پاکستان کے قیام کے ساتھ ہی ریاست کو ایک بڑے انتظامی چیلنج کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ 1947 میں نہ صرف سیاسی ڈھانچہ تشکیل دینا تھا بلکہ ایک مؤثر بیوروکریسی بھی قائم کرنا ضروری تھی۔ اس نازک مرحلے پر ہجرت کرکے آنے والے اردو اسپیکنگ مہاجرین، خاص طور پر تعلیم یافتہ طبقہ، ریاستی نظام کو سنبھالنے میں مرکزی کردار ادا کرتے ہوئے نظر آئے۔
سرکاری اداروں، دفتروں اور پالیسی سازی کے مراکز میں ان کی موجودگی نے ابتدائی انتظامی بحران کو سنبھالنے میں مدد دی۔
وقت کے ساتھ حالات بدلے، مگر ایک نیا سوال ابھر کر سامنے آیا ہے کہ کیا آج شہری سندھ کے تعلیم یافتہ نوجوان اعلیٰ سرکاری عہدوں سے دور ہوتے جا رہے ہیں۔ حال ہی میں فیڈرل پبلک سروس کمیشن کی جانب سے سی ایس ایس 2025 کے نتائج نے اس بحث کو مزید تقویت دی ہے۔
ملک بھر سے 12,792 امیدواروں نے امتحان دیا، مگر صرف 355 تحریری مرحلہ عبور کر سکے، یوں کامیابی کی شرح محض 2.67 فیصد رہی۔ بعد ازاں 170 امیدواروں کو تقرری کے لیے منتخب کیا گیا جن میں مرد اور خواتین تقریباً برابر تعداد میں شامل ہیں۔
ان نتائج کا ایک اہم پہلو سندھ کے شہری اور دیہی علاقوں کے درمیان فرق کو ظاہر کرتا ہے۔ دیہی سندھ سے 25 امیدوار کامیاب ہوئے، جن میں سے 22 کو مختص نشستوں پر ایلوکیشن ملی، جبکہ 3 امیدوار نشستوں کی کمی کے باعث شامل نہ ہو سکے۔ اس کے برعکس شہری سندھ، جس میں کراچی، حیدرآباد اور سکھر شامل ہیں، وہاں سے صرف 5 امیدوار کامیاب ہوئے، حالانکہ ان کے لیے مختص نشستوں کی تعداد اس سے کہیں زیادہ تھی۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ شہری سندھ کے امیدوار اپنی دستیاب نشستیں بھی مکمل طور پر حاصل نہیں کر پا رہے۔
ماہرین اس صورتحال کو ایک نئے قسم کے انتظامی بحران سے تعبیر کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق یہ مسئلہ محض نتائج تک محدود نہیں بلکہ ایک بڑے رجحان کی نشاندہی کرتا ہے، جہاں شہری سندھ کے نوجوان مقابلے کے امتحانات سے دور ہوتے جا رہے ہیں۔
اس کی وجوہات میں تعلیمی معیار میں کمی، سرکاری ملازمتوں کے حوالے سے غیر یقینی صورتحال، اور مواقع کے بارے میں مایوسی جیسے عوامل شامل کیے جا رہے ہیں۔
کچھ تجزیہ کار یہ بھی کہتے ہیں کہ سرکاری ملازمت نہ ملنے کا شکوہ اپنی جگہ درست ہو سکتا ہے، مگر مقابلے کے میدان سے باہر رہ کر مکمل نظام کو مورد الزام ٹھہرانا بھی ایک یکطرفہ رویہ ہے۔ ان کے نزدیک اصل مسئلہ تیاری، سمت اور حوصلے کی کمی ہے، جس پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔
یہ صورتحال اس بات کی متقاضی ہے کہ پالیسی سطح پر اصلاحات کی جائیں، تعلیمی نظام کو مضبوط کیا جائے، اور میرٹ اور نمائندگی کے درمیان ایسا توازن قائم کیا جائے جو نہ صرف انصاف پر مبنی ہو بلکہ نوجوانوں کو آگے بڑھنے کا اعتماد بھی دے سکے۔
اگر یہ خلا برقرار رہا تو مستقبل میں انتظامی ڈھانچہ ایک بار پھر اسی بحران کا شکار ہو سکتا ہے، جسے پاکستان نے اپنے قیام کے وقت بڑی مشکل سے سنبھالا تھا۔
سندھ کی سیاسی تاریخ میں جام صادق علی ایک ایسی شخصیت کے طور پر سامنے آئے جنہوں نے اگرچہ مختصر مدت کے لیے وزارت اعلیٰ سنبھالی، مگر ان کے دور اقتدار کے اثرات طویل عرصے تک محسوس کیے جاتے رہے۔
جام صادق علی 1934 میں ضلع سانگھڑ کے قصبے جام نواز علی میں پیدا ہوئے اور پاکستان پیپلز پارٹی کے پہلے دور حکومت میں ایک اہم رہنما کے طور پر ابھرے۔ وہ سندھ کے وزیر بلدیات بھی رہے۔ سابق فوجی آمر ضیا الحق کے مارشل لا کے دوران وہ جلاوطنی اختیار کرنے پر مجبور ہوئے، تاہم 1988 میں بہاولپور طیارہ حادثے میں ضیا الحق کی ہلاکت کے بعد 1989 میں وطن واپس آ گئے۔
1988 کے عام انتخابات کے بعد بینظیر بھٹو کے برسر اقتدار آنے پر انہیں سندھ میں اثر و رسوخ کی بنیاد پر سیاسی مشیر مقرر کیا گیا۔ فوجی آمر ضیا الحق کی موت کے بعد 1988 میں ہونے والے عام انتخابات میں پاکستان پیپلز پارٹی کا مقابلہ کرنے کے لیے سیاسی اتحاد اسلامی جمہوری اتحاد یا آئی جے آئی تشکیل دیا گیا تھا۔
بعد ازاں 1990 میں صدر غلام اسحاق خان کی جانب سے حکومت برطرف کیے جانے کے بعد ایک نگران سیٹ اپ قائم کیا گیا، جس میں جام صادق علی کو سندھ کا نگران وزیر اعلیٰ مقرر کیا گیا اور یوں ان کی بھرپور سیاسی واپسی ہوئی۔
بینظیر بھٹو کے دور اقتدار کے دوران نواز شریف کی قیادت میں اسلامی جمہوری اتحاد قائم ہوا، جبکہ غلام مصطفیٰ جتوئی کو نگران وزیر اعظم بنایا گیا۔ یوں وفاق اور سندھ میں ایسی سیاسی قیادت سامنے لائی گئی جسے پیپلز پارٹی کے مقابلے میں کھڑا کیا گیا۔
1990 کے عام انتخابات کے بعد جام صادق علی سندھ اسمبلی میں لیڈر آف دی ہاؤس منتخب ہوئے اور پانچ مارچ 1992 کو اپنی وفات تک وزیر اعلیٰ کے منصب پر فائز رہے۔ اگرچہ 130 رکنی صوبائی ایوان میں آئی جے آئی کو صرف 20 نشستیں حاصل ہوئیں، تاہم سیاسی جوڑ توڑ کے نتیجے میں اس وقت کی مہاجر قومی موومنٹ ایم کیو ایم کو ساتھ ملا کر حکومت قائم کر لی گئی۔
درحقیقت جام صادق علی کی حکومت ایم کیو ایم کی مرہون منت ہی بن سکی کیونکہ ایم کیو ایم نے سندھ اسمبلی میں کل 36 نشستیں حاصل کی تھیں اور آزاد اراکین کو ملا کر سادہ اکثریت سے صوبائی حکومت تشکیل دی گئی تھی جس کی سربراہی جام صادق کو سونپی گئی، جبکہ پیپلز پارٹی سب سے زیادہ نشستیں لے کر ایوان میں سب سے بڑی پارٹی بن گئی تھی اور اس کی ریزرو نشستوں کے ساتھ کل 60 نشستیں تھیں۔
جام صادق علی کا وزیر اعلیٰ کے طور پر اگست 1990 سے مارچ 1992 تک کا یہ عرصہ سندھ کی سیاست میں ‘سیاہ و سفید’ کا ایک عجیب امتزاج تھا۔ اس زمانے میں ایک طرف ترقیاتی کاموں اور لسانی ہم آہنگی کی کوششیں نظر آئیں، وہیں دوسری طرف سیاسی انتقام، شہروں میں پرتشدد واقعات اور متنازع فیصلوں کی ایک طویل فہرست بھی موجود ہے۔
متنازع اقدامات اور سیاسی انتقام
جام صادق علی ایک منجھے ہوئے زیرک سیاستدان تھے جنہوں نے اپنی سیاست کا بڑا حصہ پیپلز پارٹی کے سائے میں گزارا۔ تاہم جب وہ سندھ کے وزیر اعلیٰ منتخب ہوئے تو وہ سندھ کی سیاست میں ایک بڑے تلاطم کا پیش خیمہ ثابت ہوئے۔
جام صادق علی کے دور کو اکثر ‘سیاسی انتقام کا دور’ کہا جاتا ہے۔ ان کے دور اقتدار کی سب سے بڑی شہرت پیپلز پارٹی کے خلاف ان کا سخت گیر رویہ تھا۔
انہوں نے اپنے سابقہ ساتھیوں اور پیپلز پارٹی کے کارکنوں کے خلاف مقدمات اور گرفتاریوں کا وہ سلسلہ شروع کیا جس کی مثال کم ہی ملتی ہے۔ ان پر الزام لگایا جاتا ہے کہ انہوں نے ریاستی مشینری کا بے دریغ استعمال کر کے سیاسی مخالفین کو دیوار سے لگایا۔
رپورٹس کے مطابق اس دور میں پاکستان پیپلز پارٹی کے کارکنوں اور رہنماؤں کے خلاف بڑے پیمانے پر کارروائیاں کی گئیں۔ مختلف اخبارات میں چھپی خبروں کے مطابق اپوزیشن سے تعلق رکھنے والے افراد کو نہ صرف گرفتار کیا گیا بلکہ بعض کیسز میں انہیں طویل حراست میں بھی رکھا گیا۔
اس وقت کے صدر غلام اسحاق خان کے داماد عرفان اللہ مروت کو سندھ میں صوبائی مشیر داخلہ مقرر کیا گیا تھا۔ ان کے ہی ایک رشتہ دار سمیع اللہ مروت سی آئی اے کے سربراہ تھے، جن کے ذریعے اپوزیشن پاکستان پیپلز پارٹی کے کارکنوں پر سی آئی اے سینٹر میں زیر حراست تشدد کیا جاتا تھا۔
اخباری مواد کے مطابق صوبائی حکومت نے ریاستی اداروں خصوصاً پولیس اور کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی سی آئی اے کو استعمال کرتے ہوئے اپوزیشن پر دباؤ بڑھایا۔ ان اقدامات کا مقصد پیپلز پارٹی کے اثر و رسوخ کو کم کرنا اور اسے سیاسی طور پر کمزور کرنا تھا۔ اخباری رپورٹس میں اس دور کو ‘سیاسی محاذ آرائی’ اور ‘انتظامی دباؤ’ کا دور قرار دیا گیا۔
پیپلز پارٹی کی طلبہ تنظیم پیپلز اسٹوڈنٹس فیڈریشن گرلز ونگ کراچی کی رہنما راحیلہ ٹوانہ کو اس وقت کی سی آئی اے پولیس نے گرفتار کر کے بدنام زمانہ سی آئی اے صدر ٹارچر سینٹر منتقل کر دیا، جہاں ان کے ساتھ ان کے بھائی اور ایک دوست کو بھی حراست میں رکھا گیا۔ بعد ازاں ایک انٹرویو میں، جو 11 فروری 1991 کو انگریزی روزنامہ دی نیوز میں شائع ہوا، راحیلہ ٹوانہ نے الزام عائد کیا کہ دوران حراست انہیں شدید تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔
ان کے بیان کے مطابق پولیس اہلکاروں نے ان کے ہاتھوں اور پاؤں پر تشدد کیا، جس کے باعث وہ صحیح طور پر چلنے سے بھی قاصر ہو گئیں۔ انہوں نے کہا کہ انہیں رات گیارہ بجے ہاتھوں سے باندھ کر لٹکایا گیا اور صبح چار بجے تک اسی حالت میں رکھا گیا۔ مزید یہ کہ تین دن تک انہیں کھانے سے محروم رکھا گیا اور دباؤ ڈالنے کے لیے ان کے بھائی کو بھی تشدد کی دھمکیاں دی گئیں۔
راحیلہ ٹوانہ کا کہنا تھا کہ ان پر دباؤ ڈالا گیا کہ وہ بینظیر بھٹو، آصف علی زرداری اور منظور حسین وسان کے خلاف بیان دیں، تاہم انہوں نے انکار کر دیا۔ ان کے مطابق بعد میں اہلکاروں نے زبردستی ان سے خالی کاغذات پر دستخط بھی کروائے۔ یہ واقعہ اس دور میں زیر حراست افراد کے ساتھ مبینہ سلوک کے حوالے سے سنگین سوالات اٹھاتا ہے۔
صوبائی حکومت اور ایم کیو ایم کی جانب سے صحافیوں پر تشدد
جام صادق علی کے دور میں سندھ میں بارہ کے قریب صحافیوں کو ان کے پاکستان پیپلز پارٹی سے تعلق کی بنیاد پر گرفتار کیا گیا۔ گرفتار کیے جانے والے صحافیوں میں بشیر بدر بھٹو، حضرت پردیسی، حسن جتوئی، زاہد سومرو، عبدل زانو، طارق بھٹی، اسماعیل بھٹو، عبدالقادر بگٹی، شفیع، عبدالتوراب سانگی اور عبدالستار شامل تھے۔
کراچی میں پولیس نے ماہنامہ ‘ہیرالڈ’ کی کاپیاں ضبط کر لیں کیونکہ اس شمارے میں اس وقت کے صوبائی مشیر داخلہ عرفان اللہ مروت کے بارے میں ایک رپورٹ شائع ہوئی تھی جس میں ان کے خفیہ پہلوؤں کو بے نقاب کیا گیا تھا۔
حکومت میں ایک بہت بڑا حصہ رکھنے اور کراچی اور صوبے کے دیگر شہری علاقوں کی انتظامیہ اور بلدیاتی اداروں پر مکمل کنٹرول ہونے کے باعث ایم کیو ایم نے اپنے مخالفین کے خلاف پرتشدد کارروائیاں جاری رکھیں۔ اپوزیشن کے ساتھ ساتھ اخبارات اور صحافی بھی اس دباؤ سے محفوظ نہ رہ سکے۔
سندھی اخبار عوامی آواز کے پہلے ایڈیٹر اور سینئر صحافی سہیل سانگی کے مطابق جام صادق علی سندھی اخباروں کے ایڈیٹرز کو خاص طور پر ڈنر یا لنچ پر بلاتے تھے اور پیپلز پارٹی کے خلاف خبریں چھاپنے پر زور دیتے تھے۔ ان کے دور میں کئی اخبارات کے سرکاری اشتہارات بند کیے گئے تاکہ انہیں اپوزیشن کے خلاف لکھنے پر مجبور کیا جائے۔
مگر ان تمام جابرانہ اقدامات کے باوجود سندھی اخبارات نے جام صادق علی حکومت کے مظالم پر کھل کر لکھا۔ اس دور میں کئی نئے سندھی اخبارات جاری ہوئے اور سندھی صحافت کی تاریخ میں پہلی مرتبہ سندھی اخبارات نے مشترکہ اداریے لکھنا شروع کیے۔
وفاقی اردو یونیورسٹی کے پروفیسر ڈاکٹر اوج کمال اپنے پی ایچ ڈی مقالے ‘Threat to Journalists in Pakistan’ میں لکھتے ہیں کہ اکتوبر 1990 کے انتخابات کے بعد مسلم لیگ کی حکومت نے متحدہ قومی موومنٹ کے ساتھ اتحاد میں آتے ہی پریس کی آزادی محدود کرنے کے اقدامات شروع کر دیے۔ پہلے سے موجود پابندیاں مزید سخت ہو گئیں اور مختلف گروہوں کی جانب سے میڈیا پر دباؤ بڑھتا گیا۔
ان کے مطابق انیس مارچ 1991 کو ایم کیو ایم کے کارکنوں نے ڈان کے اخبارات چھین لیے اور بائیس مارچ کو اس کی ترسیل نہیں ہونے دی گئی، جبکہ کراچی میں اس کا بائیکاٹ بھی کیا گیا۔ انگریزی روزنامہ ‘دی نیوز’ کے صحافی کامران خان کو ان کے کراچی کے دفتر کے سامنے چاقو مارا گیا، جبکہ ہفت روزہ جریدے ‘تکبیر’ کے مدیر مولانا صلاح الدین کے گھر کو آگ لگا دی گئی۔
ڈاکٹر اوج کمال کے مطابق اس دور میں صحافیوں کی گرفتاریاں بھی معمول بن گئیں۔ پولیس کی جانب سے ہراساں کرنا ایک عام ہتھکنڈا تھا۔ اگست 1991 میں ڈان کے حسن سنگرمی اور روزنامہ مشرق کے الیاس کو کراچی میں تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ مزید برآں 1992 میں جنگ گروپ کے سربراہ میر شکیل الرحمان اور ‘دی نیوز’ کی مدیر ملیحہ لودھی کے خلاف بھی مقدمات درج کیے گئے۔ اس پورے دور میں میڈیا اداروں اور صحافیوں پر حملوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا۔
جام صادق علی کی وفات کے بعد کراچی میں امن و امان کی بگڑتی صورتحال کے باعث وفاقی حکومت نے جون 1992 میں فوجی آپریشن شروع کیا، جسے عام طور پر کراچی آپریشن کہا جاتا ہے۔ اس میں رینجرز اور فوج نے حصہ لیا۔ ابتدا میں اس کا ہدف جرائم پیشہ عناصر اور مسلح گروہوں کے خلاف کارروائی تھا، تاہم بعد میں اس کے دائرہ کار میں کراچی کی اہم سیاسی پارٹی ایم کیو ایم بھی آ گئی۔
سندھ کے پانی کا مسئلہ: 1991 کا معاہدہ
جام صادق علی کے دور میں کچھ اہم نوعیت کے واقعات بھی پیش آئے جو سندھ کے کئی دیرینہ مسائل کو حل کرنے میں اہم پیش رفت ثابت ہوئے۔ ان میں سے سب سے نمایاں واقعہ 1991 کا ‘واٹر اپورشنمنٹ اکارڈ’ تھا۔ یہ معاہدہ آج بھی سندھ میں متنازع فیصلہ کے طور پر یاد کیا جاتا ہے، جس کے تحت دریائے سندھ کے پانی میں صوبوں کے حصے تعین کیے گئے۔
اگرچہ اس وقت اسے ایک بڑی کامیابی قرار دیا گیا تھا، لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ سندھ کے کسانوں اور ماہرین زراعت نے اسے سندھ کے حقوق پر ڈاکہ قرار دیا۔ ان کا موقف تھا کہ جام صادق علی نے وفاقی حکومت اور صوبہ پنجاب کے حکمرانوں کو خوش کرنے کے لیے سندھ کے دیرینہ پانی کے حقوق پر سمجھوتہ کیا، جس کے اثرات آج بھی بنجر زمینوں کی صورت میں نظر آتے ہیں۔
واٹر اکارڈ میں کئی مثبت نکات بھی شامل تھے، جن کے تحت دریائے سندھ کا پانی کوٹری سے نیچے چھوڑنے کو یقینی بنانا بھی شامل تھا تاکہ انڈس ڈیلٹا کی آبی حیات کا تحفظ ہو سکے۔ اس معاہدے میں واضح کیا گیا کہ سمندر میں کھارے پانی کے پھیلاؤ کو روکنے اور ماحولیاتی نظام کو بچانے کے لیے سالانہ تقریباً 10 ملین ایکڑ فٹ پانی کوٹری بیراج کے نیچے چھوڑا جانا چاہیے۔
تاہم معاہدے کی شرائط میں یہ بھی شامل تھا کہ پانی کی اس مقدار کا حتمی تعین ایک سائنسی مطالعے کے ذریعے کیا جائے گا تاکہ ماہرین کی رائے کی روشنی میں دریا کے ڈیلٹا کے لیے درکار پانی کی اصل مقدار کا درست اندازہ لگایا جا سکے۔ افسوس کہ اس سائنسی مطالعے کے لیے تب سے اب تک کوئی پیش رفت نہیں ہو سکی۔ خریف کے موسم کے دوران ہر سال سندھ میں پانی کی شدید قلت رہتی ہے۔
سندھی زبان اور ثقافت کا تحفظ
تمام تر تنازعات اور انسانی حقوق کی پامالی کے باوجود جام صادق علی کے کچھ اقدامات ایسے بھی تھے جنہیں آج بھی قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ ان کا سب سے بڑا کارنامہ 1991 میں ‘سندھی لینگویج اتھارٹی’ کا قیام تھا۔
یہ ادارہ آج بھی سندھی زبان کی ترویج، تحقیق اور اشاعت کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔ انہوں نے سندھی ثقافت اور ادب کی سرپرستی کی اور کئی ایسے منصوبے شروع کیے جن سے سندھ کی شناخت کو تقویت ملی۔
مزید برآں کراچی جیسے بڑے شہر میں امن و امان کی صورتحال کو بہتر بنانے کے لیے انہوں نے مختلف گروہوں کے درمیان مذاکرات کا راستہ کھولا۔ ان کے حامیوں کا کہنا ہے کہ جام صادق علی نے ایک ایسے وقت میں سندھ کی باگ ڈور سنبھالی جب صوبہ لسانی فسادات کی آگ میں جل رہا تھا اور انہوں نے اپنی انتظامی صلاحیتوں سے خون خرابے کو روکنے کی کوشش کی۔
جام صادق علی کے بارے میں مشہور تھا کہ وہ ایک بااثر اور رعب دار وزیر اعلیٰ تھے۔ ان کی انتظامیہ پر گرفت مضبوط تھی اور وہ بیوروکریسی سے کام لینا جانتے تھے۔ انہوں نے صوبے کے بنیادی ڈھانچے، سڑکوں اور پلوں کی تعمیر میں بھی دلچسپی لی۔ کراچی میں کورنگی انڈسٹریل ایریا کی جانب جانے والا ملیر ندی کے اوپر بنایا گیا ‘جام صادق پل’ ان کے دور کی ایک نشانی ہے جو آج بھی شہر کی ٹریفک کی روانی کے لیے اہم ہے۔
آخری ایام اور وفات
جام صادق علی کا انتقال پانچ مارچ 1992 کو جگر کے کینسر کے باعث ہوا۔ ان کی وفات کے بعد سندھ کی سیاست کا ایک باب تو بند ہو گیا لیکن ان کے چھوڑے ہوئے اثرات پر بحث آج بھی جاری ہے۔ ان کے جنازے میں ہزاروں افراد کی شرکت ان کے حامیوں کے مطابق اس بات کا ثبوت تھی کہ وہ جہاں اپوزیشن کے لیے ایک سخت گیر دشمن تھے وہیں عوام کے ایک حلقے میں مقبول بھی تھے۔
ان کی وفات کے بعد آئی جے آئی کے ایک اور مقامی رہنما سید مظفر حسین شاہ کو سندھ کا وزیر اعلیٰ چنا گیا۔
جام صادق علی کی شخصیت اور ان کے دور اقتدار کا کسی ایک زاویے سے مکمل احاطہ کرنا آسان نہیں۔ آج بھی جب سندھ کی سیاسی تاریخ کا جائزہ لیا جاتا ہے تو ان کا تذکرہ ایک ایسے وزیر اعلیٰ کے طور پر سامنے آتا ہے جس نے سیاست کے پیچیدہ ماحول میں اپنی سوچ کے مطابق فیصلے کیے، خواہ ان کے نتائج کتنے ہی بھاری کیوں نہ ہوں۔
ملک کے دوسرے صوبوں کی طرح سندھ کی خواتین کو بھی اب تک نہ تو انسانی برابری کا درجہ حاصل ہو سکا ہے اور نہ ہی آئین کے مطابق حقوق حاصل ہو سکے ہیں۔ دوسرے صوبوں کے مقابلے میں البتہ پیپلز پارٹی کی سندھ حکومت نے اسمبلیوں میں خواتین کے حق میں نئے قوانین بہت بنائے ہیں۔ جہاں تک ان پر عمل درآمد کا تعلق ہے تو اس معاملے پر کہنے کے لیے کچھ زیادہ نہیں ہے۔ کیونکہ سالوں پہلے ان قوانین کے آنے سے اب تک خواتین کی حالت پر ان قوانین کے ہونے سے کوئی فرق نہیں پڑا۔ وہی گھریلو تشدد، وہی جنسی ہراسمنٹ، وہی کاروکاری کے نام پر خواتین کے قتل اور بے بسی کی خودکشیاں، وہی ورثے کے روڈوں پر دھرنے اور احتجاج! بلکہ وقت گزرنے کے ساتھ کوئی کمی آنے کے بجائے ان پر تشدد اور ظلم میں اضافہ ہی ہوتا رہا ہے، کیونکہ نئے قوانین پر عمل تو درکنار قانونی ادارے ہی سندھ میں سیاسی وڈیروں کے گھر کی لونڈی بن کر رہ گئے ہیں۔ تو ایسے میں کیا امید کی جا سکتی ہے کہ سندھ کی مجبور و محکوم خواتین کو خواتین کے حقوق کے لیے بنائے گئے قوانین سے کوئی تحفظ حاصل کرنا ممکن ہو۔ کیونکہ ان قوانین کے بارے میں کوئی آگاہی مہم نہیں چلائی گئی، نہ ان پر عمل درآمد کے لیے کوئی خاص اقدامات اٹھائے گئے، نہ کوئی ٹاسک فورس بنی، نہ ہی بجٹ ایلوکیٹ کیا گیا۔
کسی اسمبلی ممبر یا منسٹر سے کبھی اس بارے میں کچھ نہیں پوچھا گیا کہ ان قوانین کے پاس ہونے سے خواتین کو کتنا فائدہ پہنچا۔ 2004 میں سندھ ہائی کورٹ نے جرگوں پر پابندی لگائی لیکن جرگے ہوتے رہے اور جاری ہیں۔ سینکڑوں بے گناہ خواتین کو ہر سال کاروکاری کے الزام میں قتل کیا جاتا ہے اور یہ سلسلہ جاری ہے۔ یہ اور بات ہے کہ کسی وڈیرے یا جاگیردار کی بیٹی قتل نہیں ہوتی، غیرت کے نام پر قتل ہونے والی سندھ کے غریب خاندانوں کی لڑکیاں ہوتی ہیں جو پہلے ہی ان کی دو وقت کی روٹی کھلانے سے بھی تنگ ہوتے ہیں۔
ابھی تک سندھ میں لڑکیوں کو بیچنے کا رواج بھی چلا آ رہا ہے اور ہماری حکومتوں نے اس کارِ خیر میں بھی کبھی مداخلت نہیں کی۔ عورت کی بدقسمتی کہ وہ مجموعی طور پر گھریلو تشدد اور ذہنی تشدد کی تو کھانے، پانی اور آکسیجن کی طرح عادی بنا دی گئی ہے۔ اور اس کی نہ کوئی سزا ہے نہ حساب کتاب۔ لیکن حیرت کی بات کہ اکیسویں صدی میں بھی اس کا سانس لینا ہی سب سے بڑا جرم ہے۔ سندھ کی حکمران جماعت نے سرداری نظام کو اپنے اقتدار کی خاطر عوام کا خون پلا کر اتنا بڑا آدمخور بنا دیا ہے کہ اس کے سامنے قانون، اخلاق، اقدار اور انسانیت کا تصور ہی ماضی کا قصہ بن گیا ہے۔
جدید دور میں شدت سے یہ بات محسوس ہو رہی ہے کہ سماجی، سیاسی اور حکومتی فیصلہ ساز اداروں میں عورت کی تعداد بہت ہی کم اور نہ ہونے کے برابر ہے، یہی وجہ ہے کہ عورت کی آواز بہت کم سنائی دیتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ سماج، سیاست اور حکومت کے فیصلہ ساز اداروں تک عورتوں کی رسائی کیسے بڑھائی جائے کہ عورتوں کے مسائل کو اہمیت حاصل ہو سکے؟
عورت ہمیشہ غلام نہیں رہی ہے۔ تاریخ میں ہزاروں سال پہلے ایسے ادوار بھی رہے ہیں جب عورتوں کو مرکزی حیثیت حاصل رہی ہے، ان سماجوں کو "مادر سری” سماج کہا جاتا ہے۔ فریڈرک اینگلس کے مطابق شروعاتی انسانی سماجوں میں ملکیت مشترکہ اور نسل ماں کے نام سے جانی جاتی تھی۔ پھر نجی ملکیت کا تصور پیدا ہوا اور زرعی پیداوار بڑھی۔ مردوں کے پاس زمین اور وسائل کا کنٹرول آیا۔ خاندان کا ڈھانچہ "پدر شاہی” میں تبدیل ہوا تو عورتوں کو گھروں تک محدود کر دیا گیا۔ طاقت کے محور ادارے سیاست، فوج، مذہب اور معیشت مردوں کے کنٹرول میں چلے گئے، عورت سے سماج کی لیڈرشپ چھن گئی اور وہ غلام بن گئی۔
لیکن یہ ہزاروں سال پہلے کی کتھا ہے۔ اکیسویں صدی کے جدید سائنس و ٹیکنالوجی اور انسانی برابری کے دور میں بھی ترقی یافتہ ممالک کو چھوڑ کر باقی دنیا خاص طور پر جنوبی ایشیا کی خواتین کی اکثریت کے حالات بہتر نہیں، لیکن پاکستان کی خواتین ان سب میں بھی تعلیم، روزگار اور تحفظ میں سب سے پیچھے ہیں۔
سندھ کی موجودہ سماجی صورتحال بیڈ گورننس، طاقتور اور بااثر سرکاری سیاسی وڈیروں کی ناجائز اجارہ داری کی پیدا کردہ لاقانونیت کی وجہ سے ماضی کے مقابلے میں بہت زیادہ خراب ہے۔ اس کے سب سے زیادہ سندھ کی 80 فیصد غریب طبقے کی خواتین اور بچے نشانہ بن رہے ہیں۔
صنفی تفریق معاشرے کی جڑوں تک اس قدر پھیلی ہوئی ہے کہ مرد تو مرد، خواتین بھی زیادہ تر وہی سوچتی اور کرتی ہیں جو مردانہ معاشرہ ان سے چاہتا ہے۔ اس کو چیلنج کرنے کی ہمت ہماری سیاسی پارٹیوں تک میں نہیں پیدا ہو سکی۔ سیاسی جماعتیں جس طرح ایک عرصے سے ملک کی آدھی آبادی کے مسائل سے لاتعلق ہیں، اس کا ان کو ابھی اندازہ اور احساس نہیں کہ مستقبل میں یہ ان کی کتنی بڑی کوتاہی ثابت ہو سکتی ہے۔ سیاسی پارٹیوں کے منشوروں میں اکثر یہ تصور کر لیا جاتا ہے کہ جب انقلاب آئے گا تو اس کے بعد سب طبقوں کے ساتھ انصاف ہوگا۔ وہ خواتین کو محض ایک طبقہ سمجھ لیتے ہیں جو بڑی غلط فہمی ہے۔ خواتین اس ملک کی اور دنیا کی آدھی آبادی ہیں، کوئی چھوٹا طبقہ نہیں ہیں۔
پھر کلاس کی بات آجاتی ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ ملک کی اکثریتی خواتین کا تعلق لوئر کلاس کی مزدور، ہاری، ملازم طبقے سے ہے۔ ان کو جینے کے لیے بنیادی انسانی حقوق تعلیم، صحت، روزگار اور تحفظ حاصل نہیں ہیں۔ ان حقوق کے لیے خواتین کو اپنے سیاسی پلیٹ فارم بنا کر جدوجہد کرنا ہوگی۔ خواتین کی سماجی تنظیمیں بہت اچھا کام کر رہی ہیں لیکن ان کی پہنچ محدود اور مخصوص ہے کیونکہ وہ سیاسی پلیٹ فارم نہیں ہیں۔
سرکاری طور پر اس جدید دور میں صنفی تفریق کے خاتمے کے لیے سارے ملک کے درسگاہوں کے ساتھ سب سرکاری اداروں خاص طور پر پولیس، عدلیہ، وکلا کے لیے صنفی حساسیت پیدا کرنے کے لیے خواتین کے حقوق کے بارے میں کورس/ کوڈ آف کنڈکٹ ترتیب دے کر اسمبلیوں سے قانون پاس کروا کر اسے ملک بھر میں نافذ کیا جائے اور اسے پڑھنا اور اس پر عمل کرنا لازمی قرار دیا جائے اور اس پر عمل نہ کرنے کی جوابدہی ہونی چاہیے۔ یہ خواتین کی عزت اور حقوق کے تحفظ میں مددگار ہو سکتا ہے اگر اس پر عمل درآمد ہو۔ ورنہ پہلے ہی بہت سے قوانین کے مسودے فائلوں میں بند پڑے ہیں۔ ملک کی خواتین کے لیے بنیادی انسانی حقوق اور عزت و تحفظ کا خواب کبھی حقیقت نہیں بن سکے گا۔ البتہ مریم نواز شریف جیسی دبنگ خاتون سے اس سلسلے میں کوئی پیشرفت کرنے کی امید کی جا سکتی ہے۔
سندھ کے میرپورخاص ڈویژن کے گاؤں کے مناظر، جہاں مٹی کی خوشبو اور کمھار کے ہاتھوں کی مہارت آپ کو صدیوں پرانی روایت میں لے جاتی ہے۔ آج ہم آپ کو لے کر چلیں گے ایک ایسے ہنرمند کے پاس، جو اپنے ہاتھوں سے مٹی کو زندگی بخشتا ہے، اسے گھڑتا ہے، سنوارتا ہے اور پھر اسے خوبصورت برتنوں میں ڈھال دیتا ہے۔ مٹھی سے محبت کا عملی جائزہ لینا ہو تو کمہار کے فن کو دیکھیں۔ یہ ہے روایتی کمھار کا فن، جو نسل در نسل چلا آ رہا ہے اور آج بھی زندہ ہے۔
سب سے پہلے کمھار مٹی کو چھانٹتا ہے تاکہ اس میں سے پتھر، گھاس پھوس اور دوسری چیزیں الگ ہو جائیں۔ پھر وہ اس مٹی میں پانی ملاتا ہے اور اسے خوب گوندھتا ہے۔ یہ کام بہت اہم ہوتا ہے کیونکہ مٹی میں نمی اور لچک ہی برتن کو مضبوط بناتی ہے۔ گوندھنے کے بعد مٹی کو پلاسٹک کی چادر سے ڈھانپ کر کچھ دیر کے لیے چھوڑ دیا جاتا ہے تاکہ وہ یکساں طور پر تیار ہو جائے۔
جس کے بعد دلچسپ مرحلہ آتا ہے۔
چَک، چرخِ کمہار یا چرخہ، جسے سندھی زبان میں چَک کہا جاتا ہے، جو ایک وہیل نما ہوتا ہے، جس پر گوندھی ہوئی مٹی رکھ کر برتن بنائے جاتے ہیں۔ کمھار مٹی کی ایک لوئی لے کر چَک پر رکھتا ہے اور چَک کو گھمانا شروع کر دیتا ہے۔ اپنے ہاتھوں کو پانی میں بھگو کر وہ مٹی کو شکل دیتا ہے، اسے اوپر اٹھاتا ہے، اندر سے کھوکھلا کرتا ہے اور پھر اسے ایک خوبصورت گھڑے، مٹکے یا ہانڈی کی شکل میں ڈھال دیتا ہے۔ کمھار کے ہاتھوں کی یہ جنبش دیکھ کر ایسا لگتا ہے گویا وہ مٹی سے بات کر رہا ہے اور وہ جو اس کی ہر اشارے کو سمجھ رہی ہے۔
چَک پر برتن بنا لینے کے بعد کمھار اسے ایک طرف رکھ دیتا ہے تاکہ وہ قدرے خشک ہو جائے۔ جب برتن آدھا خشک ہو جاتا ہے تو کمھار اس پر باریک مٹی چھڑکتا ہے اور ہلکے ہاتھوں سے اس کے بدن کو تھپکی دیتا ہے تاکہ اسے مکمل شکل مل سکے۔ پھر ان برتنوں کو دھوپ میں رکھ دیا جاتا ہے تاکہ وہ اچھی طرح سوکھ جائیں۔
برتنوں کے مکمل خشک ہو جانے کے بعد انہیں بھٹی میں پکانے کا عمل شروع ہوتا ہے۔ کمھار بھٹی میں لکڑی، چاول کی بھوسی اور گوبر کے اپلے ڈال کر آگ جلائے گا۔ یہ برتن بھٹی میں تقریباً 15 سے 20 گھنٹے تک پکتے رہیں گے، جس کے بعد یہ پختہ اور مضبوط ہو جائیں گے۔
کچھ برتنوں کو بغیر رنگ کے ہی چھوڑ دیا جاتا ہے، تو کچھ پر خوبصورت نقش و نگار بنائے جاتے ہیں۔ کمھار برش کی مدد سے برتنوں پر پھول، بیل بوٹے اور جیومیٹرک ڈیزائن بناتا ہے۔ اس کے لیے وہ قدرتی رنگوں کا استعمال کرتا ہے، جیسے کوبالٹ بلیو، فیروزی، پیلا، جامنی اور بھورا۔ یہ رنگ برتنوں کو ایک منفرد اور دلکش شکل دیتے ہیں۔سندھ میں عام طور پر مٹی کے برتنوں پر رنگ کرنے کا کام خواتین کرتی ہیں۔
کمھار مختلف قسم کے برتن بناتے ہیں۔ گھڑا اور مٹکا پینے کے پانی کو ٹھنڈا رکھنے کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔ پیالہ، کونڈی اور ہانڈی کھانا پکانے اور پیش کرنے کے کام آتے ہیں۔ چھوٹے بچوں کے لیے وہ مٹی کے کھلونے بھی بناتے ہیں، اور دیوالی یا عرسوں کے لیے روایتی مٹی کے چراغ بھی۔
لیکن یہ کام اتنا آسان نہیں جتنا لگتا ہے۔ کمھار کو صبح سے شام تک دھوپ اور گرمی میں کام کرنا پڑتا ہے۔ مٹی کو چھانٹنا، گوندھنا، برتن بنانا، انہیں دھوپ میں خشک کرنا، بھٹی میں پکانا اور پھر رنگ کرنا، یہ سب بہت محنت طلب کام ہے۔ اس کے باوجود، آج کل کمھاروں کو اپنے فن کو جاری رکھنے میں بہت مشکلات کا سامنا ہے۔ پلاسٹک اور اسٹیل کے برتنوں نے مٹی کے برتنوں کی جگہ لے لی ہے، اور لوگ اب انہیں اتنی اہمیت نہیں دیتے جتنی پہلے دیتے تھے۔
مٹی کے برتنوں کی مانگ میں کمی کی وجہ سے کمھاروں کی آمدن بہت کم ہو گئی ہے۔ بہت سے کمھار اپنا پیشہ چھوڑ کر دوسرے کاموں کی طرف رخ کر رہے ہیں۔ نوجوان نسل بھی اس فن کو سیکھنے میں دلچسپی نہیں لے رہی، کیونکہ اس میں پیسہ نہیں ہے۔ اس طرح یہ صدیوں پرانا فن آہستہ آہستہ ختم ہو رہا ہے۔
ہمیں چاہیے کہ ہم مٹی کے برتنوں کو استعمال کریں اور کمھاروں کی حوصلہ افزائی کریں۔ مٹی کے برتن نہ صرف ماحول دوست ہیں، بلکہ ان میں کھانا پکانے سے صحت بھی بہتر رہتی ہے۔ ہم اپنی روزمرہ کی زندگی میں مٹی کے برتنوں کو شامل کر کے اس فن کو زندہ رکھنے میں اپنا کردار ادا کر سکتے ہیں۔
یہ تھی روایتی کمھار کی کہانی، جو مٹی سے محبت کرتا ہے اور اپنے ہاتھوں کی مہارت سے اسے فن پارے میں بدل دیتا ہے۔ آئیے، ہم سب مل کر اس ہنر کی قدر کریں اور ان کمھاروں کا ساتھ دیں، تاکہ یہ فن صدیوں تک زندہ رہ سکے۔
ساگا ڈیجیٹل روائتی، مٹی سے محبت سے جڑی کہانیاں لاتا ہے۔ ایسی دلچسپ کہانیوں کے لیے ساگا ڈیجیٹل کو فالو کریں۔
کیا آپ جانتے ہیں کہ ایک ایسا گھر بھی ہے جہاں جدید دور میں بھی ٹرنک کالز کی بکنگ اور حتیٰ کہ کئی دہائیاں پہلے بند ہوجانے والے ٹیلی گرام اور ٹیلی فون بل پر سالانہ تقریباً ایک کروڑ روپے خرچ کیے جاتے ہیں؟
اس گھر کو چلانے کے لیے 500 ملازمین ہیں۔ اور اس گھر کو چلانے کے لیے ایک دن میں، جی ہاں ایک دن میں تقریباً 37 لاکھ روپے خرچ ہوتے ہیں۔ یعنی ماہانہ خرچ تقریباً 11 کروڑ 23 لاکھ روپے اور سالانہ ایک ارب 35 کروڑ روپے کا خرچہ ہے۔
یہ ہے سندھ کے وزیر اعلیٰ کا گھر یا چیف منسٹر سیکریٹریٹ۔
اس تمام اسٹوری میں بتائے گئے اعداد و شمار ہم نے نہیں لکھے بلکہ فنانس ڈپارٹمنٹ کی آفیشل ویب سائٹ وزیر اعلیٰ سیکریٹریٹ کے سالانہ اخراجات کے بجٹ سے حاصل کیے ہیں۔
آفیشل بجٹ ڈاکیومنٹ کے مطابق وزیراعلیٰ ہاؤس میں کام کرنے والے ملازمین کی بنیادی تنخواہوں سے بھی زیادہ رقم صرف الاؤنسز کی مد میں دی جا رہی ہے۔ کل 500 ملازمین پر سالانہ تقریباً 92 کروڑ 38 لاکھ روپے خرچ ہوتے ہیں، جس میں بنیادی تنخواہیں تقریباً 20 کروڑ اور الاؤنسز تقریباً 72 کروڑ روپے شامل ہیں۔
صرف مہمان نوازی اور تحائف کے لیے سالانہ تقریباً نو کروڑ روپے مختص ہیں۔ صرف کھانے پینے پر سالانہ دو کروڑ 50 لاکھ روپے خرچ ہو رہے ہیں۔ گاڑیوں اور ہیلی کاپٹروں کے ایندھن پر ہی تقریباً چھ کروڑ روپے خرچ ہوتے ہیں، جبکہ مجموعی سفر پر 7 کروڑ 50 لاکھ روپے۔
اور اس سب کے درمیان ایک کروڑ 27 لاکھ روپے ایسے بھی ہیں جنہیں ‘خفیہ اخراجات’ کہا جاتا ہے، جن کی کوئی تفصیل عوام کے سامنے نہیں رکھی جاتی۔ صرف اسٹیشنری یعنی کاغذ اور فائلوں پر ہی ایک کروڑ 11 لاکھ روپے خرچ کیے جا رہے ہیں۔
اب آئیے جائزہ لیتے ہیں وزیراعلیٰ سندھ کے سیکریٹریٹ یا وزیراعلیٰ ہاؤس میں کتنے ملازم ہیں اور وہ کیا کرتے ہیں؟
وزیراعلیٰ سیکریٹریٹ اور ہاؤس میں کل 500 ملازمین کام کرتے ہیں۔
چار گریڈ کے ڈرائیورز 50 عدد، ایک گریڈ کے نائب قاصدوں کی تعداد 76 ہے، اس سیکریٹریٹ کے باغیچوں کی دیکھ بھال کے لیے ایک گریڈ کے مالی اور ہمال 18 ہیں۔ اس کے علاوہ ایک گریڈ کے 19 سینیٹری ورکرز، صفائی کے لیے نو سوئیپر، اور قالین بچھانے، کرسی لگانے اور ہال سجانے والے ایک گریڈ کے چار فراش بھی ملازمین میں شامل ہیں۔
مزید یہ کہ ایک گریڈ کے دو چوکیدار، تین اسسٹنٹ کک، تین مسالچی جو باورچی خانے میں مصالحے تیار کرنے اور کھانے کی تیاری میں مدد دیتے ہیں، دو موذن اور ایک اسسٹنٹ دھوبی بھی اسی عملے کا حصہ ہیں۔
پانچویں گریڈ میں 13 بیئرر شامل ہیں جو افسران اور مہمانوں کو چائے، پانی اور کھانا پیش کرتے ہیں اور میٹنگز میں سروس فراہم کرتے ہیں، اس کے علاوہ دو جونیئر کک، ایک مالی اور ایک ساؤنڈ ٹیکنیشن بھی اسی گریڈ میں موجود ہیں، جبکہ چھٹے گریڈ میں 10 ٹیلی فون آپریٹر یا اٹینڈنٹ کام کر رہے ہیں۔
آٹھویں گریڈ میں چار ڈیٹا انٹری آپریٹر اور ایک گارڈن مینٹینر، نویں گریڈ میں ایک کیئر ٹیکر، چار سینئر ٹیلی فون آپریٹر اور چھ سینئر کک بھی موجود ہیں۔
گیارہویں گریڈ میں 45 جونیئر کلرک، 15 بیئرر، دو ٹیلی فون سپروائزر، ایک فوٹوگرافر اور ایک لائبریری اسسٹنٹ شامل ہیں، جبکہ بارہویں گریڈ میں 10 ڈیٹا پروسیسنگ اسسٹنٹ، دو پیش امام اور ایک ویڈیو ٹیکنیشن بھی تعینات ہیں۔
چودہویں گریڈ میں 14 سینئر کلرک، 14 اسٹینوگرافر، چار ہیڈ کک اور دو ہیڈ بیئرر شامل ہیں، جبکہ پندرہویں گریڈ میں دو کیمرہ مین، ایک اسسٹنٹ کیمرہ مین، تین سب ایڈیٹر، ایک کمپوزر، دو نان لینئر ایڈیٹر اور ایک ٹیکنیشن بھی کام کر رہے ہیں۔
اس کے علاوہ اوپر کے گریڈز میں درجنوں افسران، سیکریٹریز، پروٹوکول افسران، میڈیا اور آئی ٹی اسٹاف بھی شامل ہے، جو اس پورے نظام کو چلاتے ہیں۔
سوال یہ نہیں کہ خرچ کیوں ہو رہا ہے، سوال یہ ہے کہ کیا یہ خرچ عوام کی ترجیحات کے مطابق ہے؟
ساگا ڈیجیٹل نئی سیریز ساگا بجٹ جائزہ میں ایسی ہی دلچسپ کہانیاں لاتا ہے۔ دلچسپ اور معلوماتی کہانیوں کے لیے ساگا ڈیجیٹل کو فالو کریں۔
سندھ میں ایچ آئی وی کے بڑھتے ہوئے کیسز نے صحت کے شعبے میں شدید تشویش پیدا کر دی ہے۔ محکمہ صحت سندھ کے مطابق رواں سال 2026 کے پہلے تین مہینوں (جنوری تا مارچ) کے دوران صوبے بھر میں ایچ آئی وی کے 894 نئے کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔ ان میں 329 بچے، 332 مرد، 204 خواتین اور 29 ٹرانسجینڈر افراد شامل ہیں۔
ماہ وار بنیادوں پر دیکھا جائے تو جنوری میں 294، فروری میں 324 اور مارچ میں 276 نئے کیسز سامنے آئے۔
سب سے زیادہ تشویشناک بات یہ ہے کہ متاثرہ بچوں میں 188 لڑکے اور 141 لڑکیاں شامل ہیں، اور صوبے میں روزانہ اوسطاً تین سے چار بچے ایچ آئی وی کا شکار ہو رہے ہیں۔ ماہرین صحت نے خبردار کیا ہے کہ اگر فوری طور پر مؤثر اقدامات نہ کیے گئے تو یہ صورتحال مزید سنگین ہو سکتی ہے۔
لاڑکانہ کا المیہ: جب ایک ہی علاقے میں سینکڑوں بچے ایچ آئی وی کا شکار ہو گئے
پاکستان میں ایچ آئی وی کے حوالے سے سب سے بڑا اور چونکا دینے والا واقعہ اپریل 2019 میں لاڑکانہ کے علاقے رتوڈیرو میں پیش آیا۔ یہ وہ وقت تھا جب مقامی میڈیا نے رپورٹ کیا کہ 10 سال سے کم عمر کے 14 بچوں میں ایچ آئی وی کی تشخیص ہوئی ہے۔ یہ واقعہ اس لیے زیادہ چونکا دینے والا تھا کہ ان تمام بچوں کے والدین کے ایچ آئی وی ٹیسٹ منفی آئے تھے۔
تحقیات کے دوران صورتحال انتہائی سنگین نکلی۔ 2019 کے دوران لاڑکانہ ضلع میں 30,191 افراد کے ٹیسٹ کیے گئے، جن میں سے 876 ایچ آئی وی پازیٹو پائے گئے۔ ان میں سے 719 (یعنی 82 فیصد) 15 سال سے کم عمر کے بچے تھے۔ ایک اندازے کے مطابق اپریل 2019 سے اپریل 2020 کے درمیان رتوڈیرو میں مجموعی طور پر 1,353 افراد (3.2 فیصد) ایچ آئی وی پازیٹو پائے گئے، جن میں سے تقریباً 75 فیصد بچے تھے۔
اس وبا کے دوران 5 سال سے کم عمر بچوں میں انفیکشن کی شرح انتہائی زیادہ تھی۔ 0 سے 2 سال کے بچوں میں ایچ آئی وی کی شرح 7 فیصد، 3 سے 5 سال کے بچوں میں 6 فیصد، جبکہ بالغوں میں یہ شرح صرف 1 فیصد تھی۔ عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے اس صورتحال کو ‘نئی اور عجیب’ قرار دیا اور اسے گریڈ-II ایمرجنسی قرار دیتے ہوئے اس پر قابو پانے کے لیے 1.5 ملین ڈالر کی ضرورت ظاہر کی۔
لاڑکانہ میں ایچ آئی وی پھیلنے کی بڑی وجوہات کیا تھیں؟
ڈبلیو ایچ او کی زیر قیادت مشترکہ اقوام متحدہ کی تحقیقاتی ٹیم نے 2019 میں جو ابتدائی نتائج پیش کیے، ان کے مطابق لاڑکانہ میں ایچ آئی وی کی وباء پھیلنے کی بنیادی وجہ غیر جراثیم سے پاک سوئیوں اور سرنجوں کا بار بار استعمال اور غیرمحفوظ خون کی منتقلی تھی۔
تحقیقات میں یہ بھی سامنے آیا کہ متاثرہ بچوں میں سے 89 فیصد نے متعدد انجیکشن لگوائے تھے جبکہ 9 فیصد کو خون چڑھایا گیا تھا۔ صرف 11 فیصد بچوں کی مائیں ایچ آئی وی پازیٹو تھیں، جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ والدین سے بچوں میں منتقلی اس وباء کی بڑی وجہ نہیں تھی، بلکہ غیرمحفوظ طبی طریقہ کار ہی اصل مجرم تھا۔
ایچ آئی وی کیسے پھیلتا ہے؟ عام اور کم معروف حقائق
ایچ آئی وی ایک وائرس ہے جو انسانی مدافعتی نظام پر حملہ کرتا ہے۔ یہ صرف چند مخصوص طریقوں سے ایک شخص سے دوسرے شخص میں منتقل ہو سکتا ہے:
غیرمحفوظ جنسی تعلقات: یہ ایچ آئی وی کی منتقلی کا سب سے عام طریقہ ہے۔ ایچ آئی وی سے متاثرہ شخص کے ساتھ کنڈوم یا دیگر حفاظتی تدابیر کے بغیر جنسی تعلق قائم کرنے سے وائرس منتقل ہو سکتا ہے۔
سوئیاں اور سرنجیں دوبارہ استعمال کرنا: یہ پاکستان میں ایچ آئی وی پھیلنے کی ایک بڑی اور کم نظر انداز کی جانے والی وجہ ہے۔ اگر کوئی سوئی یا سرنج پہلے کسی متاثرہ شخص پر استعمال ہو چکی ہو اور اسے دوبارہ استعمال کیا جائے تو وائرس منتقل ہو سکتا ہے۔ بی بی سی کی ایک حالیہ تحقیقاتی رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ پنجاب کے شہر تونسہ کے ایک سرکاری ہسپتال میں سوئیوں کو دوبارہ استعمال کیا جا رہا تھا، جس کے نتیجے میں نومبر 2024 سے اکتوبر 2025 کے درمیان 331 بچے ایچ آئی وی کا شکار ہوئے۔
غیرمحفوظ خون کی منتقلی: اگر خون کو مناسب طریقے سے اسکرین کیے بغیر کسی مریض کو چڑھا دیا جائے تو ایچ آئی وی منتقل ہو سکتا ہے۔
ماں سے بچے میں منتقلی: ایک ایچ آئی وی پازیٹو ماں حمل، دورانِ زچگی یا دودھ پلانے کے دوران یہ وائرس اپنے بچے میں منتقل کر سکتی ہے۔
بیوٹی پارلر اور ہیئر سیلون بھی خطرے کا باعث بن سکتے ہیں: ایک طبی رپورٹ کے مطابق بیوٹی سیلون میں مینیکیور، پیڈیکیور، ویکسنگ، شیونگ اور ٹیٹو بنوانے کے دوران اگر آلات کو جراثیم سے پاک نہ کیا جائے تو ایچ آئی وی پھیلنے کا خطرہ ہوتا ہے۔ بیوٹیشنز اکثر جراثیم کشی کے بارے میں مناسب تربیت یافتہ نہیں ہوتیں۔ یہاں تک کہ خون کی صرف 0.3 ملی لیٹر مقدار بھی وائرس پھیلانے کے لیے کافی ہے۔
انجیکشنز کا غیرضروری استعمال: پاکستان میں لوگ زبانی دوائیوں کے مقابلے میں انجیکشنز کو زیادہ مؤثر سمجھتے ہیں، جس کی وجہ سے انجیکشنز کی طلب بہت زیادہ ہے۔ ایک تحقیق کے مطابق 38 فیصد صحت فراہم کرنے والے انجیکشنز کے دوران سرنجیں دوبارہ استعمال کرتے ہیں۔
ہاتھ ملانے، ایک ساتھ کھانے یا آنسوؤں سے ایچ آئی وی نہیں پھیلتا: معاشرے میں ایچ آئی وی کے بارے میں بہت سی غلط فہمیاں پائی جاتی ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ ایچ آئی وی کسی کو چھونے، ہاتھ ملانے، ایک ساتھ کھانا کھانے، پسینے، آنسوؤں یا تھوک سے نہیں پھیلتا۔
مچھر کے کاٹنے سے ایچ آئی وی نہیں پھیلتا: یہ ایک عام غلط فہمی ہے کہ مچھر کے کاٹنے سے ایچ آئی وی پھیل سکتا ہے۔ حقیقت میں مچھر ایچ آئی وی وائرس کو ایک شخص سے دوسرے میں منتقل نہیں کر سکتے۔
ایچ آئی وی سے بچاؤ کے طریقے، خود کو کیسے محفوظ رکھیں؟
صرف جراثیم سے پاک سوئیاں اور سرنجیں استعمال کریں: ہسپتال یا کلینک جاتے وقت یقینی بنائیں کہ ڈاکٹر یا نرس آپ کے سامنے نئی، جراثیم سے پاک سوئی کھولے۔ ‘ایک سوئی، ایک سرنج، ایک بار’ کا اصول ہمیشہ یاد رکھیں۔
خون کی منتقلی سے پہلے اسکریننگ کو یقینی بنائیں: اگر آپ کو کبھی خون چڑھایا جائے تو یقینی بنائیں کہ وہ خون مکمل طور پر اسکرین کیا گیا ہے۔
غیرمحفوظ جنسی تعلقات سے گریز کریں: کنڈوم کا مستقل اور درست استعمال ایچ آئی وی کے خطرے کو نمایاں طور پر کم کر سکتا ہے۔
بچوں کو ایچ آئی وی سے بچانے کے لیے: حاملہ خواتین کو چاہیے کہ وہ اپنا ایچ آئی وی ٹیسٹ کروائیں۔ اگر ماں ایچ آئی وی پازیٹو ہے تو مناسب علاج اور احتیاطی تدابیر سے بچے میں وائرس منتقل ہونے کا خطرہ 1 فیصد سے بھی کم کیا جا سکتا ہے۔
شعور اور آگاہی: ایچ آئی وی کے بارے میں درست معلومات حاصل کریں اور دوسروں تک بھی پہنچائیں۔ خوف اور بدنما داغ (Stigma) کی وجہ سے لوگ اپنی تشخیص کرانے سے گریز کرتے ہیں، جس سے وائرس مزید پھیلتا ہے۔ 2025 کے اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں ایچ آئی وی کے ساتھ زندگی گزارنے والے 80 فیصد افراد اپنی بیماری سے بے خبر ہیں۔
پرائیکسپوژر پروفیلیکسس (PrEP): یہ ایک ایسی دوا ہے جو ایچ آئی وی سے متاثر ہونے سے پہلے تحفظ فراہم کرتی ہے۔ اگر اسے مستقل طور پر لیا جائے تو یہ انفیکشن کے خطرے کو 99 فیصد تک کم کر سکتی ہے۔
پاکستان میں ایچ آئی وی کی مجموعی صورتحال
اقوام متحدہ کے تخمینوں کے مطابق پاکستان میں ایچ آئی وی کے ساتھ زندگی گزارنے والے افراد کی تعداد 350,000 کے قریب ہے۔ گذشتہ 15 سالوں میں نئے ایچ آئی وی انفیکشنز میں 200 فیصد اضافہ ہوا ہے — جو 2010 میں 16,000 تھے، 2024 میں بڑھ کر 48,000 ہو گئے۔ پاکستان عالمی ادارہ صحت کے مشرقی بحیرہ روم کے خطے میں سب سے تیزی سے بڑھتی ہوئی ایچ آئی وی وباء والے ممالک میں شامل ہے۔
ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ جب تک انفیکشن کنٹرول کے سخت قوانین نافذ نہیں کیے جاتے اور طبی شعبے میں غیرمحفوظ طریقوں کا خاتمہ نہیں کیا جاتا، سندھ اور پاکستان میں ایچ آئی وی کے پھیلنے کے واقعات پیش آتے رہیں گے۔ وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے حال ہی میں ہدایت کی ہے کہ ہر ضلع میں کم از کم ایک ایچ آئی وی اسکریننگ اور ٹریٹمنٹ سینٹر قائم کیا جائے اور عوام میں آگاہی مہم کو مزید موثر بنایا جائے۔
نوٹ: یہ تحریر صرف معلومات فراہم کرنے کے لیے ہے۔ ایچ آئی وی سے متعلق کسی بھی طبی مشاورت کے لیے اپنے قریبی ہیلتھ کیئر پروفیشنل سے رجوع کریں۔
سندھ کے دل میں واقع ضلع مٹیاری اپنی منفرد ثقافتی پہچان، صوفی روایت اور ذائقوں کی وجہ سے ایک خاص مقام رکھتا ہے۔ قومی شاہراہ پر سفر کرنے والے اکثر اس ضلع میں ایک مختصر قیام ضرور کرتے ہیں، اور اس کی سب سے بڑی وجہ یہاں کا مشہور گاڑھے دودھ سے تیار کیا جانے والا ماوا اور روایتی آئس کریم ہے، جو نہ صرف مقامی لوگوں بلکہ مسافروں کے لیے بھی ایک لازمی ذائقہ بن چکا ہے۔
مٹیاری صرف کھانوں تک محدود نہیں بلکہ یہ سندھ کی روحانی تاریخ کا بھی ایک اہم مرکز ہے۔ یہاں عظیم صوفی شاعر شاہ عبداللطیف بھٹائی اور سروری جماعت کے روحانی پیشوا پیر مخدوم سرور نوح کے مزارات واقع ہیں، جہاں ہر سال ہزاروں عقیدت مند حاضری دیتے ہیں۔ یہ مزارات نہ صرف مذہبی عقیدت کا مرکز ہیں بلکہ سندھ کی صوفی روایت کی جیتی جاگتی علامت بھی ہیں۔
مٹیاری کا شہر ہالا اپنی روایتی دستکاریوں کی وجہ سے دنیا بھر میں پہچانا جاتا ہے۔ یہاں کی کاشی ٹائل، رنگین کڑھائی والی چارپائیاں، خواتین کے لیے ہاتھ سے بنے کپڑے ‘سوسی’ اور مردوں کے لیے کھڈی پر تیار کیے جانے والے کپڑے سندھ کی ثقافتی وراثت کی عکاسی کرتے ہیں۔ یہ ہنر نسل در نسل منتقل ہو رہا ہے اور آج بھی اپنی اصل شکل میں زندہ ہے۔
یوں مٹیاری ایک ایسا مقام ہے جہاں مٹھاس، ہنر اور روحانیت ایک ساتھ سانس لیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ یہ ضلع سندھ کی ثقافت اور روایت کو سمجھنے کے لیے ایک مکمل تصویر پیش کرتا ہے، جہاں ہر مسافر کو نہ صرف ذائقہ بلکہ تاریخ اور روحانیت کا بھی احساس ہوتا ہے۔
سندھ ایک ایسا خطہ ہے جہاں زمین، پانی اور موسم مل کر پرندوں کے لیے ایک مکمل دنیا تشکیل دیتے ہیں۔ اگر پاکستان کو پرندوں کی سرزمین کہا جائے تو سندھ اس کا سب سے بھرپور اور متنوع حصہ ہے۔
مستند سائنسی ریکارڈ کے مطابق سندھ میں تقریباً 450 سے 500 کے درمیان پرندوں کی اقسام پائی جاتی ہیں، جو پورے پاکستان میں ریکارڈ ہونے والی تقریباً 790 سے 800 اقسام کا ایک بڑا حصہ ہیں۔ یہ صرف ایک عدد نہیں بلکہ ایک مکمل ماحولیاتی نظام کی عکاسی ہے، جہاں ہر خطہ اپنے اندر مختلف پرندوں کو جگہ دیتا ہے۔
سندھ کی اہمیت کو سمجھنے کے لیے اس کے مختلف ماحولیاتی خطوں کو الگ الگ دیکھنا ضروری ہے، کیونکہ ہر خطہ مخصوص پرندوں کا گھر ہے۔
سب سے پہلے انڈس ڈیلٹا کی بات کی جائے تو یہ دنیا کے بڑے ڈیلٹاز میں شمار ہوتا ہے۔ یہاں مینگرووز، کیچڑ والے میدان، نمکین پانی اور سمندری اثرات ایک منفرد ماحول پیدا کرتے ہیں۔ اس علاقے میں فلیمنگو جسے اردو میں گلابی بگلا بھی کہا جاتا ہے، بڑی تعداد میں نظر آتا ہے۔
اس کے علاوہ سمندری بگلوں کی مختلف اقسام، ٹرن، سینڈ پائپر، پلور اور اویسٹر کیچر جیسے ساحلی پرندے یہاں عام ہیں۔ یہ وہ پرندے ہیں جو ساحل، کیچڑ اور اتھلے پانی میں خوراک تلاش کرتے ہیں۔ انڈس ڈیلٹا نہ صرف مقامی بلکہ بیرونی پرندوں کے لیے بھی ایک محفوظ ٹھکانہ ہے۔
دنیا کے بڑے ڈیلٹاز میں سے ایک انڈس ڈیلٹا میں موجود مینگرووز، کیچڑ والے میدان، نمکین پانی میں فلیمنگو جسے اردو میں گلابی بگلا بھی کہا جاتا ہے، بڑی تعداد میں نظر آتا ہے۔ ساگا ڈیجیٹل
ساحلی سندھ، جس میں کراچی سے لے کر ٹھٹھہ اور بدین تک کا علاقہ شامل ہے، پرندوں کے لیے ایک الگ دنیا رکھتا ہے۔ یہاں سمندر کے کنارے، کھارے پانی کی جھیلیں اور مینگرووز مل کر ایسے حالات پیدا کرتے ہیں جہاں سی گل، ٹرن، کارمورینٹ اور دیگر سمندری پرندے بڑی تعداد میں پائے جاتے ہیں۔ یہ پرندے زیادہ تر مچھلیوں اور سمندری حیات پر انحصار کرتے ہیں۔
اس کے بعد سندھ کے ویٹ لینڈز یعنی جھیلوں اور دلدلی علاقوں کی بات آتی ہے، جو اس صوبے کی سب سے بڑی طاقت ہیں۔
ماہرین کے مطابق سندھ صوبہ صحرا، پہاڑ، سمندر، دریا کے ساتھ آب گاہوں کی بہتات کے باعث ملک کے دیگر صوبوں کی نسبت جنگلی حیات کے حیاتی تنوع کے لحاظ سے ایک امیر خطہ سمجھا جاتا ہے۔ جس کا اندازہ اس سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ رامسر کنونشن کے تحت پاکستان میں عالمی اہمیت رکھنے والی 19 آب گاہوں کو ’رامسر سائٹ‘ قرار دیا گیا ہے، جن میں نو صرف سندھ صوبے میں ہیں۔
ان میں کینجھر جھیل، ہالیجی جھیل، انڈس ڈیلٹا، انڈس ڈولفن ریزرو، دیہہ اکڑو، ڈرگ جھیل، جبو لگون، نرڑی لگون اور رن آف کچھ شامل ہیں جبکہ رامسر سائیٹ حب ڈیم کا آدھا حصہ سندھ اور آدھا بلوچستان میں ہے۔
یہ وہ مقامات ہیں جہاں سردیوں کے موسم میں ہزاروں میل دور سے آنے والے پرندے قیام کرتے ہیں۔ یہاں بطخیں، ہنس، کونج، مختلف اقسام کے بگلے، ایگریٹ، ہیرون، پیلیکن اور واڈر پرندے بڑی تعداد میں دیکھے جاتے ہیں۔ سفید بگلا، خاکی بگلا، نیلا بگلا اور رات کو شکار کرنے والا نائٹ ہیرون بھی انہی علاقوں میں پایا جاتا ہے۔
سندھ کے آب گاہوں میں سفید بگلا، خاکی بگلا، نیلا بگلا اور رات کو شکار کرنے والا نائٹ ہیرون سمیت مختلف پرندے بری تداد میں ملتے ہیں۔ تصویر: ساگا ڈیجیٹل
پنجاب میں صرف تین، بلوچستان میں پانچ اور خیبر پختونخوا میں دو آب گاہوں کو رامسر سائٹ قرار دیا گیا ہے۔ ایران کے شہر رامسر میں ’کنونشن آن ویٹ لینڈ‘ یعنیٰ آب گاہوں کے تحفظ کا یہ عالمی معاہدہ دو فروری، 1971 کو طے پانے کے بعد 1975 میں نافذ ہوا۔
اس معاہدے کے تحت ایسی آب گاہیں جہاں کثیر تعداد میں پودوں، پرندوں اور مچھلیوں کی درجنوں اقسام پرورش پاتی ہیں اور یہ آب گاہیں ملکی معیشت میں کردار ادا کرنے کے ساتھ ساتھ لاکھوں افراد کے روزگار کا بھی ذریعہ ہوں تو انہیں رامسر سائٹ قرار دیا جاتا ہے۔
انڈس فلائے وے زون، جاڑوں میں وسطی ایشیا کی جانب نقل مکانی کرنے والے پرندوں کے راستے میں واقع ہے اور سرد ممالک سے پرندے دو درجن سے زائد ممالک سے ہوتے ہوئے یہاں پہنچتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق جاڑوں میں پاکستان میں موجود کُل پرندوں کا 30 فیصد ان مہمان پرندوں پر مشتمل ہوتا ہے۔
سندھ کا ریگستانی خطہ، خاص طور پر تھر، بظاہر خاموش اور خشک نظر آتا ہے، مگر یہاں زندگی ایک مختلف انداز میں موجود ہے۔تھر میں موروں کی بڑی تعداد پائی جاتی ہے۔
پاکستان میں مور سب سے زیادہ سندھ کے تھرپارکر میں پائے جاتے ہیں۔ مستند معلومات کے مطابق تھرپارکر، خصوصاً مٹھی، نگرپارکر اور اسلام کوٹ کے علاقوں کو پاکستان میں موروں کا سب سے بڑا مسکن مانا جاتا ہے۔ بعض سرکاری اور تحقیقی اندازوں کے مطابق صرف اسی خطے میں دسیوں ہزار مور موجود ہیں۔
نگرپارکر کے قریب واقع کارونجھر کے پہاڑی سلسلے اور اس کے آس پاس کے علاقے بھی موروں کے لیے نہایت موزوں ہیں، جہاں قدرتی ماحول، جھاڑی دار زمین، کھلے میدان اور بارش کے بعد بننے والے پانی کے ذخائر انہیں رہنے اور افزائش کے لیے بہترین حالات فراہم کرتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ مقامی آبادی مور کو نقصان نہیں پہنچاتی بلکہ اسے ایک خوبصورت اور قابل احترام پرندہ سمجھتی ہے، جس کی وجہ سے ان کی تعداد یہاں برقرار رہی ہے۔
پاکستان کے دیگر حصوں جیسے جنوبی پنجاب یا بلوچستان میں بھی مور پائے جاتے ہیں، لیکن وہاں ان کی تعداد کم ہے اور وہ اس طرح بڑی آبادی میں موجود نہیں جیسے سندھ کے تھرپارکر میں دیکھے جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ تھرپارکر کو پاکستان میں موروں کا سب سے اہم اور قدرتی مرکز سمجھا جاتا ہے۔
اس کے علاوہ حیاتاتی تنوع کے شاہوکار اس خطے میں نہایت اہم پرندہ تلور یا ہوبارا بسٹرڈ بھی بڑی تعداد میں پایا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ چکور، لوا، ریگستانی چڑیاں، سینڈگروز اور دیگر صحرائی پرندے یہاں پائے جاتے ہیں۔ یہ پرندے سخت گرمی، کم پانی اور کھلے میدانوں کے ماحول میں زندہ رہنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
رن آف کچھ، جو سندھ اور بھارت کے درمیان واقع ایک نمکین میدان ہے، ایک منفرد ماحولیاتی خطہ ہے۔ بارشوں کے بعد یہ علاقہ پانی سے بھر جاتا ہے اور پرندوں کے لیے جنت بن جاتا ہے۔ یہاں فلیمنگو کے بڑے جھنڈ، پلور، ایوو سیٹ اور دیگر واڈر پرندے بڑی تعداد میں نظر آتے ہیں۔ یہ علاقہ خاص طور پر ان پرندوں کے لیے اہم ہے جو نمکین پانی اور کیچڑ والے میدانوں میں خوراک تلاش کرتے ہیں۔
سندھ کے میدانی اور زرعی علاقے بھی پرندوں سے خالی نہیں ہیں۔ یہاں عام طور پر نظر آنے والے پرندوں میں چڑیا، کوا، مینا، بلبل، فاختہ، کبوتر اور مختلف شکاری پرندے شامل ہیں۔ چیل، باز اور عقاب جیسے پرندے کھلے میدانوں میں شکار کرتے ہیں۔ سبز طوطا، جسے طوطا یا توتا کہا جاتا ہے، باغات اور درختوں والے علاقوں میں عام ہے۔ ڈرونگو، جسے بعض علاقوں میں بھجنگا کہا جاتا ہے، اپنی جرات اور چالاکی کے لیے مشہور ہے۔
سندھ سے تعلق رکھنے والا منفرد پرندہ جس کا نام ہی سندھ ہُد ہُد یا Sind woodpecker ہے۔ یہ دریائے سندھ سے متصل میدانوں اور جنگلات، کھیر تھر نیشنل پارک میں پایا جاتا ہے۔ تصویر: یاسر پیچوہو
سندھ کے پہاڑی سلسلے، خاص طور پر کیرتھر رینج، ایک اور اہم ماحولیاتی خطہ ہیں۔ یہاں پہاڑی پرندے جیسے چکور، عقاب، باز اور دیگر شکاری پرندے پائے جاتے ہیں۔ یہ علاقے ان پرندوں کے لیے موزوں ہیں جو بلند جگہوں اور چٹانی ماحول میں رہنا پسند کرتے ہیں۔
پاکستان کے دیگر خطوں کی نسبت سندھ میں پرندوں کی زیادہ تعداد کیو؟
سب سے پہلی وجہ ماحولیاتی تنوع ہے۔ سندھ میں سمندر، دریا، جھیلیں، صحرا، پہاڑ، رن آف کچھ اور زرعی زمین سب ایک ہی خطے میں موجود ہیں۔ یہ تنوع مختلف اقسام کے پرندوں کو اپنی طرف کھینچتا ہے۔
دوسری وجہ پانی کی فراوانی ہے۔ سندھ میں پاکستان کے دیگر صوبوں کے مقابلے میں زیادہ مستقل ویٹ لینڈز موجود ہیں، جو پرندوں کے لیے خوراک اور آرام کی جگہ فراہم کرتے ہیں۔
تیسری وجہ پاکستان میں رام سر سائٹس کی اکثریت کا سندھ میں ہونا ہے۔ یہ وہ بین الاقوامی اہمیت کے حامل علاقے ہیں جہاں پرندوں کی بڑی تعداد آتی ہے۔
چوتھی وجہ موسم ہے۔ سندھ کا موسم سردیوں میں نسبتاً معتدل ہوتا ہے، جو سرد علاقوں سے آنے والے پرندوں کے لیے موزوں ہے۔
پانچویں وجہ پرندوں کی نقل مکانی کرنے والے راستوں پر سندھ کی موجودگی ہے۔ دنیا کے مختلف حصوں سے آنے والے پرندے ان راستوں کے ذریعے سندھ پہنچتے ہیں اور یہاں قیام کرتے ہیں۔
اب اگر پورے پاکستان کی بات کی جائے تو یہ ملک بھی اپنے جغرافیے کی وجہ سے غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ شمال میں ہمالیہ، قراقرم اور ہندوکش کے بلند پہاڑ ہیں جہاں برفانی اور پہاڑی پرندے پائے جاتے ہیں۔ ان میں سنو کاک، مونال، لامرجیئر گدھ اور مختلف اقسام کے عقاب شامل ہیں۔
پنجاب کے میدانی علاقوں میں زرعی زمین اور دریا پرندوں کے لیے سازگار ماحول فراہم کرتے ہیں۔ یہاں چڑیا، مینا، بلبل، فاختہ، بطخیں اور دیگر عام پرندے پائے جاتے ہیں۔
خیبر پختونخوا میں جنگلات اور پہاڑی علاقے پرندوں کی ایک الگ دنیا رکھتے ہیں، جبکہ بلوچستان کے وسیع مگر خشک علاقے مخصوص صحرائی اور نیم صحرائی پرندوں کا گھر ہیں۔
پاکستان میں پائے جانے والے چند نمایاں پرندوں میں مور، چکور، تلور، مصری گدھ، شاہین، عقاب، فلیمنگو، کونج، بطخیں اور مختلف اقسام کے بگلے شامل ہیں۔ سندھ اسپیرو اور سندھ وُڈپیکر جیسے پرندے اس بات کی علامت ہیں کہ یہ خطہ عالمی سطح پر بھی اپنی شناخت رکھتا ہے۔
ایک کم معروف حقیقت یہ ہے کہ سندھ کے کئی علاقوں میں ایسے پرندے بھی ریکارڈ کیے گئے ہیں جو پاکستان کے دیگر حصوں میں شاذ و نادر ہی نظر آتے ہیں، خاص طور پر ساحلی اور ویٹ لینڈ پرندے۔ اسی
طرح کچھ پرندے صرف مختصر وقت کے لیے یہاں قیام کرتے ہیں، مگر ان کی موجودگی بھی مجموعی تنوع میں شامل ہوتی ہے۔
فلیمنگو کے بڑے جھنڈ، جو بعض اوقات ہزاروں کی تعداد میں ہوتے ہیں، سندھ کے ساحلی علاقوں میں ایک حیرت انگیز منظر پیش کرتے ہیں۔ اسی طرح جھیلوں پر اترنے والے ہزاروں بطخوں اور ہنسوں کے غول اس بات کا ثبوت ہیں کہ یہ خطہ پرندوں کے لیے کتنا اہم ہے۔
اگر ایک جملے میں کہا جائے تو سندھ صرف ایک صوبہ نہیں بلکہ پرندوں کی ایک مکمل دنیا ہے، جہاں ہر موسم، ہر خطہ اور ہر منظر ایک نئی کہانی سناتا ہے۔ یہ وہ جگہ ہے جہاں آسمان صرف خالی نہیں ہوتا بلکہ پرندوں کی پرواز سے بھرا ہوتا ہے، اور یہی اسے پاکستان کا سب سے امیر خطہ بناتا ہے۔
پاکستان ایک بار پھر ایک غیر معمولی صورتحال سے گزر رہا ہے، مگر اس بار وجہ وبا نہیں بلکہ ایندھن کا بحران ہے۔ وفاقی حکومت نے ملک بھر میں ایک ماہ کے لیے سمارٹ لاک ڈاؤن نافذ کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جس کا مرکز خاص طور پر کراچی جیسے بڑے شہری مراکز بن رہے ہیں، جہاں پیٹرول کی کھپت سب سے زیادہ ہے۔
حکومتی ذرائع کے مطابق ایران میں جاری کشیدگی اور خطے میں جنگی صورتحال نے عالمی منڈی میں تیل کی ترسیل کو متاثر کیا ہے، جس کے اثرات براہ راست پاکستان جیسے درآمدی ایندھن پر انحصار کرنے والے ممالک پر پڑے ہیں۔ ایک کم معروف حقیقت یہ ہے کہ پاکستان اپنی مجموعی پیٹرولیم ضروریات کا تقریباً 85 فیصد درآمد کرتا ہے، جس کے باعث عالمی سطح پر معمولی اتار چڑھاؤ بھی مقامی بحران کو جنم دے سکتا ہے۔
اسی پس منظر میں حکومت نے غیر ضروری نقل و حرکت کو محدود کرنے کے لیے سخت اقدامات کیے ہیں۔ حکام نے واضح کیا ہے کہ بلا ضرورت گھروں سے نکلنے والوں کو حراست میں لیا جا سکتا ہے، جبکہ ان کی گاڑیاں بھی ضبط کی جا سکتی ہیں۔ کراچی میں مختلف علاقوں میں دکانوں کے اوقات کار محدود کیے جا رہے ہیں اور بعض مارکیٹوں کو مکمل طور پر بند رکھنے کی ہدایت دی گئی ہے۔
تعلیمی اداروں کی عارضی بندش بھی اس پالیسی کا حصہ ہے، تاہم آن لائن تعلیم کو جاری رکھنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ پاکستان میں آن لائن تعلیم کا انفراسٹرکچر کووڈ 19 کے دوران تیزی سے ترقی پایا، جسے اب ایک بار پھر ہنگامی صورتحال میں استعمال کیا جا رہا ہے۔
سندھ حکومت نے بھی ایندھن کی بچت کے لیے سرکاری دفاتر بند رکھنے اور جمعہ کے دن تعطیل کا اعلان کیا ہے، جو ماضی میں توانائی بحران کے دوران بھی ایک آزمودہ حکمت عملی رہی ہے۔ ٹرانسپورٹ سیکٹر میں بھی محدود سروسز چلانے کی تجویز زیر غور ہے تاکہ پیٹرول کی کھپت کو کم سے کم کیا جا سکے۔
ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر یہ اقدامات بروقت اور مؤثر انداز میں نافذ کیے گئے تو نہ صرف ایندھن کی بچت ممکن ہوگی بلکہ سپلائی چین پر دباؤ بھی کم کیا جا سکے گا۔ تاہم یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ ایسے فیصلے معاشی سرگرمیوں کو سست کر دیتے ہیں، جس کا اثر روزمرہ اجرت پر کام کرنے والے افراد پر سب سے زیادہ پڑتا ہے۔
شہریوں کا ردعمل ملا جلا ہے۔ کچھ اسے ناگزیر قدم قرار دے رہے ہیں، جبکہ دیگر تعلیمی اداروں کی بندش اور کاروباری سرگرمیوں میں کمی پر تشویش کا اظہار کر رہے ہیں۔ اس تمام صورتحال میں ایک سوال ابھرتا ہے: کیا یہ عارضی پابندیاں طویل المدتی توانائی پالیسی کی ضرورت کو اجاگر کر رہی ہیں، یا یہ محض ایک اور ہنگامی حل ہے جو وقت کے ساتھ ختم ہو جائے گا؟
آسمان پر ایک خاموش قافلہ نمودار ہوتا ہے۔ دور افق سے ابھرتی باریک قطاریں، ترتیب میں بندھی، بغیر کسی شور کے آگے بڑھتی ہوئی۔ یہ ہیں ڈیموئیزل کرینز، جنہیں سندھ میں پیار سے ‘کونج’ کہا جاتا ہے۔ ان کی پرواز صرف ایک ہجرت نہیں، بلکہ ہزاروں سال پرانی ایک روایت ہے، جو ہر سردی میں دہرائی جاتی ہے۔
یہ کونج پرندے وسطی ایشیا کے سرد علاقوں، منگولیا، قازقستان اور روس کے وسیع میدانوں سے سفر شروع کرتے ہیں۔ ہزاروں کلومیٹر کا یہ سفر دنیا کے مشکل ترین فضائی راستوں میں شمار ہوتا ہے۔ حیرت انگیز طور پر یہ پرندے ہمالیہ کے اوپر سے گزرتے ہیں، جہاں ہوا میں آکسیجن کی مقدار نہایت کم ہوتی ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ پرندے تقریباً 16 ہزار فٹ یا اس سے بھی زیادہ بلندی پر پرواز کر سکتے ہیں، اور اپنی مخصوص V شکل کی ترتیب میں اڑتے ہوئے توانائی بچاتے ہیں۔ یہ ترتیب صرف خوبصورتی نہیں بلکہ سائنسی حکمت عملی ہے، جس سے پیچھے اڑنے والے پرندوں کو ہوا کی مزاحمت کم محسوس ہوتی ہے۔
سندھ ان کے لیے محض ایک پڑاؤ نہیں بلکہ ایک محفوظ پناہ گاہ ہے۔ یہاں کا معتدل موسم، دریائے سندھ کا وسیع ڈیلٹا، جھیلیں اور دلدلی علاقے انہیں خوراک، پانی اور آرام فراہم کرتے ہیں۔ خاص طور پر ٹھٹھہ، بدین اور تھرپارکر کے علاقے ان کی آمد کے اہم مراکز ہیں۔ کم لوگ جانتے ہیں کہ کونج اپنی خوراک میں بیج، گھاس، کیڑے اور چھوٹے جاندار شامل کرتی ہیں، اور یوں یہ زمین کی زرخیزی میں خاموش کردار ادا کرتی ہیں۔
کونج کی زندگی کا ایک اور پہلو انہیں دیگر پرندوں سے منفرد بناتا ہے۔ یہ پرندے زندگی بھر کے لیے جوڑا بناتے ہیں۔ ان کے درمیان وفاداری کی ایک ایسی مثال ملتی ہے جو قدرت میں کم ہی نظر آتی ہے۔ اگر جوڑے میں سے ایک پرندہ مر جائے تو دوسرا اکثر ساری زندگی تنہا گزار دیتا ہے۔ ان کی باہمی ہم آہنگی نہ صرف زمین پر بلکہ فضا میں بھی نظر آتی ہے، جہاں وہ ایک دوسرے کے ساتھ ہم قدم رہتے ہیں۔
ایک کم معلوم حقیقت یہ بھی ہے کہ کونج کی ہجرت صدیوں سے انسانی ثقافت کا حصہ رہی ہے۔ مغل دور میں ان پرندوں کے شکار کو شاہی کھیل سمجھا جاتا تھا، مگر آج یہی شکار ان کی بقا کے لیے خطرہ بن چکا ہے۔ ماحولیاتی تبدیلی، آبی ذخائر کی کمی اور مسکن کی تباہی بھی ان کے سفر کو مشکل بنا رہی ہے۔
یہ خاموش سفر ہمیں یاد دلاتا ہے کہ سندھ صرف ایک خطہ نہیں، بلکہ ایک زندہ راستہ ہے، جہاں سے قدرت کی کہانیاں گزرتی ہیں۔ ہر سال آسمان پر بنتی یہ قطاریں ہمیں زمین اور فضا کے اس رشتے کا احساس دلاتی ہیں، جو نظر تو آتا ہے مگر اکثر سمجھا نہیں جاتا۔ ساگا ڈیجیٹل انہی خاموش کہانیوں کو دریافت کرتا ہے، اور انہیں آپ تک پہنچاتا ہے، تاکہ ہم سب اس قدرتی ورثے کو پہچان سکیں اور اس کی حفاظت کی اہمیت کو سمجھ سکیں۔