Tag: سندھ

  • نئی تحقیقی رپورٹ: سندھ میں کم عمری کی شادی کے 472 مقدمات درج، ایک فیصد سے بھی کم کیسز میں سزا

    نئی تحقیقی رپورٹ: سندھ میں کم عمری کی شادی کے 472 مقدمات درج، ایک فیصد سے بھی کم کیسز میں سزا

    ایک نئی تحقیقی رپورٹ کے مطابق سندھ میں کم عمری کی شادی سے متعلق 472 مقدمات کا جائزہ لیا گیا۔ ان میں 65.3 فیصد مقدمات میں الزامات عائد کیے گئے، لیکن ایک فیصد سے بھی کم مقدمات میں ملزمان کو سزا ہوئی۔ 

    ان مقدمات میں 180، یعنی تقریباً 38 فیصد میں نکاح پڑھانے والے مذہبی عہدیداروں کو کم عمری کی شادی میں سہولت فراہم کرنے والا قرار دیا گیا، تاہم ان میں سے کسی کو سزا نہیں ہوئی۔

    متاثرہ بچوں میں 129 کی عمریں نو سے 12 سال، 215 کی عمریں 13 سے 15 سال اور 128 کی عمریں 16 سے 17 سال تھیں۔ یوں 73 فیصد متاثرہ بچے 15 سال یا اس سے کم عمر کے تھے۔

    نیشنل کمیشن آن دی رائٹس آف چائلڈ، اقوام متحدہ کے ادارے یونیسیف، آکسفورڈ یونیورسٹی کے محققین اور چائلڈ فرنٹیئرز کی تحقیق پر مبنی یہ رپورٹ کم عمری کی شادی کے مذہبی، معاشرتی، معاشی اور قانونی پہلوؤں کا جائزہ لیتی ہے۔ اس میں مختلف صوبوں کے آٹھ اضلاع میں تحقیق، 400 سے زائد افراد کے انٹرویوز، گروہی مباحثوں اور پولیس مقدمات کے تجزیے کو شامل کیا گیا ہے۔

    رپورٹ کے مطابق پاکستان میں تقریباً 18 فیصد نوجوان خواتین کی شادی 18 سال کی عمر سے پہلے ہوئی، جبکہ لڑکوں میں یہ شرح تقریباً پانچ فیصد ہے۔

    تحقیق میں بلوچستان میں کم عمری کی شادی کی شرح سب سے زیادہ بتائی گئی ہے۔ صوبے میں 10 سے 17 سال کی عمر کے پانچ اشعاریہ 18 فیصد بچوں کی شادی ہو چکی تھی۔ خیبر پختونخوا میں بھی یہ شرح قومی اوسط سے زیادہ پائی گئی، جبکہ پنجاب میں آبادی زیادہ ہونے کے باعث ایسے واقعات کی مجموعی تعداد سب سے زیادہ ہے۔ سندھ میں یہ شرح قومی اوسط کے قریب بتائی گئی ہے۔

    رپورٹ سندھ کو اس حوالے سے اہم مثال قرار دیتی ہے کہ صوبے نے 2013 میں کم عمری کی شادی کی روک تھام کا قانون منظور کیا، جس کے تحت لڑکوں اور لڑکیوں دونوں کے لیے شادی کی کم از کم عمر 18 سال مقرر کی گئی۔

    رپورٹ کے مطابق سندھ میں اس قانون کے تحت تقریباً ایک دہائی کے عدالتی مقدمات کا جائزہ لیا گیا۔ اس کے باوجود سزا کی کم شرح ظاہر کرتی ہے کہ قانون کی موجودگی اور اس پر مؤثر عمل درآمد کے درمیان نمایاں فرق ہے۔

    رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ پاکستان میں کم عمری کی شادی کا مسئلہ محض غربت یا آگاہی کی کمی تک محدود نہیں، بلکہ مذہبی تشریحات، سماجی روایات، صنفی امتیاز، معاشی مشکلات اور قانون پر عمل درآمد میں کمزوری بھی اس عمل کو جاری رکھنے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔

    چائلڈ میرج ریسرچ اِن پاکستان کے عنوان سے جاری اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کم عمری کی شادی کی شرح میں گزشتہ چند دہائیوں کے دوران کمی ضرور آئی ہے، لیکن اس رفتار سے 2030 تک اس عمل کا خاتمہ ممکن دکھائی نہیں دیتا۔ رپورٹ کے مطابق 1993 میں 18 سال سے پہلے شادی کرنے والی نوجوان خواتین کی شرح 37 فیصد تھی، جو 2018 میں کم ہو کر 18 فیصد رہ گئی۔

    تحقیق میں یہ بھی سامنے آیا کہ ان مقدمات میں 27 فیصد بچے صرف 9 سے 12 سال کی عمر کے تھے، جبکہ 46 فیصد کی عمریں 13 سے 15 سال کے درمیان تھیں۔ اس طرح مجموعی طور پر 73 فیصد متاثرہ بچوں کی عمر 15 سال یا اس سے کم تھی۔ رپورٹ کے مطابق یہ اعداد و شمار اس مسئلے کی سنگینی اور بچوں کے تحفظ کے لیے موجود نظام کی کمزوری کو ظاہر کرتے ہیں۔

    رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کم عمری کی شادی کی ایک بڑی وجہ یہ تصور ہے کہ لڑکیوں کی جلد شادی انہیں ہراسانی، بدنامی اور معاشرتی تنقید سے محفوظ رکھتی ہے۔ والدین کو خدشہ ہوتا ہے کہ اگر بیٹی کی شادی میں تاخیر ہوئی تو اس کے لیے مناسب رشتہ ملنا مشکل ہو جائے گا یا خاندان کو تنقید کا سامنا کرنا پڑے گا۔ اس دباؤ میں اکثر لڑکیوں کی اپنی رائے کو اہمیت نہیں دی جاتی اور شادی کا فیصلہ والد، چچا اور خاندان کے دیگر بزرگ کرتے ہیں۔

    تحقیق کے مطابق لڑکیوں اور لڑکوں کے لیے بالغ ہونے کے تصورات بھی مختلف ہیں۔ بہت سے معاشروں میں لڑکی کی بلوغت کے بعد شادی کو اس کی زندگی کا فطری اگلا مرحلہ سمجھا جاتا ہے، جبکہ لڑکوں سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ شادی سے پہلے معاشی طور پر خودمختار ہوں اور خاندان کی کفالت کے قابل بنیں۔ یہ فرق لڑکیوں کو کم عمری میں شادی کے زیادہ خطرے سے دوچار کرتا ہے۔

    رپورٹ کے مطابق غربت اور مالی عدم استحکام بھی کم عمری کی شادی کو فروغ دیتے ہیں۔ غریب خاندان بعض اوقات بیٹی کی شادی کو اپنے مالی بوجھ میں کمی یا اس کے مستقبل کے تحفظ کا ذریعہ سمجھتے ہیں۔ پاکستان کے آبادی اور صحت سے متعلق سروے کے اعداد و شمار کے مطابق 1990 میں غریب ترین طبقے میں 20 سے 24 سال کی خواتین میں سے 42.3 فیصد کی شادی 16 سال کی عمر سے پہلے ہوئی تھی، جبکہ خوشحال ترین طبقے میں یہ شرح 17.6 فیصد تھی۔

    اگرچہ وقت کے ساتھ دونوں طبقوں میں یہ شرح کم ہوئی، لیکن معاشی فرق برقرار رہا۔ 2017 میں غریب ترین طبقے میں یہ شرح 30.8 فیصد تھی، جبکہ خوشحال ترین طبقے میں تقریباً چھ فیصد رہ گئی تھی۔

    تعلیم کی کمی بھی اس مسئلے کو بڑھاتی ہے۔ رپورٹ کے مطابق جب لڑکیاں مالی مشکلات، اسکولوں سے دوری، محفوظ آمدورفت کی کمی یا دیگر وجوہات کے باعث تعلیم چھوڑ دیتی ہیں تو خاندان اکثر شادی کو ان کے لیے واحد قابل قبول راستہ سمجھنے لگتے ہیں۔ رپورٹ میں پاکستان کے پانچ سے 16 سال کی عمر کے تقریباً دو کروڑ 20 لاکھ سے ڈھائی کروڑ بچوں کے اسکولوں سے باہر ہونے کا تخمینہ بھی پیش کیا گیا ہے۔

    مذہبی تشریحات اور قانونی کمزوریاں

    رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بعض حلقے کم عمری کی شادی کے جواز میں مذہبی دلائل پیش کرتے ہیں، لیکن اسلامی فقہ میں جسمانی بلوغت کے ساتھ ذہنی اور جذباتی پختگی، ذمہ داری اٹھانے کی صلاحیت اور نقصان سے بچاؤ کے اصولوں کو بھی اہمیت حاصل ہے۔ تحقیق کے مطابق مذہبی تعلیمات کی ایسی تشریحات کو فروغ دینے کی ضرورت ہے جو بچوں کے تحفظ اور ان کی فلاح کو مقدم رکھیں۔

    رپورٹ کے مطابق سندھ، بلوچستان اور اسلام آباد میں شادی کی کم از کم عمر 18 سال مقرر کرنے کے لیے قانونی اقدامات کیے گئے ہیں، جبکہ پنجاب میں بھی اس سلسلے میں پیش رفت ہوئی ہے۔ تاہم قوانین میں صوبائی فرق، نکاح اور رجسٹریشن کے الگ الگ انتظامات اور کمزور قانونی کارروائی کے باعث ان قوانین پر مؤثر عمل درآمد نہیں ہو رہا۔

    رپورٹ خیبر پختونخوا میں بھی شادی کی کم از کم عمر 18 سال مقرر کرنے اور پورے ملک میں یکساں قانون سازی کی سفارش کرتی ہے۔

    تحقیق میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ سیلاب، خشک سالی اور دیگر قدرتی آفات خاندانوں کی معاشی مشکلات بڑھا کر بچوں کو کم عمری کی شادی کے خطرے سے دوچار کر سکتی ہیں۔ بعض خاندان نقل مکانی، عدم تحفظ اور معاشی غیر یقینی صورت حال کے باعث لڑکیوں کی جلد شادی کا فیصلہ کرتے ہیں۔

    رپورٹ میں سفارش کی گئی ہے کہ کم عمری کی شادی روکنے کے لیے صرف آگاہی مہمات کافی نہیں ہوں گی۔ نکاح پڑھانے والوں اور نکاح رجسٹراروں کے فرائض کو مربوط کیا جائے، شادی سے پہلے عمر کی تصدیق لازمی بنائی جائے اور خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف مؤثر کارروائی کی جائے۔

    اس کے ساتھ مذہبی رہنماؤں، والدین، بزرگوں، اساتذہ اور مقامی برادریوں کو بھی اس کوشش میں شامل کرنے کی ضرورت ہے۔ غریب خاندانوں کو معاشی مدد، لڑکیوں کو محفوظ تعلیمی سہولتیں، ثانوی تعلیم جاری رکھنے کے مواقع اور فنی تربیت فراہم کی جائے تاکہ کم عمری کی شادی کے بجائے تعلیم اور ہنر ان کے مستقبل کا راستہ بن سکیں۔

    رپورٹ کے مطابق حکومت، عدالتی اداروں، تعلیمی نظام، مذہبی قیادت اور شہری تنظیموں کے درمیان مربوط تعاون کے بغیر اس مسئلے کا پائیدار حل ممکن نہیں۔ مقصد صرف شادی کی عمر بڑھانا نہیں، بلکہ ایسا ماحول پیدا کرنا ہے جس میں بچے تعلیم حاصل کر سکیں، ذہنی اور جذباتی طور پر بالغ ہوں اور اپنی زندگی کے اہم فیصلوں میں ان کی رائے اور حقوق کا احترام کیا جائے۔

  • جب کراچی کے میدانوں میں بمبئی اور ایم سی سی کو سخت مقابلے کا سامنا کرنا پڑا: تقسیم سے قبل سندھ کی کرکٹ کا سنہری دور

    جب کراچی کے میدانوں میں بمبئی اور ایم سی سی کو سخت مقابلے کا سامنا کرنا پڑا: تقسیم سے قبل سندھ کی کرکٹ کا سنہری دور

    ریتلے ساحلوں سے پچ کی گھاس تک، آج جب ہم کراچی جِم خانہ یا سندھ کے تاریخی میدانوں پر نظر ڈالتے ہیں تو ہمیں جدید کرکٹ کی گہما گہمی دکھائی دیتی ہے۔

    لیکن بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ اس شہر کی مرطوب ہواؤں اور پیلے پتھروں کی اوٹ میں کرکٹ کا ایک شاندار اور کثیرالثقافتی ماضی پوشیدہ ہے، جس نے برصغیر کی کرکٹ کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کیا۔ 1947 کی تقسیم سے بہت پہلے کراچی ایک ایسے متحرک کرکٹ مرکز کے طور پر پہچانا جاتا تھا، جہاں پارسی، ہندو، مسلمان اور برطانوی کھلاڑی میدان میں اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کرتے تھے۔

    یہ اس دور کی کہانی ہے جب بمبئی کی مضبوط ٹیم کراچی آتی تھی اور انگلستان کے نامور بولرز کو سندھ کے کھلاڑیوں کی مزاحمت کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔

    رائل آرٹلری اور اورینٹل کلب: برطانوی فوج سے مقامی کھلاڑیوں تک

    کراچی میں کرکٹ کے ابتدائی فروغ میں برطانوی فوج اور ایسٹ انڈیا کمپنی کے اہلکاروں نے کردار ادا کیا۔ 1864 کی ایک تاریخی تصویر، جو رائل آرٹلری کے لیفٹیننٹ جنرل برابازون ہنری پوٹینجر کے البم سے منسوب ہے، اس دور میں کراچی کی چھاؤنی میں برطانوی فوجی افسران کی کرکٹ سرگرمیوں کی عکاسی کرتی ہے۔

    برطانوی فوجی اور یورپی برادریوں میں مقبول اس کھیل کو کراچی کی متمول پارسی برادری نے بھی اپنایا۔ 1848 میں کراچی میں اورینٹل کرکٹ کلب کے قیام کا ذکر ملتا ہے، جسے برصغیر کے ابتدائی مقامی کرکٹ کلبوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ اس کے بعد 1893 میں قائم ہونے والے کراچی پارسی انسٹی ٹیوٹ نے شہر میں کرکٹ کی سرگرمیوں کو منظم کرنے میں کردار ادا کیا۔

    پارسی کھلاڑیوں کی مہارت اور تکنیک نے مقامی سطح پر اس کھیل کی مقبولیت بڑھانے میں مدد دی۔

    ایم سی سی کا دورہ اور کراچی کی کرکٹ

    اکتوبر 1926 میں آرتھر گلیگن کی قیادت میں میریلیبون کرکٹ کلب کی ٹیم برصغیر کے دورے پر پہنچی۔ اس دورے کے دوران کراچی میں مقامی ٹیموں کو انگلستان کے تجربہ کار کھلاڑیوں کے خلاف کھیلنے کا موقع ملا۔

    کراچی کے پارسیوں اور مسلمانوں پر مشتمل مشترکہ ٹیم کے مقابلے کے علاوہ، ہندو کھلاڑیوں اور دیگر مقامی کرکٹرز پر مشتمل ٹیموں نے بھی مہمانوں کا سامنا کیا۔ مقامی کھلاڑیوں کی بیٹنگ اور مزاحمت نے شہر میں کرکٹ کے شائقین کی توجہ حاصل کی۔

    اگرچہ دورے کے بعض مقابلے ڈرا ہوئے اور بعض میں مہمان ٹیم کامیاب رہی، لیکن ان مقابلوں نے کراچی میں کرکٹ کی مقبولیت کو مزید بڑھایا۔

    پینٹنگولر ٹورنامنٹ: کراچی کی کرکٹ کا بڑا مقابلہ

    بیسویں صدی کے ابتدائی عشروں میں برصغیر کی مقامی کرکٹ میں پینٹنگولر ٹورنامنٹ کو نمایاں مقام حاصل ہوا۔ اس میں پانچ ٹیمیں حصہ لیتی تھیں: مسلمز، ہندوز، پارسیز، یورپینز اور دی ریسٹ۔

    ہندو جِم خانہ اور مسلم جِم خانہ سمیت مختلف میدانوں میں ہونے والے مقابلوں کو شائقین کی بڑی تعداد دیکھنے آتی تھی۔ ان میچوں میں کھلاڑیوں کی صلاحیت، ٹیموں کے درمیان مسابقت اور اپنی برادری کی نمائندگی اہم سمجھی جاتی تھی۔ یہ ٹورنامنٹ برصغیر کی کرکٹ کی تاریخ کا ایک اہم حصہ رہا، اگرچہ اس کی ٹیموں کی تشکیل اس دور کی سماجی تقسیم کی عکاسی بھی کرتی تھی۔

    ڈگلس جارڈین کی قیادت میں ایم سی سی کا دورہ

    1933 میں ایم سی سی کی ٹیم ڈگلس جارڈین کی قیادت میں برصغیر کے دورے پر آئی۔ جارڈین آسٹریلیا کے خلاف 1932 کی ایشز سیریز میں استعمال ہونے والی متنازع باڈی لائن حکمت عملی کے باعث شہرت رکھتے تھے۔ اس طریقے میں بلے باز کے جسم کی جانب تیز گیندیں کی جاتی تھیں، جبکہ فیلڈنگ بھی اسی حکمت عملی کے مطابق ترتیب دی جاتی تھی۔

    سندھ کی ٹیم کو بھی اس دور میں انگلستان کے تجربہ کار کھلاڑیوں کے خلاف کھیلنے کا موقع ملا۔ ایسے مقابلوں نے مقامی کرکٹرز کو اعلیٰ درجے کی کرکٹ کے تجربے سے روشناس کرایا اور سندھ میں کھیل کی ترقی میں کردار ادا کیا۔

    رانجی ٹرافی اور بمبئی کے خلاف سندھ کی کارکردگی

    1934 میں رانجی ٹرافی کے آغاز کے بعد سندھ کی ٹیم نے بھی اس اہم فرسٹ کلاس مقابلے میں حصہ لیا۔ اس دور میں بمبئی کی ٹیم بھارتی کرکٹ کی مضبوط ترین ٹیموں میں شمار ہوتی تھی۔ سندھ اور بمبئی کے درمیان مقابلوں نے مقامی شائقین کو اعلیٰ درجے کی کرکٹ دیکھنے کا موقع فراہم کیا۔

    نومبر 1938 میں کراچی جِم خانہ پر سندھ اور بمبئی کے درمیان رانجی ٹرافی کا مقابلہ ہوا۔ سندھ نے اپنی پہلی اننگز میں نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کیا اور بمبئی کے اسکور کو پیچھے چھوڑ دیا۔ اس دور کے مقابلے سندھ کی فرسٹ کلاس کرکٹ کی تاریخ میں اہم مقام رکھتے ہیں۔

    نومبر 1944 میں بمبئی کی ٹیم ایک بار پھر سندھ کے مقابل آئی۔ بمبئی کی پہلی اننگز کے 432 رنز کے جواب میں سندھ کی ٹیم پہلی اننگز میں 264 رنز بنا سکی اور اسے فالو آن کرنا پڑا۔ سندھ نے دوسری اننگز میں 244 رنز بنائے اور مقابلہ ڈرا ہوا۔ یہ میچ سندھ کے کھلاڑیوں کی مزاحمت کی ایک مثال تھا۔

    سندھ کے نمایاں کھلاڑی: ناؤمل جیومل اور عبدالعزیز درانی

    ناؤمل جیومل

    کراچی میں پیدا ہونے والے ناؤمل جیومل سندھ کے نمایاں کرکٹرز میں شمار ہوتے ہیں۔ انہوں نے 1932 میں لارڈز کے میدان پر انگلستان کے خلاف آل انڈیا کی پہلی ٹیسٹ ٹیم کی نمائندگی کرتے ہوئے اوپننگ کی۔ وہ فرسٹ کلاس کرکٹ میں آل راؤنڈر کے طور پر بھی معروف تھے۔ ان کی کارکردگی نے سندھ کے کھلاڑیوں کو قومی اور بین الاقوامی سطح پر شناخت دلانے میں مدد دی۔ تقسیم کے بعد بھی وہ پاکستان میں رہے اور ملک میں کرکٹ کی تربیت و ترقی سے وابستہ رہے۔

    عبدالعزیز درانی

    کابل میں پیدا ہونے والے عبدالعزیز درانی نے سندھ کو اپنا مسکن بنایا اور کرکٹ میں نمایاں مقام حاصل کیا۔ وہ اسپن بولنگ اور مڈل آرڈر بیٹنگ کے لیے جانے جاتے تھے۔ انہوں نے نوانگر کی ٹیم کی نمائندگی کی اور رانجی ٹرافی میں اس کی کامیابیوں میں کردار ادا کیا۔ وہ معروف کرکٹر سلیم درانی کے والد بھی تھے۔

    سندھ کے مسلم کھلاڑی: داؤد خان اور انور حسین کھوکھر

    داؤد خان

    1905 میں کراچی میں پیدا ہونے والے داؤد خان سندھ کے اہم بلے بازوں میں شمار ہوتے تھے۔ بمبئی کے خلاف مقابلوں میں ان کی کارکردگی نے انہیں مقامی کرکٹ میں نمایاں مقام دلایا۔ تقسیم کے بعد وہ پاکستان میں امپائرنگ سے وابستہ ہوئے اور ملک کے ابتدائی ٹیسٹ امپائرز میں شامل رہے۔

    انور حسین کھوکھر

    1920 میں پیدا ہونے والے انور حسین کھوکھر ایک جارحانہ بلے باز اور تیز میڈیم بولر تھے۔ انہوں نے 1940 میں بمبئی پینٹنگولر میں مسلمز کی نمائندگی کرتے ہوئے فرسٹ کلاس کرکٹ کا آغاز کیا۔ تقسیم کے بعد پاکستان میں کھیلے گئے ابتدائی فرسٹ کلاس مقابلوں میں بھی وہ شریک رہے۔ بعد ازاں وہ پاکستان کی کرکٹ ٹیم کے ابتدائی دور میں بھی کھیلتے رہے۔

    ایک عظیم ورثے کی یادگار

    نومبر 1935 میں آسٹریلین الیون کے خلاف کراچی جِم خانہ پر کھیلا گیا مقابلہ شہر کی کرکٹ تاریخ کے اہم واقعات میں شمار ہوتا ہے۔ اس دور میں کرکٹ کے اسکور جاننے کے لیے شائقین اخبارات کے دفاتر کے باہر لگے بلیک بورڈز پر نظریں جمائے رکھتے تھے، جہاں چاک سے تازہ ترین اسکور درج کیا جاتا تھا۔ اخبارات کے خصوصی ایڈیشن بھی شائقین میں مقبول تھے۔

    وہ دور صرف رنز اور وکٹوں کا نہیں تھا، بلکہ کراچی کی کثیرالثقافتی زندگی اور کھیل سے وابستگی کی بھی عکاسی کرتا تھا۔ مختلف برادریوں کے کھلاڑی میدان میں اپنی صلاحیتوں کے ذریعے پہچانے جاتے تھے۔ تقسیم ہند نے برصغیر کے جغرافیے اور کرکٹ کے ڈھانچے کو تبدیل کر دیا، لیکن 1947 سے پہلے کراچی اور سندھ میں پروان چڑھنے والی کرکٹ کی روایت آج بھی پاکستان کی کرکٹ تاریخ کا اہم حصہ ہے۔

  • لندن کانفرنس میں سندھ کی تقسیم مسترد، دریائے سندھ پر نئی نہروں کی مخالفت، سندھی اور اردو بولنے والوں کے اتحاد پر زور

    لندن کانفرنس میں سندھ کی تقسیم مسترد، دریائے سندھ پر نئی نہروں کی مخالفت، سندھی اور اردو بولنے والوں کے اتحاد پر زور

    برطانیہ، شمالی امریکہ، یورپ، مشرق وسطیٰ اور جنوبی ایشیا سے 400 سے زائد مندوبین نے ہفتے کے روز یونیورسٹی آف ویسٹ منسٹر کے ہیرو کیمپس میں سندھ سے متعلق 38ویں بین الاقوامی کانفرنس میں سندھ کی تقسیم مسترد، دریائے سندھ پر نئی نہروں کی مخالفت، سندھی اور اردو بولنے والوں کے اتحاد پر زور دیا۔

    ورلڈ سندھی کانگریس کے زیر اہتمام منعقدہ کانفرنس کا موضوع ’حق خودارادیت سندھ: امن، جمہوریت اور پائیدار مستقبل کی راہیں‘ تھا۔

    کانفرنس میں واضح مؤقف اختیار کیا گیا کہ سندھ کے عوام اپنے تاریخی وطن کو صوبوں یا نام نہاد انتظامی اکائیوں میں تقسیم کرنے کی کسی کوشش کو قبول نہیں کریں گے۔ مندوبین نے دریائے سندھ پر پانی کا رخ موڑنے والی کسی بھی نئی نہر کی تعمیر کی سخت مخالفت کی اور سندھی بولنے والوں اور اردو بولنے والوں کے درمیان مکمل اتحاد پر زور دیا۔

    کانفرنس میں بلوچ اور پشتون مندوبین نے بھی شرکت کی اور سندھ کے عوام کی جدوجہد کی بھرپور حمایت کا اعلان کیا۔ انہوں نے کہا کہ بلوچ اور پشتون قومیں سندھ کی تقسیم کی کسی بھی سازش کے خلاف سندھ کے ساتھ کھڑی ہیں۔

    مقررین نے سندھ کو تقسیم کرنے یا کراچی کی بندرگاہی شہر کی حیثیت کو سندھ سے الگ کرنے کی تجاویز کو ایک سوچی سمجھی سیاسی حکمت عملی قرار دیا، جس کا مقصد ان کے بقول سندھ کی قومی شناخت کو کمزور کرنا اور اس کے وسائل پر بالادستی مستحکم کرنا ہے۔

    صوبے کی زمین، معدنیات اور دریائی پانی پر مسلسل قبضے اور ان کے حصول کے حوالے سے خدشات کا اظہار کرتے ہوئے شرکا نے سندھی اور اردو بولنے والی آبادیوں پر زور دیا کہ وہ اپنی مشترکہ سرزمین اور معاشی مستقبل کے دفاع کے لیے متحد ہوں۔

    مندوبین نے دریائے سندھ پر کسی بھی نئی نہر اور پانی کا رخ موڑنے کے منصوبے کی مکمل مخالفت بھی کی۔ ان کا کہنا تھا کہ بالائی علاقوں سے دریائے سندھ کا پانی موڑنے سے زیریں علاقوں کی آبادیوں کو ان کے جائز حصے سے محروم کیا جاتا ہے اور اس سے دریائے سندھ کے ڈیلٹا کی ماحولیاتی تباہی میں تیزی آتی ہے۔

    کانفرنس کا ایک اہم پہلو بلوچ اور پشتون رہنماؤں کی جانب سے یکجہتی کا بھرپور اظہار تھا۔ ان میں بلوچ نیشنل موومنٹ کے چیئرمین ڈاکٹر نسیم بلوچ، بلوچ ہیومن رائٹس سینٹر کے ڈاکٹر نصیر دشتی اور پشتون تحفظ موومنٹ کے شاہد خان کاکڑ شامل تھے۔ انہوں نے خطاب کرتے ہوئے سندھ کی تقسیم کی کسی بھی کوشش کے خلاف سندھ کے عوام کی حمایت کا اعادہ کیا۔

    مقررین نے کہا کہ سندھی، بلوچ اور پشتون قوموں کو سیاسی محرومی، وسائل کے استحصال اور ریاستی جبر جیسے مشترکہ مسائل کا سامنا ہے۔ ان کے مطابق مرکزی اقتدار کی بالادستی کے خلاف مزاحمت اور جمہوری حق خودارادیت کے حصول کے لیے تینوں قوموں کی جدوجہد باہمی یکجہتی کے ساتھ آگے بڑھنی چاہیے۔

    کانفرنس میں سندھ کو درپیش صحت اور سماجی بہبود کے بحرانوں کو بھی اجاگر کیا گیا۔ بچوں کے امراض کے پروفیسر ڈاکٹر نیل کنٹھ نے سندھ بھر میں بچوں میں غذائی قلت اور نشوونما رکنے کی بلند شرح کی نشاندہی کی۔ انہوں نے اس صورت حال کو ریاستی سطح پر نظامی غفلت سے منسوب کرتے ہوئے سیکولر اور فلاحی اصولوں پر مبنی حکمرانی کا مطالبہ کیا۔

    ماہا پنہور نے سیلاب کے بعد بحالی کے عمل میں پیش رفت نہ ہونے کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ سیلاب کے کئی سال گزرنے کے باوجود متاثرہ آبادیوں کو صحت کے مسلسل بحرانوں، بے گھری اور موسمیاتی تبدیلیوں کے ایسے تباہ کن اثرات کا سامنا ہے جو ایک دوسرے کو مزید شدت دیتے ہیں۔

    کانفرنس میں ورلڈ سندھی کانگریس کے رہنما امید لغاری کی پیش کردہ دس نکاتی قرارداد باضابطہ طور پر منظور کی گئی۔ قرارداد میں سندھی عوام کے حق خودارادیت کی توثیق کرتے ہوئے گرین پاکستان انیشی ایٹو کے تحت کارپوریٹ فارمنگ اور زمینوں پر قبضے کو مسترد کیا گیا۔ اس میں جبری گمشدگیوں اور خواتین کے خلاف ریاستی تشدد کی مذمت بھی کی گئی۔

    قرارداد میں کم سن پریا کماری سمیت اغوا کیے گئے بچوں کی بحفاظت بازیابی کا مطالبہ کیا گیا، ہندو اور مسیحی لڑکیوں کی جبری مذہب تبدیلی کے فوری خاتمے پر زور دیا گیا اور کارونجھر پہاڑیوں جیسے تاریخی ورثے کے مقامات کے تحفظ کے لیے عالمی برادری سے فوری تعاون طلب کیا گیا۔

    برطانوی رکن پارلیمنٹ باب بلیک مین نے پاکستان میں مذہبی اقلیتوں کے خلاف انسانی حقوق کی مسلسل خلاف ورزیوں کی مذمت کی اور خصوصی طور پر سندھ کے ہندوؤں کو درپیش مبینہ مظالم کا ذکر کیا۔

    باب بلیک مین نے کہا، ’سندھی ہندوؤں سمیت مذہبی اقلیتوں کو درپیش ناانصافیوں کے خلاف آواز اٹھانا ضروری ہے۔ برطانیہ میں مقیم سندھیوں کو چاہیے کہ وہ اپنے ارکان پارلیمنٹ سے رابطہ کریں اور اپنے حلقوں میں منعقد ہونے والی ملاقاتوں میں شرکت کریں تاکہ ان خدشات کو سنا جا سکے۔‘

    ورلڈ سندھی کانگریس کے چیئرپرسن ڈاکٹر لکھو لوہانہ نے کہا کہ سندھ کی علاقائی سالمیت پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہو سکتا۔

    ان کے بقول، ’سندھ کا اتحاد اور سندھی عوام کا اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے کا حق ایک دوسرے سے جدا نہیں کیے جا سکتے۔ ہم جمہوری شرکت، یکجہتی اور مسلسل عالمی رابطوں کے ذریعے ان حقوق کے حصول کے لیے جدوجہد جاری رکھیں گے۔‘

    امریکہ کی سائراکیوز یونیورسٹی کے پروفیسر ریان گریفتھس نے حق خودارادیت کے حصول کے بین الاقوامی طریقہ کار پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے بتایا کہ کس طرح نمائندگی سے محروم قومیں اپنی اجتماعی رائے پر اتفاق پیدا کرکے اور کثیرالجہتی عالمی اداروں سے مسلسل رابطے کے ذریعے مرحلہ وار اپنے سیاسی اختیار کو آگے بڑھا سکتی ہیں۔

    عوامی سطح پر متحرک کارکن، ڈاکٹر اور انسانی حقوق کے محافظ ڈاکٹر سورٹھ سندھو نے دیہی علاقوں کی جدوجہد کو اجاگر کیا اور سیاسی قیادت میں خواتین کے کردار کی حمایت کی۔ جیے سندھ محاذ کے چیئرمین عبدالخالق جونیجو نے حق خودارادیت کے تاریخی اور آئینی پہلوؤں پر خطاب کیا، جبکہ ہانگ کانگ میں مقیم کارکن بصیر نوید نے شہری آزادیوں کی منظم خلاف ورزیوں اور جبری گمشدگیوں کے معاملات پیش کیے۔

    کانفرنس سے ثقلین امام، حفیظاں واڈیو، گل صنائی، ڈاکٹر ہدایت بھٹو، ساج چنہ، سارنگ سندھی، سہیل ابڑو، رزاق بُرڑو، عباس چنہ، نارائن ببلانی، سید سہیل احمد، رگھویر سنگھ سوڈھو، خوشحال کلانی اور ڈاکٹر شگفتہ کھندھرو نے بھی خطاب کیا۔

    کانفرنس کے دوران ایک خصوصی تقریب میں عبدالخالق جونیجو کی کتاب ’قومی حق خودارادیت‘ اور امداد اوڈھو کی کتاب ’دھرتی ماں جو سڈ‘ کی رونمائی بھی کی گئی۔ تقریب کی نظامت صغیر شیخ نے کی۔ اس نشست میں سندھ کی تاریخ اور حقوق کو محفوظ کرنے اور اجاگر کرنے میں سیاسی ادب کے کردار پر تفصیلی تبادلہ خیال ہوا۔

    کانفرنس کے شرکا نے دوپہر اور رات کے کھانے کے دوران بھی ایک دوسرے سے ملاقاتیں کیں۔ ثقافتی پروگرام میں ارشاد چانڈیو نے سندھی شاعری پیش کی، جس کے بعد بھارتی گلوکارہ انشیکا ٹہلیانی اور مقامی فنکار کامران لاشاری نے براہ راست موسیقی پیش کی۔ موسیقی کی دھنوں پر شرکا نے رقص بھی کیا، اور یوں کانفرنس کا اختتام ثقافتی استقامت اور اتحاد کے پُرجوش اظہار کے ساتھ ہوا۔

  • سمندر کا دروازہ، سندھ اور پاکستان کا معاشی دل: سر میری ویدھر کے ‘زیرو پوائنٹ’ سے ‘وال اسٹریٹ’ تک کا سفر

    سمندر کا دروازہ، سندھ اور پاکستان کا معاشی دل: سر میری ویدھر کے ‘زیرو پوائنٹ’ سے ‘وال اسٹریٹ’ تک کا سفر

    اگر آپ کو انیسویں صدی کے اواخر کے کراچی کا سفر کرنے کا موقع ملے اور آپ کیماڑی کی نوخیز بندرگاہ پر اتریں تو آپ کے سامنے ریت کے ٹیلوں، ملاحوں اور مچھیروں کے کچے جھونپڑوں کے درمیان ایک پسماندہ ساحلی قصبہ ہوگا۔

    لیکن اسی قصبے کے دہانے پر برطانوی راج کے انجینئروں اور مقامی سنگ تراشوں نے ایک ایسا ‘زیرو پوائنٹ’ قائم کیا جس نے آگے چل کر نہ صرف پورے برصغیر کی تجارتی تقدیر بدل دی بلکہ وسطی ایشیا کا دروازہ بھی بنا۔ یہ زیرو پوائنٹ آج کا میری ویدھر کلاک ٹاور ہے۔

    وہ دور تو بیت گیا جب یہ ٹاور کراچی کی ابتدائی حد اور شہر کا واحد دروازہ سمجھا جاتا تھا، لیکن اس ٹاور کے سائے سے شروع ہونے والی معاشی لہریں آج بھی پاکستان کی شہ رگ بن کر دوڑ رہی ہیں۔

    آج کراچی شمال اور مشرق کی طرف بحریہ ٹاؤن اور ڈیفنس تک میلوں پھیل چکا ہے، لیکن معاشی اور مالیاتی طور پر اس شہر کا دل اب بھی اسی اولڈ ٹاؤن زون میں دھڑکتا ہے جس کی بنیاد نوآبادیاتی دور کے معماروں نے رکھی تھی۔

    سر ولیم میری ویدھر: جدید کراچی کے اولین معمار

    اس داستان کا آغاز فروری 1825 میں پیدا ہونے والے ایک برطانوی عسکری اور سول افسر سر ولیم لاکیر میری ویدھر سے ہوتا ہے۔ میری ویدھر محض ایک نوآبادیاتی حاکم نہیں تھے بلکہ وہ سندھ اور کراچی کے اس دور کے نبض شناس تھے جب اس خطے کو ایک جدید تجارتی مرکز میں ڈھالنے کی کوششیں شروع ہورہی تھیں۔

    انہوں نے 1867 سے 1877 تک پورے دس سال سندھ کے آٹھویں کمشنر کے طور پر خدمات انجام دیں۔ ان کا یہ طویل دور کمشنری کراچی اور سندھ کی تاریخ میں بنیادی ڈھانچے کی ترقی کا عہد مانا جاتا ہے۔ کمشنر سندھ بننے سے قبل وہ ‘سندھ ہارس’ رجمنٹ کے ایک مایہ ناز عسکری افسر بھی تھے، اس لیے وہ بالائی سندھ اور بلوچستان کی سرحدوں کی سیاسی اور تجارتی اہمیت سے بخوبی واقف تھے۔

    میری ویدھر کے دور کمشنری کے بڑے کارنامے

    کراچی بندرگاہ کی جدید خطوط پر استواری: انہوں نے کیماڑی کے مقام پر ایک طویل پتھریلی دیوار، سی وال، کی تعمیر مکمل کروائی، جس نے بندرگاہ کے چینل کو مٹی اور ریت سے محفوظ رکھا۔ اس کے نتیجے میں بڑے بین الاقوامی تجارتی اور مال بردار بحری جہاز براہ راست کراچی کے ساحل تک آنے لگے۔

    انڈس ویلی ریلوے نیٹ ورک: انہوں نے اندرون سندھ اور پنجاب کی زرعی اجناس، کپاس اور گندم، کو کراچی کی بندرگاہ تک لانے کے لیے ریلوے لائن کے منصوبوں پر تیز رفتاری سے کام کروایا۔

    مواصلاتی انقلاب: ان کے دور میں کراچی سے مکران کے ساحل، گوادر، اور خلیج فارس تک ٹیلی گراف لائن کے منصوبوں کو مستحکم کیا گیا، جس نے کراچی کو عالمی مواصلاتی نیٹ ورک سے جوڑ دیا۔

    وہ اس شہر کی سماجی زندگی کے بھی روح رواں تھے۔ انہوں نے 1871 میں یہاں کے مشہور سندھ کلب کی بنیاد رکھی اور اس کے پہلے صدر بنے۔ 1880 میں جب ان کا انتقال ہوا تو کراچی کے شہریوں اور تاجروں نے ان کی خدمات کے اعتراف میں اپنی جیبوں سے چندہ جمع کرکے ایک شاندار یادگار بنانے کا فیصلہ کیا۔ یہی یادگار میری ویدھر کلاک ٹاور کہلائی، جسے 1892 میں عوام کے لیے کھول دیا گیا۔

    پیلے پتھر کا سحر: اولڈ ٹاؤن کا نوآبادیاتی فن تعمیر

    میری ویدھر ٹاور سے لے کر بندر روڈ، ایم اے جناح روڈ، اور میکلوڈ روڈ، آئی آئی چندریگر روڈ، کے بازاروں تک پھیلا یہ پورا زون فن تعمیر کا ایک کھلا عجائب گھر ہے۔ کراچی کے اس وقت کے میونسپل انجینئر جیمز اسٹرچن نے میری ویدھر ٹاور کو وکٹورین انگلینڈ میں مقبول نیو گوتھک طرز تعمیر پر ڈیزائن کیا تھا۔

    102 فٹ بلند اس ٹاور کو تراشنے کے لیے کراچی کے مقامی علاقے گزری کی کانوں سے نکالا گیا ہلکا پیلا بلووا پتھر استعمال کیا گیا۔ اس پر کی گئی باریک نقاشی مقامی سلاوٹ برادری کے سنگ تراشوں کی مہارت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔

    اس پورے تجارتی زون کے فن تعمیر میں انڈو گوتھک اسلوب کا ایک انوکھا امتزاج ملتا ہے۔ انگریزوں نے برطانوی طرز کی بند عمارات بنانے کے بجائے کراچی کے تپتے ہوئے اور حبس زدہ موسم کو مات دینے کے لیے مقامی راجستھانی اور گجراتی طرز کے چوڑے چھجے، کھلی بالکونیاں اور بلند محرابیں بنائیں۔

    عمارات کے اندر دکانوں اور گوداموں کی چھتیں 14 سے 18 فٹ تک بلند رکھی جاتی تھیں تاکہ گرم ہوا اوپر اٹھ جائے اور سمندری ہوا کی گزرگاہ بند نہ ہو۔

    اس کی ایک بہترین مثال بولٹن مارکیٹ کے وسط میں واقع لکشمی بلڈنگ ہے، جس کا افتتاح 1938 میں سروجنی نائیڈو نے کیا تھا۔ اپنے دور میں کراچی کی یہ بلند ترین عمارت امریکہ کے شکاگو اور نیویارک کے ابتدائی فلک بوس عمارات کے طرز تعمیر کی عکاس تھی، جو کراچی کے جدید تجارتی فن تعمیر کا نقطہ آغاز تھا۔

    جغرافیائی مرکز کی تبدیلی اور معاشی مرکزیت کا تسلسل

    تقسیم ہند کے بعد جب لاکھوں مہاجرین کراچی آئے تو شہر کا جغرافیائی مرکز تیزی سے مشرق اور شمال کی طرف منتقل ہونا شروع ہوگیا۔ ناظم آباد، گلشن اقبال اور بعد میں کلفٹن اور ڈیفنس جیسی آبادیاں جدید کراچی کا چہرہ بن گئیں۔ عام شہریوں اور رہائشیوں کے لیے اب یہ نئے علاقے شہر کا مرکز ہیں اور میری ویدھر ٹاور اب شہر کا آخری سرا معلوم ہوتا ہے۔

    لیکن معاشی حقیقت اس جغرافیائی پھیلاؤ سے بالکل مختلف ہے۔ وہ مرکزیت جو سر میری ویدھر اور نوآبادیاتی دور کے دیگر معماروں، جیسے ٹھٹہ کے سپوت اور کراچی ڈسٹرکٹ لوکل بورڈ کے صدر راؤ بہادر شیوارام دیوان مل وازیرانی، نے قائم کی تھی، وہ معاشی طور پر آج بھی جوں کی توں برقرار ہے۔

    آج بھی کراچی کا 90 فیصد ہول سیل کاروبار اور تمام بڑے کاروباری مراکز میری ویدھر ٹاور سے شروع ہونے والے میکلوڈ روڈ، آئی آئی چندریگر روڈ، اور ملحقہ بندر روڈ، ایم اے جناح روڈ، پر ہی واقع ہیں۔

    آئی آئی چندریگر روڈ، پاکستان کی وال اسٹریٹ: برطانوی دور کا میکلوڈ روڈ آج پاکستان کا مالیاتی مرکز ہے۔ اسٹیٹ بینک آف پاکستان، پاکستان اسٹاک ایکسچینج، ملک کے تمام بڑے تجارتی بینکوں کے کارپوریٹ ہیڈکوارٹرز اور بڑے میڈیا ہاؤسز اسی علاقے میں واقع ہیں۔ پاکستان کے جی ڈی پی اور وفاقی ٹیکس ریونیو کا ایک بہت بڑا حصہ اسی سڑک پر پروسیس ہوتا ہے۔

    جوڑیا بازار، پاکستان کا فوڈ کنٹرولر: قیام پاکستان سے قبل کا یہ بازار تقسیم کے بعد ملک کی سب سے بڑی اجناس کی منڈی بنا ہوا ہے۔ پورے ملک میں دالوں، چینی، چاول، چائے اور گرم مصالحوں کی تھوک قیمتیں اسی بازار کی روزمرہ سپلائی اور طلب سے طے ہوتی ہیں۔ پاکستان سالانہ جو اربوں ڈالر کی غذائی اشیا درآمد کرتا ہے، ان کا ایک بہت بڑا حصہ پہلے اسی مارکیٹ کے گوداموں میں پہنچتا ہے۔

    بولٹن مارکیٹ: برطانوی راج کے دوران 1883 میں میونسپل کمشنر سی ایف بولٹن کے نام پر قائم ہونے والی یہ مارکیٹ آج پلاسٹک مصنوعات، کاسمیٹکس، کپڑوں اور الیکٹرانکس کی بڑی تھوک سپلائی منڈی ہے۔ ملک بھر کے چھوٹے تاجر تھوک نرخ پر سامان خریدنے کے لیے اسی مارکیٹ کا رخ کرتے ہیں۔

    تحفظ، بحالی اور ایک نیا خواب: اولڈ ٹاؤن بطور ‘ہیریٹیج ٹورازم زون’

    آج ان شاہراہوں کی قدیم تاریخی عمارات اشتہاری بورڈز، ٹریفک کے دھوئیں، غیر قانونی تجاوزات اور زنگ آلود تاروں کے جال میں چھپ چکی ہیں۔ اگرچہ حکومت سندھ نے ‘سندھ کلچرل ہیریٹیج پروٹیکشن ایکٹ 1994’ کے تحت اس زون کی کئی عمارات کو محفوظ قرار دے رکھا ہے، لیکن انہیں مسمار ہونے اور خستہ حالی سے بچانا اب بھی ایک بڑا چیلنج ہے۔

    مگر مایوسی کے اس اندھیرے میں پاکستان کی پہلی خاتون معمار یاسمین لاری اور ان کی تنظیم ‘ہیریٹیج فاؤنڈیشن آف پاکستان’ نے ایک نئی امید جگائی ہے۔ ان کے ‘ڈینسو ہال راہداری منصوبے’ کے تحت ایم اے جناح روڈ کی ایک تاریخی گلی کو گاڑیوں کے لیے بند کرکے پیدل چلنے والوں کے راستے میں تبدیل کیا گیا، عمارات کے پیلے پتھروں کو کیمیکلز سے صاف کیا گیا اور وہاں خوبصورت فرش بنا کر درخت لگائے گئے۔

    یہ کامیاب تجربہ اس بات کی دلیل ہے کہ کراچی کے اس اولڈ ٹاؤن زون کو یورپ کے تاریخی شہروں، جیسے روم، پراگ یا ایڈنبرا، کی طرز پر ایک باقاعدہ ‘ہیریٹیج ٹورازم زون’ میں تبدیل کیا جاسکتا ہے۔ اس کے لیے ماہرین تعمیرات درج ذیل عملی نقشہ پیش کرتے ہیں:

    ویک اینڈ پیدل راہ داری: چونکہ یہ ایک مصروف تجارتی مرکز ہے، اس لیے ہفتے کے عام دنوں میں ٹریفک بند کرنا ممکن نہیں۔ تاہم ہفتے کی شام سے اتوار کی رات تک میری ویدھر ٹاور سے لائٹ ہاؤس تک کے پورے علاقے کو گاڑیوں کے لیے مکمل بند کرکے صرف پیدل چلنے والوں اور برقی شٹل بسوں کے لیے مخصوص کردیا جائے۔

    ثقافتی بازار اور فوڈ اسٹریٹس: اتوار کے پرسکون دن ان تاریخی عمارات کے سائے تلے مقامی دستکاریوں کے اسٹالز لگائے جائیں، اسٹریٹ تھیٹر اور صوفی موسیقی کے پروگرام منعقد کیے جائیں جو دنیا بھر کے سیاحوں کو راغب کرسکیں۔

    مطابق استعمال: ان عمارات کی اوپر والی منزلیں جو اب گوداموں کے طور پر استعمال ہورہی ہیں، انہیں خوبصورت ورثہ کیفے، آرٹ گیلریوں اور بوتیک ہوٹلوں میں تبدیل کیا جائے، جس سے تاجروں کو متبادل آمدنی بھی ہوگی اور عمارات کی دیکھ بھال بھی۔

    بصری صفائی: تمام دکانوں کے لیے ایک یکساں سائز اور رنگ کے ورثہ سائن بورڈز لازمی قرار دیے جائیں اور بجلی و انٹرنیٹ کے تاروں کے جال کو زیر زمین منتقل کیا جائے تاکہ پیلے پتھر کی اصل خوبصورتی نظر آسکے۔

    تاریخ کا قرض

    کراچی پورٹ سے نکلنے والی معاشی لہروں کو جب سر ولیم میری ویدھر نے ایک جدید رخ دیا تھا تو شاید انہوں نے بھی نہیں سوچا تھا کہ ان کا قائم کردہ یہ ‘زیرو پوائنٹ’ ایک صدی بعد بھی ایک ایٹمی طاقت کی معیشت کا انجن بنا رہے گا۔

    کراچی کا جغرافیہ بھلے ہی بدل چکا ہو لیکن اس کی روح اب بھی اسی پیلے پتھر کی عمارات اور مصروف بازاروں میں بستی ہے۔ اگر حکومت سندھ، بلدیہ اور تاجر برادری مل کر ایک باقاعدہ ‘اولڈ ٹاؤن اتھارٹی’ قائم کریں تو یہ خطہ صرف ایک تپتا ہوا تجارتی مرکز نہیں رہے گا بلکہ یہ کراچی کے شاندار ماضی اور روشن مستقبل کا سب سے بڑا گڑھ بن جائے گا۔

    یہ تاریخ کا وہ قرض ہے جو اس شہر کے باسیوں پر اب واجب الادا ہے۔

  • کورنگی کے سرکاری مویشی مرکز میں ریڈ سندھی نسل کی گائے کے لیے 40 ایکڑ پر لگی کنگ گراس، جس کی عمر 20 سے زائد

    کورنگی کے سرکاری مویشی مرکز میں ریڈ سندھی نسل کی گائے کے لیے 40 ایکڑ پر لگی کنگ گراس، جس کی عمر 20 سے زائد

    کراچی کے کورنگی میں قائم حکومت سندھ کے لائیو اسٹاک ایکسپیریمنٹ اسٹیشن میں ریڈ سندھی گائے کے لیے سبز چارے کی فراہمی بہتر بنانے کے لیے تقریباً 40 ایکڑ رقبے پر ہائی ییلڈ کنگ گراس کاشت کی گئی ہے۔

    لائیو اسٹاک ایکسپیریمنٹ اسٹیشن سندھ میں ریڈ سندھی نسل کی گائے کے تحفظ، افزائش اور نگہداشت کے لیے اہم سرکاری مراکز میں شامل ہے۔ کورنگی میں قائم یہ مرکز اینیمل سائنس کمپلیکس کے وسیع رقبے میں واقع ہے، جہاں مویشیوں کی نگہداشت اور لائیو اسٹاک سے متعلق مختلف سرگرمیاں انجام دی جاتی ہیں۔

    اسٹیشن کے انچارج ڈاکٹر غلام حیدر خاصخیلی کے مطابق کنگ گراس میں پروٹین کی مقدار ساڑھے فیصد ہے، جبکہ اس کی اونچائی 12 سے 14 فٹ تک پہنچ سکتی ہے اور یہ تقریباً ڈھائی سے تین ماہ میں کٹائی کے لیے تیار ہوجاتی ہے۔

    انہوں نے بتایا کہ تقریباً 40 ایکڑ رقبے کو مختلف حصوں میں تقسیم کرکے ہر چار ایکڑ پر 15 روز کے وقفے سے کنگ گراس کاشت کی گئی ہے۔ اس طریقہ کار کا مقصد مختلف اوقات میں چارہ تیار کرنا اور جانوروں کے لیے سبز چارے کی مسلسل دستیابی برقرار رکھنا ہے۔

    ڈاکٹر غلام حیدر خاصخیلی کے مطابق کنگ گراس سے سال میں چار سے پانچ مرتبہ کٹائی حاصل کی جاسکتی ہے، جبکہ ایک مرتبہ کاشت کرنے کے بعد یہ طویل عرصے تک برقرار رہ سکتی ہے۔ ان کے مطابق اس کی عمر 20 سال سے زائد ہوسکتی ہے اور مسلسل دوبارہ کاشت کیے بغیر اسے کاٹا جاسکتا ہے۔

    لائیو اسٹاک ایکسپیریمنٹ اسٹیشن میں موجود ریڈ سندھی گایوں کے لیے بھی کنگ گراس استعمال کی جارہی ہے۔ فارم میں سبز چارے کی اپنی پیداوار مویشیوں کی خوراک کی ضروریات پوری کرنے میں معاون ہے۔

    اس منصوبے کا مقصد صرف اسٹیشن میں موجود مویشیوں کے لیے چارہ پیدا کرنا نہیں بلکہ کنگ گراس کی افزائش کو عام کاشت کاروں تک منتقل کرنا بھی ہے۔ اسٹیشن انتظامیہ کے مطابق ضرورت مند افراد کو آزمائشی بنیاد پر ایک ایکڑ رقبے کے لیے کنگ گراس کی قلمیں مفت فراہم کی جارہی ہیں۔

    ڈاکٹر غلام حیدر خاصخیلی کے مطابق سندھ کے دیگر علاقوں میں بھی کنگ گراس کی افزائش کو فروغ دیا جارہا ہے اور اب تک صوبے میں 200 ایکڑ سے زیادہ رقبے پر اس کی کاشت کے لیے پودا یا قلم فراہم کی جاچکی ہے۔

    کورنگی کے لائیو اسٹاک ایکسپیریمنٹ اسٹیشن میں 40 ایکڑ پر کنگ گراس کی کاشت کو سبز چارے کی پیداوار بڑھانے کے ساتھ ساتھ ریڈ سندھی نسل کے مویشیوں کے لیے خوراک کی دستیابی بہتر بنانے اور اس چارہ فصل کو دیگر علاقوں کے کاشت کاروں تک منتقل کرنے کی کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

  • پی ایم ڈی سی کی 1,400 اضافی نشستوں میں سندھ نظرانداز، وفاقی ملازمتوں میں تاریخی استحصال کی داستان

    پی ایم ڈی سی کی 1,400 اضافی نشستوں میں سندھ نظرانداز، وفاقی ملازمتوں میں تاریخی استحصال کی داستان

    پاکستان میں وفاقی وسائل، روزگار، تعلیم اور مواقع کی منصفانہ تقسیم کا معاملہ محض اعداد و شمار کا سوال نہیں، بلکہ وفاق کی وحدت، صوبائی برابری اور شہریوں کے اعتماد سے براہِ راست جڑا ہوا موضوع ہے۔

    جب کسی صوبے کی نوجوان نسل یہ محسوس کرنے لگے کہ قومی سطح پر پیدا ہونے والے نئے مواقع میں اس کا حصہ مسلسل کم ہوتا جا رہا ہے تو یہ بے چینی رفتہ رفتہ ایک انتظامی شکایت سے بڑھ کر سماجی اور سیاسی احساسِ محرومی کی شکل اختیار کر لیتی ہے۔

    30 ستمبر 2026 کو پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل، یعنی پی ایم اینڈ ڈی سی، نے سرکاری شعبے کے میڈیکل اور ڈینٹل کالجز کے لیے 1,400 اضافی نشستوں کی منظوری دی۔ پی ایم اینڈ ڈی سی کی وضاحت کے مطابق یہ اضافی نشستیں پنجاب، خیبرپختونخوا، بلوچستان اور اسلام آباد کیپیٹل ٹیریٹری کے سرکاری اداروں کے لیے منظور کی گئی ہیں، جبکہ سندھ کا نام اس فہرست میں شامل نہیں۔

    کونسل کے مطابق اس اقدام کا بنیادی مقصد قومی ضرورت، طبی تعلیم تک زیادہ رسائی اور محروم علاقوں کے اہل طلبہ کے لیے مواقع بڑھانا ہے۔

    یہاں پہلی بات واضح کرنا ضروری ہے کہ یہ 1,400 ملازمتیں نہیں بلکہ میڈیکل اور ڈینٹل تعلیم کی اضافی نشستیں ہیں۔ تاہم سندھ کے لیے اس معاملے کی اہمیت کم نہیں ہوتی، کیونکہ سرکاری میڈیکل نشستیں ریاستی تعلیمی وسائل اور مستقبل میں ڈاکٹروں کی تیاری سے براہِ راست وابستہ ہیں۔

    سندھ کا نام نہ ہونے کا احساس

    30 ستمبر کے اعلان سے قبل ہی 10 اگست 2026 کو قومی اسمبلی کی صحت سے متعلق قائمہ کمیٹی نے میڈیکل کالجز کی خالی نشستوں، فیسوں اور سرکاری میڈیکل نشستوں میں اضافے کے معاملے پر تفصیلی غور کیا تھا۔ اس اجلاس میں پی ایم اینڈ ڈی سی نے بتایا تھا کہ مختلف مقامات پر اضافی نشستیں معائنے کے بعد منظور ہو چکی ہیں، جن میں پنجاب، سابق فاٹا اور بلوچستان شامل تھے۔ سندھ کی صورتحال بھی خاص طور پر زیرِ بحث آئی اور کمیٹی نے فیصلہ کیا کہ سندھ حکومت اور متعلقہ نمائندوں کے ساتھ الگ اجلاس کر کے سندھ میں سرکاری میڈیکل نشستوں میں اضافے کے معاملے کا جائزہ لیا جائے گا۔

    لیکن اس کے بعد 30 ستمبر کو جب 1,400 اضافی نشستوں کا اعلان ہوا تو سندھ اس اعلان میں شامل نہیں تھا۔ پی ایم اینڈ ڈی سی کی جاری کردہ وضاحت میں بھی ان نشستوں کو پنجاب، خیبرپختونخوا، بلوچستان اور اسلام آباد سے منسوب کیا گیا۔

    ایسی صورتحال میں سندھ کے طلبہ، والدین اور تعلیمی حلقوں میں پیدا ہونے والی بے چینی کو محض جذباتی ردعمل قرار دینا مناسب نہیں ہوگا۔ خاص طور پر اس لیے کہ سندھ میں بھی سرکاری میڈیکل تعلیم کا وسیع ڈھانچہ موجود ہے۔ چانڈکا میڈیکل کالج لاڑکانہ، غلام محمد مہر میڈیکل کالج سکھر، خیرپور میڈیکل کالج، گمبٹ انسٹی ٹیوٹ، ڈاؤ میڈیکل یونیورسٹی، لیاقت یونیورسٹی آف میڈیکل اینڈ ہیلتھ سائنسز اور دیگر ادارے سندھ کی طبی تعلیم کی ضروریات پوری کرنے کے لیے موجود ہیں۔

    لہٰذا اضافی سرکاری نشستوں کے قومی منصوبے میں سندھ کا مکمل طور پر غیر موجود ہونا، خاص طور پر اس وقت جب ملک میں میڈیکل تعلیم کے مواقع بڑھانے کی بات کی جا رہی ہو، پالیسی کی شفافیت اور صوبائی برابری کے حوالے سے سنجیدہ غور کا متقاضی ہے۔

    اسی کے ساتھ انصاف کا تقاضا یہ بھی ہے کہ 1,400 میڈیکل نشستوں کو وفاقی ملازمتوں کے صوبائی کوٹے کے ساتھ براہِ راست ایک جیسا نہ سمجھا جائے۔ وفاقی سرکاری ملازمتوں کے لیے صوبائی اور علاقائی کوٹہ ایک الگ قانونی اور انتظامی نظام کے تحت چلتا ہے، جبکہ میڈیکل کالجز کی نشستیں اداروں کی گنجائش، پی ایم اینڈ ڈی سی کے معائنے، انفراسٹرکچر، تدریسی عملے، ہسپتالوں کی سہولیات اور دیگر ریگولیٹری معیار سے بھی وابستہ ہوتی ہیں۔

    لیکن یہ فرق سندھ کے بنیادی حق کے سوال کو ختم نہیں کرتا۔ اگر قومی سطح پر طبی تعلیم کے نئے مواقع پیدا کیے جا رہے ہیں تو ان کی تقسیم کے معیار واضح، قابلِ جانچ اور تمام صوبوں کے لیے یکساں ہونے چاہئیں۔ اگر کسی صوبے کو اضافی نشستوں سے باہر رکھا جاتا ہے تو اس کی وجہ بھی واضح پالیسی اور دستاویزی معیار کے ذریعے بیان کرنا ضروری ہے۔

    وفاقی ملازمتوں میں سندھ کی شکایت: محض تاثر نہیں

    وفاقی ملازمتوں میں سندھ کی نمائندگی سے متعلق شکایت کو تاریخی پس منظر سے الگ کر کے دیکھنا ممکن نہیں۔ وفاقی حکومت کی سروسز کے لیے صوبائی اور علاقائی کوٹے کا موجودہ بنیادی ڈھانچہ سندھ کو مجموعی طور پر 19 فیصد حصہ دیتا ہے۔ اس 19 فیصد میں سے 7.6 فیصد سندھ کے شہری علاقوں اور 11.4 فیصد سندھ کے دیہی علاقوں کے لیے مختص ہے۔

    وفاقی کوٹے کی سرکاری دستاویز میں پنجاب کے لیے 50 فیصد، خیبرپختونخوا کے لیے 11.5 فیصد، بلوچستان کے لیے 6 فیصد، نئے ضم شدہ اضلاع کے لیے تین فیصد، گلگت بلتستان کے لیے 1 فیصد اور آزاد کشمیر کے لیے 2 فیصد حصے بھی درج ہیں۔

    اس سے ایک اہم بات سامنے آتی ہے: وفاق خود ایک انتظامی اصول کے طور پر صوبائی اور علاقائی نمائندگی کے تصور کو تسلیم کر چکا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ وفاقی ملازمت میں صوبائی حصہ کسی صوبے پر احسان نہیں بلکہ مقررہ انتظامی حق اور نمائندگی کا حصہ ہے۔

    اس نظام کا مقصد ہی یہ تھا کہ پاکستان جیسے کثیرالصوبائی وفاق میں تمام علاقوں کو وفاقی اداروں میں مناسب نمائندگی ملے اور کسی ایک علاقے کی معاشی، تعلیمی یا انتظامی برتری کے باعث دوسرے علاقے مستقل طور پر پیچھے نہ رہ جائیں۔

    سندھ کی وفاقی روزگار کے حوالے سے موجودہ صورتحال کو سمجھنے کے لیے 6 جولائی 2026 کی سینیٹ کی ذیلی کمیٹی کی کارروائی غیر معمولی اہمیت رکھتی ہے۔ سینیٹ کے سرکاری ریکارڈ کے مطابق وفاقی حکومت میں تقریباً 275,000 خالی آسامیوں پر کمیٹی نے تشویش کا اظہار کیا۔

    اسی اجلاس میں کمیٹی کے سامنے یہ بھی پیش کیا گیا کہ سندھ کے حصے میں تمام پوسٹوں کو ملا کر کم از کم 83,000 آسامیوں کا شارٹ فال موجود ہے، جبکہ بلوچستان کے لیے یہ تعداد 27,000 بتائی گئی۔

    کمیٹی نے اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کو ہدایت کی کہ صوبائی حصوں کی کمی کو دور کیا جائے اور اس سلسلے میں الگ سیل قائم کر کے عملی اقدامات کیے جائیں۔

    یہ اعداد و شمار خود بخود کسی عدالتی یا مکمل آزاد آڈٹ کا حتمی فیصلہ نہیں بن جاتے، لیکن ان کی اہمیت اس لیے بہت زیادہ ہے کہ یہ کسی سیاسی جلسے یا اخباری الزام سے نہیں بلکہ پارلیمنٹ، یعنی سینیٹ کی سرکاری کارروائی سے سامنے آئے ہیں۔

    اس سے بھی زیادہ اہم بات یہ ہے کہ 24 جولائی 2026 کو سینیٹ کی فنکشنل کمیٹی آن ڈیولوشن کی ذیلی کمیٹی نے دوبارہ وفاقی اداروں میں صوبائی نمائندگی اور کوٹے کا جائزہ لیا۔

    سینیٹ کی سرکاری پریس ریلیز کے مطابق کمیٹی نے اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کو صوبائی نمائندگی میں موجودہ کمی دور کرنے، پرانے نوٹیفکیشنز میں موجود خامیوں کو درست کرنے اور صوبائی حصے ترجیحی بنیادوں پر مکمل کرنے کی ہدایات دیں۔

    اس سے قبل مارچ 2026 میں بھی سینیٹ کی ایک کمیٹی سندھ اور بلوچستان کی وفاقی ملازمتوں میں کم نمائندگی پر تشویش کا اظہار کر چکی ہے اور وفاقی اداروں کو ہدایت دی تھی کہ صوبائی کوٹہ بلا تاخیر پُر کیا جائے۔ سینیٹ کے سرکاری بیان میں اس حصے کو صوبوں کا ‘حق’ قرار دینے پر زور دیا گیا، نہ کہ کسی قسم کی رعایت۔

    یعنی 2026 میں سندھ کی وفاقی روزگار سے متعلق شکایت کو صرف سندھ کے سیاسی حلقوں کا روایتی دعویٰ سمجھنا درست نہیں ہوگا؛ پارلیمانی سطح پر بھی صوبائی نمائندگی کی کمی کو سرکاری طور پر زیرِ بحث لایا گیا ہے۔

    شکایت کی تاریخ بہت پرانی ہے

    وفاقی ملازمتوں میں سندھ کی نمائندگی سے متعلق احساسِ محرومی پاکستان کی تاریخ میں کوئی نیا موضوع نہیں۔ پاکستان کے ابتدائی دور میں وفاقی سول سروس میں بعض علاقوں کی غیر معمولی بالادستی اور دوسرے علاقوں کی کم نمائندگی کے حوالے سے بحث موجود رہی۔ 1970 کی دہائی میں صوبائی اور علاقائی کوٹے کا نظام متعارف کرانے کا ایک اہم مقصد بھی نمائندگی کی اس کمی کو کم کرنا تھا۔

    پرانے سرکاری اعداد و شمار سے متعلق تحقیقی مواد میں بھی یہ ریکارڈ ملتا ہے کہ 1993 تک سندھ کے شہری اور دیہی علاقوں کی نمائندگی یکساں نہیں تھی اور بعض شعبوں میں مقررہ کوٹے اور عملی نمائندگی کے درمیان واضح فرق موجود تھا۔ اس تاریخی پس منظر سے معلوم ہوتا ہے کہ سندھ کی نمائندگی سے متعلق شکایت اچانک پیدا ہونے والا سیاسی نعرہ نہیں بلکہ کئی دہائیوں سے جاری بحث ہے۔

    اس کے ساتھ یہ بات بھی نظرانداز نہیں کی جانی چاہیے کہ وقت کے ساتھ صورتحال کے بعض پہلو بہتر بھی ہوئے ہیں۔ سندھ کے لیے 19 فیصد وفاقی کوٹہ موجود ہے، شہری اور دیہی علاقوں کی الگ نمائندگی رکھی گئی ہے، اور وفاقی ملازمتوں کے متعدد اشتہارات میں سندھ رورل اور سندھ اربن کے حصے عملی طور پر نظر آتے ہیں۔ وفاقی سرکاری ملازمتوں کے بعض حالیہ اشتہارات میں بھی سندھ رورل اور سندھ اربن کے لیے الگ نشستیں درج کی گئی ہیں۔

    اس لیے مکمل تصویر یہ نہیں کہ سندھ کو ہر وفاقی ملازمت سے محروم کر دیا گیا ہے؛ اصل مسئلہ یہ ہے کہ مقررہ حصے اور عملی نمائندگی کے درمیان جو فرق رہ جاتا ہے، اسے مسلسل ختم نہیں کیا گیا۔

    یہاں مسئلہ صرف کوٹہ مقرر کرنے کا نہیں۔ کوٹہ اس وقت نتائج دے سکتا ہے جب خالی آسامیوں کو بروقت پُر کیا جائے، صوبائی حصے درست طور پر مختص ہوں، ڈومیسائل کی تصدیق شفاف ہو، خالی رہ جانے والی کوٹہ نشستوں کو مناسب طریقے سے دوبارہ مشتہر کیا جائے اور وفاقی ادارے اپنی بھرتیوں کا صوبائی ریکارڈ باقاعدگی سے شائع کریں۔

    اسی لیے سینیٹ کی حالیہ کارروائی خاص اہمیت رکھتی ہے، کیونکہ کمیٹی نے صرف کوٹے کے اصول کی بات نہیں کی بلکہ خالی آسامیوں، صوبائی حصوں کے شارٹ فال اور سابقہ نوٹیفکیشنز میں موجود خامیوں کو درست کرنے پر بھی زور دیا۔

    وفاقی حکومت میں 275,000 خالی آسامیوں کا عدد بھی ایک الگ بڑا انتظامی مسئلہ ظاہر کرتا ہے۔ اگر پوسٹیں بجٹ میں موجود ہیں لیکن برسوں تک پُر نہیں ہوتیں تو اس کا اثر ان صوبوں پر زیادہ پڑتا ہے جو پہلے ہی وفاقی اداروں میں اپنی مقررہ نمائندگی سے کم ہونے کی شکایت کر رہے ہیں۔

    سندھ کے لیے تعلیم اور روزگار ایک ہی زنجیر کی کڑیاں ہیں

    میڈیکل کالجز کی اضافی نشستیں اور وفاقی ملازمتیں بظاہر دو الگ موضوعات ہیں، لیکن حقیقت میں ان کے پیچھے ایک ہی بنیادی سوال موجود ہے: قومی وسائل اور مواقع تک تمام صوبوں کے نوجوانوں کی منصفانہ رسائی۔

    اگر سندھ کے سرکاری میڈیکل کالجز میں اضافی نشستیں پیدا کرنے کے لیے انفراسٹرکچر موجود ہے تو سندھ کو بھی قومی توسیعی پالیسی میں واضح جگہ ملنی چاہیے۔ اگر کسی مخصوص ادارے میں معیار، ہسپتال، فیکلٹی یا جگہ کی کمی ہے تو اسے بہتر بنانے کے لیے ہدف، بجٹ اور مدت مقرر کی جا سکتی ہے۔ صرف اس بنیاد پر ایک بڑے صوبے کو اضافی قومی تعلیمی مواقع کے مرحلے سے مکمل طور پر باہر رکھنا طویل مدتی صوبائی برابری کی روح سے ہم آہنگ نظر نہیں آتا۔

    اسی طرح وفاقی ملازمتوں میں سندھ کے 19 فیصد حصے کا مطلب صرف اشتہار میں 19 فیصد لکھ دینا نہیں؛ اس کا اصل مطلب یہ ہے کہ عملی طور پر سندھ کے اہل نوجوانوں کو اپنے جائز حصے تک رسائی حاصل ہو۔

    سندھ کی سیاسی خاموشی بھی بحث کا حصہ ہے

    اس معاملے کا ایک افسوسناک پہلو یہ بھی ہے کہ سندھ کے تعلیمی اور روزگار کے حقوق کے حوالے سے اکثر بحث اس وقت شدت اختیار کرتی ہے جب نقصان سامنے آ چکا ہوتا ہے۔ قومی پالیسیوں کی تیاری کے دوران مسلسل نگرانی، اعداد و شمار جمع کرنا، وفاقی اداروں سے رابطہ اور پارلیمانی فورمز پر مستقل نمائندگی زیادہ مؤثر انداز میں ہونی چاہیے۔

    میڈیکل نشستوں کے معاملے میں 10 اگست کو قومی اسمبلی کی کمیٹی نے سندھ کی صورتحال پر الگ اجلاس کی ضرورت تسلیم کی تھی۔ 30 ستمبر کو 1,400 نشستوں کی منظوری کے بعد بھی سندھ اس اعلان کا حصہ نہ بن سکا۔ ایسی صورتحال میں سندھ حکومت، منتخب نمائندوں، میڈیکل یونیورسٹیوں اور تعلیمی ماہرین کی ذمہ داری مزید بڑھ جاتی ہے کہ وہ دستاویزی بنیادوں پر سندھ کی ضرورت، موجودہ گنجائش اور اضافی نشستوں کے حق میں جامع کیس پیش کریں۔

    انصاف کا مطلب کسی دوسرے صوبے کا حصہ کم کرنا نہیں

    سندھ کے حق کی بات کرنے کا مطلب پنجاب، خیبرپختونخوا، بلوچستان یا کسی دوسرے علاقے کے طلبہ کے مواقع کم کرنا ہرگز نہیں ہونا چاہیے۔ اصل مقصد یہ ہونا چاہیے کہ پاکستان کے ہر صوبے کے لیے مواقع کی ایسی منصفانہ اور شفاف تقسیم قائم کی جائے جس میں کسی کو محروم کر کے کسی دوسرے کو فائدہ پہنچانے کی ضرورت ہی نہ رہے۔

    پنجاب میں 475 نشستیں، خیبرپختونخوا میں 150 نشستیں اور بلوچستان و وفاقی علاقوں کے لیے باقی اضافی نشستوں کا انتظام اگر قومی ضرورت کے تحت کیا گیا ہے تو یہی قومی ضرورت کا اصول سندھ کے لیے بھی لاگو ہونا چاہیے۔

    سندھ میں بھی ہزاروں ایسے طلبہ موجود ہیں جو سرکاری میڈیکل تعلیم کے اہل ہیں لیکن محدود نشستوں، بڑھتے ہوئے مقابلے اور نجی تعلیم کی مہنگی فیسوں کے باعث مواقع سے محروم رہ جاتے ہیں۔ پی ایم اینڈ ڈی سی خود کہتی ہے کہ مقصد محروم علاقوں کے اہل طلبہ کو ملک کے اندر طبی تعلیم کے مواقع فراہم کرنا اور انہیں بیرونِ ملک جانے سے روکنا ہے۔ اگر یہ اصول واقعی قومی پالیسی کی بنیاد ہے تو اس کے نفاذ میں صوبائی برابری بھی لازمی حصہ ہونی چاہیے۔

    پاکستان کا وفاق صرف آئین، پارلیمنٹ یا نقشے کی سرحدوں سے مضبوط نہیں ہوتا؛ وفاق اس وقت مضبوط ہوتا ہے جب اس کے ہر صوبے کا نوجوان یہ محسوس کرے کہ ریاست کے مواقع اس کے لیے بھی کھلے ہیں۔

    سندھ کی وفاقی ملازمتوں سے متعلق شکایت میں تاریخی عناصر ضرور موجود ہیں، لیکن 2026 کی سینیٹ کی سرکاری کارروائی اس معاملے کو ایک موجودہ انتظامی مسئلے کے طور پر بھی سامنے لاتی ہے۔ 83,000 آسامیوں کا بتایا گیا شارٹ فال، 275,000 خالی وفاقی پوسٹیں اور صوبائی کوٹے کے عملی نفاذ سے متعلق پارلیمانی ہدایات اس بات کا ثبوت ہیں کہ معاملہ صرف ماضی کی شکایت نہیں رہا۔

    اسی طرح پی ایم اینڈ ڈی سی کی 1,400 اضافی سرکاری میڈیکل اور ڈینٹل نشستیں سندھ کے حوالے سے ایک نئی بحث کا دروازہ کھولتی ہیں۔ یہاں جذبات سے زیادہ دستاویزات، نعروں سے زیادہ اعداد و شمار اور الزامات سے زیادہ پالیسی کی شفافیت کی ضرورت ہے۔

    سندھ کو اپنے جائز حصے کے لیے کسی کی خیراتی نظر کی ضرورت نہیں۔ سندھ کو اپنے حصے کے لیے واضح معیار، شفاف اعداد و شمار، آئینی برابری اور عملی نفاذ کی ضرورت ہے۔

    وفاقی اداروں میں سندھ کی نمائندگی کا مطلب کسی صوبے کے خلاف مقابلہ نہیں بلکہ پاکستان کے وفاقی ڈھانچے کو متوازن رکھنا ہے۔ میڈیکل تعلیم کی نشستیں ہوں یا وفاقی ملازمتیں، قومی وسائل کی تقسیم میں برابری کا احساس ہی وہ بنیاد ہے جس پر وفاقی اعتماد قائم رہ سکتا ہے۔

    اور جب سینیٹ کی اپنی کمیٹی یہ کہہ رہی ہو کہ سندھ کے حصے میں کم از کم 83,000 آسامیوں کا شارٹ فال موجود ہے، اور اسی سال طبی تعلیم کی 1,400 اضافی سرکاری نشستوں کے اعلان میں سندھ کا نام موجود نہ ہو، تو سندھ کے تعلیمی اور روزگار کے حقوق پر سنجیدہ، دستاویزی اور مستقل پالیسی بحث کو مزید دیر تک نظرانداز کرنا مناسب نہیں ہوگا۔

    سندھ پاکستان کا حصہ ہے؛ اس لیے قومی مواقع کی تقسیم میں سندھ کا حصہ بھی قومی انصاف کے دائرے کا حصہ ہے۔

  • سندھ حکومت کا تمام قیدیوں کے بچوں کو نجی تعلیمی اداروں میں مفت تعلیم دینے کا اعلان

    سندھ حکومت کا تمام قیدیوں کے بچوں کو نجی تعلیمی اداروں میں مفت تعلیم دینے کا اعلان

     سندھ حکومت نے صوبے کے تمام جیلوں میں قید سزا یافتہ قیدیوں کے بچوں کو نجی تعلیمی اداروں میں پرائمری سے یونیورسٹی تک مفت تعلیم دینے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ان بچوں کی تعلیمی اخراجات صوبائی حکومت ادا کرے گی۔

    سندھ کے محکمہ جیل خانہ جات کے رکارڈ کے مطابق سندھ میں کل 27 جیلیں ہیں، جن میں سے تین بند ہیں۔ بقیہ 24 جیلوں میں اس وقت 24 ہزار قیدی موجود ہیں۔

    محکمہ تعلیم سندھ، محکمہ جیل خانہ جات اور غیر سرکاری تنظیم ‘پیغام پاکستان’ کے اشتراک سے صوبے کے جیلوں میں قید قیدیوں کے بچوں کو مفت تعلیم کا بندوبست کیا جائے گا۔

    ساگا ڈیجیٹل سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر تعلیم سندھ سردار علی شاہ نے کہا جب کسی فرد کو سزا ہوتی ہے اور جیل میں آجاتا ہے تو ان کے خاندان کی کفالت کے ساتھ بچوں کی تعلیم بری طرح متاثر ہوتی ہے اور بغیر تعلیم کے بچے جرائم کرنا شروع کردیتے ہیں۔

    سردار علی شاہ کے مطابق: ‘یہ ریاست کی ذمی داری ہے کہ وہ تمام شہریوں کو مساوی حقوق دے، اس لیے سندھ حکومت نے فیصلہ کیا کہ صوبے کی جیلوں میں موجود قیدیوں کے بچوں کو اچھے نجی تعلیمی اداروں میں مفت تعلیم دی جائے۔

    ‘اب تک ہمارے پاس چار ہزار قیدیوں کے بچوں کے کوائف موصول ہوگئے ہیں، جن کی مفت تعلیم کے لیٹر جاری کیے جارہے ہیں۔ اس لیٹر کے ساتھ قیدیوں کے بچے کسی بھی اچھی پراویٹ سکول میں داخلہ لیں اور ان تعلیمی اداروں کا مکمل خرچہ سندھ حکومت ادا کرے گی۔

    ‘یہ تعلیم پرائمری سے یونیورسٹی تک دی جائے گی۔ اس وقت سندھ کے تمام جیلوں میں 24 ہزار قیدی موجود ہیں۔ تمام قیدیوں کے بچوں کے کوائف آجائیں تو پھر اندازہ ہوگا کہ کتنے بچوں کو مفت تعلیم دی جائے گی۔’

  • چھ اکتوبر 1974: فقیر امین منگریو کی پراسرار گمشدگی اور شہادت کا دن

    چھ اکتوبر 1974: فقیر امین منگریو کی پراسرار گمشدگی اور شہادت کا دن

    سندھ کی تاریخ جہاں بہادری، حب الوطنی اور رواداری کے روشن ابواب سے سجی ہوئی ہے، وہاں سیاست، انتقام اور جبر کی کالی راتیں بھی اس کے سینے پر رقم ہیں۔ 

    پیر صاحب پاگارا کے وفادار حُر مجاہد، حُر فورس کے سالار اور درگاہ کے بااعتماد خلیفہ شہید محمد امین فقیر منگریو کی زندگی اور شہادت بھی تاریخ کا ایسا ہی ایک ناقابلِ فراموش، مضبوط اور دردناک باب ہے، جو تاریخ کے صفحات پر ہمیشہ روشن رہے گا۔

    شہید محمد امین فقیر ولد گامن فقیر منگریو تقریباً 1928 میں انڈیا کے ضلع جیسلمیر کے گاؤں ’تار مہار‘ میں ایک غریب خاندان میں پیدا ہوئے۔ 

    ان کے بزرگ کوٹ ڈھنگانو کے سید شاہ مردان شاہ اول کے وفادار پیروکار تھے۔ جوانی میں محمد امین منگریو نے جیسلمیر چھوڑ کر سندھ کی طرف ہجرت کی اور ڈھورو نارو کے قریب گاؤں ’باروچو راجڑ‘ میں آباد ہوئے۔

    انہوں نے پیر پاگارا کی درگاہ پر بڑی عقیدت اور عاجزی کے ساتھ خدمت انجام دی۔ وہ حُر جماعت کے ایک مضبوط، خوب صورت، نیک سیرت اور بہادر فقیر تھے۔ 

    وہ اعلیٰ حضرت پیر سائیں چھَٹ دھنی، یعنی شاہ مردان شاہ ثانی، کے بااعتماد مرید، قابلِ اعتماد خلیفہ اور درگاہ شریف کے سچے خدمتگار تھے۔

    سورہیہ بادشاہ، یعنی پیر صبغت اللہ شاہ ثانی، کی شہادت کے بعد انہوں نے پیر جو گوٹھ، ضلع خیرپور، میں پیر صاحب پاگارا کا بنگلہ تعمیر کرنے میں فعال کردار ادا کیا۔ اس کے علاوہ پیر صاحب کی زمینوں کی بحالی میں بھی نمایاں کردار ادا کیا۔

    1965 اور 1971 کی پاک بھارت جنگ کے دوران پیر صاحب پاگارا کے حکم پر ہزاروں حُر مجاہد وطن کے دفاع کے لیے سرحدوں پر پہنچے۔ صدر جنرل ایوب خان نے امین فقیر منگریو کی قابلیت اور بہادری کو دیکھتے ہوئے انہیں حُر مجاہد فورس کا سالار مقرر کیا اور رحیم یار خان سے رَن آف کچھ تک سرحد کے دفاع کی انتہائی اہم ذمہ داری سونپی۔

    دشمن کا مقابلہ کرنے میں ان کی غیر معمولی جرأت اور جان نثاری پر انہیں قومی اعزازات تمغۂ شجاعت اور تمغۂ جرأت کے ساتھ 180 ایکڑ سرکاری زمین بھی دی گئی۔ 1965 کی جنگ میں ان کی بہادری اور قربانی کے واقعات فراموش نہیں کیے جا سکتے۔ انہوں نے 1971 کی جنگ کے دوران بھی ملکی سرحدوں کی حفاظت کرتے ہوئے ایک بار پھر شاندار بہادری کا مظاہرہ کیا۔

    ذوالفقار علی بھٹو اور پیر صاحب پاگارا کی دوستی بھی مثالی رہی۔ اکتوبر 1959 میں جب جنرل ایوب خان نے شہدادپور میں ایک جلسے سے خطاب کیا تو ان کے ساتھ ذوالفقار علی بھٹو اور پیر صاحب پاگارا نے بھی اس جلسے سے خطاب کیا تھا۔ تاہم بعد میں دونوں کے درمیان اختلافات پیدا ہوئے جو ان کی زندگی کے آخری وقت تک برقرار رہے۔

    ان اختلافات کی بنیادی وجہ 1970 کے انتخابات کے دوران پیدا ہوئی، جب بھٹو صاحب نے ضلع سانگھڑ کے کئی معروف زمینداروں کو پاکستان پیپلز پارٹی میں شامل کرانا شروع کیا۔ انہی دنوں سانگھڑ میں بھٹو صاحب کے جلسے کے دوران فائرنگ کا واقعہ بھی پیش آیا، جس کے بعد سیاسی کشیدگی عروج پر پہنچ گئی۔

    بھٹو صاحب کے اقتدار میں آنے کے بعد سانگھڑ کے تمام معاملات جام صادق علی کے حوالے کر دیے گئے۔ انہوں نے حالات کو مزید خراب کرتے ہوئے حُروں کے خلاف کارروائیوں کا سلسلہ شروع کرایا۔ سانگھڑ میں اپنی پسند کے افسر، ڈپٹی کمشنر امداد اللہ انڑ اور ایس پی غلام شبیر کلیار مقرر کیے گئے۔ اس کے بعد حُروں کی پکڑ دھکڑ اور گرفتاریاں شروع ہو گئیں۔

    جب ڈسٹرکٹ سیشن جج سید محمد اویس مرتضیٰ نے بے گناہ حُروں کی ضمانتیں منظور کرنا شروع کیں تو انہیں ان کے چیمبر سے گرفتار کر لیا گیا۔ سندھ چیف کورٹ کے سربراہ جسٹس طفیل علی عبدالرحمان کی مداخلت کے بعد انہیں رہا کیا گیا۔

    یکم اکتوبر 1973 کو علی بخش جونیجو کے قتل کے بعد، 2 اکتوبر 1973 کو ڈپٹی کمشنر امداد اللہ انڑ کے حکم پر گاؤں بڑہون کے چھ حُروں، فقیر محراب سنجرانی، فقیر امید علی سنجرانی، فقیر جان محمد سنجرانی، فقیر حمزو بھانوجو، فقیر دادن فقیر واڑھو اور سید شیر علی شاہ کو حراست میں لیا گیا۔ 

    انہیں 4 اکتوبر 1973 یعنی 7 رمضان المبارک کو پیرونمل کے قریب ایک جعلی پولیس مقابلے میں شہید کر دیا گیا۔ 1973 میں بڑہون کے ان چھ حُروں کو شہید کرنے کے بعد ان کی لاشیں ان کے وارثوں کے حوالے کر دی گئی تھیں۔

    امین فقیر کی گرفتاری، شہادت اور لاش کیفقیر امین منگریو گمشدگی

    ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت کے دوران پیر صاحب پاگارا سے وابستگی اور وفاداری کی وجہ سے امین فقیر منگریو کو بھی سخت اور سنگین مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ 1974 میں ان کے خلاف جھوٹے اور من گھڑت مقدمات قائم کیے گئے۔ انہیں تین مرتبہ گرفتار کرکے جیل بھیجا گیا۔

    سکھر جیل میں آخری قید کے دوران 6 اکتوبر 1974 کو پولیس انہیں جیل سے باہر لے گئی اور ایک نامعلوم مقام پر شہید کر دیا۔ شہید امین فقیر کی شہادت کے بعد ان کی لاش بھی ان کے مرشد سورہیہ سائیں کی طرح غائب کر دی گئی۔ اس واقعے کو تاریخ کے صفحات پر درج ہوئے نصف صدی سے زیادہ عرصہ گزر چکا ہے۔

    اگر تصور کی آنکھ سے دیکھا جائے تو یہ محسوس ہوتا ہے کہ اس بہادر حُر شہید امین فقیر نے آخر وقت تک اپنے مرشد سے وفاداری نبھائی۔ فقیر امین اپنے سوگواروں میں باہمت اہلیہ حاجیانی مرحومہ، ایک بیٹی اور چار بیٹے، فقیر غلام قادر، فقیر غلام حیدر، فقیر غلام نبی اور فقیر غلام علی منگریو چھوڑ گئے۔

    فقیر شہید امین کی باہمت اور دلیر اہلیہ نے اپنے شوہر کی مظلومانہ شہادت اور لاش کی گمشدگی کے باوجود اپنے سینے میں درد اور غم کی داستانیں چھپا کر اپنے چاروں بیٹوں اور بیٹی کو اچھی تعلیم، علم اور تربیت دی اور انہیں اپنے پاؤں پر کھڑا کیا۔

    تاریخ کے انصاف کے کئی بصیرت افروز مناظر ہوتے ہیں۔ ان میں سے ایک عجیب اور حیرت انگیز منظر یہ بھی تھا کہ جس ڈپٹی کمشنر امداد اللہ انڑ کے دور میں سانگھڑ کے حُروں پر مظالم ہوئے اور ان کے خلاف احکامات جاری کیے گئے، کافی عرصے بعد انہی تمام غموں اور تکلیفوں سے گزرنے والے شہید امین فقیر کا قابل بیٹا فقیر غلام حیدر منگریو اسی ضلع سانگھڑ کا ڈپٹی کمشنر بن کر آیا۔

    جس دفتر میں بیٹھ کر ان کے بیٹے نے اپنے والد پر ہونے والے ظلم اور ان کی تکلیف کو محسوس کیا ہوگا، اس کیفیت کا اندازہ صرف ایک ایسے شہید کا بیٹا ہی کر سکتا ہے جس کے والد کو گم کر دیا گیا ہو۔ یہ دراصل علم، عمل، ایمانداری اور صبر کا ایک عظیم اور باوقار جواب تھا، جس نے ظالم طاقتوں کو یہ پیغام دیا:

    ’آپ ہمارے لاشوں اور قبروں کو تو گم کر سکتے ہیں، لیکن شہیدوں کی جلائی ہوئی علم، حق اور ایمانداری کی شمعوں کو ہرگز بجھا نہیں سکتے۔‘

    شہید امین فقیر کی یاد کو ہمیشہ قائم رکھنے اور ان کی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کرنے کے لیے ان کے آبائی گاؤں کے بوائز اسکول، گرلز اسکول، ہائی اسکول، دیہی صحت مرکز اور مدرسے کو ان ہی کے نام، ’شہید امین فقیر منگریو‘ سے منسوب کیا گیا ہے۔

    امین فقیر صرف حُر جماعت کا ہی نہیں بلکہ پوری قوم اور سندھ کا قیمتی ورثہ ہیں۔ ان کی بہادری، وطن سے محبت، حب الوطنی اور قربانی کی داستانیں کبھی فراموش نہیں کی جا سکتیں۔

  • سندھ انسٹی ٹیوٹ آف اینیمل ہیلتھ: جانوروں کے علاج، تشخیص اور تحقیق کا مرکز

    سندھ انسٹی ٹیوٹ آف اینیمل ہیلتھ: جانوروں کے علاج، تشخیص اور تحقیق کا مرکز

    کراچی میں جانوروں کی صحت، ویکسین کی تیاری اور بیماریوں کی تشخیص کے حوالے سے سندھ حکومت کا ایک اہم ادارہ سندھ انسٹی ٹیوٹ آف اینیمل ہیلتھ ہے، جسے عام طور پر ایس آئی اے ایچ کہا جاتا ہے۔

    کورنگی میں قائم یہ ادارہ آج سندھ میں مویشیوں، پولٹری، پالتو جانوروں، جنگلی حیات اور آبی حیوانات کی صحت سے متعلق تحقیق، تشخیص اور ویکسین کی تیاری میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔

    ادارہ مویشیوں کی بیماریوں کے ساتھ ساتھ پالتو جانوروں اور جنگلی حیات کی بیماریوں پر بھی کام کرتا ہے.

    یہاں پالتو کتوں کے لیے جانوروں کے ہسپتال میں جدید علاج کا مرکز بھی قائم کیا گیا، جہاں او پی ڈی کے ساتھ پیچیدہ کیسز کے لیے جدید آپریشن تھیٹر بھی قائم کیا گیا ہے، جبکہ جانوروں کی مسلسل نگرانی کے لیے آئی سی یو کی سہولت بھی موجود ہے۔

    تشخیص کے لیے الٹراساؤنڈ اور ایکسرے کی جدید مشینیں استعمال کی جاتی ہیں۔ پورٹیبل الٹراساؤنڈ کے ذریعے حمل کی جانچ کے ساتھ مختلف بیماریوں کی تشخیص کی جاتی ہے، جبکہ ایکسرے سے ہڈیوں اور دیگر طبی مسائل کا معائنہ کیا جاتا ہے۔

    جانوروں کے مختلف طبی ٹیسٹ بھی یہاں کیے جاتے ہیں، جن میں سی بی سی، جگر اور گردوں کے افعال کے ٹیسٹ شامل ہیں۔ ٹیسٹ مکمل ہونے کے بعد نتائج کی رپورٹ بھی فراہم کی جاتی ہے۔

    ہسپتال میں پالتو کتوں کی گرومنگ کی سہولت بھی موجود ہے، جہاں نہلانے، بالوں کی تراش خراش اور ناخن کاٹنے سمیت دیگر خدمات فراہم کی جاتی ہیں۔

    اس کے علاوہ جانوروں کی نسبندی اور دیگر ضروری جراحی سہولتیں بھی دستیاب ہیں

    یہاں جدید لیبارٹریز میں خون، ٹشوز اور دیگر نمونوں کی جانچ، پی سی آر اور دیگر تشخیصی ٹیسٹ کیے جاتے ہیں۔

    اس جدید ہسپتال کی انتظامیہ کے مطابق بہتر علاج کی سہولیات کے باعث نہ صرف کراچی بھر بلکہ صوبے کے دیگر شہروں سے بھی لوگ اپنے پالتو کتوں کو علاج کے لیے اس مرکز میں لے آتے ہیں۔

  • سندھ میں پولٹری کی بیماریوں سے بچاؤ اور بہتر پیداوار کے لیے ڈائریکٹوریٹ آف پولٹری پروڈکشن اینڈ ریسرچ کیسے کام کرتا ہے؟

    سندھ میں پولٹری کی بیماریوں سے بچاؤ اور بہتر پیداوار کے لیے ڈائریکٹوریٹ آف پولٹری پروڈکشن اینڈ ریسرچ کیسے کام کرتا ہے؟

    سندھ میں پولٹری کی بیماریوں سے بچاؤ اور بہتر پیداوار کے لیے ایک سرکاری تحقیقی اور تشخیصی نظام کام کر رہا ہے، جس کا اہم حصہ صوبائی دارالحکومت کراچی میں قائم ڈائریکٹوریٹ آف پولٹری پروڈکشن اینڈ ریسرچ ہے۔

    یہ ادارہ صرف مرغیوں کی پیداوار تک محدود نہیں بلکہ بیماریوں کی نگرانی، تشخیص، ویکسینیشن، خوراک، افزائش، فارم مینجمنٹ اور پولٹری فارمرز کی تربیت پر بھی کام کرتا ہے۔ سندھ حکومت کے مطابق اس نظام کے تحت صوبے کے 24 اضلاع میں پولٹری سے متعلق سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔

    ادارے میں بیماریوں کی تشخیص کے لیے پیتھالوجی ڈویژن موجود ہے، جبکہ نیوٹریشن ڈویژن مرغیوں کی خوراک اور غذائی ضروریات سے متعلق تحقیق کرتا ہے۔ اس کے علاوہ بریڈنگ اینڈ انکیوبیشن اور ہاؤسنگ اینڈ مینجمنٹ کے شعبے بھی پولٹری کی بہتر پیداوار کے لیے کام کرتے ہیں۔

    بیماریوں کی تشخیص اور روک تھام کے لیے اس نظام کا ایک اہم ادارہ سندھ انسٹی ٹیوٹ آف اینیمل ہیلتھ بھی ہے۔ کراچی کے کورنگی میں قائم یہ ادارہ پولٹری سمیت مویشیوں اور دیگر جانوروں کے لیے ویکسین اور حیاتیاتی مصنوعات تیار کرتا ہے۔ اس کے تشخیصی نظام میں پوسٹ مارٹم، سیرولوجی، بائیو کیمسٹری، پیتھالوجی اور بیماری پیدا کرنے والے جراثیم کی مالیکیولر تشخیص شامل ہے۔

    پولٹری بیماریوں کے خلاف ویکسین کی تحقیق اور جانچ بھی اسی نظام کا حصہ ہے۔ سندھ انسٹی ٹیوٹ آف اینیمل ہیلتھ مختلف بیماریوں کے خلاف ویکسین تیار کرتا ہے، جبکہ ان کی افادیت اور معیار جانچنے کے لیے تحقیق اور ٹیسٹنگ بھی کی جاتی ہے۔

    مرغیوں کی صحت کے ساتھ خوراک بھی تحقیق کا اہم شعبہ ہے۔ بہتر خوراک اور فیڈ مینجمنٹ مرغیوں کی نشوونما، صحت اور پیداوار پر اثر انداز ہوتے ہیں، اسی لیے پولٹری ریسرچ میں غذائیت اور فیڈ مینجمنٹ کو الگ شعبے کے طور پر شامل کیا گیا ہے۔

    یہ ادارہ پولٹری فارمرز کی تربیت اور تکنیکی رہنمائی بھی کرتا ہے۔ بیماریوں سے بچاؤ، بہتر فارم مینجمنٹ اور جدید پولٹری طریقوں سے متعلق تربیت کے ذریعے تحقیق کو عملی سطح تک پہنچانے کی کوشش کی جاتی ہے۔

    یوں کراچی کا یہ سرکاری پولٹری ریسرچ نظام بیماریوں کی تشخیص، ویکسین، خوراک، افزائش، تربیت اور بہتر فارم مینجمنٹ کو ایک ہی نظام میں جوڑتا ہے۔

    اس کا مقصد صرف مرغیوں کو بیماریوں سے بچانا نہیں، بلکہ سندھ میں پولٹری کی پیداوار بہتر بنانا، فارمرز کو سائنسی رہنمائی فراہم کرنا اور گوشت اور انڈوں کی پیداوار سے وابستہ شعبے کو مضبوط بنانا بھی ہے۔