Tag: سندھ

  • لانگ ریڈ: جام صادق علی: سندھ کی سیاست کا متنازعہ کردار

    لانگ ریڈ: جام صادق علی: سندھ کی سیاست کا متنازعہ کردار

    سندھ کی سیاسی تاریخ میں جام صادق علی ایک ایسی شخصیت کے طور پر سامنے آئے جنہوں نے اگرچہ مختصر مدت کے لیے وزارت اعلیٰ سنبھالی، مگر ان کے دور اقتدار کے اثرات طویل عرصے تک محسوس کیے جاتے رہے۔

    جام صادق علی 1934 میں ضلع سانگھڑ کے قصبے جام نواز علی میں پیدا ہوئے اور پاکستان پیپلز پارٹی کے پہلے دور حکومت میں ایک اہم رہنما کے طور پر ابھرے۔ وہ سندھ کے وزیر بلدیات بھی رہے۔ سابق فوجی آمر ضیا الحق کے مارشل لا کے دوران وہ جلاوطنی اختیار کرنے پر مجبور ہوئے، تاہم 1988 میں بہاولپور طیارہ حادثے میں ضیا الحق کی ہلاکت کے بعد 1989 میں وطن واپس آ گئے۔

    1988 کے عام انتخابات کے بعد بینظیر بھٹو کے برسر اقتدار آنے پر انہیں سندھ میں اثر و رسوخ کی بنیاد پر سیاسی مشیر مقرر کیا گیا۔
    فوجی آمر ضیا الحق کی موت کے بعد 1988 میں ہونے والے عام انتخابات میں پاکستان پیپلز پارٹی کا مقابلہ کرنے کے لیے سیاسی اتحاد اسلامی جمہوری اتحاد یا آئی جے آئی تشکیل دیا گیا تھا۔

    بعد ازاں 1990 میں صدر غلام اسحاق خان کی جانب سے حکومت برطرف کیے جانے کے بعد ایک نگران سیٹ اپ قائم کیا گیا، جس میں جام صادق علی کو سندھ کا نگران وزیر اعلیٰ مقرر کیا گیا اور یوں ان کی بھرپور سیاسی واپسی ہوئی۔

    بینظیر بھٹو کے دور اقتدار کے دوران نواز شریف کی قیادت میں اسلامی جمہوری اتحاد قائم ہوا، جبکہ غلام مصطفیٰ جتوئی کو نگران وزیر اعظم بنایا گیا۔ یوں وفاق اور سندھ میں ایسی سیاسی قیادت سامنے لائی گئی جسے پیپلز پارٹی کے مقابلے میں کھڑا کیا گیا۔

    1990 کے عام انتخابات کے بعد جام صادق علی سندھ اسمبلی میں لیڈر آف دی ہاؤس منتخب ہوئے اور پانچ مارچ 1992 کو اپنی وفات تک وزیر اعلیٰ کے منصب پر فائز رہے۔ اگرچہ 130 رکنی صوبائی ایوان میں آئی جے آئی کو صرف 20 نشستیں حاصل ہوئیں، تاہم سیاسی جوڑ توڑ کے نتیجے میں اس وقت کی مہاجر قومی موومنٹ ایم کیو ایم کو ساتھ ملا کر حکومت قائم کر لی گئی۔

    درحقیقت جام صادق علی کی حکومت ایم کیو ایم کی مرہون منت ہی بن سکی کیونکہ ایم کیو ایم نے سندھ اسمبلی میں کل 36 نشستیں حاصل کی تھیں اور آزاد اراکین کو ملا کر سادہ اکثریت سے صوبائی حکومت تشکیل دی گئی تھی جس کی سربراہی جام صادق کو سونپی گئی، جبکہ پیپلز پارٹی سب سے زیادہ نشستیں لے کر ایوان میں سب سے بڑی پارٹی بن گئی تھی اور اس کی ریزرو نشستوں کے ساتھ کل 60 نشستیں تھیں۔

    جام صادق علی کا وزیر اعلیٰ کے طور پر اگست 1990 سے مارچ 1992 تک کا یہ عرصہ سندھ کی سیاست میں ‘سیاہ و سفید’ کا ایک عجیب امتزاج تھا۔ اس زمانے میں ایک طرف ترقیاتی کاموں اور لسانی ہم آہنگی کی کوششیں نظر آئیں، وہیں دوسری طرف سیاسی انتقام، شہروں میں پرتشدد واقعات اور متنازع فیصلوں کی ایک طویل فہرست بھی موجود ہے۔

    متنازع اقدامات اور سیاسی انتقام

    جام صادق علی ایک منجھے ہوئے زیرک سیاستدان تھے جنہوں نے اپنی سیاست کا بڑا حصہ پیپلز پارٹی کے سائے میں گزارا۔ تاہم جب وہ سندھ کے وزیر اعلیٰ منتخب ہوئے تو وہ سندھ کی سیاست میں ایک بڑے تلاطم کا پیش خیمہ ثابت ہوئے۔

    جام صادق علی کے دور کو اکثر ‘سیاسی انتقام کا دور’ کہا جاتا ہے۔ ان کے دور اقتدار کی سب سے بڑی شہرت پیپلز پارٹی کے خلاف ان کا سخت گیر رویہ تھا۔

    انہوں نے اپنے سابقہ ساتھیوں اور پیپلز پارٹی کے کارکنوں کے خلاف مقدمات اور گرفتاریوں کا وہ سلسلہ شروع کیا جس کی مثال کم ہی ملتی ہے۔ ان پر الزام لگایا جاتا ہے کہ انہوں نے ریاستی مشینری کا بے دریغ استعمال کر کے سیاسی مخالفین کو دیوار سے لگایا۔

    رپورٹس کے مطابق اس دور میں پاکستان پیپلز پارٹی کے کارکنوں اور رہنماؤں کے خلاف بڑے پیمانے پر کارروائیاں کی گئیں۔ مختلف اخبارات میں چھپی خبروں کے مطابق اپوزیشن سے تعلق رکھنے والے افراد کو نہ صرف گرفتار کیا گیا بلکہ بعض کیسز میں انہیں طویل حراست میں بھی رکھا گیا۔

    اس وقت کے صدر غلام اسحاق خان کے داماد عرفان اللہ مروت کو سندھ میں صوبائی مشیر داخلہ مقرر کیا گیا تھا۔ ان کے ہی ایک رشتہ دار سمیع اللہ مروت سی آئی اے کے سربراہ تھے، جن کے ذریعے اپوزیشن پاکستان پیپلز پارٹی کے کارکنوں پر سی آئی اے سینٹر میں زیر حراست تشدد کیا جاتا تھا۔

    اخباری مواد کے مطابق صوبائی حکومت نے ریاستی اداروں خصوصاً پولیس اور کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی سی آئی اے کو استعمال کرتے ہوئے اپوزیشن پر دباؤ بڑھایا۔ ان اقدامات کا مقصد پیپلز پارٹی کے اثر و رسوخ کو کم کرنا اور اسے سیاسی طور پر کمزور کرنا تھا۔ اخباری رپورٹس میں اس دور کو ‘سیاسی محاذ آرائی’ اور ‘انتظامی دباؤ’ کا دور قرار دیا گیا۔

    پیپلز پارٹی کی طلبہ تنظیم پیپلز اسٹوڈنٹس فیڈریشن گرلز ونگ کراچی کی رہنما راحیلہ ٹوانہ کو اس وقت کی سی آئی اے پولیس نے گرفتار کر کے بدنام زمانہ سی آئی اے صدر ٹارچر سینٹر منتقل کر دیا، جہاں ان کے ساتھ ان کے بھائی اور ایک دوست کو بھی حراست میں رکھا گیا۔ بعد ازاں ایک انٹرویو میں، جو 11 فروری 1991 کو انگریزی روزنامہ دی نیوز میں شائع ہوا، راحیلہ ٹوانہ نے الزام عائد کیا کہ دوران حراست انہیں شدید تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔

    ان کے بیان کے مطابق پولیس اہلکاروں نے ان کے ہاتھوں اور پاؤں پر تشدد کیا، جس کے باعث وہ صحیح طور پر چلنے سے بھی قاصر ہو گئیں۔ انہوں نے کہا کہ انہیں رات گیارہ بجے ہاتھوں سے باندھ کر لٹکایا گیا اور صبح چار بجے تک اسی حالت میں رکھا گیا۔ مزید یہ کہ تین دن تک انہیں کھانے سے محروم رکھا گیا اور دباؤ ڈالنے کے لیے ان کے بھائی کو بھی تشدد کی دھمکیاں دی گئیں۔

    راحیلہ ٹوانہ کا کہنا تھا کہ ان پر دباؤ ڈالا گیا کہ وہ بینظیر بھٹو، آصف علی زرداری اور منظور حسین وسان کے خلاف بیان دیں، تاہم انہوں نے انکار کر دیا۔ ان کے مطابق بعد میں اہلکاروں نے زبردستی ان سے خالی کاغذات پر دستخط بھی کروائے۔ یہ واقعہ اس دور میں زیر حراست افراد کے ساتھ مبینہ سلوک کے حوالے سے سنگین سوالات اٹھاتا ہے۔

    صوبائی حکومت اور ایم کیو ایم کی جانب سے صحافیوں پر تشدد

    جام صادق علی کے دور میں سندھ میں بارہ کے قریب صحافیوں کو ان کے پاکستان پیپلز پارٹی سے تعلق کی بنیاد پر گرفتار کیا گیا۔ گرفتار کیے جانے والے صحافیوں میں بشیر بدر بھٹو، حضرت پردیسی، حسن جتوئی، زاہد سومرو، عبدل زانو، طارق بھٹی، اسماعیل بھٹو، عبدالقادر بگٹی، شفیع، عبدالتوراب سانگی اور عبدالستار شامل تھے۔

    کراچی میں پولیس نے ماہنامہ ‘ہیرالڈ’ کی کاپیاں ضبط کر لیں کیونکہ اس شمارے میں اس وقت کے صوبائی مشیر داخلہ عرفان اللہ مروت کے بارے میں ایک رپورٹ شائع ہوئی تھی جس میں ان کے خفیہ پہلوؤں کو بے نقاب کیا گیا تھا۔

    حکومت میں ایک بہت بڑا حصہ رکھنے اور کراچی اور صوبے کے دیگر شہری علاقوں کی انتظامیہ اور بلدیاتی اداروں پر مکمل کنٹرول ہونے کے باعث ایم کیو ایم نے اپنے مخالفین کے خلاف پرتشدد کارروائیاں جاری رکھیں۔ اپوزیشن کے ساتھ ساتھ اخبارات اور صحافی بھی اس دباؤ سے محفوظ نہ رہ سکے۔

    سندھی اخبار عوامی آواز کے پہلے ایڈیٹر اور سینئر صحافی سہیل سانگی کے مطابق جام صادق علی سندھی اخباروں کے ایڈیٹرز کو خاص طور پر ڈنر یا لنچ پر بلاتے تھے اور پیپلز پارٹی کے خلاف خبریں چھاپنے پر زور دیتے تھے۔ ان کے دور میں کئی اخبارات کے سرکاری اشتہارات بند کیے گئے تاکہ انہیں اپوزیشن کے خلاف لکھنے پر مجبور کیا جائے۔

    مگر ان تمام جابرانہ اقدامات کے باوجود سندھی اخبارات نے جام صادق علی حکومت کے مظالم پر کھل کر لکھا۔ اس دور میں کئی نئے سندھی اخبارات جاری ہوئے اور سندھی صحافت کی تاریخ میں پہلی مرتبہ سندھی اخبارات نے مشترکہ اداریے لکھنا شروع کیے۔

    وفاقی اردو یونیورسٹی کے پروفیسر ڈاکٹر اوج کمال اپنے پی ایچ ڈی مقالے ‘Threat to Journalists in Pakistan’ میں لکھتے ہیں کہ اکتوبر 1990 کے انتخابات کے بعد مسلم لیگ کی حکومت نے متحدہ قومی موومنٹ کے ساتھ اتحاد میں آتے ہی پریس کی آزادی محدود کرنے کے اقدامات شروع کر دیے۔ پہلے سے موجود پابندیاں مزید سخت ہو گئیں اور مختلف گروہوں کی جانب سے میڈیا پر دباؤ بڑھتا گیا۔

    ان کے مطابق انیس مارچ 1991 کو ایم کیو ایم کے کارکنوں نے ڈان کے اخبارات چھین لیے اور بائیس مارچ کو اس کی ترسیل نہیں ہونے دی گئی، جبکہ کراچی میں اس کا بائیکاٹ بھی کیا گیا۔ انگریزی روزنامہ ‘دی نیوز’ کے صحافی کامران خان کو ان کے کراچی کے دفتر کے سامنے چاقو مارا گیا، جبکہ ہفت روزہ جریدے ‘تکبیر’ کے مدیر مولانا صلاح الدین کے گھر کو آگ لگا دی گئی۔

    ڈاکٹر اوج کمال کے مطابق اس دور میں صحافیوں کی گرفتاریاں بھی معمول بن گئیں۔ پولیس کی جانب سے ہراساں کرنا ایک عام ہتھکنڈا تھا۔ اگست 1991 میں ڈان کے حسن سنگرمی اور روزنامہ مشرق کے الیاس کو کراچی میں تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ مزید برآں 1992 میں جنگ گروپ کے سربراہ میر شکیل الرحمان اور ‘دی نیوز’ کی مدیر ملیحہ لودھی کے خلاف بھی مقدمات درج کیے گئے۔ اس پورے دور میں میڈیا اداروں اور صحافیوں پر حملوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا۔

    جام صادق علی کی وفات کے بعد کراچی میں امن و امان کی بگڑتی صورتحال کے باعث وفاقی حکومت نے جون 1992 میں فوجی آپریشن شروع کیا، جسے عام طور پر کراچی آپریشن کہا جاتا ہے۔ اس میں رینجرز اور فوج نے حصہ لیا۔ ابتدا میں اس کا ہدف جرائم پیشہ عناصر اور مسلح گروہوں کے خلاف کارروائی تھا، تاہم بعد میں اس کے دائرہ کار میں کراچی کی اہم سیاسی پارٹی ایم کیو ایم بھی آ گئی۔

    سندھ کے پانی کا مسئلہ: 1991 کا معاہدہ

    جام صادق علی کے دور میں کچھ اہم نوعیت کے واقعات بھی پیش آئے جو سندھ کے کئی دیرینہ مسائل کو حل کرنے میں اہم پیش رفت ثابت ہوئے۔ ان میں سے سب سے نمایاں واقعہ 1991 کا ‘واٹر اپورشنمنٹ اکارڈ’ تھا۔ یہ معاہدہ آج بھی سندھ میں متنازع فیصلہ کے طور پر یاد کیا جاتا ہے، جس کے تحت دریائے سندھ کے پانی میں صوبوں کے حصے تعین کیے گئے۔

    اگرچہ اس وقت اسے ایک بڑی کامیابی قرار دیا گیا تھا، لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ سندھ کے کسانوں اور ماہرین زراعت نے اسے سندھ کے حقوق پر ڈاکہ قرار دیا۔ ان کا موقف تھا کہ جام صادق علی نے وفاقی حکومت اور صوبہ پنجاب کے حکمرانوں کو خوش کرنے کے لیے سندھ کے دیرینہ پانی کے حقوق پر سمجھوتہ کیا، جس کے اثرات آج بھی بنجر زمینوں کی صورت میں نظر آتے ہیں۔

    واٹر اکارڈ میں کئی مثبت نکات بھی شامل تھے، جن کے تحت دریائے سندھ کا پانی کوٹری سے نیچے چھوڑنے کو یقینی بنانا بھی شامل تھا تاکہ انڈس ڈیلٹا کی آبی حیات کا تحفظ ہو سکے۔ اس معاہدے میں واضح کیا گیا کہ سمندر میں کھارے پانی کے پھیلاؤ کو روکنے اور ماحولیاتی نظام کو بچانے کے لیے سالانہ تقریباً 10 ملین ایکڑ فٹ پانی کوٹری بیراج کے نیچے چھوڑا جانا چاہیے۔

    تاہم معاہدے کی شرائط میں یہ بھی شامل تھا کہ پانی کی اس مقدار کا حتمی تعین ایک سائنسی مطالعے کے ذریعے کیا جائے گا تاکہ ماہرین کی رائے کی روشنی میں دریا کے ڈیلٹا کے لیے درکار پانی کی اصل مقدار کا درست اندازہ لگایا جا سکے۔ افسوس کہ اس سائنسی مطالعے کے لیے تب سے اب تک کوئی پیش رفت نہیں ہو سکی۔ خریف کے موسم کے دوران ہر سال سندھ میں پانی کی شدید قلت رہتی ہے۔

    سندھی زبان اور ثقافت کا تحفظ

    تمام تر تنازعات اور انسانی حقوق کی پامالی کے باوجود جام صادق علی کے کچھ اقدامات ایسے بھی تھے جنہیں آج بھی قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ ان کا سب سے بڑا کارنامہ 1991 میں ‘سندھی لینگویج اتھارٹی’ کا قیام تھا۔

    یہ ادارہ آج بھی سندھی زبان کی ترویج، تحقیق اور اشاعت کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔ انہوں نے سندھی ثقافت اور ادب کی سرپرستی کی اور کئی ایسے منصوبے شروع کیے جن سے سندھ کی شناخت کو تقویت ملی۔

    مزید برآں کراچی جیسے بڑے شہر میں امن و امان کی صورتحال کو بہتر بنانے کے لیے انہوں نے مختلف گروہوں کے درمیان مذاکرات کا راستہ کھولا۔ ان کے حامیوں کا کہنا ہے کہ جام صادق علی نے ایک ایسے وقت میں سندھ کی باگ ڈور سنبھالی جب صوبہ لسانی فسادات کی آگ میں جل رہا تھا اور انہوں نے اپنی انتظامی صلاحیتوں سے خون خرابے کو روکنے کی کوشش کی۔

    جام صادق علی کے بارے میں مشہور تھا کہ وہ ایک بااثر اور رعب دار وزیر اعلیٰ تھے۔ ان کی انتظامیہ پر گرفت مضبوط تھی اور وہ بیوروکریسی سے کام لینا جانتے تھے۔ انہوں نے صوبے کے بنیادی ڈھانچے، سڑکوں اور پلوں کی تعمیر میں بھی دلچسپی لی۔ کراچی میں کورنگی انڈسٹریل ایریا کی جانب جانے والا ملیر ندی کے اوپر بنایا گیا ‘جام صادق پل’ ان کے دور کی ایک نشانی ہے جو آج بھی شہر کی ٹریفک کی روانی کے لیے اہم ہے۔

    آخری ایام اور وفات

    جام صادق علی کا انتقال پانچ مارچ 1992 کو جگر کے کینسر کے باعث ہوا۔ ان کی وفات کے بعد سندھ کی سیاست کا ایک باب تو بند ہو گیا لیکن ان کے چھوڑے ہوئے اثرات پر بحث آج بھی جاری ہے۔ ان کے جنازے میں ہزاروں افراد کی شرکت ان کے حامیوں کے مطابق اس بات کا ثبوت تھی کہ وہ جہاں اپوزیشن کے لیے ایک سخت گیر دشمن تھے وہیں عوام کے ایک حلقے میں مقبول بھی تھے۔

    ان کی وفات کے بعد آئی جے آئی کے ایک اور مقامی رہنما سید مظفر حسین شاہ کو سندھ کا وزیر اعلیٰ چنا گیا۔

    جام صادق علی کی شخصیت اور ان کے دور اقتدار کا کسی ایک زاویے سے مکمل احاطہ کرنا آسان نہیں۔ آج بھی جب سندھ کی سیاسی تاریخ کا جائزہ لیا جاتا ہے تو ان کا تذکرہ ایک ایسے وزیر اعلیٰ کے طور پر سامنے آتا ہے جس نے سیاست کے پیچیدہ ماحول میں اپنی سوچ کے مطابق فیصلے کیے، خواہ ان کے نتائج کتنے ہی بھاری کیوں نہ ہوں۔

  • سندھ : خواتین کے لیے مقتل گاہ کیوں ؟

    سندھ : خواتین کے لیے مقتل گاہ کیوں ؟

    ملک کے دوسرے صوبوں کی طرح سندھ کی خواتین کو بھی اب تک نہ تو انسانی برابری کا درجہ حاصل ہو سکا ہے اور نہ ہی آئین کے مطابق حقوق حاصل ہو سکے ہیں۔ دوسرے صوبوں کے مقابلے میں البتہ پیپلز پارٹی کی سندھ حکومت نے اسمبلیوں میں خواتین کے حق میں نئے قوانین بہت بنائے ہیں۔
    جہاں تک ان پر عمل درآمد کا تعلق ہے تو اس معاملے پر کہنے کے لیے کچھ زیادہ نہیں ہے۔ کیونکہ سالوں پہلے ان قوانین کے آنے سے اب تک خواتین کی حالت پر ان قوانین کے ہونے سے کوئی فرق نہیں پڑا۔ وہی گھریلو تشدد، وہی جنسی ہراسمنٹ، وہی کاروکاری کے نام پر خواتین کے قتل اور بے بسی کی خودکشیاں، وہی ورثے کے روڈوں پر دھرنے اور احتجاج! بلکہ وقت گزرنے کے ساتھ کوئی کمی آنے کے بجائے ان پر تشدد اور ظلم میں اضافہ ہی ہوتا رہا ہے، کیونکہ نئے قوانین پر عمل تو درکنار قانونی ادارے ہی سندھ میں سیاسی وڈیروں کے گھر کی لونڈی بن کر رہ گئے ہیں۔ تو ایسے میں کیا امید کی جا سکتی ہے کہ سندھ کی مجبور و محکوم خواتین کو خواتین کے حقوق کے لیے بنائے گئے قوانین سے کوئی تحفظ حاصل کرنا ممکن ہو۔ کیونکہ ان قوانین کے بارے میں کوئی آگاہی مہم نہیں چلائی گئی، نہ ان پر عمل درآمد کے لیے کوئی خاص اقدامات اٹھائے گئے، نہ کوئی ٹاسک فورس بنی، نہ ہی بجٹ ایلوکیٹ کیا گیا۔

    کسی اسمبلی ممبر یا منسٹر سے کبھی اس بارے میں کچھ نہیں پوچھا گیا کہ ان قوانین کے پاس ہونے سے خواتین کو کتنا فائدہ پہنچا۔ 2004 میں سندھ ہائی کورٹ نے جرگوں پر پابندی لگائی لیکن جرگے ہوتے رہے اور جاری ہیں۔ سینکڑوں بے گناہ خواتین کو ہر سال کاروکاری کے الزام میں قتل کیا جاتا ہے اور یہ سلسلہ جاری ہے۔ یہ اور بات ہے کہ کسی وڈیرے یا جاگیردار کی بیٹی قتل نہیں ہوتی، غیرت کے نام پر قتل ہونے والی سندھ کے غریب خاندانوں کی لڑکیاں ہوتی ہیں جو پہلے ہی ان کی دو وقت کی روٹی کھلانے سے بھی تنگ ہوتے ہیں۔

    ابھی تک سندھ میں لڑکیوں کو بیچنے کا رواج بھی چلا آ رہا ہے اور ہماری حکومتوں نے اس کارِ خیر میں بھی کبھی مداخلت نہیں کی۔ عورت کی بدقسمتی کہ وہ مجموعی طور پر گھریلو تشدد اور ذہنی تشدد کی تو کھانے، پانی اور آکسیجن کی طرح عادی بنا دی گئی ہے۔ اور اس کی نہ کوئی سزا ہے نہ حساب کتاب۔ لیکن حیرت کی بات کہ اکیسویں صدی میں بھی اس کا سانس لینا ہی سب سے بڑا جرم ہے۔ سندھ کی حکمران جماعت نے سرداری نظام کو اپنے اقتدار کی خاطر عوام کا خون پلا کر اتنا بڑا آدمخور بنا دیا ہے کہ اس کے سامنے قانون، اخلاق، اقدار اور انسانیت کا تصور ہی ماضی کا قصہ بن گیا ہے۔

    جدید دور میں شدت سے یہ بات محسوس ہو رہی ہے کہ سماجی، سیاسی اور حکومتی فیصلہ ساز اداروں میں عورت کی تعداد بہت ہی کم اور نہ ہونے کے برابر ہے، یہی وجہ ہے کہ عورت کی آواز بہت کم سنائی دیتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ سماج، سیاست اور حکومت کے فیصلہ ساز اداروں تک عورتوں کی رسائی کیسے بڑھائی جائے کہ عورتوں کے مسائل کو اہمیت حاصل ہو سکے؟

    عورت ہمیشہ غلام نہیں رہی ہے۔ تاریخ میں ہزاروں سال پہلے ایسے ادوار بھی رہے ہیں جب عورتوں کو مرکزی حیثیت حاصل رہی ہے، ان سماجوں کو "مادر سری” سماج کہا جاتا ہے۔ فریڈرک اینگلس کے مطابق شروعاتی انسانی سماجوں میں ملکیت مشترکہ اور نسل ماں کے نام سے جانی جاتی تھی۔ پھر نجی ملکیت کا تصور پیدا ہوا اور زرعی پیداوار بڑھی۔ مردوں کے پاس زمین اور وسائل کا کنٹرول آیا۔ خاندان کا ڈھانچہ "پدر شاہی” میں تبدیل ہوا تو عورتوں کو گھروں تک محدود کر دیا گیا۔ طاقت کے محور ادارے سیاست، فوج، مذہب اور معیشت مردوں کے کنٹرول میں چلے گئے، عورت سے سماج کی لیڈرشپ چھن گئی اور وہ غلام بن گئی۔

    لیکن یہ ہزاروں سال پہلے کی کتھا ہے۔ اکیسویں صدی کے جدید سائنس و ٹیکنالوجی اور انسانی برابری کے دور میں بھی ترقی یافتہ ممالک کو چھوڑ کر باقی دنیا خاص طور پر جنوبی ایشیا کی خواتین کی اکثریت کے حالات بہتر نہیں، لیکن پاکستان کی خواتین ان سب میں بھی تعلیم، روزگار اور تحفظ میں سب سے پیچھے ہیں۔

    سندھ کی موجودہ سماجی صورتحال بیڈ گورننس، طاقتور اور بااثر سرکاری سیاسی وڈیروں کی ناجائز اجارہ داری کی پیدا کردہ لاقانونیت کی وجہ سے ماضی کے مقابلے میں بہت زیادہ خراب ہے۔ اس کے سب سے زیادہ سندھ کی 80 فیصد غریب طبقے کی خواتین اور بچے نشانہ بن رہے ہیں۔

    صنفی تفریق معاشرے کی جڑوں تک اس قدر پھیلی ہوئی ہے کہ مرد تو مرد، خواتین بھی زیادہ تر وہی سوچتی اور کرتی ہیں جو مردانہ معاشرہ ان سے چاہتا ہے۔ اس کو چیلنج کرنے کی ہمت ہماری سیاسی پارٹیوں تک میں نہیں پیدا ہو سکی۔ سیاسی جماعتیں جس طرح ایک عرصے سے ملک کی آدھی آبادی کے مسائل سے لاتعلق ہیں، اس کا ان کو ابھی اندازہ اور احساس نہیں کہ مستقبل میں یہ ان کی کتنی بڑی کوتاہی ثابت ہو سکتی ہے۔ سیاسی پارٹیوں کے منشوروں میں اکثر یہ تصور کر لیا جاتا ہے کہ جب انقلاب آئے گا تو اس کے بعد سب طبقوں کے ساتھ انصاف ہوگا۔ وہ خواتین کو محض ایک طبقہ سمجھ لیتے ہیں جو بڑی غلط فہمی ہے۔ خواتین اس ملک کی اور دنیا کی آدھی آبادی ہیں، کوئی چھوٹا طبقہ نہیں ہیں۔

    پھر کلاس کی بات آجاتی ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ ملک کی اکثریتی خواتین کا تعلق لوئر کلاس کی مزدور، ہاری، ملازم طبقے سے ہے۔ ان کو جینے کے لیے بنیادی انسانی حقوق تعلیم، صحت، روزگار اور تحفظ حاصل نہیں ہیں۔ ان حقوق کے لیے خواتین کو اپنے سیاسی پلیٹ فارم بنا کر جدوجہد کرنا ہوگی۔ خواتین کی سماجی تنظیمیں بہت اچھا کام کر رہی ہیں لیکن ان کی پہنچ محدود اور مخصوص ہے کیونکہ وہ سیاسی پلیٹ فارم نہیں ہیں۔

    سرکاری طور پر اس جدید دور میں صنفی تفریق کے خاتمے کے لیے سارے ملک کے درسگاہوں کے ساتھ سب سرکاری اداروں خاص طور پر پولیس، عدلیہ، وکلا کے لیے صنفی حساسیت پیدا کرنے کے لیے خواتین کے حقوق کے بارے میں کورس/ کوڈ آف کنڈکٹ ترتیب دے کر اسمبلیوں سے قانون پاس کروا کر اسے ملک بھر میں نافذ کیا جائے اور اسے پڑھنا اور اس پر عمل کرنا لازمی قرار دیا جائے اور اس پر عمل نہ کرنے کی جوابدہی ہونی چاہیے۔ یہ خواتین کی عزت اور حقوق کے تحفظ میں مددگار ہو سکتا ہے اگر اس پر عمل درآمد ہو۔ ورنہ پہلے ہی بہت سے قوانین کے مسودے فائلوں میں بند پڑے ہیں۔ ملک کی خواتین کے لیے بنیادی انسانی حقوق اور عزت و تحفظ کا خواب کبھی حقیقت نہیں بن سکے گا۔ البتہ مریم نواز شریف جیسی دبنگ خاتون سے اس سلسلے میں کوئی پیشرفت کرنے کی امید کی جا سکتی ہے۔

  • مٹی سے محبت کا سفر: سندھ کے روایتی کمھار کا فن کیوں دم توڑ رہا ہے؟

    مٹی سے محبت کا سفر: سندھ کے روایتی کمھار کا فن کیوں دم توڑ رہا ہے؟

    سندھ کے میرپورخاص ڈویژن کے گاؤں کے مناظر، جہاں مٹی کی خوشبو اور کمھار کے ہاتھوں کی مہارت آپ کو صدیوں پرانی روایت میں لے جاتی ہے۔ آج ہم آپ کو لے کر چلیں گے ایک ایسے ہنرمند کے پاس، جو اپنے ہاتھوں سے مٹی کو زندگی بخشتا ہے، اسے گھڑتا ہے، سنوارتا ہے اور پھر اسے خوبصورت برتنوں میں ڈھال دیتا ہے۔ مٹھی سے محبت کا عملی جائزہ لینا ہو تو کمہار کے فن کو دیکھیں۔ یہ ہے روایتی کمھار کا فن، جو نسل در نسل چلا آ رہا ہے اور آج بھی زندہ ہے۔

    سب سے پہلے کمھار مٹی کو چھانٹتا ہے تاکہ اس میں سے پتھر، گھاس پھوس اور دوسری چیزیں الگ ہو جائیں۔ پھر وہ اس مٹی میں پانی ملاتا ہے اور اسے خوب گوندھتا ہے۔ یہ کام بہت اہم ہوتا ہے کیونکہ مٹی میں نمی اور لچک ہی برتن کو مضبوط بناتی ہے۔ گوندھنے کے بعد مٹی کو پلاسٹک کی چادر سے ڈھانپ کر کچھ دیر کے لیے چھوڑ دیا جاتا ہے تاکہ وہ یکساں طور پر تیار ہو جائے۔

    جس کے بعد دلچسپ مرحلہ آتا ہے۔

    چَک، چرخِ کمہار یا چرخہ، جسے سندھی زبان میں چَک کہا جاتا ہے، جو ایک وہیل نما ہوتا ہے، جس پر گوندھی ہوئی مٹی رکھ کر برتن بنائے جاتے ہیں۔ کمھار مٹی کی ایک لوئی لے کر چَک پر رکھتا ہے اور چَک کو گھمانا شروع کر دیتا ہے۔ اپنے ہاتھوں کو پانی میں بھگو کر وہ مٹی کو شکل دیتا ہے، اسے اوپر اٹھاتا ہے، اندر سے کھوکھلا کرتا ہے اور پھر اسے ایک خوبصورت گھڑے، مٹکے یا ہانڈی کی شکل میں ڈھال دیتا ہے۔ کمھار کے ہاتھوں کی یہ جنبش دیکھ کر ایسا لگتا ہے گویا وہ مٹی سے بات کر رہا ہے اور وہ جو اس کی ہر اشارے کو سمجھ رہی ہے۔

    چَک پر برتن بنا لینے کے بعد کمھار اسے ایک طرف رکھ دیتا ہے تاکہ وہ قدرے خشک ہو جائے۔ جب برتن آدھا خشک ہو جاتا ہے تو کمھار اس پر باریک مٹی چھڑکتا ہے اور ہلکے ہاتھوں سے اس کے بدن کو تھپکی دیتا ہے تاکہ اسے مکمل شکل مل سکے۔ پھر ان برتنوں کو دھوپ میں رکھ دیا جاتا ہے تاکہ وہ اچھی طرح سوکھ جائیں۔

    برتنوں کے مکمل خشک ہو جانے کے بعد انہیں بھٹی میں پکانے کا عمل شروع ہوتا ہے۔ کمھار بھٹی میں لکڑی، چاول کی بھوسی اور گوبر کے اپلے ڈال کر آگ جلائے گا۔ یہ برتن بھٹی میں تقریباً 15 سے 20 گھنٹے تک پکتے رہیں گے، جس کے بعد یہ پختہ اور مضبوط ہو جائیں گے۔

    کچھ برتنوں کو بغیر رنگ کے ہی چھوڑ دیا جاتا ہے، تو کچھ پر خوبصورت نقش و نگار بنائے جاتے ہیں۔ کمھار برش کی مدد سے برتنوں پر پھول، بیل بوٹے اور جیومیٹرک ڈیزائن بناتا ہے۔ اس کے لیے وہ قدرتی رنگوں کا استعمال کرتا ہے، جیسے کوبالٹ بلیو، فیروزی، پیلا، جامنی اور بھورا۔ یہ رنگ برتنوں کو ایک منفرد اور دلکش شکل دیتے ہیں۔سندھ میں عام طور پر مٹی کے برتنوں پر رنگ کرنے کا کام خواتین کرتی ہیں۔

    کمھار مختلف قسم کے برتن بناتے ہیں۔ گھڑا اور مٹکا پینے کے پانی کو ٹھنڈا رکھنے کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔ پیالہ، کونڈی اور ہانڈی کھانا پکانے اور پیش کرنے کے کام آتے ہیں۔ چھوٹے بچوں کے لیے وہ مٹی کے کھلونے بھی بناتے ہیں، اور دیوالی یا عرسوں کے لیے روایتی مٹی کے چراغ بھی۔

    لیکن یہ کام اتنا آسان نہیں جتنا لگتا ہے۔ کمھار کو صبح سے شام تک دھوپ اور گرمی میں کام کرنا پڑتا ہے۔ مٹی کو چھانٹنا، گوندھنا، برتن بنانا، انہیں دھوپ میں خشک کرنا، بھٹی میں پکانا اور پھر رنگ کرنا، یہ سب بہت محنت طلب کام ہے۔ اس کے باوجود، آج کل کمھاروں کو اپنے فن کو جاری رکھنے میں بہت مشکلات کا سامنا ہے۔ پلاسٹک اور اسٹیل کے برتنوں نے مٹی کے برتنوں کی جگہ لے لی ہے، اور لوگ اب انہیں اتنی اہمیت نہیں دیتے جتنی پہلے دیتے تھے۔

    مٹی کے برتنوں کی مانگ میں کمی کی وجہ سے کمھاروں کی آمدن بہت کم ہو گئی ہے۔ بہت سے کمھار اپنا پیشہ چھوڑ کر دوسرے کاموں کی طرف رخ کر رہے ہیں۔ نوجوان نسل بھی اس فن کو سیکھنے میں دلچسپی نہیں لے رہی، کیونکہ اس میں پیسہ نہیں ہے۔ اس طرح یہ صدیوں پرانا فن آہستہ آہستہ ختم ہو رہا ہے۔

    ہمیں چاہیے کہ ہم مٹی کے برتنوں کو استعمال کریں اور کمھاروں کی حوصلہ افزائی کریں۔ مٹی کے برتن نہ صرف ماحول دوست ہیں، بلکہ ان میں کھانا پکانے سے صحت بھی بہتر رہتی ہے۔ ہم اپنی روزمرہ کی زندگی میں مٹی کے برتنوں کو شامل کر کے اس فن کو زندہ رکھنے میں اپنا کردار ادا کر سکتے ہیں۔

    یہ تھی روایتی کمھار کی کہانی، جو مٹی سے محبت کرتا ہے اور اپنے ہاتھوں کی مہارت سے اسے فن پارے میں بدل دیتا ہے۔ آئیے، ہم سب مل کر اس ہنر کی قدر کریں اور ان کمھاروں کا ساتھ دیں، تاکہ یہ فن صدیوں تک زندہ رہ سکے۔

    ساگا ڈیجیٹل روائتی، مٹی سے محبت سے جڑی کہانیاں لاتا ہے۔ ایسی دلچسپ کہانیوں کے لیے ساگا ڈیجیٹل کو فالو کریں۔

  • ساگا بجٹ جائزہ: وزیراعلیٰ ہاؤس سندھ کو چلانے کے لیے 500 ملازمین اور روزانہ تقریباً 37 لاکھ روپے کے اخراجات

    ساگا بجٹ جائزہ: وزیراعلیٰ ہاؤس سندھ کو چلانے کے لیے 500 ملازمین اور روزانہ تقریباً 37 لاکھ روپے کے اخراجات

    کیا آپ جانتے ہیں کہ ایک ایسا گھر بھی ہے جہاں جدید دور میں بھی ٹرنک کالز کی بکنگ اور حتیٰ کہ کئی دہائیاں پہلے بند ہوجانے والے ٹیلی گرام اور ٹیلی فون بل پر سالانہ تقریباً ایک کروڑ روپے خرچ کیے جاتے ہیں؟

    اس گھر کو چلانے کے لیے 500 ملازمین ہیں۔ اور اس گھر کو چلانے کے لیے ایک دن میں، جی ہاں ایک دن میں تقریباً 37 لاکھ روپے خرچ ہوتے ہیں۔ یعنی ماہانہ خرچ تقریباً 11 کروڑ 23 لاکھ روپے اور سالانہ ایک ارب 35 کروڑ روپے کا خرچہ ہے۔

    یہ ہے سندھ کے وزیر اعلیٰ کا گھر یا چیف منسٹر سیکریٹریٹ۔

    اس تمام اسٹوری میں بتائے گئے اعداد و شمار ہم نے نہیں لکھے بلکہ فنانس ڈپارٹمنٹ کی آفیشل ویب سائٹ وزیر اعلیٰ سیکریٹریٹ کے سالانہ اخراجات کے بجٹ سے حاصل کیے ہیں۔

    آفیشل بجٹ ڈاکیومنٹ کے مطابق وزیراعلیٰ ہاؤس میں کام کرنے والے ملازمین کی بنیادی تنخواہوں سے بھی زیادہ رقم صرف الاؤنسز کی مد میں دی جا رہی ہے۔ کل 500 ملازمین پر سالانہ تقریباً 92 کروڑ 38 لاکھ روپے خرچ ہوتے ہیں، جس میں بنیادی تنخواہیں تقریباً 20 کروڑ اور الاؤنسز تقریباً 72 کروڑ روپے شامل ہیں۔

    صرف مہمان نوازی اور تحائف کے لیے سالانہ تقریباً نو کروڑ روپے مختص ہیں۔ صرف کھانے پینے پر سالانہ دو کروڑ 50 لاکھ روپے خرچ ہو رہے ہیں۔ گاڑیوں اور ہیلی کاپٹروں کے ایندھن پر ہی تقریباً چھ کروڑ روپے خرچ ہوتے ہیں، جبکہ مجموعی سفر پر 7 کروڑ 50 لاکھ روپے۔

    اور اس سب کے درمیان ایک کروڑ 27 لاکھ روپے ایسے بھی ہیں جنہیں ‘خفیہ اخراجات’ کہا جاتا ہے، جن کی کوئی تفصیل عوام کے سامنے نہیں رکھی جاتی۔ صرف اسٹیشنری یعنی کاغذ اور فائلوں پر ہی ایک کروڑ 11 لاکھ روپے خرچ کیے جا رہے ہیں۔

    اب آئیے جائزہ لیتے ہیں وزیراعلیٰ سندھ کے سیکریٹریٹ یا وزیراعلیٰ ہاؤس میں کتنے ملازم ہیں اور وہ کیا کرتے ہیں؟

    وزیراعلیٰ سیکریٹریٹ اور ہاؤس میں کل 500 ملازمین کام کرتے ہیں۔

    چار گریڈ کے ڈرائیورز 50 عدد، ایک گریڈ کے نائب قاصدوں کی تعداد 76 ہے، اس سیکریٹریٹ کے باغیچوں کی دیکھ بھال کے لیے ایک گریڈ کے مالی اور ہمال 18 ہیں۔ اس کے علاوہ ایک گریڈ کے 19 سینیٹری ورکرز، صفائی کے لیے نو سوئیپر، اور قالین بچھانے، کرسی لگانے اور ہال سجانے والے ایک گریڈ کے چار فراش بھی ملازمین میں شامل ہیں۔

    مزید یہ کہ ایک گریڈ کے دو چوکیدار، تین اسسٹنٹ کک، تین مسالچی جو باورچی خانے میں مصالحے تیار کرنے اور کھانے کی تیاری میں مدد دیتے ہیں، دو موذن اور ایک اسسٹنٹ دھوبی بھی اسی عملے کا حصہ ہیں۔

    پانچویں گریڈ میں 13 بیئرر شامل ہیں جو افسران اور مہمانوں کو چائے، پانی اور کھانا پیش کرتے ہیں اور میٹنگز میں سروس فراہم کرتے ہیں، اس کے علاوہ دو جونیئر کک، ایک مالی اور ایک ساؤنڈ ٹیکنیشن بھی اسی گریڈ میں موجود ہیں، جبکہ چھٹے گریڈ میں 10 ٹیلی فون آپریٹر یا اٹینڈنٹ کام کر رہے ہیں۔

    آٹھویں گریڈ میں چار ڈیٹا انٹری آپریٹر اور ایک گارڈن مینٹینر، نویں گریڈ میں ایک کیئر ٹیکر، چار سینئر ٹیلی فون آپریٹر اور چھ سینئر کک بھی موجود ہیں۔

    گیارہویں گریڈ میں 45 جونیئر کلرک، 15 بیئرر، دو ٹیلی فون سپروائزر، ایک فوٹوگرافر اور ایک لائبریری اسسٹنٹ شامل ہیں، جبکہ بارہویں گریڈ میں 10 ڈیٹا پروسیسنگ اسسٹنٹ، دو پیش امام اور ایک ویڈیو ٹیکنیشن بھی تعینات ہیں۔

    چودہویں گریڈ میں 14 سینئر کلرک، 14 اسٹینوگرافر، چار ہیڈ کک اور دو ہیڈ بیئرر شامل ہیں، جبکہ پندرہویں گریڈ میں دو کیمرہ مین، ایک اسسٹنٹ کیمرہ مین، تین سب ایڈیٹر، ایک کمپوزر، دو نان لینئر ایڈیٹر اور ایک ٹیکنیشن بھی کام کر رہے ہیں۔

    اس کے علاوہ اوپر کے گریڈز میں درجنوں افسران، سیکریٹریز، پروٹوکول افسران، میڈیا اور آئی ٹی اسٹاف بھی شامل ہے، جو اس پورے نظام کو چلاتے ہیں۔

    سوال یہ نہیں کہ خرچ کیوں ہو رہا ہے، سوال یہ ہے کہ کیا یہ خرچ عوام کی ترجیحات کے مطابق ہے؟

    ساگا ڈیجیٹل نئی سیریز ساگا بجٹ جائزہ میں ایسی ہی دلچسپ کہانیاں لاتا ہے۔ دلچسپ اور معلوماتی کہانیوں کے لیے ساگا ڈیجیٹل کو فالو کریں۔

  • سندھ میں ایچ آئی وی کا بڑھتا ہوا بحران: رواں سال کے پہلے تین ماہ میں 329 بچوں سمیت 894 نئے کیسز رپورٹ

    سندھ میں ایچ آئی وی کا بڑھتا ہوا بحران: رواں سال کے پہلے تین ماہ میں 329 بچوں سمیت 894 نئے کیسز رپورٹ

    سندھ میں ایچ آئی وی کے بڑھتے ہوئے کیسز نے صحت کے شعبے میں شدید تشویش پیدا کر دی ہے۔ محکمہ صحت سندھ کے مطابق رواں سال 2026 کے پہلے تین مہینوں (جنوری تا مارچ) کے دوران صوبے بھر میں ایچ آئی وی کے 894 نئے کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔ ان میں 329 بچے، 332 مرد، 204 خواتین اور 29 ٹرانسجینڈر افراد شامل ہیں۔

    ماہ وار بنیادوں پر دیکھا جائے تو جنوری میں 294، فروری میں 324 اور مارچ میں 276 نئے کیسز سامنے آئے۔

    سب سے زیادہ تشویشناک بات یہ ہے کہ متاثرہ بچوں میں 188 لڑکے اور 141 لڑکیاں شامل ہیں، اور صوبے میں روزانہ اوسطاً تین سے چار بچے ایچ آئی وی کا شکار ہو رہے ہیں۔ ماہرین صحت نے خبردار کیا ہے کہ اگر فوری طور پر مؤثر اقدامات نہ کیے گئے تو یہ صورتحال مزید سنگین ہو سکتی ہے۔

    لاڑکانہ کا المیہ: جب ایک ہی علاقے میں سینکڑوں بچے ایچ آئی وی کا شکار ہو گئے

    پاکستان میں ایچ آئی وی کے حوالے سے سب سے بڑا اور چونکا دینے والا واقعہ اپریل 2019 میں لاڑکانہ کے علاقے رتوڈیرو میں پیش آیا۔ یہ وہ وقت تھا جب مقامی میڈیا نے رپورٹ کیا کہ 10 سال سے کم عمر کے 14 بچوں میں ایچ آئی وی کی تشخیص ہوئی ہے۔ یہ واقعہ اس لیے زیادہ چونکا دینے والا تھا کہ ان تمام بچوں کے والدین کے ایچ آئی وی ٹیسٹ منفی آئے تھے۔

    تحقیات کے دوران صورتحال انتہائی سنگین نکلی۔ 2019 کے دوران لاڑکانہ ضلع میں 30,191 افراد کے ٹیسٹ کیے گئے، جن میں سے 876 ایچ آئی وی پازیٹو پائے گئے۔ ان میں سے 719 (یعنی 82 فیصد) 15 سال سے کم عمر کے بچے تھے۔ ایک اندازے کے مطابق اپریل 2019 سے اپریل 2020 کے درمیان رتوڈیرو میں مجموعی طور پر 1,353 افراد (3.2 فیصد) ایچ آئی وی پازیٹو پائے گئے، جن میں سے تقریباً 75 فیصد بچے تھے۔

    اس وبا کے دوران 5 سال سے کم عمر بچوں میں انفیکشن کی شرح انتہائی زیادہ تھی۔ 0 سے 2 سال کے بچوں میں ایچ آئی وی کی شرح 7 فیصد، 3 سے 5 سال کے بچوں میں 6 فیصد، جبکہ بالغوں میں یہ شرح صرف 1 فیصد تھی۔ عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے اس صورتحال کو ‘نئی اور عجیب’ قرار دیا اور اسے گریڈ-II ایمرجنسی قرار دیتے ہوئے اس پر قابو پانے کے لیے 1.5 ملین ڈالر کی ضرورت ظاہر کی۔

    لاڑکانہ میں ایچ آئی وی پھیلنے کی بڑی وجوہات کیا تھیں؟

    ڈبلیو ایچ او کی زیر قیادت مشترکہ اقوام متحدہ کی تحقیقاتی ٹیم نے 2019 میں جو ابتدائی نتائج پیش کیے، ان کے مطابق لاڑکانہ میں ایچ آئی وی کی وباء پھیلنے کی بنیادی وجہ غیر جراثیم سے پاک سوئیوں اور سرنجوں کا بار بار استعمال اور غیرمحفوظ خون کی منتقلی تھی۔

    تحقیقات میں یہ بھی سامنے آیا کہ متاثرہ بچوں میں سے 89 فیصد نے متعدد انجیکشن لگوائے تھے جبکہ 9 فیصد کو خون چڑھایا گیا تھا۔ صرف 11 فیصد بچوں کی مائیں ایچ آئی وی پازیٹو تھیں، جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ والدین سے بچوں میں منتقلی اس وباء کی بڑی وجہ نہیں تھی، بلکہ غیرمحفوظ طبی طریقہ کار ہی اصل مجرم تھا۔

    ایچ آئی وی کیسے پھیلتا ہے؟ عام اور کم معروف حقائق

    ایچ آئی وی ایک وائرس ہے جو انسانی مدافعتی نظام پر حملہ کرتا ہے۔ یہ صرف چند مخصوص طریقوں سے ایک شخص سے دوسرے شخص میں منتقل ہو سکتا ہے:

    غیرمحفوظ جنسی تعلقات: یہ ایچ آئی وی کی منتقلی کا سب سے عام طریقہ ہے۔ ایچ آئی وی سے متاثرہ شخص کے ساتھ کنڈوم یا دیگر حفاظتی تدابیر کے بغیر جنسی تعلق قائم کرنے سے وائرس منتقل ہو سکتا ہے۔

    سوئیاں اور سرنجیں دوبارہ استعمال کرنا: یہ پاکستان میں ایچ آئی وی پھیلنے کی ایک بڑی اور کم نظر انداز کی جانے والی وجہ ہے۔ اگر کوئی سوئی یا سرنج پہلے کسی متاثرہ شخص پر استعمال ہو چکی ہو اور اسے دوبارہ استعمال کیا جائے تو وائرس منتقل ہو سکتا ہے۔ بی بی سی کی ایک حالیہ تحقیقاتی رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ پنجاب کے شہر تونسہ کے ایک سرکاری ہسپتال میں سوئیوں کو دوبارہ استعمال کیا جا رہا تھا، جس کے نتیجے میں نومبر 2024 سے اکتوبر 2025 کے درمیان 331 بچے ایچ آئی وی کا شکار ہوئے۔

    غیرمحفوظ خون کی منتقلی: اگر خون کو مناسب طریقے سے اسکرین کیے بغیر کسی مریض کو چڑھا دیا جائے تو ایچ آئی وی منتقل ہو سکتا ہے۔

    ماں سے بچے میں منتقلی: ایک ایچ آئی وی پازیٹو ماں حمل، دورانِ زچگی یا دودھ پلانے کے دوران یہ وائرس اپنے بچے میں منتقل کر سکتی ہے۔

    بیوٹی پارلر اور ہیئر سیلون بھی خطرے کا باعث بن سکتے ہیں: ایک طبی رپورٹ کے مطابق بیوٹی سیلون میں مینیکیور، پیڈیکیور، ویکسنگ، شیونگ اور ٹیٹو بنوانے کے دوران اگر آلات کو جراثیم سے پاک نہ کیا جائے تو ایچ آئی وی پھیلنے کا خطرہ ہوتا ہے۔ بیوٹیشنز اکثر جراثیم کشی کے بارے میں مناسب تربیت یافتہ نہیں ہوتیں۔ یہاں تک کہ خون کی صرف 0.3 ملی لیٹر مقدار بھی وائرس پھیلانے کے لیے کافی ہے۔

    انجیکشنز کا غیرضروری استعمال: پاکستان میں لوگ زبانی دوائیوں کے مقابلے میں انجیکشنز کو زیادہ مؤثر سمجھتے ہیں، جس کی وجہ سے انجیکشنز کی طلب بہت زیادہ ہے۔ ایک تحقیق کے مطابق 38 فیصد صحت فراہم کرنے والے انجیکشنز کے دوران سرنجیں دوبارہ استعمال کرتے ہیں۔

    ہاتھ ملانے، ایک ساتھ کھانے یا آنسوؤں سے ایچ آئی وی نہیں پھیلتا: معاشرے میں ایچ آئی وی کے بارے میں بہت سی غلط فہمیاں پائی جاتی ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ ایچ آئی وی کسی کو چھونے، ہاتھ ملانے، ایک ساتھ کھانا کھانے، پسینے، آنسوؤں یا تھوک سے نہیں پھیلتا۔

    مچھر کے کاٹنے سے ایچ آئی وی نہیں پھیلتا: یہ ایک عام غلط فہمی ہے کہ مچھر کے کاٹنے سے ایچ آئی وی پھیل سکتا ہے۔ حقیقت میں مچھر ایچ آئی وی وائرس کو ایک شخص سے دوسرے میں منتقل نہیں کر سکتے۔

    ایچ آئی وی سے بچاؤ کے طریقے، خود کو کیسے محفوظ رکھیں؟

    صرف جراثیم سے پاک سوئیاں اور سرنجیں استعمال کریں: ہسپتال یا کلینک جاتے وقت یقینی بنائیں کہ ڈاکٹر یا نرس آپ کے سامنے نئی، جراثیم سے پاک سوئی کھولے۔ ‘ایک سوئی، ایک سرنج، ایک بار’ کا اصول ہمیشہ یاد رکھیں۔

    خون کی منتقلی سے پہلے اسکریننگ کو یقینی بنائیں: اگر آپ کو کبھی خون چڑھایا جائے تو یقینی بنائیں کہ وہ خون مکمل طور پر اسکرین کیا گیا ہے۔

    غیرمحفوظ جنسی تعلقات سے گریز کریں: کنڈوم کا مستقل اور درست استعمال ایچ آئی وی کے خطرے کو نمایاں طور پر کم کر سکتا ہے۔

    بچوں کو ایچ آئی وی سے بچانے کے لیے: حاملہ خواتین کو چاہیے کہ وہ اپنا ایچ آئی وی ٹیسٹ کروائیں۔ اگر ماں ایچ آئی وی پازیٹو ہے تو مناسب علاج اور احتیاطی تدابیر سے بچے میں وائرس منتقل ہونے کا خطرہ 1 فیصد سے بھی کم کیا جا سکتا ہے۔

    شعور اور آگاہی: ایچ آئی وی کے بارے میں درست معلومات حاصل کریں اور دوسروں تک بھی پہنچائیں۔ خوف اور بدنما داغ (Stigma) کی وجہ سے لوگ اپنی تشخیص کرانے سے گریز کرتے ہیں، جس سے وائرس مزید پھیلتا ہے۔ 2025 کے اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں ایچ آئی وی کے ساتھ زندگی گزارنے والے 80 فیصد افراد اپنی بیماری سے بے خبر ہیں۔

    پرائیکسپوژر پروفیلیکسس (PrEP): یہ ایک ایسی دوا ہے جو ایچ آئی وی سے متاثر ہونے سے پہلے تحفظ فراہم کرتی ہے۔ اگر اسے مستقل طور پر لیا جائے تو یہ انفیکشن کے خطرے کو 99 فیصد تک کم کر سکتی ہے۔

    پاکستان میں ایچ آئی وی کی مجموعی صورتحال

    اقوام متحدہ کے تخمینوں کے مطابق پاکستان میں ایچ آئی وی کے ساتھ زندگی گزارنے والے افراد کی تعداد 350,000 کے قریب ہے۔ گذشتہ 15 سالوں میں نئے ایچ آئی وی انفیکشنز میں 200 فیصد اضافہ ہوا ہے — جو 2010 میں 16,000 تھے، 2024 میں بڑھ کر 48,000 ہو گئے۔ پاکستان عالمی ادارہ صحت کے مشرقی بحیرہ روم کے خطے میں سب سے تیزی سے بڑھتی ہوئی ایچ آئی وی وباء والے ممالک میں شامل ہے۔

    ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ جب تک انفیکشن کنٹرول کے سخت قوانین نافذ نہیں کیے جاتے اور طبی شعبے میں غیرمحفوظ طریقوں کا خاتمہ نہیں کیا جاتا، سندھ اور پاکستان میں ایچ آئی وی کے پھیلنے کے واقعات پیش آتے رہیں گے۔ وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے حال ہی میں ہدایت کی ہے کہ ہر ضلع میں کم از کم ایک ایچ آئی وی اسکریننگ اور ٹریٹمنٹ سینٹر قائم کیا جائے اور عوام میں آگاہی مہم کو مزید موثر بنایا جائے۔

    نوٹ: یہ تحریر صرف معلومات فراہم کرنے کے لیے ہے۔ ایچ آئی وی سے متعلق کسی بھی طبی مشاورت کے لیے اپنے قریبی ہیلتھ کیئر پروفیشنل سے رجوع کریں۔

  • مٹیاری: مٹھاس، ثقافت اور روحانیت کا سنگم

    مٹیاری: مٹھاس، ثقافت اور روحانیت کا سنگم

    سندھ کے دل میں واقع ضلع مٹیاری اپنی منفرد ثقافتی پہچان، صوفی روایت اور ذائقوں کی وجہ سے ایک خاص مقام رکھتا ہے۔ قومی شاہراہ پر سفر کرنے والے اکثر اس ضلع میں ایک مختصر قیام ضرور کرتے ہیں، اور اس کی سب سے بڑی وجہ یہاں کا مشہور گاڑھے دودھ سے تیار کیا جانے والا ماوا اور روایتی آئس کریم ہے، جو نہ صرف مقامی لوگوں بلکہ مسافروں کے لیے بھی ایک لازمی ذائقہ بن چکا ہے۔

    مٹیاری صرف کھانوں تک محدود نہیں بلکہ یہ سندھ کی روحانی تاریخ کا بھی ایک اہم مرکز ہے۔ یہاں عظیم صوفی شاعر شاہ عبداللطیف بھٹائی اور سروری جماعت کے روحانی پیشوا پیر مخدوم سرور نوح کے مزارات واقع ہیں، جہاں ہر سال ہزاروں عقیدت مند حاضری دیتے ہیں۔ یہ مزارات نہ صرف مذہبی عقیدت کا مرکز ہیں بلکہ سندھ کی صوفی روایت کی جیتی جاگتی علامت بھی ہیں۔

    مٹیاری کا شہر ہالا اپنی روایتی دستکاریوں کی وجہ سے دنیا بھر میں پہچانا جاتا ہے۔ یہاں کی کاشی ٹائل، رنگین کڑھائی والی چارپائیاں، خواتین کے لیے ہاتھ سے بنے کپڑے ‘سوسی’ اور مردوں کے لیے کھڈی پر تیار کیے جانے والے کپڑے سندھ کی ثقافتی وراثت کی عکاسی کرتے ہیں۔ یہ ہنر نسل در نسل منتقل ہو رہا ہے اور آج بھی اپنی اصل شکل میں زندہ ہے۔

    یوں مٹیاری ایک ایسا مقام ہے جہاں مٹھاس، ہنر اور روحانیت ایک ساتھ سانس لیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ یہ ضلع سندھ کی ثقافت اور روایت کو سمجھنے کے لیے ایک مکمل تصویر پیش کرتا ہے، جہاں ہر مسافر کو نہ صرف ذائقہ بلکہ تاریخ اور روحانیت کا بھی احساس ہوتا ہے۔

  • پاکستان کے دیگر تمام خطوں کے مقابلے میں سندھ میں پرندوں کی غیر معمولی تعداد کے پیچھے کیا راز چھپا ہے؟

    پاکستان کے دیگر تمام خطوں کے مقابلے میں سندھ میں پرندوں کی غیر معمولی تعداد کے پیچھے کیا راز چھپا ہے؟

    سندھ ایک ایسا خطہ ہے جہاں زمین، پانی اور موسم مل کر پرندوں کے لیے ایک مکمل دنیا تشکیل دیتے ہیں۔ اگر پاکستان کو پرندوں کی سرزمین کہا جائے تو سندھ اس کا سب سے بھرپور اور متنوع حصہ ہے۔

    مستند سائنسی ریکارڈ کے مطابق سندھ میں تقریباً 450 سے 500 کے درمیان پرندوں کی اقسام پائی جاتی ہیں، جو پورے پاکستان میں ریکارڈ ہونے والی تقریباً 790 سے 800 اقسام کا ایک بڑا حصہ ہیں۔ یہ صرف ایک عدد نہیں بلکہ ایک مکمل ماحولیاتی نظام کی عکاسی ہے، جہاں ہر خطہ اپنے اندر مختلف پرندوں کو جگہ دیتا ہے۔

    سندھ کی اہمیت کو سمجھنے کے لیے اس کے مختلف ماحولیاتی خطوں کو الگ الگ دیکھنا ضروری ہے، کیونکہ ہر خطہ مخصوص پرندوں کا گھر ہے۔

    سب سے پہلے انڈس ڈیلٹا کی بات کی جائے تو یہ دنیا کے بڑے ڈیلٹاز میں شمار ہوتا ہے۔ یہاں مینگرووز، کیچڑ والے میدان، نمکین پانی اور سمندری اثرات ایک منفرد ماحول پیدا کرتے ہیں۔ اس علاقے میں فلیمنگو جسے اردو میں گلابی بگلا بھی کہا جاتا ہے، بڑی تعداد میں نظر آتا ہے۔

    اس کے علاوہ سمندری بگلوں کی مختلف اقسام، ٹرن، سینڈ پائپر، پلور اور اویسٹر کیچر جیسے ساحلی پرندے یہاں عام ہیں۔ یہ وہ پرندے ہیں جو ساحل، کیچڑ اور اتھلے پانی میں خوراک تلاش کرتے ہیں۔ انڈس ڈیلٹا نہ صرف مقامی بلکہ بیرونی پرندوں کے لیے بھی ایک محفوظ ٹھکانہ ہے۔

    دنیا کے بڑے ڈیلٹاز میں سے ایک انڈس ڈیلٹا میں موجود مینگرووز، کیچڑ والے میدان، نمکین پانی میں فلیمنگو جسے اردو میں گلابی بگلا بھی کہا جاتا ہے، بڑی تعداد میں نظر آتا ہے۔ ساگا ڈیجیٹل

    ساحلی سندھ، جس میں کراچی سے لے کر ٹھٹھہ اور بدین تک کا علاقہ شامل ہے، پرندوں کے لیے ایک الگ دنیا رکھتا ہے۔ یہاں سمندر کے کنارے، کھارے پانی کی جھیلیں اور مینگرووز مل کر ایسے حالات پیدا کرتے ہیں جہاں سی گل، ٹرن، کارمورینٹ اور دیگر سمندری پرندے بڑی تعداد میں پائے جاتے ہیں۔ یہ پرندے زیادہ تر مچھلیوں اور سمندری حیات پر انحصار کرتے ہیں۔

    اس کے بعد سندھ کے ویٹ لینڈز یعنی جھیلوں اور دلدلی علاقوں کی بات آتی ہے، جو اس صوبے کی سب سے بڑی طاقت ہیں۔

    ماہرین کے مطابق سندھ صوبہ صحرا، پہاڑ، سمندر، دریا کے ساتھ آب گاہوں کی بہتات کے باعث ملک کے دیگر صوبوں کی نسبت جنگلی حیات کے حیاتی تنوع کے لحاظ سے ایک امیر خطہ سمجھا جاتا ہے۔ جس کا اندازہ اس سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ رامسر کنونشن کے تحت پاکستان میں عالمی اہمیت رکھنے والی 19 آب گاہوں کو ’رامسر سائٹ‘ قرار دیا گیا ہے، جن میں نو صرف سندھ صوبے میں ہیں۔

    ان میں کینجھر جھیل، ہالیجی جھیل، انڈس ڈیلٹا، انڈس ڈولفن ریزرو، دیہہ اکڑو، ڈرگ جھیل، جبو لگون، نرڑی لگون اور رن آف کچھ شامل ہیں جبکہ رامسر سائیٹ حب ڈیم کا آدھا حصہ سندھ اور آدھا بلوچستان میں ہے۔

    یہ وہ مقامات ہیں جہاں سردیوں کے موسم میں ہزاروں میل دور سے آنے والے پرندے قیام کرتے ہیں۔ یہاں بطخیں، ہنس، کونج، مختلف اقسام کے بگلے، ایگریٹ، ہیرون، پیلیکن اور واڈر پرندے بڑی تعداد میں دیکھے جاتے ہیں۔ سفید بگلا، خاکی بگلا، نیلا بگلا اور رات کو شکار کرنے والا نائٹ ہیرون بھی انہی علاقوں میں پایا جاتا ہے۔

    سندھ کے آب گاہوں میں سفید بگلا، خاکی بگلا، نیلا بگلا اور رات کو شکار کرنے والا نائٹ ہیرون سمیت مختلف پرندے بری تداد میں ملتے ہیں۔ تصویر: ساگا ڈیجیٹل

    پنجاب میں صرف تین، بلوچستان میں پانچ اور خیبر پختونخوا میں دو آب گاہوں کو رامسر سائٹ قرار دیا گیا ہے۔ ایران کے شہر رامسر میں ’کنونشن آن ویٹ لینڈ‘ یعنیٰ آب گاہوں کے تحفظ کا یہ عالمی معاہدہ دو فروری، 1971 کو طے پانے کے بعد 1975 میں نافذ ہوا۔

    اس معاہدے کے تحت ایسی آب گاہیں جہاں کثیر تعداد میں پودوں، پرندوں اور مچھلیوں کی درجنوں اقسام پرورش پاتی ہیں اور یہ آب گاہیں ملکی معیشت میں کردار ادا کرنے کے ساتھ ساتھ لاکھوں افراد کے روزگار کا بھی ذریعہ ہوں تو انہیں رامسر سائٹ قرار دیا جاتا ہے۔

    انڈس فلائے وے زون، جاڑوں میں وسطی ایشیا کی جانب نقل مکانی کرنے والے پرندوں کے راستے میں واقع ہے اور سرد ممالک سے پرندے دو درجن سے زائد ممالک سے ہوتے ہوئے یہاں پہنچتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق جاڑوں میں پاکستان میں موجود کُل پرندوں کا 30 فیصد ان مہمان پرندوں پر مشتمل ہوتا ہے۔

    سندھ کا ریگستانی خطہ، خاص طور پر تھر، بظاہر خاموش اور خشک نظر آتا ہے، مگر یہاں زندگی ایک مختلف انداز میں موجود ہے۔تھر میں موروں کی بڑی تعداد پائی جاتی ہے۔

    پاکستان میں مور سب سے زیادہ سندھ کے تھرپارکر میں پائے جاتے ہیں۔ مستند معلومات کے مطابق تھرپارکر، خصوصاً مٹھی، نگرپارکر اور اسلام کوٹ کے علاقوں کو پاکستان میں موروں کا سب سے بڑا مسکن مانا جاتا ہے۔ بعض سرکاری اور تحقیقی اندازوں کے مطابق صرف اسی خطے میں دسیوں ہزار مور موجود ہیں۔

    نگرپارکر کے قریب واقع کارونجھر کے پہاڑی سلسلے اور اس کے آس پاس کے علاقے بھی موروں کے لیے نہایت موزوں ہیں، جہاں قدرتی ماحول، جھاڑی دار زمین، کھلے میدان اور بارش کے بعد بننے والے پانی کے ذخائر انہیں رہنے اور افزائش کے لیے بہترین حالات فراہم کرتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ مقامی آبادی مور کو نقصان نہیں پہنچاتی بلکہ اسے ایک خوبصورت اور قابل احترام پرندہ سمجھتی ہے، جس کی وجہ سے ان کی تعداد یہاں برقرار رہی ہے۔

    پاکستان کے دیگر حصوں جیسے جنوبی پنجاب یا بلوچستان میں بھی مور پائے جاتے ہیں، لیکن وہاں ان کی تعداد کم ہے اور وہ اس طرح بڑی آبادی میں موجود نہیں جیسے سندھ کے تھرپارکر میں دیکھے جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ تھرپارکر کو پاکستان میں موروں کا سب سے اہم اور قدرتی مرکز سمجھا جاتا ہے۔

    اس کے علاوہ حیاتاتی تنوع کے شاہوکار اس خطے میں نہایت اہم پرندہ تلور یا ہوبارا بسٹرڈ بھی بڑی تعداد میں پایا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ چکور، لوا، ریگستانی چڑیاں، سینڈگروز اور دیگر صحرائی پرندے یہاں پائے جاتے ہیں۔ یہ پرندے سخت گرمی، کم پانی اور کھلے میدانوں کے ماحول میں زندہ رہنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

    رن آف کچھ، جو سندھ اور بھارت کے درمیان واقع ایک نمکین میدان ہے، ایک منفرد ماحولیاتی خطہ ہے۔ بارشوں کے بعد یہ علاقہ پانی سے بھر جاتا ہے اور پرندوں کے لیے جنت بن جاتا ہے۔ یہاں فلیمنگو کے بڑے جھنڈ، پلور، ایوو سیٹ اور دیگر واڈر پرندے بڑی تعداد میں نظر آتے ہیں۔ یہ علاقہ خاص طور پر ان پرندوں کے لیے اہم ہے جو نمکین پانی اور کیچڑ والے میدانوں میں خوراک تلاش کرتے ہیں۔

    سندھ کے میدانی اور زرعی علاقے بھی پرندوں سے خالی نہیں ہیں۔ یہاں عام طور پر نظر آنے والے پرندوں میں چڑیا، کوا، مینا، بلبل، فاختہ، کبوتر اور مختلف شکاری پرندے شامل ہیں۔ چیل، باز اور عقاب جیسے پرندے کھلے میدانوں میں شکار کرتے ہیں۔ سبز طوطا، جسے طوطا یا توتا کہا جاتا ہے، باغات اور درختوں والے علاقوں میں عام ہے۔ ڈرونگو، جسے بعض علاقوں میں بھجنگا کہا جاتا ہے، اپنی جرات اور چالاکی کے لیے مشہور ہے۔

    سندھ سے تعلق رکھنے والا منفرد پرندہ جس کا نام ہی سندھ ہُد ہُد یا Sind woodpecker ہے۔ یہ دریائے سندھ سے متصل میدانوں اور جنگلات، کھیر تھر نیشنل پارک میں پایا جاتا ہے۔ تصویر: یاسر پیچوہو
    سندھ سے تعلق رکھنے والا منفرد پرندہ جس کا نام ہی سندھ ہُد ہُد یا Sind woodpecker ہے۔ یہ دریائے سندھ سے متصل میدانوں اور جنگلات، کھیر تھر نیشنل پارک میں پایا جاتا ہے۔ تصویر: یاسر پیچوہو

    سندھ کے پہاڑی سلسلے، خاص طور پر کیرتھر رینج، ایک اور اہم ماحولیاتی خطہ ہیں۔ یہاں پہاڑی پرندے جیسے چکور، عقاب، باز اور دیگر شکاری پرندے پائے جاتے ہیں۔ یہ علاقے ان پرندوں کے لیے موزوں ہیں جو بلند جگہوں اور چٹانی ماحول میں رہنا پسند کرتے ہیں۔

    پاکستان کے دیگر خطوں کی نسبت سندھ میں پرندوں کی زیادہ تعداد کیو؟

    سب سے پہلی وجہ ماحولیاتی تنوع ہے۔ سندھ میں سمندر، دریا، جھیلیں، صحرا، پہاڑ، رن آف کچھ اور زرعی زمین سب ایک ہی خطے میں موجود ہیں۔ یہ تنوع مختلف اقسام کے پرندوں کو اپنی طرف کھینچتا ہے۔

    دوسری وجہ پانی کی فراوانی ہے۔ سندھ میں پاکستان کے دیگر صوبوں کے مقابلے میں زیادہ مستقل ویٹ لینڈز موجود ہیں، جو پرندوں کے لیے خوراک اور آرام کی جگہ فراہم کرتے ہیں۔

    تیسری وجہ پاکستان میں رام سر سائٹس کی اکثریت کا سندھ میں ہونا ہے۔ یہ وہ بین الاقوامی اہمیت کے حامل علاقے ہیں جہاں پرندوں کی بڑی تعداد آتی ہے۔

    چوتھی وجہ موسم ہے۔ سندھ کا موسم سردیوں میں نسبتاً معتدل ہوتا ہے، جو سرد علاقوں سے آنے والے پرندوں کے لیے موزوں ہے۔

    پانچویں وجہ پرندوں کی نقل مکانی کرنے والے راستوں پر سندھ کی موجودگی ہے۔ دنیا کے مختلف حصوں سے آنے والے پرندے ان راستوں کے ذریعے سندھ پہنچتے ہیں اور یہاں قیام کرتے ہیں۔

    اب اگر پورے پاکستان کی بات کی جائے تو یہ ملک بھی اپنے جغرافیے کی وجہ سے غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ شمال میں ہمالیہ، قراقرم اور ہندوکش کے بلند پہاڑ ہیں جہاں برفانی اور پہاڑی پرندے پائے جاتے ہیں۔ ان میں سنو کاک، مونال، لامرجیئر گدھ اور مختلف اقسام کے عقاب شامل ہیں۔

    پنجاب کے میدانی علاقوں میں زرعی زمین اور دریا پرندوں کے لیے سازگار ماحول فراہم کرتے ہیں۔ یہاں چڑیا، مینا، بلبل، فاختہ، بطخیں اور دیگر عام پرندے پائے جاتے ہیں۔

    خیبر پختونخوا میں جنگلات اور پہاڑی علاقے پرندوں کی ایک الگ دنیا رکھتے ہیں، جبکہ بلوچستان کے وسیع مگر خشک علاقے مخصوص صحرائی اور نیم صحرائی پرندوں کا گھر ہیں۔

    پاکستان میں پائے جانے والے چند نمایاں پرندوں میں مور، چکور، تلور، مصری گدھ، شاہین، عقاب، فلیمنگو، کونج، بطخیں اور مختلف اقسام کے بگلے شامل ہیں۔ سندھ اسپیرو اور سندھ وُڈپیکر جیسے پرندے اس بات کی علامت ہیں کہ یہ خطہ عالمی سطح پر بھی اپنی شناخت رکھتا ہے۔

    ایک کم معروف حقیقت یہ ہے کہ سندھ کے کئی علاقوں میں ایسے پرندے بھی ریکارڈ کیے گئے ہیں جو پاکستان کے دیگر حصوں میں شاذ و نادر ہی نظر آتے ہیں، خاص طور پر ساحلی اور ویٹ لینڈ پرندے۔ اسی

    طرح کچھ پرندے صرف مختصر وقت کے لیے یہاں قیام کرتے ہیں، مگر ان کی موجودگی بھی مجموعی تنوع میں شامل ہوتی ہے۔

    فلیمنگو کے بڑے جھنڈ، جو بعض اوقات ہزاروں کی تعداد میں ہوتے ہیں، سندھ کے ساحلی علاقوں میں ایک حیرت انگیز منظر پیش کرتے ہیں۔ اسی طرح جھیلوں پر اترنے والے ہزاروں بطخوں اور ہنسوں کے غول اس بات کا ثبوت ہیں کہ یہ خطہ پرندوں کے لیے کتنا اہم ہے۔

    اگر ایک جملے میں کہا جائے تو سندھ صرف ایک صوبہ نہیں بلکہ پرندوں کی ایک مکمل دنیا ہے، جہاں ہر موسم، ہر خطہ اور ہر منظر ایک نئی کہانی سناتا ہے۔ یہ وہ جگہ ہے جہاں آسمان صرف خالی نہیں ہوتا بلکہ پرندوں کی پرواز سے بھرا ہوتا ہے، اور یہی اسے پاکستان کا سب سے امیر خطہ بناتا ہے۔

  • ایران، اسرائیل جنگ: ایندھن بحران کے بعد پاکستان حکومت کا سمارٹ لاک ڈاؤن کا اعلان۔ لاک ڈاؤن کا کیا اثر ہوگا؟

    ایران، اسرائیل جنگ: ایندھن بحران کے بعد پاکستان حکومت کا سمارٹ لاک ڈاؤن کا اعلان۔ لاک ڈاؤن کا کیا اثر ہوگا؟

    پاکستان ایک بار پھر ایک غیر معمولی صورتحال سے گزر رہا ہے، مگر اس بار وجہ وبا نہیں بلکہ ایندھن کا بحران ہے۔ وفاقی حکومت نے ملک بھر میں ایک ماہ کے لیے سمارٹ لاک ڈاؤن نافذ کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جس کا مرکز خاص طور پر کراچی جیسے بڑے شہری مراکز بن رہے ہیں، جہاں پیٹرول کی کھپت سب سے زیادہ ہے۔

    حکومتی ذرائع کے مطابق ایران میں جاری کشیدگی اور خطے میں جنگی صورتحال نے عالمی منڈی میں تیل کی ترسیل کو متاثر کیا ہے، جس کے اثرات براہ راست پاکستان جیسے درآمدی ایندھن پر انحصار کرنے والے ممالک پر پڑے ہیں۔ ایک کم معروف حقیقت یہ ہے کہ پاکستان اپنی مجموعی پیٹرولیم ضروریات کا تقریباً 85 فیصد درآمد کرتا ہے، جس کے باعث عالمی سطح پر معمولی اتار چڑھاؤ بھی مقامی بحران کو جنم دے سکتا ہے۔

    اسی پس منظر میں حکومت نے غیر ضروری نقل و حرکت کو محدود کرنے کے لیے سخت اقدامات کیے ہیں۔ حکام نے واضح کیا ہے کہ بلا ضرورت گھروں سے نکلنے والوں کو حراست میں لیا جا سکتا ہے، جبکہ ان کی گاڑیاں بھی ضبط کی جا سکتی ہیں۔ کراچی میں مختلف علاقوں میں دکانوں کے اوقات کار محدود کیے جا رہے ہیں اور بعض مارکیٹوں کو مکمل طور پر بند رکھنے کی ہدایت دی گئی ہے۔

    تعلیمی اداروں کی عارضی بندش بھی اس پالیسی کا حصہ ہے، تاہم آن لائن تعلیم کو جاری رکھنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ پاکستان میں آن لائن تعلیم کا انفراسٹرکچر کووڈ 19 کے دوران تیزی سے ترقی پایا، جسے اب ایک بار پھر ہنگامی صورتحال میں استعمال کیا جا رہا ہے۔

    سندھ حکومت نے بھی ایندھن کی بچت کے لیے سرکاری دفاتر بند رکھنے اور جمعہ کے دن تعطیل کا اعلان کیا ہے، جو ماضی میں توانائی بحران کے دوران بھی ایک آزمودہ حکمت عملی رہی ہے۔ ٹرانسپورٹ سیکٹر میں بھی محدود سروسز چلانے کی تجویز زیر غور ہے تاکہ پیٹرول کی کھپت کو کم سے کم کیا جا سکے۔

    ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر یہ اقدامات بروقت اور مؤثر انداز میں نافذ کیے گئے تو نہ صرف ایندھن کی بچت ممکن ہوگی بلکہ سپلائی چین پر دباؤ بھی کم کیا جا سکے گا۔ تاہم یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ ایسے فیصلے معاشی سرگرمیوں کو سست کر دیتے ہیں، جس کا اثر روزمرہ اجرت پر کام کرنے والے افراد پر سب سے زیادہ پڑتا ہے۔

    شہریوں کا ردعمل ملا جلا ہے۔ کچھ اسے ناگزیر قدم قرار دے رہے ہیں، جبکہ دیگر تعلیمی اداروں کی بندش اور کاروباری سرگرمیوں میں کمی پر تشویش کا اظہار کر رہے ہیں۔ اس تمام صورتحال میں ایک سوال ابھرتا ہے: کیا یہ عارضی پابندیاں طویل المدتی توانائی پالیسی کی ضرورت کو اجاگر کر رہی ہیں، یا یہ محض ایک اور ہنگامی حل ہے جو وقت کے ساتھ ختم ہو جائے گا؟

  • جب آسمان پر بنتی ہیں قطاریں، لمبی مسافت، بقا کی جدوجہد اور وفاداری کی علامت، کونج کی صدیوں پرانی پرواز کی کہانی

    جب آسمان پر بنتی ہیں قطاریں، لمبی مسافت، بقا کی جدوجہد اور وفاداری کی علامت، کونج کی صدیوں پرانی پرواز کی کہانی

    آسمان پر ایک خاموش قافلہ نمودار ہوتا ہے۔ دور افق سے ابھرتی باریک قطاریں، ترتیب میں بندھی، بغیر کسی شور کے آگے بڑھتی ہوئی۔ یہ ہیں ڈیموئیزل کرینز، جنہیں سندھ میں پیار سے ‘کونج’ کہا جاتا ہے۔ ان کی پرواز صرف ایک ہجرت نہیں، بلکہ ہزاروں سال پرانی ایک روایت ہے، جو ہر سردی میں دہرائی جاتی ہے۔

    یہ کونج پرندے وسطی ایشیا کے سرد علاقوں، منگولیا، قازقستان اور روس کے وسیع میدانوں سے سفر شروع کرتے ہیں۔ ہزاروں کلومیٹر کا یہ سفر دنیا کے مشکل ترین فضائی راستوں میں شمار ہوتا ہے۔ حیرت انگیز طور پر یہ پرندے ہمالیہ کے اوپر سے گزرتے ہیں، جہاں ہوا میں آکسیجن کی مقدار نہایت کم ہوتی ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ پرندے تقریباً 16 ہزار فٹ یا اس سے بھی زیادہ بلندی پر پرواز کر سکتے ہیں، اور اپنی مخصوص V شکل کی ترتیب میں اڑتے ہوئے توانائی بچاتے ہیں۔ یہ ترتیب صرف خوبصورتی نہیں بلکہ سائنسی حکمت عملی ہے، جس سے پیچھے اڑنے والے پرندوں کو ہوا کی مزاحمت کم محسوس ہوتی ہے۔

    سندھ ان کے لیے محض ایک پڑاؤ نہیں بلکہ ایک محفوظ پناہ گاہ ہے۔ یہاں کا معتدل موسم، دریائے سندھ کا وسیع ڈیلٹا، جھیلیں اور دلدلی علاقے انہیں خوراک، پانی اور آرام فراہم کرتے ہیں۔ خاص طور پر ٹھٹھہ، بدین اور تھرپارکر کے علاقے ان کی آمد کے اہم مراکز ہیں۔ کم لوگ جانتے ہیں کہ کونج اپنی خوراک میں بیج، گھاس، کیڑے اور چھوٹے جاندار شامل کرتی ہیں، اور یوں یہ زمین کی زرخیزی میں خاموش کردار ادا کرتی ہیں۔

    کونج کی زندگی کا ایک اور پہلو انہیں دیگر پرندوں سے منفرد بناتا ہے۔ یہ پرندے زندگی بھر کے لیے جوڑا بناتے ہیں۔ ان کے درمیان وفاداری کی ایک ایسی مثال ملتی ہے جو قدرت میں کم ہی نظر آتی ہے۔ اگر جوڑے میں سے ایک پرندہ مر جائے تو دوسرا اکثر ساری زندگی تنہا گزار دیتا ہے۔ ان کی باہمی ہم آہنگی نہ صرف زمین پر بلکہ فضا میں بھی نظر آتی ہے، جہاں وہ ایک دوسرے کے ساتھ ہم قدم رہتے ہیں۔

    ایک کم معلوم حقیقت یہ بھی ہے کہ کونج کی ہجرت صدیوں سے انسانی ثقافت کا حصہ رہی ہے۔ مغل دور میں ان پرندوں کے شکار کو شاہی کھیل سمجھا جاتا تھا، مگر آج یہی شکار ان کی بقا کے لیے خطرہ بن چکا ہے۔ ماحولیاتی تبدیلی، آبی ذخائر کی کمی اور مسکن کی تباہی بھی ان کے سفر کو مشکل بنا رہی ہے۔

    یہ خاموش سفر ہمیں یاد دلاتا ہے کہ سندھ صرف ایک خطہ نہیں، بلکہ ایک زندہ راستہ ہے، جہاں سے قدرت کی کہانیاں گزرتی ہیں۔ ہر سال آسمان پر بنتی یہ قطاریں ہمیں زمین اور فضا کے اس رشتے کا احساس دلاتی ہیں، جو نظر تو آتا ہے مگر اکثر سمجھا نہیں جاتا۔ ساگا ڈیجیٹل انہی خاموش کہانیوں کو دریافت کرتا ہے، اور انہیں آپ تک پہنچاتا ہے، تاکہ ہم سب اس قدرتی ورثے کو پہچان سکیں اور اس کی حفاظت کی اہمیت کو سمجھ سکیں۔

     

  • لانگ ریڈ: سندھی صحافت کا ارتقا، ’الوحید‘ سے ‘کاوش’ تک: سندھی صحافت کی جدوجہد کی کہانی

    لانگ ریڈ: سندھی صحافت کا ارتقا، ’الوحید‘ سے ‘کاوش’ تک: سندھی صحافت کی جدوجہد کی کہانی

    برصغیر میں صحافت کی تاریخ بہت قدیم اور متنوع ہے۔ مختلف زبانوں کے اخبارات نے اپنے اپنے علاقوں میں سماجی اور سیاسی شعور پیدا کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ انہی علاقائی صحافتی روایتوں میں سندھی صحافت بھی ایک نمایاں مقام رکھتی ہے۔

    سندھی صحافت کی ابتدا اس وقت ہوئی جب برطانوی حکومت نے 1843 میں سندھ فتح کرنے کے بعد یہاں انتظامی اور تعلیمی اصلاحات متعارف کروائیں۔ اس دور میں سندھی زبان کو باقاعدہ رسم الخط دینے اور اس میں درسی کتابیں تیار کرنے کا عمل بھی شروع ہوا۔ جب طباعت کے وسائل میسر آئے تو سندھی زبان میں رسائل اور اخبارات شائع ہونے لگے، جنہوں نے ایک نئے فکری اور ادبی دور کی بنیاد رکھی۔

    سندھ میں سب سے پہلے کراچی، حیدرآباد اور شکارپور میں چھاپہ خانے قائم ہوئے اور یہی شہر سندھی صحافت کے ابتدائی مراکز بن گئے۔

    اس زمانے میں سندھی اخبارات میں ادبی مضامین، شاعری، تنقید، سماجی مسائل اور تعلیمی موضوعات پر تحریریں شائع ہوتی تھیں۔ بہت سے ادیب اور دانشور صحافت کے میدان میں آئے اور اخبارات کو علمی مباحث کا مرکز بنا دیا۔

    سندھی صحافت کا ابتدائی دور

    انیسویں صدی کے آخر میں سندھی صحافت ترقی کرنے لگی اور کئی نئے اخبارات سامنے آئے۔ یہ زیادہ تر ماہنامہ یا ہفتہ وار رسائل اور اخبارات ہوتے تھے۔ سندھی اخبارات کے ارتقا اور تاریخ پر پی ایچ ڈی کرنے والے مرحوم ڈاکٹر عزیزالرحمان بُگھیو کے مطابق سندھی صحافت کی ابتدا سندھی ہندوؤں نے کی کیونکہ اس زمانے میں وہ زیادہ پڑھے لکھے اور معاشی طور پر خوشحال تھے۔

    سندھی زبان کا سب سے پہلا اخبار ’سندھ سدھار‘ کو سمجھا جاتا ہے جس کا آغاز تقریباً 1866 میں کراچی سے ہوا۔ اس اخبار کے پہلے ایڈیٹر نارائن جگوناتھ وریہ تھے۔ اس کے مدیران میں مرزا صادق علی بیگ اور سادھو ہیرانند بھی شامل تھے۔

    اس دور میں ایک اور سندھی اخبار ’معین الاسلام‘ 1880 سے شائع ہونا شروع ہوا۔ اس کے پہلے مدیر بھی مرزا صادق علی بیگ تھے۔

    1889 سے کراچی سے ایک ہفت روزہ سندھی اخبار ’معاون مجمع‘جاری ہوا، جس نے مسلمانوں میں انگریزی تعلیم کی ضرورت کا احساس اجاگر کرنے اور سیاسی بیداری پیدا کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔

    1895 کے قریب کراچی سے روزنامہ ’آفتاب سندھ‘ اور ہفتہ وار ’پترا‘، سندھی محقق اور ادیب شمس الدین بلبل کی ادارت میں ’آفتاب سندھ‘ پندرہ روزہ ’جوت‘ اور ہفتہ وار ’پربھات‘ بھی شائع ہونا شروع ہوئے۔

    بیسویں صدی کے آغاز میں سندھی صحافت نے سیاسی رنگ اختیار کرنا شروع کیا۔ 1908 سے سندھی کا ایک باقاعدہ روزنامہ ’سندھ واسی‘ کنول سنگ کی ادارت میں شائع ہونا شروع ہوا۔ اسی طرح 1916 سے ’ہندو‘ نامی ہفتہ وار اخبار بھی حیدرآباد سے شائع ہونا شروع ہوا۔ یہ اخبار بعد میں روزنامہ میں تبدیل ہوا اور 1934 سے کراچی سے شائع ہونے لگا۔

    یہ اخبار مہاراج لوکرام نے جاری کیا تھا اور اس کے مدیران میں جیٹھانند، جھمٹ مل، لکھا سنگ اور وشنو نئنارام شامل تھے۔ ’ہندو‘ اخبار حکومت مخالف تصور کیا جاتا تھا۔ 1931 اس اخبار کے لیے مشکل ترین سال تھا، جب اس کے نو ایڈیٹر اور مینیجر گرفتار ہوئے اور جیل گئے۔

    اس دور کا سب سے بااثر اخبار ’الوحید‘ تھا، جو 15 مارچ 1920 سے حیدرآباد سے شیخ عبدالمجید سندھی کی ادارت میں جاری ہوا۔ الوحید کا نام خلافت عثمانیہ کے خلیفہ یا سلطان وحیدالدین کے نام سے منسوب تھا اور اس کا مقصد خلافت تحریک کو سپورٹ کرنا تھا۔ اس اخبار کو شروع کرنے میں شیخ عبدالعزیز، شیخ عبدالمجید سندھی اور سر عبداللہ ہارون کا مرکزی کردار تھا۔ مولانا دین محمد وفائی بھی ادارتی عملے میں شامل ہوئے۔

    ڈاکٹر عزیزالرحمان بُگھیو کے مطابق بعد میں الوحید سندھ کے مسلمانوں کی سیاسی آواز بن گیا اور اس نے خلافت تحریک، تحریک آزادی اور سندھ کو بمبئی پریزیڈنسی سے الگ صوبہ بنانے کی تحریک میں نمایاں کردار ادا کیا۔

    ان اخبارات کے علاوہ ’سنسار سماچار‘، ’آفتاب سندھ‘ اور ’الامین‘ جیسے اخبارات بھی شائع ہوتے رہے، جنہوں نے سماجی، ادبی اور سیاسی موضوعات کو اجاگر کیا۔

    1917 میں سندھ سے کئی نئے اخبارات کا اجرا ہوا۔ روزنامہ ’ہندواسی‘جیٹھ مل پرسرام کی ادارت میں شائع ہونا شروع ہوا، جس نے انگریز حکومت کے خلاف خبریں اور اداریے لکھے۔ یہ اخبار بعد میں ہفتہ وار بنا دیا گیا۔ اسی برس پنڈت ایس طوطارام نے ایک سندھی اخبار ’سندھ سماچار‘اور ایک اور اہم اخبار ’سوراج‘ کے نام سے شکارپور سے جاری ہوئے۔

    1930 کی دہائی میں اخبار ’کاروان‘ کراچی سے اشاعت شروع ہوئی۔ یہ ایک ادبی اور فکری اخبار تھا، جس میں ادب، سیاست اور سماجی مسائل پر تحریریں شائع ہوتی تھیں۔ اسی طرح ایک اور اخبار ’الاسلام‘ بھی شائع ہوتا تھا۔

    تحریک خلافت اور سندھی اخبارات

    تحریکِ خلافت (1919–1924) برصغیر کے مسلمانوں کی ایک اہم سیاسی اور مذہبی تحریک تھی، جس کا مقصد ترکی کی خلافتِ عثمانیہ کا تحفظ تھا۔ پورے برصغیر میں اس تحریک کی قیادت معروف مسلم رہنماؤں مولانا محمد علی جوہر، مولانا شوکت علی، مولانا ابوالکلام آزاد، حکیم اجمل خان اور ڈاکٹر مختار احمد انصاری کر رہے تھے۔

    اس تحریک کو مہاتما گاندھی اور انڈین نیشنل کانگریس کی بھی حمایت حاصل تھی۔ گاندھی نے اس تحریک کو اپنی انگریزوں کے خلاف عدم تعاون تحریک کے ساتھ جوڑ دیا تاکہ ہندو اور مسلمان مل کر برطانوی حکومت کے خلاف جدوجہد کر سکیں۔

    سندھ میں بھی خلافت تحریک کو خاصی پذیرائی ملی اور یہاں کے کئی سیاسی رہنماؤں نے اس میں فعال کردار ادا کیا۔ سندھ میں اس تحریک کی قیادت شیخ عبدالمجید سندھی، سیٹھ عبداللہ ہارون، اللہ بخش سومرو، جی۔ ایم۔ سید، پیر الٰہی بخش، غلام محمد بھرگری اور پیر علی محمد راشدی کر رہے تھے۔

    اس دوران سندھی اخبارات جیسے ’الوحید‘، ’آفتابِ سندھ‘ اور ’الامین‘ نے بھی تحریک کی سرگرمیوں کو نمایاں طور پر شائع کیا اور مسلمانوں کو متحد کرنے اور برطانوی پالیسیوں پر تنقید کرنے میں اہم خدمات انجام دیں۔

    ریشمی رومال تحریک

    ریشمی رومال تحریک برصغیر کی آزادی کی جدوجہد کا ایک اور اہم اور خفیہ باب تھی، جس کا مقصد برطانوی حکومت کے خلاف مسلح بغاوت کی تیاری تھا۔ اس تحریک کا آغاز 1913–1914 کے دوران ہوا اور یہ بنیادی طور پر دارالعلوم دیوبند کے علما نے کیا، جن میں مولانا محمود الحسن، مولانا عبیداللہ سندھی اور مولانا حسین احمد مدنی شامل تھے۔

    تحریک کے دوران خفیہ پیغامات ریشمی رومال پر لکھ کر ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کیے جاتے تھے تاکہ انگریز حکام کو خبر نہ ہو سکے۔

    مولانا عبیداللہ سندھی نے یہاں سے افغانستان اور پھر روس کا سفر کیا تاکہ بیرونی طاقتوں سے تعاون حاصل کیا جا سکے۔ ان کے ساتھ مولانا محمود الحسن (شیخ الہند)، مولوی برکت اللہ اور راجہ مہندر پرتاب جیسے رہنما بھی اس تحریک میں شامل تھے۔

    یہ تحریک کچھ ہی عرصے میں ناکام ہو گئی کیونکہ برطانوی خفیہ اداروں نے ان منصوبوں کا سراغ لگا لیا تھا اور بہت سے کارکن گرفتار کر لیے گئے۔

    سندھی اخبارات نے اس تحریک کو مختلف انداز میں پیش کیا۔ کچھ اخبارات نے برطانوی دباؤ کے تحت اس پر کھل کر بات نہیں کی، لیکن کئی قومی اور مذہبی رجحان رکھنے والے اخبارات نے اس کی حمایت کی اور اسے آزادی کی ایک جرات مندانہ کوشش قرار دیا۔

    اس دور کے نمایاں سندھی اخبارات جیسے ’الوحید‘، ’الامین‘ اور ’ہمدرد سندھ‘ نے اس تحریک کے رہنماؤں کی قربانیوں کو سراہا اور اداریوں میں انگریز حکومت کی پالیسیوں پر تنقید کی گئی۔ اگرچہ سنسرشپ کی وجہ سے تفصیلات محدود رہیں، لیکن اخبارات نے علامتی انداز میں اس تحریک کی اہمیت کو اجاگر کیا اور اسے برصغیر کی آزادی کی جدوجہد کا ایک اہم سنگِ میل قرار دیا۔

    سندھ کی علیحدہ صوبائی حیثیت کی تحریک

    1843 میں برطانوی حکومت نے سندھ کو فتح کرنے کے بعد اسے انتظامی طور پر بمبئی پریزیڈنسی کا حصہ بنا دیا۔ اس انتظامی تبدیلی کے باعث سندھ کے عوام کو کئی سیاسی، معاشی اور انتظامی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

    معاشی طور پر بھی سندھ کو نقصان اٹھانا پڑا کیونکہ صوبے کی آمدنی کا بڑا حصہ بمبئی کی مرکزی انتظامیہ کے پاس جاتا تھا، جبکہ سندھ کی ترقی پر بہت کم خرچ کیا جاتا تھا۔ نتیجتاً تعلیم، صحت، سڑکوں اور دیگر بنیادی سہولیات کی ترقی سست رہی۔ زرعی شعبہ بھی متاثر ہوا کیونکہ آبپاشی کے نظام اور کسانوں کی ضروریات پر مناسب توجہ نہیں دی گئی۔

    اس کے علاوہ سرکاری انتظامیہ میں مقامی لوگوں کی نمائندگی کم ہونے کی وجہ سے سندھ کے عوام میں احساسِ محرومی بڑھتا گیا۔

    ان مسائل کے باعث سندھ کے سیاسی رہنماؤں، دانشوروں اور صحافیوں نے سندھ کو بمبئی پریزیڈنسی سے الگ کر کے ایک علیحدہ صوبہ بنانے کا مطالبہ شروع کیا۔

    سندھ کی علیحدہ صوبائی حیثیت کی تحریک میں سندھی اخبارات نے عوامی رائے ہموار کرنے اور سیاسی شعور بیدار کرنے میں نمایاں کردار ادا کیا۔ سندھی صحافت نے اداریوں، مضامین اور خبروں کے ذریعے یہ مؤقف پیش کیا کہ سندھ کی تاریخی، ثقافتی اور معاشی شناخت کو برقرار رکھنے کے لیے اسے الگ صوبہ بنایا جانا ضروری ہے۔

    قائد اعظم محمد علی جناح کے مشہور 14 نکات میں سے ایک نکتہ سندھ کو بمبئی سے الگ کرنے کا بھی تھا۔ اس تحریک میں سندھ کے کئی اہم سیاسی رہنماؤں نے بھی سرگرم کردار ادا کیا، جن میں شیخ عبدالمجید سندھی، اللہ بخش سومرو، جی۔ ایم۔ سید، سر شاہنواز بھٹو اور سیٹھ عبداللہ ہارون شامل تھے۔

    اس مطالبے کو سندھ میں خاصی اہمیت دی گئی اور اس کی بھرپور حمایت سندھی صحافت نے کی۔ اس دور کے سندھی اخبارات نے اس مسئلے کو مسلسل اپنے اداریوں اور مضامین کا موضوع بنایا۔ خاص طور پر ’الوحید‘ نے سندھ کی علیحدگی کے حق میں مضبوط دلائل پیش کیے اور عوامی رائے کو ہموار کیا۔

    مسلسل صحافتی مہم اور سیاسی جدوجہد کے نتیجے میں بالآخر 1936 میں سندھ کو بمبئی پریزیڈنسی سے الگ کر کے ایک علیحدہ صوبہ بنا دیا گیا۔ اس کامیابی میں سندھی صحافت کی آواز کا بھی اہم کردار تھا۔

    1936 میں برطانوی حکومت نے گورنمنٹ آف انڈیا ایکٹ 1935 کے تحت انتظامی اصلاحات متعارف کروائیں۔ سندھ کو علیحدہ صوبہ بنانے کے بعد یہاں 1937 میں صوبائی انتخابات منعقد ہوئے۔ سندھ کے پہلے پریمیئر سر غلام حسین ہدایت اللہ منتخب ہوئے، جن کا تعلق سندھ یونائیٹڈ پارٹی سے تھا۔ اس وقت سندھ میں کئی دیگر سیاسی پارٹیاں بھی متحرک تھیں، جن میں کانگریس، اتحاد پارٹی اور آل انڈیا مسلم لیگ نمایاں تھیں۔ اس دور میں حکومتیں اکثر بدلتی رہیں کیونکہ اسمبلی میں سیاسی اتحاد اور اختلافات پیدا ہوتے رہے۔ تاہم 1940 کی دہائی میں مسلم لیگ مضبوط ہوتی گئی اور بالآخر قیامِ پاکستان سے پہلے سندھ کی سیاست میں نمایاں مقام حاصل کر لیا۔

    سندھ میں سیاسی اختلافات کے باعث سر غلام حسین ہدایت اللہ کی حکومت زیادہ عرصہ قائم نہ رہ سکی۔ ان کے بعد 1938 میں اللہ بخش سومرو پریمیئر بنے، جن کا تعلق ابتدا میں سندھ یونائیٹڈ پارٹی سے تھا، لیکن بعد میں انہوں نے اتحاد پارٹی قائم کی اور اسی جماعت کی طرف سے حکومت چلائی۔

    1940 میں پھر حکومت تبدیل ہوئی اور میر بندے علی خان ٹالپر سندھ کے پریمیئر بنے، جنہیں آل انڈیا مسلم لیگ کی حمایت حاصل تھی۔ اس کے بعد 1941 میں اللہ بخش سومرو دوسری مرتبہ سندھ کے پریمیئر بنے اور انہوں نے 1942 تک حکومت چلائی۔

    بعد ازاں 1942 میں ایک مرتبہ پھر سر غلام حسین ہدایت اللہ سندھ کے پریمیئر بنے جن کا تعلق آل انڈیا مسلم لیگ سے تھا۔ انہوں نے قیامِ پاکستان تک سندھ کی حکومت کی قیادت کی۔

    1937 میں قائم سندھ صوبائی اسمبلی کی مدت پانچ سال مقرر کی گئی تھی اور نئے انتخابات 1942 میں ہو جانے چاہئیں تھے، لیکن اس دوران عالمی حالات بدل گئے۔ 1939 میں دوسری جنگِ عظیم شروع ہو گئی، اس لیے انتخابات وقت پر نہ ہو سکے۔ اس طرح سندھ سمیت برصغیر کے دیگر صوبوں میں بھی اسمبلیاں اپنی مقررہ مدت سے زیادہ عرصے تک قائم رہیں۔

    جنگ کے خاتمے کے بعد جب سیاسی حالات نسبتاً بہتر ہوئے تو برطانوی حکومت نے دوبارہ انتخابات کروانے کا فیصلہ کیا۔ چنانچہ 1946 میں پورے برصغیر میں صوبائی انتخابات منعقد ہوئے۔ سندھ میں بھی اسی سال انتخابات ہوئے، جن میں آل انڈیا مسلم لیگ نے اکثریت حاصل کی۔

    حر تحریک اور سندھی پریس کا کردار

    اللہ بخش سومرو کے دورِ حکومت میں سندھ میں پیر پگاڑا کی قیادت میں حر تحریک نے زور پکڑ لیا۔ یہ تحریک برطانوی حکومت کے خلاف مزاحمت کر رہی تھی۔ برطانوی حکومت نے مارچ 1942 میں سندھ میں مارشل لا نافذ کر کے ’حر ایکٹ‘ لاگو کیا، جس کے تحت بے شمار بستیاں جلا دی گئیں اور حروں کو گرفتار کر کے حراستی کیمپوں میں منتقل کیا گیا۔ بعض علاقوں میں فوجی کارروائیاں بھی کی گئیں۔

    بعد میں برطانوی حکومت نے پیر پگاڑا صبغت اللہ شاہ راشدی کو گرفتار کر کے 1943 میں پھانسی دے دی۔ یہ واقعہ سندھ کی سیاسی تاریخ کا ایک اہم باب سمجھا جاتا ہے۔

    اگرچہ برطانوی حکومت نے سندھ میں حر تحریک کے دوران اخبارات پر سخت سنسرشپ عائد کر رکھی تھی، پھر بھی سندھی پریس نے مختلف طریقوں سے اس تحریک کے حالات، حکومتی کارروائیوں اور عوامی ردعمل کو اجاگر کیا۔ اخبارات میں حروں کی سرگرمیوں، پولیس اور فوجی کارروائیوں، گرفتاریوں اور مختلف علاقوں میں پیش آنے والے واقعات کی خبریں شائع کی جاتی تھیں۔

    پاکستان کی تحریک آزادی اور سندھی اخبارات کا کردار

    1937 سے قائم سندھ صوبائی اسمبلی نے برصغیر کے مسلمانوں کے لیے ایک علیحدہ ریاست (پاکستان) کے قیام کی حمایت میں 3 مارچ 1943 کو قرارداد منظور کی۔ یہ قرارداد مسلم لیگ کے رہنما جی ایم سید نے پیش کی۔ اس وقت سندھ کے پریمیئر سر غلام حسین ہدایت اللہ تھے۔

    سندھ کے کئی سندھی اخبارات نے اس تاریخی قرارداد کو نمایاں انداز میں شائع کیا اور اس پر اداریے بھی لکھے۔ ان اخبارات میں سب سے نمایاں ’الوحید‘ تھا۔

    تحریک آزادی کے دوران سندھ کے کئی سیاسی رہنماؤں کی سرگرمیوں اور خیالات کو سندھی پریس میں نمایاں طور پر شائع کیا جاتا تھا۔ آل انڈیا مسلم لیگ کے رہنماؤں میں سر شاہنواز بھٹو، پیر علی محمد راشدی، پیر الٰہی بخش، غلام محمد بھرگری، حاجی عبداللہ ہارون اور قاضی محمد اکبر شامل تھے۔

    اسی دوران سندھ سے تعلق رکھنے والے کئی رہنما آل انڈیا کانگریس سے بھی وابستہ تھے۔ ان میں چوئترام گڈوانی، جے رام داس دولت رام، ڈاکٹر ہیمن داس واڈھوانی اور سوامی گووند آنند شامل تھے۔ یہ رہنما عدم تعاون تحریک، سول نافرمانی تحریک اور دیگر سیاسی سرگرمیوں میں حصہ لیتے رہے۔

    ان رہنماؤں کی تقاریر، بیانات اور سیاسی سرگرمیوں کو اس دور کے مختلف سندھی اخبارات میں جگہ دی جاتی تھی۔ کراچی سے شائع ہونے والا اخبار ’ہندو‘، اصلاحی اخبار ’سندھ سدھار‘ اور حیدرآباد سے شائع ہونے والا معروف اخبار ’الوحید‘ ان سرگرمیوں کو نمایاں طور پر شائع کرتے تھے۔

    1945 میں شکارپور سے شائع ہونے والے اخبار ’سوراج‘ کے مقابلے میں سکھر سے آغا بدرالدین نے روزنامہ ’انقلاب‘ جاری کیا، جو 1948 تک شائع ہوتا رہا۔ 5 نومبر 1946 سے حیدرآباد سے روزنامہ ’ہلال پاکستان‘ شائع ہونا شروع ہوا، جس کے پہلے ایڈیٹر عثمان علی انصاری تھے، جبکہ اس کے ایڈیٹوریل بورڈ میں مولانا دین محمد وفائی، لالچند امرڈنومل اور ڈاکٹر ہیرومل سدارنگانی شامل تھے۔

    اس طرح سندھی صحافت نے نہ صرف مقامی سیاست بلکہ آل انڈیا کانگریس سے وابستہ رہنماؤں کی سرگرمیوں کو بھی عوام تک پہنچانے میں اہم کردار ادا کیا اور سندھ میں سیاسی شعور کو مضبوط بنانے میں اہم حصہ ڈالا۔

    قیام پاکستان، ون یونٹ کا نفاذ اور پہلا مارشل لا

    قیامِ پاکستان کے بعد سندھ میں انڈیا کے مختلف علاقوں سے مہاجرین کی بڑی تعداد آ کر آباد ہوئی، جبکہ سندھی ہندوؤں کی ایک بڑی تعداد انڈیا ہجرت کر گئی، جس کے باعث سماجی اور معاشی مسائل پیدا ہوئے۔ سندھی اخبارات نے ان مسائل کو اجاگر کیا اور حکومت کی توجہ اس طرف مبذول کرانے کی کوشش کی۔

    اخبارات میں جھوٹے کلیمز، زمینوں کی تقسیم، روزگار کے مسائل اور شہری آبادی میں اضافے جیسے موضوعات پر مضامین اور خبریں شائع ہوتی تھیں۔

    پاکستان کے قیام کے بعد ملک کے سیاسی ڈھانچے میں کئی تبدیلیاں آئیں۔ انہی تبدیلیوں میں ایک اہم قدم 1955 میں ون یونٹ کا قیام تھا۔ اس منصوبے کے تحت مغربی پاکستان کے تمام صوبوں اور ریاستوں کو ملا کر ایک ہی صوبہ بنا دیا گیا، جسے مغربی پاکستان کہا گیا، جبکہ مشرقی بنگال کو مشرقی پاکستان کے نام سے ایک الگ صوبہ بنایا گیا تھا۔

    اس فیصلے کے نتیجے میں سندھ، پنجاب، سرحد اور بلوچستان کی الگ الگ صوبائی حیثیت ختم ہو گئی۔ سندھ کے عوام اور سیاسی جماعتوں نے اس فیصلے کی شدید مخالفت کی کیونکہ ان کے خیال میں اس سے سندھ کی تاریخی اور سیاسی شناخت متاثر ہوئی۔ اسی وجہ سے سندھ میں ون یونٹ کے خلاف سیاسی اور عوامی تحریکیں شروع ہو گئیں۔

    ون یونٹ کے بعد پاکستان کی سیاسی تاریخ میں ایک اور اہم واقعہ پیش آیا۔ 7 اکتوبر 1958 کو پہلا مارشل لا نافذ کیا گیا، جب جنرل ایوب خان نے سیاسی حکومت کو ہٹا کر اقتدار سنبھال لیا۔

    مارشل لا کے بعد سیاسی جماعتوں پر پابندیاں لگائی گئیں، اسمبلیاں توڑ دی گئیں اور ملک میں فوجی حکومت قائم ہو گئی۔ اس دور میں انتظامی اصلاحات، بیوروکریسی کو مضبوط بنانے اور سیاسی نظام کو نئے انداز سے ترتیب دینے کی کوشش کی گئی۔

    ون یونٹ کے خلاف سندھ میں تحریک جاری تھی کہ مارشل لا بھی نافذ ہو گیا، جس نے سیاسی سرگرمیوں پر مزید پابندیاں عائد کر دیں۔ مختلف سیاسی جماعتوں اور قوم پرست رہنماؤں نے ون یونٹ کے ساتھ ساتھ مارشل لا کے خلاف بھی آواز اٹھائی۔

    اس دور میں بھی سندھی صحافت نے اہم کردار ادا کیا، مگر ون یونٹ کے نفاذ کے بعد حکومتی سختیوں کے باعث ’الوحید‘ جیسے اخبارات پر پابندیاں عائد کی گئیں۔

    اس دوران سندھ کے طلبا نے بھی ون یونٹ کے خلاف تحریک شروع کی۔ مختلف شہروں میں جلسے جلوس نکالے اور صوبائی خودمختاری کے حق میں آواز بلند کی۔

    چار  مارچ 1967 کو حیدرآباد میں طلبا نے ایک بڑا جلوس نکالا۔ یہ جلوس پرامن تھا، لیکن جب طلبا آگے بڑھے تو پولیس نے انہیں روکنے کی کوشش کی۔ اس دوران پولیس اور طلبا کے درمیان جھڑپیں ہوئیں اور پولیس نے لاٹھی چارج اور آنسو گیس کا استعمال کیا۔ اس واقعے میں کئی طلبا زخمی ہوئے اور کچھ کو گرفتار بھی کیا گیا۔ اس دن کے بعد یہ تحریک مزید شدت اختیار کر گئی اور سندھ کے مختلف شہروں میں پھیل گئی۔

    چار مارچ کا دن بعد میں سندھ میں طلبا کی مزاحمت اور صوبائی حقوق کی جدوجہد کی علامت بن گیا۔ آج بھی سندھ میں اس دن کو یاد کیا جاتا ہے اور اسے طلبا کی جدوجہد کے ایک اہم باب کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔

    اس زمانے میں سندھی پریس نے ان سیاسی اور عوامی تحریکوں کو نمایاں طور پر شائع کیا۔ سندھی اخبارات نے ون یونٹ کے اثرات، عوامی ردعمل اور سیاسی رہنماؤں کے بیانات کو اپنی خبروں اور اداریوں میں شامل کیا۔

    اس دور کے اہم سندھی اخبارات میں ’عبرت‘، ’ہلالِ پاکستان‘ اور دیگر اخبارات شامل تھے۔ ان اخبارات نے نہ صرف احتجاجی مظاہروں اور جلسوں کی خبریں شائع کیں بلکہ اداریوں میں ون یونٹ کے سیاسی اور معاشرتی اثرات پر بھی بحث کی۔

    تاہم اس دور میں مارشل لا کی وجہ سے پریس کو مکمل آزادی حاصل نہیں تھی۔ حکومت کی طرف سے بعض اوقات اخبارات پر دباؤ ڈالا جاتا تھا اور کچھ خبروں کی اشاعت میں احتیاط برتنی پڑتی تھی۔

    بالآخر مسلسل سیاسی جدوجہد اور عوامی دباؤ کے نتیجے میں 1970 میں ون یونٹ کا خاتمہ کر دیا گیا اور سندھ سمیت دیگر صوبوں کی الگ صوبائی حیثیت بحال کر دی گئی۔ اس پورے دور میں سندھی پریس نے سندھ کے عوام کے جذبات، مطالبات اور سیاسی تحریکوں کو اجاگر کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔

    یہی وجہ ہے کہ ون یونٹ کے دور کی تاریخ کو سمجھنے کے لیے اس زمانے کے سندھی اخبارات ایک اہم تاریخی ماخذ سمجھے جاتے ہیں۔

    ذوالفقار علی بھٹو کا جمہوری دور اور فوجی آمر ضیاء الحق کا مارشل لا

    1971 میں پاکستان میں عام انتخابات منعقد ہوئے، جو ملکی تاریخ کا ایک اہم موڑ ثابت ہوئے۔ ان انتخابات کے بعد مشرقی پاکستان الگ ہو کر بنگلہ دیش بن گیا اور باقی ماندہ پاکستان میں ذوالفقار علی بھٹو کی قیادت میں پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت قائم ہوئی۔

    اس دور میں ملک میں سیاسی، سماجی اور آئینی تبدیلیاں آئیں۔ 1973 کا متفقہ آئین منظور ہوا اور کئی اصلاحات کی گئیں، جن میں نجی صنعتی و تجارتی اداروں کو قومی ملکیت میں لینا سب سے نمایاں تھا۔

    بھٹو دور (1971–1977) میں سندھی میڈیا نے عوامی مسائل، جمہوریت، مزدوروں کے حقوق اور صوبائی خودمختاری جیسے موضوعات کو بھرپور انداز میں اجاگر کیا۔ اس زمانے میں اخبارات کو نسبتاً زیادہ آزادی ملی، جس کے باعث صحافت میں ترقی ہوئی۔

    سندھی اخبارات نے حکومت کی پالیسیوں، اصلاحات اور عوامی ردعمل کو نمایاں طور پر شائع کیا۔ لیبر پالیسی، زرعی اصلاحات، صنعتوں کی نیشنلائزیشن اور تعلیم کے فروغ جیسے اقدامات پر اخبارات میں بحث ہوتی رہی۔

    اس دور میں کئی نئے سندھی اخبارات بھی سامنے آئے یا پہلے سے موجود اخبارات نے زیادہ مؤثر انداز میں کام کرنا شروع کیا۔ ان میں ’عبرت‘، ’ہلالِ پاکستان‘، ’مہران‘، ’نوائے سندھ‘ اور ’کاروان‘ جیسے اخبارات شامل تھے۔

    روزنامہ ’عبرت‘، جو 1958 سے حیدرآباد سے شائع ہو رہا تھا، خاص طور پر اس دور میں ایک مقبول اور مؤثر اخبار بن کر ابھرا، جس نے سندھ کے عوامی مسائل اور سیاسی حالات کو بھرپور انداز میں پیش کیا۔

    سندھی پریس نے اس دور میں نہ صرف حکومتی اقدامات کی حمایت کی بلکہ جہاں ضرورت پڑی تنقید بھی کی۔ اخبارات میں اداریے، کالم اور تجزیے شائع ہوتے تھے، جن میں سیاسی شعور پیدا کرنے کی کوشش کی جاتی تھی۔

    ایم آر ڈی تحریک اور سندھی اخبارات کا کردار

    تحریکِ بحالیٔ جمہوریت (ایم آر ڈی) 1981 میں جنرل ضیاء الحق کی فوجی حکومت کے خلاف شروع کی گئی ایک اہم سیاسی تحریک تھی، جس کا مقصد مارشل لا کا خاتمہ اور ملک میں جمہوری نظام کی بحالی تھا۔ اس تحریک میں مختلف سیاسی جماعتوں نے حصہ لیا، جن میں پاکستان پیپلز پارٹی اور عوامی نیشنل پارٹی نمایاں تھیں۔ خاص طور پر سندھ میں یہ تحریک شدت اختیار کر گئی، جہاں عوامی مظاہرے، ہڑتالیں اور جلوس روزمرہ کا حصہ بن گئے۔

    مارشل لا حکومت نے اس تحریک کو دبانے کے لیے سخت اقدامات کیے۔ ہزاروں کارکنان کو گرفتار کیا گیا، جلوسوں پر گولیاں چلائی گئیں جس سے سینکڑوں ہلاکتیں ہوئیں۔ سیاسی کارکنوں اور صحافیوں کو کوڑوں اور قید کی سزائیں دی گئیں اور میڈیا پر بھی پابندیاں عائد کی گئیں۔ اس کے باوجود عوام نے جمہوریت کے حق میں آواز بلند کی۔

    سخت سنسرشپ اور حکومتی دباؤ کے باوجود کئی سندھی اخبارات نے عوامی مزاحمت، احتجاجی مظاہروں اور گرفتاریوں کو نمایاں طور پر رپورٹ کیا۔ ان اخبارات نے ریاستی جبر، کوڑوں کی سزاؤں اور سیاسی کارکنوں پر ہونے والے مظالم کو اجاگر کیا، جس سے سندھ کے عوام میں شعور اور مزاحمت کا جذبہ بڑھا۔

    اس دور کے نمایاں سندھی اخبارات ’عبرت‘، ’ہلال پاکستان‘، ’مہران‘، ’سندھ نیوز‘ اور ’آفتاب‘ نے اپنے اداریوں میں آمریت پر تنقید، جمہوریت کی اہمیت اور بنیادی انسانی حقوق کی بحالی پر زور دیا۔ اگرچہ کئی اخبارات کو بندشوں، جرمانوں اور دھمکیوں کا سامنا بھی کرنا پڑا، لیکن انہوں نے اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داری جاری رکھی۔

    ان کی رپورٹنگ نے نہ صرف مقامی بلکہ قومی سطح پر ایم آر ڈی کی تحریک کو زندہ رکھا اور عوامی حمایت کو تقویت دی۔ سندھی صحافت نے اس دور میں حق گوئی اور جرات کی ایک روشن مثال قائم کی۔

    جمہوریت کی بحالی اور صحافت کے نئے دور کا آغاز

    1988 میں جنرل ضیاء الحق کی فضائی حادثے میں ہلاکت کے بعد ملک میں انتخابات ہوئے اور بے نظیر بھٹو کی قیادت میں جمہوری حکومت قائم ہوئی۔ ان کے مختصر دور میں صحافت کو پہلے کی نسبت زیادہ آزادی ملی۔ اخبارات کو اپنی رائے کے اظہار کے بہتر مواقع ملے اور سیاسی مباحثے میں وسعت پیدا ہوئی۔

    اسی دور میں سندھی صحافت میں نئے اخبارات سامنے آئے اور سندھی صحافت کے انداز میں بھی نمایاں تبدیلی آئی۔ 1989 میں کراچی سے دائیں بازو کے کچھ کارکنوں نے مل کر روزنامہ ’عوامی آواز‘ کا اجرا کیا۔ یہ سندھی زبان کا پہلا مکمل کمپیوٹرائزڈ اخبار تھا، جس نے سندھی صحافت میں جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کی بنیاد رکھی۔ بعد میں دیگر سندھی اخبارات نے بھی اس طریقہ کار کو اپنایا۔

    ’عوامی آواز‘ نے اپنے آغاز کے بعد کئی ایسے موضوعات کو نمایاں شائع کیا جن پر پہلے سندھی صحافت میں کم توجہ دی جاتی تھی۔ عوامی آواز کے پہلے ایڈیٹر سہیل سانگی کے مطابق اخبار نے صرف خبروں تک محدود رہنے کے بجائے معاشرتی مسائل پر باقاعدہ مہمات بھی چلائیں۔ اس کے علاوہ اخبار میں مزدوروں، خواتین، بچوں اور سماجی تنظیموں کے لیے الگ ہفتہ وار یا پندرہ روزہ صفحات بھی شائع کیے جانے لگے، جس سے مختلف طبقوں کے مسائل کو زیادہ تفصیل سے پیش کیا جانے لگا۔

    اس کے اگلے ہی سال، یعنی 1990 میں ایک اور سندھی اخبار ’کاوش‘ کا حیدرآباد سے اجرا ہوا۔ یہ بھی کمپیوٹرائزڈ اخبار تھا، مگر یہ جلد ہی اپنی ساکھ قائم کرنے میں کامیاب ہو گیا کیونکہ اس کی قیمت بھی کم تھی، عوام کے بنیادی مسائل پر کھل کر لکھا اور یہ پہلی مرتبہ رنگین چھپتا تھا۔

    اس دور میں روزنامہ ’جاگو‘، ’برسات‘، ’سندھ‘ اور ’پکار‘ جیسے اخبارات بھی سامنے آئے۔ ان اخبارات نے نہ صرف سیاسی خبروں بلکہ سماجی اور ثقافتی موضوعات کو بھی جگہ دی۔ اس طرح سندھی صحافت کا دائرہ مزید وسیع ہوتا گیا اور عوامی مسائل زیادہ مؤثر انداز میں سامنے آنے لگے۔

    جام صادق علی کا سیاہ دور اور سندھی اخبارات

    بینظیر بھٹو کی حکومت کے خاتمے کے بعد 1990 کے عام انتخابات کے نتیجے میں وفاق میں وزیر اعظم نواز شریف کی سربراہی میں اسلامی جمہوری اتحاد (آئی جے آئی) کی حکومت قائم ہوئی، جس نے نہ صرف پیپلز پارٹی حکومت کے کئی اہم فیصلے معطل کیے بلکہ میڈیا پر بھی مختلف پابندیاں عائد کیں۔

    سندھ میں بھی آئی جے آئی نے مہاجر قومی موومنٹ کے ساتھ مل کر حکومت قائم کی، جس کی سربراہی پیپلز پارٹی کے سابق رہنما جام صادق علی کو سونپی گئی۔

    جام صادق علی کا دور سندھ کے سیاہ ترین ادوار میں شمار کیا جاتا ہے، جس میں سیاسی انتقام، اپوزیشن کو دبانے اور اخبارات و رسائل پر پابندیاں لگانے کے اقدامات کیے گئے۔

    سندھی اخبارات نے اس دور میں حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا، تاہم اس کام میں انہیں مختلف دباؤ کا سامنا بھی کرنا پڑا۔ سہیل سانگی کے مطابق اس زمانے میں صحافت کرنا آسان نہیں تھا کیونکہ حکومت اور بااثر حلقوں کی طرف سے مسلسل دباؤ رہتا تھا۔

    انہوں نے بتایا کہ جب جام صادق علی وزیر اعلیٰ بنے تو بعض سرکاری حلقوں کی طرف سے سندھی اخبارات کو ہدایت دی گئی کہ بے نظیر بھٹو سے متعلق خبریں شائع نہ کی جائیں۔ اس کے علاوہ بعض اخبارات کے سرکاری اشتہارات بھی بند کر دیے گئے تاکہ انہیں مالی مشکلات کا سامنا کرنا پڑے۔

    اس دور میں سندھی اخبارات کے مدیران نے باہمی تعاون کی ایک نئی روایت قائم کی۔ مختلف اخبارات کے مدیران نے مل کر ’سندھی نیوز پیپر ایڈیٹرز کونسل‘ قائم کی۔ اس کونسل کے ذریعے اہم قومی اور صوبائی مسائل پر مشترکہ اداریے لکھے جاتے تھے۔

    ان اداریوں میں جمہوری نظام کی مضبوطی، صوبائی خودمختاری، انسانی حقوق اور عوامی مفادات کے تحفظ پر زور دیا جاتا تھا۔ یہ روایت سندھی صحافت میں اتحاد اور پیشہ ورانہ یکجہتی کی مثال تھی۔

    ان مشترکہ اداریوں کو اکثر سینئر صحافی فقیر محمد لاشاری، سہیل سانگی اور علی قاضی تحریر کرتے تھے، جبکہ بعد میں دیگر سندھی اخبارات بھی اس میں شامل ہونے لگے۔

    اس کے علاوہ ان اخبارات نے اپنے اداریاتی صفحات پر سندھی زبان کے معروف ادیبوں اور دانشوروں کے کالم بھی شائع کرنا شروع کیے۔ ان لکھاریوں میں سراج میمن، سلیمان شیخ، یوسف شاہین، بدر ابڑو اور انور پیرزادو جیسے نمایاں نام شامل تھے۔ ان دانشوروں کے کالموں نے سندھی صحافت کو فکری اور ادبی طور پر مزید مضبوط بنایا۔

    سہیل سانگی کے مطابق اخبارات کے درمیان تعاون کا یہ عالم تھا کہ ایک دوسرے کے ادارتی ڈیسک تک بھی رسائی ہوتی تھی۔ وہ نہ صرف اداریے شیئر کرتے تھے بلکہ اہم رپورٹس اور معلومات بھی ایک دوسرے کے ساتھ تبادلہ کرتے تھے۔ اس تعاون نے سندھی صحافت کو مزید مضبوط اور بااثر بنا دیا۔

    ٹنڈو بہاول واقعہ اور سندھی اخبارات

    ٹنڈو بہاول کا واقعہ جام صادق علی کی وفات کے کچھ عرصے بعد 5 جون 1992 کو پیش آیا۔ حیدرآباد کے قریب واقع گاؤں ٹنڈو بہاول پر پاکستان آرمی کے ایک دستے نے چھاپہ مارا اور نو دیہاتیوں کو اغوا کرنے کے بعد دریائے سندھ کے کنارے لے جا کر گولی مار کر قتل کر دیا۔

    ابتدائی طور پر سرکاری مؤقف یہ پیش کیا گیا کہ مارے جانے والے افراد دراصل بھارتی ایجنٹ اور دہشت گرد تھے اور انہیں ایک کارروائی کے دوران ہلاک کیا گیا۔ تاہم بعد میں صحافیوں اور خصوصاً سندھی اخبارات کی تحقیقاتی رپورٹنگ سے یہ بات سامنے آئی کہ مقتولین عام کسان اور زرعی مزدور تھے اور ان کا کسی مجرمانہ سرگرمی سے کوئی تعلق نہیں تھا۔

    اخباری رپورٹس کے مطابق ایک باوردی میجر نے انہیں سازش کے تحت قتل کر کے زمینوں پر قبضہ کرنے کی کوشش کی تھی۔

    اس واقعے نے پورے صوبے میں شدید ردعمل پیدا کیا۔ متاثرہ خاندانوں، خصوصاً مائی جندو کی طویل جدوجہد اور میڈیا کی مسلسل رپورٹنگ کے نتیجے میں اصل حقیقت سامنے آئی۔ پہلی بار اس واقعے کی سرکاری تردید سندھ اسمبلی کے فلور پر اس وقت کے وزیر اعلیٰ سید مظفر حسین شاہ نے کی اور مرنے والوں کو بے گناہ قرار دیا۔ بعد ازاں فوجی عدالت میں مقدمہ چلا اور اس کارروائی کی قیادت کرنے والے افسر میجر ارشد جمیل کو سزائے موت دی گئی۔ 1996 میں انہیں پھانسی پر لٹکایا گیا۔

    آج کے دور کے اخبارات

    سابق فوجی آمر پرویز مشرف (1999-2008) کے دور میں ملک میں کئی الیکٹرونک میڈیا کے ٹی وی اور ایف ایم ریڈیو چینلز کو لائسنس جاری کیے گئے۔ سندھی اخبارات کے مالکان نے بھی سندھی زبان کے چینلز کے لیے لائسنس حاصل کیے۔

    کاوش اخبار کے مالکان نے کاوش ٹی وی نیٹ ورک (کے ٹی این) کے نام سے پہلا چینل حاصل کیا۔ اس کے بعد کے ٹی این نیوز الگ، کے ٹی این انٹرٹینمینٹ اور کشش کے نام سے ٹی وی چینلز بھی کھولے گئے۔ اس طرح سندھ ٹی وی، مہران، آواز اور دھرتی چینلز نے بھی کام شروع کیا۔

    آج کے ڈیجیٹل دور میں اگرچہ میڈیا کے ذرائع تبدیل ہو چکے ہیں، الیکٹرونک میڈیا کے ساتھ ساتھ سوشل میڈیا بھی پاپولر ہو گیا ہے، مگر سندھی اخبارات کی اہمیت اب بھی برقرار ہے۔ آج بھی سندھ کے دیہی علاقوں میں لوگ اخبارات پڑھتے ہیں۔

    عبرت، عوامی آواز، کاوش، سندھ ایکسپریس، ہلال پاکستان، سوبھ، مہران، پکار اور پہنجی اخبار نمایاں ہیں اور یہ سلسلہ جاری رہے گا۔ یہ اخبارات نہ صرف سندھ کی ثقافتی شناخت کو محفوظ رکھتی ہیں بلکہ جمہوری اقدار کے فروغ میں بھی اپنا کردار ادا کر رہی ہیں۔ نئی نسل کے صحافی جدید ٹیکنالوجی کے ساتھ روایتی صحافتی اصولوں کو بھی آگے بڑھا رہے ہیں۔