Tag: مندر

  • شری سوامی نرائن مندر اور کراچی کا لازوال کثیر الثقافتی ورثہ

    شری سوامی نرائن مندر اور کراچی کا لازوال کثیر الثقافتی ورثہ

    انیسویں صدی کے اواخر اور بیسویں صدی کے آغاز میں جب کراچی بمبئی پریزیڈنسی کے تحت برصغیر کا ایک جدید تجارتی مرکز بن رہا تھا تو اس کی شناخت ایک کثیر الثقافتی سماج کے طور پر ابھری۔ پرانے کراچی کا مزاج مغل یا شاہی اثرات سے آزاد تھا۔ یہاں کی تعمیرات اور سماجی انفراسٹرکچر پر کلاسک گجراتی، اینگلو ورناکولر اور تاجر برادریوں کی فلاحی جمالیات کا گہرا اثر تھا۔

    جہاں اس شہر کے تجارتی قلب اور بحری حدود میں مختلف مسلم مکاتب فکر کی مساجد، جیسے منوڑہ کی کوکنی شافعی مسجد، صدر کی کچھی میمن مسجد اور اولڈ ٹاؤن کی ملاباری مسجد، مسیحیوں کے گرجا گھر اور یہودی سینیگاگ تعمیر ہو رہے تھے، وہیں ہندو تاجر برادری نے بھی شہر کے مرکزی ہائی وے، ایم اے جناح روڈ (سابقہ بندر روڈ) پر اپنی عظمت اور رواداری کے لازوال نشان قائم کیے۔

    انہی میں سب سے نمایاں اور تاریخی شاہکار کراچی میونسپل کارپوریشن کے مرکزی دفتر کے عین سامنے واقع شری سوامی نرائن مندر ہے۔ کراچی کے قلب میں واقع یہ ایک ایسا انسانی جزیرہ ہے جہاں پچھلے پونے دو سو سالوں سے ہندو، سکھ، مسلم اور مسیحی ایک جگہ بیٹھ کر کھانا کھاتے آئے ہیں اور جس کو 1947 کے بعد چاروں جانب سے کمرشل دکانوں نے گھیر کر اس کے اصل حسن کو گہنا دیا ہے۔

    مندر کی زمین کا حصول اور ابتدائی نقشہ سن 1849 کا ہے (جو چارلس نیپئر کے ہاتھوں سندھ کی فتح کے محض چھ سال بعد کا دور ہے)، جبکہ اس کے موجودہ شاندار ڈھانچے اور ‘شکھر’ (مخروطی پیرامڈ نما چھت) کی توسیع 1882 میں کی گئی۔ یہ پاکستان کا واحد مستقل فعال ہندو مت کے دیوتا سوامی نرائن کا مندر ہے۔

    معمارانہ لحاظ سے یہ فن تعمیر کا ایک انوکھا شاہکار ہے۔ اس کی تعمیر کے لیے ٹھٹہ کے تاریخی مقام جنگ شاہی سے خصوصی پیلا پتھر لایا گیا تھا، کیونکہ یہ پتھر آریہ اسٹائل کے گنبدوں پر دیوی دیوتاؤں کے باریک مجسموں اور جالیوں کی نقش تراشی کے لیے موزوں ترین پتھر سمجھا جاتا ہے۔ مندر کے مرکزی ستون پر ہاتھ سے تراشی گئی ہندو مت کے دیوتا کرشن کی داستانی پینٹنگ اس دور کے مٹی کے فنکاروں کی جمالیاتی حس کا ثبوت ہے۔

    سوامی نرائن مندر صرف ایک عمارت نہیں، بلکہ 32306 مربع گز پر پھیلا ہوا ایک مکمل مائیکرو کاسم (چھوٹا جہاں) اور ڈیڑھ صدی سے زائد پرانی برادری کا مسکن ہے۔ اس احاطے کی سماجی جغرافیہ کے چند منفرد رخ یہ ہیں۔

    ہندو سکھ بقائے باہمی

    اس احاطے میں ڈیڑھ صدی پرانے گھروں میں سناتن دھرمی ہندو برادری آباد ہے، اسی رہائشی کامپلیکس کے اندر ہندو مندر کے ساتھ ہی سکھ گردوارہ بھی قائم ہے، جو تقسیم ہند کے وقت سے پنتھ وادی سکھ اور سناتنی ہندو بھائی چارے کی خاموش علامت ہے۔

    شہری گوشالہ

    ایم اے جناح روڈ کی پرشور ٹریفک کے عین وسط میں اس مندر کی اپنی ایک قدیم گوشالہ ہے، جہاں گائے رکھی جاتی ہیں اور ان کی روایتی دیکھ بھال کی جاتی ہے۔اس رہائشی کالونی اور مختلف علاقوں سے لوگ آکر گائے کو کھانا کھلاتے ہیں۔

    روحانی پورٹ

    یہ مندر بلوچستان کی ہزاروں سالہ قدیم اور دریائے ہنگول کی پہاڑیوں میں واقع مقدس ہنگلاج نانی مندر کی ‘ہنگلاج یاترا’ کا روایتی نقطۂ آغاز ہے، جہاں پورے ملک سے یاتری آ کر دھرم شالہ میں قیام کرتے ہیں۔ بھر یہاں سے ہنگلاج کے سفر کا آغاز ہوتا ہے۔

    1947 کی دکانیں اور گمشدہ حسن

    1849 کا یہ پیلا شاہکار آج بیرونی دنیا سے تقریباً کٹ چکا ہے۔ 1947 میں آزادی کے فوراً بعد مہاجرین کی آباد کاری کے لیے لائٹ ہاؤس سے سٹی کورٹ کے فرنٹ اور عقب میں فریئر روڈ پر جو عارضی دکانیں قائم کی گئی تھیں، انہوں نے وقت کے ساتھ مستقل بازاروں کی شکل اختیار کر لی۔ ان دکانوں کے ہجوم نے مندر کے بیرونی حسن اور اس کے شاندار اگواڑےکو عام نظروں سے اوجھل کر دیا ہے۔

    اس مندر کے وسیع میدان اور دھرم شالہ نے تاریخ کے ہر کٹھن دور میں انسانوں کو پناہ دی۔

    تقسیم ہند 1947 کے دوران ریفوجی کیمپ

    آزادی کے خونی دنوں میں یہ احاطہ ہجرت کرنے والے لاکھوں ہندو اور سکھ خاندانوں کے لیے ریفیوجی کیمپ بنا، جہاں بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح نے خود دورہ کر کے اقلیتوں کو تحفظ اور مساوی حقوق کا دلاسہ دیا۔

    1980 کی دہائی میں احترام رمضان آرڈیننس اور ڈاؤ یونیورسٹی کے طلبہ کا میس

    سابق فوجی آمر ضیا کے دور میں جب احترام رمضان آرڈیننس کے تحت پورے شہر میں کھانے پینے پر سخت پابندیاں تھیں اور سامنے واقع ڈاؤ میڈیکل کالج کا ہاسٹل میس بند ہو جاتا تھا، تو اس مندر کے لنگر نے مسلم اور غیر مسلم طلبہ کے لیے اپنے دروازے کھولے۔ وہاں ملنے والا سستا اور لذیذ سبزیاں اس دور کی گھٹن میں کراچی کی خاموش رواداری کا سب سے بڑا ثبوت تھا۔

    بین المذاہب لچک اور سماجی خدمت

    جہاں یہ مندر اپنے روایتی لنگر کے لیے مشہور ہے، وہیں اس احاطے کا سب سے منفرد ریسٹورنٹ ہے، جہاں صرف سبزیاں ملتی ہیں۔ کھانے پینے کی ہندو مذہبی ممانعتوں اور صحت و صفائی کے اصولوں کے عین مطابق یہاں گوشت کے بغیر انتہائی لذیذ، صاف ستھرا اور سادہ کھانا تیار کیا جاتا ہے۔ یہ ریسٹورنٹ کراچی کے غریب اور محنت کش مسلمانوں، ہندوؤں اور سکھوں کو سستے ترین نرخوں پر کھانا فراہم کرتا ہے۔

    مندر کے احاطے میں اس ریسٹورنٹ کا ہونا اور وہاں مسلمانوں سمیت تمام مذاہب کے لوگوں کا بلا جھجک آنا یہ ثابت کرتا ہے کہ یہ مندر صرف ایک سخت گیر مذہبی مقام نہیں ہے، بلکہ یہ کراچی کا ایک متحرک سماجی مرکز ہے، جہاں سستا اور معیاری کھانا فراہم کرنا ایک ایسی فلاحی خدمت ہے جو شہر کے محنت کش طبقے کو بغیر کسی مذہبی تفریق کے ایک میز پر اکٹھا کرتی ہے۔

    خلاصہ کلام یہ کہ آج یہ احاطہ تقریباً پانچ ہزار ہندو اور سکھ آبادی کا مسکن ہے، جہاں دیوالی اور ہولی جیسے تہوار پورے کراچی کے لیے روشنیوں کا پیغام لاتے ہیں۔ اگرچہ پچھلی چند دہائیوں میں تجاوزات کی وجہ سے اس کا رقبہ متاثر ہوا ہے، لیکن یہ احاطہ آج بھی بین المذاہب ہم آہنگی اور غریب پروری کا ایک گراں قدر ہیریٹیج ہے۔

    اس 32 ہزار مربع گز کے تاریخی مائیکرو کاسم کو آثار قدیمہ کا باقاعدہ درجہ دے کر اس کی دکانوں کے پیچھے دبی بیرونی دیواروں کی تاریخی اور سائنسی بحالی کی جائے، تاکہ پرانے کراچی کا یہ شفیق اور روادار چہرہ آنے والی نسلوں کے لیے محفوظ رہ سکے۔

  • سمندر کی لہروں پر ‘تیسری آنکھ’ کا پہرا: کلفٹن کا قدیم شری رتنیشور مہادیو مندر

    سمندر کی لہروں پر ‘تیسری آنکھ’ کا پہرا: کلفٹن کا قدیم شری رتنیشور مہادیو مندر

    جدید کراچی کے کلفٹن بلاک فور میں واقع جہانگیر کوٹھاری پریڈ کے عین نیچے، زمین کی تہوں میں ایک ایسا تاریخی اور تعمیراتی معجزہ چھپا ہے جو اس شہر کی کثیر الثقافتی بحری روح کا عکاس ہے۔ یہ ‘شری رتنیشور مہادیو مندر’ ہے، ایک ایسا قدیم غار نما مندر جو اپنے اندر کم از کم 150 سے 300 سال کی تاریخ سمیٹے ہوئے ہے۔

    جس طرح قیام پاکستان کے بعد کراچی کے عام مسلمانوں کا یہ پختہ عقیدہ ہے کہ کلفٹن کی پہاڑی پر موجود حضرت عبداللہ شاہ غازیؒ کا مزار شہر کو بحری طوفانوں سے بچاتا ہے، بالکل اسی طرح تقسیم ہند سے قبل کراچی کے قدیم ملاحوں اور ہندو برادری کا یہ ماننا تھا کہ اس زیر زمین غار میں موجود ‘بھگوان شیو کی تیسری آنکھ’ بحیرہ عرب کی بپھری ہوئی لہروں کو قابو میں رکھتی ہے اور شہر کو کسی بھی بڑی سمندری آفت سے محفوظ رکھتی ہے۔

    تاریخی شواہد کے مطابق، یہ مندر شروع میں کوئی باقاعدہ عمارت نہیں تھا، بلکہ کلفٹن کی پہاڑی کے نیچے ساحل سمندر پر واقع ایک قدرتی غار تھا۔ روایات بتاتی ہیں کہ قدیم دور میں یہاں ایک تارک دنیا یوگی آ کر مقیم ہوئے، جنہوں نے اس غار کی تنہائی میں طویل چلہ کاٹا اور مراقبہ کیا۔

    اسی چلہ کشی کے دوران غار کے اندر میٹھے پانی کا ایک قدرتی چشمہ دریافت ہوا، جو ساحل سمندر کے بالکل قریب ہونے کے باوجود حیرت انگیز طور پر بالکل میٹھا اور لذیذ تھا۔ اس بظاہر ناممکن مظہر فطرت کو قدرت کا کرشمہ مانا گیا اور اس جگہ کو بھگوان شیو مہادیو سے منسوب کر کے باقاعدہ پوجا کا مرکز بنا دیا گیا۔

    یہ مندر سندھ کی روایتی بین المذاہب ہم آہنگی کا ایک درخشاں نمونہ رہا ہے۔ برطانوی راج سے بھی پہلے، جب سندھ پر تالپور فرماں رواوں کی حکومت تھی، تو اس مندر کی بڑی اہمیت تھی۔ اس دور میں غار کے اندر مورتیاں نہیں تھیں، بلکہ صرف ایک قدرتی ‘شیو لنگم’ اور ایک بڑا چراغ روشن رہتا تھا۔ تاریخی دستاویزات گواہ ہیں کہ تالپور حکمران اس دیے کو مستقل روشن رکھنے کے لیے ہر ماہ ساڑھے سات سیر (تقریباً ۷ کلو) سرسوں کا تیل سرکاری خرچ پر بطور عطیہ بھیجا کرتے تھے۔

    سندھی روایات کے مطابق، سکھ مذہب کے بانی بابا گرو نانک جی نے بھی اپنے جوگ کے دوران اس غار میں قیام کیا اور عبادت کی تھی۔ یہی وجہ ہے کہ تقسیم سے پہلے شیو راتری کے میلے میں ہندووں کے ساتھ ساتھ سکھ برادری بھی بڑی تعداد میں یہاں جمع ہوتی تھی۔

    ایک تعمیراتی عجوبہ: چھ زیر زمین منزلیں

    تعمیر کے لحاظ سے یہ مندر کراچی کا ایک منفرد عجوبہ ہے۔ جہانگیر کوٹھاری پریڈ کے پاس بنے دروازے سے داخل ہوتے ہی سیڑھیاں زمین کے نیچے اترتی چلی جاتی ہیں۔ یہ مندر کل چھ زیر زمین تہوں پر مشتمل ہے۔ اس کے چوتھے زیر زمین لیول پر سنگ مرمر کا ایک خوبصورت اور وسیع صحن بنایا گیا ہے۔ مختلف سطحوں پر بنے جھروکوں اور چٹانی دیواروں میں ہندو دیوی دیوتاوں کی مورتیاں نصب ہیں۔

    لوک روایات کے مطابق، اس کی پانچویں منزل پر ایک خفیہ سرنگ بھی موجود تھی جو کلفٹن کے ہی تاریخی موہٹہ پیلس تک جاتی تھی۔ سب سے نچلی سطح پر وہ تاریخی میٹھے پانی کا چشمہ آج بھی بہتا ہے، جس کے پانی کو زائرین انتہائی مقدس مانتے ہیں اور مذہبی رسومات (اشنان اور پوجا) کے لیے استعمال کرتے ہیں۔

    مہا شیو راتری: ماضی اور حال کا سحر انگیز میلہ

    ہر سال فروری یا مارچ (ہندو کیلنڈر کے مطابق پھاگن کے مہینے) میں یہاں ‘مہا شیو راتری’ کا سب سے بڑا تہوار منایا جاتا ہے۔ 1920 اور 1930 کی دہائیوں کی پرانی تصاویر اور دستاویزات سے معلوم ہوتا ہے کہ اس دور میں سمندر کی لہریں سیدھی اس غار اور لیڈی لائیڈ پیئر کی دیواروں سے ٹکراتی تھیں۔

    شیو راتری پر ہزاروں خواتین خوبصورت ساڑھیاں پہن کر، اپنے سہاگ کی لمبی عمر کی دعاوں کے ساتھ، پوجا کی تھالیوں میں دیے روشن کر کے صبح صادق ننگے پاوں کلفٹن کی ریت پر چلتی تھیں اور ان دیوں کو لہروں کے سپرد کر کے ‘آرتی’ اتارتی تھیں۔

    رات بھر یہاں ‘جاگرن’ (شب بیداری) ہوتا ہے، جہاں ہر تین گھنٹے بعد شیو لنگم کو دودھ، دہی، شہد اور چندن سے غسل دیا جاتا ہے۔ ماضی میں کراچی کے امیر ہندو تاجر اس رات کے لیے خصوصی طور پر ہندوستان سے ‘گنگا جل’ منگوایا کرتے تھے۔ مقامی سندھیوں میں یہ عقیدہ آج بھی راسخ ہے کہ شیو راتری کے ان تین دنوں میں کراچی میں ہلکی بونداباندی لازمی ہوتی ہے، جو قدرت کی طرف سے آشیرباد کا اشارہ ہے۔

    مندر کو لاحق خطرات، عدالتی تحفظ اور موجودہ حالت

    وقت کے ساتھ ساتھ کلفٹن کے ساحل پر مٹی کے پھیلاو کی وجہ سے سمندر اب مندر سے کافی دور ہو چکا ہے، اور ماضی کی سادہ مٹیالی غار اب سنگ مرمر اور جدید روشنیوں سے آراستہ ہو چکی ہے۔ تاہم، 2014 میں جب کلفٹن ٹریفک پراجیکٹ کے تحت یہاں فلائی اوور اور انڈر پاسز کی کھدائی شروع ہوئی، تو بھاری مشینری کے ارتعاش سے اس قدیم غار کی دیواروں میں خطرناک دراڑیں آ گئیں۔

    اس نازک موقع پر پاکستان ہندو پنچائت نے سندھ ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ سے رجوع کیا۔ عدالت عظمی کے سخت احکامات کے بعد تعمیراتی کمپنی نے مندر کے ڈھانچے کی سائنسی بنیادوں پر مرمت اور بحالی کی، جس کے بعد آج یہ تاریخی ورثہ مکمل طور پر محفوظ اور فعال ہے۔

    خلاصہ کلام یہ کہ آج بھی ہر سال شیو راتری پر پاکستان بھر اور خصوصاً اندرون سندھ سے 25 ہزار سے زائد یاتری اس زیر زمین غار میں اکٹھے ہوتے ہیں۔ شری رتنیشور مہادیو مندر صرف ایک مقتدر مذہبی مقام نہیں ہے، بلکہ یہ کراچی کی اس روادار اور کثیر الثقافتی سمندری تاریخ کی زندہ علامت ہے، جہاں لہروں کا شور، مندر کی گھنٹیاں اور پاس کے عبداللہ شاہ کے مزار کی قوالیاں مل کر اس ساحلی شہر کے امن کی دعا کرتی ہیں۔

  • چکوال کی نمک کی پہاڑیوں میں ہندو دیوتا شِوَ کے آنسوؤں سے بنی مقدس جھیل کے کنارے آباد قدیم مندروں والا کٹاس راج

    چکوال کی نمک کی پہاڑیوں میں ہندو دیوتا شِوَ کے آنسوؤں سے بنی مقدس جھیل کے کنارے آباد قدیم مندروں والا کٹاس راج

    پنجاب کے ضلع چکوال کے قریب نمک کی پہاڑیوں کے درمیان ایک پرسکون مقام واقع ہے جہاں ایک قدیم تالاب کے گرد درجنوں صدیوں پرانی عبادت گاہیں کھڑی ہیں۔ یہ جگہ کٹاس راج کے نام سے جانی جاتی ہے۔ بظاہر یہ چند مندر اور ایک خاموش جھیل دکھائی دیتے ہیں، مگر اس مقام کے ساتھ جڑی روایت، تاریخ اور مذہبی اہمیت اسے جنوبی ایشیا کے قدیم ترین مقدس مقامات میں شامل کر دیتی ہے۔

    ہندو روایت کے مطابق اس مقدس تالاب کی تخلیق ایک گہرے اساطیری واقعے سے جڑی ہوئی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ جب ہندو مت کے دیوتا شِوَ کی اہلیہ ستی کی موت ہوئی تو شِوَ شدید غم میں مبتلا ہو گئے۔ روایت کے مطابق وہ اتنا روئے کہ ان کے آنسو زمین پر گرے اور ان سے دو مقدس جھیلیں وجود میں آئیں۔ ایک جھیل بھارت میں اجین کے قریب مانی جاتی ہے جبکہ دوسری جھیل وہی ہے جسے آج کٹاس کنڈ یا کٹاس راج کا تالاب کہا جاتا ہے۔ اسی عقیدے کی وجہ سے یہ مقام ہندو مت میں روحانی تقدس رکھتا ہے۔

    کٹاس راج دراصل بارہ قدیم مندروں کے ایک مجموعے پر مشتمل ہے جو اس مقدس تالاب کے گرد تعمیر کیے گئے تھے۔ ان مندروں کی تعمیر مختلف ادوار میں ہوئی، مگر ماہرینِ آثارِ قدیمہ کے مطابق ان کا بنیادی دور ساتویں صدی سے دسویں صدی کے درمیان ہندو شاہی حکمرانوں کے زمانے سے منسوب کیا جاتا ہے۔ ہندو شاہی سلطنت اس خطے میں ایک طاقتور حکمران خاندان تھا جو شمالی پنجاب اور موجودہ خیبر پختونخوا کے علاقوں پر حکومت کرتا تھا۔

    یہ مندر اپنے فنِ تعمیر کے باعث بھی خاص اہمیت رکھتے ہیں۔ زیادہ تر عمارتیں مقامی پتھر سے تعمیر کی گئی ہیں اور ان کے طرزِ تعمیر میں قدیم ہندو اور کشمیری طرزِ تعمیر کی جھلک نظر آتی ہے۔ چھوٹے چھوٹے مندر ایک پہاڑی ڈھلوان کے گرد ترتیب سے کھڑے ہیں جبکہ درمیان میں موجود تالاب اس پورے کمپلیکس کو ایک مقدس مرکز کی حیثیت دیتا ہے۔

    کٹاس راج کا ذکر قدیم ہندو مذہبی روایت میں بھی ملتا ہے۔ کچھ ہندو روایات کے مطابق اس مقام کا تعلق مہا بھارت کی کہانیوں سے بھی جوڑا جاتا ہے۔ ایک روایت کے مطابق پانڈو بھائیوں نے اپنی جلاوطنی کے دوران یہاں قیام کیا تھا۔ اگرچہ اس روایت کے تاریخی شواہد واضح نہیں، مگر صدیوں سے یہ مقام مذہبی اور ثقافتی روایت کا حصہ رہا ہے۔

    قرونِ وسطیٰ سے لے کر برصغیر کی تقسیم تک یہ مقام ہندو یاتریوں کے لیے ایک اہم زیارت گاہ رہا۔ تقسیم کے بعد یہاں ہندو آبادی کم ہو گئی، مگر اس کے باوجود یہ مقام اپنی مذہبی اہمیت برقرار رکھے ہوئے ہے۔ آج بھی پاکستان اور بھارت سمیت دنیا کے مختلف حصوں سے ہندو یاتری خاص طور پر مہاشوراتری کے موقع پر یہاں آتے ہیں اور اس مقدس تالاب کے کنارے عبادت کرتے ہیں۔

    کٹاس راج محض چند مندروں یا ایک جھیل کا نام نہیں۔ یہ اس خطے کی ہزاروں سال پرانی تہذیبی یادداشت کا حصہ ہے۔ یہاں موجود پتھر کی دیواریں، خاموش مندر اور مقدس تالاب اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ یہ خطہ مختلف مذاہب اور ثقافتوں کے اشتراک سے تشکیل پاتا رہا ہے۔

    ساگا ڈیجیٹل ایسی ہی کہانیاں تلاش کرتا ہے جو تاریخ، ثقافت اور ورثے کے ان پہلوؤں کو سامنے لاتی ہیں جو اکثر وقت کے ساتھ نظروں سے اوجھل ہو جاتے ہیں، مگر اپنے اندر صدیوں کی یادیں اور روایتیں محفوظ رکھتے ہیں۔

  • دادو: خیرپور ناتھن شاہ کے قریب واقع قدیم ویر ناتھ مندر، خاموش اینٹوں میں سانس لیتی ایک روحانی داستان

    دادو: خیرپور ناتھن شاہ کے قریب واقع قدیم ویر ناتھ مندر، خاموش اینٹوں میں سانس لیتی ایک روحانی داستان

    سندھ کے ضلع دادو کے تعلقہ خیرپور ناتھن شاہ کے قدیم گاؤں بورڑی میں واقع ویر ناتھ مندر سندھ کے اُن تاریخی، ثقافتی اور روحانی ورثوں میں شمار ہوتا ہے جو آج اگرچہ خاموشی کی تصویر بنا ہوا ہے، مگر اپنے اندر صدیوں پر محیط ایک گہری روحانی تاریخ سموئے ہوئے ہے۔ یہ مندر صرف ایک عبادت گاہ نہیں بلکہ سندھ کی مشترکہ تہذیب، مذہبی ہم آہنگی اور روحانی روایات کا ایک اہم نشان بھی ہے۔

    تاریخی اور مقامی روایات کے مطابق ویر ناتھ مندر کی بنیاد میر دور سے بھی پہلے رکھی گئی تھی۔ کہا جاتا ہے کہ اس کی تعمیر سترہویں صدی کے اوائل یا اس سے بھی پہلے ہوئی، جس کا مطلب ہے کہ آج اس مندر کو کم از کم چار سے پانچ سو سال کا عرصہ بیت چکا ہے۔ یہ مندر ناتھ مت کے عظیم یوگی ویر ناتھ کے پیروکاروں نے قائم کیا تھا، جن کا تعلق برصغیر سے بتایا جاتا ہے۔ ویر ناتھ ناتھ یوگی روایت کے ایک بڑے روحانی پیشوا تھے جنہوں نے سندھ کو اپنی روحانی سرگرمیوں کا مرکز بنایا۔

    ویر ناتھ کی آمد کے بعد یہ مقام ناتھ مت کے پیروکاروں کے لیے عبادت، مراقبہ، یوگا اور مذہبی تعلیم کا اہم مرکز بن گیا۔ سندھ کے مختلف علاقوں کے علاوہ دور دراز خطوں سے بھی یوگی، سادھو اور عقیدت مند یہاں آتے تھے۔ اس طرح یہ مندر نہ صرف ایک مذہبی مقام بلکہ مقامی ثقافت، روحانی اقدار اور مذہبی روایات کے فروغ کا بھی مرکز رہا۔

    مندر کے احاطے میں موجود مقدس تالاب آج بھی اپنی قدامت کے ساتھ موجود ہے۔ مقامی عقیدے کے مطابق اس تالاب کا پانی جلدی امراض کے لیے شفا بخش سمجھا جاتا ہے۔ آج بھی لوگ یہاں آ کر اس پانی سے غسل کرتے ہیں اور اپنے پرانے کپڑے بطور نشانی یہیں چھوڑ جاتے ہیں۔ تالاب کے اردگرد بکھرے یہ کپڑے صدیوں پرانی عقیدت کی خاموش گواہی دیتے ہیں۔

    اسی احاطے میں ایک قدیم پیپل کا درخت بھی موجود ہے، جس کی عمر مقامی روایات کے مطابق پانچ سے سات سو سال بتائی جاتی ہے۔ اس کے علاوہ کچی اینٹوں سے بنا ہوا قدیم مسافر خانہ اور پرانا کنواں بھی یہاں موجود ہیں، جو ماضی میں آنے والے مسافروں اور سادھوؤں کی خدمت کے لیے استعمال ہوتے تھے۔

    ایک وقت تھا جب ویر ناتھ مندر نہ صرف عبادت بلکہ سماجی اور ثقافتی سرگرمیوں کا بھی مرکز تھا۔ مقامی افراد کے مطابق یہاں ہر سال باقاعدگی سے سالانہ میلہ منعقد ہوتا تھا، جس میں سندھ کے مختلف علاقوں سے لوگ شریک ہوتے تھے۔ یہ میلہ مذہبی عقیدت کے ساتھ ساتھ لوک موسیقی، ثقافتی میل جول اور مقامی روایات کا حسین امتزاج ہوتا تھا۔ تاہم بتایا جاتا ہے کہ یہ میلہ آج سے تقریباً تیس سے چالیس سال قبل بند ہو گیا۔

    دادو کی معروف علمی و سماجی شخصیت پروفیسر رمیش کمار نانکانی نے ساگا ڈیجیٹل کو بتایا کہ ویر ناتھ مندر سندھ کی اُس قدیم روحانی روایت کی یادگار ہے جہاں مختلف مذاہب اور ثقافتوں کے لوگ ایک دوسرے کے احترام کے ساتھ رہتے تھے۔ ان کے مطابق یہ مقام صرف ہندو برادری ہی نہیں بلکہ پورے خطے کی مشترکہ تاریخ کا حصہ ہے۔

    آج ویر ناتھ مندر کی دیواریں اگرچہ خاموش ہیں، مگر ان اینٹوں میں ماضی کی صدائیں اب بھی محفوظ ہیں۔ یہ مقام اس بات کی یاد دہانی کراتا ہے کہ سندھ کی سرزمین ہمیشہ سے روحانیت، رواداری اور ثقافتی ہم آہنگی کی امین رہی ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا ہم اس خاموش ورثے کو محفوظ رکھ پائیں گے، یا وقت کی گرد اسے مکمل طور پر اپنی لپیٹ میں لے لے گی۔

     

  • ننگرپارکر: جین مت کے قدیم مندر ویران کیوں ہیں؟

    ننگرپارکر: جین مت کے قدیم مندر ویران کیوں ہیں؟

    صحرائے تھر کا علاقہ خاص طور پر مذہبی تنوع کی ایک زندہ مثال سمجھا جاتا تھا، جہاں ننگرپارکر اور اس کے گرد و نواح میں جین دھرم کے ماننے والوں کی بڑی تعداد رہتی تھی۔

    مقامی روایت کے مطابق تقسیمِ ہند سے پہلے ننگرپارکر، ویراہ واہ، بھوڈیسر اور قریبی بستیوں میں جینی خاندان اکثریت میں تھے۔ تقسیم کے بعد زیادہ تر جینی خاندان انڈیا ہجرت کر گئے، جبکہ چند ایک نے یہیں رہنے کو ترجیح دی۔ مگر 1971 کی پاکستان انڈیا جنگ کے بعد حالات نے ایک بار پھر کروٹ لی اور بچے کھچے خاندان بھی نقل مکانی پر مجبور ہو گئے۔ مقامی لوگوں کے مطابق آخری جینی خاندان 1972 کی ایک صبح اونٹ پر سوار ہو کر ننگرپارکر سے روانہ ہوا، اور یوں تھر میں جین دھرم کی اجتماعی موجودگی کا ایک طویل باب بند ہو گیا۔

    ننگرپارکر کے بازار میں واقع جین مندر کو مقامی لوگ تقریباً پانچ سو سال پرانا قرار دیتے ہیں۔ گوڑی کے مقام پر واقع گوڑی مندر، ویراہ واہ میں ایک چھوٹا مندر، اور بھوڈیسر کا پونی مندر ان باقیات میں شامل ہیں جو وقت اور لاپروائی کے بوجھ تلے آہستہ آہستہ زوال پذیر ہیں۔

    پونی مندر ایک بلند چبوترے پر قائم ہے۔ پتھروں سے بنی اس عمارت کی دیواروں میں جڑے کئی پتھر اپنی جگہ چھوڑ چکے ہیں، جنہیں گرنے سے بچانے کے لیے لوہے کی تاروں سے سہارا دیا گیا ہے۔ مندروں کی دیواروں پر جانوروں اور پرندوں کی سنگی مورتیاں، اور نگم طرز کی نقش نگاری آج بھی اس فن تعمیر کی نفاست کی گواہی دیتی ہیں۔ مقامی لوگوں کے مطابق 2001 میں انڈیا کے شہر بھُج میں آنے والے زلزلے نے ان مندروں کو مزید نقصان پہنچایا۔

    ننگرپارکر اور پونی مندر کی مرمت کا آغاز 2017 میں ہوا، مگر یہ کام اب تک مکمل نہیں ہو سکا۔ اس تاخیر کے باعث یہ تاریخی ورثہ مزید خستہ حالی کا شکار ہوتا جا رہا ہے۔

    اس ویڈیو اسٹوری کے لیے ہم نے ننگرپارکر کے مقامی فوٹوگرافر دلیپ پرمار سے بھی بات کی، جو برسوں سے ان مندروں کی تصویری دستاویز بنا رہے ہیں۔ دلیپ پرمار کے مطابق، ‘یہ مندر صرف پتھر کی عمارتیں نہیں، یہ تھر کی مشترکہ تاریخ کی علامت ہیں۔ اگر ان کی مرمت اور دیکھ بھال نہ کی گئی تو آنے والی نسلیں صرف تصویروں میں ہی اس ورثے کو دیکھ سکیں گی۔‘

    تھر کے یہ خاموش مندر آج بھی اس دور کی یاد دلاتے ہیں جب ننگرپارکر مذہبی ہم آہنگی اور تنوع کی ایک روشن مثال تھا۔ سوال یہ ہے کہ کیا یہ یادیں محفوظ رہ پائیں گی یا وقت کی گرد میں گم ہو جائیں گی۔