیا تھا، جس کے بعد کم از کم ماہانہ اجرت 43 ہزار روپے ہو جائے گی۔ انہوں نے بتایا کہ بلدیاتی اداروں کے لیے 155 ارب روپے اور جامعات کے لیے 48 ارب روپے رکھے گئے ہیں۔
مراد علی شاہ نے کہا کہ صحت کے شعبے میں اہم اداروں کے لیے خصوصی فنڈز مختص کیے گئے ہیں۔ اس ضمن میں سندھ انسٹی ٹیوٹ آف یورولوجی اینڈ ٹرانسپلانٹیشن (ایس آئی یو ٹی) کے لیے 26.4 ارب روپے، قومی ادارہ برائے امراضِ قلب (این آئی سی وی ڈی) کے لیے 12 ارب روپے، سندھ انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیو ویسکیولر ڈیزیزز (ایس آئی سی وی ڈی) کے لیے 14 ارب روپے، انڈس اسپتال کے لیے 8 ارب روپے، سندھ انسٹی ٹیوٹ آف چائلڈ ہیلتھ (ایس آئی سی ایچ) کے لیے 1.7 ارب روپے، چائلڈ لائف فاؤنڈیشن کے لیے 3.5 ارب روپے اور پیشنٹ ایڈ فاؤنڈیشن کے لیے 2.5 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ مجموعی طور پر گرانٹس حاصل کرنے والے بڑے اداروں کے لیے 686 ارب روپے رکھے گئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ بجٹ میں مالی نظم و ضبط کو ترجیح دی گئی ہے، جبکہ ترقیاتی منصوبوں اور سماجی شعبوں کی معاونت کو بھی جاری رکھا گیا ہے۔
وزیراعلیٰ نے بتایا کہ غیر ملکی منصوبوں کے لیے تقریباً 225 ارب روپے کی امداد متوقع ہے، جبکہ امدادی اداروں کے تعاون سے چلنے والے منصوبوں کے لیے صوبائی حصہ اور مساوی گرانٹس بھی اخراجات کا اہم حصہ ہیں۔
انہوں نے کہا کہ گزشتہ سال تقریباً 400 ارب روپے غیر ملکی منصوبہ جاتی امداد سے منسلک تھے، تاہم رواں سال نظرثانی شدہ تخمینے کے مطابق یہ رقم تقریباً 225 ارب روپے رہنے کی توقع ہے، جس کا انحصار منصوبوں پر عمل درآمد کی رفتار پر ہوگا۔
مراد علی شاہ نے مزید کہا کہ وفاقی ترقیاتی معاونت، جس میں عالمی بینک اور دیگر بین الاقوامی مالیاتی اداروں کی امداد شامل ہے، تقریباً 64 ارب روپے متوقع ہے، جبکہ ترقیاتی منصوبوں کے لیے پہلے سے کیے گئے مالی وعدوں کو موصول ہونے والی حقیقی رقوم کے مطابق ایڈجسٹ کیا جا رہا ہے۔
وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ آئندہ مالی سال 2026-27 کے بجٹ میں صوبے کا ترقیاتی پروگرام 575 ارب روپے سے کم کرکے 400 ارب روپے کر دیا گیا۔
جمعرات کو پوسٹ بجٹ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ وفاقی حکومت کے ساتھ طے پانے والے معاہدے کے تحت قومی سطح کی اہم ضروریات کے لیے سندھ کو اپنے ترقیاتی بجٹ میں کمی کرنا پڑ رہی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ وفاق کے ساتھ ہونے والے اس انتظام کی بنیاد ایک مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) ہے، جس کے تحت ساتویں قومی مالیاتی کمیشن (این ایف سی) ایوارڈ میں سندھ کے آئینی حق کا مکمل تحفظ کیا گیا ہے۔ اس معاہدے کے تحت سندھ کے لیے وفاقی محصولات میں 13.350 کھرب روپے کی بنیاد پر حصہ یقینی بنایا گیا ہے۔
وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ آئین کے آرٹیکل 160 کے تحت صوبوں کو وفاق کو گرانٹس دینے کا اختیار حاصل ہے اور قومی دفاع اور قومی یکجہتی کے مفاد میں چاروں صوبائی حکومتوں نے مشترکہ طور پر وفاق کی مالی معاونت کی ہے۔
انہوں نے کہا کہ قومی مالیاتی کمیشن (این ایف سی) کے تحت وفاقی بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے لیے 15 ہزار 264 ارب روپے محصولات کا ہدف مقرر کیا گیا ہے، جبکہ صوبوں کو ان کا حصہ 13 ہزار 350 ارب روپے تک ملنے کی توقع ہے۔
وزیراعلیٰ نے بتایا کہ اس حد سے زیادہ حاصل ہونے والی آمدنی پہلے صوبوں کے ذریعے منتقل ہوگی اور بعد ازاں وفاق کو دی جائے گی۔
انہوں نے امید ظاہر کی کہ ایف بی آر رواں سال اپنا ہدف حاصل کر لے گا کیونکہ محصولات میں 23 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا جا رہا ہے۔ تاہم انہوں نے کہا کہ قومی اسٹریٹجک اقدامات کی مالی ضروریات پوری کرنے کے لیے وفاقی حکومت ٹیکس حکام پر مزید دباؤ ڈال سکتی ہے۔
مراد علی شاہ نے کہا کہ مئی تک سندھ کو وفاقی منتقلیوں میں 441 ارب روپے کی کمی کا سامنا ہے، جبکہ صوبائی وصولیوں میں بھی 52 ارب روپے کا خسارہ ہے، جس کے باعث مجموعی بجٹ خسارہ تقریباً 300 ارب روپے تک پہنچ گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ مالی دباؤ کے باوجود صوبے کے مجموعی اخراجات 850 ارب روپے سے تجاوز ہونے کی توقع ہے۔ ان اخراجات میں ترقیاتی منصوبوں کے لیے فنڈز، کسانوں کے لیے امدادی پیکیج، ایندھن اور بجلی پر سبسڈی، اور گل پلازہ واقعے سے متعلق اضافی اخراجات شامل ہیں۔
وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ صوبہ ماضی میں ایک ہزار ارب روپے کے ریکارڈ ترقیاتی پروگرام پر عمل درآمد کر چکا ہے اور رواں سال بھی ترقیاتی اخراجات کی رفتار برقرار رکھی گئی ہے۔
زرعی شعبے کے بارے میں انہوں نے بتایا کہ حکومتی معاونت کے نتیجے میں گندم کی پیداوار گزشتہ سال کے 35 لاکھ ٹن کے مقابلے میں بڑھ کر 49 لاکھ ٹن تک پہنچ گئی ہے، جو زرعی شعبے کی بہتری کا واضح ثبوت ہے۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ طے شدہ 260 ارب روپے سے زائد اگر کوئی قومی ضرورت سامنے آتی ہے تو اس کی مالی ذمہ داری وفاقی حکومت اپنے وسائل سے پوری کرے گی۔
مراد علی شاہ کا کہنا تھا کہ سندھ حکومت نے مالی نظم و ضبط کو مدنظر رکھتے ہوئے فیصلے کیے ہیں تاکہ ترقیاتی کام متاثر نہ ہوں۔ انہوں نے کہا کہ ہماری پالیسی کا بنیادی اصول یہ ہے کہ مالی احتیاط ترقی کے راستے میں رکاوٹ نہیں بلکہ اس کے فروغ کا ذریعہ بننی چاہیے۔
وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا کہ سندھ کو وفاقی منتقلیوں کی مد میں 2 ہزار 263 ارب روپے ملنے کی توقع ہے، جبکہ صوبائی آمدنی کا ہدف 456 ارب روپے مقرر کیا گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ صوبے کی مجموعی آمدنی 3 ہزار 83 ارب روپے ہے، جبکہ مجموعی بجٹ کا حجم 3 ہزار 525 ارب روپے تک پہنچ گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن کے لیے ایک ہزار 264 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔
انہوں نے یاد دلایا کہ 2022 میں 15 فیصد اور 2025 میں 10 فیصد ایڈہاک ریلیف دیا گیا تھا، جس کے بعد کم از کم ماہانہ اجرت 43 ہزار روپے ہو جائے گی۔ انہوں نے بتایا کہ بلدیاتی اداروں کے لیے 155 ارب روپے اور جامعات کے لیے 48 ارب روپے رکھے گئے ہیں۔
مراد علی شاہ نے کہا کہ صحت کے شعبے میں اہم اداروں کے لیے خصوصی فنڈز مختص کیے گئے ہیں۔ اس ضمن میں سندھ انسٹی ٹیوٹ آف یورولوجی اینڈ ٹرانسپلانٹیشن (ایس آئی یو ٹی) کے لیے 26.4 ارب روپے، قومی ادارہ برائے امراضِ قلب (این آئی سی وی ڈی) کے لیے 12 ارب روپے، سندھ انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیو ویسکیولر ڈیزیزز (ایس آئی سی وی ڈی) کے لیے 14 ارب روپے، انڈس اسپتال کے لیے 8 ارب روپے، سندھ انسٹی ٹیوٹ آف چائلڈ ہیلتھ (ایس آئی سی ایچ) کے لیے 1.7 ارب روپے، چائلڈ لائف فاؤنڈیشن کے لیے 3.5 ارب روپے اور پیشنٹ ایڈ فاؤنڈیشن کے لیے 2.5 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ مجموعی طور پر گرانٹس حاصل کرنے والے بڑے اداروں کے لیے 686 ارب روپے رکھے گئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ بجٹ میں مالی نظم و ضبط کو ترجیح دی گئی ہے، جبکہ ترقیاتی منصوبوں اور سماجی شعبوں کی معاونت کو بھی جاری رکھا گیا ہے۔
وزیراعلیٰ نے بتایا کہ غیر ملکی منصوبوں کے لیے تقریباً 225 ارب روپے کی امداد متوقع ہے، جبکہ امدادی اداروں کے تعاون سے چلنے والے منصوبوں کے لیے صوبائی حصہ اور مساوی گرانٹس بھی اخراجات کا اہم حصہ ہیں۔
انہوں نے کہا کہ گزشتہ سال تقریباً 400 ارب روپے غیر ملکی منصوبہ جاتی امداد سے منسلک تھے، تاہم رواں سال نظرثانی شدہ تخمینے کے مطابق یہ رقم تقریباً 225 ارب روپے رہنے کی توقع ہے، جس کا انحصار منصوبوں پر عمل درآمد کی رفتار پر ہوگا۔
مراد علی شاہ نے مزید کہا کہ وفاقی ترقیاتی معاونت، جس میں عالمی بینک اور دیگر بین الاقوامی مالیاتی اداروں کی امداد شامل ہے، تقریباً 64 ارب روپے متوقع ہے، جبکہ ترقیاتی منصوبوں کے لیے پہلے سے کیے گئے مالی وعدوں کو موصول ہونے والی حقیقی رقوم کے مطابق ایڈجسٹ کیا جا رہا ہے۔
سندھ میں پانچ سے 17 سال عمر کے 16 لاکھ سے زائد بچے چائلڈ لیبر یا کم عمری کی مزدوری کا شکار ہیں۔ یہ انکشاف سندھ چائلڈ لیبر سروے 2022-24 میں کیا گیا ہے۔ صوبائی محکمہ محنت کی جانب سے یونیسیف اور سندھ بیورو آف اسٹیٹسٹکس کے تکنیکی تعاون سے کیے گئے اس سروے کے مطابق 10 سے 17 سال عمر کے مزدوری کرنے والے بچوں میں سے نصف سے زائد، یعنی 50.4 فیصد، خطرناک حالات میں کام کر رہے ہیں۔ ان بچوں کو طویل اوقاتِ کار، شدید موسمی حالات اور غیر محفوظ آلات کے استعمال کا سامنا ہے۔
رپورٹ کے مطابق 1996 کے مقابلے میں سندھ میں چائلڈ لیبر کی شرح میں نمایاں کمی آئی ہے اور اس میں تقریباً 50 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ پاکستان کے پہلے اور اب تک کے واحد قومی چائلڈ لیبر سروے، جو 1996 میں کیا گیا تھا، کے مطابق اس وقت سندھ میں بچوں کی کل آبادی کا 20.6 فیصد مزدوری میں مصروف تھا۔
سروے کے مطابق مزدوری کرنے والے بچوں میں اسکول جانے کی شرح صرف 40.6 فیصد ہے، جبکہ غیر مزدور بچوں میں یہ شرح 70.5 فیصد ریکارڈ کی گئی۔ رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ عمر بڑھنے کے ساتھ ساتھ اسکول جانے والے بچوں کی تعداد میں نمایاں کمی آتی جاتی ہے۔
پاکستان میں چائلڈ لیبر یا کم عمری میں مزدوری ایک سنگین سماجی اور معاشی مسئلہ ہے۔ ملک بھر میں لاکھوں بچے ایسے ہیں جو اسکول جانے، کھیلنے اور بہتر مستقبل کے خواب دیکھنے کے بجائے کھیتوں، ورکشاپوں، کارخانوں، دکانوں، گھروں اور دیگر خطرناک کاموں میں مصروف ہیں۔ غربت، بے روزگاری، مہنگائی، تعلیمی سہولیات کی کمی اور سماجی ناہمواری اس مسئلے کی بڑی وجوہات سمجھی جاتی ہیں۔
اقوام متحدہ کے ادارے یونیسیف کے مطابق پاکستان میں تقریباً 33 لاکھ بچے چائلڈ لیبر کا شکار ہیں۔ یہ بچے اپنی تعلیم، صحت اور بچپن کے بنیادی حقوق سے محروم ہو رہے ہیں۔ ماہرین کے مطابق جب کوئی بچہ کم عمری میں مزدوری شروع کرتا ہے تو اس کے لیے غربت کے دائرے سے نکلنا مزید مشکل ہو جاتا ہے۔
دیہی علاقوں میں چائلڈ لیبر کی تشویشناک صورتحال
پاکستان میں چائلڈ لیبر کا مسئلہ زیادہ تر غریب اور دیہی علاقوں میں نمایاں ہے۔ بہت سے والدین معاشی مجبوریوں کے باعث بچوں کو اسکول بھیجنے کے بجائے کام پر لگانے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ بعض خاندانوں میں بچے گھر کے اخراجات پورے کرنے کے لیے کم عمری میں ہی مزدوری شروع کر دیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ تعلیم سے محرومی اور چائلڈ لیبر کا آپس میں گہرا تعلق پایا جاتا ہے۔
سندھ میں صورتحال خاص طور پر تشویشناک ہے۔ ماضی میں کیے گئے سرویز سے معلوم ہوا تھا کہ صوبے کے تقریباً 10 فیصد بچے چائلڈ لیبر میں شامل تھے، تاہم حالیہ سروے نے ظاہر کیا ہے کہ مزدوری کرنے والے بچوں کی تعداد اب بھی بہت زیادہ ہے اور لاکھوں بچے اس مسئلے سے متاثر ہیں۔
بچوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والے سماجی رہنما کاشف بجیر کہتے ہیں، ’’سندھ میں چائلڈ لیبر کے حوالے سے قانون تو موجود ہے، مگر ہم آج بھی دیکھتے ہیں کہ لاکھوں بچے گھروں، دکانوں، ورکشاپوں اور کھیتوں میں کام کر رہے ہیں۔‘‘
انہوں نے کہا کہ سندھ اسمبلی نے بچوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے سندھ چائلڈ پروٹیکشن اتھارٹی ایکٹ 2011 منظور کیا تھا۔ قانون کے مطابق صوبائی حکومت کو یہ اتھارٹی قانون کے نفاذ کے 60 روز کے اندر قائم کرنا تھی، تاہم یہ اتھارٹی تاحال مکمل طور پر فعال اور مؤثر انداز میں کام نہیں کر سکی۔
ریسرچ کے مطابق سندھ کے دیہی علاقوں میں چائلڈ لیبر کی شرح شہری علاقوں کے مقابلے میں زیادہ ہے۔ غربت، کم شرحِ تعلیم، والدین کی ناخواندگی اور روزگار کے محدود مواقع بچوں کو مزدوری کی طرف دھکیلنے والے اہم عوامل ہیں۔ بعض اضلاع میں یہ مسئلہ زیادہ شدت سے موجود ہے، جہاں بڑی تعداد میں بچے کھیتی باڑی، مویشی پالنے، چھوٹے کاروباروں اور غیر رسمی شعبوں میں کام کرتے ہیں۔
چائلڈ لیبر صرف ایک معاشی مسئلہ نہیں بلکہ انسانی حقوق کا معاملہ بھی ہے۔ پاکستان کے آئین میں بچوں کو تعلیم کا حق دیا گیا ہے، جبکہ مختلف قوانین کم عمر بچوں سے مشقت لینے پر پابندی عائد کرتے ہیں۔ اس کے باوجود قوانین پر مکمل عمل درآمد نہ ہونے کے باعث یہ مسئلہ بدستور موجود ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ قانون سازی کے ساتھ ساتھ اس پر مؤثر اور سخت عمل درآمد بھی ضروری ہے تاکہ بچوں کو استحصال سے بچایا جا سکے۔
سندھ چائلڈ لیبر سروے کی ایک اہم بات یہ بھی ہے کہ اس نے حکومت کو تازہ اور مستند اعداد و شمار فراہم کیے ہیں، جن کی بنیاد پر بہتر پالیسیاں تشکیل دی جا سکتی ہیں۔ ماہرین کے مطابق درست اعداد و شمار کسی بھی مسئلے کے حل کی پہلی شرط ہوتے ہیں۔ اسی لیے اس سروے کو چائلڈ لیبر کے خلاف جاری جدوجہد میں ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
سماجی کارکنوں کا کہنا ہے کہ صرف حکومتی اقدامات کافی نہیں ہوں گے۔ اس مسئلے کے حل کے لیے والدین، اساتذہ، سول سوسائٹی، صنعت کاروں اور مقامی کمیونٹیز کو بھی اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ ایسے بچوں کو اسکول واپس لانے، فنی تربیت فراہم کرنے اور غریب خاندانوں کی معاشی مدد کرنے کی ضرورت ہے تاکہ بچے مزدوری کے بجائے تعلیم حاصل کر سکیں۔
عالمی سطح پر اگرچہ چائلڈ لیبر میں کمی دیکھی گئی ہے، لیکن دنیا بھر میں اب بھی کروڑوں بچے مزدوری کرنے پر مجبور ہیں۔ اقوام متحدہ، یونیسیف اور بین الاقوامی لیبر آرگنائزیشن اس مسئلے کے خاتمے کے لیے مسلسل کام کر رہے ہیں۔ تازہ عالمی رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں اب بھی تقریباً 13 کروڑ 80 لاکھ بچے چائلڈ لیبر کا شکار ہیں۔
پاکستان اور خصوصاً سندھ کے لیے یہ صورتحال سنجیدہ اقدامات کا تقاضا کرتی ہے۔ اگر بچوں کو معیاری تعلیم، محفوظ ماحول اور بہتر معاشی مواقع فراہم کیے جائیں تو چائلڈ لیبر میں نمایاں کمی لائی جا سکتی ہے۔ بچے کسی بھی قوم کا مستقبل ہوتے ہیں اور ان کا بچپن محفوظ بنانا ریاست اور معاشرے دونوں کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔
سندھ چائلڈ لیبر سروے نے ایک بار پھر یہ حقیقت واضح کر دی ہے کہ لاکھوں بچے آج بھی اپنے بنیادی حقوق سے محروم ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت، نجی شعبہ اور سماجی ادارے مل کر ایسے اقدامات کریں جن کے ذریعے ہر بچے کو تعلیم، تحفظ اور روشن مستقبل کا حق حاصل ہو سکے۔ جب تک بچوں کے ہاتھوں سے اوزار لے کر انہیں کتاب نہیں دی جائے گی، تب تک ترقی اور خوشحالی کا خواب مکمل نہیں ہو سکے گا۔
پاکستان پیپلز پارٹی نے 18ویں ترمیم، صوبائی حقوق اور صوبائی خودمختاری سے متصادم آئین میں کسی بھی ممکنہ ترمیم کی حمایت نہ کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کراچی کو وفاق کے ماتحت چلانے، این ایف سی ایوارڈ میں کٹوتی اور 18ویں ترمیم کے خلاف مطالبات کو آئین کی خلاف ورزی قرار دے کر مسترد کر دیا ہے۔
پیپلز پارٹی نے وفاقی حکومت کو خبردار کیا ہے کہ اگر 18ویں ترمیم کو رول بیک کرنے کی کوشش کی گئی تو 26ویں اور 27ویں آئینی ترامیم کا ازسرنو جائزہ لیا جائے۔ پارٹی نے مطالبہ کیا کہ قومی مالیاتی کمیشن (این ایف سی) کا فوری اجلاس بلا کر نئے مالیاتی ایوارڈ کا اجرا کیا جائے۔
یہ مطالبات جمعرات کو پاکستان پیپلز پارٹی سندھ کے زیر اہتمام منعقدہ سیمینار میں کیے گئے، جس کا عنوان تھا: ’’کراچی کو وفاق کے ماتحت چلانے، این ایف سی ایوارڈ میں کٹوتی، 18ویں ترمیم اور صوبائی خودمختاری کے خلاف باتیں، سندھ کو ون یونٹ کی طرف دھکیلنے کی سازش تو نہیں؟‘‘
سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے پیپلز پارٹی سندھ کے صدر نثار احمد کھوڑو نے کہا کہ وفاقی حکومت آئین کے تحت صوبوں کو صرف وفاقی قوانین پر عملدرآمد کے لیے ہدایات دے سکتی ہے، کسی شہر کا انتظامی کنٹرول نہیں سنبھال سکتی۔ انہوں نے کہا کہ 18ویں ترمیم تمام سیاسی جماعتوں کے اتفاق رائے سے آئین کا حصہ بنی اور اسے رول بیک نہیں ہونے دیا جائے گا۔
سابق چیئرمین سینیٹ میاں رضا ربانی نے کہا کہ کراچی سندھ کا دارالحکومت تھا، ہے اور رہے گا۔ ان کے مطابق کراچی یا گوادر کو وفاق کے ماتحت کرنے کے لیے پارلیمنٹ میں دو تہائی اکثریت سے آئینی ترمیم درکار ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ 18ویں ترمیم کو واپس لینے کی کسی بھی کوشش کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے۔
رضا ربانی نے کہا کہ آئین کے تحت ہر پانچ سال بعد نیا این ایف سی ایوارڈ جاری ہونا ضروری ہے، تاہم وفاقی حکومت اس حوالے سے اپنی آئینی ذمہ داری پوری نہیں کر رہی۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ صوبوں کو زیادہ مالی اور انتظامی اختیارات دیے جائیں۔
سیمینار سے سینیٹر بیرسٹر ضمیر گھمرو، سینئر صحافی مظہر عباس، وسعت اللہ خان، کراچی پریس کلب کے صدر فاضل جمیلی، وکیل شہاب سرکی اور نورالہدیٰ شاہ نے بھی خطاب کیا۔ مقررین نے 18ویں ترمیم، صوبائی خودمختاری اور سندھ کے آئینی حقوق کے تحفظ پر زور دیا اور کراچی کو وفاق کے ماتحت کرنے کی تجاویز کی مخالفت کی۔
سیمینار کے اختتام پر منظور کی گئی قراردادوں میں کراچی کو وفاق کے ماتحت چلانے، این ایف سی میں صوبوں کے حصے میں کٹوتی اور 18ویں ترمیم کے خلاف کسی بھی اقدام کو مسترد کرتے ہوئے وفاقی حکومت سے فوری طور پر نیا این ایف سی ایوارڈ جاری کرنے اور صوبائی خودمختاری سے متعلق آئینی تقاضے پورے کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔
سندھ کے معروف لکھاری، آبی ماہر، سماجی رہنما اور سابق طالب علم رہنما انجینئر محمد اوبھایو خشک جمعہ کی شب مختصر علالت کے بعد کراچی کے ایک نجی اسپتال میں انتقال کر گئے۔ ان کی عمر 76 برس تھی۔
ان کے انتقال پر سندھ کے ادبی، فکری، سماجی اور علمی حلقوں نے گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا۔ مرحوم اپنی پوری زندگی تعلیم، سماجی اصلاح، آبی مسائل اور سندھ کے حقوق کے لیے سرگرم رہے اور انہی خدمات کے باعث انہیں بے حد عزت اور احترام کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا۔
انجینئر محمد اوبھایو خشک 2 ستمبر 1949 کو ضلع ٹھٹہ کی تحصیل گھوڑاباری کے گاؤں درویش میں پیدا ہوئے۔
انہوں نے ابتدائی تعلیم اپنے آبائی گاؤں میں حاصل کی، جبکہ میٹرک گورنمنٹ ہائی اسکول ٹھٹھہ سے کیا۔ بعد ازاں انہوں نے گورنمنٹ ڈگری کالج حیدرآباد، جو اب گورنمنٹ کالج یونیورسٹی حیدرآباد کے نام سے جانا جاتا ہے، سے انٹرمیڈیٹ کی تعلیم مکمل کی اور اعلیٰ تعلیم کی جانب سفر جاری رکھا۔
انہوں نے 1971 میں سندھ یونیورسٹی انجینئرنگ کالج جامشورو، جو اب مہران یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی ہے، سے سول انجینئرنگ کی ڈگری حاصل کی۔ یہ کامیابی ان کے ایک طویل اور کامیاب پیشہ ورانہ سفر کا آغاز ثابت ہوئی، جسے انہوں نے عوامی خدمت اور ترقی کے لیے وقف رکھا۔
انجینئر خشک نے 1972 میں محکمہ آبپاشی میں سب انجینئر کی حیثیت سے اپنی عملی زندگی کا آغاز کیا۔ تقریباً چار دہائیوں تک مختلف اہم ذمہ داریاں انجام دیتے ہوئے وہ ترقی کی منازل طے کرتے رہے اور 2009 میں پروجیکٹ ڈائریکٹر کے عہدے سے ریٹائر ہوئے۔ سندھ کے آبی مسائل، پانی کی منصفانہ تقسیم اور آبی انتظام کے حوالے سے ان کی گہری معلومات نے انہیں ایک معتبر ماہر، محقق اور دانشور کے طور پر شناخت دلائی۔
پیشہ ورانہ ذمہ داریوں کے ساتھ ساتھ وہ سیاسی، سماجی، ادبی اور فکری سرگرمیوں میں بھی بھرپور کردار ادا کرتے رہے۔
طالب علمی کے زمانے میں وہ ایک فعال اور بااثر طالب علم رہنما کے طور پر سامنے آئے۔ انہوں نے سندھ اسٹوڈنٹ کلچرل آرگنائزیشن میں پہلے سینئر نائب چیئرمین اور بعد میں چیئرمین کی حیثیت سے خدمات انجام دیں اور طلبہ سیاست و ثقافتی تحریکوں میں نمایاں کردار ادا کیا۔
انجینئر اوبھایو خشک اپنی علمی اور تحقیقی تحریروں کے باعث بھی خاص شہرت رکھتے تھے۔ انہوں نے سندھ کے آبی حقوق، ماحولیاتی مسائل، تاریخ، ثقافت اور سماجی انصاف جیسے اہم موضوعات پر وسیع پیمانے پر لکھا۔ ان کی تحریروں نے انہیں عوامی مباحث میں ایک مضبوط اور می نمایاں تصانیف میں سندھ پنجاب پانی مامرو، گوندر گس پرین جا، سندھو جو رستو نہ روکیو، بھاشا ڈیم: سندھ لائے ترقی یا زہر؟ شامل ہیں
ان کے انتقال کے بعد زندگی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے سینکڑوں افراد ان کی رہائش گاہ ٹھٹہ پہنچے اور مرحوم کو سندھ کے لیے ان کی عمر بھر کی خدمات کو زبردست خراج تحسین پیش کیا۔
معروف شخصیات ممتاز کالم نگار زاہد اسحاق سومرو نے کہا کہ سندھ اپنے آبی حقوق کے ایک مضبوط وکیل اور بڑے دانشور سے محروم ہو گیا ہے۔
سینئر صحافی اقبال خواجہ نے کہا کہ مرحوم اوبھایو خشک نے سندھ کے آبی مقدمے کو مختلف فورمز پر مؤثر انداز میں پیش کرنے کے لیے مسلسل اور بھرپور جدوجہد کی۔
مؤرخ زبیر عزیز جعفرانی، اسلم آزاد، سینیٹر سسئی پلیجو، ڈاکٹر محمد علی مانجھی اور دیگر شخصیات نے بھی ان کے انتقال پر تعزیت اور افسوس کا اظہار کیا۔
انجینئر محمد اوبھایو خشک کو ایک مخلص انجینئر، دوراندیش مفکر، باصلاحیت قلم کار اور سندھ کے حقوق و ترقی کے پُرجوش داعی کے طور پر ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ ادب، عوامی خدمت، سماجی شعور اور آبی حقوق کے لیے ان کی گراں قدر خدمات آنے والی نسلوں کے لیے مشعلِ راہ بنی رہیں گی۔