یہ جنرل یحییٰ خان کے مارشل لا کا دور تھا۔ 1970 میں سندھ کی تاریخ میں پہلی مرتبہ چار سندھی نوجوان خواتین کو ون یونٹ کے خلاف احتجاج اور ووٹر فہرستیں سندھی زبان میں شائع کرنے کے مطالبے پر حیدرآباد میں بھوک ہڑتال شروع کرنے کے جرم میں گرفتار کیا گیا۔ بعد ازاں ملٹری کورٹ نے انہیں سزائیں سنائیں اور مختلف جیلوں میں بھیج دیا۔
پاکستان اپنے قیام کے وقت مختلف قومیتوں کے درمیان برابری اور باہمی احترام کی بنیاد پر قائم ہوا تھا، لیکن قیام کے بعد ملک کو مسلسل طاقت، دباؤ، دھاندلی، جوڑ توڑ، نظریہ ضرورت اور مرکزیت پسند سوچ کے تحت چلایا گیا۔ اشرافیہ کو صوبوں کو حاصل محدود خودمختاری بھی گوارا نہ تھی۔
چنانچہ 22 نومبر 1954 کو اس وقت کے وزیراعظم محمد علی بوگرہ نے ون یونٹ کے قیام کا اعلان کیا تاکہ صوبوں کو ختم کر کے ملک کو ایک ہی انتظامی اکائی کے طور پر چلایا جا سکے۔ بعد ازاں 5 اکتوبر 1955 کو گورنر جنرل اسکندر مرزا نے اسے باضابطہ نافذ کر دیا۔
سندھ اسمبلی کے چند ارکان کے سوا اکثر ارکان نے اس سندھ دشمن فیصلے کی حمایت کرتے ہوئے ون یونٹ کے حق میں قرارداد منظور کر لی۔ اس فیصلے نے ملک کی اخوت اور بھائی چارے کی فضا کو شدید متاثر کیا۔ بالخصوص چھوٹے صوبوں نے اسے اپنے حقوق پر ضرب قرار دیا۔
اگرچہ سندھ میں ون یونٹ کے خلاف شدید نفرت موجود تھی، لیکن ابتدا میں کوئی مضبوط عوامی تحریک سامنے نہ آ سکی۔ 4 مارچ 1967 کو سندھ یونیورسٹی جامشورو کے طلبہ کا احتجاج بظاہر وائس چانسلر حسن علی عبدالرحمن کی بحالی اور حیدرآباد کے کمشنر مسرور احسن کی برطرفی کے لیے تھا، لیکن پولیس تشدد اور گرفتاریوں نے پورے سندھ میں احتجاج کی لہر دوڑا دی۔
اس تحریک کی قیادت حیدرآباد اسٹوڈنٹس فیڈریشن کے پلیٹ فارم سے یوسف لغاری، جام ساقی، یوسف ٹالپر، مسعود نورانی، اعجاز قریشی، شکور داؤدپوٹو، میر تھیبو، کامل راجپر، اقبال ترین اور دیگر رہنما کر رہے تھے۔ تحریک اتنی مضبوط ہوئی کہ سائیں جی ایم سید، مخدوم طالب المولیٰ، کامریڈ حیدر بخش جتوئی، رسول بخش پلیجو اور دیگر سیاسی رہنما بھی اس کی حمایت میں آگے آئے۔ ذوالفقار علی بھٹو نے بھی کچھ عرصہ اینٹی ون یونٹ جلسوں میں شرکت کی، مگر بعد میں الگ ہو کر اپنی سیاسی جماعت قائم کر لی۔
طلبہ ہی اس تحریک کی اصل قوت بنے۔ بعد میں 1970 میں ‘زمینوں کی نیلامی بند کرو’ اور ‘ووٹر فہرستیں سندھی زبان میں شائع کرو’ کی تحریک شروع ہوئی۔ گرفتاری دینے کا فیصلہ کیا گیا تو چار سندھی نوجوان خواتین نے حیدرآباد میں اپنی گرفتاریاں پیش کیں۔ جنرل یحییٰ خان کی ملٹری کورٹ نے انہیں سزائیں سنائیں اور مختلف جیلوں میں منتقل کر دیا۔
ان چار بہادر خواتین کا مختصر تعارف درج ذیل ہے۔
اختر بلوچ
اختر بلوچ، معروف انقلابی اور لوک گلوکارہ جیجی زرینہ بلوچ کی صاحبزادی تھیں۔ جب انہوں نے گرفتاری دی تو ان کی عمر صرف انیس برس تھی۔ ملٹری کورٹ نے انہیں سزا سنائی۔ بعد میں انہوں نے جیل کی زندگی پر سندھ کی پہلی خاتون قیدی کی یادداشت ‘قیدیانی کی ڈائری’ تحریر کی، جو ایک اہم تاریخی دستاویز سمجھی جاتی ہے۔ 1972 میں ان کی شادی رسول بخش پلیجو کے چھوٹے بھائی غلام قادر پلیجو سے ہوئی۔ سابق سینیٹر سسئی پلیجو ان کی صاحبزادی ہیں۔
ریاض میمن
ریاض میمن کو ملٹری کورٹ نے سزا دے کر پشاور سینٹرل جیل بھیج دیا۔ رہائی کے بعد ان کی شادی مسعود نورانی سے ہوئی، جو سندھ کی طلبہ تحریک اور 4 مارچ 1967 کے تاریخی واقعے کے اہم رہنماؤں میں شمار ہوتے ہیں۔ مسعود نورانی بعد میں سندھ کے ایڈووکیٹ جنرل بھی رہے۔ ان کی صاحبزادی ایاز لطیف پلیجو کی شریک حیات ہیں۔
نسیم سندھی
نسیم سندھی کا اصل نام نسیم ببر تھا۔ گرفتاری کے وقت ان کی عمر صرف سولہ برس تھی۔ ملٹری کورٹ نے انہیں ایک سال قید کی سزا سنائی۔ وہ حیدرآباد اور سکھر سینٹرل جیلوں میں قید رہیں۔ بعد میں ان کی شادی قومی کارکن یوسف خاصخیلی سے ہوئی، جو ‘پناہ جگر خاصخیلی’ کے نام سے معروف ہوئے۔
نسیم ببر ‘نسیم سندھی’ کے نام سے شہرت پائیں۔ وہ ابتدا میں ہیرآباد، حیدرآباد میں مقیم رہیں۔ شوہر کے انتقال کے بعد ان کی طبیعت ناساز رہنے لگی، جس کے باعث وہ اکثر کراچی میں اپنی صاحبزادی کونج خاصخیلی کے پاس رہتی تھیں۔ 27 ستمبر 2020 کو ان کا انتقال ہوگیا۔
شمیم بہرانی
گرفتاری دینے والی چوتھی نوجوان خاتون شمیم بہرانی تھیں۔ انہیں بھی ملٹری کورٹ نے سزا سنائی اور سکھر سینٹرل جیل بھیج دیا۔ اس وقت ان کی عمر بھی تقریباً سولہ سے بائیس برس کے درمیان تھی۔
ان چاروں نوجوان خواتین نے اپنی سزا کے خلاف رحم کی کوئی اپیل نہیں کی اور اپنی جرات، استقامت اور قومی شعور سے سندھ کی تاریخ میں ایک نئی مثال قائم کی۔
ان خواتین کی گرفتاری کے بعد طلبہ، ادیبوں اور دانشوروں نے بڑے پیمانے پر بھوک ہڑتالیں کیں اور تاریخی احتجاجی جلوس نکالے۔ اس مشترکہ جدوجہد میں سندھ کے مختلف طبقات ایک آواز بن گئے اور بالآخر حکومت کو ون یونٹ کے خاتمے کا اعلان کرنا پڑا۔
سندھ کی تاریخ، زراعت، آبپاشی، آثار قدیمہ اور ماحولیات کے شعبوں میں اگر کسی ایک شخصیت نے غیر معمولی خدمات انجام دیں تو ان میں محمد حسین پنہور، جنہیں عام طور پر ایم ایچ پنہور کے نام سے جانا جاتا ہے، نمایاں مقام رکھتے ہیں۔ وہ ایک ایسے محقق تھے جنہوں نے اپنی پوری زندگی سندھ کی تاریخ، ثقافت، جغرافیہ، زراعت اور آبی وسائل کے مطالعے کے لیے وقف کر دی۔
ان کی علمی خدمات کا دائرہ اتنا وسیع ہے کہ انہیں ‘ون مین سندھالوجسٹ’ یعنی اکیلا سندھ شناس بھی کہا جاتا ہے۔
ایم ایچ پنہور 25 دسمبر 1925 کو ضلع دادو کے گاؤں ابراہیم پنہور میں پیدا ہوئے۔ ان کا تعلق ایک کسان گھرانے سے تھا۔ ابتدائی تعلیم اپنے آبائی علاقے میں حاصل کی جبکہ میٹرک کی تعلیم میہڑ سے مکمل کی۔ تعلیم کے حصول کا شوق بچپن ہی سے ان کی شخصیت کا نمایاں پہلو تھا۔
انہوں نے 1949 میں این ای ڈی انجینئرنگ کالج کراچی (جو کہ بعد میں یونیورسٹی بنا) سے مکینیکل اور الیکٹریکل انجینئرنگ میں بی ایس کی ڈگری حاصل کی اور نمایاں کامیابی کے باعث طلائی تمغہ بھی حاصل کیا۔ بعد ازاں حکومت سندھ کی جانب سے وظیفہ ملنے پر امریکہ کی یونیورسٹی آف وسکونسن سے زرعی انجینئرنگ میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کی۔
اعلیٰ تعلیم مکمل کرنے کے بعد انہوں نے 1953 میں محکمہ زراعت سندھ میں بطور زرعی انجینئر اپنی عملی زندگی کا آغاز کیا۔ اس دور میں سندھ زراعت کے میدان میں کئی چیلنجز سے دوچار تھا۔ آبپاشی، زیر زمین پانی، سیم و تھور اور زرعی مشینری کے مسائل کسانوں کے لیے بڑی مشکلات کا باعث تھے۔ ایم ایچ پنہور نے ان مسائل کے حل کے لیے بھرپور کام کیا اور جلد ہی ایک ماہر انجینئر کے طور پر پہچان حاصل کر لی۔
انہوں نے حکومت سندھ اور بعد ازاں مغربی پاکستان کی حکومت میں مختلف اہم عہدوں پر خدمات انجام دیں۔ 1958 سے 1969 تک وہ سندھ اور بلوچستان کے سپرنٹنڈنگ انجینئر رہے۔ اس عرصے میں انہوں نے زرعی زمینوں کی ہمواری کے لیے سینکڑوں بلڈوزروں کے استعمال کی نگرانی کی، متعدد ورکشاپس قائم کیں، ہزاروں ٹیوب ویل نصب کرائے اور زرعی مشینری کے استعمال کو فروغ دیا۔ ان کی کوششوں سے سندھ میں زیر زمین پانی کے استعمال اور زرعی پیداوار میں نمایاں بہتری آئی۔
ایم ایچ پنہور کو زیر زمین پانی اور آبپاشی کے نظام پر غیر معمولی مہارت حاصل تھی۔ انہوں نے سندھ اور بلوچستان کے آبی وسائل کا تفصیلی سروے کیا اور اس موضوع پر متعدد تحقیقی کتابیں لکھیں۔ ان کی تحقیق نے ماہرین کو یہ سمجھنے میں مدد دی کہ سندھ میں پانی کے ذخائر کس طرح استعمال کیے جا سکتے ہیں اور سیم و تھور کے مسائل پر کس طرح قابو پایا جا سکتا ہے۔
انہوں نے سندھ میں زیر زمین پانی کے موضوع پر 10 کتابیں تحریر کیں، جبکہ تھر اور کوہستان کے صحرائی علاقوں اور انجینئرنگ سے متعلق متعدد تحقیقی مضامین بھی لکھے۔
انہوں نے اپنی اہلیہ فرزانہ پنہور کے ساتھ مل کر بھی تحقیق میں حصہ لیا۔ فرزانہ خود بھی ایک ممتاز سائنس دان، محقق اور زرعی ماہر تھیں۔ انہوں نے زراعت، غذائی سائنس، حیاتی کیمیا اور ماحولیات کے شعبوں میں سو سے زائد تحقیقی مضامین تحریر کیے اور اپنی علمی خدمات کے باعث کئی بین الاقوامی اعزازات حاصل کیے۔
میاں بیوی نے مل کر زراعت اور باغبانی کے مختلف موضوعات پر تحقیق کی اور متعدد مشترکہ مقالات شائع کیے۔ ان کی مشترکہ تحقیق میں پھلوں کی پائیدار کاشت، سندھ میں جھینگا فارمنگ کے امکانات، سمندری پودوں سے خوردنی تیل کی پیداوار، نامیاتی کھاد، زرعی ماحولیات اور پھلوں کی پیداوار میں بہتری جیسے موضوعات شامل تھے۔
فرزانہ پنہور نے ایم ایچ پنہور کے تحقیقی کام میں نہ صرف بھرپور علمی معاونت فراہم کی بلکہ ان کے باغبانی فارم اور تحقیقی منصوبوں میں بھی اہم کردار ادا کیا۔ دونوں نے مل کر سندھ میں سائنسی تحقیق، جدید زراعت اور باغبانی کے فروغ کے لیے گراں قدر خدمات انجام دیں، جن کے اثرات آج بھی زرعی شعبے میں محسوس کیے جاتے ہیں۔
ایم ایچ پنہور 21 اپریل 2007 کو اس دنیا سے رخصت ہو گئے، لیکن ان کی علمی میراث آج بھی زندہ ہے۔ سندھ کی تاریخ پر تحقیق کرنے والا شاید ہی کوئی طالب علم ہوگا جو ان کی کتابوں سے واقف نہ ہو۔ ان کی تحریریں آج بھی جامعات، تحقیقی اداروں اور علمی حلقوں میں حوالہ سمجھی جاتی ہیں۔
ان کے چار بیٹے ہیں۔ رفیع حسین (جو 2004 میں انتقال کر گئے)، طارق حسین، سنی حسین اور محمد علی۔ دو بیٹے، سنی اور طارق، امریکہ میں مقیم ہیں۔ ان کے چاروں بیٹے پہلی اہلیہ سے تھے، جن کا انتقال 1999 میں ہوا، جبکہ ان کی دوسری اہلیہ فرزانہ، جو حیاتی کیمیا (بایو کیمسٹری) کی ماہر تھیں، 2020 میں وفات پا گئیں۔
پھلوں کی نئی اقسام متعارف
1964 میں ایم ایچ پنہور نے پھلوں کی کاشت کے لیے ٹنڈو جام سے تین کلومیٹر دور 109 ایکڑ پر پھیلا ایک باغبانی فارم قائم کیا، جو بعد ازاں 1985 میں ایک تحقیقی مرکز میں تبدیل کر دیا گیا، جہاں سندھ کے موسم کے مطابق پھلوں کی نئی اقسام متعارف کرانے پر کام کیا گیا۔
انہوں نے امریکہ، برازیل، یورپ اور آسٹریلیا سے نئی اقسام منگوائیں اور ان کی آزمائش کی۔ ان تجربات کے نتیجے میں پھلوں کی کئی نئی اور بہتر اقسام متعارف ہوئیں، جن میں لیچی بھی شامل ہے، جو اس سے پہلے سندھ میں زیادہ معروف نہیں تھی۔
انہوں نے آم کی کئی غیر ملکی اقسام بھی متعارف کروائیں اور اپنے فارم پر چالیس سے زائد اقسام کے آم اگائے۔ انہوں نے لو شگر ویرائٹی ‘کیٹ’ (Keitt) متعارف کرائی، جس میں صرف 4 سے 6 فیصد شگر ہوتی ہے اور ذیابیطس کے مریض بھی اس کو استعمال کر سکتے ہیں۔ ایم ایچ پنہور کے بیٹے سنی پنہور کے مطابق یہ ویرائٹی بیرون ملک بھی ایکسپورٹ کی جاتی ہے۔
آم کے علاوہ انہوں نے آڑو، آلوچہ، سیب، ناشپاتی، انگور، انجیر، انار، جاپانی پھل، بیری، بادام اور پیکان جیسے پھلوں کی ایسی اقسام پر تحقیق کی جو سندھ کے گرم موسم میں کامیابی سے اگائی جا سکیں۔ انہوں نے کٹھل، پپیتا، گریپ فروٹ، لیموں اور کیلے کی بہتر اقسام کو بھی فروغ دیا۔
سندھ کی زراعت میں انقلابی اصلاحات
ایم ایچ پنہور نے زراعت، آبپاشی، باغبانی، تاریخ، آثار قدیمہ اور سندھ شناسی پر 40 سے زائد کتابیں تحریر کیں۔ ان کی معروف کتابوں میں ‘کرونولوجیکل ڈکشنری آف سندھ’، ‘سورس میٹریل آن سندھ’، ‘سندھ شناسی’ اور ‘سندھ میں آبپاشی کی چھ ہزار سالہ تاریخ’ شامل ہیں۔ ان کتابوں کو آج بھی محققین اور طلبہ بطور حوالہ استعمال کرتے ہیں۔
انہوں نے ماحولیات اور قدرتی وسائل کے تحفظ پر بھی توجہ دی۔ ان کا خیال تھا کہ سندھ کی ترقی کا انحصار پانی، زمین اور ماحول کے دانشمندانہ استعمال پر ہے۔ انہوں نے بارہا خبردار کیا کہ اگر آبی وسائل کو درست انداز میں استعمال نہ کیا گیا تو مستقبل میں سنگین مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔ آج جب سندھ میں پانی کی قلت ایک بڑا مسئلہ بن چکی ہے تو ان کی کئی باتیں حقیقت بنتی دکھائی دیتی ہیں۔
انہوں نے ‘سندھ میں آبپاشی کی 6000 سالہ تاریخ’ کے نام سے لکھی گئی اپنی کتاب میں دریائے سندھ کے بہاؤ اور اس کی زراعت میں اہمیت پر کھل کر لکھا ہے۔
وہ لکھتے ہیں کہ سندھ کی تاریخ دراصل دریائے سندھ کی پیداوار کی تاریخ اور اس کے بہاؤ میں آنے والی تبدیلیوں کی تاریخ ہے۔ دریائے سندھ کے راستے بدلنے سے اکثر قحط، بھوک، اموات اور حکمران خاندانوں کی تبدیلیاں رونما ہوتی رہی ہیں۔ سندھ کی تقریباً اسی فیصد آبادی دریائے سندھ کے میدانوں میں آباد رہی ہے۔
وہ لکھتے ہیں کہ سندھ جیسے خطے میں زرعی پیداوار کو سمجھنے کے لیے آبپاشی کے نظام کو سمجھنا بھی بہت ضروری ہے۔ 1850 تک آبپاشی کا نظام بہت ابتدائی نوعیت کا تھا اور دریائے سندھ کے بہاؤ کے بارے میں بھی مکمل معلومات موجود نہیں تھیں۔
دریائے سندھ بہتے ہوئے اپنے ساتھ بڑی مقدار میں سلٹ (مٹی) لاتا ہے۔ سیلاب کے موسم میں پانی کے ہر ہزار حصوں میں تقریباً چھ حصے سلٹ شامل ہوتی ہے۔ یہ عمل کئی دہائیوں تک جاری رہتا ہے، جس کی وجہ سے سلٹ کے پہاڑ نما ٹیلے دریا کے دونوں کناروں پر بنتے رہتے ہیں، جس کی وجہ سے دریا اپنے بہاؤ کو تبدیل کرتا رہا ہے۔
ایم ایچ پنہور لکھتے ہیں کہ قدیم زمانے سے لے کر کلہوڑا اور تالپور حکمرانوں تک دریائے سندھ کے بعض پرانے بہاؤ کو نہروں کے طور پر استعمال کیا جاتا رہا۔ جب بھی سیلاب آتا تھا، ان نہروں کے ذریعے پانی دور دراز علاقوں تک پہنچتا تھا۔
1932 میں سکھر بیراج کی نہروں کی منصوبہ بندی بھی انہی قدیم راستوں کو مدنظر رکھ کر کی گئی۔ بعد میں گڈو اور کوٹری بیراج کی نہروں کے لیے بھی انہی قدیم راستوں سے فائدہ اٹھایا گیا۔
سکھر بیراج بننے سے سندھ کی زراعت میں انقلاب برپا ہو گیا۔ بیراج سے نکلنے والے کینالوں نے سندھ کے میدانی علاقے کے تقریباً ساٹھ فیصد حصے کو سیراب کرنا شروع کیا۔ اگلے تیس برسوں میں مزید دو بیراج، گڈو اور کوٹری کے مقام پر تعمیر کیے گئے۔ ان بیراجوں کی تعمیر سے پہلے بہت سی نہروں کے پرانے دہانے آج بھی حفاظتی بندوں کے اندر موجود ہیں اور ماہرین آثار قدیمہ کے لیے خاص دلچسپی کا باعث ہیں۔
بعض پرانی نہریں نئی نہروں میں شامل تو ہو گئیں، لیکن ان کے کچھ حصے آج بھی موجود ہیں۔ اگرچہ ان نہروں کے کناروں پر آباد بہت سی بستیاں اب ختم ہو چکی ہیں اور ان نہروں کی زمینیں دوبارہ کاشت کے لیے استعمال ہونے لگی ہیں، مگر سندھ میں شدید بارشوں کے بعد یہ قدرتی دریائی راستے ظاہر ہو جاتے ہیں اور وہ ایک لمبی جھیل کا منظر پیش کرنے لگتے ہیں۔ مقامی طور پر ان راستوں کو واہڑ اور ڈھورا کہا جاتا ہے، جو کئی علاقوں میں اب بھی موجود ہیں۔
پنہور کے مطابق جب بھی دریائے سندھ اپنا راستہ بدلتا تھا تو متاثرہ علاقوں کا آبپاشی نظام مکمل طور پر تباہ ہو جاتا تھا، جس کے نتیجے میں لوگوں کی ہجرت، بدامنی، بیماریوں، قحط، بھوک اور اموات میں اضافہ ہوتا اور آبادی کم ہو جاتی تھی۔
گزشتہ پانچ ہزار سال کی سندھ کی تاریخ دراصل خوشحالی اور زوال، آبادی میں اضافے اور کمی، حکمران خاندانوں کی تبدیلی، تہذیبوں کے عروج و زوال اور شہروں و بستیوں کے ویران ہونے کی تاریخ ہے۔
سندھ میں کلہوڑا خاندان نے اپنے دارالحکومت کئی مرتبہ تبدیل کیے، جس کی بڑی وجہ دریائے سندھ میں سیلاب اور اس کا سمت تبدیل کرنا ہوتا تھا۔ کلہوڑا دور کی باقیات سندھ کے کئی علاقوں میں اب بھی موجود ہیں، جیسا کہ ضلع دادو میں خیرپور ناتھن شاہ کے قریب میاں نصیر خان کا مقبرہ اور قبرستان، خدا آباد میں میاں یار محمد کلہوڑو کا مقبرہ اور جامع مسجد، ضلع مٹیاری میں ہالا کے قریب خدا آباد میں کلہوڑا قبرستان، اور حیدرآباد میں میاں غلام شاہ کا مقبرہ، پکا قلعہ اور کلہوڑا قبرستان آج بھی قائم ہیں۔
ماضی میں دریا کی سمت میں تبدیلی کی ان تباہیوں کے بعد زمین پر کھنڈرات کے ڈھیر باقی رہ جاتے تھے، جنہیں سندھ میں عام طور پر ‘دڑو’ کہا جاتا ہے، جیسا کہ موہن جو دڑو، کاہو جو دڑو۔ ان دڑوں میں مٹی کے برتنوں کے ٹکڑے، پکی اینٹیں اور دیگر قدیم اشیا بکھری ہوئی ملتی ہیں۔
سندھ میں حفاظتی بند تعمیر ہونے سے پہلے دریائے سندھ ہر بڑے سیلاب کے دوران اپنے کناروں سے نکل کر دور دراز علاقوں تک پھیل جاتا تھا، جس کے نتیجے میں متعدد بستیاں صفحۂ ہستی سے مٹ جاتیں، جبکہ لوگ محفوظ مقامات کی طرف ہجرت کرنے پر مجبور ہو جاتے تھے۔ اسی وجہ سے دادو اور جامشورو اضلاع میں آج بھی کئی قدیم دیہات قدرتی یا مصنوعی مٹی کے اونچے ٹیلوں پر آباد ہیں۔ سیہون کے قریب بوبک، بختیارپور اور آراضی ایسی تاریخی بستیاں ہیں جو آج بھی بلند مقامات پر قائم ہیں اور ماضی کے تباہ کن سیلابوں کی یاد دلاتی ہیں۔
ایم ایچ پنہور کے مطابق دریائے سندھ کے کناروں پر موجود گھنے جنگلات سیلابی پانی کے بہاؤ کو متوازن رکھنے میں اہم کردار ادا کرتے تھے۔ ان کے خیال میں جنگلات سیلابی میدانوں میں پانی کی رفتار کم کر دیتے تھے، جبکہ دریا کے اصل دھارے میں پانی کا بہاؤ نسبتاً تیز رہتا تھا، جس سے دریا کا قدرتی راستہ زیادہ مستحکم رہتا تھا۔
تاہم دریائے سندھ میں پانی کی مسلسل کمی اور حکومتوں کی ماحول دشمن پالیسیوں کے باعث سندھ کے وسیع دریائی جنگلات تقریباً ختم ہو چکے ہیں۔ ماہرین ماحولیات کے مطابق ان جنگلات کی تباہی نے نہ صرف ماحولیاتی توازن کو متاثر کیا بلکہ گرمیوں میں سندھ کے درجہ حرارت میں غیر معمولی اضافے کی ایک بڑی وجہ بھی یہی ماحولیاتی تبدیلی بنی ہے۔
تحقیق اور تاریخ میں دلچسپی
1969 میں ایم ایچ پنہور نے سرکاری ملازمت چھوڑ دی اور نجی مشاورت کا شعبہ اختیار کیا۔ انہوں نے ایک کنسلٹنسی ادارہ قائم کیا جو آبپاشی، نکاسی آب، زراعت، باغبانی اور سائنسی آلات کے شعبوں میں خدمات فراہم کرتا تھا۔ تاہم ان کی اصل پہچان صرف انجینئر نہیں بلکہ ایک تاریخ کے محقق اور دانشور کی تھی۔
سرکاری ملازمت سے فراغت کے بعد انہوں نے اپنی توانائیاں تحقیق اور تصنیف کے لیے وقف کر دیں۔
پنہور کو سندھ کی تاریخ سے غیر معمولی دلچسپی تھی۔ نوجوانی کے زمانے میں انہوں نے سندھ کے معروف مؤرخین کی کتابیں پڑھنا شروع کیں اور پھر عمر بھر اس شعبے سے وابستہ رہے۔ ان کا ماننا تھا کہ سندھ کی تاریخ کو سائنسی بنیادوں پر دوبارہ مرتب کرنے کی ضرورت ہے۔
اسی سوچ کے تحت انہوں نے قدیم دستاویزات، تاریخی حوالوں، آثار قدیمہ، جغرافیہ اور دریائے سندھ کے قدیم راستوں کا تفصیلی مطالعہ کیا۔
انہوں نے سندھ میں اپنی سرکاری ملازمت کے دوران سندھ کے چپے چپے کو چھان مارا اور قدیم آثار اور تاریخ پر مضامین اور کتابیں تحریر کیں۔ ان کے صاحبزادے سنی پنہور کے مطابق تاریخ نویسی کے میدان میں ان کا سب سے بڑا کارنامہ یہ تھا کہ انہوں نے سندھ کی تاریخ کو محض روایتی داستانوں کے بجائے تحقیقی اور سائنسی انداز میں پیش کرنے کی کوشش کی۔
سنی پنہور کہتے ہیں کہ ان کے والد سندھ کی سائنسی تاریخ نویسی کے بانیوں میں شمار ہوتے ہیں۔ انہوں نے قدیم سندھ کی تہذیب، دریائے سندھ کے بہاؤ، قدیم شہروں، قدیم ریاستوں اور مختلف ادوار کے سیاسی و سماجی حالات پر گہری تحقیق کی۔ ان کی تصانیف کی تعداد درجنوں میں ہے۔
اپنی سوانح حیات میں ایم ایچ پنہور لکھتے ہیں کہ ان کی نظر میں تاریخ صرف بادشاہوں، جرنیلوں، جنگوں اور قتل عام کی کہانی نہیں ہوتی بلکہ یہ عام لوگوں کی محنت، پیداوار اور زندگی کی تاریخ ہوتی ہے۔ سندھ کی تاریخ پر اس کے جغرافیے، ارضیات، ماحولیات، آب و ہوا، مٹی، آبپاشی کے پانی، نہروں، زیر زمین پانی، اس کے معیار اور مقدار، دریائے سندھ کے پانی اور اس کے بدلتے ہوئے راستوں کا گہرا اثر رہا ہے۔
اسی طرح زمین کی زرخیزی اور اس کی صلاحیت بھی اہم رہی ہے، جس کے ذریعے خوراک، چارہ، ریشہ، ایندھن، پھل، سبزیاں، لکڑی، صنعتی فصلیں اور مویشی پالے جاتے رہے ہیں۔
ایم ایچ پنہور کی علمی خدمات کے اعتراف میں حکومت پاکستان نے انہیں 1992 میں تمغۂ امتیاز سے نوازا۔ اس کے علاوہ مختلف جامعات، زرعی اداروں اور علمی تنظیموں نے انہیں متعدد اعزازات اور لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈز دیے۔ انہیں پاکستان کے ممتاز ماہر باغبانی، محقق اور سندھ شناس کے طور پر تسلیم کیا گیا۔
ان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ ایک ہی وقت میں انجینئر، مورخ، ماہر آثار قدیمہ، ماہر ماحولیات، زرعی سائنس دان اور مصنف تھے۔ یہ خصوصیت بہت کم شخصیات میں پائی جاتی ہے۔ انہوں نے مختلف علوم کو آپس میں جوڑ کر سندھ کی تاریخ اور ترقی کو سمجھنے کی کوشش کی۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے کام کو آج بھی منفرد حیثیت حاصل ہے۔
سندھ کی تہذیب کے عروج و زوال میں دریا کا کردار
وہ لکھتے ہیں کہ موہن جو دڑو اچانک ختم نہیں ہوا تھا۔ تقریباً 2000 قبل مسیح میں شدید خشک سالی کے باعث بارشوں میں ساٹھ فیصد یا اس سے زیادہ کمی آ گئی، جس کی وجہ سے یہ شاہکار تہذیب بتدریج زوال کا شکار ہوئی۔ دریائے سندھ میں پانی کی مقدار بھی کم ہو گئی۔ دیگر مقامی دریا، جیسا کہ سرسوتی، درشدوتی اور ہاکڑہ کا آبی نظام بھی خشک سالی کی وجہ سے سوکھ گیا۔
مشرقی نارا اسی نظام کا جنوبی حصہ تھا۔ گندم اور جو کی سردیوں کی کاشت میں نمایاں کمی آ گئی۔ لوگوں نے مویشی پالنے کے خانہ بدوش طرز زندگی کو اختیار کرنا شروع کر دیا۔
ان کے مطابق موہن جو دڑو کی مکمل تباہی کے بعد وہ تہذیب ایک نئی شکل میں تبدیل ہوئی جسے ‘جھوکر تہذیب’ کہا جاتا ہے۔ موہن جو دڑو کے شہر کو تقریباً 1650 قبل مسیح میں ترک کر دیا گیا۔ لکھنے کا فن بھی رفتہ رفتہ ختم ہوتا گیا اور تقریباً 300 قبل مسیح تک یہ تقریباً ناپید ہو چکا تھا، جو شدید خشک ماحول کے آغاز کے ساتھ موافق تھا۔
لاڑکانہ شہر سے تقریباً 10 کلومیٹر مغرب کی جانب، گاؤں مٹھو دیرو کے قریب جھوکر جو دڑو واقع ہے۔ اس قدیم آثار کے مقام کو برطانوی دور کے ماہر آثار قدیمہ این جی مجمدار نے 1928 میں دریافت کیا اور یہاں کھدائی کرائی۔ جھوکر جو دڑو سے ہڑپہ تہذیب کے آخری دور، جسے کاپر دور (چالکولیتھک دور) بھی کہا جاتا ہے، کے آثار بھی ملے ہیں۔
قدیم زمانے میں دریائے سندھ کی ایک شاخ اس دڑے کے قریب سے گزرتی تھی اور اسی کے کنارے جھوکر کا قدیم شہر آباد تھا۔ اس کے علاوہ یہاں سے ایک قدیم تجارتی راستہ بھی گزرتا تھا، جو مغرب سے سندھ کی طرف آتا تھا۔
پنہور صاحب کے مطابق جھوکر تہذیب موہن جو دڑو تہذیب کی ایک کمزور اور زوال پذیر شکل تھی۔ اس کے باوجود ماہرین آثار قدیمہ ان دونوں کے درمیان تعلقات کے واضح شواہد دیکھ سکتے ہیں۔ عام لوگ اور حکومتیں اکثر یہ نہیں سمجھتیں کہ خشک سالی پوری قوموں اور تہذیبوں کو تباہ کر سکتی ہے۔ ا
نہوں نے یہ مثال اس لیے دی ہے کہ تاریخ کو سمجھنے کے لیے کئی دوسرے علوم کی بھی ضرورت ہوتی ہے۔ اگر ان علوم کا مطالعہ نہ کیا جائے تو تاریخ کی درست تصویر ہمارے سامنے نہیں آ سکتی اور حقیقت مسخ ہو سکتی ہے۔
پنہور صاحب لکھتے ہیں کہ کلائمیٹ چینج نے وادی سندھ کو صدیوں پہلے سے متاثر کرنا شروع کیا۔ تاریخی حوالوں سے انہوں نے لکھا ہے کہ دریائے سندھ میں پانی کی کمی کے ساتھ ساتھ موسمیاتی تبدیلی نے اس علاقے کی زراعت کو شدید متاثر کیا ہے۔
اپنی انگریزی کتاب ‘سندھ اسٹڈیز’ میں پنہور لکھتے ہیں کہ آب و ہوا نے ہمیشہ انسانی زندگی پر گہرا اثر ڈالا ہے۔ اسی نے یہ طے کیا کہ لوگ کہاں شکار کریں، کہاں رہائش اختیار کریں، کس قسم کا لباس پہنیں اور کن علاقوں میں زراعت کریں۔
تقریباً ساڑھے چار ہزار سال پہلے وادی سندھ کے شہروں میں زیادہ تر مکانات پکی اینٹوں یا پتھر کی بنیادوں پر اینٹوں سے تعمیر کیے جاتے تھے، کیونکہ اس وقت موسم نسبتاً خشک اور گرم تھا۔ گھروں کی دیواریں موٹی ہوتی تھیں اور ان پر مٹی کا پلستر کیا جاتا تھا تاکہ اندرونی حصہ شدید گرمی سے محفوظ رہے۔ اسی وجہ سے گھروں میں کھڑکیاں بھی کم رکھی جاتی تھیں۔
اس دور میں سندھ کے گھروں میں روشندان بھی نہیں بنائے جاتے تھے تاکہ شمال سے آنے والی سرد ہوائیں اندر داخل نہ ہوں۔
بعد ازاں، تقریباً سن 1500 تک سندھ میں گھروں کی تعمیر کا انداز بدل گیا۔ گھروں کے جنوبی رخ پر برآمدے بنائے جانے لگے تاکہ کمروں کو دھوپ سے بچایا جا سکے اور گرمیوں میں جنوب سے آنے والی ٹھنڈی ہواؤں سے فائدہ اٹھایا جا سکے۔ اس زمانے میں گھروں کے جنوب یا مغرب کی جانب کھڑکیاں اور روشندان کم رکھے جاتے تھے تاکہ سردیوں میں شمال سے آنے والی ٹھنڈی ہواؤں سے بچاؤ ممکن ہو۔
جنوبی سندھ میں، خاص طور پر حیدرآباد سمیت مانجھند سے جنوب کے علاقوں میں، کچھ عرصہ پہلے تک ہوا پکڑنے والے خصوصی مینار، جن کو سندھی میں ‘منگھ’ (ونڈ کیچر) کہا جاتا تھا، بنائے جاتے تھے، جو گرمیوں میں جنوب مغرب سے آنے والی ہواؤں کو گھروں کے اندر لے آتے تھے۔ تاہم کراچی میں ایسے ونڈ کیچر عام نہیں تھے، کیونکہ یہاں مستقل بنیادوں پر سمندر اور خشکی سے باری باری ہوائیں چلتی تھیں، اس لیے مغرب کی جانب کھلے مکانات زیادہ موزوں سمجھے جاتے تھے۔
سندھ کی قدیم قوم، موہانا یا سولنگی
ایم ایچ پنہور کے مطابق ماہی گیر یا ماچھی (جن کو سولنگی بھی کہا جاتا ہے) دراصل ماہی گیر ہی ہیں، جو سندھ کی سب سے قدیم قوم ہیں۔ ماہی گیری کا کام کرنے والوں کو سندھ میں کئی ناموں سے پکارا جاتا ہے، جیسا کہ ملاح، موہانا یا میربحر۔
ان کے مطابق غالب امکان ہے کہ یہ موہانا موہن جو دڑو کے زمانے کے ماہی گیر تھے اور بحیرہ عرب کے راستے دلمون (موجودہ بحرین) اور خلیج فارس سے ہوتے ہوئے میسوپوٹیمیا تک سفر کرتے تھے۔ اس زمانے میں سندھ کو ‘میلوہا’ بھی کہا جاتا تھا۔ ممکن ہے کہ یہ نام ‘موہانا’ سے نکلا ہو یا موہانا لفظ بعد میں میلوہا سے بنا ہو۔ دونوں الفاظ کا مطلب ماہی گیر یا کشتی چلانے والے لوگوں سے متعلق ہے۔
وہ یاد کر کے لکھتے ہیں کہ 1970 تک سولنگی یا ماچھی لوگ ہر سال موہن جو دڑو کے سامنے ایک جگہ جمع ہوتے تھے اور ایک پیر کی قبر کے قریب رات بھر گانا، رقص اور بعض روایتی رسومات ادا کرتے تھے۔
پاکستان فشر فوک فورم کے جنرل سیکریٹری اور منچھر جھیل کے ماہی گیروں کے رہنما مصطفیٰ میرانی کے مطابق ماہی گیری سے وابستہ برادریوں کے مختلف نام دراصل ان کی سماجی حیثیت میں تبدیلی کی عکاسی کرتے ہیں۔
ان کے بقول، جب کسی ماہی گیر خاندان کی معاشی اور سماجی حالت بہتر ہوتی تو وہ ‘ماچھی’ کے بجائے ‘سولنگی’ کہلانے لگتا، جبکہ ‘ملاح’ برادری کے بعض خاندان وقت کے ساتھ ‘میرانی’ کے نام سے پہچانے جانے لگے۔ یہ تبدیلی دراصل معاشرے میں زیادہ باوقار شناخت حاصل کرنے کی ایک کوشش تھی۔
موہانا لوگوں کی معیشت دریائے سندھ کے بہاؤ کے استحکام پر منحصر تھی۔ جب دریا اپنا راستہ بدل لیتا تھا تو مال بردار اور مسافر بردار کشتیوں کے مالکان کا کاروبار کئی دہائیوں تک متاثر رہتا تھا، یہاں تک کہ لوگ دریا کے نئے بہاؤ کے کنارے دوبارہ آباد ہو جاتے۔ وہ ماہر ماہی گیر تھے اور ممکن ہے بعض اوقات سمندری قزاقی بھی کرتے ہوں۔
وہ لکھتے ہیں کہ جب بھی دریائے سندھ نے اپنا راستہ بدلا، ماہی گیروں کو معاشی نقصان اٹھانا پڑا کیونکہ نئے راستے کے کناروں پر آبادیاں موجود نہیں ہوتی تھیں اور تجارت و سامان کی نقل و حمل رک جاتی تھی۔ سکندر اعظم کے حملے کے بعد تقریباً سن 700 سے 1758 تک دریائے سندھ میں بڑی تبدیلیاں رونما ہوئیں، جن کے نتیجے میں زیر زمین کاشت رقبہ، آبادی اور تجارت میں نمایاں کمی آئی۔
دریا کے معمولی راستہ تبدیل کرنے کے واقعات بھی سندھ کے تمام لوگوں کو متاثر کرتے تھے، لیکن غالباً موہانا یا سولنگی برادری سب سے زیادہ نقصان اٹھاتی تھی۔
انگریز دور میں ریلوے کی آمد سے پہلے دریائے سندھ کے دونوں کناروں پر متعدد بندرگاہیں، جن کو مقامی طور پر ‘پتن’ کہتے تھے، موجود تھیں۔ ریلوے آنے سے پہلے بھی انڈس اسٹیم بوٹ فلوٹیلا (1843 تا 1878) نے موہانوں کے روایتی کاروبار کو تقریباً 35 سے 40 سال تک متاثر کیا۔ بعد ازاں ریلوے شروع ہونے پر کشتیوں کے ذریعے تجارت دس فیصد سے بھی کم رہ گئی اور بہت سے ماہی گیر بے روزگار ہو گئے۔
سولنگی یا موہانا برادریاں اگرچہ مذہب کے اعتبار سے مسلمان تھیں، لیکن عملی طور پر انہیں معاشرے میں وہی امتیازی سلوک برداشت کرنا پڑتا تھا جو اچھوت سمجھی جانے والی سناتن یا ہندو مذہب کی ذاتوں (شیڈول کاسٹس) کے ساتھ روا رکھا جاتا تھا۔ انہیں سماجی تفریق، محرومی اور کمتر حیثیت کا سامنا رہتا تھا۔
ایم ایچ پنہور اپنی سوانح حیات میں اپنے بچپن کے ایک سیلاب کی صورتحال کا تفصیلی طور پر ذکر کرتے ہیں۔ 1930 کے جولائی کے آخر میں دریائے سندھ نے گاؤں رادھن کے قریب، نو گوٹھ کے سامنے حفاظتی بند توڑ دیا اور چودھویں اور پندرھویں صدی کے اپنے قدیم راستے پر بہنے لگا۔ دریا کا پانی مہا، جوبرجی، ستیارو، پیر گھنیو اور ٹلٹی کی جھیلوں سے گزرتا ہوا دوبارہ دریائے سندھ کے مرکزی بہاؤ میں جا ملا۔
‘سیلابی پانی نے ہمارے گاؤں کو چاروں طرف سے گھیر لیا، لیکن میرے ماموں محمد صالح کی بروقت کوششوں سے گاؤں بچ گیا۔ انہوں نے فوری طور پر لوگوں کو جمع کیا اور گاؤں کے گرد حفاظتی بند تعمیر کروا دیا۔ اس بند کی خاص بات یہ تھی کہ اس کی دونوں اطراف مناسب ڈھلوان تھی اور اوپر کی چوڑائی اتنی تھی کہ اس پر بیل گاڑی بھی آسانی سے گزر سکتی تھی،’ انہوں نے اپنی سوانح حیات میں لکھا۔
پورا گاؤں خالی کرا لیا گیا تھا اور صرف چند مرد وہاں رہ گئے تھے۔ ‘میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ کشتیاں لوگوں، مویشیوں اور گھریلو سامان کو محفوظ مقامات پر منتقل کر رہی تھیں۔ اس عمر میں مجھے سیلاب سے ہونے والے معاشی نقصان کا کوئی اندازہ نہیں تھا۔’
وہ لکھتے ہیں کہ اس واقعے کے بعد دریائے سندھ کے بارے میں ان کی دلچسپی مسلسل بڑھتی چلی گئی۔ دریا کو سمجھنے کے لیے ان کو جغرافیہ، آبی وسائل، پانی کے بہاؤ کے اصول، نہری نظام، آبپاشی، نکاسی آب، دریا اور نہروں سے پانی کے رساؤ، دریاؤں کے اپنے راستے بنانے اور بدلنے کے عمل، کٹاؤ، ڈیلٹا کی تشکیل، ماضی کی موسمی تبدیلیوں اور ان کے دریائے سندھ پر اثرات کا مطالعہ کرنا پڑا۔
‘اس کے ساتھ ساتھ میں نے یہ جاننے کی کوشش بھی کی کہ دریا راستے کیوں بدلتا ہے، بستیاں کیوں ویران ہوتی ہیں، آبادی کیوں نقل مکانی کرتی ہے، ان تبدیلیوں سے سماجی بے چینی کیسے جنم لیتی ہے، حکومتیں اور حکمران خاندان کیسے بدلتے ہیں، بیرونی مداخلت کیا اثرات مرتب کرتی ہے، اور ان تمام عوامل نے لوگوں کی زندگی، خوراک، زراعت، مویشی پالنے اور جنگلات پر کیا اثر ڈالا۔’
پنجاب اور سندھ کے بالائی علاقوں میں متعدد بیراجوں کی تعمیر کے بعد دریائے سندھ کی شاندار ماہی گیری کا دور عملاً ختم ہو گیا۔ سندھی ماہی گیر اب دریائے سندھ اور اس سے وابستہ تقریباً 22 لاکھ 12 ہزار ایکڑ رقبے پر پھیلے قدرتی آبی علاقوں میں پہلے کی طرح مچھلی کا شکار نہیں کر سکتے تھے۔ سندھ کے ماہی گیر پنجاب اور خیبرپختونخوا کے دریائے سندھ کے شمالی علاقوں میں ہجرت کر گئے اور آج بھی ان کی کئی نسلیں وہاں آباد ہیں۔
صرف ماہی گیر ہی نہیں، بلکہ دیہی آبادی بھی جانوروں سے حاصل ہونے والی پروٹین کے سب سے سستے اور معیاری ذریعے، یعنی مچھلی، سے محروم ہو گئی۔
وہ لکھتے ہیں: ‘مجھے یاد ہے کہ 1935 میں مچھلی کی قیمت بکرے کے گوشت سے بھی نصف سے کم ہوتی تھی۔ اس زمانے میں اگرچہ سردیوں میں دریائے سندھ میں پانی کم ہوتا تھا، لیکن گرمیوں میں پانی کی کوئی کمی نہیں ہوتی تھی۔ گرمیوں کا اضافی پانی جھیلوں کو بھر دیتا تھا اور سردیوں میں معمولی مقدار میں پانی بھی اس پورے آبی نظام اور مچھلی کی دولت کو برقرار رکھنے کے لیے کافی ہوتا تھا۔’
تاہم آج صورتحال یکسر بدل چکی ہے۔ دریائے سندھ میں پانی کی مسلسل کمی نے نہ صرف ماہی گیری کے شعبے کو شدید نقصان پہنچایا ہے بلکہ سندھ کی زراعت بھی سنگین بحران سے دوچار ہے۔ خصوصاً خریف کی فصلوں کو مطلوبہ مقدار میں آبپاشی کا پانی میسر نہ ہونے کے باعث زرعی پیداوار میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے، جس کے اثرات کسانوں کی آمدنی، دیہی معیشت اور صوبے کی غذائی پیداوار پر بھی واضح طور پر محسوس کیے جا رہے ہیں۔
ایم ایچ پنہور انسٹی ٹیوٹ آف سندھ اسٹڈیز
ایم ایچ پنہور کی علمی خدمات کو محفوظ رکھنے کے لیے حکومت سندھ کے محکمہ ثقافت اور سندھ یونیورسٹی کے تعاون سے جامشورو میں ایم ایچ پنہور انسٹی ٹیوٹ آف سندھ اسٹڈیز قائم کیا گیا ہے۔ سندھ یونیورسٹی میں تین ایکڑ پر محیط یہ ادارہ ایم ایچ پنہور ٹرسٹ کے تحت ان کے خاندان کی کوششوں سے وجود میں آیا۔
اس کا مقصد سندھ کی تاریخ، ثقافت، ادب، آثار قدیمہ، ماحولیات اور سماجی علوم پر تحقیق کو فروغ دینا اور اس علمی ورثے کو آنے والی نسلوں تک محفوظ انداز میں پہنچانا ہے۔
پنہور کی سب سے بڑی پہچان ان کی غیر معمولی ذاتی لائبریری بھی تھی۔ انہوں نے اپنی پوری زندگی میں تقریباً پچاس ہزار نایاب اور اہم کتابیں جمع کیں، جن میں تاریخ، زراعت، انجینئرنگ، ماحولیات، آبی وسائل اور سندھ شناسی سمیت متعدد موضوعات شامل تھے۔ یہ صرف ایک ذاتی کتب خانہ نہیں بلکہ علم و تحقیق کا ایک منفرد خزانہ تھا۔
ان کے فرزند سنی پنہور کے مطابق یہ لائبریری حیدرآباد کے علاقے لطیف آباد میں واقع ان کے گھر کے ایک حصے میں قائم تھی، مگر شدید بارشوں اور سیلاب کے باعث اسے بڑا نقصان پہنچا۔ پنہور نے اپنی نگرانی میں کتابوں کی بحالی کی بھرپور کوشش کی، لیکن بے شمار نایاب کتابیں ضائع ہو گئیں۔ ان کی وفات کے بعد خاندان نے سندھ یونیورسٹی سے درخواست کی کہ اس قیمتی ذخیرۂ علم کو محفوظ رکھنے کے لیے جامعہ میں جگہ فراہم کی جائے۔
سابق وائس چانسلر مرحوم مظہر الحق صدیقی نے اس مقصد کے لیے تین ایکڑ زمین مختص کی، جبکہ محکمہ ثقافت سندھ کے مالی تعاون سے ادارے کی عمارت تعمیر کی گئی۔
آج یہ ادارہ سندھ سے متعلق نایاب کتابوں، مخطوطات، نقشوں، تاریخی دستاویزات اور تحقیقی مواد کو ڈیجیٹل شکل میں محفوظ کر رہا ہے، تاکہ محققین، طلبہ اور عام قارئین آسانی سے اس سے استفادہ کر سکیں۔ اس کے ساتھ ساتھ ادارہ سیمینارز، کانفرنسوں، تحقیقی منصوبوں اور علمی اشاعتوں کے ذریعے سندھ کے علمی اور ثقافتی ورثے کے تحفظ اور فروغ میں بھی اہم کردار ادا کر رہا ہے۔
جون 2003 میں ایم ایچ پنہور نے سندھ کی علمی اور سماجی ترقی کے لیے ایک ٹرسٹ بھی قائم کیا۔ انہوں نے اپنی جائیداد، لائبریری، دفتر اور دیگر اثاثے اسی ٹرسٹ کے نام وقف کر دیے تاکہ آنے والی نسلیں ان کے علمی سرمائے سے فائدہ اٹھا سکیں۔ یہ فیصلہ ان کی علم دوستی، دور اندیشی اور سندھ سے گہری وابستگی کا ایسا ثبوت ہے جو آج بھی ان کے نام کو زندہ رکھے ہوئے ہے۔
ایم ایچ پنہور اپنی زندگی کے آخری دنوں تک زراعت اور باغبانی کے شعبوں میں سرگرم رہے۔ وہ زمین، پانی، آبپاشی، زراعت، فصلوں کی پیداوار، بعد از برداشت طریقۂ کار (پری ہارویسٹ اور پوسٹ ہارویسٹ) اور دیگر زرعی موضوعات پر گہری تحقیق کرتے رہے۔ انہوں نے ان موضوعات پر سیکڑوں تحقیقی مضامین اور متعدد کتابیں لکھیں، جو آج بھی سندھ کی تاریخ، زراعت اور ترقی کے حوالے سے اہم معلومات کا ذریعہ سمجھی جاتی ہیں۔
ایم ایچ پنہور کی زندگی اس بات کی روشن مثال ہے کہ ایک فرد اپنی محنت، تحقیق اور علم دوستی کے ذریعے پورے معاشرے پر گہرے اثرات مرتب کر سکتا ہے۔ انہوں نے سندھ کے ماضی کو سمجھنے، حال کے مسائل کی نشاندہی کرنے اور مستقبل کے لیے رہنمائی فراہم کرنے میں جو کردار ادا کیا، وہ ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔
ان کی شخصیت نہ صرف سندھ بلکہ پورے پاکستان کے علمی ورثے کا ایک اہم باب ہے۔ آج بھی جب سندھ کی تاریخ، زراعت، آبپاشی یا ماحولیات کا ذکر ہوتا ہے تو ایم ایچ پنہور کا نام احترام سے لیا جاتا ہے اور ان کی خدمات آنے والی نسلوں کے لیے مشعل راہ بنی ہوئی ہیں۔
وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ آئندہ مالی سال 2026-27 کے بجٹ میں صوبے کا ترقیاتی پروگرام 575 ارب روپے سے کم کرکے 400 ارب روپے کر دیا گیا۔
جمعرات کو پوسٹ بجٹ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ وفاقی حکومت کے ساتھ طے پانے والے معاہدے کے تحت قومی سطح کی اہم ضروریات کے لیے سندھ کو اپنے ترقیاتی بجٹ میں کمی کرنا پڑ رہی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ وفاق کے ساتھ ہونے والے اس انتظام کی بنیاد ایک مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) ہے، جس کے تحت ساتویں قومی مالیاتی کمیشن (این ایف سی) ایوارڈ میں سندھ کے آئینی حق کا مکمل تحفظ کیا گیا ہے۔ اس معاہدے کے تحت سندھ کے لیے وفاقی محصولات میں 13.350 کھرب روپے کی بنیاد پر حصہ یقینی بنایا گیا ہے۔
وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ آئین کے آرٹیکل 160 کے تحت صوبوں کو وفاق کو گرانٹس دینے کا اختیار حاصل ہے اور قومی دفاع اور قومی یکجہتی کے مفاد میں چاروں صوبائی حکومتوں نے مشترکہ طور پر وفاق کی مالی معاونت کی ہے۔
انہوں نے کہا کہ قومی مالیاتی کمیشن (این ایف سی) کے تحت وفاقی بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے لیے 15 ہزار 264 ارب روپے محصولات کا ہدف مقرر کیا گیا ہے، جبکہ صوبوں کو ان کا حصہ 13 ہزار 350 ارب روپے تک ملنے کی توقع ہے۔
وزیراعلیٰ نے بتایا کہ اس حد سے زیادہ حاصل ہونے والی آمدنی پہلے صوبوں کے ذریعے منتقل ہوگی اور بعد ازاں وفاق کو دی جائے گی۔
انہوں نے امید ظاہر کی کہ ایف بی آر رواں سال اپنا ہدف حاصل کر لے گا کیونکہ محصولات میں 23 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا جا رہا ہے۔ تاہم انہوں نے کہا کہ قومی اسٹریٹجک اقدامات کی مالی ضروریات پوری کرنے کے لیے وفاقی حکومت ٹیکس حکام پر مزید دباؤ ڈال سکتی ہے۔
مراد علی شاہ نے کہا کہ مئی تک سندھ کو وفاقی منتقلیوں میں 441 ارب روپے کی کمی کا سامنا ہے، جبکہ صوبائی وصولیوں میں بھی 52 ارب روپے کا خسارہ ہے، جس کے باعث مجموعی بجٹ خسارہ تقریباً 300 ارب روپے تک پہنچ گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ مالی دباؤ کے باوجود صوبے کے مجموعی اخراجات 850 ارب روپے سے تجاوز ہونے کی توقع ہے۔ ان اخراجات میں ترقیاتی منصوبوں کے لیے فنڈز، کسانوں کے لیے امدادی پیکیج، ایندھن اور بجلی پر سبسڈی، اور گل پلازہ واقعے سے متعلق اضافی اخراجات شامل ہیں۔
وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ صوبہ ماضی میں ایک ہزار ارب روپے کے ریکارڈ ترقیاتی پروگرام پر عمل درآمد کر چکا ہے اور رواں سال بھی ترقیاتی اخراجات کی رفتار برقرار رکھی گئی ہے۔
زرعی شعبے کے بارے میں انہوں نے بتایا کہ حکومتی معاونت کے نتیجے میں گندم کی پیداوار گزشتہ سال کے 35 لاکھ ٹن کے مقابلے میں بڑھ کر 49 لاکھ ٹن تک پہنچ گئی ہے، جو زرعی شعبے کی بہتری کا واضح ثبوت ہے۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ طے شدہ 260 ارب روپے سے زائد اگر کوئی قومی ضرورت سامنے آتی ہے تو اس کی مالی ذمہ داری وفاقی حکومت اپنے وسائل سے پوری کرے گی۔
مراد علی شاہ کا کہنا تھا کہ سندھ حکومت نے مالی نظم و ضبط کو مدنظر رکھتے ہوئے فیصلے کیے ہیں تاکہ ترقیاتی کام متاثر نہ ہوں۔ انہوں نے کہا کہ ہماری پالیسی کا بنیادی اصول یہ ہے کہ مالی احتیاط ترقی کے راستے میں رکاوٹ نہیں بلکہ اس کے فروغ کا ذریعہ بننی چاہیے۔
وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا کہ سندھ کو وفاقی منتقلیوں کی مد میں 2 ہزار 263 ارب روپے ملنے کی توقع ہے، جبکہ صوبائی آمدنی کا ہدف 456 ارب روپے مقرر کیا گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ صوبے کی مجموعی آمدنی 3 ہزار 83 ارب روپے ہے، جبکہ مجموعی بجٹ کا حجم 3 ہزار 525 ارب روپے تک پہنچ گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن کے لیے ایک ہزار 264 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔
انہوں نے یاد دلایا کہ 2022 میں 15 فیصد اور 2025 میں 10 فیصد ایڈہاک ریلیف دیا گیا تھا، جس کے بعد کم از کم ماہانہ اجرت 43 ہزار روپے ہو جائے گی۔ انہوں نے بتایا کہ بلدیاتی اداروں کے لیے 155 ارب روپے اور جامعات کے لیے 48 ارب روپے رکھے گئے ہیں۔
مراد علی شاہ نے کہا کہ صحت کے شعبے میں اہم اداروں کے لیے خصوصی فنڈز مختص کیے گئے ہیں۔ اس ضمن میں سندھ انسٹی ٹیوٹ آف یورولوجی اینڈ ٹرانسپلانٹیشن (ایس آئی یو ٹی) کے لیے 26.4 ارب روپے، قومی ادارہ برائے امراضِ قلب (این آئی سی وی ڈی) کے لیے 12 ارب روپے، سندھ انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیو ویسکیولر ڈیزیزز (ایس آئی سی وی ڈی) کے لیے 14 ارب روپے، انڈس اسپتال کے لیے 8 ارب روپے، سندھ انسٹی ٹیوٹ آف چائلڈ ہیلتھ (ایس آئی سی ایچ) کے لیے 1.7 ارب روپے، چائلڈ لائف فاؤنڈیشن کے لیے 3.5 ارب روپے اور پیشنٹ ایڈ فاؤنڈیشن کے لیے 2.5 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ مجموعی طور پر گرانٹس حاصل کرنے والے بڑے اداروں کے لیے 686 ارب روپے رکھے گئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ بجٹ میں مالی نظم و ضبط کو ترجیح دی گئی ہے، جبکہ ترقیاتی منصوبوں اور سماجی شعبوں کی معاونت کو بھی جاری رکھا گیا ہے۔
وزیراعلیٰ نے بتایا کہ غیر ملکی منصوبوں کے لیے تقریباً 225 ارب روپے کی امداد متوقع ہے، جبکہ امدادی اداروں کے تعاون سے چلنے والے منصوبوں کے لیے صوبائی حصہ اور مساوی گرانٹس بھی اخراجات کا اہم حصہ ہیں۔
انہوں نے کہا کہ گزشتہ سال تقریباً 400 ارب روپے غیر ملکی منصوبہ جاتی امداد سے منسلک تھے، تاہم رواں سال نظرثانی شدہ تخمینے کے مطابق یہ رقم تقریباً 225 ارب روپے رہنے کی توقع ہے، جس کا انحصار منصوبوں پر عمل درآمد کی رفتار پر ہوگا۔
مراد علی شاہ نے مزید کہا کہ وفاقی ترقیاتی معاونت، جس میں عالمی بینک اور دیگر بین الاقوامی مالیاتی اداروں کی امداد شامل ہے، تقریباً 64 ارب روپے متوقع ہے، جبکہ ترقیاتی منصوبوں کے لیے پہلے سے کیے گئے مالی وعدوں کو موصول ہونے والی حقیقی رقوم کے مطابق ایڈجسٹ کیا جا رہا ہے۔
وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ آئندہ مالی سال 2026-27 کے بجٹ میں صوبے کا ترقیاتی پروگرام 575 ارب روپے سے کم کرکے 400 ارب روپے کر دیا گیا۔
جمعرات کو پوسٹ بجٹ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ وفاقی حکومت کے ساتھ طے پانے والے معاہدے کے تحت قومی سطح کی اہم ضروریات کے لیے سندھ کو اپنے ترقیاتی بجٹ میں کمی کرنا پڑ رہی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ وفاق کے ساتھ ہونے والے اس انتظام کی بنیاد ایک مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) ہے، جس کے تحت ساتویں قومی مالیاتی کمیشن (این ایف سی) ایوارڈ میں سندھ کے آئینی حق کا مکمل تحفظ کیا گیا ہے۔ اس معاہدے کے تحت سندھ کے لیے وفاقی محصولات میں 13.350 کھرب روپے کی بنیاد پر حصہ یقینی بنایا گیا ہے۔
وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ آئین کے آرٹیکل 160 کے تحت صوبوں کو وفاق کو گرانٹس دینے کا اختیار حاصل ہے اور قومی دفاع اور قومی یکجہتی کے مفاد میں چاروں صوبائی حکومتوں نے مشترکہ طور پر وفاق کی مالی معاونت کی ہے۔
انہوں نے کہا کہ قومی مالیاتی کمیشن (این ایف سی) کے تحت وفاقی بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے لیے 15 ہزار 264 ارب روپے محصولات کا ہدف مقرر کیا گیا ہے، جبکہ صوبوں کو ان کا حصہ 13 ہزار 350 ارب روپے تک ملنے کی توقع ہے۔
وزیراعلیٰ نے بتایا کہ اس حد سے زیادہ حاصل ہونے والی آمدنی پہلے صوبوں کے ذریعے منتقل ہوگی اور بعد ازاں وفاق کو دی جائے گی۔
انہوں نے امید ظاہر کی کہ ایف بی آر رواں سال اپنا ہدف حاصل کر لے گا کیونکہ محصولات میں 23 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا جا رہا ہے۔ تاہم انہوں نے کہا کہ قومی اسٹریٹجک اقدامات کی مالی ضروریات پوری کرنے کے لیے وفاقی حکومت ٹیکس حکام پر مزید دباؤ ڈال سکتی ہے۔
مراد علی شاہ نے کہا کہ مئی تک سندھ کو وفاقی منتقلیوں میں 441 ارب روپے کی کمی کا سامنا ہے، جبکہ صوبائی وصولیوں میں بھی 52 ارب روپے کا خسارہ ہے، جس کے باعث مجموعی بجٹ خسارہ تقریباً 300 ارب روپے تک پہنچ گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ مالی دباؤ کے باوجود صوبے کے مجموعی اخراجات 850 ارب روپے سے تجاوز ہونے کی توقع ہے۔ ان اخراجات میں ترقیاتی منصوبوں کے لیے فنڈز، کسانوں کے لیے امدادی پیکیج، ایندھن اور بجلی پر سبسڈی، اور گل پلازہ واقعے سے متعلق اضافی اخراجات شامل ہیں۔
وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ صوبہ ماضی میں ایک ہزار ارب روپے کے ریکارڈ ترقیاتی پروگرام پر عمل درآمد کر چکا ہے اور رواں سال بھی ترقیاتی اخراجات کی رفتار برقرار رکھی گئی ہے۔
زرعی شعبے کے بارے میں انہوں نے بتایا کہ حکومتی معاونت کے نتیجے میں گندم کی پیداوار گزشتہ سال کے 35 لاکھ ٹن کے مقابلے میں بڑھ کر 49 لاکھ ٹن تک پہنچ گئی ہے، جو زرعی شعبے کی بہتری کا واضح ثبوت ہے۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ طے شدہ 260 ارب روپے سے زائد اگر کوئی قومی ضرورت سامنے آتی ہے تو اس کی مالی ذمہ داری وفاقی حکومت اپنے وسائل سے پوری کرے گی۔
مراد علی شاہ کا کہنا تھا کہ سندھ حکومت نے مالی نظم و ضبط کو مدنظر رکھتے ہوئے فیصلے کیے ہیں تاکہ ترقیاتی کام متاثر نہ ہوں۔ انہوں نے کہا کہ ہماری پالیسی کا بنیادی اصول یہ ہے کہ مالی احتیاط ترقی کے راستے میں رکاوٹ نہیں بلکہ اس کے فروغ کا ذریعہ بننی چاہیے۔
وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا کہ سندھ کو وفاقی منتقلیوں کی مد میں 2 ہزار 263 ارب روپے ملنے کی توقع ہے، جبکہ صوبائی آمدنی کا ہدف 456 ارب روپے مقرر کیا گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ صوبے کی مجموعی آمدنی 3 ہزار 83 ارب روپے ہے، جبکہ مجموعی بجٹ کا حجم 3 ہزار 525 ارب روپے تک پہنچ گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن کے لیے ایک ہزار 264 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔
انہوں نے یاد دلایا کہ 2022 میں 15 فیصد اور 2025 میں 10 فیصد ایڈہاک ریلیف دیا گیا تھا، جس کے بعد کم از کم ماہانہ اجرت 43 ہزار روپے ہو جائے گی۔ انہوں نے بتایا کہ بلدیاتی اداروں کے لیے 155 ارب روپے اور جامعات کے لیے 48 ارب روپے رکھے گئے ہیں۔
مراد علی شاہ نے کہا کہ صحت کے شعبے میں اہم اداروں کے لیے خصوصی فنڈز مختص کیے گئے ہیں۔ اس ضمن میں سندھ انسٹی ٹیوٹ آف یورولوجی اینڈ ٹرانسپلانٹیشن (ایس آئی یو ٹی) کے لیے 26.4 ارب روپے، قومی ادارہ برائے امراضِ قلب (این آئی سی وی ڈی) کے لیے 12 ارب روپے، سندھ انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیو ویسکیولر ڈیزیزز (ایس آئی سی وی ڈی) کے لیے 14 ارب روپے، انڈس اسپتال کے لیے 8 ارب روپے، سندھ انسٹی ٹیوٹ آف چائلڈ ہیلتھ (ایس آئی سی ایچ) کے لیے 1.7 ارب روپے، چائلڈ لائف فاؤنڈیشن کے لیے 3.5 ارب روپے اور پیشنٹ ایڈ فاؤنڈیشن کے لیے 2.5 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ مجموعی طور پر گرانٹس حاصل کرنے والے بڑے اداروں کے لیے 686 ارب روپے رکھے گئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ بجٹ میں مالی نظم و ضبط کو ترجیح دی گئی ہے، جبکہ ترقیاتی منصوبوں اور سماجی شعبوں کی معاونت کو بھی جاری رکھا گیا ہے۔
وزیراعلیٰ نے بتایا کہ غیر ملکی منصوبوں کے لیے تقریباً 225 ارب روپے کی امداد متوقع ہے، جبکہ امدادی اداروں کے تعاون سے چلنے والے منصوبوں کے لیے صوبائی حصہ اور مساوی گرانٹس بھی اخراجات کا اہم حصہ ہیں۔
انہوں نے کہا کہ گزشتہ سال تقریباً 400 ارب روپے غیر ملکی منصوبہ جاتی امداد سے منسلک تھے، تاہم رواں سال نظرثانی شدہ تخمینے کے مطابق یہ رقم تقریباً 225 ارب روپے رہنے کی توقع ہے، جس کا انحصار منصوبوں پر عمل درآمد کی رفتار پر ہوگا۔
مراد علی شاہ نے مزید کہا کہ وفاقی ترقیاتی معاونت، جس میں عالمی بینک اور دیگر بین الاقوامی مالیاتی اداروں کی امداد شامل ہے، تقریباً 64 ارب روپے متوقع ہے، جبکہ ترقیاتی منصوبوں کے لیے پہلے سے کیے گئے مالی وعدوں کو موصول ہونے والی حقیقی رقوم کے مطابق ایڈجسٹ کیا جا رہا ہے۔
سندھ میں پانچ سے 17 سال عمر کے 16 لاکھ سے زائد بچے چائلڈ لیبر یا کم عمری کی مزدوری کا شکار ہیں۔ یہ انکشاف سندھ چائلڈ لیبر سروے 2022-24 میں کیا گیا ہے۔ صوبائی محکمہ محنت کی جانب سے یونیسیف اور سندھ بیورو آف اسٹیٹسٹکس کے تکنیکی تعاون سے کیے گئے اس سروے کے مطابق 10 سے 17 سال عمر کے مزدوری کرنے والے بچوں میں سے نصف سے زائد، یعنی 50.4 فیصد، خطرناک حالات میں کام کر رہے ہیں۔ ان بچوں کو طویل اوقاتِ کار، شدید موسمی حالات اور غیر محفوظ آلات کے استعمال کا سامنا ہے۔
رپورٹ کے مطابق 1996 کے مقابلے میں سندھ میں چائلڈ لیبر کی شرح میں نمایاں کمی آئی ہے اور اس میں تقریباً 50 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ پاکستان کے پہلے اور اب تک کے واحد قومی چائلڈ لیبر سروے، جو 1996 میں کیا گیا تھا، کے مطابق اس وقت سندھ میں بچوں کی کل آبادی کا 20.6 فیصد مزدوری میں مصروف تھا۔
سروے کے مطابق مزدوری کرنے والے بچوں میں اسکول جانے کی شرح صرف 40.6 فیصد ہے، جبکہ غیر مزدور بچوں میں یہ شرح 70.5 فیصد ریکارڈ کی گئی۔ رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ عمر بڑھنے کے ساتھ ساتھ اسکول جانے والے بچوں کی تعداد میں نمایاں کمی آتی جاتی ہے۔
پاکستان میں چائلڈ لیبر یا کم عمری میں مزدوری ایک سنگین سماجی اور معاشی مسئلہ ہے۔ ملک بھر میں لاکھوں بچے ایسے ہیں جو اسکول جانے، کھیلنے اور بہتر مستقبل کے خواب دیکھنے کے بجائے کھیتوں، ورکشاپوں، کارخانوں، دکانوں، گھروں اور دیگر خطرناک کاموں میں مصروف ہیں۔ غربت، بے روزگاری، مہنگائی، تعلیمی سہولیات کی کمی اور سماجی ناہمواری اس مسئلے کی بڑی وجوہات سمجھی جاتی ہیں۔
اقوام متحدہ کے ادارے یونیسیف کے مطابق پاکستان میں تقریباً 33 لاکھ بچے چائلڈ لیبر کا شکار ہیں۔ یہ بچے اپنی تعلیم، صحت اور بچپن کے بنیادی حقوق سے محروم ہو رہے ہیں۔ ماہرین کے مطابق جب کوئی بچہ کم عمری میں مزدوری شروع کرتا ہے تو اس کے لیے غربت کے دائرے سے نکلنا مزید مشکل ہو جاتا ہے۔
دیہی علاقوں میں چائلڈ لیبر کی تشویشناک صورتحال
پاکستان میں چائلڈ لیبر کا مسئلہ زیادہ تر غریب اور دیہی علاقوں میں نمایاں ہے۔ بہت سے والدین معاشی مجبوریوں کے باعث بچوں کو اسکول بھیجنے کے بجائے کام پر لگانے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ بعض خاندانوں میں بچے گھر کے اخراجات پورے کرنے کے لیے کم عمری میں ہی مزدوری شروع کر دیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ تعلیم سے محرومی اور چائلڈ لیبر کا آپس میں گہرا تعلق پایا جاتا ہے۔
سندھ میں صورتحال خاص طور پر تشویشناک ہے۔ ماضی میں کیے گئے سرویز سے معلوم ہوا تھا کہ صوبے کے تقریباً 10 فیصد بچے چائلڈ لیبر میں شامل تھے، تاہم حالیہ سروے نے ظاہر کیا ہے کہ مزدوری کرنے والے بچوں کی تعداد اب بھی بہت زیادہ ہے اور لاکھوں بچے اس مسئلے سے متاثر ہیں۔
بچوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والے سماجی رہنما کاشف بجیر کہتے ہیں، ’’سندھ میں چائلڈ لیبر کے حوالے سے قانون تو موجود ہے، مگر ہم آج بھی دیکھتے ہیں کہ لاکھوں بچے گھروں، دکانوں، ورکشاپوں اور کھیتوں میں کام کر رہے ہیں۔‘‘
انہوں نے کہا کہ سندھ اسمبلی نے بچوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے سندھ چائلڈ پروٹیکشن اتھارٹی ایکٹ 2011 منظور کیا تھا۔ قانون کے مطابق صوبائی حکومت کو یہ اتھارٹی قانون کے نفاذ کے 60 روز کے اندر قائم کرنا تھی، تاہم یہ اتھارٹی تاحال مکمل طور پر فعال اور مؤثر انداز میں کام نہیں کر سکی۔
ریسرچ کے مطابق سندھ کے دیہی علاقوں میں چائلڈ لیبر کی شرح شہری علاقوں کے مقابلے میں زیادہ ہے۔ غربت، کم شرحِ تعلیم، والدین کی ناخواندگی اور روزگار کے محدود مواقع بچوں کو مزدوری کی طرف دھکیلنے والے اہم عوامل ہیں۔ بعض اضلاع میں یہ مسئلہ زیادہ شدت سے موجود ہے، جہاں بڑی تعداد میں بچے کھیتی باڑی، مویشی پالنے، چھوٹے کاروباروں اور غیر رسمی شعبوں میں کام کرتے ہیں۔
چائلڈ لیبر صرف ایک معاشی مسئلہ نہیں بلکہ انسانی حقوق کا معاملہ بھی ہے۔ پاکستان کے آئین میں بچوں کو تعلیم کا حق دیا گیا ہے، جبکہ مختلف قوانین کم عمر بچوں سے مشقت لینے پر پابندی عائد کرتے ہیں۔ اس کے باوجود قوانین پر مکمل عمل درآمد نہ ہونے کے باعث یہ مسئلہ بدستور موجود ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ قانون سازی کے ساتھ ساتھ اس پر مؤثر اور سخت عمل درآمد بھی ضروری ہے تاکہ بچوں کو استحصال سے بچایا جا سکے۔
سندھ چائلڈ لیبر سروے کی ایک اہم بات یہ بھی ہے کہ اس نے حکومت کو تازہ اور مستند اعداد و شمار فراہم کیے ہیں، جن کی بنیاد پر بہتر پالیسیاں تشکیل دی جا سکتی ہیں۔ ماہرین کے مطابق درست اعداد و شمار کسی بھی مسئلے کے حل کی پہلی شرط ہوتے ہیں۔ اسی لیے اس سروے کو چائلڈ لیبر کے خلاف جاری جدوجہد میں ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
سماجی کارکنوں کا کہنا ہے کہ صرف حکومتی اقدامات کافی نہیں ہوں گے۔ اس مسئلے کے حل کے لیے والدین، اساتذہ، سول سوسائٹی، صنعت کاروں اور مقامی کمیونٹیز کو بھی اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ ایسے بچوں کو اسکول واپس لانے، فنی تربیت فراہم کرنے اور غریب خاندانوں کی معاشی مدد کرنے کی ضرورت ہے تاکہ بچے مزدوری کے بجائے تعلیم حاصل کر سکیں۔
عالمی سطح پر اگرچہ چائلڈ لیبر میں کمی دیکھی گئی ہے، لیکن دنیا بھر میں اب بھی کروڑوں بچے مزدوری کرنے پر مجبور ہیں۔ اقوام متحدہ، یونیسیف اور بین الاقوامی لیبر آرگنائزیشن اس مسئلے کے خاتمے کے لیے مسلسل کام کر رہے ہیں۔ تازہ عالمی رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں اب بھی تقریباً 13 کروڑ 80 لاکھ بچے چائلڈ لیبر کا شکار ہیں۔
پاکستان اور خصوصاً سندھ کے لیے یہ صورتحال سنجیدہ اقدامات کا تقاضا کرتی ہے۔ اگر بچوں کو معیاری تعلیم، محفوظ ماحول اور بہتر معاشی مواقع فراہم کیے جائیں تو چائلڈ لیبر میں نمایاں کمی لائی جا سکتی ہے۔ بچے کسی بھی قوم کا مستقبل ہوتے ہیں اور ان کا بچپن محفوظ بنانا ریاست اور معاشرے دونوں کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔
سندھ چائلڈ لیبر سروے نے ایک بار پھر یہ حقیقت واضح کر دی ہے کہ لاکھوں بچے آج بھی اپنے بنیادی حقوق سے محروم ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت، نجی شعبہ اور سماجی ادارے مل کر ایسے اقدامات کریں جن کے ذریعے ہر بچے کو تعلیم، تحفظ اور روشن مستقبل کا حق حاصل ہو سکے۔ جب تک بچوں کے ہاتھوں سے اوزار لے کر انہیں کتاب نہیں دی جائے گی، تب تک ترقی اور خوشحالی کا خواب مکمل نہیں ہو سکے گا۔
پاکستان پیپلز پارٹی نے 18ویں ترمیم، صوبائی حقوق اور صوبائی خودمختاری سے متصادم آئین میں کسی بھی ممکنہ ترمیم کی حمایت نہ کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کراچی کو وفاق کے ماتحت چلانے، این ایف سی ایوارڈ میں کٹوتی اور 18ویں ترمیم کے خلاف مطالبات کو آئین کی خلاف ورزی قرار دے کر مسترد کر دیا ہے۔
پیپلز پارٹی نے وفاقی حکومت کو خبردار کیا ہے کہ اگر 18ویں ترمیم کو رول بیک کرنے کی کوشش کی گئی تو 26ویں اور 27ویں آئینی ترامیم کا ازسرنو جائزہ لیا جائے۔ پارٹی نے مطالبہ کیا کہ قومی مالیاتی کمیشن (این ایف سی) کا فوری اجلاس بلا کر نئے مالیاتی ایوارڈ کا اجرا کیا جائے۔
یہ مطالبات جمعرات کو پاکستان پیپلز پارٹی سندھ کے زیر اہتمام منعقدہ سیمینار میں کیے گئے، جس کا عنوان تھا: ’’کراچی کو وفاق کے ماتحت چلانے، این ایف سی ایوارڈ میں کٹوتی، 18ویں ترمیم اور صوبائی خودمختاری کے خلاف باتیں، سندھ کو ون یونٹ کی طرف دھکیلنے کی سازش تو نہیں؟‘‘
سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے پیپلز پارٹی سندھ کے صدر نثار احمد کھوڑو نے کہا کہ وفاقی حکومت آئین کے تحت صوبوں کو صرف وفاقی قوانین پر عملدرآمد کے لیے ہدایات دے سکتی ہے، کسی شہر کا انتظامی کنٹرول نہیں سنبھال سکتی۔ انہوں نے کہا کہ 18ویں ترمیم تمام سیاسی جماعتوں کے اتفاق رائے سے آئین کا حصہ بنی اور اسے رول بیک نہیں ہونے دیا جائے گا۔
سابق چیئرمین سینیٹ میاں رضا ربانی نے کہا کہ کراچی سندھ کا دارالحکومت تھا، ہے اور رہے گا۔ ان کے مطابق کراچی یا گوادر کو وفاق کے ماتحت کرنے کے لیے پارلیمنٹ میں دو تہائی اکثریت سے آئینی ترمیم درکار ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ 18ویں ترمیم کو واپس لینے کی کسی بھی کوشش کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے۔
رضا ربانی نے کہا کہ آئین کے تحت ہر پانچ سال بعد نیا این ایف سی ایوارڈ جاری ہونا ضروری ہے، تاہم وفاقی حکومت اس حوالے سے اپنی آئینی ذمہ داری پوری نہیں کر رہی۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ صوبوں کو زیادہ مالی اور انتظامی اختیارات دیے جائیں۔
سیمینار سے سینیٹر بیرسٹر ضمیر گھمرو، سینئر صحافی مظہر عباس، وسعت اللہ خان، کراچی پریس کلب کے صدر فاضل جمیلی، وکیل شہاب سرکی اور نورالہدیٰ شاہ نے بھی خطاب کیا۔ مقررین نے 18ویں ترمیم، صوبائی خودمختاری اور سندھ کے آئینی حقوق کے تحفظ پر زور دیا اور کراچی کو وفاق کے ماتحت کرنے کی تجاویز کی مخالفت کی۔
سیمینار کے اختتام پر منظور کی گئی قراردادوں میں کراچی کو وفاق کے ماتحت چلانے، این ایف سی میں صوبوں کے حصے میں کٹوتی اور 18ویں ترمیم کے خلاف کسی بھی اقدام کو مسترد کرتے ہوئے وفاقی حکومت سے فوری طور پر نیا این ایف سی ایوارڈ جاری کرنے اور صوبائی خودمختاری سے متعلق آئینی تقاضے پورے کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔
سندھ کے معروف لکھاری، آبی ماہر، سماجی رہنما اور سابق طالب علم رہنما انجینئر محمد اوبھایو خشک جمعہ کی شب مختصر علالت کے بعد کراچی کے ایک نجی اسپتال میں انتقال کر گئے۔ ان کی عمر 76 برس تھی۔
ان کے انتقال پر سندھ کے ادبی، فکری، سماجی اور علمی حلقوں نے گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا۔ مرحوم اپنی پوری زندگی تعلیم، سماجی اصلاح، آبی مسائل اور سندھ کے حقوق کے لیے سرگرم رہے اور انہی خدمات کے باعث انہیں بے حد عزت اور احترام کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا۔
انجینئر محمد اوبھایو خشک 2 ستمبر 1949 کو ضلع ٹھٹہ کی تحصیل گھوڑاباری کے گاؤں درویش میں پیدا ہوئے۔
انہوں نے ابتدائی تعلیم اپنے آبائی گاؤں میں حاصل کی، جبکہ میٹرک گورنمنٹ ہائی اسکول ٹھٹھہ سے کیا۔ بعد ازاں انہوں نے گورنمنٹ ڈگری کالج حیدرآباد، جو اب گورنمنٹ کالج یونیورسٹی حیدرآباد کے نام سے جانا جاتا ہے، سے انٹرمیڈیٹ کی تعلیم مکمل کی اور اعلیٰ تعلیم کی جانب سفر جاری رکھا۔
انہوں نے 1971 میں سندھ یونیورسٹی انجینئرنگ کالج جامشورو، جو اب مہران یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی ہے، سے سول انجینئرنگ کی ڈگری حاصل کی۔ یہ کامیابی ان کے ایک طویل اور کامیاب پیشہ ورانہ سفر کا آغاز ثابت ہوئی، جسے انہوں نے عوامی خدمت اور ترقی کے لیے وقف رکھا۔
انجینئر خشک نے 1972 میں محکمہ آبپاشی میں سب انجینئر کی حیثیت سے اپنی عملی زندگی کا آغاز کیا۔ تقریباً چار دہائیوں تک مختلف اہم ذمہ داریاں انجام دیتے ہوئے وہ ترقی کی منازل طے کرتے رہے اور 2009 میں پروجیکٹ ڈائریکٹر کے عہدے سے ریٹائر ہوئے۔ سندھ کے آبی مسائل، پانی کی منصفانہ تقسیم اور آبی انتظام کے حوالے سے ان کی گہری معلومات نے انہیں ایک معتبر ماہر، محقق اور دانشور کے طور پر شناخت دلائی۔
پیشہ ورانہ ذمہ داریوں کے ساتھ ساتھ وہ سیاسی، سماجی، ادبی اور فکری سرگرمیوں میں بھی بھرپور کردار ادا کرتے رہے۔
طالب علمی کے زمانے میں وہ ایک فعال اور بااثر طالب علم رہنما کے طور پر سامنے آئے۔ انہوں نے سندھ اسٹوڈنٹ کلچرل آرگنائزیشن میں پہلے سینئر نائب چیئرمین اور بعد میں چیئرمین کی حیثیت سے خدمات انجام دیں اور طلبہ سیاست و ثقافتی تحریکوں میں نمایاں کردار ادا کیا۔
انجینئر اوبھایو خشک اپنی علمی اور تحقیقی تحریروں کے باعث بھی خاص شہرت رکھتے تھے۔ انہوں نے سندھ کے آبی حقوق، ماحولیاتی مسائل، تاریخ، ثقافت اور سماجی انصاف جیسے اہم موضوعات پر وسیع پیمانے پر لکھا۔ ان کی تحریروں نے انہیں عوامی مباحث میں ایک مضبوط اور می نمایاں تصانیف میں سندھ پنجاب پانی مامرو، گوندر گس پرین جا، سندھو جو رستو نہ روکیو، بھاشا ڈیم: سندھ لائے ترقی یا زہر؟ شامل ہیں
ان کے انتقال کے بعد زندگی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے سینکڑوں افراد ان کی رہائش گاہ ٹھٹہ پہنچے اور مرحوم کو سندھ کے لیے ان کی عمر بھر کی خدمات کو زبردست خراج تحسین پیش کیا۔
معروف شخصیات ممتاز کالم نگار زاہد اسحاق سومرو نے کہا کہ سندھ اپنے آبی حقوق کے ایک مضبوط وکیل اور بڑے دانشور سے محروم ہو گیا ہے۔
سینئر صحافی اقبال خواجہ نے کہا کہ مرحوم اوبھایو خشک نے سندھ کے آبی مقدمے کو مختلف فورمز پر مؤثر انداز میں پیش کرنے کے لیے مسلسل اور بھرپور جدوجہد کی۔
مؤرخ زبیر عزیز جعفرانی، اسلم آزاد، سینیٹر سسئی پلیجو، ڈاکٹر محمد علی مانجھی اور دیگر شخصیات نے بھی ان کے انتقال پر تعزیت اور افسوس کا اظہار کیا۔
انجینئر محمد اوبھایو خشک کو ایک مخلص انجینئر، دوراندیش مفکر، باصلاحیت قلم کار اور سندھ کے حقوق و ترقی کے پُرجوش داعی کے طور پر ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ ادب، عوامی خدمت، سماجی شعور اور آبی حقوق کے لیے ان کی گراں قدر خدمات آنے والی نسلوں کے لیے مشعلِ راہ بنی رہیں گی۔
کل نیو جرسی کے قریبی دوست اور سندھ کے سجن مشتاق سومرو نے ایک پرانی سندھی فلم ‘سورٹھ’ کا پوسٹر شیئر کیا، جس سے بات چیت کا آغاز ہوا۔ میں اس پوسٹر کے حوالے سے گفتگو کو سندھی فلم کی ترقی سے جوڑنا چاہتا تھا، کیونکہ فلم فن کا ایک اہم حصہ ہے، اور فن تو تہذیبیں پیدا کرتی ہیں، لیکن ول ڈیورانٹ کے بقول اضافی وسائل اور وقت کے بغیر تہذیب پیدا نہیں ہو سکتی، اور موجودہ دور کی سندھی تہذیب فنونِ لطیفہ کے اس طاقتور میڈیم، فلم، کو آگے بڑھانے میں کامیاب نہیں ہو سکی ہے۔
اسد شیخ نے سندھی سنیما کی ترقی میں رئیس حاکم علی زرداری کے کردار کے بارے میں میری دی گئی مختصر رائے پر لکھا کہ مجھے اس موضوع پر ایک مضمون لکھنا چاہیے، ساتھ ہی ایک ہنستے ہوئے ایموجی بھی دے دیا، جس سے کئی مطلب اخذ کیے جا سکتے ہیں۔ ان کے سوال کے پیچھے نیت کیا تھی، اسے چھوڑ کر دل چاہا کہ رئیس حاکم علی زرداری کے بارے میں کچھ بات کی جائے۔
حاکم علی زرداری نے 20 سال کی عمر میں کراچی اور حیدرآباد میں دو سنیما گھر قائم کیے۔ انہوں نے سندھی فلمیں بنائیں، جن کے وہ خود ڈسٹری بیوٹر بھی تھے۔ وہ اردو اور پنجابی فلموں کے بھی ڈسٹری بیوٹر تھے۔ ان کی ایک سندھی فلم کے پوسٹر، جس سے یہ گفتگو شروع ہوئی، میں سندھ کے بڑے اداکاروں نے مرکزی کردار ادا کیے تھے۔ رئیس حاکم علی زرداری خود سیاست میں چلے گئے اور سندھی فلمیں بنانے کا ان کا شوق ادھورا رہ گیا۔
ہمارا تعلق ان سے اس وقت قائم ہوا جب وہ عوامی نیشنل پارٹی کے سرگرم رہنما تھے۔ ہم سجاگ بار تحریک کا حصہ تھے اور اس زمانے میں پارٹی کے ساتھی انہیں ‘چاچا حاکم علی’ کہا کرتے تھے۔ وہ شاہ پور چاکر میں دادا سلیمان ڈاہری کے گھر آئے ہوئے تھے۔ دادا سلیمان بعد میں ان کے منیجر بھی بنے۔ سابق فوجی آمر ضیال کے مارشلا کے خلاف سندھ کے لوگوں کے تحریک بحالی جمہوریت ایم آر ڈی کے دور میں پارٹی کے دوستوں سے جو تعلقات ان کے قائم ہوئے، وہ انہیں نبھاتے رہے۔
ہماری پارٹی کے ایک اور دوست سائیں مشتاق نظامانی، جو خود بھی رئیس ہیں، ان کے ذریعے میرا بھی ان سے دوبارہ تعلق 2003 سے 2006 تک قائم رہا۔ ان کے برٹش کونسل خانے کے قریب واقع گھر جانا ہوتا تھا۔ پلیجو صاحب بھی وہاں آیا کرتے تھے۔ ایک مرتبہ ڈاکٹر نظیر شیخ اور پلیجو صاحب میرے چھوٹے سے فلیٹ پر ٹھہرے ہوئے تھے۔ لانگ مارچ کا آخری دن تھا۔ جلسہ ختم کر کے فلیٹ پر آئے تو رئیس مشتاق نظامانی کا فون آیا کہ حاکم زرداری صاحب پلیجو صاحب سے ملنا چاہتے ہیں۔
اس دن لانگ مارچ کے جلسے میں چاچا حاکم علی زرداری بھی آئے تھے اور انہیں سندھی عوام کے طویل لانگ مارچ میں ہزاروں سندھی خواتین کی شرکت دیکھ کر خوشی اور حوصلہ ملا تھا۔ ان کی دوسری اہلیہ، جنہیں ‘بیگم صاحبہ’ کہا جاتا تھا، کی بھی خواہش تھی کہ سندھیاڻي تحریک کی مالی مدد کی جائے۔
حاکم علی زرداری کی دوسری شادی زرین آرا بخاری سے ہوئی تھی، جو پاکستان کی پہلی خاتون تھیں جنہوں نے کیمبرج یونیورسٹی سے انگریزی ادب میں پی ایچ ڈی کی۔ اس شادی سے کوئی اولاد نہیں ہوئی۔ چاچا حاکم علی زرداری کے چاروں بچے پہلی اہلیہ بلقیس سلطانہ سے ہیں۔ وہ حسن علی آفندی کی پوتی تھیں، جو کراچی میں سندھ مدرسة الاسلام کے بانی تھے۔
میں نے رئیس مشتاق نظامانی کے ذریعے اور براہِ راست بھی چاچا حاکم علی زرداری سے سندھ ٹی وی کے لیے انٹرویو دینے کی کئی بار درخواست کی، لیکن وہ ٹالتے رہے۔
ایک مرتبہ ان کے گھر پر بیگم عابدہ حسین آئی ہوئی تھیں۔ مشتاق نظامانی کے ذریعے پیغام بھیجا کہ راڄپر کو کہو اگر انٹرویو کرنا چاہتا ہے تو آ جائے۔ میں بھی پہنچ گیا۔ ان کے ساتھ ‘بیگم صاحبہ’ بھی موجود تھیں۔ میں نے مذاقاً کہا، ‘میں آپ کا انٹرویو کرنے آیا ہوں۔’ وہ ہنس کر بولے، ‘اگلی بار۔’ وہ اگلی بار کبھی نہ آئی۔
امریکی قونصل خانے میں ملازمت ملنے کے بعد میں نے ٹی وی چھوڑ دیا۔ اپنے دونوں پروگرام ‘ڈائیلاگ’ اور ‘نیٹھ کیا کریں’ دوسرے دوستوں کے حوالے کر کے ایک نئے سفر پر نکل پڑا۔
کئی سال پہلے، جب آصف علی زرداری کی شادی محترمہ بینظیر بھٹو سے نہیں ہوئی تھی، حاکم علی زرداری 1970 میں چالیس سال کی عمر میں پیپلز پارٹی کے رکنِ قومی اسمبلی تھے۔ ایم آر ڈی کے دوران رسول بخش پلیجو، شہید فاضل راہو اور سید عالم شاہ کے ساتھ مل کر انہوں نے ولی خان، اجمل خٹک اور افراسیاب خٹک کے ہمراہ عوامی نیشنل پارٹی کی بنیاد رکھی۔
بینظیر اور آصف کی سیاست کی وجہ سے انہیں کئی بار قید کیا گیا، لیکن ان پر کبھی کوئی الزام ثابت نہیں ہوا۔ ہمارے ہاں تحقیق کے بغیر لوگوں کے بارے میں دقیانوسی باتیں پھیلا کر انہیں کمتر دکھانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ میں نے اپنی محدود ملاقاتوں میں انہیں ایک باوقار، سلجھے ہوئے، پڑھے لکھے اور عزت دینے اور لینے والے انسان کے طور پر دیکھا۔ وہ پیپلز پارٹی کا حصہ ضرور بنے، لیکن میرا خیال ہے کہ انہوں نے عوامی تحریک کے ساتھیوں اور پلیجو صاحب سے اپنا تعلق کبھی ختم نہیں کیا۔
بات سندھی فلم سے شروع ہوئی تھی اور کہاں سے کہاں پہنچ گئی۔ زندگی دراصل کہانیوں کا مجموعہ ہے، اور فلم اس کا عکس ہوتی ہے، بشرطیکہ وہ صحیح لکھنے والے، پیش کرنے والے اور اداکاروں کے ہاتھ میں ہو۔
جنرل ضیا کے مارشل لا والے دنوں میں سندھ ہر حوالے سے متاثر ہوا۔ سندھ کی مضبوط طلبہ تنظیموں کو تقسیم کرکے اور لڑا کر ایک دوسرے کا جانی دشمن بنایا گیا۔ طلبہ تنظیموں کے جھگڑوں میں کئی نوجوان مارے گئے۔ یہ وہ دن تھے جب سندھ کی طلبہ تنظیمیں ایک دوسرے کے خلاف متحارب تھیں۔
چانڈکا میڈیکل کالج لاڑکانہ، ڈگری کالج لاڑکانہ، شاہ عبداللطیف یونیورسٹی خیرپور، ٹیکنیکل کالج خیرپور، سپیریئر سائنس کالج خیرپور، قائد عوام انجینئرنگ یونیورسٹی نواب شاہ، ایل ایم سی جامشورو، مہران یونیورسٹی جامشورو اور سندھ یونیورسٹی جامشورو شدید متاثر ہوئے۔ ایک دوسرے پر فائرنگ معمول بن گئی۔
جولائی 1983 میں چانڈکا میڈیکل کالج لاڑکانہ میں بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے کارکنوں کی فائرنگ میں جیئے سندھ چانڈکا کے رہنما میر اشتیاق ٹالپر قتل ہوگئے۔ 1983 اور 1984 کے سال چانڈکا میڈیکل کالج اور ڈگری کالج لاڑکانہ سپاف اور جساف کے درمیان جھگڑوں کی وجہ سے میدانِ جنگ بنے رہے۔
1984 میں چانڈکا میں جیئے سندھ والوں کی فائرنگ کے نتیجے میں روپ چند قتل ہوگیا جبکہ صفی اللہ جوکھیو سینے میں گولی لگنے سے شدید زخمی ہوگیا۔ مطلب طلبہ تنظیموں کے جھگڑوں میں کافی طلبہ مارے گئے۔
1984 میں پورے سندھ میں جیئے سندھ اور سپاف کے یہ جھگڑے شدت اختیار کر گئے۔ انہی جھگڑوں کے دوران 17 اکتوبر 1984 کو ٹوڑی پھاٹک کے مقام پر سندھ یونیورسٹی جامشورو سے چانڈکا میڈیکل کالج لاڑکانہ جانے والے طلبہ کی بسوں پر قانون نافذ کرنے والے اداروں نے فائرنگ کی، جس کے نتیجے میں پانچ نوجوان، انور عباسی، ذکریا میمن، امان اللہ وسطڑو، مالک خشک اور مٹھو بلیڈی کی موت ہوگئی۔
گل محمد جکھرانی، دودو مہیری، ستار موریو، نظیر تونیو، اقبال تونیو عرف دریا خان، عمرالدین زرداری، سکندر میرانی سمیت کئی طلبہ گرفتار کیے گئے۔ اگر ٹوڑی پھاٹک والا واقعہ نہ ہوتا تو چانڈکا اور ڈگری کالج لاڑکانہ میں جساف اور سپاف کے درمیان تاریخی خونریزی ہوتی۔
1983 سے 1986 تک کے تین سال تعلیمی ادارے جھگڑوں اور مسلح گروہوں کے قبضے میں رہے۔ اکثر تعلیمی ادارے انہی جھگڑوں کی وجہ سے بند رہے۔ جیئے سندھ کے اندر بھی تنظیمی ٹوٹ پھوٹ کا عمل شروع ہوا۔ جیئے سندھ کے ایک دھڑے کو صالحین اور دوسرے دھڑے کو کھڑتالی گروپ کہا گیا۔
کھڑتالی گروپ نے سندھ یونیورسٹی کی آرٹس فیکلٹی کے پاس جیئے سندھ کے دوسرے دھڑے کے رہنما ذوالفقار منگی پر ستار راجپر، غلام نبی سہاغ اور دیگر کے ساتھ حملہ کیا، مگر قادر مگسی اور دوسرے ساتھی پہنچ گئے اور ذوالفقار منگی کو بچا لیا۔
جیئے سندھ کے دونوں گروپوں میں جھگڑے شدت اختیار کرتے گئے۔ 16 مارچ 1986 کو ایل ایم سی میں جیئے سندھ کے کھڑتالی گروپ کے حملے میں جیئے سندھ کے ایک دھڑے کا کمال راہمون قتل ہوگیا اور ڈاکٹر قادر مگسی سمیت کئی طلبہ زخمی ہوئے۔
کچھ عرصے بعد 1986 میں ہی جساف کے کچھ کارکنوں نے سندھ یونیورسٹی جامشورو میں سپاف کے سابق مرکزی صدر مرحوم امیر علی ایری اور جمیل سومرو (موجودہ ایم پی اے لاڑکانہ) کو مبینہ طور پر اغوا کرکے سندھ یونیورسٹی ہاسٹل میں یرغمال بنایا اور ان کی تذلیل کی۔
اسی دوران سندھ یونیورسٹی، ایل ایم سی اور مہران یونیورسٹی سے سپاف اور جیئے سندھ کے کھڑتالی گروپ کے رہنماؤں اور کارکنوں کو نکالنے کا سلسلہ شروع ہوا۔ سپاف اور کھڑتالی گروپ کے کارکنوں کے سندھ یونیورسٹی میں داخلے پر پابندی لگا دی گئی۔
جساف کے کارکن مسلح ہو کر سندھ یونیورسٹی کے ہاسٹلوں پر قابض ہوگئے۔
ان دنوں مرحوم سید غوث علی شاہ، ڈاکٹر عبدالستار راجپر، ظفر راجپر، اقبال نظامانی اور دوسرے لوگ جساف کھڑتالی گروپ کی قیادت کر رہے تھے۔ جساف کی جانب سے سپاف اور کھڑتالی گروپ کو سندھ یونیورسٹی سے نکالنے اور امیر علی ایری کی تذلیل کے بعد سپاف اور کھڑتالی گروپ کے لوگ جامشورو کے تینوں اداروں سے نکل کر ایل ایم سی سٹی ہاسٹل میں آ کر رہنے لگے، جو اب سول ہسپتال حیدرآباد کی او پی ڈی کے قریب واقع ہے۔ وہاں سے سندھ یونیورسٹی پر دوبارہ قبضے کی منصوبہ بندی شروع ہوئی۔
فقیر اقبال ہیسبانی اور فقیر بخش ہیسبانی سندھ کے مشہور صوفی بزرگ شاعر فقیر خوش خیر محمد ہیسبانی کے خاندان سے تعلق رکھتے تھے۔ ان کا گاؤں ضلع خیرپور کے تعلقہ فیض گنج میں واقع ہے۔ فقیر اقبال ہیسبانی نے ابتدائی تعلیم اپنے گاؤں سے حاصل کی، بعد میں سپیریئر سائنس کالج خیرپور اور شاہ عبداللطیف یونیورسٹی میں تعلیم حاصل کی۔
انہوں نے سپاف میں شمولیت اختیار کی اور مارشل لا کے خلاف احتجاج کے الزام میں گرفتار ہو کر سینٹرل جیل خیرپور اور سینٹرل جیل کراچی میں قید رہے۔
1985 میں بے نظیر بھٹو صاحبہ نے سپاف کی مرکزی باڈی تحلیل کر دی اور نئی تنظیم سازی کے لیے امیر علی ایری کو سپاف کا مرکزی آرگنائزر مقرر کیا۔ امیر علی ایری کی کوششوں سے 1985 میں چانڈکا میڈیکل کالج لاڑکانہ میں سپاف اور پی ایس ایف کا آل پاکستان ورکرز کنونشن منعقد ہوا۔
فیصلہ کیا گیا کہ سپاف کے مرکزی انتخابات 5 جنوری 1986 کو گڑھی خدا بخش بھٹو میں منعقد ہوں گے۔
پانچ جنوری 1986 کو گڑھی خدا بخش بھٹو میں سپاف کے مرکزی انتخابات منعقد ہوئے۔ فقیر اقبال ہیسبانی سپاف کی مرکزی صدارت کے امیدوار تھے۔ بعد میں وہ سپاف کے مرکزی صدر منتخب ہوئے۔
10 اپریل 1986 کو بے نظیر بھٹو صاحبہ نے جلاوطنی ختم کرکے لاہور واپسی کا اعلان کیا۔ فقیر اقبال ہیسبانی نے بے نظیر بھٹو کی چیف سیکیورٹی انچارج کے طور پر پنجاب اور سندھ میں ذمہ داریاں ادا کیں۔
فقیر اقبال ہیسبانی کا قتل
30 مئی 1986 کی رات، 21 رمضان المبارک 1406ھ، فجر کی اذان کے وقت محمد علی جکھرانی اور ان کے ساتھی رکشے میں کلاشنکوف اور ہزاروں گولیاں لے کر پٹھان کالونی کی چڑھائی سے گزر رہے تھے کہ پولیس اور فورسز نے انہیں روک لیا۔ تلاشی کے دوران محمد علی جکھرانی وہاں سے نکل کر سٹی ہاسٹل پہنچ گئے، مگر ان کا ایک ساتھی گرفتار ہوگیا۔
محمد علی جکھرانی نے فقیر اقبال ہیسبانی اور دوسرے ساتھیوں کو صورتحال بتائی۔ فقیر اقبال ہیسبانی، لالا جہانگیر پٹھان اور ظفر راجپر کے ساتھ گرفتار ساتھی کو چھڑانے نکلے۔ جیسے ہی ان کی گاڑی سٹی ہاسٹل سے پٹھان کالونی کی طرف بڑھی، سول ہسپتال حیدرآباد کے پیچھے موجود فورسز اور پولیس نے فائرنگ شروع کر دی۔
شدید فائرنگ کے بعد جب ہم موقع پر پہنچے تو فقیر اقبال ہیسبانی گاڑی میں فوت ہوچکے تھے جبکہ لالا جہانگیر شدید زخمی تھے۔ ہم دونوں کو سول ہسپتال حیدرآباد لے گئے۔ کچھ دیر بعد ہسپتال کو پولیس اور ایف سی نے گھیرے میں لے لیا۔ سپاف کے کارکنوں نے ہسپتال کی عمارت پر قبضہ کر لیا اور مورچے سنبھال لیے۔ قیدیوں کے وارڈ پر تعینات آٹھ پولیس اہلکاروں کو یرغمال بنا لیا گیا اور ان کے ہتھیار لے لیے گئے۔
بعد میں بے نظیر بھٹو کی ہدایات پر مخدوم خلیق الزمان، سید علی نواز شاہ، ملک لال خان، الٰہی بخش قائمخانی، سید حسین شاہ بخاری، مولا بخش چانڈیو اور دیگر رہنماؤں نے انتظامیہ سے مذاکرات کیے۔ آخرکار شام تک مذاکرات کامیاب ہوئے، یرغمال پولیس اہلکاروں اور ہتھیاروں کو واپس کیا گیا اور فقیر اقبال ہیسبانی کی میت ان کے گاؤں لے جائی گئی جہاں ہزاروں سوگواروں کی موجودگی میں تدفین ہوئی۔
تعزیتی جلسے میں سید غوث علی شاہ، ڈاکٹر ستار راجپر اور دیگر رہنماؤں نے جساف کھڑتالی گروپ کو ختم کرکے سپاف میں ضم کرنے کا اعلان کیا۔
لالا جہانگیر پٹھان سلطان کوٹ کے رہائشی تھے اور سپاف کے مرکزی رہنماؤں میں شمار ہوتے تھے۔ وہ اس حملے میں زخمی ہوئے اور ریڑھ کی ہڈی متاثر ہونے کے باعث عمر بھر کے لیے معذور ہوگئے۔ بعد میں 6 فروری 1999 کو انہوں نے شکارپور میں ایک پریس کانفرنس کے دوران خودکشی کر لی۔
بعد میں کئی ساتھی پولیس، ایف آئی اے، کسٹمز، پی آئی اے اور دیگر سرکاری اداروں میں ملازم ہوگئے، جبکہ کچھ غربت کی زندگی گزارتے رہے۔ کئی دوست اس دنیا سے رخصت ہوگئے۔
اگست 1988 میں جنرل ضیا 34 فوجی افسران سمیت بہاولپور کے قریب فضائی حادثے میں مارا گیا۔ اس کے بعد عام انتخابات ہوئے اور بے نظیر بھٹو وزیر اعظم بن گئیں۔ مارچ 1989 میں ٹوڑی واقعے کے قیدی عدالت سے ضمانت پر رہا ہوئے اور سندھ بھر میں ان کا شاندار استقبال کیا گیا۔
سندھ، جو تاریخی طور پر صوفی روایتوں، رواداری اور مضبوط سیاسی شعور کی سرزمین رہی ہے، اس وقت ایک گہرے بحران سے گزر رہی ہے۔ ایک طرف بلوچستان اور خیبرپختونخوا کے قبائلی معاشرے اپنے لوگوں کے تحفظ کے لیے ‘اجتماعی غیرت’ اور فوری ردعمل کا مظاہرہ کرتے ہیں، جبکہ دوسری طرف سندھ میں پریا کماری، فضیلا سرکی جیسی بیٹیاں برسوں سے لاپتہ ہیں اور سعید میمن جیسے بے گناہ شہری اغوا ہو چکے ہیں، مگر سندھ کا معاشرہ کسی بڑی اجتماعی تحریک کو جنم دینے میں ناکام رہا ہے۔
سندھی سماج اس وقت اندرونی اور بیرونی دونوں محاذوں پر ناکامی کا شکار ہے۔ قبائلی جھگڑے، کاروکاری، سرداری اور وڈیرا شاہی نظام کی خوشامد، اور سوشل میڈیا کا غیر اخلاقی استعمال، فحش ویڈیوز، نازیبا پوسٹس، غیبت اور کردار کشی اس حد تک بڑھ چکے ہیں کہ شریف لوگ اور خواتین فیس بک استعمال کرنے سے نفرت محسوس کرنے لگے ہیں۔
قومی وسائل کی لوٹ مار پر خاموشی اور کراچی کو سندھ سے الگ کرنے کی سازشوں کے خلاف مؤثر مزاحمت کا نہ ہونا ایک بڑا المیہ ہے۔
اہم سوالات
سندھی معاشرہ اپنی بیٹیوں اور شہریوں کے اغوا پر ویسا ردعمل کیوں نہیں دیتا جیسا پشتون یا بلوچ معاشرہ دیتا ہے؟
سندھی نوجوانوں کے شعور کو مضبوط بنانے کے بجائے سوشل میڈیا اخلاقی زوال کا سبب کیوں بن رہا ہے؟
سرداری نظام اور ‘بھوتار کلچر’ نے سندھیوں کی اجتماعی جدوجہد کو کیسے مفلوج کر دیا ہے؟
قبائلی معاشرہ بمقابلہ زرعی اور جاگیردارانہ معاشرہ
پشتون اور بلوچ معاشرے آج بھی اپنے خالص قبائلی ڈھانچے پر قائم ہیں، جہاں ‘قبیلے کی عزت و ناموس’ کے لیے سب متحد ہو جاتے ہیں۔ اس کے برعکس سندھ کی صورتحال مختلف ہے۔ یہاں سردار یا وڈیرا قبیلے کا محافظ نہیں بلکہ اکثر اس کا استحصال کرنے والا بن چکا ہے۔ سندھی عوام کو معاشی طور پر اتنا کمزور کر دیا گیا ہے کہ وہ اپنی بقا کی جنگ میں پوری قوم کے درد کو بھول بیٹھے ہیں۔
جب بلوچستان سے سعید میمن اغوا ہوتا ہے تو سندھ کی کسی بڑی سیاسی یا سماجی قوت کی طرف سے بلوچستان جا کر احتجاج کرنے کا اعلان سامنے نہیں آتا۔ یہ سندھ کی قیادت اور سماجی تنظیموں کی کمزوری اور خوف کی علامت ہے۔
پریا کماری، جو اقلیتی برادری سے تعلق رکھتی ہے، اور فضیلا سرکی، جو ایک غریب خاندان سے تعلق رکھتی ہے، کا برسوں تک لاپتہ رہنا اس بات کا ثبوت ہے کہ موجودہ ریاستی اور سماجی ڈھانچہ صرف طاقتور اور امیر کے تحفظ کے لیے کھڑا ہے۔
سوشل میڈیا اور فکری زوال
فیس بک پر سندھی سماج کا ایک بڑا حصہ قومی حقوق کی بات کرنے کے بجائے ان امور میں مصروف ہے:
وڈیروں کی خوشامد
بھوتاروں کی بے جا تعریف
ایک دوسرے پر کیچڑ اچھالنا
ایک دوسرے کی ٹانگ کھینچنا
حالانکہ سوشل میڈیا معلومات، شعور اور سیکھنے کا ایک مضبوط ذریعہ ہو سکتا تھا، مگر وہاں فحش مواد اور غیر اخلاقی پوسٹس کا عام ہونا اس بات کی علامت ہے کہ معاشرے میں فکری خلا پیدا ہو چکا ہے۔ جب کسی قوم کے پاس کوئی بڑا مقصد یا نظریہ نہ ہو تو نوجوان اسی قسم کی اخلاقی گراوٹ کا شکار ہو جاتے ہیں۔
کراچی اور سندھ کی وحدت
اس وقت سندھ کو توڑنے اور کراچی کو الگ کرنے کے مختلف منصوبے زیر بحث رہتے ہیں۔ کراچی سندھ کی معاشی اور سیاسی روح ہے، مگر اس کے باوجود سندھی عوام کی مزاحمت زیادہ تر صرف انتخابات تک محدود ہو چکی ہے۔
تاریخ میں سندھ نے ون یونٹ کے خلاف اور ایم آر ڈی جیسی عظیم تحریکیں چلائیں، مگر آج وہ اجتماعی قومی شعور کمزور پڑ چکا ہے۔ اقتدار میں بیٹھے وڈیرے میرٹ کا قتل کر کے نوجوانوں کو محرومیوں میں دھکیل رہے ہیں، جبکہ سیاسی جماعتیں اقتدار کی خاطر اسٹیبلشمنٹ کے سامنے اجتماعی قومی شعور کا سودا کر چکی ہیں۔
یہ بے حسی کیوں؟
سندھی قوم کی یہ بے حسی کوئی فطری یا پیدائشی چیز نہیں بلکہ ایک گہری ‘سماجی بیماری’ ہے۔ جاگیردارانہ نظام، تباہ حال تعلیم، ریاستی بے حسی اور سوشل میڈیا کے غلط استعمال نے مل کر سندھی معاشرے کو مفلوج کر دیا ہے۔
جہاں پشتون اور بلوچ اپنی روایات سے طاقت لیتے ہیں، وہاں سندھی سماج اپنے ہی سرداروں کے پیدا کردہ قبائلی جھگڑوں اور کاروکاری جیسے ناسور میں الجھا ہوا ہے۔
حل کیا ہے؟
ایسی صورتحال میں سندھی دانشوروں، ادیبوں اور باشعور نوجوانوں کو فیس بک اور دیگر پلیٹ فارمز پر منظم انداز میں موجودہ بھوتار کلچر، سندھ کی تقسیم کی سازشوں اور اخلاقی زوال کے خلاف ایک فکری جدوجہد شروع کرنا ہوگی۔
قبائلی جھگڑے کرانے والے سرداروں اور بیٹیوں کے اغوا پر خاموش رہنے والوں کا سماجی بائیکاٹ کرنا ہوگا۔
سندھ کو وڈیرا شاہی کی خوشامد سے نکالنے کے لیے متوسط طبقے اور پڑھے لکھے نوجوانوں کو آگے آ کر مظلوموں کے حق میں آواز بلند کرنا ہوگی۔
سوشل میڈیا کی گندگی سے نکل کر عملی میدان میں ایک دوسرے کا ساتھ دینا ہوگا۔
سندھ ابھی مکمل طور پر سویا نہیں ہے۔ جہاں ایسے سوال اٹھتے ہیں، وہاں کل تبدیلی کی لہر بھی ضرور جنم لیتی ہے۔ مگر اس کے لیے سندھ سے محبت رکھنے والی تمام قوتوں کو متحد ہو کر عملی جدوجہد کرنا ہوگی۔