یکم جولائی 1970: ون یونٹ کا خاتمہ اور پہلی بار جیل جانے والی چار سندھی بیٹیاں

ون یونٹ

یہ جنرل یحییٰ خان کے مارشل لا کا دور تھا۔ 1970 میں سندھ کی تاریخ میں پہلی مرتبہ چار سندھی نوجوان خواتین کو ون یونٹ کے خلاف احتجاج اور ووٹر فہرستیں سندھی زبان میں شائع کرنے کے مطالبے پر حیدرآباد میں بھوک ہڑتال شروع کرنے کے جرم میں گرفتار کیا گیا۔ بعد ازاں ملٹری کورٹ نے انہیں سزائیں سنائیں اور مختلف جیلوں میں بھیج دیا۔

پاکستان اپنے قیام کے وقت مختلف قومیتوں کے درمیان برابری اور باہمی احترام کی بنیاد پر قائم ہوا تھا، لیکن قیام کے بعد ملک کو مسلسل طاقت، دباؤ، دھاندلی، جوڑ توڑ، نظریہ ضرورت اور مرکزیت پسند سوچ کے تحت چلایا گیا۔ اشرافیہ کو صوبوں کو حاصل محدود خودمختاری بھی گوارا نہ تھی۔

چنانچہ 22 نومبر 1954 کو اس وقت کے وزیراعظم محمد علی بوگرہ نے ون یونٹ کے قیام کا اعلان کیا تاکہ صوبوں کو ختم کر کے ملک کو ایک ہی انتظامی اکائی کے طور پر چلایا جا سکے۔ بعد ازاں 5 اکتوبر 1955 کو گورنر جنرل اسکندر مرزا نے اسے باضابطہ نافذ کر دیا۔

سندھ اسمبلی کے چند ارکان کے سوا اکثر ارکان نے اس سندھ دشمن فیصلے کی حمایت کرتے ہوئے ون یونٹ کے حق میں قرارداد منظور کر لی۔ اس فیصلے نے ملک کی اخوت اور بھائی چارے کی فضا کو شدید متاثر کیا۔ بالخصوص چھوٹے صوبوں نے اسے اپنے حقوق پر ضرب قرار دیا۔

اگرچہ سندھ میں ون یونٹ کے خلاف شدید نفرت موجود تھی، لیکن ابتدا میں کوئی مضبوط عوامی تحریک سامنے نہ آ سکی۔ 4 مارچ 1967 کو سندھ یونیورسٹی جامشورو کے طلبہ کا احتجاج بظاہر وائس چانسلر حسن علی عبدالرحمن کی بحالی اور حیدرآباد کے کمشنر مسرور احسن کی برطرفی کے لیے تھا، لیکن پولیس تشدد اور گرفتاریوں نے پورے سندھ میں احتجاج کی لہر دوڑا دی۔

اس تحریک کی قیادت حیدرآباد اسٹوڈنٹس فیڈریشن کے پلیٹ فارم سے یوسف لغاری، جام ساقی، یوسف ٹالپر، مسعود نورانی، اعجاز قریشی، شکور داؤدپوٹو، میر تھیبو، کامل راجپر، اقبال ترین اور دیگر رہنما کر رہے تھے۔ تحریک اتنی مضبوط ہوئی کہ سائیں جی ایم سید، مخدوم طالب المولیٰ، کامریڈ حیدر بخش جتوئی، رسول بخش پلیجو اور دیگر سیاسی رہنما بھی اس کی حمایت میں آگے آئے۔ ذوالفقار علی بھٹو نے بھی کچھ عرصہ اینٹی ون یونٹ جلسوں میں شرکت کی، مگر بعد میں الگ ہو کر اپنی سیاسی جماعت قائم کر لی۔

طلبہ ہی اس تحریک کی اصل قوت بنے۔ بعد میں 1970 میں ‘زمینوں کی نیلامی بند کرو’ اور ‘ووٹر فہرستیں سندھی زبان میں شائع کرو’ کی تحریک شروع ہوئی۔ گرفتاری دینے کا فیصلہ کیا گیا تو چار سندھی نوجوان خواتین نے حیدرآباد میں اپنی گرفتاریاں پیش کیں۔ جنرل یحییٰ خان کی ملٹری کورٹ نے انہیں سزائیں سنائیں اور مختلف جیلوں میں منتقل کر دیا۔

ان چار بہادر خواتین کا مختصر تعارف درج ذیل ہے۔

اختر بلوچ

اختر بلوچ، معروف انقلابی اور لوک گلوکارہ جیجی زرینہ بلوچ کی صاحبزادی تھیں۔ جب انہوں نے گرفتاری دی تو ان کی عمر صرف انیس برس تھی۔ ملٹری کورٹ نے انہیں سزا سنائی۔ بعد میں انہوں نے جیل کی زندگی پر سندھ کی پہلی خاتون قیدی کی یادداشت ‘قیدیانی کی ڈائری’ تحریر کی، جو ایک اہم تاریخی دستاویز سمجھی جاتی ہے۔ 1972 میں ان کی شادی رسول بخش پلیجو کے چھوٹے بھائی غلام قادر پلیجو سے ہوئی۔ سابق سینیٹر سسئی پلیجو ان کی صاحبزادی ہیں۔

ریاض میمن

ریاض میمن کو ملٹری کورٹ نے سزا دے کر پشاور سینٹرل جیل بھیج دیا۔ رہائی کے بعد ان کی شادی مسعود نورانی سے ہوئی، جو سندھ کی طلبہ تحریک اور 4 مارچ 1967 کے تاریخی واقعے کے اہم رہنماؤں میں شمار ہوتے ہیں۔ مسعود نورانی بعد میں سندھ کے ایڈووکیٹ جنرل بھی رہے۔ ان کی صاحبزادی ایاز لطیف پلیجو کی شریک حیات ہیں۔

نسیم سندھی

نسیم سندھی کا اصل نام نسیم ببر تھا۔ گرفتاری کے وقت ان کی عمر صرف سولہ برس تھی۔ ملٹری کورٹ نے انہیں ایک سال قید کی سزا سنائی۔ وہ حیدرآباد اور سکھر سینٹرل جیلوں میں قید رہیں۔ بعد میں ان کی شادی قومی کارکن یوسف خاصخیلی سے ہوئی، جو ‘پناہ جگر خاصخیلی’ کے نام سے معروف ہوئے۔

نسیم ببر ‘نسیم سندھی’ کے نام سے شہرت پائیں۔ وہ ابتدا میں ہیرآباد، حیدرآباد میں مقیم رہیں۔ شوہر کے انتقال کے بعد ان کی طبیعت ناساز رہنے لگی، جس کے باعث وہ اکثر کراچی میں اپنی صاحبزادی کونج خاصخیلی کے پاس رہتی تھیں۔ 27 ستمبر 2020 کو ان کا انتقال ہوگیا۔

شمیم بہرانی

گرفتاری دینے والی چوتھی نوجوان خاتون شمیم بہرانی تھیں۔ انہیں بھی ملٹری کورٹ نے سزا سنائی اور سکھر سینٹرل جیل بھیج دیا۔ اس وقت ان کی عمر بھی تقریباً سولہ سے بائیس برس کے درمیان تھی۔

ان چاروں نوجوان خواتین نے اپنی سزا کے خلاف رحم کی کوئی اپیل نہیں کی اور اپنی جرات، استقامت اور قومی شعور سے سندھ کی تاریخ میں ایک نئی مثال قائم کی۔

ان خواتین کی گرفتاری کے بعد طلبہ، ادیبوں اور دانشوروں نے بڑے پیمانے پر بھوک ہڑتالیں کیں اور تاریخی احتجاجی جلوس نکالے۔ اس مشترکہ جدوجہد میں سندھ کے مختلف طبقات ایک آواز بن گئے اور بالآخر حکومت کو ون یونٹ کے خاتمے کا اعلان کرنا پڑا۔

اسی بارے میں: