سندھ کے ضلع دادو کے تعلقہ خیرپور ناتھن شاہ کے قدیم گاؤں بورڑی میں واقع ویر ناتھ مندر سندھ کے اُن تاریخی، ثقافتی اور روحانی ورثوں میں شمار ہوتا ہے جو آج اگرچہ خاموشی کی تصویر بنا ہوا ہے، مگر اپنے اندر صدیوں پر محیط ایک گہری روحانی تاریخ سموئے ہوئے ہے۔ یہ مندر صرف ایک عبادت گاہ نہیں بلکہ سندھ کی مشترکہ تہذیب، مذہبی ہم آہنگی اور روحانی روایات کا ایک اہم نشان بھی ہے۔
تاریخی اور مقامی روایات کے مطابق ویر ناتھ مندر کی بنیاد میر دور سے بھی پہلے رکھی گئی تھی۔ کہا جاتا ہے کہ اس کی تعمیر سترہویں صدی کے اوائل یا اس سے بھی پہلے ہوئی، جس کا مطلب ہے کہ آج اس مندر کو کم از کم چار سے پانچ سو سال کا عرصہ بیت چکا ہے۔ یہ مندر ناتھ مت کے عظیم یوگی ویر ناتھ کے پیروکاروں نے قائم کیا تھا، جن کا تعلق برصغیر سے بتایا جاتا ہے۔ ویر ناتھ ناتھ یوگی روایت کے ایک بڑے روحانی پیشوا تھے جنہوں نے سندھ کو اپنی روحانی سرگرمیوں کا مرکز بنایا۔
ویر ناتھ کی آمد کے بعد یہ مقام ناتھ مت کے پیروکاروں کے لیے عبادت، مراقبہ، یوگا اور مذہبی تعلیم کا اہم مرکز بن گیا۔ سندھ کے مختلف علاقوں کے علاوہ دور دراز خطوں سے بھی یوگی، سادھو اور عقیدت مند یہاں آتے تھے۔ اس طرح یہ مندر نہ صرف ایک مذہبی مقام بلکہ مقامی ثقافت، روحانی اقدار اور مذہبی روایات کے فروغ کا بھی مرکز رہا۔
مندر کے احاطے میں موجود مقدس تالاب آج بھی اپنی قدامت کے ساتھ موجود ہے۔ مقامی عقیدے کے مطابق اس تالاب کا پانی جلدی امراض کے لیے شفا بخش سمجھا جاتا ہے۔ آج بھی لوگ یہاں آ کر اس پانی سے غسل کرتے ہیں اور اپنے پرانے کپڑے بطور نشانی یہیں چھوڑ جاتے ہیں۔ تالاب کے اردگرد بکھرے یہ کپڑے صدیوں پرانی عقیدت کی خاموش گواہی دیتے ہیں۔
اسی احاطے میں ایک قدیم پیپل کا درخت بھی موجود ہے، جس کی عمر مقامی روایات کے مطابق پانچ سے سات سو سال بتائی جاتی ہے۔ اس کے علاوہ کچی اینٹوں سے بنا ہوا قدیم مسافر خانہ اور پرانا کنواں بھی یہاں موجود ہیں، جو ماضی میں آنے والے مسافروں اور سادھوؤں کی خدمت کے لیے استعمال ہوتے تھے۔
ایک وقت تھا جب ویر ناتھ مندر نہ صرف عبادت بلکہ سماجی اور ثقافتی سرگرمیوں کا بھی مرکز تھا۔ مقامی افراد کے مطابق یہاں ہر سال باقاعدگی سے سالانہ میلہ منعقد ہوتا تھا، جس میں سندھ کے مختلف علاقوں سے لوگ شریک ہوتے تھے۔ یہ میلہ مذہبی عقیدت کے ساتھ ساتھ لوک موسیقی، ثقافتی میل جول اور مقامی روایات کا حسین امتزاج ہوتا تھا۔ تاہم بتایا جاتا ہے کہ یہ میلہ آج سے تقریباً تیس سے چالیس سال قبل بند ہو گیا۔
دادو کی معروف علمی و سماجی شخصیت پروفیسر رمیش کمار نانکانی نے ساگا ڈیجیٹل کو بتایا کہ ویر ناتھ مندر سندھ کی اُس قدیم روحانی روایت کی یادگار ہے جہاں مختلف مذاہب اور ثقافتوں کے لوگ ایک دوسرے کے احترام کے ساتھ رہتے تھے۔ ان کے مطابق یہ مقام صرف ہندو برادری ہی نہیں بلکہ پورے خطے کی مشترکہ تاریخ کا حصہ ہے۔
آج ویر ناتھ مندر کی دیواریں اگرچہ خاموش ہیں، مگر ان اینٹوں میں ماضی کی صدائیں اب بھی محفوظ ہیں۔ یہ مقام اس بات کی یاد دہانی کراتا ہے کہ سندھ کی سرزمین ہمیشہ سے روحانیت، رواداری اور ثقافتی ہم آہنگی کی امین رہی ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا ہم اس خاموش ورثے کو محفوظ رکھ پائیں گے، یا وقت کی گرد اسے مکمل طور پر اپنی لپیٹ میں لے لے گی۔
