سوشل میڈیا پر ان دنوں ایک نوٹیفیکیشن بہت تیزی سے وائرل ہو رہا ہے۔ اس میں دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ سندھ کی آٹھ اہم سڑکوں کو ڈبل کیرج وے بنانے کی منظوری دے دی گئی ہے۔ اسی خبر پر بہت سے لوگ خوشی کا اظہار کر رہے ہیں، سندھ حکومت کو مبارکباد دے رہے ہیں اور امید ظاہر کر رہے ہیں کہ ان سڑکوں کی تعمیر سے عوام کو درپیش مشکلات کم ہو جائیں گی۔
لیکن سوال یہ ہے کہ اس نوٹیفیکیشن کی اصل حقیقت کیا ہے؟
حقیقت دراصل اس سے کچھ مختلف ہے۔
محکمہ ورکس اینڈ سروسز نے ابھی صرف اپنے متعلقہ اداروں سے مختلف منصوبوں کے لیے پروپوزلز، یعنی تجاویز، طلب کیے ہیں۔ یعنی ابھی صرف یہ کہا گیا ہے کہ ممکنہ منصوبوں کی نشاندہی کی جائے اور ان کے بارے میں تفصیلی تجاویز تیار کی جائیں۔
ان تجاویز میں ایک اہم منصوبہ کراچی سے سیہون تک نئی سڑک کی تعمیر کا بھی شامل ہے۔ یہ تقریباً 263 کلومیٹر طویل منصوبہ بتایا جا رہا ہے، جو ناردرن بائی پاس کراچی سے شروع ہو کر گورکھ ہِل کے قریب کھیرتھر کے پہاڑی سلسلے سے گزرتا ہوا سیہون تک پہنچے گا۔ یہ منصوبہ کافی عرصے سے زیرِ بحث ہے، لیکن ابھی تک صرف تجویز کی حد تک ہی ہے۔
اسی طرح ٹھٹھہ سے بدین تک سڑک کو ڈبل کیرج وے بنانے کے لیے بھی پروپوزل طلب کیا گیا ہے۔ یہ تقریباً 112 کلومیٹر طویل سڑک ہے جو اپنی خطرناک صورتحال کے باعث بدنام ہے۔ اس روڈ پر آئے روز حادثات پیش آتے ہیں، اسی لیے اس کی ڈبلائزیشن کی تجویز دی گئی ہے۔
ایک اور منصوبہ میرپورخاص سے مٹھی تک سڑک کو دو رویہ بنانے کا ہے۔ یہ سڑک تقریباً 145 کلومیٹر طویل ہے اور یہاں بھی ٹریفک حادثات، خاص طور پر موٹر سائیکل حادثات، عام ہیں۔ اس لیے اس روڈ کی بہتری کو ضروری سمجھا جا رہا ہے۔

اسی طرح دادو، ہِیتام جتوئی پھاٹک سے ڈوکری تک تقریباً 84 کلومیٹر سڑک کو بھی دو رویہ بنانے کی تجویز طلب کی گئی ہے۔
مزید یہ کہ نوابشاہ سے سانگھڑ تک تقریباً 65 کلومیٹر سڑک کو ڈبل کیرج وے بنانے کا پروپوزل بھی مانگا گیا ہے۔
اسی فہرست میں جیکب آباد سے کندھکوٹ تک تقریباً 100 کلومیٹر سڑک کو بھی دو رویہ بنانے کی تجویز شامل ہے۔
یہ تمام سڑکیں واقعی ایسی ہیں جنہیں ڈبل کیرج وے بنانا وقت کی ضرورت سمجھا جاتا ہے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ ابھی تک ان منصوبوں کو منظوری نہیں ملی۔
ماہرین کے مطابق وفاقی ترقیاتی بجٹ میں ان تمام منصوبوں کا شامل ہونا بظاہر مشکل نظر آتا ہے۔ اس کی ایک مثال جامشورو سے سیہون تک سڑک ہے، جسے دو رویہ بنانے کا منصوبہ تقریباً دس سال سے جاری ہے لیکن وہ بھی اب تک مکمل نہیں ہو سکا۔
اسی لیے سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والے نوٹیفیکیشن کو حتمی منظوری سمجھنا درست نہیں۔ یہ صرف ابتدائی مرحلہ ہے جس میں مختلف منصوبوں کے لیے تجاویز طلب کی گئی ہیں۔
باخبر ذرائع کے مطابق ان تمام تجاویز میں سے ممکن ہے کہ وفاق سندھ کے لیے مشکل سے ایک یا دو اسکیموں کو ہی ترقیاتی بجٹ میں شامل کرے۔
لہٰذا عوام کو چاہیے کہ وائرل خبروں کو حتمی فیصلہ نہ سمجھیں، بلکہ اس حقیقت کو جانیں کہ یہ منصوبے ابھی صرف کاغذی ہیں۔










