Tag: سندھ

  • سندھ کا تعلیمی تضاد: جب 90 ہزار بھرتیاں 40 مارکس پر، ارلی چائلڈہڈ خواتین ٹیچرز کے لیے 55 مارکس کی شرط کیوں؟

    سندھ کا تعلیمی تضاد: جب 90 ہزار بھرتیاں 40 مارکس پر، ارلی چائلڈہڈ خواتین ٹیچرز کے لیے 55 مارکس کی شرط کیوں؟

    صوبہ سندھ میں ابتدائی تعلیم کے معیار کو بہتر بنانے کے لیے بی پی ایس 15 میں ارلی چائلڈہڈ ٹیچر (ای سی ٹی) کی بھرتیوں کا عمل جاری ہے، تاہم اس عمل میں پالیسی اور میرٹ کے درمیان عدم توازن پر سوالات اٹھنے لگے ہیں، خصوصاً خواتین امیدواروں کے حوالے سے صورتحال تشویش کا باعث بن گئی ہے۔

    تعلیمی ماہرین کے مطابق ای سی ٹی کا شعبہ بچوں کی بنیادی تعلیم اور ذہنی نشوونما میں اہم کردار ادا کرتا ہے، مگر اس وقت بھی 600 سے زائد اسامیاں خالی پڑی ہیں، جو انتظامی کمزوری اور تعلیمی نظام کی عملی ناکامی کو ظاہر کرتی ہیں۔ دوسری جانب بڑی تعداد میں تعلیم یافتہ اور تربیت یافتہ خواتین امیدوار محض چند نمبروں کی کمی کے باعث میرٹ لسٹ میں شامل نہیں ہو سکیں۔

    ذرائع کے مطابق متعدد خواتین امیدواروں نے آئی بی اے سکھر کے زیر اہتمام ہونے والے امتحان میں شرکت کی اور بی ایڈ و ایم ایڈ جیسی پیشہ ورانہ ڈگریاں بھی رکھتی ہیں، تاہم ایک یا دو نمبروں کے فرق نے ان کے لیے ملازمت کے دروازے بند کر دیے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ صورتحال پالیسی میں سختی کی عکاسی کرتی ہے، جہاں معمولی فرق بھی فیصلہ کن ثابت ہو رہا ہے۔

    دیہی اور پسماندہ علاقوں میں خواتین کے لیے روزگار کے مواقع پہلے ہی محدود ہیں، ایسے میں اس طرح کی صورتحال نہ صرف انفرادی سطح پر ناانصافی ہے بلکہ مجموعی طور پر خواتین کی شمولیت کو بھی متاثر کرتی ہے۔

    یاد رہے کہ ماضی میں سندھ حکومت مختلف بھرتیوں میں پالیسی میں نرمی کا مظاہرہ کر چکی ہے۔ 2021 کی پی ایس ٹی بھرتیوں میں پاسنگ مارکس 55 سے کم کر کے 40 کیے گئے، جس کے نتیجے میں تقریباً 90 ہزار امیدواروں کو ملازمتیں دی گئیں، جبکہ ہارڈ ایریاز میں 33 نمبر حاصل کرنے والوں کو بھی کامیاب قرار دیا گیا۔ اسی طرح 2018 کی ای سی ٹی بھرتیوں میں بھی کم نمبروں پر امیدواروں کو موقع دیا گیا۔

    سرکاری پالیسی کے مطابق 17 مئی 2022 کو خواتین اور اقلیتوں کے لیے 40 فیصد نمبر مقرر کیے گئے تھے، جبکہ 19 مارچ 2021 کے نوٹیفکیشن کے تحت تھرپارکر، ٹھٹھہ، سجاول، کشمور، کندھ کوٹ اور دادو کو ہارڈ ایریاز قرار دیا گیا، جہاں اساتذہ کی شدید کمی ہے۔

    اعداد و شمار کے مطابق خواتین ای سی ٹی کے لیے 1188 نشستیں مختص کی گئیں، تاہم صرف 585 امیدوار کامیاب ہو سکیں، جس کے باعث بڑی تعداد میں اسامیاں خالی رہ گئیں۔ تھرپارکر سمیت کئی علاقوں میں کامیابی کی شرح انتہائی کم رہی، جو موجودہ پالیسی کی ناکامی کو ظاہر کرتی ہے۔

    جب خالی نشستیں موجود ہوں اور اہل امیدوار دستیاب ہوں تو مختلف بھرتیوں میں مختلف معیار کا اطلاق شفافیت پر سوال اٹھاتا ہے۔ اگر ماضی میں کم نمبروں پر بھرتیاں کی جا سکتی ہیں تو 50 سے زائد نمبر حاصل کرنے والی خواتین کو نظر انداز کرنے کی کوئی وجہ نہیں بنتی۔

    سیاسی و سماجی حلقوں کا کہنا ہے کہ خواتین کو بااختیار بنانا وقت کی اہم ضرورت ہے اور اگر ای سی ٹی بھرتیوں میں پاسنگ مارکس 55 کے بجائے 50 یا 40 کیے جائیں تو نہ صرف خالی نشستیں پُر ہو سکتی ہیں بلکہ اہل خواتین کو بھی مواقع مل سکتے ہیں۔

    خاص طور پر ہارڈ ایریاز میں متعدد خواتین امیدواروں نے مشکلات کے باوجود 50 سے 54 نمبر حاصل کیے، مگر وہ میرٹ سے باہر رہ گئیں۔ ماہرین کے مطابق انہیں موقع دینا نہ صرف انصاف کے تقاضوں کے مطابق ہوگا بلکہ تعلیمی نظام کے لیے بھی فائدہ مند ثابت ہو سکتا ہے۔

    خواتین امیدواروں نے حکومت سندھ سے مطالبہ کیا ہے کہ ای سی ٹی بھرتیوں کی پالیسی پر نظرثانی کی جائے اور خواتین کے لیے پاسنگ مارکس میں نرمی لائی جائے۔ اقلیتی خواتین کے لیے 5 فیصد کوٹے کے تحت 40 سے زائد نمبر پر رعایت دینے یا کم از کم 50 نمبر مقرر کرنے کی تجویز بھی دی گئی ہے، تاکہ خالی اسامیاں جلد پُر ہو سکیں اور تعلیمی نظام مؤثر انداز میں چلایا جا سکے۔

     

  • سندھ میں خواتین اساتذہ کی بھرتیوں کا معاملہ: پالیسی اور میرٹ میں عدم توازن پر سوالات

    سندھ میں خواتین اساتذہ کی بھرتیوں کا معاملہ: پالیسی اور میرٹ میں عدم توازن پر سوالات

    صوبہ سندھ میں ابتدائی تعلیم کے معیار کو بہتر بنانے کے لیے بی پی ایس 15 میں ارلی چائلڈہڈ ٹیچر (ای سی ٹی) کی بھرتیوں کا عمل جاری ہے، تاہم اس عمل میں پالیسی اور میرٹ کے درمیان عدم توازن پر سوالات اٹھنے لگے ہیں، خصوصاً خواتین امیدواروں کے حوالے سے صورتحال تشویش کا باعث بن گئی ہے۔

    تعلیمی ماہرین کے مطابق ای سی ٹی کا شعبہ بچوں کی بنیادی تعلیم اور ذہنی نشوونما میں اہم کردار ادا کرتا ہے، مگر اس وقت بھی 600 سے زائد اسامیاں خالی پڑی ہیں، جو انتظامی کمزوری اور تعلیمی نظام کی عملی ناکامی کو ظاہر کرتی ہیں۔ دوسری جانب بڑی تعداد میں تعلیم یافتہ اور تربیت یافتہ خواتین امیدوار محض چند نمبروں کی کمی کے باعث میرٹ لسٹ میں شامل نہیں ہو سکیں۔

    ذرائع کے مطابق متعدد خواتین امیدواروں نے آئی بی اے سکھر کے زیر اہتمام ہونے والے امتحان میں شرکت کی اور بی ایڈ و ایم ایڈ جیسی پیشہ ورانہ ڈگریاں بھی رکھتی ہیں، تاہم ایک یا دو نمبروں کے فرق نے ان کے لیے ملازمت کے دروازے بند کر دیے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ صورتحال پالیسی میں سختی کی عکاسی کرتی ہے، جہاں معمولی فرق بھی فیصلہ کن ثابت ہو رہا ہے۔

    دیہی اور پسماندہ علاقوں میں خواتین کے لیے روزگار کے مواقع پہلے ہی محدود ہیں، ایسے میں اس طرح کی صورتحال نہ صرف انفرادی سطح پر ناانصافی ہے بلکہ مجموعی طور پر خواتین کی شمولیت کو بھی متاثر کرتی ہے۔

    یاد رہے کہ ماضی میں سندھ حکومت مختلف بھرتیوں میں پالیسی میں نرمی کا مظاہرہ کر چکی ہے۔ 2021 کی پی ایس ٹی بھرتیوں میں پاسنگ مارکس 55 سے کم کر کے 40 کیے گئے، جس کے نتیجے میں تقریباً 90 ہزار امیدواروں کو ملازمتیں دی گئیں، جبکہ ہارڈ ایریاز میں 33 نمبر حاصل کرنے والوں کو بھی کامیاب قرار دیا گیا۔ اسی طرح جے ای ایس ٹی اور 2018 کی ای سی ٹی بھرتیوں میں بھی کم نمبروں پر امیدواروں کو موقع دیا گیا۔

    سرکاری پالیسی کے مطابق 17 مئی 2022 کو خواتین اور اقلیتوں کے لیے 40 فیصد نمبر مقرر کیے گئے تھے، جبکہ 19 مارچ 2021 کے نوٹیفکیشن کے تحت تھرپارکر، ٹھٹھہ، سجاول، کشمور، کندھ کوٹ اور دادو کو ہارڈ ایریاز قرار دیا گیا، جہاں اساتذہ کی شدید کمی ہے۔

    اعداد و شمار کے مطابق خواتین ای سی ٹی کے لیے 1188 نشستیں مختص کی گئیں، تاہم صرف 585 امیدوار کامیاب ہو سکیں، جس کے باعث بڑی تعداد میں اسامیاں خالی رہ گئیں۔ تھرپارکر سمیت کئی علاقوں میں کامیابی کی شرح انتہائی کم رہی، جو موجودہ پالیسی کی ناکامی کو ظاہر کرتی ہے۔

    جب خالی نشستیں موجود ہوں اور اہل امیدوار دستیاب ہوں تو مختلف بھرتیوں میں مختلف معیار کا اطلاق شفافیت پر سوال اٹھاتا ہے۔ اگر ماضی میں کم نمبروں پر بھرتیاں کی جا سکتی ہیں تو 50 سے زائد نمبر حاصل کرنے والی خواتین کو نظر انداز کرنے کی کوئی واضح وجہ نہیں بنتی۔

    سیاسی و سماجی حلقوں کا کہنا ہے کہ خواتین کو بااختیار بنانا وقت کی اہم ضرورت ہے اور اگر ای سی ٹی بھرتیوں میں پاسنگ مارکس 55 کے بجائے 50 یا 40 کیے جائیں تو نہ صرف خالی نشستیں پُر ہو سکتی ہیں بلکہ اہل خواتین کو بھی مواقع مل سکتے ہیں۔

    خاص طور پر ہارڈ ایریاز میں متعدد خواتین امیدواروں نے مشکلات کے باوجود 50 سے 54 نمبر حاصل کیے، مگر وہ میرٹ سے باہر رہ گئیں۔ ماہرین کے مطابق انہیں موقع دینا نہ صرف انصاف کے تقاضوں کے مطابق ہوگا بلکہ تعلیمی نظام کے لیے بھی فائدہ مند ثابت ہو سکتا ہے۔

    خواتین امیدواروں نے حکومت سندھ سے مطالبہ کیا ہے کہ ای سی ٹی بھرتیوں کی پالیسی پر نظرثانی کی جائے اور خواتین کے لیے پاسنگ مارکس میں نرمی لائی جائے۔ اقلیتی خواتین کے لیے 5 فیصد کوٹے کے تحت 40 سے زائد نمبر پر رعایت دینے یا کم از کم 50 نمبر مقرر کرنے کی تجویز بھی دی گئی ہے، تاکہ خالی اسامیاں جلد پُر ہو سکیں اور تعلیمی نظام مؤثر انداز میں چلایا جا سکے۔

     

  • سندھ کی سڑکوں سے متعلق وائرل نوٹیفیکیشن، حقیقت کیا ہے؟

    سندھ کی سڑکوں سے متعلق وائرل نوٹیفیکیشن، حقیقت کیا ہے؟

    سوشل میڈیا پر ان دنوں ایک نوٹیفیکیشن بہت تیزی سے وائرل ہو رہا ہے۔ اس میں دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ سندھ کی آٹھ اہم سڑکوں کو ڈبل کیرج وے بنانے کی منظوری دے دی گئی ہے۔ اسی خبر پر بہت سے لوگ خوشی کا اظہار کر رہے ہیں، سندھ حکومت کو مبارکباد دے رہے ہیں اور امید ظاہر کر رہے ہیں کہ ان سڑکوں کی تعمیر سے عوام کو درپیش مشکلات کم ہو جائیں گی۔

    لیکن سوال یہ ہے کہ اس نوٹیفیکیشن کی اصل حقیقت کیا ہے؟

    حقیقت دراصل اس سے کچھ مختلف ہے۔

    محکمہ ورکس اینڈ سروسز نے ابھی صرف اپنے متعلقہ اداروں سے مختلف منصوبوں کے لیے پروپوزلز، یعنی تجاویز، طلب کیے ہیں۔ یعنی ابھی صرف یہ کہا گیا ہے کہ ممکنہ منصوبوں کی نشاندہی کی جائے اور ان کے بارے میں تفصیلی تجاویز تیار کی جائیں۔

    ان تجاویز میں ایک اہم منصوبہ کراچی سے سیہون تک نئی سڑک کی تعمیر کا بھی شامل ہے۔ یہ تقریباً 263 کلومیٹر طویل منصوبہ بتایا جا رہا ہے، جو ناردرن بائی پاس کراچی سے شروع ہو کر گورکھ ہِل کے قریب کھیرتھر کے پہاڑی سلسلے سے گزرتا ہوا سیہون تک پہنچے گا۔ یہ منصوبہ کافی عرصے سے زیرِ بحث ہے، لیکن ابھی تک صرف تجویز کی حد تک ہی ہے۔

    اسی طرح ٹھٹھہ سے بدین تک سڑک کو ڈبل کیرج وے بنانے کے لیے بھی پروپوزل طلب کیا گیا ہے۔ یہ تقریباً 112 کلومیٹر طویل سڑک ہے جو اپنی خطرناک صورتحال کے باعث بدنام ہے۔ اس روڈ پر آئے روز حادثات پیش آتے ہیں، اسی لیے اس کی ڈبلائزیشن کی تجویز دی گئی ہے۔

    ایک اور منصوبہ میرپورخاص سے مٹھی تک سڑک کو دو رویہ بنانے کا ہے۔ یہ سڑک تقریباً 145 کلومیٹر طویل ہے اور یہاں بھی ٹریفک حادثات، خاص طور پر موٹر سائیکل حادثات، عام ہیں۔ اس لیے اس روڈ کی بہتری کو ضروری سمجھا جا رہا ہے۔

    اسی طرح دادو، ہِیتام جتوئی پھاٹک سے ڈوکری تک تقریباً 84 کلومیٹر سڑک کو بھی دو رویہ بنانے کی تجویز طلب کی گئی ہے۔

    مزید یہ کہ نوابشاہ سے سانگھڑ تک تقریباً 65 کلومیٹر سڑک کو ڈبل کیرج وے بنانے کا پروپوزل بھی مانگا گیا ہے۔

    اسی فہرست میں جیکب آباد سے کندھکوٹ تک تقریباً 100 کلومیٹر سڑک کو بھی دو رویہ بنانے کی تجویز شامل ہے۔

    یہ تمام سڑکیں واقعی ایسی ہیں جنہیں ڈبل کیرج وے بنانا وقت کی ضرورت سمجھا جاتا ہے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ ابھی تک ان منصوبوں کو منظوری نہیں ملی۔

    ماہرین کے مطابق وفاقی ترقیاتی بجٹ میں ان تمام منصوبوں کا شامل ہونا بظاہر مشکل نظر آتا ہے۔ اس کی ایک مثال جامشورو سے سیہون تک سڑک ہے، جسے دو رویہ بنانے کا منصوبہ تقریباً دس سال سے جاری ہے لیکن وہ بھی اب تک مکمل نہیں ہو سکا۔

    اسی لیے سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والے نوٹیفیکیشن کو حتمی منظوری سمجھنا درست نہیں۔ یہ صرف ابتدائی مرحلہ ہے جس میں مختلف منصوبوں کے لیے تجاویز طلب کی گئی ہیں۔

    باخبر ذرائع کے مطابق ان تمام تجاویز میں سے ممکن ہے کہ وفاق سندھ کے لیے مشکل سے ایک یا دو اسکیموں کو ہی ترقیاتی بجٹ میں شامل کرے۔

    لہٰذا عوام کو چاہیے کہ وائرل خبروں کو حتمی فیصلہ نہ سمجھیں، بلکہ اس حقیقت کو جانیں کہ یہ منصوبے ابھی صرف کاغذی ہیں۔

     

  • سرکاری اسکولوں کو براہ راست اختیار، سندھ میں اسکول اسپیسفک بجٹ ایپ کیسے کام کرتی ہے؟

    سرکاری اسکولوں کو براہ راست اختیار، سندھ میں اسکول اسپیسفک بجٹ ایپ کیسے کام کرتی ہے؟

    سندھ میں سرکاری اسکولوں کے نظام میں ایک اہم تبدیلی متعارف کرائی گئی ہے۔ اب صوبے کے سرکاری اسکولوں کو روزمرہ کے اخراجات کے لیے براہ راست مالی اختیار دیا جا رہا ہے۔ محکمہ تعلیم سندھ نے اس مقصد کے لیے اسکول اسپیسفک بجٹ جاری کیا ہے، جس کے تحت ہر اسکول کے لیے مختص رقم براہ راست اسی اسکول کے اکاؤنٹ میں منتقل کی جا رہی ہے۔

    اس اقدام کا مقصد یہ ہے کہ اسکول انتظامیہ چھوٹے مگر ضروری کاموں کے لیے بار بار دفاتر کے چکر نہ لگائے۔ اب اسٹیشنری کی خریداری، عمارت کی مرمت، کھیلوں کے سامان یا رنگ و روغن جیسے بنیادی کام اسکول خود انجام دے سکتے ہیں۔

    اس پورے نظام کو مؤثر بنانے کے لیے محکمہ تعلیم سندھ نے ایک ڈیجیٹل پلیٹ فارم اور موبائل ایپ بھی متعارف کرائی ہے، جسے اسکول اسپیسفک بجٹ ایپ کہا جاتا ہے۔ اس ایپ کے ذریعے اسکول انتظامیہ نہ صرف اپنا مختص بجٹ دیکھ سکتی ہے بلکہ اس کے استعمال کی مکمل تفصیل بھی جمع کروا سکتی ہے۔

    اس پلیٹ فارم کا آغاز ویب سائٹ سے ہوتا ہے۔ صارفین سب سے پہلے سرکاری ویب سائٹ

    [https://pdf.seld.gos.pk](https://pdf.seld.gos.pk)

    پر جاتے ہیں جہاں سے موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کا آپشن موجود ہے۔ یہ ایپ اینڈرائیڈ اور آئی او ایس دونوں فونز کے لیے دستیاب ہے۔ تاہم یہ یاد رکھنا ضروری ہے کہ اسکول اسپیسفک بجٹ ایپ صرف موبائل فون پر استعمال کی جا سکتی ہے۔

    رجسٹریشن کے لیے اسکول انتظامیہ کو سب سے پہلے اپنا Semis Code درج کرنا ہوتا ہے۔ یہ کوڈ ہر اسکول کے لیے منفرد ہوتا ہے اور ضلعی دفتر کی جانب سے فراہم کیا جاتا ہے۔ Semis Code کی تصدیق کے بعد صارف کو اپنی بنیادی معلومات درج کرنی ہوتی ہیں جن میں مکمل نام، موبائل نمبر، قومی شناختی کارڈ نمبر اور جنس شامل ہیں۔

    رجسٹریشن مکمل ہونے کے بعد صارف کے موبائل نمبر پر OTP یعنی ون ٹائم پاس ورڈ بھیجا جاتا ہے۔ اس کوڈ کو درج کرنے کے بعد اکاؤنٹ کامیابی سے فعال ہو جاتا ہے اور صارف موبائل ایپ میں لاگ اِن کر سکتا ہے۔

    ایپ میں لاگ اِن ہونے کے بعد اسکول کا ڈیش بورڈ سامنے آتا ہے جہاں اسکول کے لیے مختص کل بجٹ دکھایا جاتا ہے۔ یہ بجٹ مختلف کیٹیگریز میں تقسیم ہوتا ہے، جیسے Stationery، Repair & Maintenance، Sports اور دیگر ضروری اخراجات۔

    ہر کیٹیگری کے ساتھ اس کی مختص رقم اور باقی بچنے والا بجٹ بھی نظر آتا ہے، جس سے اسکول انتظامیہ بہتر منصوبہ بندی کر سکتی ہے۔

    جب اسکول کسی کیٹیگری کے تحت کوئی خریداری کرتا ہے، مثلاً اسٹیشنری خریدی جاتی ہے، تو اس کی تفصیل ایپ میں جمع کروانا ضروری ہوتا ہے۔ اس کے لیے متعلقہ کیٹیگری منتخب کر کے Submit Utilization کا آپشن استعمال کیا جاتا ہے۔

    اس مرحلے میں خریدی گئی اشیاء کی تفصیلات درج کی جاتی ہیں، جیسے کاپیاں، قلم یا دیگر اسٹیشنری۔ اس کے ساتھ خریداری کی انوائس یا رسید کی تصویر اور خریدی گئی اشیاء کی واضح تصاویر بھی اپ لوڈ کی جاتی ہیں۔

    اس نظام میں ایک اور اہم عنصر مصنوعی ذہانت یعنی AI کا استعمال ہے۔ جب اسکول اپنی تفصیل جمع کرواتا ہے تو AI سسٹم خودکار طور پر فارم میں درج معلومات، انوائس اور تصاویر کا موازنہ کرتا ہے۔ اس تجزیے کے بعد درخواست کو Verified، Pending Review  یا مزید جانچ کے لیے نشان زد کیا جا سکتا ہے۔

    یہی طریقہ دیگر کیٹیگریز، جیسے Repair & Maintenance میں بھی استعمال ہوتا ہے۔ اگر اسکول کی عمارت میں مرمت یا دیکھ بھال کا کام کیا جائے تو اس کی تفصیلات، انوائس اور کام کی تصاویر بھی اسی ایپ کے ذریعے جمع کروائی جاتی ہیں۔

    اس طرح یہ ڈیجیٹل نظام نہ صرف اسکولوں کو فوری مالی اختیار فراہم کرتا ہے بلکہ شفافیت اور احتساب کو بھی یقینی بناتا ہے۔ اب ہر خرچ کا ریکارڈ ڈیجیٹل طور پر محفوظ رہتا ہے اور اس کی جانچ بھی آسان ہو جاتی ہے۔

    یوں سندھ کے سرکاری اسکولوں میں متعارف ہونے والا اسکول اسپیسفک بجٹ سسٹم ایک ایسا قدم ہے جو انتظامی آسانی، شفافیت اور بہتر تعلیمی سہولیات کی طرف پیش رفت کی نشاندہی کرتا ہے۔

  • حیدرآباد: 1962 سے اب تک تقریباً ساڑھے 10 لاکھ ہندو مت کی مذہبی کتابیں چھاپنے والا ادارہ ’سندر شیوا منڈلی، کوٹری‘

    حیدرآباد: 1962 سے اب تک تقریباً ساڑھے 10 لاکھ ہندو مت کی مذہبی کتابیں چھاپنے والا ادارہ ’سندر شیوا منڈلی، کوٹری‘

    سندھ کے شہر حیدرآباد سے متصل کوٹری شہر کا پرنٹنگ پریس والا ادارہ ’سندر شیوا منڈلی‘ گزشتہ چھ دہائیوں میں ہندو مت کی مذہبی کتابوں کی تقریباً ساڑھے 10 لاکھ کاپیاں چھاپ چکا ہے۔

    اس پرنٹنگ پریس پر چھپنے والی مذہبی کتابوں میں ہندو مت کی مقدس کتاب شریمت بھگوت گیتا، رامائن، ہندو مت کے مختلف دیوتاؤں کی کتھائیں، کیلنڈر اور جنتریاں سمیت کئی کتابیں شامل ہیں۔

    ہندو دھرم کی جنتری، جسے سندھی زبان میں ’ٹپنو‘ کہا جاتا ہے، اس میں ہندو دھرم میں بچے کی پیدائش کے بعد اس کا مستقبل جاننے کے لیے بنائی جانے والی جنم کنڈلی سے لے کر نئے کاروبار کی شروعات، گھر کی منتقلی، چاند اور سورج گرہن اور موسموں کے احوال تک، اور شادی کے لیے موزوں وقت کا تعین کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔

    ’سندر شیوا منڈلی‘کے سربراہ سنتوش کمار خانوانی کے مطابق یہ ادارہ ان کے والد لیلا رام خانوانی نے 1962 میں کوٹری شہر سے شروع کیا۔

    1996 میں لیلا رام خانوانی کے انتقال کے بعد سنتوش کمار خانوانی نے ادارے کی ذمہ داریاں سنبھال لیں۔

    ساگا ڈیجیٹل سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے سنتوش کمار خانوانی نے کہا: ‘کچھ عرصہ قبل ہم نے ’سندر شیوا منڈلی‘ کو کوٹری سے حیدرآباد منتقل کیا۔ یہ ادارہ ہندو مذہب کی کتابیں شائع کرنے والا پاکستان کا منفرد اور بڑا ادارہ بن چکا ہے۔’

    سنتوش کمار خانوانی کے مطابق: ‘1962 سے اب تک تقریباً 10 ہزار کتابیں چھاپ چکے ہیں۔ ہر کتاب کے چھاپوں کو جمع کریں تو اب تک ساڑھے 10 لاکھ تک کتب چھپ چکی ہیں۔’

    انہوں نے مزید کہا کہ ہندو مذہب کی بیشتر مذہبی کتب ہندی زبان میں ہوتی ہیں، جنہیں ان کا ادارہ پہلے سندھی زبان میں ترجمہ کرتا ہے اور پھر کتابی شکل میں شائع کیا جاتا ہے۔ سندھی کے علاوہ اردو اور گُرمکھی زبان میں بھی اشاعت کا سلسلہ جاری ہے۔

    ’سندر شیوا منڈلی‘ نہ صرف مذہبی ورثے کے تحفظ کا ذریعہ ہے بلکہ پاکستان میں بین المذاہب ہم آہنگی اور ثقافتی تنوع کی ایک روشن مثال بھی ہے۔

  • دادو: خیرپور ناتھن شاہ کے قریب واقع قدیم ویر ناتھ مندر، خاموش اینٹوں میں سانس لیتی ایک روحانی داستان

    دادو: خیرپور ناتھن شاہ کے قریب واقع قدیم ویر ناتھ مندر، خاموش اینٹوں میں سانس لیتی ایک روحانی داستان

    سندھ کے ضلع دادو کے تعلقہ خیرپور ناتھن شاہ کے قدیم گاؤں بورڑی میں واقع ویر ناتھ مندر سندھ کے اُن تاریخی، ثقافتی اور روحانی ورثوں میں شمار ہوتا ہے جو آج اگرچہ خاموشی کی تصویر بنا ہوا ہے، مگر اپنے اندر صدیوں پر محیط ایک گہری روحانی تاریخ سموئے ہوئے ہے۔ یہ مندر صرف ایک عبادت گاہ نہیں بلکہ سندھ کی مشترکہ تہذیب، مذہبی ہم آہنگی اور روحانی روایات کا ایک اہم نشان بھی ہے۔

    تاریخی اور مقامی روایات کے مطابق ویر ناتھ مندر کی بنیاد میر دور سے بھی پہلے رکھی گئی تھی۔ کہا جاتا ہے کہ اس کی تعمیر سترہویں صدی کے اوائل یا اس سے بھی پہلے ہوئی، جس کا مطلب ہے کہ آج اس مندر کو کم از کم چار سے پانچ سو سال کا عرصہ بیت چکا ہے۔ یہ مندر ناتھ مت کے عظیم یوگی ویر ناتھ کے پیروکاروں نے قائم کیا تھا، جن کا تعلق برصغیر سے بتایا جاتا ہے۔ ویر ناتھ ناتھ یوگی روایت کے ایک بڑے روحانی پیشوا تھے جنہوں نے سندھ کو اپنی روحانی سرگرمیوں کا مرکز بنایا۔

    ویر ناتھ کی آمد کے بعد یہ مقام ناتھ مت کے پیروکاروں کے لیے عبادت، مراقبہ، یوگا اور مذہبی تعلیم کا اہم مرکز بن گیا۔ سندھ کے مختلف علاقوں کے علاوہ دور دراز خطوں سے بھی یوگی، سادھو اور عقیدت مند یہاں آتے تھے۔ اس طرح یہ مندر نہ صرف ایک مذہبی مقام بلکہ مقامی ثقافت، روحانی اقدار اور مذہبی روایات کے فروغ کا بھی مرکز رہا۔

    مندر کے احاطے میں موجود مقدس تالاب آج بھی اپنی قدامت کے ساتھ موجود ہے۔ مقامی عقیدے کے مطابق اس تالاب کا پانی جلدی امراض کے لیے شفا بخش سمجھا جاتا ہے۔ آج بھی لوگ یہاں آ کر اس پانی سے غسل کرتے ہیں اور اپنے پرانے کپڑے بطور نشانی یہیں چھوڑ جاتے ہیں۔ تالاب کے اردگرد بکھرے یہ کپڑے صدیوں پرانی عقیدت کی خاموش گواہی دیتے ہیں۔

    اسی احاطے میں ایک قدیم پیپل کا درخت بھی موجود ہے، جس کی عمر مقامی روایات کے مطابق پانچ سے سات سو سال بتائی جاتی ہے۔ اس کے علاوہ کچی اینٹوں سے بنا ہوا قدیم مسافر خانہ اور پرانا کنواں بھی یہاں موجود ہیں، جو ماضی میں آنے والے مسافروں اور سادھوؤں کی خدمت کے لیے استعمال ہوتے تھے۔

    ایک وقت تھا جب ویر ناتھ مندر نہ صرف عبادت بلکہ سماجی اور ثقافتی سرگرمیوں کا بھی مرکز تھا۔ مقامی افراد کے مطابق یہاں ہر سال باقاعدگی سے سالانہ میلہ منعقد ہوتا تھا، جس میں سندھ کے مختلف علاقوں سے لوگ شریک ہوتے تھے۔ یہ میلہ مذہبی عقیدت کے ساتھ ساتھ لوک موسیقی، ثقافتی میل جول اور مقامی روایات کا حسین امتزاج ہوتا تھا۔ تاہم بتایا جاتا ہے کہ یہ میلہ آج سے تقریباً تیس سے چالیس سال قبل بند ہو گیا۔

    دادو کی معروف علمی و سماجی شخصیت پروفیسر رمیش کمار نانکانی نے ساگا ڈیجیٹل کو بتایا کہ ویر ناتھ مندر سندھ کی اُس قدیم روحانی روایت کی یادگار ہے جہاں مختلف مذاہب اور ثقافتوں کے لوگ ایک دوسرے کے احترام کے ساتھ رہتے تھے۔ ان کے مطابق یہ مقام صرف ہندو برادری ہی نہیں بلکہ پورے خطے کی مشترکہ تاریخ کا حصہ ہے۔

    آج ویر ناتھ مندر کی دیواریں اگرچہ خاموش ہیں، مگر ان اینٹوں میں ماضی کی صدائیں اب بھی محفوظ ہیں۔ یہ مقام اس بات کی یاد دہانی کراتا ہے کہ سندھ کی سرزمین ہمیشہ سے روحانیت، رواداری اور ثقافتی ہم آہنگی کی امین رہی ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا ہم اس خاموش ورثے کو محفوظ رکھ پائیں گے، یا وقت کی گرد اسے مکمل طور پر اپنی لپیٹ میں لے لے گی۔

     

  • سندھ کے سرکاری اسکولوں کی نئی شناخت، رنگوں کے ذریعے ایک منظم تعلیمی برانڈنگ

    سندھ کے سرکاری اسکولوں کی نئی شناخت، رنگوں کے ذریعے ایک منظم تعلیمی برانڈنگ

    سندھ کے تمام سرکاری اسکولوں کے بیرونی اور اندورنی منظر بدلنے جا رہا ہے۔ محکمہ تعلیم سندھ نے صوبے بھر کے تمام سرکاری اسکولوں کے لیے ایک باقاعدہ اور منظور شدہ رنگ اسکیم جاری کر دی ہے۔ یہ محض رنگ و روغن کا منصوبہ نہیں، بلکہ ایک سوچا سمجھا اقدام ہے جس کا مقصد پورے صوبے میں سرکاری تعلیمی اداروں کو ایک منظم، مربوط اور واضح شناخت دینا ہے۔

    اس نئی اسکیم کے تحت ہر کیٹیگری کے اسکول کے لیے مخصوص رنگ مقرر کیے گئے ہیں تاکہ دیکھتے ہی اندازہ ہو جائے کہ یہ کون سا ادارہ ہے اور کس سطح کی تعلیم فراہم کرتا ہے۔

    پرائمری سطح پر گرلز اسکولوں کے لیے سفید بنیاد کے ساتھ نمایاں گلابی شیڈ رکھا گیا ہے۔ نچلے حصے میں پنک ٹون اور ستونوں پر ہلکی رنگین پٹیاں ایک نرم مگر واضح شناخت پیدا کرتی ہیں۔ بوائز پرائمری اسکولوں میں سفید بیس کے ساتھ نیلا اور ہلکا نیلا امتزاج رکھا گیا ہے، جو سادگی اور استحکام کی علامت ہے۔ جبکہ کو ایجوکیشن پرائمری اسکولوں میں سبز رنگ کو بنیادی شناخت بنایا گیا ہے، جو توازن اور شمولیت کی نمائندگی کرتا ہے۔

    ہائی اسکول سطح پر رنگوں کی شدت اور نمایاں پن مزید بڑھا دیا گیا ہے۔ گرلز ہائی اسکولوں میں شوخ پنک اوپری حصہ اور ستونوں پر کثیر رنگی افقی پٹیاں ایک مضبوط اور پراعتماد تاثر دیتی ہیں۔ بوائز ہائی اسکولوں میں گہرا نیلا بالائی حصہ، سبز اور نیلے شیڈز کے امتزاج کے ساتھ، سنجیدگی اور ادارہ جاتی وقار کو ظاہر کرتا ہے۔ کو ایجوکیشن ہائی اسکولوں میں گہرا سبز اوپری حصہ اور اندرونی دیواروں میں سبز اور نیلے رنگ کا متوازن استعمال ایک ہم آہنگ تعلیمی ماحول کی عکاسی کرتا ہے۔

    یہ اقدام صرف خوبصورتی کے لیے نہیں کیا جا رہا۔ یہ برانڈنگ ہے۔ یہ ادارہ جاتی شناخت ہے۔ یہ ایک ایسا قدم ہے جس کے ذریعے سندھ کے ہر سرکاری اسکول کو ایک واضح اور سرکاری پہچان دی جا رہی ہے، تاکہ وہ صرف ایک عمارت نہ رہے بلکہ ایک منظم تعلیمی نظام کا نمایاں حصہ بنے۔

    اس مقصد کے لیے ایک ڈیجیٹل پلیٹ فارم بھی جاری کیا گیا ہے، جہاں ہر اسکول اپنی کیٹیگری کے مطابق منظور شدہ ڈیزائن دیکھ سکتا ہے۔ ویب سائٹ https://school-color.vercel.app/

     پر جا کر انتظامیہ رنگوں کی تفصیل، بیرونی اور اندرونی ڈیزائن کی رہنمائی اور منظور شدہ اسکیم تک رسائی حاصل کر سکتی ہے۔ اس سے نہ صرف شفافیت بڑھے گی بلکہ پورے صوبے میں یکسانیت بھی یقینی بنائی جا سکے گی۔

    اسکول اسپیسیفک بجٹ بھی جاری کیا جا چکا ہے اور رنگ کاری انہی منظور شدہ ڈیزائنز کے مطابق کی جائے گی۔ یعنی ہر اسکول اپنی مرضی سے نہیں بلکہ ایک طے شدہ اور منظور شدہ معیار کے تحت رنگ کیا جائے گا۔

    یوں سندھ کے سرکاری اسکول صرف تعلیم کے مراکز نہیں رہیں گے، بلکہ ایک مربوط، منظم اور واضح شناخت کے حامل تعلیمی ادارے بن کر ابھریں گے۔ رنگوں کے ذریعے ایک نئی پہچان، ایک نئی سمت، اور ایک نئی تعلیمی صبح۔

  • صحرائے نارا میں سرکنڈوں سے کچے مکانوں کے چھپر بنانے والے کاریگر

    صحرائے نارا میں سرکنڈوں سے کچے مکانوں کے چھپر بنانے والے کاریگر

    سندھ کے ضلع خرپور کے صحرائے نارا کے اہم شہر چونڈکو کے قریب نارا کینال کے اطراف کا علاقہ ایک منفرد دیہاتی دستکاری یعنی سرکنڈے سے کچھے مکانات کے چھپرے بنانے کا مرکز سمجھا جاتا ہے۔

    نارا کینال کے کنارے بسنے والے مزدور اور کاریگر ایک مخصوص قسم کے سرکنڈا (جسے مقامی طور پر کانا کہا جاتا ہے) کا استعمال کرتے ہیں، جو کینال کے قریب کے کھیتوں اور ندیوں میں خود بخود اگتا ہے۔ اسے کاٹ کر خشک کیا جاتا ہے اور پھر تجربہ کار کاریگروں کی ٹیم ان کانوں کو لچکدار بناتے ہوئے ہاتھ سے چھپرے یا پنکھے کی شکل میں ڈھالتے ہیں۔

    مقامی کاریگر  محمد اکرم نوناری نے ساگا ڈیجیٹل کو بتایا، ‘ہم اپنے بزرگوں سے یہ فن ورثے میں سیکھے ہیں۔ اب ہم یہی پنکے تیار کر کے شہر اور دیہاتوں میں بیچتے ہیں اور یہ باہر ممالک بھی لوگ منگواتے ہیں۔ بجلی نہ ہونے والے علاقوں میں یہ سب سے سستا اور مؤثر ٹھنڈا ذریعہ ہے۔’

    یہ پنکے نہ صرف گرم موسم میں گھروں اور مساجد میں ہوا دینے کے کام آتے ہیں بلکہ ان کی مضبوطی، ہلکا وزن اور دیرپا مزاج کی وجہ سے سب کی پسند بن گئے ہیں۔ ایک کاریگر زینب بیگم کہتی ہیں، ‘یہ ہماری مستقل روزی کا ذریعہ ہے۔ بچے سکول جاتے ہیں تو ہم یہاں پنکے بناتے ہیں اور بیچ کر اپنا خرچ نکالتے ہیں۔’

    نارا کینال کے قریب کام کرنے والے کاریگروں کا کہنا ہے کہ پچھلے چند سالوں میں ان کی مانگ میں بتدریج اضافہ ہوا ہے، خاص طور پر گرمی کے موسم میں۔ سوشل میڈیا اور موبائل کے ذریعے بھی لوگ آرڈرز بھیجنے لگے ہیں جس نے ان کے کاروبار کو فروغ دیا ہے۔

    یہ روایتی دستکاری نہ صرف ایک ثقافتی ورثہ ہے بلکہ مقامی کمیونٹی کے لیے معاشی استحکام کا ذریعہ بھی بن چکی ہے۔ مقامی سرکاری اہلکار بھی اس کو ایک چھوٹے پیمانے پر صنعت کے طور پر دیکھ رہے ہیں، اور چاہتے ہیں کہ کاریگروں کو بہتر تربیت، منڈی رسائی اور فروغ دینے کی سہولتیں فراہم کی جائیں، تاکہ یہ ہنر نسل در نسل زندہ رہے۔

  • قیام پاکستان سے اب تک کراچی کو سندھ سے علیحدہ کرنے کی کوششوں کے خلاف سندھ اسمبلی میں کتنی تاریخی قراردادیں پاس ہوئیں؟

    قیام پاکستان سے اب تک کراچی کو سندھ سے علیحدہ کرنے کی کوششوں کے خلاف سندھ اسمبلی میں کتنی تاریخی قراردادیں پاس ہوئیں؟

    حال ہی میں گورنر ہاؤس سندھ میں کراچی کے مستقبل پر ہونے والی کانفرنس میں سندھ سے علیحدگی اور وفاق حوالے کرنے کے مطالبے کے خلاف سندھ اسمبلی نے ایک مرتبہ پھر کراچی کو سندھ سے ممکنہ طور پر علیحدہ کرنے کی کسی بھی تجویز یا اقدام کے خلاف متفقہ مؤقف اختیار کرتے ہوئے چوتھی مرتبہ قرارداد منظور کر لی۔

    اس قرارداد کے ذریعے ایوان نے واضح پیغام دیا کہ کراچی سندھ کا تاریخی، آئینی اور انتظامی حصہ ہے اور اس کی حیثیت میں کسی یکطرفہ تبدیلی کو سندھ کے عوام ہرگز قبول نہیں کریں گے۔

    یہ پہلی بار نہیں ہے کہ کراچی سے سندھ سے علحیدگی کی باتوں کے خلاف سندھ اسمبلی نے متفقہ رائے سے قرارداد پیش کی ہو۔ اس سے پہلے بھی اس طرح کی قرارداد پیش کی جاچکیں ہیں۔

    اس حوالے سے پہلی قرارداد 10 فروری 1948 کو اُس وقت کی سندھ قانون ساز اسمبلی میں پیش کی گئی تھی، جب کراچی کو سندھ سے الگ کر کے وفاق کے حوالے کرنے کا فیصلہ سامنے آیا۔

    یہ قرارداد قاضی اکبر کی جانب سے جمع کرائی گئی، جبکہ اسے محمد اعظم نے ایوان میں پیش کیا۔ قرارداد اکثریت رائے سے منظور ہوئی، تاہم اس کے باوجود کراچی کو سندھ سے علیحدہ کر کے وفاقی دارالحکومت قرار دے دیا گیا، جسے سندھ کی سیاسی تاریخ میں ایک اہم اور متنازع موڑ تصور کیا جاتا ہے۔

    دوسری مرتبہ 25 ستمبر 2014 کو سندھ اسمبلی نے کراچی کی ممکنہ علیحدگی کے خلاف قرارداد منظور کی۔ یہ قرارداد اُس وقت کے قائدِ حزبِ اختلاف محمد شہریار خان مہر نے پیش کی، جس پر شفیع محمد جاموٹ، نصرت بانو سحر عباسی، ڈاکٹر محمد رفیق بانبھن، سعید خان نظامانی، وریام فقیر، سید محمد راشد شاہ، نند کمار گوکلانی، حاجی خدا بخش راجڑ، ہمایوں محمد خان اور مسرور احمد جتوئی سمیت دیگر ارکان نے دستخط کیے۔ یہ قرارداد بھی ایوان نے اکثریت رائے سے منظور کی۔

    تیسری قرارداد 16 ستمبر 2019 کو منظور کی گئی، جسے ڈاکٹر سہراب خان سرکی، ریحانہ لغاری، ڈاکٹر عذرا فضل پیچوہو، فیاض علی بٹ، ہیر سوہو، عبد الکریم سومرو، تنزیلہ امی حبیبہ قمبرانی، شمیم ممتاز، سجیلا لغاری، سیدہ ماروی فصیح، حنا دستگیر، غزالہ سیال، فریال تالپور، شازیہ عمر، سید فرخ احمد شاہ، شاہینہ شیر علی، فرحت سیمین، شہناز بیگم، محمد قاسم سراج سومرو اور محمد علی ملکانی نے مشترکہ طور پر پیش کیا۔ اس قرارداد کے ذریعے بھی ایوان نے کراچی کی سندھ سے علیحدگی کی کسی بھی تجویز کو مسترد کر دیا۔

    آج منظور ہونے والی چوتھی قرارداد وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے پیش کی، جس کی متعدد ارکانِ اسمبلی نے تائید کی اور یوں سندھ اسمبلی نے ایک بار پھر اپنے تاریخی مؤقف کا اعادہ کرتے ہوئے واضح کیا کہ کراچی اور سندھ کی وحدت ناقابلِ تقسیم ہے۔

    ان چاروں تاریخی قراردادوں کی نقول قارئین کی معلومات کے لیے یہاں پیش کی جا رہی ہیں تاکہ عوام خود اس پارلیمانی ریکارڈ کا مشاہدہ کر سکیں اور سندھ اسمبلی کے مسلسل اور واضح مؤقف سے آگاہ رہیں۔

  • سندھ کی نوجوان نسل کو سمجھنے کی ضرورت

    سندھ کی نوجوان نسل کو سمجھنے کی ضرورت

    سندھ میں بہت سے لوگوں کا خیال ہے کہ آج کے نوجوان صرف سوشل میڈیا پر وقت ضائع کرتے ہیں، انہیں سندھ کے مسائل میں کم دلچسپی ہے، وہ کتابیں نہیں پڑھتے اور معاشرے میں ان کا کوئی کردار نہیں۔ میرے خیال میں ایسی باتیں زیادہ تر وہ لوگ کرتے ہیں جو نوجوانوں سے کوئی خاص رابطہ نہیں رکھتے، یونیورسٹیوں کا رخ نہیں کرتے، دور بیٹھ کر نوجوانوں کے بارے میں تصورات قائم کرتے ہیں اور اکثر انہیں ’جنریشن زی‘ قرار دے کر نظرانداز کر دیتے ہیں۔

    سندھی نوجوانوں کے بارے میں میرا تجربہ مختلف رہا ہے۔ گزشتہ چند ہفتوں کے دوران عوامی ورکرز پارٹی کی جانب سے منعقدہ کامریڈ حیدر بخش جتوئی سوشلسٹ اسکول، صحافی نثار کوکر کے زیرِ اہتمام لاڑکانہ لٹریچر فیسٹیول، اور اروڑ یونیورسٹی میں طلبہ کے لیے ’پرتشدد انتہا پسندی‘ کے موضوع پر ایک نشست میں مجھے درجنوں نوجوانوں سے ملنے، ان سے گفتگو کرنے اور ان کے خیالات و سوالات سننے کا موقع ملا۔ یہ نوجوان آج کے سندھ، پاکستان اور عالمی منظرنامے سے باخبر تھے اور ان میں پختہ سیاسی سوچ بھی نظر آئی۔

    ان پروگراموں کے دوران کیے گئے سوالات کے معیار سے ان کے مطالعے کا اندازہ ہوتا تھا۔ انٹرنیٹ اور موبائل فون کی سہولت کے بعد ممکن ہے کہ کاغذی کتابوں اور اخبارات کی فروخت کم ہوئی ہو، لیکن پڑھنے کا عمل مکمل طور پر ختم نہیں ہوا۔ البتہ سوشل میڈیا نے لکھنے اور پڑھنے کا انداز ضرور بدل دیا ہے۔ ہمارے پبلشرز اور صحافتی اداروں کو اس نئے دور کے مطابق خود کو ڈھالنا ہوگا، جس سے آج کا نوجوان جڑا ہوا ہے۔ مثال کے طور پر آن لائن کتاب خرید کر ڈاؤن لوڈ کرنا اور پڑھنا آسان، تیز اور سستا طریقہ ہے، مگر سندھی پبلشرز ابھی تک یہ سہولت فراہم نہیں کر رہے۔

    میری اپنی کتابوں کے آن لائن ایڈیشن کے لیے بیرونِ ملک رہنے والے کئی دوست درخواست کرتے ہیں، مگر بدقسمتی سے ان کا ڈیجیٹل ورژن موجود نہیں۔ سلیمان وساڻ کی ویب سائٹ ’سندھ سلامت‘ پر کئی سندھی کتابیں موجود ہیں، لیکن اگر کتابوں کے ڈیجیٹل ایڈیشن دستیاب ہوں تو اس ذخیرے کو مزید بڑھایا جا سکتا ہے۔ میں نے اپنے پبلشرز سے درخواست کی، مگر نہ وہ اپنی ویب سائٹ پر ڈیجیٹل کاپی فراہم کرتے ہیں اور نہ ہی مجھے سافٹ کاپی دینے پر آمادہ ہیں تاکہ اسے سندھ سلامت پر رکھا جا سکے۔

    اسی طرح سندھی اخبارات کے ڈیجیٹل ایڈیشن بھی غیر معیاری ہیں۔ ان کی ویب سائٹس پر پرانے اخبارات کا ریکارڈ یا تو موجود نہیں، یا تصویری شکل میں ہے جسے پڑھنا مشکل ہوتا ہے۔ مضامین کے آرکائیوز نہ ہونے کے باعث سندھی تحریریں سرچ انجن میں بھی نہیں ملتیں۔ اخبارات کی ڈیجیٹل حالت ابھی تک پچاس سال پرانی محسوس ہوتی ہے۔ آج کے نوجوانوں کو کتابیں اور اخبارات نہ پڑھنے کا طعنہ دینے سے پہلے اداروں سے یہ سوال ہونا چاہیے کہ کیا ان کا مواد موجودہ دور کے تقاضوں پر پورا اترتا ہے؟ جب پبلشرز اور اخبارات خود کو بہتر ڈیجیٹل معیار میں ڈھالیں گے تو انہیں اندازہ ہوگا کہ سندھی نوجوان انہیں کتنا پڑھتے ہیں۔

    سندھ میں سیاسی شعور رکھنے والے، جدید مسائل کو سمجھنے والے اور کچھ کرنے کی تڑپ رکھنے والے نوجوانوں کی سیاسی تربیت اور تنظیم سازی کرنے والی سیاسی جماعتیں کمزور ہو چکی ہیں۔ معاشرہ غیر سیاسی نہیں ہوا، بلکہ سیاسی تنظیمیں کمزور ہو گئی ہیں۔ سندھ کے نوجوان نہ غیر سیاسی ہوئے ہیں اور نہ غافل؛ انہیں متحرک رکھنے والے ادارے کمزور پڑ گئے ہیں اور ان کی قیادت ان تک پہنچ نہیں پا رہی۔

    ہر دور اور ہر نسل کے اپنے انداز ہوتے ہیں، جن کے ذریعے وہ اپنی دھرتی اور لوگوں سے جڑتی ہے اور ان کے لیے جدوجہد کرتی ہے۔ اس وقت بڑی تعداد میں سندھی نوجوان تعلیم اور ملازمت کے لیے بیرونِ ملک جا رہے ہیں۔ وہاں وہ رابطوں کے نیٹ ورک قائم کر کے دوسرے نوجوانوں کو تعلیم، ملازمت، کاروبار اور سرمایہ کاری کے مواقع فراہم کر رہے ہیں۔ ہم میں سے اکثر لوگ اس تمام کام سے ناواقف ہیں۔ یہ جدید دور میں قومیت کے نئے اظہار ہیں۔

    اسی طرح کراچی، لاہور اور اسلام آباد میں بھی نوجوانوں کے کئی نیٹ ورک سرگرم ہیں، اگرچہ وہ کسی سیاسی یا تنظیمی چھتری تلے نہیں۔ وطن اور عوام سے وابستگی کے بے شمار منتشر اظہار آج کی نسل کے ہزاروں نوجوان کر رہے ہیں، جن سے ہم اکثر لاعلم ہیں۔ آج کی نسل زیادہ تر شہری ماحول میں پروان چڑھ رہی ہے اور اس کے روابط کے ذرائع ٹیکنالوجی پر مبنی ہیں، اس لیے ان کی وطن دوستی کے اظہار کے طریقے بھی مختلف ہیں۔

    سیاسی تنظیموں کی قیادت کو اس نئی حقیقت کے مطابق خود کو ڈھالنے کی ضرورت ہے۔ اگر سیاسی اور سماجی ادارے ایسا نہ کر سکے تو وہ آج کے نوجوان کو ساتھ لے کر نہیں چل سکیں گے اور خود جمود کا شکار ہو جائیں گے۔

    اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ اکثر تنظیموں کے مرکزی اور ضلعی عہدیدار پچاس برس سے زائد عمر کے ہیں اور کئی سالوں سے انہی عہدوں پر موجود ہیں۔ نئے چہروں کی شمولیت کم دکھائی دیتی ہے۔ یقیناً ان رہنماؤں نے تاریخ کے مختلف مراحل میں اہم کردار ادا کیا ہے، مگر اداروں کو ٹھہرے ہوئے تالاب کے بجائے بہتے پانی کی طرح ہونا چاہیے۔

    جو افراد اور ادارے موجودہ دور کے تقاضوں کے مطابق تبدیل نہیں ہوں گے، وہ صرف نوجوانوں پر تنقید کر کے آگے نہیں بڑھ سکتے۔ ہمیں آج کے نوجوان کو نئی نظر سے دیکھنے اور سمجھنے کی ضرورت ہے۔ ان کے دور کے مطابق اپنے نعرے، منشور، رابطے کے طریقے، اظہار کے انداز اور تنظیمی ڈھانچے ترتیب دینا ہوں گے۔

    ٹیکنالوجی نے آج کے نوجوان کو جو طاقت دی ہے، وہ سیاسی اور سماجی تحریکوں کو نئی بلندیوں تک لے جا سکتی ہے۔ انٹرنیٹ، ای میل، واٹس ایپ گروپس اور سوشل میڈیا کے جدید ذرائع استعمال کرنے والا نوجوان چند دنوں میں وہ ہلچل پیدا کر سکتا ہے، جس میں پہلے مہینے لگ جاتے تھے۔ جو کام پہلے اسٹڈی سرکلز، پمفلٹس، جلسوں اور تقاریر سے ہوتا تھا، اب سوشل میڈیا، ڈیٹا گرافکس، وی لاگز، مصنوعی ذہانت سے تیار مواد، زوم میٹنگز اور آن لائن جلسوں کے ذریعے کہیں زیادہ مؤثر انداز میں ہو رہا ہے۔

    ٹیکنالوجی کے مؤثر استعمال نے دنیا کی کئی طاقتور حکومتوں اور اداروں کو بھی چوکنا رکھا ہوا ہے۔ سوشل میڈیا پر آپ دیکھ سکتے ہیں کہ سینکڑوں گمنام نوجوان تعصبی مواد پھیلانے والوں کا ڈٹ کر مقابلہ کر رہے ہیں اور سندھ و سندھیوں کے خلاف زہر اگلنے والوں کو مؤثر جواب دے رہے ہیں۔ یہ ایک اہم قومی خدمت ہے، جو دنیا بھر میں بیٹھے نوجوان انجام دے رہے ہیں، چاہے وہ کسی سیاسی جماعت کے رکن نہ بھی ہوں۔

    ان میں سے بہت سے نوجوان تاریخی حوالوں اور اعداد و شمار کے ساتھ نہ صرف سندھی بلکہ اردو اور انگریزی میں بھی تعصب پر مبنی پروپیگنڈے کا جواب دے رہے ہیں۔

    ممکن ہے سیاسی قیادت اس سارے عمل سے پوری طرح واقف نہ ہو۔ سیاسی جماعتیں ان نوجوانوں کو اپنے ساتھ جوڑنے کی صلاحیت کھو بیٹھی ہیں، کیونکہ یہ باخبر نوجوان محض نعرے نہیں لگائیں گے بلکہ مشکل سوال بھی کریں گے۔ وہ پیر اور وڈیرہ سیاست کے فرسودہ نظام کا حصہ بننے سے انکار کریں گے اور احترام کے نام پر اپنے اختلافات کو دبائیں گے نہیں۔

    آج کی یونیورسٹیوں کے نوجوانوں کی سوچ اور اظہار 1970 کی دہائی کے نوجوانوں سے بہت مختلف ہے۔ جب تک سندھ کی سیاسی قیادت ان سے رابطہ نہیں بڑھائے گی، انہیں سمجھ بھی نہیں سکے گی۔ اس نسل کو سندھ سے گہری محبت ہے، وہ مسائل سے باخبر ہیں اور ان کے حل کے لیے جدوجہد بھی کر رہے ہیں۔ درحقیقت آج کا تعلیم یافتہ نوجوان سندھ کی جدید وطن پرستی کی نئی بنیادیں رکھ رہا ہے — جنہیں سمجھنے اور سراہنے کی ضرورت ہے۔