Tag: سندھ

  • سندھ کی نوجوان نسل کو سمجھنے کی ضرورت

    سندھ کی نوجوان نسل کو سمجھنے کی ضرورت

    سندھ میں بہت سے لوگوں کا خیال ہے کہ آج کے نوجوان صرف سوشل میڈیا پر وقت ضائع کرتے ہیں، انہیں سندھ کے مسائل میں کم دلچسپی ہے، وہ کتابیں نہیں پڑھتے اور معاشرے میں ان کا کوئی کردار نہیں۔ میرے خیال میں ایسی باتیں زیادہ تر وہ لوگ کرتے ہیں جو نوجوانوں سے کوئی خاص رابطہ نہیں رکھتے، یونیورسٹیوں کا رخ نہیں کرتے، دور بیٹھ کر نوجوانوں کے بارے میں تصورات قائم کرتے ہیں اور اکثر انہیں ’جنریشن زی‘ قرار دے کر نظرانداز کر دیتے ہیں۔

    سندھی نوجوانوں کے بارے میں میرا تجربہ مختلف رہا ہے۔ گزشتہ چند ہفتوں کے دوران عوامی ورکرز پارٹی کی جانب سے منعقدہ کامریڈ حیدر بخش جتوئی سوشلسٹ اسکول، صحافی نثار کوکر کے زیرِ اہتمام لاڑکانہ لٹریچر فیسٹیول، اور اروڑ یونیورسٹی میں طلبہ کے لیے ’پرتشدد انتہا پسندی‘ کے موضوع پر ایک نشست میں مجھے درجنوں نوجوانوں سے ملنے، ان سے گفتگو کرنے اور ان کے خیالات و سوالات سننے کا موقع ملا۔ یہ نوجوان آج کے سندھ، پاکستان اور عالمی منظرنامے سے باخبر تھے اور ان میں پختہ سیاسی سوچ بھی نظر آئی۔

    ان پروگراموں کے دوران کیے گئے سوالات کے معیار سے ان کے مطالعے کا اندازہ ہوتا تھا۔ انٹرنیٹ اور موبائل فون کی سہولت کے بعد ممکن ہے کہ کاغذی کتابوں اور اخبارات کی فروخت کم ہوئی ہو، لیکن پڑھنے کا عمل مکمل طور پر ختم نہیں ہوا۔ البتہ سوشل میڈیا نے لکھنے اور پڑھنے کا انداز ضرور بدل دیا ہے۔ ہمارے پبلشرز اور صحافتی اداروں کو اس نئے دور کے مطابق خود کو ڈھالنا ہوگا، جس سے آج کا نوجوان جڑا ہوا ہے۔ مثال کے طور پر آن لائن کتاب خرید کر ڈاؤن لوڈ کرنا اور پڑھنا آسان، تیز اور سستا طریقہ ہے، مگر سندھی پبلشرز ابھی تک یہ سہولت فراہم نہیں کر رہے۔

    میری اپنی کتابوں کے آن لائن ایڈیشن کے لیے بیرونِ ملک رہنے والے کئی دوست درخواست کرتے ہیں، مگر بدقسمتی سے ان کا ڈیجیٹل ورژن موجود نہیں۔ سلیمان وساڻ کی ویب سائٹ ’سندھ سلامت‘ پر کئی سندھی کتابیں موجود ہیں، لیکن اگر کتابوں کے ڈیجیٹل ایڈیشن دستیاب ہوں تو اس ذخیرے کو مزید بڑھایا جا سکتا ہے۔ میں نے اپنے پبلشرز سے درخواست کی، مگر نہ وہ اپنی ویب سائٹ پر ڈیجیٹل کاپی فراہم کرتے ہیں اور نہ ہی مجھے سافٹ کاپی دینے پر آمادہ ہیں تاکہ اسے سندھ سلامت پر رکھا جا سکے۔

    اسی طرح سندھی اخبارات کے ڈیجیٹل ایڈیشن بھی غیر معیاری ہیں۔ ان کی ویب سائٹس پر پرانے اخبارات کا ریکارڈ یا تو موجود نہیں، یا تصویری شکل میں ہے جسے پڑھنا مشکل ہوتا ہے۔ مضامین کے آرکائیوز نہ ہونے کے باعث سندھی تحریریں سرچ انجن میں بھی نہیں ملتیں۔ اخبارات کی ڈیجیٹل حالت ابھی تک پچاس سال پرانی محسوس ہوتی ہے۔ آج کے نوجوانوں کو کتابیں اور اخبارات نہ پڑھنے کا طعنہ دینے سے پہلے اداروں سے یہ سوال ہونا چاہیے کہ کیا ان کا مواد موجودہ دور کے تقاضوں پر پورا اترتا ہے؟ جب پبلشرز اور اخبارات خود کو بہتر ڈیجیٹل معیار میں ڈھالیں گے تو انہیں اندازہ ہوگا کہ سندھی نوجوان انہیں کتنا پڑھتے ہیں۔

    سندھ میں سیاسی شعور رکھنے والے، جدید مسائل کو سمجھنے والے اور کچھ کرنے کی تڑپ رکھنے والے نوجوانوں کی سیاسی تربیت اور تنظیم سازی کرنے والی سیاسی جماعتیں کمزور ہو چکی ہیں۔ معاشرہ غیر سیاسی نہیں ہوا، بلکہ سیاسی تنظیمیں کمزور ہو گئی ہیں۔ سندھ کے نوجوان نہ غیر سیاسی ہوئے ہیں اور نہ غافل؛ انہیں متحرک رکھنے والے ادارے کمزور پڑ گئے ہیں اور ان کی قیادت ان تک پہنچ نہیں پا رہی۔

    ہر دور اور ہر نسل کے اپنے انداز ہوتے ہیں، جن کے ذریعے وہ اپنی دھرتی اور لوگوں سے جڑتی ہے اور ان کے لیے جدوجہد کرتی ہے۔ اس وقت بڑی تعداد میں سندھی نوجوان تعلیم اور ملازمت کے لیے بیرونِ ملک جا رہے ہیں۔ وہاں وہ رابطوں کے نیٹ ورک قائم کر کے دوسرے نوجوانوں کو تعلیم، ملازمت، کاروبار اور سرمایہ کاری کے مواقع فراہم کر رہے ہیں۔ ہم میں سے اکثر لوگ اس تمام کام سے ناواقف ہیں۔ یہ جدید دور میں قومیت کے نئے اظہار ہیں۔

    اسی طرح کراچی، لاہور اور اسلام آباد میں بھی نوجوانوں کے کئی نیٹ ورک سرگرم ہیں، اگرچہ وہ کسی سیاسی یا تنظیمی چھتری تلے نہیں۔ وطن اور عوام سے وابستگی کے بے شمار منتشر اظہار آج کی نسل کے ہزاروں نوجوان کر رہے ہیں، جن سے ہم اکثر لاعلم ہیں۔ آج کی نسل زیادہ تر شہری ماحول میں پروان چڑھ رہی ہے اور اس کے روابط کے ذرائع ٹیکنالوجی پر مبنی ہیں، اس لیے ان کی وطن دوستی کے اظہار کے طریقے بھی مختلف ہیں۔

    سیاسی تنظیموں کی قیادت کو اس نئی حقیقت کے مطابق خود کو ڈھالنے کی ضرورت ہے۔ اگر سیاسی اور سماجی ادارے ایسا نہ کر سکے تو وہ آج کے نوجوان کو ساتھ لے کر نہیں چل سکیں گے اور خود جمود کا شکار ہو جائیں گے۔

    اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ اکثر تنظیموں کے مرکزی اور ضلعی عہدیدار پچاس برس سے زائد عمر کے ہیں اور کئی سالوں سے انہی عہدوں پر موجود ہیں۔ نئے چہروں کی شمولیت کم دکھائی دیتی ہے۔ یقیناً ان رہنماؤں نے تاریخ کے مختلف مراحل میں اہم کردار ادا کیا ہے، مگر اداروں کو ٹھہرے ہوئے تالاب کے بجائے بہتے پانی کی طرح ہونا چاہیے۔

    جو افراد اور ادارے موجودہ دور کے تقاضوں کے مطابق تبدیل نہیں ہوں گے، وہ صرف نوجوانوں پر تنقید کر کے آگے نہیں بڑھ سکتے۔ ہمیں آج کے نوجوان کو نئی نظر سے دیکھنے اور سمجھنے کی ضرورت ہے۔ ان کے دور کے مطابق اپنے نعرے، منشور، رابطے کے طریقے، اظہار کے انداز اور تنظیمی ڈھانچے ترتیب دینا ہوں گے۔

    ٹیکنالوجی نے آج کے نوجوان کو جو طاقت دی ہے، وہ سیاسی اور سماجی تحریکوں کو نئی بلندیوں تک لے جا سکتی ہے۔ انٹرنیٹ، ای میل، واٹس ایپ گروپس اور سوشل میڈیا کے جدید ذرائع استعمال کرنے والا نوجوان چند دنوں میں وہ ہلچل پیدا کر سکتا ہے، جس میں پہلے مہینے لگ جاتے تھے۔ جو کام پہلے اسٹڈی سرکلز، پمفلٹس، جلسوں اور تقاریر سے ہوتا تھا، اب سوشل میڈیا، ڈیٹا گرافکس، وی لاگز، مصنوعی ذہانت سے تیار مواد، زوم میٹنگز اور آن لائن جلسوں کے ذریعے کہیں زیادہ مؤثر انداز میں ہو رہا ہے۔

    ٹیکنالوجی کے مؤثر استعمال نے دنیا کی کئی طاقتور حکومتوں اور اداروں کو بھی چوکنا رکھا ہوا ہے۔ سوشل میڈیا پر آپ دیکھ سکتے ہیں کہ سینکڑوں گمنام نوجوان تعصبی مواد پھیلانے والوں کا ڈٹ کر مقابلہ کر رہے ہیں اور سندھ و سندھیوں کے خلاف زہر اگلنے والوں کو مؤثر جواب دے رہے ہیں۔ یہ ایک اہم قومی خدمت ہے، جو دنیا بھر میں بیٹھے نوجوان انجام دے رہے ہیں، چاہے وہ کسی سیاسی جماعت کے رکن نہ بھی ہوں۔

    ان میں سے بہت سے نوجوان تاریخی حوالوں اور اعداد و شمار کے ساتھ نہ صرف سندھی بلکہ اردو اور انگریزی میں بھی تعصب پر مبنی پروپیگنڈے کا جواب دے رہے ہیں۔

    ممکن ہے سیاسی قیادت اس سارے عمل سے پوری طرح واقف نہ ہو۔ سیاسی جماعتیں ان نوجوانوں کو اپنے ساتھ جوڑنے کی صلاحیت کھو بیٹھی ہیں، کیونکہ یہ باخبر نوجوان محض نعرے نہیں لگائیں گے بلکہ مشکل سوال بھی کریں گے۔ وہ پیر اور وڈیرہ سیاست کے فرسودہ نظام کا حصہ بننے سے انکار کریں گے اور احترام کے نام پر اپنے اختلافات کو دبائیں گے نہیں۔

    آج کی یونیورسٹیوں کے نوجوانوں کی سوچ اور اظہار 1970 کی دہائی کے نوجوانوں سے بہت مختلف ہے۔ جب تک سندھ کی سیاسی قیادت ان سے رابطہ نہیں بڑھائے گی، انہیں سمجھ بھی نہیں سکے گی۔ اس نسل کو سندھ سے گہری محبت ہے، وہ مسائل سے باخبر ہیں اور ان کے حل کے لیے جدوجہد بھی کر رہے ہیں۔ درحقیقت آج کا تعلیم یافتہ نوجوان سندھ کی جدید وطن پرستی کی نئی بنیادیں رکھ رہا ہے — جنہیں سمجھنے اور سراہنے کی ضرورت ہے۔

     

  • 183 سال قبل جب سندھ کی خودمختیاری ختم کرکے انگریزوں نے قبضہ کیا۔ سندھ پر قبضہ کیوں کیا؟

    183 سال قبل جب سندھ کی خودمختیاری ختم کرکے انگریزوں نے قبضہ کیا۔ سندھ پر قبضہ کیوں کیا؟

    17 فروری 1843 برصغیر کی تاریخ کا ایک اہم اور فیصلہ کن دن سمجھا جاتا ہے۔ اسی دن چارلس جیمز نیپیئر کی قیادت میں برٹش ایسٹ انڈیا کمپنی کی فوج نے سندھ پر قبضہ کر لیا اور مقامی حکمرانوں کی خودمختاری ختم ہو گئی۔ آج 2026 میں اس واقعے کو 183 سال گزر چکے ہیں، مگر اس کی بازگشت تاریخ میں اب بھی سنائی دیتی ہے۔

    انیسویں صدی کے آغاز میں سندھ پر تالپور خاندان کی حکومت تھی۔ تالپور حکمرانوں کو ’امراءِ سندھ‘ کہا جاتا تھا اور وہ مختلف حصوں پر نیم خودمختار انداز میں اقتدار سنبھالے ہوئے تھے۔

    اسی زمانے میں برطانوی حکومت کو یہ خوف لاحق تھا کہ کہیں روسی سلطنت وسطی ایشیا کے راستے ہندوستان تک نہ پہنچ جائے۔ اس خدشے نے سندھ کی جغرافیائی اہمیت کو غیر معمولی بنا دیا۔ دریائے سندھ صرف دریا نہیں رہا، وہ تجارت، فوجی نقل و حرکت اور طاقت کی علامت بن گیا۔

    برطانویوں نے ابتدا میں تجارت اور سفارتی معاہدوں کے ذریعے اثر و رسوخ بڑھایا۔ مگر جلد ہی وہ سیاسی معاملات میں مداخلت کرنے لگے۔ کئی معاہدے ایسے تھے جو تالپور حکمرانوں پر دباؤ ڈال کر کروائے گئے، اور یوں خودمختاری بتدریج کمزور ہوتی گئی۔

    سترہ فروری 1843 کو جنگِ میانی حیدرآباد سندھ کے قریب لڑی گئی۔ برطانوی فوج تعداد اور جدید ہتھیاروں کے لحاظ سے مضبوط تھی۔ تالپور فوج نے بہادری سے مقابلہ کیا، مگر تنظیم اور اسلحے کی کمی نمایاں تھی۔ شدید لڑائی کے بعد برطانوی فوج کو فتح حاصل ہوئی اور سندھ کا بڑا حصہ ان کے کنٹرول میں آ گیا۔

    مگر مزاحمت ختم نہیں ہوئی۔ چوبیس مارچ 1843 کو جنگِ دوبہ لڑی گئی۔ اس معرکے میں تالپور حکمرانوں کو دوبارہ شکست ہوئی، اور سندھ مکمل طور پر برطانوی اقتدار میں چلا گیا۔

    اس قبضے کے پیچھے تین بڑے عوامل کارفرما تھے۔ تجارتی مفادات، دریائے سندھ برطانوی تجارت اور فوجی نقل و حمل کے لیے نہایت اہم تھا اور اس کے علاوہ دفاعی حکمت عملی کے تحت برطانیہ روسی پیش قدمی کے خدشے کے باعث شمال مغربی سرحد کو محفوظ بنانا چاہتا تھا۔ اور توسیع پسندانہ پالیسی، کیوں کہ اس دور میں برٹش ایسٹ انڈیا کمپنی برصغیر کے مزید علاقوں پر قبضہ کر رہی تھی۔

    نتیجہ واضح تھا۔ سندھ کی آزاد حیثیت ختم ہو گئی اور اسے برطانوی ہندوستان کا حصہ بنا دیا گیا۔ مقامی سیاسی نظام تبدیل ہوا اور نوآبادیاتی انتظامیہ قائم ہوئی۔ بعد میں جدید انتظامی ڈھانچہ، ریلوے اور نہری نظام متعارف ہوا، مگر مقامی خودمختاری محدود ہو گئی۔

    کہا جاتا ہے کہ فتح کے بعد نیپیئر نے ایک مختصر پیغام بھیجا ’پیکاوی‘۔ یہ لاطینی زبان کا لفظ ہے جس کا مطلب ہے ’میں نے گناہ کیا‘۔ اسے ’میں نے سندھ حاصل کر لیا‘ کے جملے پر ایک طنزیہ لفظی کھیل سمجھا جاتا ہے، جو آج تک تاریخ میں زیرِ بحث ہے۔

    183 سال بعد بھی یہ واقعہ صرف ایک تاریخ نہیں، ایک سبق ہے۔ تاریخ ہمیں یاد دلاتی ہے کہ خودمختاری کی قیمت ہمیشہ بڑی ہوتی ہے۔

  • شاعر ڈاکٹر آکاش انصاری کی موت کو ایک سال مکمل، ان کے لے پالک بیٹے کو سزائے موت

    شاعر ڈاکٹر آکاش انصاری کی موت کو ایک سال مکمل، ان کے لے پالک بیٹے کو سزائے موت

    یہ سندھ کے دوسرے بڑے شہر حیدرآباد کی ماڈل کریمنل ٹرائل کورٹ کے کٹہرے میں کھڑا ملزم شاہ لطیف اپنے والد معروف مزاحمتی شاعر، ادیب اور صحافی آکاش انصاری کو قتل کرنے کے الزام میں موت کی سزا سن رہا ہے۔۔

    یہ 27 جنوری 2026 کی ایک صبح ہے جب عدالت نے 364 دنوں بعد اس ہائی پروفائل مقدمہ کا فیصلہ سنارہی تھی، عدالت نے اپنے فیصلے میں قرار دیا کہ ڈاکٹر آکاش انصاری کے قتل میں ان کے لے پالک بیٹے شاہ لطیف کو پر جرم ثابت ہوتا ہے۔

    ڈاکٹر آکاش انصاری کی موت آج ایک سال مکمل ہوگیا، عدالت کے مطابق ڈاکٹر اللہ بخش المعروف آکاش انصاری کو 15 فروری 2025 کو حیدرآباد میں بھٹائی نگر تھانے کی حدود ان کے گھر کے ایک کمرے میں چاقو کے متعدد وار کر کے قتل کیا گیا تھا۔

    لے پالک بیٹے نے آکاش انصاری کو مارنے کے لیے منصوبہ بندی کی مکمل ڈرامہ رچایا۔

    تحقیقات سے یہ بھی پتا چلا کہ قتل کے بعد لاش کو آگ لگا دی تھی  تاکہ شواہد کو مٹایا جا سکے، اور بعد ازاں ملزم نے شور مچا کر خود ہی ریسکیو 1122 کو فون کیا اور اطلاع دی کہ ان کے گھر میں آگ لگ گئی ہے۔

    جب ڈرائیور اور دیگر لوگ آگ بجھانے پہنچے تو انھوں نے دیکھا کہ ملزم آگ بجھانے میں مدد نہیں کر رہا تھا بلکہ فون پر کسی سے بات کر رہا تھا، جس کے بعد ملزم شاہ کو گرفتار کیا گیا۔

    فیصلہ سناتے ہوئے عدالت نے قرار دیا ملزم زیادہ سے زیادہ سزا کے حق دار ہے۔

    عدالت نے ملزم کے حق میں اس کی والدہ حلیمہ کی گواہی بھی رد کردی اور قرار دیا کہ ملزم کے قریبی رشتدار کی گوای کو بہت باریک بینی سے دیکھا جاتا ہے کیوں کہ  ایسا گواہ فطری طورپر ملزم کا ساتھ دیتا ہے۔

    تحریری فیصلے کے مطابق استغاثہ نے ثابت کیا کہ باپ اور بیٹے کے درمیان تعلقات بیٹے کی منشیات کی لت کی وجہ سے خراب تھے جبکہ ملزم جائیداد اور رقم کا مطالبہ کرتا تھا۔ 2024 میں ڈاکٹر آکاش نے اپنے بیٹے کے خلاف تقریباً 38 لاکھ روپے کی چوری کا مقدمہ بھی درج کروایا تھا جس کی وجہ سے ملزم غصے میں تھا۔

    ڈاکٹر آکاش انصاری کون تھے؟

    سندھی زبان کے فروغ کے لیے کام کرنے والے سرکاری ادارے سندھی لینگویج اتھارٹی کے ذیلی ادارے انسائیکلوپیڈیا سندھیانا کی ویب سائٹ کے مطابق، ڈاکٹر آکاش انصاری کا اصل نام اللہ بخش انصاری اور تخلص آکاش تھا۔

    وہ 1956 میں ضلع بدین کے گاؤں ’ابُل وسی‘ میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد اللہ ڈنو بدینوی بھی شاعر تھے، جبکہ ان کی والدہ جنت خاتون، شاہ لطیف کی شاعری کی حافظہ تھیں۔

    انہوں نے ابتدائی تعلیم بدین سے حاصل کرنے کے بعد لیاقت میڈیکل کالج جامشورو سے 1984 میں ایم بی بی ایس کی ڈگری حاصل کی۔ انہوں نے کچھ عرصہ بدین میں بطور ڈاکٹر پریکٹس بھی کی۔

    وہ کالج کے زمانے سے ہی قومی اور ترقی پسند شاعر کے طور پر مقبول ہو چکے تھے۔

    اسی دور میں انہوں نے بائیں بازو کی سیاست میں حصہ لیا اور رسول بخش پلیجو کی سیاسی جماعت ’عوامی تحریک‘ میں 15 سال تک ڈپٹی سیکریٹری اور سیکریٹری جنرل کے طور پر خدمات انجام دیں۔

    ڈاکٹر آکاش انصاری نے 1995 میں صحافت میں قدم رکھا۔

    انہوں نے روزنامہ ’سوال‘ اخبار کا اجرا کیا، جس کے چیف ایڈیٹر وہ خود تھے، جبکہ معروف شاعر مرحوم حسن درس ایڈیٹر تھے۔ یہ اخبار جنرل پرویز مشرف کے دور میں 2000 میں بند کر دیا گیا۔

    2002 میں، ڈاکٹر آکاش نے رورل ڈیولپمنٹ میں ایم اے کیا۔ پھر 2004 میں ایسٹرن واشنگٹن یونیورسٹی (امریکہ) سے جدید تعلیمی نظام پر ڈپلومہ مکمل کیا۔

    اس کے بعد، انہوں نے بدین کے ساحلی علاقوں میں تعلیم اور دیہی ترقی کے لیے ایک سماجی تنظیم ’بدین رورل ڈیولپمنٹ‘ قائم کی اور اس کے تحت کئی منصوبے مکمل کیے۔

    ان کے قائم کردہ سکولوں میں سے دو سکول اب ہائی سکول کا درجہ حاصل کر چکے ہیں۔

    ان کی شاعری کی دو کتابوں میں سے ’کیسے رہوں جلاوطن‘ کے اب تک آٹھ اور ’ادھورے ادھورے‘ کے چار ایڈیشن شائع ہو چکے ہیں۔

    ان کتابوں کا انگریزی میں ترجمہ "An Elegy for the Brave Heart of Tomorrow”  کے عنوان سے ڈاکٹر سحر گل نے 2022 میں کیا ہے۔

    آکاش انصاری کے سینکڑوں قومی اور رومانوی گیت عابدہ پروین، صنم ماروی، ماسٹر ولی، دیبا سحر، سرمد سندھی، صادق فقیر سمیت سندھ کے تقریباً تمام مشہور گلوکاروں نے گائے ہیں۔

     

  • خیبر پختونخوا پہلے، سندھ دوسرے نمبر پر : فافن رپورٹ کے مطابق شفافیت میں صوبائی حکومتیں آگے وفاقی حکومت سب سے پیچھے

    خیبر پختونخوا پہلے، سندھ دوسرے نمبر پر : فافن رپورٹ کے مطابق شفافیت میں صوبائی حکومتیں آگے وفاقی حکومت سب سے پیچھے

    سرکاری ویب سائٹس پر معلومات کی فراہمی کے حوالے سے ایک نئے جائزے نے حیران کن صورتِ حال سامنے لاتے ہوئے انکشاف کیا ہے کہ شفافیت کے معاملے میں صوبائی حکومتیں وفاقی حکومت سے بہتر کارکردگی دکھا رہی ہیں۔

    فری اینڈ فیئر الیکشن نیٹ ورک (فافن) کی جانب سے 2025 کے دوران کیے گئے اس جائزے میں سرکاری اداروں کی ویب سائٹس پر قانون کے تحت لازمی معلومات کی دستیابی کا جائزہ لیا گیا۔ رپورٹ کے مطابق خیبر پختونخوا شفافیت کے لحاظ سے پہلے اور سندھ دوسرے نمبر پر رہے جبکہ وفاقی حکومت کی کارکردگی سب سے کم رہی۔

    رپورٹ کے مطابق خیبر پختونخوا کے سرکاری اداروں نے لازمی معلومات کا 57 فیصد فراہم کیا۔ سندھ 54 فیصد کے ساتھ دوسرے، پنجاب 52 فیصد کے ساتھ تیسرے جبکہ بلوچستان 48 فیصد کے ساتھ چوتھے نمبر پر رہا۔ وفاقی حکومت کے اداروں کی تعمیل کی شرح صرف 40 فیصد رہی۔

    اس جائزے میں خیبر پختونخوا کے 190، سندھ کے 61، پنجاب کے 253، بلوچستان کے 66 اور وفاقی حکومت کے 40 سرکاری اداروں کا جائزہ لیا گیا۔

    فافن کے مطابق یہ جائزہ آئین کے آرٹیکل 19-اے کے تحت بنائے گئے معلومات تک رسائی کے قوانین میں شامل ’پرو ایکٹو ڈسکلوژر‘ کی شقوں پر عملدرآمد کو جانچنے کے لیے کیا گیا۔ ان قوانین کے تحت سرکاری اداروں پر لازم ہے کہ وہ اپنے تنظیمی ڈھانچے، بجٹ، فیصلوں کے طریقۂ کار اور ذمہ داریوں سمیت اہم معلومات اپنی ویب سائٹس پر عوام کے لیے فراہم کریں تاکہ شفافیت اور احتساب کو فروغ دیا جا سکے۔

    سندھ میں فیصلہ سازی اور مالی معلومات اب بھی عوام سے اوجھل

    جبکہ منسلک محکموں نے صرف 48 فیصد معلومات فراہم کیں۔ سیکریٹریٹ محکموں میں محکمہ خزانہ، محکمہ سرمایہ کاری اور وزیراعلیٰ سیکریٹریٹ سب سے زیادہ شفاف رہے جنہوں نے 80 فیصد معلومات جاری کیں، جبکہ محکمہ اطلاعات 73 فیصد کے ساتھ اگلے نمبر پر رہا۔

    منسلک محکموں میں ڈائریکٹوریٹ آف ہیومن رائٹس 73 فیصد کے ساتھ سرفہرست رہا جبکہ بیورو آف اسٹیٹسٹکس نے 67 فیصد معلومات فراہم کیں۔

    رپورٹ کے مطابق بہتر کارکردگی دکھانے والے اداروں کے باوجود بیشتر سرکاری اداروں میں معلومات کی فراہمی میں نمایاں کمی موجود ہے اور تقریباً آدھی مطلوبہ معلومات اب بھی عوام کے لیے دستیاب نہیں۔ خاص طور پر فیصلہ سازی کے طریقۂ کار، مالی شفافیت اور معلومات تک رسائی کے قوانین پر عملدرآمد سے متعلق معلومات کی فراہمی بہت کم رہی۔

    تنظیمی ڈھانچے، فرائض اور ذمہ داریوں سے متعلق بنیادی معلومات 95 فیصد اداروں نے جاری کیں، جبکہ عوامی خدمات اور متعلقہ قوانین سے متعلق معلومات بھی تقریباً 95 فیصد اداروں کی ویب سائٹس پر دستیاب تھیں۔ اس کے برعکس صرف 15 فیصد اداروں نے فیصلہ سازی کے طریقۂ کار، 10 فیصد نے انتظامی و ترقیاتی فیصلوں کی تفصیلات اور 54 فیصد نے مکمل یا جزوی بجٹ معلومات فراہم کیں۔

    سبسڈی اور مراعاتی پروگراموں کی معلومات صرف پانچ فیصد اداروں نے جاری کیں جبکہ لائسنس، اجازت ناموں یا دیگر سہولتوں کے مستفید افراد کی تفصیلات صرف سات فیصد اداروں نے شائع کیں۔ مزید یہ کہ صرف 14 فیصد اداروں نے پبلک انفارمیشن افسران کے رابطہ نمبر جاری کیے اور صرف چھ فیصد اداروں نے موصول ہونے والی معلوماتی درخواستوں اور ان پر کیے گئے اقدامات کی تفصیلات فراہم کیں، حالانکہ یہ قانون کے تحت لازمی ہیں۔

    فافن نے صوبہ سندھ کے اداروں پر زور دیا ہے کہ وہ ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے ذریعے بروقت اور مستند معلومات کی فراہمی کو بہتر بنائیں، جبکہ شفافیت کے قوانین پر مؤثر عملدرآمد کے لیے اپنی سفارشات جلد جاری کرنے کا اعلان بھی کیا ہے۔

  • سندھ کے سرکاری اسکولوں درسی کتب کی مفت فراہمی کے لیے بُک بئنک کے قیام کا آغاز

    سندھ کے سرکاری اسکولوں درسی کتب کی مفت فراہمی کے لیے بُک بئنک کے قیام کا آغاز

    سندھ کے سرکاری اسکولوں میں قائم بُک بئنک کے نظام سے متعلق نئے انتظامی احکامات جاری کر دیے گئے ہیں۔ محکمہ اسکول ایجوکیشن کے مطابق سالانہ امتحانات کے بعد طلبہ کو مفت فراہم کی گئی درسی کتب لازمی طور پر واپس لی جائیں گی تاکہ انہیں آئندہ تعلیمی سال میں دوبارہ استعمال کیا جا سکے۔

    وزیر تعلیم سندھ سید سردار علی شاہ کی ہدایت پر جاری احکامات میں کہا گیا ہے کہ ہر طالب علم کے رزلٹ کارڈ پر درسی کتب کی واپسی کا اندراج کیا جائے گا۔ اسکول انتظامیہ جاری کی گئی اور واپس وصول ہونے والی کتابوں کا باقاعدہ ریکارڈ رکھے گی اور تمام جمع شدہ کتابیں بُک بئنک میں محفوظ کی جائیں گی۔

    محکمہ نے پرائمری سے ہائیر سیکنڈری سطح تک تمام طلبہ سے کتابوں کی واپسی یقینی بنانے کی ہدایت کی ہے۔ حکام کے مطابق یہ اقدام وسائل کے مؤثر استعمال اور سرکاری اخراجات میں کمی کے لیے کیا جا رہا ہے تاکہ ہر سال بڑی تعداد میں درسی کتابیں دوبارہ قابلِ استعمال رہیں۔

    نگرانی کے نظام کے تحت ضلعی تعلیمی افسران کو اپنے اضلاع میں موجود بُک بئنک اسٹاک کی تفصیلات جمع کرانے کی ہدایت دی گئی ہے۔ ضلعی سطح کا ریکارڈ ریجنل ڈائریکٹرز کو ارسال کیا جائے گا، جبکہ ریجنل ڈائریکٹرز مجموعی ضلع وار ڈیٹا محکمہ اسکول ایجوکیشن کو فراہم کرنے کے پابند ہوں گے۔

    حکام کا کہنا ہے کہ بُک بئنک کا مؤثر نفاذ نہ صرف درسی مواد کی دستیابی کو بہتر بنائے گا بلکہ سرکاری وسائل کے بہتر انتظام کو بھی یقینی بنائے گا، تاکہ زیادہ سے زیادہ طلبہ تک بروقت کتابیں پہنچائی جا سکیں۔

  • تاریخ کا انتقام:  پاکستان آرمی کے ہاتھوں ہلاک مائی جندو کے بیٹوں کو نواز شریف حکومت نے ڈاکو قرار دیا، مریم نواز نے مائی جندو کو ‘رول ماڈل ایوارڈ’ دیا

    تاریخ کا انتقام:  پاکستان آرمی کے ہاتھوں ہلاک مائی جندو کے بیٹوں کو نواز شریف حکومت نے ڈاکو قرار دیا، مریم نواز نے مائی جندو کو ‘رول ماڈل ایوارڈ’ دیا

    حال ہی میں لاہور کی نجی ہوٹل میں منعقد نجی ٹی وی چینل ‘ہم نیوز’ کے ‘وومین لیڈرز ایوارڈ’ تقریب میں پنجاب کی وزیر اعلی مریم نواز نے سندھ میں ماضی کے مقبول کیس ٹنڈو بہاول کیس کی مرکزی کرادار مائی جندو کو ‘رول ماڈل ایوارڈ’ دیا۔

    مریم نواز چھٹے ‘ہم نیوز وومین لیڈرز ایوارڈ’ کی تقریب میں بطور چیف گیسٹ شرکت کی۔

    مائی جندو کون ہیں؟

    پانچ  جون 1992 کو ضلع حیدرآباد کے قریب ٹنڈو بہاول میں ایک ایسا واقعہ پیش آیا جس نے سندھ کی تاریخ میں گہرا نشان چھوڑا۔ اس روز پاکستان آرمی کے ایک دستے نے کارروائی کرتے ہوئے نو دیہاتیوں کو دریائے سندھ کے کنارے جامشورو کے قریب گولی مار کر ہلاک کیا گیا۔

    اس وقت مریم نوزاز کے والد نواز شریف کی حکومت تھی۔ وفاقی حکومت کے مؤقف کے مطابق یہ افراد ڈاکو تھے۔ تاہم بعد کی تحقیقات اور میڈیا رپورٹس میں سامنے آیا کہ مقتولین غیر مسلح کسان اور مقامی باشندے تھے۔ اس واقعے نے قومی سطح پر شدید ردعمل پیدا کیا۔

    مقتولین میں مائی جندو کے دو بیٹے بہادر اور منٹھار ، اور ان کے داماد حاجی اکرم بھی شامل تھے۔ ایک ماں کے لیے یہ صدمہ ناقابلِ بیان تھا۔ مگر انہوں نے خاموشی اختیار نہیں کی۔ انہوں نے انصاف کے لیے آواز بلند کی۔

    واقعے کے بعد قانونی کارروائی شروع ہوئی۔ میڈیا کی توجہ اور عوامی دباؤ کے باعث متعلقہ فوجی افسران کے خلاف کورٹ مارشل کی کارروائی عمل میں آئی۔ مرکزی کردار میجر ارشد جمیل کو گرفتار کیا گیا اور فوجی عدالت میں مقدمہ چلا۔

    عدالتی کارروائی کے دوران کیس مسلسل خبروں میں رہا۔ یہ مقدمہ صرف ایک فوجداری کارروائی نہیں رہا بلکہ ریاستی احتساب کے سوال سے جڑ گیا۔ مائی جندو ہر سماعت میں موجود رہیں۔ وہ انصاف کے انتظار میں عدالتوں کے باہر بیٹھی نظر آتی تھیں۔

    11 ستمبر 1996 کو احتجاج ایک انتہائی المناک رخ اختیار کر گیا۔ مائی جندو کی دو بیٹیوں، حکیم زادی اور زیب النسا، نے انسدادِ دہشت گردی عدالت حیدرآباد کے باہر خود کو آگ لگا لی۔ یہ اقدام اس وقت سامنے آیا جب سزا پر عمل درآمد میں تاخیر ہو رہی تھی۔ دونوں شدید زخمی ہوئیں اور بعد ازاں جانبر نہ ہو سکیں۔

    یہ منظر قومی اخبارات میں شائع ہوا۔ انگریزی اخبار ڈان نےفرنٹ پیج پر اپر ہاف میں مائی جندو کی بیٹوں کی آگ میں جلتی تصویر بڑی سائیز میں شایع کی۔  اس واقعے نے ملک بھر میں ہلچل مچا دی۔ انسانی حقوق کے حلقوں میں اس پر شدید بحث ہوئی۔ عدالتوں پر دباؤ بڑھا کہ مقدمے کو منطقی انجام تک پہنچایا جائے۔

    28 اکتوبر 1996 کو پاکستان فوج کے حاضر سروس میجر ارشد جمیل کو حیدرآباد سینٹرل جیل میں پھانسی دے دی گئی۔ یہ ایک غیر معمولی واقعہ تھا کہ ایک حاضر سروس فوجی افسر کو کورٹ مارشل کے بعد سزائے موت دی گئی۔ اس فیصلے کو ریاستی احتساب کی مثال کے طور پر دیکھا گیا۔

    اس کے باوجود مائی جندو کا دکھ ختم نہیں ہوا۔ ان کے خاندان نے بیٹے، داماد اور بعد ازاں بیٹیوں کو کھو دیا تھا۔ قانونی فیصلے کے باوجود ایک ماں کے زخم باقی رہے۔

    2004 میں حکومت سندھ نے مقتولین کے خاندانوں کو بطور معاوضہ 24 ایکڑ زرعی زمین فی خاندان دینے کا اعلان کیا۔ مائی جندو نے بعد میں کہا کہ زمین بنجر تھی اور قابلِ کاشت نہیں تھی۔

    2006  میں ضلعی انتظامیہ کی جانب سے متاثرہ خاندانوں میں مالی معاوضہ تقسیم کیا گیا۔ تقریباً 4.55 ملین روپے کے چیکز ورثا کو دیے گئے۔ یہ اقدامات ریاستی ذمہ داری کی تکمیل کے طور پر پیش کیے گئے۔

    وقت گزرتا گیا مگر ٹنڈو بہاول کیس صحافتی اور سماجی مباحث میں زندہ رہا۔ اسے اکثر اس مثال کے طور پر پیش کیا گیا کہ ریاستی طاقت کے استعمال کے بعد عدالتی احتساب کیسے ممکن ہوا۔

    مائی جندو مختلف تقریبات میں مدعو کی گئیں۔ 2012 میں کراچی پریس کلب میں ایک تقریب میں انہیں خراجِ تحسین پیش کیا گیا۔ ان کی جدوجہد کو استقامت کی علامت قرار دیا گیا۔

    یہ کیس کئی حوالوں سے منفرد تھا۔ اول، اس میں ابتدائی سرکاری بیان اور بعد کی عدالتی حقیقت میں واضح فرق سامنے آیا۔ دوم، ایک فوجی افسر کا کورٹ مارشل اور پھانسی ایک غیر معمولی مثال بنی۔ سوم، ایک عام دیہاتی خاتون کی طویل مزاحمت قومی سطح پر سنی گئی۔

    ٹنڈو بہاول کا واقعہ آج بھی ریاستی جوابدہی کے مباحث میں حوالہ بنتا ہے۔ یہ سوال اٹھاتا ہے کہ انصاف کے حصول میں تاخیر کتنے گہرے سماجی زخم پیدا کر سکتی ہے۔

    مائی جندو کی کہانی کسی سیاسی نعرے سے زیادہ ایک انسانی داستان ہے۔ ایک ماں جس نے اپنے بچوں کی موت کے بعد بھی خاموشی قبول نہیں کی۔ انہوں نے عدالتوں کا دروازہ کھٹکھٹایا۔ انہوں نے احتجاج کیا۔ انہوں نے انتظار کیا۔

    انصاف ملا، مگر قیمت بھاری تھی۔

    ٹنڈو بہاول کیس محض ایک پرانا مقدمہ نہیں۔ یہ پاکستان کی عدالتی اور ریاستی تاریخ کا ایک اہم باب ہے۔ اور اس باب کے مرکز میں ایک نام ہمیشہ رہے گا۔

    اس وقت کے وزیراعظم نواز شریف کی حکومت کی جانب سے مائی جندو کے بیٹوں کو ڈاکو قرار دیا گیا، جب کہ مریم نواز نے مائی جندو کو ‘رول ماڈل ایوارڈ’ دیا، یہ ایک نئی تاریخ رقم ہوئی۔

     

     

  • ڈیپلو: والد نے بیٹے کو تحفہ دینے کے لیے بغیر نقطوں کے اشعار والی منفرد رلی چھ سال میں بنائی، جو 60 سالوں سے محفوظ ہے

    ڈیپلو: والد نے بیٹے کو تحفہ دینے کے لیے بغیر نقطوں کے اشعار والی منفرد رلی چھ سال میں بنائی، جو 60 سالوں سے محفوظ ہے

    سندھ میں رلی کو عورتوں کے ہاتھ کا ہنر سمجھا جاتا ہے۔ صدیوں سے یہ ثقافتی رلیاں گھروں میں عورتیں ہی تیار کرتی آئی ہیں۔ مگر تھر کے شہر ڈیپلو سے سامنے آنے والی ایک رلی اس روایت سے ہٹ کر ہے۔

    یہ رلی کسی خاتون نے نہیں بلکہ ایک مرد نے تیار کی۔ اس مرد کا نام عبداللہ کٹی تھا، جو سنہ 1966 میں ڈیپلو میں پرائمری استاد تھے۔ غربت کے باعث وہ سرکاری ملازمت کے ساتھ ساتھ رلی بھی تیار کر کے فروخت کرتے تھے، تاکہ اپنے بچوں کی کفالت کر سکے۔

    عبداللہ کٹی صرف استاد نہیں تھے بلکہ خطاط اور شاعر بھی تھے۔ سنہ 1966 میں جب اس کے ہاں بیٹے کی پیدائش ہوئی تو اس نے بازار سے کوئی تحفہ خریدنے کے بجائے اپنے ہاتھوں سے ایک رلی بنانے کا فیصلہ کیا۔

    یہ رلی عام رلی نہیں تھی۔ اس کے وسط میں عبداللہ کٹی نے اپنا لکھا ہوا ایک بیت کپڑے کے ٹکڑوں سے چٹ دیا۔ انہوں نے اس بیت میں کہیں بھی نقطے کا استعمال نہیں کیا گیا، جو خطاطی کا ایک مشکل اور کم معروف اسلوب سمجھا جاتا ہے۔

    اس رلی کو مکمل کرنے میں عبداللہ کٹی کو چھ سال لگے۔ وہ فرصت کے لمحات میں آہستہ آہستہ اس پر کام کرتے تھے، وقت گزرنے کے ساتھ یہ رلی مکمل ہوئی اور بیٹے کے لیے ایک یادگار تحفہ بن گیا۔

    آج یہ رلی عبداللہ کٹی کے وارثوں کے پاس محفوظ ہے۔ ڈیپلو کی یہ رلی صرف کپڑے کا نمونہ نہیں بلکہ سندھ کی ثقافت، ایک والد کی محنت اور محبت، اور ایک کم دیکھی گئی روایت کی خاموش کہانی ہے۔

     

  • نابینا بین نواز آمن وکیو: چیچک، محرومی اور سُروں میں ڈھلی زندگی

    نابینا بین نواز آمن وکیو: چیچک، محرومی اور سُروں میں ڈھلی زندگی

    احمد المعروف آمن وکیو درد کی ایسی داستان ہے جس کے دکھ اس کی پیدائش سے پہلے ہی اس کی زندگی کا حصہ بن گئے تھے۔ آمن وکیو کی پیدائش آج سے کئی دہائیاں پہلے سندھ کے صحراوی علاقے ڈیپلو کے قریب گاؤں جڑہیار میں ہوئی۔ اس دور میں تعلیم اور ریکارڈ کا کوئی منظم نظام موجود نہیں تھا، اسی لیے وہ اپنی پیدائش کی درست تاریخ نہیں جانتے۔

    آمن وکیو بتاتے ہیں کہ بچپن میں سندھ میں چیچک کی بیماری پھیلی ہوئی تھی۔ یہ وہ زمانہ تھا جب اس موذی مرض نے ہزاروں جانیں لیں اور بے شمار لوگوں کو عمر بھر کی معذوری دے دی۔ آمن وکیو اس وقت آٹھ برس کے تھے۔ بیماری نے ان کی آنکھوں کی بینائی ہمیشہ کے لیے چھین لی۔

    Saga Digital سے گفتگو کرتے ہوئے آمن وکیو نے بتایا کہ غربت کے باعث والدین روزگار کے لیے بیراج کے علاقوں میں گئے ہوئے تھے۔ وہ خود بھی ڈگری کے قریب ٹی لکھي موری کے ایک کارخانے میں کام کر رہے تھے، جہاں چیچک کی بیماری نے انہیں آ لیا۔ علاج کی سہولتیں محدود تھیں۔ انہیں ڈگری اور میرپورخاص کے ہسپتالوں میں لے جایا گیا، مگر ڈاکٹروں نے صاف بتا دیا کہ چیچک سے متاثر آنکھوں کا علاج ان کے پاس موجود نہیں۔

    بینائی سے محرومی کے بعد زندگی نے نیا رخ لیا۔ پندرہ برس کی عمر میں انہیں وڑھیجپ کے استاد ہوت درس ملے، جنہوں نے انہیں بین یعنی بانسری کی باقاعدہ تربیت دی۔ سر اور تال کی باریکیوں کو سمجھایا اور آٹھ بنیادی راگ سکھائے۔ انہی کی رہنمائی میں آمن وکیو اپنے علاقے کے معروف بین نواز بن گئے۔

    وقت کے ساتھ جسم نے ساتھ چھوڑنا شروع کیا۔ دانت گر گئے، سماعت کمزور ہو گئی، مگر بین کے سُر آج بھی ان کے ہاتھوں میں زندہ ہیں۔ وہ آج بھی تلنگ، جوگ، درگا، پہاڑی، ملھاری، راڻو اور مانجھ جیسے راگ بجا کر محفل کو ساکت کر دیتے ہیں۔

    آمن وکیو آج بھی کچی جھونپڑی میں رہتے ہیں۔ وہ قریبی دیہات میں شادی بیاہ کی تقریبات میں بین بجاتے ہیں اور اسی فن کو روزگار کا ذریعہ بنائے ہوئے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ ایک عام مزدور سے بہتر کما لیتے ہیں، مگر یہ آمدن مستقل نہیں۔

    ساگا ڈیجیٹل سے گفتگو کرتے ہوئے آمن وکیو نے کہا:موبائل فون اور جدید تفریحی ذرائع کے عام ہونے سے اب لوگ اس فن میں دلچسپی نہیں رکھتے۔’ ان کے بقول، پہلے شادیوں میں بین بجانے پر عزت بھی ملتی تھی، آج بس چند سکے تھما دیے جاتے ہیں۔

    انہوں نے بتایا کہ والدین نے ان کا نام احمد رکھا تھا، مگر وقت کے ساتھ وہ آمن کے نام سے پہچانے جانے لگے۔ ریڈیو مٹھی پر بھی انہوں نے آمن کے نام سے ہی خود کو متعارف کرایا۔ ایک زمانے میں حیدرآباد میں ان کا انٹرویو بھی ہوا، مگر نابینائی اور مسلسل سفر کی مجبوری کے باعث انہوں نے ریڈیو فنکار بننے کی پیشکش قبول نہیں کی۔

    آمن وکیو کی زندگی سندھ کے ان فنکاروں کی نمائندگی کرتی ہے جو بیماری، غربت اور لاپروائی کے باوجود اپنے فن کو زندہ رکھے ہوئے ہیں۔ ان کی بین کے سُر صرف موسیقی نہیں، بلکہ ایک ایسے معاشرے کی گواہی ہیں جہاں فن تو زندہ ہے، مگر فنکار اکثر نظر انداز کر دیے جاتے ہیں۔

     

  • احتجاج کریں مگر مرکزی شاہراہوں پر نہیں، قانون ہاتھ میں لینے والوں سے آہنی ہاتھوں سے نمٹا جائے گا: وزیر داخلہ سندھ

    احتجاج کریں مگر مرکزی شاہراہوں پر نہیں، قانون ہاتھ میں لینے والوں سے آہنی ہاتھوں سے نمٹا جائے گا: وزیر داخلہ سندھ

    وزیر داخلہ سندھ ضیاء الحسن لنجار نے کہا ہے کہ صوبے میں کسی کو بھی شاہراہیں بند کرنے یا شہری زندگی مفلوج کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ ایک انٹرویو میں انہوں نے واضح کیا کہ قانون کی خلاف ورزی کی صورت میں بلا امتیاز کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

    ان کا کہنا تھا کہ قومی شاہراہیں بند کرنا کسی جماعت یا گروہ کا اختیار نہیں اور اگر کسی نے زبردستی دکانیں بند کرانے یا سڑکیں بلاک کرنے کی کوشش کی تو قانون حرکت میں آئے گا۔

    ضیاء الحسن لنجار نے کہا کہ جماعت اسلامی کی جانب سے شاہراہ فیصل بند کر کے ٹریفک معطل کرنا کھلی قانون شکنی ہے اور اس واقعے میں دہشت گردی کی دفعات شامل ہونی چاہئیں تھیں۔ ان کے مطابق اگر ایسے مقدمات میں دہشت گردی کی دفعات شامل کی جائیں تو آئندہ کسی کو سڑک بند کرنے کی ہمت نہیں ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ شاہراہ فیصل بند کرنے کے لیے کسی قسم کی اجازت نہیں لی گئی تھی۔

    ضیاء الحسن لنجار نے بتایا کہ حافظ نعیم کو پیغام پہنچا دیا گیا ہے کہ سندھ اسمبلی کی سڑک بند نہ کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ احتجاج کرنا ہر شہری کا حق ہے لیکن اس کے لیے مرکزی شاہراہیں بند نہیں کی جا سکتیں۔ اگر احتجاج کرنا ہے تو سروس روڈ، پریس کلب یا مخصوص مقامات پر کیا جائے۔ انہوں نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ شہر بند کرنے کی ہرگز اجازت نہیں دی جائے گی۔

    وزیر داخلہ سندھ کا کہنا تھا کہ سندھ میں رواداری کے ساتھ معاملات چلائے جا رہے ہیں تاہم شہر میں دفعہ 144 نافذ ہے اور اس کی خلاف ورزی کی صورت میں قانونی کارروائی ناگزیر ہوگی۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر کسی نے ہڑتال یا سڑکیں بند کرنے کی کوشش کی تو قانون فوراً حرکت میں آئے گا اور کسی دباؤ کو خاطر میں نہیں لایا جائے گا۔

     

  • سندھ سولر انرجی پروجیکٹ میں مبینہ کرپشن: نیب نے وزیر اعلی سندھ کو سرکاری افسران کی مداخلت روکنے کا خط کیوں لکھا؟

    سندھ سولر انرجی پروجیکٹ میں مبینہ کرپشن: نیب نے وزیر اعلی سندھ کو سرکاری افسران کی مداخلت روکنے کا خط کیوں لکھا؟

    قومی احتساب بیورو نے سندھ سولر انرجی پروجیکٹ میں مبینہ کرپشن کی تحقیقات کے دوران وزیر اعلی سندھ کو خط لکھ کر سرکاری افسران کو نیب کے کام میں مداخلت سے باز رکھنے اور مکمل تعاون کی ہدایت دینے کی درخواست کی ہے۔ نیب کے مطابق تحقیقات کے دوران مختلف سرکاری محکموں کی جانب سے رکاوٹیں اور تاخیری حربے سامنے آئے، جس کے بعد یہ معاملہ براہ راست وزیر اعلی تک لے جانا پڑا۔

    یہ پیش رفت اس وقت سامنے آئی ہے جب نیب نے سندھ کے مختلف سرکاری افسران کو نوٹس جاری کیے اور بعد ازاں وزیر اعلی مراد علی شاہ کو بھی باضابطہ طور پر خط لکھا۔ سوال یہ اٹھایا جا رہا ہے کہ نیب اچانک اتنا متحرک کیوں ہوا اور ترقیاتی منصوبوں میں تحقیقات کی رفتار میں تیزی کیوں آئی۔

    یہ معاملہ سندھ سولر انرجی پروجیکٹ سے جڑا ہے، جس میں اربوں روپے کی مبینہ بے ضابطگیوں کی بات کی جا رہی ہے۔ جنوری 2019 میں سندھ حکومت اور ورلڈ بینک کے درمیان سندھ میں شمسی توانائی سے بجلی پیدا کرنے کے لیے 100 ملین ڈالر کے منصوبے کا معاہدہ طے پایا تھا۔ منصوبہ چار مراحل پر مشتمل تھا، جس کے پہلے مرحلے میں 400 میگا واٹ کا سولر پارک قائم کیا جانا تھا تاکہ لوڈ شیڈنگ پر قابو پایا جا سکے۔

    پہلے مرحلے کے لیے 40 ملین ڈالر مختص کیے گئے، جو پاکستانی کرنسی میں 11 ارب روپے سے زائد بنتے ہیں۔ اس مرحلے میں کے الیکٹرک کو بھی شامل کیا گیا تاکہ پیدا ہونے والی بجلی صارفین تک پہنچائی جا سکے۔ منصوبے کے تحت حب کے قریب دو مقامات، ملیر کے قریب ایک اور جامشورو میں ایک مقام پر زمین کا انتخاب کیا گیا۔ زمین ہموار کرنے اور ابتدائی کام کے لیے دو ٹھیکے داروں کو ڈھائی ارب روپے ایڈوانس ادا کیے گئے، حالانکہ منصوبہ ورلڈ بینک کے قرض پر شروع ہونا تھا۔ بعد ازاں یہ منصوبہ فائلوں میں دب کر رہ گیا۔

    دوسرے مرحلے میں سندھ کی سرکاری عمارتوں، جن میں اسکول اور ہسپتال شامل تھے، کو سولر انرجی پر منتقل کرنے کا منصوبہ بنایا گیا۔ اس مرحلے کے لیے مختص 25 ملین ڈالر کی رقم کو ریوائز کر کے 50 ملین ڈالر کر دیا گیا اور بچ جانے والی رقم ورلڈ بینک کو واپس کرنے کے بجائے اسی مرحلے میں شامل کر دی گئی۔

    2022 کے سیلاب کے بعد جیکب آباد کے پمپنگ اسٹیشنز کو سولر انرجی پر منتقل کرنے کے لیے امریکی ادارے کی جانب سے سندھ حکومت کو خط لکھا گیا۔ ورلڈ بینک نے اس منصوبے کو بھی سندھ سولر انرجی پروجیکٹ میں شامل کرنے کی ہدایت دی۔ جنوری 2023 میں ایک کمپنی کو پمپنگ اسٹیشنز کے لیے ٹھیکہ دیا گیا، تاہم جیکب آباد میں 1.4 میگا واٹ بجلی پیدا کرنے والا سولر پروجیکٹ بند پڑا ہے اور ورلڈ بینک کے تیس کروڑ روپے بظاہر ضائع ہو چکے ہیں۔

    دوسری جانب یو ایس ایڈ کی جانب سے شکایتی خطوط بھی لکھے گئے، مگر ایس ای سی پی کے ریکارڈ میں یہ منصوبہ مکمل ظاہر کیا گیا اور کمپلیشن سرٹیفیکیٹ بھی جاری کر دیا گیا۔ اسی منصوبے کے دوسرے مرحلے میں 56 سائٹس کو سولر انرجی پر منتقل کرنے اور مانیٹرنگ سسٹم نصب کرنے کا وعدہ کیا گیا تھا، جو تاحال عملی شکل اختیار نہ کر سکا۔

    نیب کے مطابق جب اس میگا پروجیکٹ میں مبینہ کرپشن کی تحقیقات شروع کی گئیں تو سندھ کا اینٹی کرپشن محکمہ اور بعض سرکاری افسران مداخلت کرنے لگے اور ٹال مٹول کے ہتھکنڈے اختیار کیے گئے۔ اسی صورتحال کے پیش نظر نیب نے وزیر اعلی سندھ کو خط لکھ کر افسران کو تعاون کی ہدایت دینے کا مطالبہ کیا۔

    نیب کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ ترقیاتی منصوبوں میں کرپشن کی تحقیقات میں تیزی کی وجوہات اور دیگر تفصیلات جلد سامنے لائی جائیں گی۔