Tag: مندر

  • چکوال کی نمک کی پہاڑیوں میں ہندو دیوتا شِوَ کے آنسوؤں سے بنی مقدس جھیل کے کنارے آباد قدیم مندروں والا کٹاس راج

    چکوال کی نمک کی پہاڑیوں میں ہندو دیوتا شِوَ کے آنسوؤں سے بنی مقدس جھیل کے کنارے آباد قدیم مندروں والا کٹاس راج

    پنجاب کے ضلع چکوال کے قریب نمک کی پہاڑیوں کے درمیان ایک پرسکون مقام واقع ہے جہاں ایک قدیم تالاب کے گرد درجنوں صدیوں پرانی عبادت گاہیں کھڑی ہیں۔ یہ جگہ کٹاس راج کے نام سے جانی جاتی ہے۔ بظاہر یہ چند مندر اور ایک خاموش جھیل دکھائی دیتے ہیں، مگر اس مقام کے ساتھ جڑی روایت، تاریخ اور مذہبی اہمیت اسے جنوبی ایشیا کے قدیم ترین مقدس مقامات میں شامل کر دیتی ہے۔

    ہندو روایت کے مطابق اس مقدس تالاب کی تخلیق ایک گہرے اساطیری واقعے سے جڑی ہوئی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ جب ہندو مت کے دیوتا شِوَ کی اہلیہ ستی کی موت ہوئی تو شِوَ شدید غم میں مبتلا ہو گئے۔ روایت کے مطابق وہ اتنا روئے کہ ان کے آنسو زمین پر گرے اور ان سے دو مقدس جھیلیں وجود میں آئیں۔ ایک جھیل بھارت میں اجین کے قریب مانی جاتی ہے جبکہ دوسری جھیل وہی ہے جسے آج کٹاس کنڈ یا کٹاس راج کا تالاب کہا جاتا ہے۔ اسی عقیدے کی وجہ سے یہ مقام ہندو مت میں روحانی تقدس رکھتا ہے۔

    کٹاس راج دراصل بارہ قدیم مندروں کے ایک مجموعے پر مشتمل ہے جو اس مقدس تالاب کے گرد تعمیر کیے گئے تھے۔ ان مندروں کی تعمیر مختلف ادوار میں ہوئی، مگر ماہرینِ آثارِ قدیمہ کے مطابق ان کا بنیادی دور ساتویں صدی سے دسویں صدی کے درمیان ہندو شاہی حکمرانوں کے زمانے سے منسوب کیا جاتا ہے۔ ہندو شاہی سلطنت اس خطے میں ایک طاقتور حکمران خاندان تھا جو شمالی پنجاب اور موجودہ خیبر پختونخوا کے علاقوں پر حکومت کرتا تھا۔

    یہ مندر اپنے فنِ تعمیر کے باعث بھی خاص اہمیت رکھتے ہیں۔ زیادہ تر عمارتیں مقامی پتھر سے تعمیر کی گئی ہیں اور ان کے طرزِ تعمیر میں قدیم ہندو اور کشمیری طرزِ تعمیر کی جھلک نظر آتی ہے۔ چھوٹے چھوٹے مندر ایک پہاڑی ڈھلوان کے گرد ترتیب سے کھڑے ہیں جبکہ درمیان میں موجود تالاب اس پورے کمپلیکس کو ایک مقدس مرکز کی حیثیت دیتا ہے۔

    کٹاس راج کا ذکر قدیم ہندو مذہبی روایت میں بھی ملتا ہے۔ کچھ ہندو روایات کے مطابق اس مقام کا تعلق مہا بھارت کی کہانیوں سے بھی جوڑا جاتا ہے۔ ایک روایت کے مطابق پانڈو بھائیوں نے اپنی جلاوطنی کے دوران یہاں قیام کیا تھا۔ اگرچہ اس روایت کے تاریخی شواہد واضح نہیں، مگر صدیوں سے یہ مقام مذہبی اور ثقافتی روایت کا حصہ رہا ہے۔

    قرونِ وسطیٰ سے لے کر برصغیر کی تقسیم تک یہ مقام ہندو یاتریوں کے لیے ایک اہم زیارت گاہ رہا۔ تقسیم کے بعد یہاں ہندو آبادی کم ہو گئی، مگر اس کے باوجود یہ مقام اپنی مذہبی اہمیت برقرار رکھے ہوئے ہے۔ آج بھی پاکستان اور بھارت سمیت دنیا کے مختلف حصوں سے ہندو یاتری خاص طور پر مہاشوراتری کے موقع پر یہاں آتے ہیں اور اس مقدس تالاب کے کنارے عبادت کرتے ہیں۔

    کٹاس راج محض چند مندروں یا ایک جھیل کا نام نہیں۔ یہ اس خطے کی ہزاروں سال پرانی تہذیبی یادداشت کا حصہ ہے۔ یہاں موجود پتھر کی دیواریں، خاموش مندر اور مقدس تالاب اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ یہ خطہ مختلف مذاہب اور ثقافتوں کے اشتراک سے تشکیل پاتا رہا ہے۔

    ساگا ڈیجیٹل ایسی ہی کہانیاں تلاش کرتا ہے جو تاریخ، ثقافت اور ورثے کے ان پہلوؤں کو سامنے لاتی ہیں جو اکثر وقت کے ساتھ نظروں سے اوجھل ہو جاتے ہیں، مگر اپنے اندر صدیوں کی یادیں اور روایتیں محفوظ رکھتے ہیں۔

  • دادو: خیرپور ناتھن شاہ کے قریب واقع قدیم ویر ناتھ مندر، خاموش اینٹوں میں سانس لیتی ایک روحانی داستان

    دادو: خیرپور ناتھن شاہ کے قریب واقع قدیم ویر ناتھ مندر، خاموش اینٹوں میں سانس لیتی ایک روحانی داستان

    سندھ کے ضلع دادو کے تعلقہ خیرپور ناتھن شاہ کے قدیم گاؤں بورڑی میں واقع ویر ناتھ مندر سندھ کے اُن تاریخی، ثقافتی اور روحانی ورثوں میں شمار ہوتا ہے جو آج اگرچہ خاموشی کی تصویر بنا ہوا ہے، مگر اپنے اندر صدیوں پر محیط ایک گہری روحانی تاریخ سموئے ہوئے ہے۔ یہ مندر صرف ایک عبادت گاہ نہیں بلکہ سندھ کی مشترکہ تہذیب، مذہبی ہم آہنگی اور روحانی روایات کا ایک اہم نشان بھی ہے۔

    تاریخی اور مقامی روایات کے مطابق ویر ناتھ مندر کی بنیاد میر دور سے بھی پہلے رکھی گئی تھی۔ کہا جاتا ہے کہ اس کی تعمیر سترہویں صدی کے اوائل یا اس سے بھی پہلے ہوئی، جس کا مطلب ہے کہ آج اس مندر کو کم از کم چار سے پانچ سو سال کا عرصہ بیت چکا ہے۔ یہ مندر ناتھ مت کے عظیم یوگی ویر ناتھ کے پیروکاروں نے قائم کیا تھا، جن کا تعلق برصغیر سے بتایا جاتا ہے۔ ویر ناتھ ناتھ یوگی روایت کے ایک بڑے روحانی پیشوا تھے جنہوں نے سندھ کو اپنی روحانی سرگرمیوں کا مرکز بنایا۔

    ویر ناتھ کی آمد کے بعد یہ مقام ناتھ مت کے پیروکاروں کے لیے عبادت، مراقبہ، یوگا اور مذہبی تعلیم کا اہم مرکز بن گیا۔ سندھ کے مختلف علاقوں کے علاوہ دور دراز خطوں سے بھی یوگی، سادھو اور عقیدت مند یہاں آتے تھے۔ اس طرح یہ مندر نہ صرف ایک مذہبی مقام بلکہ مقامی ثقافت، روحانی اقدار اور مذہبی روایات کے فروغ کا بھی مرکز رہا۔

    مندر کے احاطے میں موجود مقدس تالاب آج بھی اپنی قدامت کے ساتھ موجود ہے۔ مقامی عقیدے کے مطابق اس تالاب کا پانی جلدی امراض کے لیے شفا بخش سمجھا جاتا ہے۔ آج بھی لوگ یہاں آ کر اس پانی سے غسل کرتے ہیں اور اپنے پرانے کپڑے بطور نشانی یہیں چھوڑ جاتے ہیں۔ تالاب کے اردگرد بکھرے یہ کپڑے صدیوں پرانی عقیدت کی خاموش گواہی دیتے ہیں۔

    اسی احاطے میں ایک قدیم پیپل کا درخت بھی موجود ہے، جس کی عمر مقامی روایات کے مطابق پانچ سے سات سو سال بتائی جاتی ہے۔ اس کے علاوہ کچی اینٹوں سے بنا ہوا قدیم مسافر خانہ اور پرانا کنواں بھی یہاں موجود ہیں، جو ماضی میں آنے والے مسافروں اور سادھوؤں کی خدمت کے لیے استعمال ہوتے تھے۔

    ایک وقت تھا جب ویر ناتھ مندر نہ صرف عبادت بلکہ سماجی اور ثقافتی سرگرمیوں کا بھی مرکز تھا۔ مقامی افراد کے مطابق یہاں ہر سال باقاعدگی سے سالانہ میلہ منعقد ہوتا تھا، جس میں سندھ کے مختلف علاقوں سے لوگ شریک ہوتے تھے۔ یہ میلہ مذہبی عقیدت کے ساتھ ساتھ لوک موسیقی، ثقافتی میل جول اور مقامی روایات کا حسین امتزاج ہوتا تھا۔ تاہم بتایا جاتا ہے کہ یہ میلہ آج سے تقریباً تیس سے چالیس سال قبل بند ہو گیا۔

    دادو کی معروف علمی و سماجی شخصیت پروفیسر رمیش کمار نانکانی نے ساگا ڈیجیٹل کو بتایا کہ ویر ناتھ مندر سندھ کی اُس قدیم روحانی روایت کی یادگار ہے جہاں مختلف مذاہب اور ثقافتوں کے لوگ ایک دوسرے کے احترام کے ساتھ رہتے تھے۔ ان کے مطابق یہ مقام صرف ہندو برادری ہی نہیں بلکہ پورے خطے کی مشترکہ تاریخ کا حصہ ہے۔

    آج ویر ناتھ مندر کی دیواریں اگرچہ خاموش ہیں، مگر ان اینٹوں میں ماضی کی صدائیں اب بھی محفوظ ہیں۔ یہ مقام اس بات کی یاد دہانی کراتا ہے کہ سندھ کی سرزمین ہمیشہ سے روحانیت، رواداری اور ثقافتی ہم آہنگی کی امین رہی ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا ہم اس خاموش ورثے کو محفوظ رکھ پائیں گے، یا وقت کی گرد اسے مکمل طور پر اپنی لپیٹ میں لے لے گی۔

     

  • ننگرپارکر: جین مت کے قدیم مندر ویران کیوں ہیں؟

    ننگرپارکر: جین مت کے قدیم مندر ویران کیوں ہیں؟

    صحرائے تھر کا علاقہ خاص طور پر مذہبی تنوع کی ایک زندہ مثال سمجھا جاتا تھا، جہاں ننگرپارکر اور اس کے گرد و نواح میں جین دھرم کے ماننے والوں کی بڑی تعداد رہتی تھی۔

    مقامی روایت کے مطابق تقسیمِ ہند سے پہلے ننگرپارکر، ویراہ واہ، بھوڈیسر اور قریبی بستیوں میں جینی خاندان اکثریت میں تھے۔ تقسیم کے بعد زیادہ تر جینی خاندان انڈیا ہجرت کر گئے، جبکہ چند ایک نے یہیں رہنے کو ترجیح دی۔ مگر 1971 کی پاکستان انڈیا جنگ کے بعد حالات نے ایک بار پھر کروٹ لی اور بچے کھچے خاندان بھی نقل مکانی پر مجبور ہو گئے۔ مقامی لوگوں کے مطابق آخری جینی خاندان 1972 کی ایک صبح اونٹ پر سوار ہو کر ننگرپارکر سے روانہ ہوا، اور یوں تھر میں جین دھرم کی اجتماعی موجودگی کا ایک طویل باب بند ہو گیا۔

    ننگرپارکر کے بازار میں واقع جین مندر کو مقامی لوگ تقریباً پانچ سو سال پرانا قرار دیتے ہیں۔ گوڑی کے مقام پر واقع گوڑی مندر، ویراہ واہ میں ایک چھوٹا مندر، اور بھوڈیسر کا پونی مندر ان باقیات میں شامل ہیں جو وقت اور لاپروائی کے بوجھ تلے آہستہ آہستہ زوال پذیر ہیں۔

    پونی مندر ایک بلند چبوترے پر قائم ہے۔ پتھروں سے بنی اس عمارت کی دیواروں میں جڑے کئی پتھر اپنی جگہ چھوڑ چکے ہیں، جنہیں گرنے سے بچانے کے لیے لوہے کی تاروں سے سہارا دیا گیا ہے۔ مندروں کی دیواروں پر جانوروں اور پرندوں کی سنگی مورتیاں، اور نگم طرز کی نقش نگاری آج بھی اس فن تعمیر کی نفاست کی گواہی دیتی ہیں۔ مقامی لوگوں کے مطابق 2001 میں انڈیا کے شہر بھُج میں آنے والے زلزلے نے ان مندروں کو مزید نقصان پہنچایا۔

    ننگرپارکر اور پونی مندر کی مرمت کا آغاز 2017 میں ہوا، مگر یہ کام اب تک مکمل نہیں ہو سکا۔ اس تاخیر کے باعث یہ تاریخی ورثہ مزید خستہ حالی کا شکار ہوتا جا رہا ہے۔

    اس ویڈیو اسٹوری کے لیے ہم نے ننگرپارکر کے مقامی فوٹوگرافر دلیپ پرمار سے بھی بات کی، جو برسوں سے ان مندروں کی تصویری دستاویز بنا رہے ہیں۔ دلیپ پرمار کے مطابق، ‘یہ مندر صرف پتھر کی عمارتیں نہیں، یہ تھر کی مشترکہ تاریخ کی علامت ہیں۔ اگر ان کی مرمت اور دیکھ بھال نہ کی گئی تو آنے والی نسلیں صرف تصویروں میں ہی اس ورثے کو دیکھ سکیں گی۔‘

    تھر کے یہ خاموش مندر آج بھی اس دور کی یاد دلاتے ہیں جب ننگرپارکر مذہبی ہم آہنگی اور تنوع کی ایک روشن مثال تھا۔ سوال یہ ہے کہ کیا یہ یادیں محفوظ رہ پائیں گی یا وقت کی گرد میں گم ہو جائیں گی۔