Tag: سندھ

  • سندھی فلموں کی ترقی میں حاکم علی زرداری کا کردار

    سندھی فلموں کی ترقی میں حاکم علی زرداری کا کردار

    کل نیو جرسی کے قریبی دوست اور سندھ کے سجن مشتاق سومرو نے ایک پرانی سندھی فلم ‘سورٹھ’ کا پوسٹر شیئر کیا، جس سے بات چیت کا آغاز ہوا۔ میں اس پوسٹر کے حوالے سے گفتگو کو سندھی فلم کی ترقی سے جوڑنا چاہتا تھا، کیونکہ فلم فن کا ایک اہم حصہ ہے، اور فن تو تہذیبیں پیدا کرتی ہیں، لیکن ول ڈیورانٹ کے بقول اضافی وسائل اور وقت کے بغیر تہذیب پیدا نہیں ہو سکتی، اور موجودہ دور کی سندھی تہذیب فنونِ لطیفہ کے اس طاقتور میڈیم، فلم، کو آگے بڑھانے میں کامیاب نہیں ہو سکی ہے۔

    اسد شیخ نے سندھی سنیما کی ترقی میں رئیس حاکم علی زرداری کے کردار کے بارے میں میری دی گئی مختصر رائے پر لکھا کہ مجھے اس موضوع پر ایک مضمون لکھنا چاہیے، ساتھ ہی ایک ہنستے ہوئے ایموجی بھی دے دیا، جس سے کئی مطلب اخذ کیے جا سکتے ہیں۔ ان کے سوال کے پیچھے نیت کیا تھی، اسے چھوڑ کر دل چاہا کہ رئیس حاکم علی زرداری کے بارے میں کچھ بات کی جائے۔

    حاکم علی زرداری نے 20 سال کی عمر میں کراچی اور حیدرآباد میں دو سنیما گھر قائم کیے۔ انہوں نے سندھی فلمیں بنائیں، جن کے وہ خود ڈسٹری بیوٹر بھی تھے۔ وہ اردو اور پنجابی فلموں کے بھی ڈسٹری بیوٹر تھے۔ ان کی ایک سندھی فلم کے پوسٹر، جس سے یہ گفتگو شروع ہوئی، میں سندھ کے بڑے اداکاروں نے مرکزی کردار ادا کیے تھے۔ رئیس حاکم علی زرداری خود سیاست میں چلے گئے اور سندھی فلمیں بنانے کا ان کا شوق ادھورا رہ گیا۔

    ہمارا تعلق ان سے اس وقت قائم ہوا جب وہ عوامی نیشنل پارٹی کے سرگرم رہنما تھے۔ ہم سجاگ بار تحریک کا حصہ تھے اور اس زمانے میں پارٹی کے ساتھی انہیں ‘چاچا حاکم علی’ کہا کرتے تھے۔ وہ شاہ پور چاکر میں دادا سلیمان ڈاہری کے گھر آئے ہوئے تھے۔ دادا سلیمان بعد میں ان کے منیجر بھی بنے۔ سابق فوجی آمر ضیال کے مارشلا کے خلاف سندھ کے لوگوں کے تحریک بحالی جمہوریت ایم آر ڈی کے دور میں پارٹی کے دوستوں سے جو تعلقات ان کے قائم ہوئے، وہ انہیں نبھاتے رہے۔

    ہماری پارٹی کے ایک اور دوست سائیں مشتاق نظامانی، جو خود بھی رئیس ہیں، ان کے ذریعے میرا بھی ان سے دوبارہ تعلق 2003 سے 2006 تک قائم رہا۔ ان کے برٹش کونسل خانے کے قریب واقع گھر جانا ہوتا تھا۔ پلیجو صاحب بھی وہاں آیا کرتے تھے۔ ایک مرتبہ ڈاکٹر نظیر شیخ اور پلیجو صاحب میرے چھوٹے سے فلیٹ پر ٹھہرے ہوئے تھے۔ لانگ مارچ کا آخری دن تھا۔ جلسہ ختم کر کے فلیٹ پر آئے تو رئیس مشتاق نظامانی کا فون آیا کہ حاکم زرداری صاحب پلیجو صاحب سے ملنا چاہتے ہیں۔

    اس دن لانگ مارچ کے جلسے میں چاچا حاکم علی زرداری بھی آئے تھے اور انہیں سندھی عوام کے طویل لانگ مارچ میں ہزاروں سندھی خواتین کی شرکت دیکھ کر خوشی اور حوصلہ ملا تھا۔ ان کی دوسری اہلیہ، جنہیں ‘بیگم صاحبہ’ کہا جاتا تھا، کی بھی خواہش تھی کہ سندھیاڻي تحریک کی مالی مدد کی جائے۔

    حاکم علی زرداری کی دوسری شادی زرین آرا بخاری سے ہوئی تھی، جو پاکستان کی پہلی خاتون تھیں جنہوں نے کیمبرج یونیورسٹی سے انگریزی ادب میں پی ایچ ڈی کی۔ اس شادی سے کوئی اولاد نہیں ہوئی۔ چاچا حاکم علی زرداری کے چاروں بچے پہلی اہلیہ بلقیس سلطانہ سے ہیں۔ وہ حسن علی آفندی کی پوتی تھیں، جو کراچی میں سندھ مدرسة الاسلام کے بانی تھے۔

    میں نے رئیس مشتاق نظامانی کے ذریعے اور براہِ راست بھی چاچا حاکم علی زرداری سے سندھ ٹی وی کے لیے انٹرویو دینے کی کئی بار درخواست کی، لیکن وہ ٹالتے رہے۔

    ایک مرتبہ ان کے گھر پر بیگم عابدہ حسین آئی ہوئی تھیں۔ مشتاق نظامانی کے ذریعے پیغام بھیجا کہ راڄپر کو کہو اگر انٹرویو کرنا چاہتا ہے تو آ جائے۔ میں بھی پہنچ گیا۔ ان کے ساتھ ‘بیگم صاحبہ’ بھی موجود تھیں۔ میں نے مذاقاً کہا، ‘میں آپ کا انٹرویو کرنے آیا ہوں۔’ وہ ہنس کر بولے، ‘اگلی بار۔’ وہ اگلی بار کبھی نہ آئی۔

    امریکی قونصل خانے میں ملازمت ملنے کے بعد میں نے ٹی وی چھوڑ دیا۔ اپنے دونوں پروگرام ‘ڈائیلاگ’ اور ‘نیٹھ کیا کریں’ دوسرے دوستوں کے حوالے کر کے ایک نئے سفر پر نکل پڑا۔

    کئی سال پہلے، جب آصف علی زرداری کی شادی محترمہ بینظیر بھٹو سے نہیں ہوئی تھی، حاکم علی زرداری 1970 میں چالیس سال کی عمر میں پیپلز پارٹی کے رکنِ قومی اسمبلی تھے۔ ایم آر ڈی کے دوران رسول بخش پلیجو، شہید فاضل راہو اور سید عالم شاہ کے ساتھ مل کر انہوں نے ولی خان، اجمل خٹک اور افراسیاب خٹک کے ہمراہ عوامی نیشنل پارٹی کی بنیاد رکھی۔

    بینظیر اور آصف کی سیاست کی وجہ سے انہیں کئی بار قید کیا گیا، لیکن ان پر کبھی کوئی الزام ثابت نہیں ہوا۔ ہمارے ہاں تحقیق کے بغیر لوگوں کے بارے میں دقیانوسی باتیں پھیلا کر انہیں کمتر دکھانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ میں نے اپنی محدود ملاقاتوں میں انہیں ایک باوقار، سلجھے ہوئے، پڑھے لکھے اور عزت دینے اور لینے والے انسان کے طور پر دیکھا۔ وہ پیپلز پارٹی کا حصہ ضرور بنے، لیکن میرا خیال ہے کہ انہوں نے عوامی تحریک کے ساتھیوں اور پلیجو صاحب سے اپنا تعلق کبھی ختم نہیں کیا۔

    بات سندھی فلم سے شروع ہوئی تھی اور کہاں سے کہاں پہنچ گئی۔ زندگی دراصل کہانیوں کا مجموعہ ہے، اور فلم اس کا عکس ہوتی ہے، بشرطیکہ وہ صحیح لکھنے والے، پیش کرنے والے اور اداکاروں کے ہاتھ میں ہو۔

  • 30 مئی 1986: جب معروف طلبہ رہنما فقیر اقبال ہیسبانی قتل ہوگئے

    30 مئی 1986: جب معروف طلبہ رہنما فقیر اقبال ہیسبانی قتل ہوگئے

    جنرل ضیا کے مارشل لا والے دنوں میں سندھ ہر حوالے سے متاثر ہوا۔ سندھ کی مضبوط طلبہ تنظیموں کو تقسیم کرکے اور لڑا کر ایک دوسرے کا جانی دشمن بنایا گیا۔ طلبہ تنظیموں کے جھگڑوں میں کئی نوجوان مارے گئے۔ یہ وہ دن تھے جب سندھ کی طلبہ تنظیمیں ایک دوسرے کے خلاف متحارب تھیں۔

    چانڈکا میڈیکل کالج لاڑکانہ، ڈگری کالج لاڑکانہ، شاہ عبداللطیف یونیورسٹی خیرپور، ٹیکنیکل کالج خیرپور، سپیریئر سائنس کالج خیرپور، قائد عوام انجینئرنگ یونیورسٹی نواب شاہ، ایل ایم سی جامشورو، مہران یونیورسٹی جامشورو اور سندھ یونیورسٹی جامشورو شدید متاثر ہوئے۔ ایک دوسرے پر فائرنگ معمول بن گئی۔

    جولائی 1983 میں چانڈکا میڈیکل کالج لاڑکانہ میں بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے کارکنوں کی فائرنگ میں جیئے سندھ چانڈکا کے رہنما میر اشتیاق ٹالپر قتل ہوگئے۔ 1983 اور 1984 کے سال چانڈکا میڈیکل کالج اور ڈگری کالج لاڑکانہ سپاف اور جساف کے درمیان جھگڑوں کی وجہ سے میدانِ جنگ بنے رہے۔

    1984 میں چانڈکا میں جیئے سندھ والوں کی فائرنگ کے نتیجے میں روپ چند قتل ہوگیا جبکہ صفی اللہ جوکھیو سینے میں گولی لگنے سے شدید زخمی ہوگیا۔ مطلب طلبہ تنظیموں کے جھگڑوں میں کافی طلبہ مارے گئے۔

    1984 میں پورے سندھ میں جیئے سندھ اور سپاف کے یہ جھگڑے شدت اختیار کر گئے۔ انہی جھگڑوں کے دوران 17 اکتوبر 1984 کو ٹوڑی پھاٹک کے مقام پر سندھ یونیورسٹی جامشورو سے چانڈکا میڈیکل کالج لاڑکانہ جانے والے طلبہ کی بسوں پر قانون نافذ کرنے والے اداروں نے فائرنگ کی، جس کے نتیجے میں پانچ نوجوان، انور عباسی، ذکریا میمن، امان اللہ وسطڑو، مالک خشک اور مٹھو بلیڈی کی موت ہوگئی۔

    گل محمد جکھرانی، دودو مہیری، ستار موریو، نظیر تونیو، اقبال تونیو عرف دریا خان، عمرالدین زرداری، سکندر میرانی سمیت کئی طلبہ گرفتار کیے گئے۔ اگر ٹوڑی پھاٹک والا واقعہ نہ ہوتا تو چانڈکا اور ڈگری کالج لاڑکانہ میں جساف اور سپاف کے درمیان تاریخی خونریزی ہوتی۔

    1983 سے 1986 تک کے تین سال تعلیمی ادارے جھگڑوں اور مسلح گروہوں کے قبضے میں رہے۔ اکثر تعلیمی ادارے انہی جھگڑوں کی وجہ سے بند رہے۔ جیئے سندھ کے اندر بھی تنظیمی ٹوٹ پھوٹ کا عمل شروع ہوا۔ جیئے سندھ کے ایک دھڑے کو صالحین اور دوسرے دھڑے کو کھڑتالی گروپ کہا گیا۔

    کھڑتالی گروپ نے سندھ یونیورسٹی کی آرٹس فیکلٹی کے پاس جیئے سندھ کے دوسرے دھڑے کے رہنما ذوالفقار منگی پر ستار راجپر، غلام نبی سہاغ اور دیگر کے ساتھ حملہ کیا، مگر قادر مگسی اور دوسرے ساتھی پہنچ گئے اور ذوالفقار منگی کو بچا لیا۔

    جیئے سندھ کے دونوں گروپوں میں جھگڑے شدت اختیار کرتے گئے۔ 16 مارچ 1986 کو ایل ایم سی میں جیئے سندھ کے کھڑتالی گروپ کے حملے میں جیئے سندھ کے ایک دھڑے کا کمال راہمون قتل ہوگیا اور ڈاکٹر قادر مگسی سمیت کئی طلبہ زخمی ہوئے۔

    کچھ عرصے بعد 1986 میں ہی جساف کے کچھ کارکنوں نے سندھ یونیورسٹی جامشورو میں سپاف کے سابق مرکزی صدر مرحوم امیر علی ایری اور جمیل سومرو (موجودہ ایم پی اے لاڑکانہ) کو مبینہ طور پر اغوا کرکے سندھ یونیورسٹی ہاسٹل میں یرغمال بنایا اور ان کی تذلیل کی۔

    اسی دوران سندھ یونیورسٹی، ایل ایم سی اور مہران یونیورسٹی سے سپاف اور جیئے سندھ کے کھڑتالی گروپ کے رہنماؤں اور کارکنوں کو نکالنے کا سلسلہ شروع ہوا۔ سپاف اور کھڑتالی گروپ کے کارکنوں کے سندھ یونیورسٹی میں داخلے پر پابندی لگا دی گئی۔

    جساف کے کارکن مسلح ہو کر سندھ یونیورسٹی کے ہاسٹلوں پر قابض ہوگئے۔

    ان دنوں مرحوم سید غوث علی شاہ، ڈاکٹر عبدالستار راجپر، ظفر راجپر، اقبال نظامانی اور دوسرے لوگ جساف کھڑتالی گروپ کی قیادت کر رہے تھے۔ جساف کی جانب سے سپاف اور کھڑتالی گروپ کو سندھ یونیورسٹی سے نکالنے اور امیر علی ایری کی تذلیل کے بعد سپاف اور کھڑتالی گروپ کے لوگ جامشورو کے تینوں اداروں سے نکل کر ایل ایم سی سٹی ہاسٹل میں آ کر رہنے لگے، جو اب سول ہسپتال حیدرآباد کی او پی ڈی کے قریب واقع ہے۔ وہاں سے سندھ یونیورسٹی پر دوبارہ قبضے کی منصوبہ بندی شروع ہوئی۔

    فقیر اقبال ہیسبانی اور فقیر بخش ہیسبانی سندھ کے مشہور صوفی بزرگ شاعر فقیر خوش خیر محمد ہیسبانی کے خاندان سے تعلق رکھتے تھے۔ ان کا گاؤں ضلع خیرپور کے تعلقہ فیض گنج میں واقع ہے۔ فقیر اقبال ہیسبانی نے ابتدائی تعلیم اپنے گاؤں سے حاصل کی، بعد میں سپیریئر سائنس کالج خیرپور اور شاہ عبداللطیف یونیورسٹی میں تعلیم حاصل کی۔

    انہوں نے سپاف میں شمولیت اختیار کی اور مارشل لا کے خلاف احتجاج کے الزام میں گرفتار ہو کر سینٹرل جیل خیرپور اور سینٹرل جیل کراچی میں قید رہے۔

    1985 میں بے نظیر بھٹو صاحبہ نے سپاف کی مرکزی باڈی تحلیل کر دی اور نئی تنظیم سازی کے لیے امیر علی ایری کو سپاف کا مرکزی آرگنائزر مقرر کیا۔ امیر علی ایری کی کوششوں سے 1985 میں چانڈکا میڈیکل کالج لاڑکانہ میں سپاف اور پی ایس ایف کا آل پاکستان ورکرز کنونشن منعقد ہوا۔

    فیصلہ کیا گیا کہ سپاف کے مرکزی انتخابات 5 جنوری 1986 کو گڑھی خدا بخش بھٹو میں منعقد ہوں گے۔

    پانچ جنوری 1986 کو گڑھی خدا بخش بھٹو میں سپاف کے مرکزی انتخابات منعقد ہوئے۔ فقیر اقبال ہیسبانی سپاف کی مرکزی صدارت کے امیدوار تھے۔ بعد میں وہ سپاف کے مرکزی صدر منتخب ہوئے۔

    10 اپریل 1986 کو بے نظیر بھٹو صاحبہ نے جلاوطنی ختم کرکے لاہور واپسی کا اعلان کیا۔ فقیر اقبال ہیسبانی نے بے نظیر بھٹو کی چیف سیکیورٹی انچارج کے طور پر پنجاب اور سندھ میں ذمہ داریاں ادا کیں۔

    فقیر اقبال ہیسبانی کا قتل

    30 مئی 1986 کی رات، 21 رمضان المبارک 1406ھ، فجر کی اذان کے وقت محمد علی جکھرانی اور ان کے ساتھی رکشے میں کلاشنکوف اور ہزاروں گولیاں لے کر پٹھان کالونی کی چڑھائی سے گزر رہے تھے کہ پولیس اور فورسز نے انہیں روک لیا۔ تلاشی کے دوران محمد علی جکھرانی وہاں سے نکل کر سٹی ہاسٹل پہنچ گئے، مگر ان کا ایک ساتھی گرفتار ہوگیا۔

    محمد علی جکھرانی نے فقیر اقبال ہیسبانی اور دوسرے ساتھیوں کو صورتحال بتائی۔ فقیر اقبال ہیسبانی، لالا جہانگیر پٹھان اور ظفر راجپر کے ساتھ گرفتار ساتھی کو چھڑانے نکلے۔ جیسے ہی ان کی گاڑی سٹی ہاسٹل سے پٹھان کالونی کی طرف بڑھی، سول ہسپتال حیدرآباد کے پیچھے موجود فورسز اور پولیس نے فائرنگ شروع کر دی۔

    شدید فائرنگ کے بعد جب ہم موقع پر پہنچے تو فقیر اقبال ہیسبانی گاڑی میں فوت ہوچکے تھے جبکہ لالا جہانگیر شدید زخمی تھے۔ ہم دونوں کو سول ہسپتال حیدرآباد لے گئے۔ کچھ دیر بعد ہسپتال کو پولیس اور ایف سی نے گھیرے میں لے لیا۔ سپاف کے کارکنوں نے ہسپتال کی عمارت پر قبضہ کر لیا اور مورچے سنبھال لیے۔ قیدیوں کے وارڈ پر تعینات آٹھ پولیس اہلکاروں کو یرغمال بنا لیا گیا اور ان کے ہتھیار لے لیے گئے۔

    بعد میں بے نظیر بھٹو کی ہدایات پر مخدوم خلیق الزمان، سید علی نواز شاہ، ملک لال خان، الٰہی بخش قائمخانی، سید حسین شاہ بخاری، مولا بخش چانڈیو اور دیگر رہنماؤں نے انتظامیہ سے مذاکرات کیے۔ آخرکار شام تک مذاکرات کامیاب ہوئے، یرغمال پولیس اہلکاروں اور ہتھیاروں کو واپس کیا گیا اور فقیر اقبال ہیسبانی کی میت ان کے گاؤں لے جائی گئی جہاں ہزاروں سوگواروں کی موجودگی میں تدفین ہوئی۔

    تعزیتی جلسے میں سید غوث علی شاہ، ڈاکٹر ستار راجپر اور دیگر رہنماؤں نے جساف کھڑتالی گروپ کو ختم کرکے سپاف میں ضم کرنے کا اعلان کیا۔

    لالا جہانگیر پٹھان سلطان کوٹ کے رہائشی تھے اور سپاف کے مرکزی رہنماؤں میں شمار ہوتے تھے۔ وہ اس حملے میں زخمی ہوئے اور ریڑھ کی ہڈی متاثر ہونے کے باعث عمر بھر کے لیے معذور ہوگئے۔ بعد میں 6 فروری 1999 کو انہوں نے شکارپور میں ایک پریس کانفرنس کے دوران خودکشی کر لی۔

    بعد میں کئی ساتھی پولیس، ایف آئی اے، کسٹمز، پی آئی اے اور دیگر سرکاری اداروں میں ملازم ہوگئے، جبکہ کچھ غربت کی زندگی گزارتے رہے۔ کئی دوست اس دنیا سے رخصت ہوگئے۔

    اگست 1988 میں جنرل ضیا 34 فوجی افسران سمیت بہاولپور کے قریب فضائی حادثے میں مارا گیا۔ اس کے بعد عام انتخابات ہوئے اور بے نظیر بھٹو وزیر اعظم بن گئیں۔ مارچ 1989 میں ٹوڑی واقعے کے قیدی عدالت سے ضمانت پر رہا ہوئے اور سندھ بھر میں ان کا شاندار استقبال کیا گیا۔

  • سندھ کے اجتماعی سماجی اور سیاسی شعور کا بحران

    سندھ کے اجتماعی سماجی اور سیاسی شعور کا بحران

    سندھ، جو تاریخی طور پر صوفی روایتوں، رواداری اور مضبوط سیاسی شعور کی سرزمین رہی ہے، اس وقت ایک گہرے بحران سے گزر رہی ہے۔ ایک طرف بلوچستان اور خیبرپختونخوا کے قبائلی معاشرے اپنے لوگوں کے تحفظ کے لیے ‘اجتماعی غیرت’ اور فوری ردعمل کا مظاہرہ کرتے ہیں، جبکہ دوسری طرف سندھ میں پریا کماری، فضیلا سرکی جیسی بیٹیاں برسوں سے لاپتہ ہیں اور سعید میمن جیسے بے گناہ شہری اغوا ہو چکے ہیں، مگر سندھ کا معاشرہ کسی بڑی اجتماعی تحریک کو جنم دینے میں ناکام رہا ہے۔

    سندھی سماج اس وقت اندرونی اور بیرونی دونوں محاذوں پر ناکامی کا شکار ہے۔ قبائلی جھگڑے، کاروکاری، سرداری اور وڈیرا شاہی نظام کی خوشامد، اور سوشل میڈیا کا غیر اخلاقی استعمال، فحش ویڈیوز، نازیبا پوسٹس، غیبت اور کردار کشی اس حد تک بڑھ چکے ہیں کہ شریف لوگ اور خواتین فیس بک استعمال کرنے سے نفرت محسوس کرنے لگے ہیں۔

    قومی وسائل کی لوٹ مار پر خاموشی اور کراچی کو سندھ سے الگ کرنے کی سازشوں کے خلاف مؤثر مزاحمت کا نہ ہونا ایک بڑا المیہ ہے۔

    اہم سوالات

    سندھی معاشرہ اپنی بیٹیوں اور شہریوں کے اغوا پر ویسا ردعمل کیوں نہیں دیتا جیسا پشتون یا بلوچ معاشرہ دیتا ہے؟

    سندھی نوجوانوں کے شعور کو مضبوط بنانے کے بجائے سوشل میڈیا اخلاقی زوال کا سبب کیوں بن رہا ہے؟

    سرداری نظام اور ‘بھوتار کلچر’ نے سندھیوں کی اجتماعی جدوجہد کو کیسے مفلوج کر دیا ہے؟

    قبائلی معاشرہ بمقابلہ زرعی اور جاگیردارانہ معاشرہ

    پشتون اور بلوچ معاشرے آج بھی اپنے خالص قبائلی ڈھانچے پر قائم ہیں، جہاں ‘قبیلے کی عزت و ناموس’ کے لیے سب متحد ہو جاتے ہیں۔ اس کے برعکس سندھ کی صورتحال مختلف ہے۔ یہاں سردار یا وڈیرا قبیلے کا محافظ نہیں بلکہ اکثر اس کا استحصال کرنے والا بن چکا ہے۔ سندھی عوام کو معاشی طور پر اتنا کمزور کر دیا گیا ہے کہ وہ اپنی بقا کی جنگ میں پوری قوم کے درد کو بھول بیٹھے ہیں۔

    جب بلوچستان سے سعید میمن اغوا ہوتا ہے تو سندھ کی کسی بڑی سیاسی یا سماجی قوت کی طرف سے بلوچستان جا کر احتجاج کرنے کا اعلان سامنے نہیں آتا۔ یہ سندھ کی قیادت اور سماجی تنظیموں کی کمزوری اور خوف کی علامت ہے۔

    پریا کماری، جو اقلیتی برادری سے تعلق رکھتی ہے، اور فضیلا سرکی، جو ایک غریب خاندان سے تعلق رکھتی ہے، کا برسوں تک لاپتہ رہنا اس بات کا ثبوت ہے کہ موجودہ ریاستی اور سماجی ڈھانچہ صرف طاقتور اور امیر کے تحفظ کے لیے کھڑا ہے۔

    سوشل میڈیا اور فکری زوال

    فیس بک پر سندھی سماج کا ایک بڑا حصہ قومی حقوق کی بات کرنے کے بجائے ان امور میں مصروف ہے:

    وڈیروں کی خوشامد

    بھوتاروں کی بے جا تعریف

    ایک دوسرے پر کیچڑ اچھالنا

    ایک دوسرے کی ٹانگ کھینچنا

    حالانکہ سوشل میڈیا معلومات، شعور اور سیکھنے کا ایک مضبوط ذریعہ ہو سکتا تھا، مگر وہاں فحش مواد اور غیر اخلاقی پوسٹس کا عام ہونا اس بات کی علامت ہے کہ معاشرے میں فکری خلا پیدا ہو چکا ہے۔ جب کسی قوم کے پاس کوئی بڑا مقصد یا نظریہ نہ ہو تو نوجوان اسی قسم کی اخلاقی گراوٹ کا شکار ہو جاتے ہیں۔

    کراچی اور سندھ کی وحدت

    اس وقت سندھ کو توڑنے اور کراچی کو الگ کرنے کے مختلف منصوبے زیر بحث رہتے ہیں۔ کراچی سندھ کی معاشی اور سیاسی روح ہے، مگر اس کے باوجود سندھی عوام کی مزاحمت زیادہ تر صرف انتخابات تک محدود ہو چکی ہے۔

    تاریخ میں سندھ نے ون یونٹ کے خلاف اور ایم آر ڈی جیسی عظیم تحریکیں چلائیں، مگر آج وہ اجتماعی قومی شعور کمزور پڑ چکا ہے۔ اقتدار میں بیٹھے وڈیرے میرٹ کا قتل کر کے نوجوانوں کو محرومیوں میں دھکیل رہے ہیں، جبکہ سیاسی جماعتیں اقتدار کی خاطر اسٹیبلشمنٹ کے سامنے اجتماعی قومی شعور کا سودا کر چکی ہیں۔

    یہ بے حسی کیوں؟

    سندھی قوم کی یہ بے حسی کوئی فطری یا پیدائشی چیز نہیں بلکہ ایک گہری ‘سماجی بیماری’ ہے۔ جاگیردارانہ نظام، تباہ حال تعلیم، ریاستی بے حسی اور سوشل میڈیا کے غلط استعمال نے مل کر سندھی معاشرے کو مفلوج کر دیا ہے۔

    جہاں پشتون اور بلوچ اپنی روایات سے طاقت لیتے ہیں، وہاں سندھی سماج اپنے ہی سرداروں کے پیدا کردہ قبائلی جھگڑوں اور کاروکاری جیسے ناسور میں الجھا ہوا ہے۔

    حل کیا ہے؟

    ایسی صورتحال میں سندھی دانشوروں، ادیبوں اور باشعور نوجوانوں کو فیس بک اور دیگر پلیٹ فارمز پر منظم انداز میں موجودہ بھوتار کلچر، سندھ کی تقسیم کی سازشوں اور اخلاقی زوال کے خلاف ایک فکری جدوجہد شروع کرنا ہوگی۔

    قبائلی جھگڑے کرانے والے سرداروں اور بیٹیوں کے اغوا پر خاموش رہنے والوں کا سماجی بائیکاٹ کرنا ہوگا۔

    سندھ کو وڈیرا شاہی کی خوشامد سے نکالنے کے لیے متوسط طبقے اور پڑھے لکھے نوجوانوں کو آگے آ کر مظلوموں کے حق میں آواز بلند کرنا ہوگی۔

    سوشل میڈیا کی گندگی سے نکل کر عملی میدان میں ایک دوسرے کا ساتھ دینا ہوگا۔

    سندھ ابھی مکمل طور پر سویا نہیں ہے۔ جہاں ایسے سوال اٹھتے ہیں، وہاں کل تبدیلی کی لہر بھی ضرور جنم لیتی ہے۔ مگر اس کے لیے سندھ سے محبت رکھنے والی تمام قوتوں کو متحد ہو کر عملی جدوجہد کرنا ہوگی۔

  • کیا سر آغا خان سوم سندھ کے بادشاہ بننا چاہتے تھے؟

    کیا سر آغا خان سوم سندھ کے بادشاہ بننا چاہتے تھے؟

    آج کل سر آغا خان پرنس رحیم پاکستان کے دورے پر آئے ہوئے ہیں۔ اس موقع پر آغا خان خاندان کی تاریخی، سماجی اور فلاحی خدمات پر گفتگو فطری بات ہے۔ مگر تاریخ کے اوراق میں ایک ایسا دلچسپ، کم معروف اور قدرے حیران کن حوالہ بھی موجود ہے، جسے پڑھ کر ذہن میں سوال ابھرتا ہے: کیا کبھی سر آغا خان سوم کے بارے میں یہ تجویز یا خواہش زیرِ بحث آئی تھی کہ انہیں کسی علاقے، ممکنہ طور پر سندھ، کا حکمران بنایا جائے؟

    یہ محض ایک عام افواہ نہیں تھی بلکہ برطانوی ہندوستان کی مرکزی قانون ساز اسمبلی کے ریکارڈ میں اس معاملے کی بازگشت سنائی دیتی ہے۔

    18 جولائی 1934 کو انڈین لیجسلیٹو اسمبلی میں ایک رکن، گیا پرساد سنگھ، نے حکومت سے سوال کیا کہ کیا یہ درست ہے کہ سر آغا خان نے اپنی خدمات کے اعتراف میں حکومت سے کسی ایسے علاقے کا مطالبہ کیا تھا جہاں وہ حکمرانی کر سکیں؟ حکومت نے جواب میں اس بات کی مکمل تردید نہیں کی بلکہ یہ تسلیم کیا کہ اس نوعیت کی خفیہ خط و کتابت ہوئی تھی، مگر اسے عام نہیں کیا جا سکتا۔

    یہ جواب اپنے اندر کئی سوالات رکھتا تھا۔ اگر بات محض بے بنیاد ہوتی تو حکومت صاف الفاظ میں تردید کر سکتی تھی۔ مگر جب حکومت نے کہا کہ خط و کتابت ہوئی ہے مگر اسے ظاہر نہیں کیا جا سکتا، تو شک و شبہات کا پیدا ہونا فطری تھا۔

    اسی موقع پر سندھ سے تعلق رکھنے والے رکن لالچند نیول رائے، جو سندھ کے غیر مسلم دیہی حلقے کی نمائندگی کرتے تھے، نے ضمنی سوال اٹھایا کہ کیا سر آغا خان نے حکمرانی کے لیے سندھ طلب کیا تھا؟ حکومت نے اس سوال کا بھی سیدھا جواب دینے کے بجائے وہی مبہم مؤقف اختیار کیا کہ اس خط و کتابت کو عام نہیں کیا جا سکتا۔

    یہاں سے کہانی مزید دلچسپ ہو جاتی ہے۔

    لالچند نیول رائے ایک ذمہ دار پارلیمانی رکن تھے۔ انہوں نے یہ سوال کسی چائے خانہ گفتگو یا بازاری افواہ کی بنیاد پر نہیں بلکہ اسمبلی جیسے سنجیدہ اور باوقار فورم پر اٹھایا۔ اس سے کم از کم اتنا ضرور ظاہر ہوتا ہے کہ اس وقت سندھ کے سیاسی حلقوں، اخبارات یا باخبر طبقات میں یہ بات گردش کر رہی تھی کہ سر آغا خان کسی علاقے کی حکمرانی کے خواہش مند تھے، اور ممکن ہے کہ اس تناظر میں سندھ کا نام بھی لیا جا رہا تھا۔

    18 جولائی 1934 کو انڈین لیجسلیٹو اسمبلی کے اجلاس کی کارروائی کے منٹس  

    اس پس منظر کو سمجھنے کے لیے 1930 کی دہائی کا سندھ ذہن میں رکھنا ضروری ہے۔ اس وقت سندھ ابھی بمبئی پریزیڈنسی کا حصہ تھا۔ سندھ کی بمبئی سے علیحدگی کا سوال شدت سے زیرِ بحث تھا۔ ایک طرف سندھ کو الگ صوبہ بنانے کا مطالبہ تھا، دوسری طرف مالی مشکلات، انتظامی خدشات اور سیاسی اندیشے بھی موجود تھے۔ بعض حلقے یہ سمجھتے تھے کہ اگر سندھ الگ ہوا تو کیا وہ مالی طور پر خود کو سنبھال سکے گا؟ کیا یہ ایک مستحکم صوبہ بن سکے گا؟ یا اسے کسی اور سیاسی تجربے کا میدان بنایا جائے گا؟

    اسی ماحول میں لالچند نیول رائے نے کیرالا کو مدراس پریزیڈنسی سے الگ کرنے کی قرارداد پر بات کرتے ہوئے کہا کہ اگر سندھ جیسے چھوٹے صوبے کو الگ کیا گیا تو یہ اس کے لیے ایک اذیت ناک مرحلہ ہو سکتا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اگر وہ خاموش رہتے تو شاید یہ غلط فہمی پیدا ہوتی کہ وہ سندھ کی علیحدگی کے حامی ہیں۔ ان کے الفاظ میں سندھ پہلے ہی ایک ایسی تکلیف سے گزر رہی تھی جس سے وہ ابھی باہر نہیں نکلی تھی۔

    پھر انہوں نے ایک نہایت معنی خیز بات کہی۔ ان کے مطابق سندھ پر ایک بڑی شخصیت، یعنی حضور آغا خان، کی بھی نظر تھی، جو اپنے لیے کوئی علاقہ حاصل کرنا چاہتے تھے۔ لالچند نے کہا کہ اگرچہ اخبارات اس بات کی تردید کر رہے ہیں کہ آغا خان کو یہاں کسی علاقے کا حکمران بنایا جا رہا ہے، لیکن جب ایسی افواہیں سننے میں آئیں اور سندھ کے معاملے پر ہونے والی سرگرمیوں کو دیکھا جائے تو یہ خیال بالکل بے بنیاد محسوس نہیں ہوتا کہ کسی دن انہیں ہندوستان کے کسی علاقے کا حکمران بنا دیا جائے۔

    یہ الفاظ صرف سیاسی طنز نہیں تھے بلکہ اس وقت کے سیاسی اضطراب کی عکاسی کرتے تھے۔ سندھ کے مستقبل کا سوال کھلا ہوا تھا۔ کچھ لوگ اسے صوبہ بنانا چاہتے تھے، کچھ اس کی مالی کمزوریوں سے خوفزدہ تھے، اور کچھ کو اندیشہ تھا کہ کہیں سندھ کو ایک الگ صوبے کے بجائے کسی شاہی ریاست یا نیم خودمختار انتظامی تجربے میں تبدیل نہ کر دیا جائے۔

    یہ سوال اس لیے بھی اہم ہو جاتا ہے کہ آغا خان خاندان کی تاریخ میں حکمرانی، اقتدار اور برطانوی راج سے تعلق کا ایک خاص پس منظر موجود تھا۔

    صدر آصف علی زرداری کے قریبی دوست ڈاکٹر عاصم حسین کے نانا، نامور ماہرِ تعلیم اور پارلیمنٹرین ڈاکٹر ضیا الدین احمد، آغا خان سوم کے ہمراہ

    اسماعیلیوں کے چھیالیسویں امام، شاہ حسن علی شاہ، 1804 میں ایران میں پیدا ہوئے۔ ان کی قابلیت اور اثر و رسوخ کو دیکھتے ہوئے ایران کے بادشاہ نے 1835 میں انہیں صوبہ کرمان کا گورنر مقرر کیا اور ‘آغا خان’ کا خطاب عطا کیا۔ یہی شخصیت بعد میں آغا خان اول کہلائی۔ مگر کچھ عرصے بعد ان کے ایرانی بادشاہ سے اختلافات پیدا ہوئے، معاملہ تصادم تک پہنچا، اور آخرکار وہ جلاوطنی کی زندگی اختیار کرتے ہوئے افغانستان پہنچے۔

    افغانستان میں قیام کے دوران ان کے برطانوی حکام سے قریبی روابط قائم ہوئے۔ بعدازاں وہ 1841 میں سندھ پہنچے۔ آغا خان اول نے سندھ میں برطانوی اقتدار کے قیام کے دوران انگریزوں کی مدد کی، جس کے نتیجے میں ایسٹ انڈیا کمپنی نے 1844 میں ان کے لیے تاحیات 2000 پاؤنڈ سالانہ پنشن مقرر کی۔ یہ پنشن بہت بعد میں، یکم جنوری 1954 کو جواہر لال نہرو کے دور میں ختم کی گئی۔

    سندھ کے جھِرکوں میں آج بھی امام شاہ حسن علی شاہ، یعنی آغا خان اول، کی حویلی کے آثار اس تاریخی تعلق کی یاد دلاتے ہیں۔

    اسی پس منظر میں جب 1934 میں سر آغا خان سوم کے حوالے سے یہ سوال اٹھا کہ کیا انہوں نے حکومت سے کوئی علاقہ مانگا تھا، اور جب لالچند نیول رائے نے خاص طور پر پوچھا کہ کیا وہ علاقہ سندھ تھا، تو یہ معاملہ محض اتفاقی نہیں لگتا۔ یہ ممکن ہے کہ سندھ کے سیاسی مستقبل پر جاری بحث میں مختلف تجاویز، افواہیں یا خفیہ امکانات گردش کر رہے ہوں۔ یہ بھی ممکن ہے کہ آغا خان کے لیے کسی اور علاقے کی بات ہو، نہ کہ سندھ کی۔ مگر حکومت کا جواب چونکہ واضح نہیں تھا، اس لیے معاملہ تاریخ کے پردے میں ایک سوالیہ نشان بن کر رہ گیا۔

    لالچند نیول رائے کی تشویش دراصل سندھ کے مستقبل سے متعلق تھی۔ وہ سندھ کی علیحدگی کو صرف انتظامی مسئلہ نہیں سمجھتے تھے بلکہ اس میں مالی، سیاسی اور سماجی خطرات دیکھ رہے تھے۔ ان کے نزدیک اصل سوال یہ تھا کہ سندھ کو الگ کرنے کے بعد اس کے مالی وسائل کیا ہوں گے؟ کیا سندھ اپنی آمدنی سے اپنے اخراجات پورے کر سکے گا؟ اور کیا اس کمزوری کا فائدہ اٹھا کر اسے کسی غیر معمولی سیاسی بندوبست کے حوالے تو نہیں کر دیا جائے گا؟

    تاریخ کا حسن یہی ہے کہ وہ صرف واقعات نہیں بتاتی بلکہ سوال بھی چھوڑ جاتی ہے۔ سر آغا خان سوم واقعی سندھ کے بادشاہ بننا چاہتے تھے یا نہیں؟ اس کا قطعی جواب فی الحال دستیاب نہیں۔ مگر 1934 کی مرکزی اسمبلی میں اٹھنے والے سوالات، حکومت کی مبہم خاموشی، اور لالچند نیول رائے کے خدشات یہ ضرور ظاہر کرتے ہیں کہ اُس دور میں یہ خیال اتنا کمزور نہیں تھا کہ اسے مکمل طور پر نظرانداز کر دیا جائے۔

    آج جب آغا خان خاندان کا موجودہ سربراہ پاکستان آتا ہے تو ہم اس خاندان کی فلاحی خدمات، تعلیمی اداروں، صحت کے منصوبوں اور سماجی کردار کو دیکھتے ہیں۔ مگر تاریخ کے ایک کونے میں یہ دلچسپ سوال بھی موجود ہے کہ کبھی اسی خاندان کے ایک سربراہ کے بارے میں یہ بحث بھی ہوئی تھی کہ شاید وہ ہندوستان کے کسی خطے، ممکنہ طور پر سندھ، کے حکمران بننے کے خواہش مند تھے۔

  • سندھ کے محکمۂ صحت میں پروموشن کے بعد پوسٹنگ اور ٹرانسفر کے نام پر ہونے والا کاروبار

    سندھ کے محکمۂ صحت میں پروموشن کے بعد پوسٹنگ اور ٹرانسفر کے نام پر ہونے والا کاروبار

    گزشتہ دنوں ایک سرکاری اسپتال جانا ہوا، وہاں ایک خاتون ڈاکٹر سے ملاقات ہوئی جو گریڈ 17 کی میڈیکل آفیسر سے ترقی پا کر گریڈ 18 میں سینئر میڈیکل آفیسر بنی ہیں۔ وہ شاید اخبارات یا فیس بک پر میری تحریریں پڑھتی رہی ہیں۔ میں جس مریض کی عیادت کے لیے اسپتال گیا تھا، اُس وارڈ میں اُن کی ڈیوٹی تھی۔

    انہوں نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ وہ کئی برسوں سے یہاں باقاعدگی سے ڈیوٹی انجام دے رہی ہیں اور غیر شادی شدہ ہیں۔ اُن کی گریڈ 18 میں پروموشن ہو چکی ہے، مگر اب پوسٹنگ آرڈرز جاری ہونے والے ہیں۔ سیکریٹریٹ میں بیٹھے محکمۂ صحت کے بااثر افراد کے ایجنٹوں نے پیغام دیا ہے کہ اُن کی پوسٹنگ کندھ کوٹ، کشمور یا شکارپور کی جا رہی ہے۔ اگر وہ موجودہ مقام پر سکون سے ڈیوٹی جاری رکھنا چاہتی ہیں تو لاکھوں روپے تیار رکھیں، ورنہ دور دراز اضلاع جانے کے لیے تیار ہو جائیں۔

    رندھی ہوئی آواز میں انہوں نے کہا: ‘میں نے کبھی یہ اضلاع دیکھے تک نہیں، ایک غیر شادی شدہ لڑکی اکیلے ایسے دور دراز علاقوں میں کیسے جا سکتی ہے؟ میرا ڈومیسائل بھی ان اضلاع کا نہیں۔ یہ مسئلہ صرف میرا نہیں، بلکہ جن جن ڈاکٹروں کی گریڈ 18 میں بطور سینئر میڈیکل آفیسر پروموشن ہوئی ہے، اُن سب کے لیے یہ ترقی خوشی کے بجائے ذہنی اذیت بن چکی ہے۔ ہمارے پروموشن سیکریٹریٹ میں بیٹھی مافیا کے لیے گویا لاٹری بن گئے ہیں۔’

    سندھ کے سرکاری محکموں میں گریڈ 17 سے 18 میں ترقی کسی بھی افسر کے کیریئر کا ایک اہم موڑ ہوتی ہے، مگر یہ ترقی اکثر متعلقہ افسران، خصوصاً لیڈی میڈیکل آفیسرز کے لیے ذہنی اور مالی عذاب بن جاتی ہے۔

    1۔ پروموشن کے بعد پوسٹنگ کا عمل اور مالی بدعنوانی

    جب ایک میڈیکل آفیسر گریڈ 17 سے ترقی پا کر گریڈ 18 یعنی سینئر میڈیکل آفیسر بنتا ہے، تو اُسے نئے گریڈ کی پوسٹنگ کے لیے آرڈر درکار ہوتا ہے۔ یہیں سے بدعنوانی کا ایک منظم جال شروع ہوتا ہے۔

    آرڈرز میں تاخیر: پروموشن نوٹیفکیشن کے باوجود پوسٹنگ آرڈر جان بوجھ کر روکے جاتے ہیں تاکہ افسر ‘مفاہمت’ پر مجبور ہو جائے۔

    ریٹ لسٹ کلچر: سیکریٹریٹ کے بعض مخصوص شعبوں میں مختلف شہروں اور پرکشش عہدوں کے لیے غیر رسمی ‘ریٹ’ مقرر ہوتے ہیں۔

    2۔ پوسٹنگ کا خوف

    ترقی پانے والے افسر کو اپنے شہر سے سینکڑوں میل دور کسی پسماندہ علاقے میں پوسٹنگ کا خوف دکھا کر رشوت طلب کی جاتی ہے۔

    3۔ لیڈی میڈیکل آفیسرز کی بلیک میلنگ

    محکمۂ صحت میں لیڈی میڈیکل آفیسرز اس نظام کا سب سے زیادہ شکار بنتی ہیں۔

    4۔ خاندانی مجبوریاں

    خواتین ڈاکٹروں کے لیے اپنے گھر، بچوں اور خاندان کو چھوڑ کر دور جانا اکثر ممکن نہیں ہوتا۔ اس انسانی مجبوری کو سیکشن آفیسر کلچر بطور ہتھیار استعمال کرتا ہے۔

    5۔ قریبی پوسٹنگ کا سودا

    شہر کے بڑے اسپتالوں میں خالی اسامیاں ہونے کے باوجود انہیں کاغذوں میں پُر ظاہر کیا جاتا ہے تاکہ قریبی پوسٹنگ کے لیے بھاری رقم وصول کی جا سکے۔

    میڈیکل آفیسر سے سینئر میڈیکل آفیسر تک کا سفر

    محکمۂ صحت میں سینئر میڈیکل آفیسر کے طور پر ترقی پانے والوں کے ساتھ ہونے والی ناانصافیاں کچھ یوں ہیں:

    1۔ کیڈر کی بلیک میلنگ

    اکثر دیکھا گیا ہے کہ سینئر میڈیکل آفیسر کو اُس کے قریبی شہر کے بجائے ایسے مقام پر تعینات کیا جاتا ہے جہاں اُس کی ضرورت کم ہو، صرف اس لیے کہ اُس نے ‘سفارش’ یا ‘نذرانہ’ پیش نہیں کیا ہوتا۔

    2۔ سرپلس پول

    کئی افسران کو پروموشن کے بعد طویل عرصے تک پوسٹنگ کا انتظار کرایا جاتا ہے، جس سے اُن کی سروس متاثر ہوتی ہے۔

    3۔ بدعنوانی کی بڑی وجوہات اور طریقے

    سیاسی مداخلت:
    بااثر سیاسی شخصیات اپنے من پسند افراد کو ایڈجسٹ کرانے کے لیے میرٹ کو پامال کرتی ہیں۔

    بیوروکریٹک رکاوٹیں:
    فائلوں کو غیر ضروری اعتراضات کے تحت دبا دیا جاتا ہے۔

    ایجنٹ مافیا:
    سیکریٹریٹ کے اندر اور باہر ایسے گروہ سرگرم ہیں جو افسران اور انتظامیہ کے درمیان ‘ڈیل’ کراتے ہیں۔

    اثرات (Impact Analysis)

    1۔ پیشہ ورانہ بددلی

    جب ایک قابل ڈاکٹر یا پروفیسر کو اپنے حق کے لیے رشوت دینی پڑے تو اس کا اثر اُس کی کارکردگی اور جذبے پر پڑتا ہے۔

    2۔ محکمۂ صحت کا زوال

    جب پوسٹنگ میرٹ کے بجائے پیسے کی بنیاد پر ہوگی تو اسپتالوں میں اہل افراد کی کمی پیدا ہو جائے گی۔

    3۔ عام آدمی کا نقصان

    دور دراز علاقوں کے لوگ آج بھی بنیادی صحت کی سہولیات سے محروم ہیں، کیونکہ وہاں کوئی جانا نہیں چاہتا اور لوگ رشوت دے کر شہروں میں رہنے کو ترجیح دیتے ہیں۔

    4۔ تجویز کردہ اصلاحات

    آن لائن پوسٹنگ سسٹم:
    پوسٹنگ اور ٹرانسفر کا پورا نظام سافٹ ویئر کے ذریعے ہونا چاہیے، جہاں خالی آسامیوں کی تفصیل عوامی طور پر دستیاب ہو۔

    فکسڈ ٹینئور پالیسی:
    ہر افسر کے لیے ایک مخصوص مدت تک دور دراز علاقوں میں خدمات انجام دینا لازمی ہو، مگر یہ فیصلہ بلا امتیاز ہو۔

    اینٹی کرپشن کا فعال کردار:
    پروموشن سیزن میں محکمۂ صحت کے سیکریٹریٹس پر سخت نگرانی رکھی جائے۔

    خواتین کے لیے خصوصی رعایت:
    لیڈی میڈیکل آفیسرز کے لیے ‘قریبی پوسٹنگ’ کو بنیادی حق قرار دیا جائے تاکہ وہ گھر اور ملازمت میں توازن قائم رکھ سکیں۔

    پوسٹنگ اور ٹرانسفر کے نام پر ہونے والی یہ مالی بدعنوانی صرف ایک محکمے کا مسئلہ نہیں بلکہ ایک سماجی ناسور ہے جو سندھ کے اہم ترین شعبے یعنی صحت کو کھوکھلا کر رہا ہے۔ جب تک پوسٹنگ کا اختیار شفاف اور خودکار نظام کے حوالے نہیں کیا جائے گا، یہ بلیک میلنگ جاری رہے گی۔

    ایک کیس کا ذکر:

    ایک خاتون لیکچرار کا کیس میری نظر سے گزرا۔ اُس خاتون لیکچرار کی پروموشن اسسٹنٹ پروفیسر کے طور پر ہوئی، مگر ترقی کے بعد اُن کی پوسٹنگ گورنمنٹ گرلز زبیدہ کالج حیدرآباد سے گورنمنٹ گرلز کالج ٹھٹھہ کر دی گئی۔ اُس خاتون اسسٹنٹ پروفیسر نے رقم دے کر اپنی ٹرانسفر رکوا لی۔ جس شخص نے اپنے ایجنٹ کے ذریعے یہ رقم وصول کی، وہی شخص آج کل سندھ کے ایک اہم ادارے میں تعینات ہے۔

  • 15 مئی 1984: جب ڈاکو پرو چانڈیو کی ہلاکت کے بعد آئی جی سندھ بشیر صدیقی پر ڈاکوؤں کا حملہ ہوا

    15 مئی 1984: جب ڈاکو پرو چانڈیو کی ہلاکت کے بعد آئی جی سندھ بشیر صدیقی پر ڈاکوؤں کا حملہ ہوا

    1980 کی دہائی میں پاکستان کے فوجی آمر جنرل ضیا الحق کے مارشل لا کے خلاف سندھ میں چلنے والی ایک بڑی سیاسی تحریک ایم آر ڈی یا تحریک بحالی جمہوریت کے مقابلے میں ضیا کے مارشل لا نے سندھ میں ڈاکوؤں کی حوصلہ افزائی کی، تاکہ امن و امان کی صورت حال خراب رہے۔

    اس وقت ڈاکوؤں کے عروج کا دور تھا اور بدنام زمانہ ڈاکو پرو چانڈیو اور اس کے ساتھی اپنے عروج پر تھے۔ اس دور میں یکم نومبر 1983 سے 12 اگست 1984 تک شکارپور کے مشہور تعلیم یافتہ صدیقی خاندان سے تعلق رکھنے والے بشیر احمد صدیقی انسپکٹر جنرل (آئی جی) سندھ رہے۔ ان کے والد کا نام خان محمد صدیقی تھا جبکہ ان کے بھائیوں میں نظیر احمد صدیقی، ڈاکٹر منیر احمد صدیقی، جمیل احمد صدیقی (ڈپٹی کمشنر) اور سلطان احمد صدیقی (ایڈیشنل سیشن جج) شامل تھے۔

    بشیر احمد صدیقی کی سفارش پر حکومت نے میرباز خان آفریدی کو سینئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (ایس ایس پی) دادو مقرر کیا۔ ساتھ ہی ڈی ایس پی علی گوہر مٹھاڻي اور انسپکٹر عنایت اللہ سومرو کو میہڑ میں ڈی ایس پی اور ایس ایچ او مقرر کرکے پرو چانڈیو کی زندہ یا مردہ گرفتاری کا ہدف دیا گیا۔

    پولیس افسروں نے پرو چانڈیو کے خلاف اس کے ایک دوست لطیف چانڈیو کو لالچ دے کر اپنے ساتھ ملا لیا۔ آخرکار پرو چانڈیو، علی گوہر چانڈیو، غلام قادر میربحر اور دیگر 14 اپریل 1984 کو لطیف چانڈیو کے گاؤں کشو چانڈیو میں دعوت پر جمع ہوئے۔ دعوت میں میزبان لطیف چانڈیو والوں نے پرو چانڈیو کے ساتھیوں کو نشہ دیا۔

    دعوت کے بعد جیسے ہی پرو چانڈیو کے لوگ واپس روانہ ہوئے تو شاہ پنجو ریلوے پھاٹک پر پولیس پہلے سے مورچہ بند تھی۔ ڈی ایس پی میہڑ علی گوہر مٹھاڻي، انسپکٹر عنایت اللہ سومرو، سب انسپکٹر غازی محمد، ایس ایچ او تھرڑی محبت کی قیادت میں پولیس پارٹیوں اور پرو چانڈیو کے گروہ کے درمیان مقابلہ ہوا، جس میں پرو چانڈیو اور غلام قادر میربحر مارے گئے جبکہ اس کا بھائی علی گوہر چانڈیو اور دوسرے ساتھی فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے۔

    پرو چانڈیو اور غلام قادر میربحر کی ہلاکت اور پولیس مقابلے کا مقدمہ پولیس اسٹیشن تھرڑی محبت میں ایس ایچ او غازی محمد کی مدعیت میں 14 اپریل 1984 کو ایف آئی آر نمبر 15/1984 بجرم دفعات 307، 353، 412، 148، 149 پی پی سی درج کیا گیا۔ جس میں بتایا گیا کہ پولیس مقابلے میں پرو چانڈیو اور غلام قادر میربحر مارے گئے جبکہ ملزمان عظیم چانڈیو اور مجیب چانڈیو کو مقابلے کے بعد گرفتار کرلیا گیا اور باقی ساتھی فرار ہوگئے۔

    ایف آئی آر میں پولیس سے مقابلہ کرنے کا مقدمہ پرو چانڈیو کے بھائی علی گوہر چانڈیو، مزن چانڈیو، پٹھان چانڈیو، غلاموں چانڈیو، ہوت چانڈیو اور مٹھو سیال سمیت دیگر نامعلوم ڈاکوؤں کے خلاف درج کیا گیا، جو فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے۔

    پرو چانڈیو اور غلام قادر میربحر کے مارے جانے کے ٹھیک ایک ماہ بعد پرو چانڈیو کے بھائی علی گوہر چانڈیو نے بدلہ لینے کے طور پر 15 مئی 1984 کو آئی جی سندھ پولیس بشیر صدیقی کے قافلے پر حملہ کردیا۔

    تفصیلات کے مطابق پرو چانڈیو اور غلام قادر میربحر کے مارے جانے کے بعد آئی جی سندھ پولیس بشیر احمد صدیقی 15 مئی 1984 کو پولیس انسپیکشن اور مقابلے میں حصہ لینے والے پولیس اہلکاروں کو شاباش دینے کے لیے دادو پہنچے۔ ایس ایس پی آفس میں اجلاس کے بعد وہ پرو چانڈیو والے مقابلے کی جگہ اور میہڑ، تھرڑی محبت تھانوں کے دورے کے لیے ایس ایس پی دادو میرباز خان آفریدی اور دیگر اہلکاروں کے ساتھ قافلے کی صورت میں روانہ ہوئے۔

    مخدوم بلاول اور پیر جگ شین کے درمیان گاؤں در محمد ابڑو کے قریب پولیس پوسٹ ککڑ کی حدود میں دن دہاڑے ڈاکوؤں کے گروہ نے علی گوہر چانڈیو کی قیادت میں آئی جی سندھ پولیس بشیر صدیقی کے قافلے پر حملہ کردیا۔ حملہ اتنا شدید تھا کہ آئی جی سندھ بشیر صدیقی کو گاڑی سے اتر کر سڑک کے کنارے مورچہ بند ہوکر مقابلہ کرنا پڑا۔

    مزید پولیس نفری پہنچنے پر ڈاکو فرار ہوگئے۔ اس حملے میں دو پولیس کانسٹیبل جان سے گئے جبکہ دونوں جانب سے کئی افراد زخمی بھی ہوئے۔

    آئی جی سندھ بشیر صدیقی پر اس حملے کا مقدمہ 15 مئی 1984 کو سرکار کی مدعیت میں اے ایس آئی اللہ ڈنو، انچارج پولیس پوسٹ ککڑ نے گناہ نمبر 91/1984 پولیس اسٹیشن خیرپور ناتھن شاہ میں دفعات 302، 395، 393، 397، 307، 353، 148، 149 اور 17/3 HO PPC کے تحت درج کیا۔

    اس مقدمے میں درج ذیل ڈاکو نامزد کیے گئے:

    1۔ علی گوہر چانڈیو
    2۔ نادر جسکانی
    3۔ سرور عرف سرو چانڈیو
    4۔ گل حسن چانڈیو
    5۔ محمد خان چانڈیو
    6۔ ٹھارو ماچھی
    7۔ مٹھو سیال
    8۔ اکبر کھوسو
    9۔ غلاموں چانڈیو

    جبکہ اس مقدمے کی تفتیش انسپکٹر عبدالغفور گجر، ایس ایچ او پولیس اسٹیشن خیرپور ناتھن شاہ اور دیگر پولیس افسروں کے سپرد کی گئی۔

    بعد میں ستمبر 1986 میں ڈی ایس پی علی گوہر مٹھاڻي کی قیادت میں پولیس پارٹیوں نے ڈاکو نادر جسکانی کو اس کے دو ساتھیوں سمیت ٹنڈوالہیار کے قریب زندہ گرفتار کرکے پولیس مقابلہ ظاہر کرتے ہوئے مار دیا۔ جبکہ 1986 ہی میں علی گوہر چانڈیو کو بھی شاہ پنجو کے قریب پیروز شاہ بند کے پاس مقابلہ ظاہر کرکے مار دیا گیا۔

    اس طرح سندھ میں برسوں تک دہشت کی علامت بنے یہ کردار اپنے انجام کو پہنچے، جبکہ پرو چانڈیو اور غلام قادر میربحر کو مروانے والے لطیف چانڈیو کو بھی سینٹرل جیل حیدرآباد میں پھانسی دے دی گئی۔

  • 14 مئی 1943: سندھ کے پہلے وزیراعلی اللہ بخش سومرو کو قتل کردیا گیا

    14 مئی 1943: سندھ کے پہلے وزیراعلی اللہ بخش سومرو کو قتل کردیا گیا

    تجربہ کار سیاستدان اللہ بخش سومرو 1901 میں شکارپور شہر میں پیدا ہوئے۔ وہ شہر کے ٹھیکیدار مستری محمد عمر سومرو کے فرزند تھے، جو اپنے وقت کے ایک ٹھیکیدار کے ساتھ زمیندار بھی تھے۔ اللہ بخش سومرو ان کے بڑے صاحبزادے تھے۔

    انہوں نے 1912 میں ثانوی تعلیم کے لیے ہوپ فل اسکول میں داخلہ لیا اور میٹرک پاس کرنے کے بعد اپنے والد کے ساتھ ٹھیکیداری کے کام میں شامل ہوگئے۔ دورانِ تعلیم وہ ایک ذہین طالبعلم کے طور پر مشہور تھے۔ کھیلوں، خصوصاً کرکٹ، سے گہری دلچسپی رکھتے تھے اور کئی مقابلوں میں حصہ لیا۔

    انہوں نے 1923 کے قریب سیاست میں قدم رکھا۔ اسی زمانے میں وہ جیکب آباد میونسپلٹی اور ضلع لوکل بورڈ سکھر کے رکن منتخب ہوئے۔ 1926 میں سلطان کوٹ اور ضلع سکھر کے بااثر زمیندار خان بہادر جان محمد پٹھان کے مقابلے میں بمبئی کونسل کے رکن منتخب ہوگئے۔

    بھٹو خاندان کے ساتھ ان کے تعلقات ان کے والد کے زمانے سے خوشگوار تھے، اسی وجہ سے انہوں نے بمبئی کونسل میں سر شاہنواز بھٹو کے دستِ راست کے طور پر کام کیا، جو اس وقت سندھ کے مسلمان اراکین کے رہنما تھے۔ اپنی ذہانت اور صلاحیتوں کے باعث اللہ بخش سومرو بمبئی کونسل کی مختلف سرکاری کمیٹیوں کے رکن بھی منتخب کیے گئے۔1926

    سے 1936 تک، جب تک سندھ بمبئی سے الگ نہیں ہوا تھا، وہ بمبئی کونسل کے رکن رہے۔ اس سے قبل 1928 میں وہ ضلع لوکل بورڈ سکھر کے صدر منتخب ہوئے۔

    جنوری 1931 میں جیکب آباد میں گھوڑوں کی سالانہ نمائش کے موقع پر انہوں نے سندھ کے لوکل بورڈز کے صدور اور چیف افسران کی کانفرنس بلائی، جس میں لوکل بورڈز کی تنظیم، اختیارات اور اصلاحات سے متعلق کئی قراردادیں منظور کی گئیں اور سندھ لوکل بورڈز ایسوسی ایشن قائم کی گئی۔ اسی موقع پر انہوں نے سندھ کے مسلمان سیاستدانوں کی کانفرنس سیٹھ حاجی عبداللہ ہارون کی صدارت میں منعقد کروائی، جس میں سندھ کی بمبئی سے علیحدگی اور آل انڈیا مسلم کانفرنس کی قراردادوں کی حمایت میں قراردادیں منظور کی گئیں۔

    1934 میں جب سائیں جی۔ ایم۔ سید کے بنگلے ‘حیدر منزل’ میں ‘پیپلز پارٹی’ قائم کی گئی تو اس کے لیڈر سر شاہنواز بھٹو اور ڈپٹی لیڈر اللہ بخش سومرو منتخب ہوئے۔

    1936 میں ‘اتحاد پارٹی’ کے قیام پر وہ اس میں شامل ہوگئے۔ سندھ کی بمبئی سے علیحدگی کے بعد 1937 کے انتخابات میں اتحاد پارٹی کے 24 ارکان کامیاب ہوئے، لیکن اس کے لیڈر سر شاہنواز بھٹو اور ڈپٹی لیڈر حاجی عبداللہ ہارون انتخابات ہار گئے۔ اس کے بعد گورنر سر لینسلیٹ گراہم نے سر غلام حسین کو وزارت بنانے کے لیے مدعو کیا، حالانکہ ان کی جماعت کے صرف 5 ارکان منتخب ہوئے تھے۔

    سر غلام حسین نے میر گروپ کو وزارت میں شامل کرکے اتحاد پارٹی میں اختلافات پیدا کیے اور ہندو انڈیپنڈنٹ پارٹی کی حمایت سے حکومت قائم کرلی۔ میران محمد شاہ بھی اتحاد پارٹی چھوڑ کر وزارت میں شامل ہوگئے۔ چنانچہ اتحاد پارٹی کے ارکان نے اللہ بخش سومرو کو لیڈر اور مسٹر ہاشم گزدر کو ڈپٹی لیڈر منتخب کرکے اپوزیشن میں بیٹھنے کا فیصلہ کیا۔

    1937 کے آخر میں اتحاد پارٹی اور سر غلام حسین کی وزارت کے درمیان ایک پروگرام کی بنیاد پر اتحاد ہوا، جس پر عملدرآمد کے لیے ایک ورکنگ کمیٹی بنائی گئی، جس میں اللہ بخش، ہاشم گزدر اور سائیں جی۔ ایم۔ سید شامل تھے۔ تاہم انتظامیہ کے غلط رویے، نااہل وزرا اور اتحاد پارٹی کی مناسب نمائندگی نہ ہونے کے باعث یہ پروگرام کامیاب نہ ہوسکا۔

    آخرکار مارچ 1938 میں بجٹ کے موقع پر ‘ایک روپیہ کٹ’ کی قرارداد منظور ہونے سے غلام حسین کی حکومت شکست کھا گئی اور نئی وزارت اللہ بخش سومرو کی قیادت میں قائم ہوئی۔

    یہ حکومت کانگریس اور ہندو انڈیپنڈنٹ پارٹی کی حمایت سے بنی، جس میں اللہ بخش سومرو وزیراعظم جبکہ پیر الہی بخش اور نہچلداس وزیر بنے۔ چونکہ حکومت کے حق میں صرف سات مسلمان ارکان نے ووٹ دیا تھا اور باقی تمام حمایتی ہندو تھے، اس لیے تعلیم یافتہ مسلمان طبقے کی جانب سے احتجاج کیا گیا۔

    اس صورتحال پر اللہ بخش سومرو نے 29 مارچ 1938 کو اپنی حکومت کی پالیسی بیان کرتے ہوئے اعلان کیا کہ:

    حکومت قومی بنیادوں پر چلائی جائے گی۔

    سکھر بیراج سے متاثرہ علاقوں کے لیے لوئر سندھ بیراج اسکیم تیار کی جائے گی۔

    شمالی سندھ کے نہروں کی اصلاح کی جائے گی۔

    وزرا کم تنخواہیں لیں گے۔

    اعزازی مجسٹریٹیاں ختم کی جائیں گی۔

    بعض سڑکوں کا انتظام لوکل بورڈز کے سپرد کیا جائے گا۔

    پرائمری اساتذہ کی تنخواہوں میں 5 روپے اضافہ کیا جائے گا۔

    مولانا عبیداللہ سندھی کی وطن واپسی پر ان کا استقبال کیا جائے گا۔

    سندھ فرنٹیئر ریگولیشن ختم کرنے کے لیے کمیٹی قائم کی جائے گی۔

    1938 میں اللہ بخش سومرو کی حکومت نے ٹیکس بڑھائے، جس سے اتحاد پارٹی تقسیم ہوگئی۔ حاجی عبداللہ ہارون مسلم لیگ میں شامل ہوچکے تھے۔

    11 اکتوبر 1938 کو قائداعظم محمد علی جناح کی صدارت میں مسلم لیگ کے رہنما کراچی میں جمع ہوئے۔ اجلاس میں اللہ بخش سومرو اور سائیں جی۔ ایم۔ سید بھی شریک ہوئے۔ مسلم رہنماؤں نے اللہ بخش سومرو سے مسلم لیگ میں شامل ہونے کی درخواست کی، جسے انہوں نے قبول کرلیا۔ تاہم قیادت کے مسئلے پر اختلاف پیدا ہوگیا۔ جناح صاحب نئے لیڈر کے انتخاب کے حق میں تھے جبکہ سر غلام حسین اس موقع کو اقتدار حاصل کرنے کا ذریعہ بنانا چاہتے تھے، نتیجتاً یہ اتحاد ختم ہوگیا۔

    بعدازاں مسلم لیگ نے اسمبلی میں اللہ بخش سومرو کی حکومت کے خلاف قرارداد پیش کی، مگر وہ نہ صرف کئی مسلم لیگی ارکان کو اپنے ساتھ ملانے میں کامیاب ہوگئے بلکہ خود مسلم لیگ اسمبلی پارٹی کے لیڈر اور ڈپٹی لیڈر بھی وزارت میں شامل ہوگئے۔ یوں قرارداد کے حق میں صرف سات ووٹ پڑے۔

    1939 میں مسجد منزل گاہ کا مسئلہ سامنے آیا، جس کے نتیجے میں سندھ میں ہندو مسلم فسادات شروع ہوگئے۔ کئی مسلم لیگی رہنما اور کارکن جیلوں میں ڈالے گئے۔ اس کشیدہ صورتحال میں ہندو اور کانگریسی ارکان نے وقتی فائدے کے لیے مسلم لیگ کے ساتھ مل کر اللہ بخش سومرو کی حکومت گرا دی اور مسلم لیگ کی حکومت قائم ہوگئی۔

    اس حکومت میں سائیں جی۔ ایم۔ سید بھی وزیر بنے، مگر بعد میں انہوں نے سندھ کے امن و سلامتی کے لیے ہندو مسلم اتحاد کو ضروری سمجھا۔ انہوں نے مولانا ابوالکلام آزاد اور اللہ بخش سومرو کے درمیان ایک فارمولا طے کروایا، جس کے نتیجے میں اللہ بخش سومرو دوبارہ اقتدار میں آئے۔

    مولانا عبیداللہ سندھی کو افغانستان کی طویل جلاوطنی کے بعد وطن واپس لانے میں بھی اللہ بخش سومرو کا بڑا کردار تھا۔ 1942 میں بطور وزیراعظم سندھ انہوں نے کراچی میں مولانا عبیداللہ سندھی کا شاندار استقبال کیا۔

    اسی زمانے میں کانگریس نے ‘ہندوستان چھوڑ دو’ تحریک شروع کی جبکہ مسلم لیگ نے پاکستان کا نعرہ بلند کیا۔ قوم پرست رہنماؤں پر سختیاں کی گئیں۔

    26 ستمبر 1942 کو اللہ بخش سومرو نے وائسرائے کو خط لکھ کر ‘خان بہادری’ اور ‘آرڈر آف برٹش ایمپائر’ کے اعزازات واپس کردیے اور ہندوستان کی آزادی کی حمایت کی۔ اس پر گورنر نے ان کی حکومت برطرف کردی اور سر غلام حسین کو مسلم لیگ کی حمایت سے اقتدار سونپ دیا۔

    بعد ازاں اللہ بخش سومرو نے سماجی خدمات کی طرف توجہ دی۔ سندھ شدید سیلاب کی لپیٹ میں تھا اور انہوں نے اپنی زرعی زمینیں قربان کرکے شکارپور شہر کو بچانے کی کوشش کی۔

    14 مئی 1943 کی صبح یہ وہ شکارپور میں تانگے پر سفر کر رہے تھے کہ کچھ افراد نے ان پر فائرنگ کرکے انہیں قتل کردیا۔ ان کے قتل کا الزام خان بہادر ایوب کھوڑو پر لگایا گیا۔

    اللہ بخش سومرو کا ذکر برصغیر اور سندھ کی قومی سیاست میں آج بھی انتہائی احترام اور عزت سے کیا جاتا ہے۔ سندھ کے بزرگ سیاستدان سائیں جی۔ ایم۔ سید نے اپنی کتاب ‘جنم گذاریم جن سین’ میں انہیں ‘سندھ جو دودو ثانی’ قرار دیا ہے۔

    ان کا مزار آج بھی شکارپور شہر میں موجود ہے۔

  • امرکوٹ یا عمرکوٹ؟ :  یونیسکو کی فہرست میں شامل سندھ کے تاریخی قلعے کی دلچسپ داستان

    امرکوٹ یا عمرکوٹ؟ :  یونیسکو کی فہرست میں شامل سندھ کے تاریخی قلعے کی دلچسپ داستان

    حال ہی میں ایک خبر نے سندھ کے لوگوں میں خوشی کی لہر دوڑا دی، جس میں بتایا گیا کہ اقوامِ متحدہ کے ذیلی ادارے یونیسکو نے سندھ کے مزید تین مشہور تاریخی قلعوں کو اپنی ثقافتی ورثے کی فہرست میں شامل کر لیا ہے۔ یہ تینوں قلعے عمرکوٹ، کوٹ ڈیجی اور نوکوٹ میں واقع ہیں۔

    عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ عمرکوٹ کا قلعہ مشہور راجا عمر سومرو نے تعمیر کرایا تھا، جو سندھ کی معروف لوک داستان ’عمر ماروی‘ کا اہم کردار ہے۔ تاہم بعض مقامی ماہرین اور تاریخ دانوں کے مطابق اس قلعے کا ماروی والے عمر سومرو سے براہِ راست تعلق ثابت نہیں ہے۔ ان کے مطابق ماضی کے راجپوت حکمران امرسنگھ نے یہ قلعہ تعمیر کرایا اور اس شہر کی بنیاد رکھی تھی۔

    دوسری جانب، عمر سومرو سے نسبت رکھنے والے مؤقف کے حامیوں کے پاس بھی کئی مضبوط دلائل موجود ہیں۔ ان کے مطابق ماضی میں عمرکوٹ قلعے کے اندر ایک ایسا کمرہ موجود تھا جسے ’ماروی کا کوٹ‘ کہا جاتا تھا، یعنی وہ مقام جہاں روایت کے مطابق عمر سومرو نے ماروی کو لا کر رکھا تھا۔ اگرچہ وہ کمرہ اب منہدم ہو چکا ہے، تاہم اس کے آثار آج بھی قلعے میں موجود ہیں۔ ’عمر کوٹ‘ کے عنوان سے کتاب لکھنے والے ادیب جلال کوری کے مطابق ایک روایت یہ بھی ہے کہ ماروی کا اصل گاؤں بھالوا نہیں بلکہ کھاروڑو تھا، جو عمرکوٹ کے قریب واقع ہے۔

    جلال کوری کا کہنا ہے کہ سندھ کا صحرا تھر دراصل گریٹرانڈین ڈیزرٹ کا حصہ ہے، جس کا ایک بڑا حصہ بھارت میں واقع ہے۔ جو لوگ جیسلمیر یا راجستھان کے دیگر علاقوں سے ہجرت کر کے عمرکوٹ میں آباد ہوئے، وہ آج بھی اس شہر کو ’امرکوٹ‘ کہتے ہیں، جبکہ مقامی آبادی اسے ’عمرکوٹ‘ کے نام سے پکارتی ہے۔

    امرکوٹ نام کے حامیوں کے مطابق یہ شہر کافی عرصہ سوڈھا راجپوتوں کے زیرِ حکمرانی رہا تھا اور یہ قلعہ عمر سومرو نے نہیں بلکہ اس ریاست کے ایک راجا امرسنگھ نے تعمیر کرایا تھا۔ اس روایت کے مطابق یہ قلعہ گیارہویں صدی میں راجپوت حکمران رانا امرسنگھ کے دور یا ان کے زیرِ اقتدار تعمیر ہوا، جبکہ بعد کے ادوار میں اس پر سومرو اور سوڈھا حکمرانوں کا قبضہ تبدیل ہوتا رہا۔

    تاہم لکھاری جلال کوری کے مطابق اگر تاریخی حوالوں اور راجپوت حکمرانوں کے شجرۂ نسب کا جائزہ لیا جائے تو عمرکوٹ ریاست کے راجپوت حکمرانوں میں کسی کا نام امرسنگھ نہیں ملتا۔

    ان کے مطابق ماضی میں اس شہر کو عمرکوٹ یا امرکوٹ کے علاوہ ’ہمرکوٹ‘ بھی کہا جاتا تھا۔

    تاریخی دستاویزات کے مطابق سوڈھا راجپوت خاندان، راجپوتوں کے پرمار قبیلے کی ایک شاخ تھا۔ یہ خاندان ابتدا میں مالوہ اور راجستھان کے بعض علاقوں میں آباد تھا، تاہم بعد میں تھر کے صحرائی خطے میں منتقل ہو گیا۔

    تاہم عمرکوٹ سے تعلق رکھنے والے سماجی رہنما اور ادیب میر حسن آریسر کے مطابق اس شہر کا نام ابتدا ہی سے عمرکوٹ تھا، کیونکہ تاریخی کتابوں میں عمر سومرو کو سندھ کے اس خطے کے حکمران کے طور پر تسلیم کیا گیا ہے، اس لیے یہ عمرکوٹ ہی ہے۔

    تاریخ دانوں کے مطابق سندھ میں سومرو خاندان کی حکومت تقریباً 1025 سے 1351 تک قائم رہی۔ ان کا مرکز زیادہ تر ٹھٹہ اور جنوبی سندھ کے علاقے تھے۔

    عمر سومرو کا نام خاص طور پر سندھ کی مشہور لوک داستان ’عمر ماروی‘ کی وجہ سے زندہ ہے، جس میں ماروی کی وطن سے محبت، اصول پسندی اور وفاداری کو بیان کیا گیا ہے۔

    تھر سے تعلق رکھنے والے ایک اور ادیب اور محقق معصوم تھری کے مطابق عمر سومرو کے نام سے ایک سے زیادہ حکمران گزرے ہیں اور ماروی والے عمر سومرو نے یہ قلعہ تعمیر نہیں کرایا تھا۔

    مغل عہد کا عمرکوٹ سے تعلق

    عمرکوٹ کی اہمیت صرف مقامی تاریخ یا سیاست تک محدود نہیں رہی بلکہ مغل دور میں بھی اس شہر کو غیر معمولی تاریخی حیثیت حاصل ہوئی۔

    1542 میں مغل بادشاہ ہمایوں، شیر شاہ سوری سے شکست کھانے کے بعد پناہ کی تلاش میں یہاں پہنچا۔ اس وقت عمرکوٹ کے راجپوت حکمران رانا پرشاد نے ہمایوں اور اس کے خاندان کو پناہ دی۔ اسی قیام کے دوران ہمایوں کی اہلیہ حمیدہ بانو بیگم کے ہاں اکبر کی پیدائش ہوئی۔ بعد ازاں یہی بچہ برصغیر کا عظیم مغل بادشاہ بنا۔ عمرکوٹ میں اکبر کی جائے پیدائش پر سندھ حکومت نے ایک یادگار بھی تعمیر کر رکھی ہے۔

    مغل حکمرانوں کے دور میں دیگر ریاستوں کی طرح عمرکوٹ بھی ایک نیم خودمختیار ریاست تھی، جو دہلی کو خراج دیتی تھی۔ معصوم تھری کے مطابق مغل دور میں عمرکوٹ پر سومرو اور راجپوتوں کی حکومت رہی ہے۔

    ان کے مطابق مارواڑ کے راجپوت حکمران کے نو بیٹے تھے۔ اس نے اپنی ریاست کے نو حصے کر کے ہر ایک بیٹے کو ایک حصہ دیا تھا۔ عمرکوٹ اور چھاچھرو سے لے کر موجودہ عمرکوٹ ضلع میں واقع ریاست کو ’ڈھٹ‘ ریاست کے نام سے پکارا جاتا تھا۔ سندھی زبان کے ایک لہجے کو ڈھاٹی کہا جاتا ہے، جو ڈھٹ سے نکلا ہے۔

    محقق میر حسن آریسر کے مطابق تھر کے وسیع و عریض ڈھاٹ والے علاقے کی طبعی اراضی اور نارا ویلی کے کناروں پر مدتوں سے آباد عمرکوٹ کو سندھی کے مشہور شاعر شاہ عبدالطیف نے بھی ’ڈھات‘ کہا ہے۔ ’مثال کے طور پر سُر رانا میں بھٹائی سائیں نے رانا مہندر کو ’ڈھاٹی‘ کہا ہے۔ رانا مہندر جو عمرکوٹ کا رہائشی تھا، اس لیے شاہ لطیف نے ایک شعر میں کہا ہے، جس کا ترجمہ ہے: تو ڈھاٹی اور ڈھاٹ والی ہے، میرے ڈھول ڈھاٹ تمہارا ہے۔

    برطانیہ دور میں عمرکوٹ کی حیثیت

    برطانوی دور میں اس ریاست کی سیاسی حیثیت تبدیل ہونا شروع ہوئی۔ اٹھارویں صدی میں جودھپور ریاست نے امرکوٹ پر اپنا اثر و رسوخ قائم کیا، جس کے نتیجے میں سوڈھا حکمرانوں کی طاقت کمزور پڑ گئی۔ بعد ازاں 1847 میں جودھپور کے مہاراجہ نے عمرکوٹ کا علاقہ برطانوی حکومت کے حوالے کر دیا اور انگریز نے عمرکوٹ کو سندھ کا حصہ بنا دیا۔ اس کے بدلے جودھپور پر عائد خراج میں کمی کی گئی۔

    اس کے نتیجے میں امرکوٹ براہِ راست برطانوی ہندوستان کے زیرِ انتظام آ گیا جبکہ سوڈھا حکمران صرف جاگیردار کی حیثیت تک محدود ہو گئے۔ آج بھی سوڈھا جاگیر عمرکوٹ کے قریب واقع ہے۔

    برطانوی دور کے ریکارڈز میں اس شہر کا نام مختلف انداز سے لکھا گیا۔ کہیں ’Amarkot‘، کہیں ’Umarkot‘ اور بعض مقامات پر ’Omarkot‘ درج ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وقت کے ساتھ ساتھ اس کے تلفظ اور سرکاری استعمال میں تبدیلی آتی رہی۔ پاکستان کے قیام کے بعد ’عمرکوٹ‘ کی شکل زیادہ عام ہو گئی اور یہی نام سرکاری سطح پر رائج ہو گیا۔ تاہم تاریخی اور مقامی حلقوں کے لیے آج بھی ’امرکوٹ‘ کا نام جذباتی اور تاریخی اہمیت رکھتا ہے۔

    ادیب معصوم تھری کے مطابق سندھی زبان کے مقامی لہجے ڈھاٹکی میں عمرکوٹ کے بجائے امرکوٹ کہنا زیادہ آسان ہے، اس لیے تھر کی اکثریت آبادی امرکوٹ ہی کہتی ہے۔

    1947 میں برصغیر کی تقسیم کے بعد سوڈھا راجپوتوں کی حکمرانی کا باقاعدہ خاتمہ ہو گیا۔ اس وقت کے مقامی حکمران رانا ارجن سنگھ نے پاکستان کے ساتھ الحاق کا فیصلہ کیا اور عمرکوٹ صوبہ سندھ کا حصہ بن گیا۔

    معصوم تھری کے مطابق 1965 کی جنگ کے دوران انڈین فوج نے عمرکوٹ اور تھرپارکر کے کافی علاقوں پر قبضہ کر لیا تھا، جس میں سے بیشتر علاقے تاشقند معاہدے کے بعد واپس پاکستان کو مل گئے تھے، مگر ان میں سے کچھ علاقے پھر بھی انڈیا کے پاس رہ گئے۔

    بعد کے برسوں میں سوڈھا خاندان کی شخصیات پاکستان کی سیاست میں بھی سرگرم رہیں۔ رانا چندر سنگھ پاکستان پیپلز پارٹی کے بانی اراکین میں شامل تھے اور کئی بار قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے۔ موجودہ سندھ اسمبلی کے رکن رانا ہمیر سنگھ اور وزیراعلیٰ سندھ کے اسپیشل اسسٹنٹ برائے انسانی حقوق رجویر سنگھ سوڈھا بھی اسی خاندان سے تعلق رکھتے ہیں۔

    آج کا عمرکوٹ سندھ کے اہم تاریخی شہروں میں شمار ہوتا ہے۔ یہاں موجود قدیم قلعہ، صحرائی ثقافت، ہندو راجپوت روایات اور مغل تاریخ کے آثار ملکی و غیر ملکی سیاحوں کو اپنی جانب متوجہ کرتے ہیں۔ اگرچہ وقت کے ساتھ اس شہر کا نام امرکوٹ سے عمرکوٹ ہو گیا، لیکن اس کی تاریخی شناخت آج بھی اپنے شاندار ماضی کی گواہی دیتی ہے۔

  • سرمد سندھی: سندھ کی آواز جو آج بھی گونجتی ہے

    سرمد سندھی: سندھ کی آواز جو آج بھی گونجتی ہے

    27 دسمبر کی تاریخ سندھ میں ایک اہم اور دردناک دن کے طور پر یاد کی جاتی ہے۔ اسی دن 2007 میں راولپنڈی میں سابق وزیرِ اعظم بینظیر بھٹو کو شہید کیا گیا تھا۔ لیکن یہ تاریخ صرف ایک سیاسی سانحے تک محدود نہیں، بلکہ سندھ کے ایک عظیم گلوکار سرمد سندھی کی یاد بھی اسی دن تازہ ہوتی ہے، جنہوں نے اپنی آواز سے لاکھوں دلوں کو چھوا۔

    سرمد سندھی، جن کا اصل نام عبدالرحمان مغل تھا، 7 مئی 1958 کو ضلع خیرپور میرس کے شہر پریالو میں پیدا ہوئے۔ وہ ایک متوسط اور مذہبی گھرانے سے تعلق رکھتے تھے، جہاں موسیقی کو زیادہ پسند نہیں کیا جاتا تھا۔ اس کے باوجود، سرمد کے اندر فن کی ایک چمک موجود تھی جو وقت کے ساتھ نمایاں ہوتی گئی۔

    انہوں نے اپنی ابتدائی تعلیم پریالو میں حاصل کی اور بعد میں گورنمنٹ کالج آف ٹیکنالوجی خیرپور سے سول ٹیکنالوجی میں ڈپلومہ کیا۔ عملی زندگی میں انہوں نے ایک سب انجینئر کے طور پر کام شروع کیا اور کراچی ڈیولپمنٹ اتھارٹی اور بعد ازاں کراچی بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی میں خدمات انجام دیں۔ وہ زندگی کے آخری دن تک اس شعبے سے وابستہ رہے، لیکن ان کی اصل پہچان موسیقی ہی بنی۔

    سرمد سندھی نے گانے کا آغاز اپنے کالج کے زمانے سے ہی کیا۔ وہ دوستوں کی محفلوں میں گاتے اور جلد ہی اپنی سریلی آواز کی وجہ سے پہچانے جانے لگے۔ کالج کے پروگراموں میں جب وہ قومی گیت گاتے تو ماحول پر ایک خاص کیفیت طاری ہو جاتی تھی۔ آہستہ آہستہ ان کی آواز چھوٹی محفلوں سے نکل کر بڑے اسٹیج تک پہنچ گئی۔

    ان کی زندگی کا ایک اہم موڑ اس وقت آیا جب معروف شاعر اور براڈکاسٹر کوثر برڑو نے انہیں دریافت کیا اور ریڈیو پاکستان پر گانے کا موقع دیا۔ بعد میں سمیع بلوچ نے انہیں پاکستان ٹیلی ویژن پر متعارف کروایا۔ یہی وہ پلیٹ فارم تھے جہاں سے ان کی شہرت پورے ملک میں پھیل گئی۔

    سرمد سندھی نے نہ صرف سندھی بلکہ اردو اور سرائیکی زبان میں بھی گایا، جس سے ان کی مقبولیت مزید بڑھ گئی۔ ان کے گیتوں میں سادگی، درد اور سچائی کا عنصر نمایاں تھا، جس کی وجہ سے ہر طبقے کے لوگ ان سے جڑ گئے۔ وہ پڑھے لکھے افراد سے لے کر کسانوں اور مزدوروں تک سب کے دلوں کی آواز بن گئے۔

    ان کے گانے صرف تفریح نہیں تھے بلکہ ایک پیغام بھی رکھتے تھے۔ جنرل ضیاالحق کے دور میں جب سیاسی آزادی محدود تھی، سرمد سندھی نے اپنے فن کے ذریعے مزاحمت کا راستہ اختیار کیا۔ انہوں نے تحریک برائے بحالی جمہوریت (ایم آر ڈی) کی حمایت میں گیت گائے اور عوام کو آمریت کے خلاف بیدار کیا۔

    ان کے انقلابی گیت سندھ کے دیہات تک پہنچے۔ کسان رات کے وقت کھیتوں میں کام کرتے ہوئے ان کے گانے سنتے اور ان سے حوصلہ حاصل کرتے تھے۔ ان کی آواز نے سندھ میں ایک نئی سوچ اور جذبہ پیدا کیا۔ سرمد سندھی نے کئی عظیم سندھی شاعروں کا کلام گایا، جن میں شیخ ایاز، استاد بخاری، زاہد شیخ اور دیگر شامل ہیں۔ انہوں نے شاعری کو اپنی آواز کے ذریعے عام لوگوں تک پہنچایا اور ادب کو نئی زندگی دی۔

    ان کا اندازِ گائیکی منفرد تھا۔ وہ فلمی طرز پر نہیں گاتے تھے بلکہ اپنی دھنیں خود ترتیب دیتے تھے۔ وہ ہمیشہ کوشش کرتے کہ سندھی موسیقی میں نیا رنگ اور جدت پیدا کریں۔ ان کے گیتوں کا مرکز معاشرتی مسائل، دھرتی سے محبت اور انسانی احساسات تھے۔

    سرمد سندھی کو کئی اعزازات سے نوازا گیا۔ انہیں ’سندھ جو بیجل‘ اور ’راگ کا راجا‘ جیسے خطابات دیے گئے۔ ان کی سادگی اور خلوص کا اندازہ اس بات سے ہوتا ہے کہ وہ قومی پروگراموں میں بغیر کسی معاوضے کے شرکت کرتے تھے۔ اگر انہیں دعوت نہ بھی ملتی تو وہ خود ہی شریک ہو جاتے تھے، کیونکہ وہ اسے اپنا فرض سمجھتے تھے۔

    ان کی زندگی میں ایک حادثہ بھی آیا جس میں ان کی ٹانگ متاثر ہوئی اور انہیں لوہے کی راڈ لگوانی پڑی، لیکن اس کے باوجود انہوں نے گانا نہیں چھوڑا۔ وہ اپنے فن سے جڑے رہے اور لوگوں کے دلوں کو گرماتے رہے۔

    آخرکار 27 دسمبر 1996 کو بدین سے کراچی واپسی کے دوران ٹھٹہ کے قریب ایک سڑک حادثے میں وہ شدید زخمی ہوگئے۔ انہیں کراچی لے جایا جا رہا تھا، لیکن وہ راستے میں ہی انتقال کر گئے۔ اس وقت ان کی عمر صرف 35 سال تھی۔ ان کی موت نے سندھ کو ایک عظیم فنکار سے محروم کر دیا۔

    ان کا آخری آڈیو البم ’ماروئڑا شہزور‘ تھا، جس میں کئی معروف شاعروں کا کلام شامل تھا۔ ان کی وفات پر شیخ ایاز نے کہا کہ سرمد کی آواز آج بھی فضا میں گونجتی محسوس ہوتی ہے، جو ان کے فن کی عظمت کا ثبوت ہے۔
    سرمد سندھی کی ذاتی زندگی بھی جذباتی پہلو رکھتی ہے۔ انہیں بیٹے کی خواہش تھی، اور ان کی وفات کے صرف تین دن بعد ان کے ہاں بیٹے کی پیدائش ہوئی، جس کا نام عزیزالرحمان رکھا گیا۔ آج ان کے خاندان میں ان کے بچے اور بھائی احمد مغل ان کی یاد کو زندہ رکھے ہوئے ہیں۔

    سرمد سندھی آج بھی سندھ کے لوگوں کے دلوں میں زندہ ہیں۔ ان کے گیت، ان کی آواز اور ان کا پیغام وقت گزرنے کے ساتھ مزید مضبوط ہوتا جا رہا ہے۔ وہ صرف ایک گلوکار نہیں تھے بلکہ ایک آواز تھے، جو سندھ کی پہچان بن گئی۔

    سرمد سندھی کی وفات کے بعد ان کے بھائی احمد مغل نے ان کے انداز میں گانا شروع کیا۔ ان کی آواز بھی اپنے مرحوم بھائی سے کافی ملتی ہے، مگر میوزک کے شوقین سرمد کی آواز کو لافانی قرار دیتے ہیں، جو آج بھی سندھیوں کے دلوں پر راج کر رہی ہے۔

  • اعلی سرکاری عہدوں پر دیہی سندھ کے افسران کی اکثریت کیوں ہوتی ہے؟

    اعلی سرکاری عہدوں پر دیہی سندھ کے افسران کی اکثریت کیوں ہوتی ہے؟

    پاکستان کے قیام کے ساتھ ہی ریاست کو ایک بڑے انتظامی چیلنج کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ 1947 میں نہ صرف سیاسی ڈھانچہ تشکیل دینا تھا بلکہ ایک مؤثر بیوروکریسی بھی قائم کرنا ضروری تھی۔ اس نازک مرحلے پر ہجرت کرکے آنے والے اردو اسپیکنگ مہاجرین، خاص طور پر تعلیم یافتہ طبقہ، ریاستی نظام کو سنبھالنے میں مرکزی کردار ادا کرتے ہوئے نظر آئے۔

    سرکاری اداروں، دفتروں اور پالیسی سازی کے مراکز میں ان کی موجودگی نے ابتدائی انتظامی بحران کو سنبھالنے میں مدد دی۔

    وقت کے ساتھ حالات بدلے، مگر ایک نیا سوال ابھر کر سامنے آیا ہے کہ کیا آج شہری سندھ کے تعلیم یافتہ نوجوان اعلیٰ سرکاری عہدوں سے دور ہوتے جا رہے ہیں۔ حال ہی میں فیڈرل پبلک سروس کمیشن کی جانب سے سی ایس ایس 2025 کے نتائج نے اس بحث کو مزید تقویت دی ہے۔

    ملک بھر سے 12,792 امیدواروں نے امتحان دیا، مگر صرف 355 تحریری مرحلہ عبور کر سکے، یوں کامیابی کی شرح محض 2.67 فیصد رہی۔ بعد ازاں 170 امیدواروں کو تقرری کے لیے منتخب کیا گیا جن میں مرد اور خواتین تقریباً برابر تعداد میں شامل ہیں۔

    ان نتائج کا ایک اہم پہلو سندھ کے شہری اور دیہی علاقوں کے درمیان فرق کو ظاہر کرتا ہے۔ دیہی سندھ سے 25 امیدوار کامیاب ہوئے، جن میں سے 22 کو مختص نشستوں پر ایلوکیشن ملی، جبکہ 3 امیدوار نشستوں کی کمی کے باعث شامل نہ ہو سکے۔ اس کے برعکس شہری سندھ، جس میں کراچی، حیدرآباد اور سکھر شامل ہیں، وہاں سے صرف 5 امیدوار کامیاب ہوئے، حالانکہ ان کے لیے مختص نشستوں کی تعداد اس سے کہیں زیادہ تھی۔

    اس کا مطلب یہ ہے کہ شہری سندھ کے امیدوار اپنی دستیاب نشستیں بھی مکمل طور پر حاصل نہیں کر پا رہے۔

    ماہرین اس صورتحال کو ایک نئے قسم کے انتظامی بحران سے تعبیر کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق یہ مسئلہ محض نتائج تک محدود نہیں بلکہ ایک بڑے رجحان کی نشاندہی کرتا ہے، جہاں شہری سندھ کے نوجوان مقابلے کے امتحانات سے دور ہوتے جا رہے ہیں۔

    اس کی وجوہات میں تعلیمی معیار میں کمی، سرکاری ملازمتوں کے حوالے سے غیر یقینی صورتحال، اور مواقع کے بارے میں مایوسی جیسے عوامل شامل کیے جا رہے ہیں۔

    کچھ تجزیہ کار یہ بھی کہتے ہیں کہ سرکاری ملازمت نہ ملنے کا شکوہ اپنی جگہ درست ہو سکتا ہے، مگر مقابلے کے میدان سے باہر رہ کر مکمل نظام کو مورد الزام ٹھہرانا بھی ایک یکطرفہ رویہ ہے۔ ان کے نزدیک اصل مسئلہ تیاری، سمت اور حوصلے کی کمی ہے، جس پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔

    یہ صورتحال اس بات کی متقاضی ہے کہ پالیسی سطح پر اصلاحات کی جائیں، تعلیمی نظام کو مضبوط کیا جائے، اور میرٹ اور نمائندگی کے درمیان ایسا توازن قائم کیا جائے جو نہ صرف انصاف پر مبنی ہو بلکہ نوجوانوں کو آگے بڑھنے کا اعتماد بھی دے سکے۔

    اگر یہ خلا برقرار رہا تو مستقبل میں انتظامی ڈھانچہ ایک بار پھر اسی بحران کا شکار ہو سکتا ہے، جسے پاکستان نے اپنے قیام کے وقت بڑی مشکل سے سنبھالا تھا۔