لانگ ریڈ: سندھی صحافت کا ارتقا، ’الوحید‘ سے ‘کاوش’ تک: سندھی صحافت کی جدوجہد کی کہانی

کاوش

برصغیر میں صحافت کی تاریخ بہت قدیم اور متنوع ہے۔ مختلف زبانوں کے اخبارات نے اپنے اپنے علاقوں میں سماجی اور سیاسی شعور پیدا کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ انہی علاقائی صحافتی روایتوں میں سندھی صحافت بھی ایک نمایاں مقام رکھتی ہے۔

سندھی صحافت کی ابتدا اس وقت ہوئی جب برطانوی حکومت نے 1843 میں سندھ فتح کرنے کے بعد یہاں انتظامی اور تعلیمی اصلاحات متعارف کروائیں۔ اس دور میں سندھی زبان کو باقاعدہ رسم الخط دینے اور اس میں درسی کتابیں تیار کرنے کا عمل بھی شروع ہوا۔ جب طباعت کے وسائل میسر آئے تو سندھی زبان میں رسائل اور اخبارات شائع ہونے لگے، جنہوں نے ایک نئے فکری اور ادبی دور کی بنیاد رکھی۔

سندھ میں سب سے پہلے کراچی، حیدرآباد اور شکارپور میں چھاپہ خانے قائم ہوئے اور یہی شہر سندھی صحافت کے ابتدائی مراکز بن گئے۔

اس زمانے میں سندھی اخبارات میں ادبی مضامین، شاعری، تنقید، سماجی مسائل اور تعلیمی موضوعات پر تحریریں شائع ہوتی تھیں۔ بہت سے ادیب اور دانشور صحافت کے میدان میں آئے اور اخبارات کو علمی مباحث کا مرکز بنا دیا۔

سندھی صحافت کا ابتدائی دور

انیسویں صدی کے آخر میں سندھی صحافت ترقی کرنے لگی اور کئی نئے اخبارات سامنے آئے۔ یہ زیادہ تر ماہنامہ یا ہفتہ وار رسائل اور اخبارات ہوتے تھے۔ سندھی اخبارات کے ارتقا اور تاریخ پر پی ایچ ڈی کرنے والے مرحوم ڈاکٹر عزیزالرحمان بُگھیو کے مطابق سندھی صحافت کی ابتدا سندھی ہندوؤں نے کی کیونکہ اس زمانے میں وہ زیادہ پڑھے لکھے اور معاشی طور پر خوشحال تھے۔

سندھی زبان کا سب سے پہلا اخبار ’سندھ سدھار‘ کو سمجھا جاتا ہے جس کا آغاز تقریباً 1866 میں کراچی سے ہوا۔ اس اخبار کے پہلے ایڈیٹر نارائن جگوناتھ وریہ تھے۔ اس کے مدیران میں مرزا صادق علی بیگ اور سادھو ہیرانند بھی شامل تھے۔

اس دور میں ایک اور سندھی اخبار ’معین الاسلام‘ 1880 سے شائع ہونا شروع ہوا۔ اس کے پہلے مدیر بھی مرزا صادق علی بیگ تھے۔

1889 سے کراچی سے ایک ہفت روزہ سندھی اخبار ’معاون مجمع‘جاری ہوا، جس نے مسلمانوں میں انگریزی تعلیم کی ضرورت کا احساس اجاگر کرنے اور سیاسی بیداری پیدا کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔

1895 کے قریب کراچی سے روزنامہ ’آفتاب سندھ‘ اور ہفتہ وار ’پترا‘، سندھی محقق اور ادیب شمس الدین بلبل کی ادارت میں ’آفتاب سندھ‘ پندرہ روزہ ’جوت‘ اور ہفتہ وار ’پربھات‘ بھی شائع ہونا شروع ہوئے۔

بیسویں صدی کے آغاز میں سندھی صحافت نے سیاسی رنگ اختیار کرنا شروع کیا۔ 1908 سے سندھی کا ایک باقاعدہ روزنامہ ’سندھ واسی‘ کنول سنگ کی ادارت میں شائع ہونا شروع ہوا۔ اسی طرح 1916 سے ’ہندو‘ نامی ہفتہ وار اخبار بھی حیدرآباد سے شائع ہونا شروع ہوا۔ یہ اخبار بعد میں روزنامہ میں تبدیل ہوا اور 1934 سے کراچی سے شائع ہونے لگا۔

یہ اخبار مہاراج لوکرام نے جاری کیا تھا اور اس کے مدیران میں جیٹھانند، جھمٹ مل، لکھا سنگ اور وشنو نئنارام شامل تھے۔ ’ہندو‘ اخبار حکومت مخالف تصور کیا جاتا تھا۔ 1931 اس اخبار کے لیے مشکل ترین سال تھا، جب اس کے نو ایڈیٹر اور مینیجر گرفتار ہوئے اور جیل گئے۔

اس دور کا سب سے بااثر اخبار ’الوحید‘ تھا، جو 15 مارچ 1920 سے حیدرآباد سے شیخ عبدالمجید سندھی کی ادارت میں جاری ہوا۔ الوحید کا نام خلافت عثمانیہ کے خلیفہ یا سلطان وحیدالدین کے نام سے منسوب تھا اور اس کا مقصد خلافت تحریک کو سپورٹ کرنا تھا۔ اس اخبار کو شروع کرنے میں شیخ عبدالعزیز، شیخ عبدالمجید سندھی اور سر عبداللہ ہارون کا مرکزی کردار تھا۔ مولانا دین محمد وفائی بھی ادارتی عملے میں شامل ہوئے۔

ڈاکٹر عزیزالرحمان بُگھیو کے مطابق بعد میں الوحید سندھ کے مسلمانوں کی سیاسی آواز بن گیا اور اس نے خلافت تحریک، تحریک آزادی اور سندھ کو بمبئی پریزیڈنسی سے الگ صوبہ بنانے کی تحریک میں نمایاں کردار ادا کیا۔

ان اخبارات کے علاوہ ’سنسار سماچار‘، ’آفتاب سندھ‘ اور ’الامین‘ جیسے اخبارات بھی شائع ہوتے رہے، جنہوں نے سماجی، ادبی اور سیاسی موضوعات کو اجاگر کیا۔

1917 میں سندھ سے کئی نئے اخبارات کا اجرا ہوا۔ روزنامہ ’ہندواسی‘جیٹھ مل پرسرام کی ادارت میں شائع ہونا شروع ہوا، جس نے انگریز حکومت کے خلاف خبریں اور اداریے لکھے۔ یہ اخبار بعد میں ہفتہ وار بنا دیا گیا۔ اسی برس پنڈت ایس طوطارام نے ایک سندھی اخبار ’سندھ سماچار‘اور ایک اور اہم اخبار ’سوراج‘ کے نام سے شکارپور سے جاری ہوئے۔

1930 کی دہائی میں اخبار ’کاروان‘ کراچی سے اشاعت شروع ہوئی۔ یہ ایک ادبی اور فکری اخبار تھا، جس میں ادب، سیاست اور سماجی مسائل پر تحریریں شائع ہوتی تھیں۔ اسی طرح ایک اور اخبار ’الاسلام‘ بھی شائع ہوتا تھا۔

تحریک خلافت اور سندھی اخبارات

تحریکِ خلافت (1919–1924) برصغیر کے مسلمانوں کی ایک اہم سیاسی اور مذہبی تحریک تھی، جس کا مقصد ترکی کی خلافتِ عثمانیہ کا تحفظ تھا۔ پورے برصغیر میں اس تحریک کی قیادت معروف مسلم رہنماؤں مولانا محمد علی جوہر، مولانا شوکت علی، مولانا ابوالکلام آزاد، حکیم اجمل خان اور ڈاکٹر مختار احمد انصاری کر رہے تھے۔

اس تحریک کو مہاتما گاندھی اور انڈین نیشنل کانگریس کی بھی حمایت حاصل تھی۔ گاندھی نے اس تحریک کو اپنی انگریزوں کے خلاف عدم تعاون تحریک کے ساتھ جوڑ دیا تاکہ ہندو اور مسلمان مل کر برطانوی حکومت کے خلاف جدوجہد کر سکیں۔

سندھ میں بھی خلافت تحریک کو خاصی پذیرائی ملی اور یہاں کے کئی سیاسی رہنماؤں نے اس میں فعال کردار ادا کیا۔ سندھ میں اس تحریک کی قیادت شیخ عبدالمجید سندھی، سیٹھ عبداللہ ہارون، اللہ بخش سومرو، جی۔ ایم۔ سید، پیر الٰہی بخش، غلام محمد بھرگری اور پیر علی محمد راشدی کر رہے تھے۔

اس دوران سندھی اخبارات جیسے ’الوحید‘، ’آفتابِ سندھ‘ اور ’الامین‘ نے بھی تحریک کی سرگرمیوں کو نمایاں طور پر شائع کیا اور مسلمانوں کو متحد کرنے اور برطانوی پالیسیوں پر تنقید کرنے میں اہم خدمات انجام دیں۔

ریشمی رومال تحریک

ریشمی رومال تحریک برصغیر کی آزادی کی جدوجہد کا ایک اور اہم اور خفیہ باب تھی، جس کا مقصد برطانوی حکومت کے خلاف مسلح بغاوت کی تیاری تھا۔ اس تحریک کا آغاز 1913–1914 کے دوران ہوا اور یہ بنیادی طور پر دارالعلوم دیوبند کے علما نے کیا، جن میں مولانا محمود الحسن، مولانا عبیداللہ سندھی اور مولانا حسین احمد مدنی شامل تھے۔

تحریک کے دوران خفیہ پیغامات ریشمی رومال پر لکھ کر ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کیے جاتے تھے تاکہ انگریز حکام کو خبر نہ ہو سکے۔

مولانا عبیداللہ سندھی نے یہاں سے افغانستان اور پھر روس کا سفر کیا تاکہ بیرونی طاقتوں سے تعاون حاصل کیا جا سکے۔ ان کے ساتھ مولانا محمود الحسن (شیخ الہند)، مولوی برکت اللہ اور راجہ مہندر پرتاب جیسے رہنما بھی اس تحریک میں شامل تھے۔

یہ تحریک کچھ ہی عرصے میں ناکام ہو گئی کیونکہ برطانوی خفیہ اداروں نے ان منصوبوں کا سراغ لگا لیا تھا اور بہت سے کارکن گرفتار کر لیے گئے۔

سندھی اخبارات نے اس تحریک کو مختلف انداز میں پیش کیا۔ کچھ اخبارات نے برطانوی دباؤ کے تحت اس پر کھل کر بات نہیں کی، لیکن کئی قومی اور مذہبی رجحان رکھنے والے اخبارات نے اس کی حمایت کی اور اسے آزادی کی ایک جرات مندانہ کوشش قرار دیا۔

اس دور کے نمایاں سندھی اخبارات جیسے ’الوحید‘، ’الامین‘ اور ’ہمدرد سندھ‘ نے اس تحریک کے رہنماؤں کی قربانیوں کو سراہا اور اداریوں میں انگریز حکومت کی پالیسیوں پر تنقید کی گئی۔ اگرچہ سنسرشپ کی وجہ سے تفصیلات محدود رہیں، لیکن اخبارات نے علامتی انداز میں اس تحریک کی اہمیت کو اجاگر کیا اور اسے برصغیر کی آزادی کی جدوجہد کا ایک اہم سنگِ میل قرار دیا۔

سندھ کی علیحدہ صوبائی حیثیت کی تحریک

1843 میں برطانوی حکومت نے سندھ کو فتح کرنے کے بعد اسے انتظامی طور پر بمبئی پریزیڈنسی کا حصہ بنا دیا۔ اس انتظامی تبدیلی کے باعث سندھ کے عوام کو کئی سیاسی، معاشی اور انتظامی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

معاشی طور پر بھی سندھ کو نقصان اٹھانا پڑا کیونکہ صوبے کی آمدنی کا بڑا حصہ بمبئی کی مرکزی انتظامیہ کے پاس جاتا تھا، جبکہ سندھ کی ترقی پر بہت کم خرچ کیا جاتا تھا۔ نتیجتاً تعلیم، صحت، سڑکوں اور دیگر بنیادی سہولیات کی ترقی سست رہی۔ زرعی شعبہ بھی متاثر ہوا کیونکہ آبپاشی کے نظام اور کسانوں کی ضروریات پر مناسب توجہ نہیں دی گئی۔

اس کے علاوہ سرکاری انتظامیہ میں مقامی لوگوں کی نمائندگی کم ہونے کی وجہ سے سندھ کے عوام میں احساسِ محرومی بڑھتا گیا۔

ان مسائل کے باعث سندھ کے سیاسی رہنماؤں، دانشوروں اور صحافیوں نے سندھ کو بمبئی پریزیڈنسی سے الگ کر کے ایک علیحدہ صوبہ بنانے کا مطالبہ شروع کیا۔

سندھ کی علیحدہ صوبائی حیثیت کی تحریک میں سندھی اخبارات نے عوامی رائے ہموار کرنے اور سیاسی شعور بیدار کرنے میں نمایاں کردار ادا کیا۔ سندھی صحافت نے اداریوں، مضامین اور خبروں کے ذریعے یہ مؤقف پیش کیا کہ سندھ کی تاریخی، ثقافتی اور معاشی شناخت کو برقرار رکھنے کے لیے اسے الگ صوبہ بنایا جانا ضروری ہے۔

قائد اعظم محمد علی جناح کے مشہور 14 نکات میں سے ایک نکتہ سندھ کو بمبئی سے الگ کرنے کا بھی تھا۔ اس تحریک میں سندھ کے کئی اہم سیاسی رہنماؤں نے بھی سرگرم کردار ادا کیا، جن میں شیخ عبدالمجید سندھی، اللہ بخش سومرو، جی۔ ایم۔ سید، سر شاہنواز بھٹو اور سیٹھ عبداللہ ہارون شامل تھے۔

اس مطالبے کو سندھ میں خاصی اہمیت دی گئی اور اس کی بھرپور حمایت سندھی صحافت نے کی۔ اس دور کے سندھی اخبارات نے اس مسئلے کو مسلسل اپنے اداریوں اور مضامین کا موضوع بنایا۔ خاص طور پر ’الوحید‘ نے سندھ کی علیحدگی کے حق میں مضبوط دلائل پیش کیے اور عوامی رائے کو ہموار کیا۔

مسلسل صحافتی مہم اور سیاسی جدوجہد کے نتیجے میں بالآخر 1936 میں سندھ کو بمبئی پریزیڈنسی سے الگ کر کے ایک علیحدہ صوبہ بنا دیا گیا۔ اس کامیابی میں سندھی صحافت کی آواز کا بھی اہم کردار تھا۔

1936 میں برطانوی حکومت نے گورنمنٹ آف انڈیا ایکٹ 1935 کے تحت انتظامی اصلاحات متعارف کروائیں۔ سندھ کو علیحدہ صوبہ بنانے کے بعد یہاں 1937 میں صوبائی انتخابات منعقد ہوئے۔ سندھ کے پہلے پریمیئر سر غلام حسین ہدایت اللہ منتخب ہوئے، جن کا تعلق سندھ یونائیٹڈ پارٹی سے تھا۔ اس وقت سندھ میں کئی دیگر سیاسی پارٹیاں بھی متحرک تھیں، جن میں کانگریس، اتحاد پارٹی اور آل انڈیا مسلم لیگ نمایاں تھیں۔ اس دور میں حکومتیں اکثر بدلتی رہیں کیونکہ اسمبلی میں سیاسی اتحاد اور اختلافات پیدا ہوتے رہے۔ تاہم 1940 کی دہائی میں مسلم لیگ مضبوط ہوتی گئی اور بالآخر قیامِ پاکستان سے پہلے سندھ کی سیاست میں نمایاں مقام حاصل کر لیا۔

سندھ میں سیاسی اختلافات کے باعث سر غلام حسین ہدایت اللہ کی حکومت زیادہ عرصہ قائم نہ رہ سکی۔ ان کے بعد 1938 میں اللہ بخش سومرو پریمیئر بنے، جن کا تعلق ابتدا میں سندھ یونائیٹڈ پارٹی سے تھا، لیکن بعد میں انہوں نے اتحاد پارٹی قائم کی اور اسی جماعت کی طرف سے حکومت چلائی۔

1940 میں پھر حکومت تبدیل ہوئی اور میر بندے علی خان ٹالپر سندھ کے پریمیئر بنے، جنہیں آل انڈیا مسلم لیگ کی حمایت حاصل تھی۔ اس کے بعد 1941 میں اللہ بخش سومرو دوسری مرتبہ سندھ کے پریمیئر بنے اور انہوں نے 1942 تک حکومت چلائی۔

بعد ازاں 1942 میں ایک مرتبہ پھر سر غلام حسین ہدایت اللہ سندھ کے پریمیئر بنے جن کا تعلق آل انڈیا مسلم لیگ سے تھا۔ انہوں نے قیامِ پاکستان تک سندھ کی حکومت کی قیادت کی۔

1937 میں قائم سندھ صوبائی اسمبلی کی مدت پانچ سال مقرر کی گئی تھی اور نئے انتخابات 1942 میں ہو جانے چاہئیں تھے، لیکن اس دوران عالمی حالات بدل گئے۔ 1939 میں دوسری جنگِ عظیم شروع ہو گئی، اس لیے انتخابات وقت پر نہ ہو سکے۔ اس طرح سندھ سمیت برصغیر کے دیگر صوبوں میں بھی اسمبلیاں اپنی مقررہ مدت سے زیادہ عرصے تک قائم رہیں۔

جنگ کے خاتمے کے بعد جب سیاسی حالات نسبتاً بہتر ہوئے تو برطانوی حکومت نے دوبارہ انتخابات کروانے کا فیصلہ کیا۔ چنانچہ 1946 میں پورے برصغیر میں صوبائی انتخابات منعقد ہوئے۔ سندھ میں بھی اسی سال انتخابات ہوئے، جن میں آل انڈیا مسلم لیگ نے اکثریت حاصل کی۔

حر تحریک اور سندھی پریس کا کردار

اللہ بخش سومرو کے دورِ حکومت میں سندھ میں پیر پگاڑا کی قیادت میں حر تحریک نے زور پکڑ لیا۔ یہ تحریک برطانوی حکومت کے خلاف مزاحمت کر رہی تھی۔ برطانوی حکومت نے مارچ 1942 میں سندھ میں مارشل لا نافذ کر کے ’حر ایکٹ‘ لاگو کیا، جس کے تحت بے شمار بستیاں جلا دی گئیں اور حروں کو گرفتار کر کے حراستی کیمپوں میں منتقل کیا گیا۔ بعض علاقوں میں فوجی کارروائیاں بھی کی گئیں۔

بعد میں برطانوی حکومت نے پیر پگاڑا صبغت اللہ شاہ راشدی کو گرفتار کر کے 1943 میں پھانسی دے دی۔ یہ واقعہ سندھ کی سیاسی تاریخ کا ایک اہم باب سمجھا جاتا ہے۔

اگرچہ برطانوی حکومت نے سندھ میں حر تحریک کے دوران اخبارات پر سخت سنسرشپ عائد کر رکھی تھی، پھر بھی سندھی پریس نے مختلف طریقوں سے اس تحریک کے حالات، حکومتی کارروائیوں اور عوامی ردعمل کو اجاگر کیا۔ اخبارات میں حروں کی سرگرمیوں، پولیس اور فوجی کارروائیوں، گرفتاریوں اور مختلف علاقوں میں پیش آنے والے واقعات کی خبریں شائع کی جاتی تھیں۔

پاکستان کی تحریک آزادی اور سندھی اخبارات کا کردار

1937 سے قائم سندھ صوبائی اسمبلی نے برصغیر کے مسلمانوں کے لیے ایک علیحدہ ریاست (پاکستان) کے قیام کی حمایت میں 3 مارچ 1943 کو قرارداد منظور کی۔ یہ قرارداد مسلم لیگ کے رہنما جی ایم سید نے پیش کی۔ اس وقت سندھ کے پریمیئر سر غلام حسین ہدایت اللہ تھے۔

سندھ کے کئی سندھی اخبارات نے اس تاریخی قرارداد کو نمایاں انداز میں شائع کیا اور اس پر اداریے بھی لکھے۔ ان اخبارات میں سب سے نمایاں ’الوحید‘ تھا۔

تحریک آزادی کے دوران سندھ کے کئی سیاسی رہنماؤں کی سرگرمیوں اور خیالات کو سندھی پریس میں نمایاں طور پر شائع کیا جاتا تھا۔ آل انڈیا مسلم لیگ کے رہنماؤں میں سر شاہنواز بھٹو، پیر علی محمد راشدی، پیر الٰہی بخش، غلام محمد بھرگری، حاجی عبداللہ ہارون اور قاضی محمد اکبر شامل تھے۔

اسی دوران سندھ سے تعلق رکھنے والے کئی رہنما آل انڈیا کانگریس سے بھی وابستہ تھے۔ ان میں چوئترام گڈوانی، جے رام داس دولت رام، ڈاکٹر ہیمن داس واڈھوانی اور سوامی گووند آنند شامل تھے۔ یہ رہنما عدم تعاون تحریک، سول نافرمانی تحریک اور دیگر سیاسی سرگرمیوں میں حصہ لیتے رہے۔

ان رہنماؤں کی تقاریر، بیانات اور سیاسی سرگرمیوں کو اس دور کے مختلف سندھی اخبارات میں جگہ دی جاتی تھی۔ کراچی سے شائع ہونے والا اخبار ’ہندو‘، اصلاحی اخبار ’سندھ سدھار‘ اور حیدرآباد سے شائع ہونے والا معروف اخبار ’الوحید‘ ان سرگرمیوں کو نمایاں طور پر شائع کرتے تھے۔

1945 میں شکارپور سے شائع ہونے والے اخبار ’سوراج‘ کے مقابلے میں سکھر سے آغا بدرالدین نے روزنامہ ’انقلاب‘ جاری کیا، جو 1948 تک شائع ہوتا رہا۔ 5 نومبر 1946 سے حیدرآباد سے روزنامہ ’ہلال پاکستان‘ شائع ہونا شروع ہوا، جس کے پہلے ایڈیٹر عثمان علی انصاری تھے، جبکہ اس کے ایڈیٹوریل بورڈ میں مولانا دین محمد وفائی، لالچند امرڈنومل اور ڈاکٹر ہیرومل سدارنگانی شامل تھے۔

اس طرح سندھی صحافت نے نہ صرف مقامی سیاست بلکہ آل انڈیا کانگریس سے وابستہ رہنماؤں کی سرگرمیوں کو بھی عوام تک پہنچانے میں اہم کردار ادا کیا اور سندھ میں سیاسی شعور کو مضبوط بنانے میں اہم حصہ ڈالا۔

قیام پاکستان، ون یونٹ کا نفاذ اور پہلا مارشل لا

قیامِ پاکستان کے بعد سندھ میں انڈیا کے مختلف علاقوں سے مہاجرین کی بڑی تعداد آ کر آباد ہوئی، جبکہ سندھی ہندوؤں کی ایک بڑی تعداد انڈیا ہجرت کر گئی، جس کے باعث سماجی اور معاشی مسائل پیدا ہوئے۔ سندھی اخبارات نے ان مسائل کو اجاگر کیا اور حکومت کی توجہ اس طرف مبذول کرانے کی کوشش کی۔

اخبارات میں جھوٹے کلیمز، زمینوں کی تقسیم، روزگار کے مسائل اور شہری آبادی میں اضافے جیسے موضوعات پر مضامین اور خبریں شائع ہوتی تھیں۔

پاکستان کے قیام کے بعد ملک کے سیاسی ڈھانچے میں کئی تبدیلیاں آئیں۔ انہی تبدیلیوں میں ایک اہم قدم 1955 میں ون یونٹ کا قیام تھا۔ اس منصوبے کے تحت مغربی پاکستان کے تمام صوبوں اور ریاستوں کو ملا کر ایک ہی صوبہ بنا دیا گیا، جسے مغربی پاکستان کہا گیا، جبکہ مشرقی بنگال کو مشرقی پاکستان کے نام سے ایک الگ صوبہ بنایا گیا تھا۔

اس فیصلے کے نتیجے میں سندھ، پنجاب، سرحد اور بلوچستان کی الگ الگ صوبائی حیثیت ختم ہو گئی۔ سندھ کے عوام اور سیاسی جماعتوں نے اس فیصلے کی شدید مخالفت کی کیونکہ ان کے خیال میں اس سے سندھ کی تاریخی اور سیاسی شناخت متاثر ہوئی۔ اسی وجہ سے سندھ میں ون یونٹ کے خلاف سیاسی اور عوامی تحریکیں شروع ہو گئیں۔

ون یونٹ کے بعد پاکستان کی سیاسی تاریخ میں ایک اور اہم واقعہ پیش آیا۔ 7 اکتوبر 1958 کو پہلا مارشل لا نافذ کیا گیا، جب جنرل ایوب خان نے سیاسی حکومت کو ہٹا کر اقتدار سنبھال لیا۔

مارشل لا کے بعد سیاسی جماعتوں پر پابندیاں لگائی گئیں، اسمبلیاں توڑ دی گئیں اور ملک میں فوجی حکومت قائم ہو گئی۔ اس دور میں انتظامی اصلاحات، بیوروکریسی کو مضبوط بنانے اور سیاسی نظام کو نئے انداز سے ترتیب دینے کی کوشش کی گئی۔

ون یونٹ کے خلاف سندھ میں تحریک جاری تھی کہ مارشل لا بھی نافذ ہو گیا، جس نے سیاسی سرگرمیوں پر مزید پابندیاں عائد کر دیں۔ مختلف سیاسی جماعتوں اور قوم پرست رہنماؤں نے ون یونٹ کے ساتھ ساتھ مارشل لا کے خلاف بھی آواز اٹھائی۔

اس دور میں بھی سندھی صحافت نے اہم کردار ادا کیا، مگر ون یونٹ کے نفاذ کے بعد حکومتی سختیوں کے باعث ’الوحید‘ جیسے اخبارات پر پابندیاں عائد کی گئیں۔

اس دوران سندھ کے طلبا نے بھی ون یونٹ کے خلاف تحریک شروع کی۔ مختلف شہروں میں جلسے جلوس نکالے اور صوبائی خودمختاری کے حق میں آواز بلند کی۔

چار  مارچ 1967 کو حیدرآباد میں طلبا نے ایک بڑا جلوس نکالا۔ یہ جلوس پرامن تھا، لیکن جب طلبا آگے بڑھے تو پولیس نے انہیں روکنے کی کوشش کی۔ اس دوران پولیس اور طلبا کے درمیان جھڑپیں ہوئیں اور پولیس نے لاٹھی چارج اور آنسو گیس کا استعمال کیا۔ اس واقعے میں کئی طلبا زخمی ہوئے اور کچھ کو گرفتار بھی کیا گیا۔ اس دن کے بعد یہ تحریک مزید شدت اختیار کر گئی اور سندھ کے مختلف شہروں میں پھیل گئی۔

چار مارچ کا دن بعد میں سندھ میں طلبا کی مزاحمت اور صوبائی حقوق کی جدوجہد کی علامت بن گیا۔ آج بھی سندھ میں اس دن کو یاد کیا جاتا ہے اور اسے طلبا کی جدوجہد کے ایک اہم باب کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔

اس زمانے میں سندھی پریس نے ان سیاسی اور عوامی تحریکوں کو نمایاں طور پر شائع کیا۔ سندھی اخبارات نے ون یونٹ کے اثرات، عوامی ردعمل اور سیاسی رہنماؤں کے بیانات کو اپنی خبروں اور اداریوں میں شامل کیا۔

اس دور کے اہم سندھی اخبارات میں ’عبرت‘، ’ہلالِ پاکستان‘ اور دیگر اخبارات شامل تھے۔ ان اخبارات نے نہ صرف احتجاجی مظاہروں اور جلسوں کی خبریں شائع کیں بلکہ اداریوں میں ون یونٹ کے سیاسی اور معاشرتی اثرات پر بھی بحث کی۔

تاہم اس دور میں مارشل لا کی وجہ سے پریس کو مکمل آزادی حاصل نہیں تھی۔ حکومت کی طرف سے بعض اوقات اخبارات پر دباؤ ڈالا جاتا تھا اور کچھ خبروں کی اشاعت میں احتیاط برتنی پڑتی تھی۔

بالآخر مسلسل سیاسی جدوجہد اور عوامی دباؤ کے نتیجے میں 1970 میں ون یونٹ کا خاتمہ کر دیا گیا اور سندھ سمیت دیگر صوبوں کی الگ صوبائی حیثیت بحال کر دی گئی۔ اس پورے دور میں سندھی پریس نے سندھ کے عوام کے جذبات، مطالبات اور سیاسی تحریکوں کو اجاگر کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔

یہی وجہ ہے کہ ون یونٹ کے دور کی تاریخ کو سمجھنے کے لیے اس زمانے کے سندھی اخبارات ایک اہم تاریخی ماخذ سمجھے جاتے ہیں۔

ذوالفقار علی بھٹو کا جمہوری دور اور فوجی آمر ضیاء الحق کا مارشل لا

1971 میں پاکستان میں عام انتخابات منعقد ہوئے، جو ملکی تاریخ کا ایک اہم موڑ ثابت ہوئے۔ ان انتخابات کے بعد مشرقی پاکستان الگ ہو کر بنگلہ دیش بن گیا اور باقی ماندہ پاکستان میں ذوالفقار علی بھٹو کی قیادت میں پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت قائم ہوئی۔

اس دور میں ملک میں سیاسی، سماجی اور آئینی تبدیلیاں آئیں۔ 1973 کا متفقہ آئین منظور ہوا اور کئی اصلاحات کی گئیں، جن میں نجی صنعتی و تجارتی اداروں کو قومی ملکیت میں لینا سب سے نمایاں تھا۔

بھٹو دور (1971–1977) میں سندھی میڈیا نے عوامی مسائل، جمہوریت، مزدوروں کے حقوق اور صوبائی خودمختاری جیسے موضوعات کو بھرپور انداز میں اجاگر کیا۔ اس زمانے میں اخبارات کو نسبتاً زیادہ آزادی ملی، جس کے باعث صحافت میں ترقی ہوئی۔

سندھی اخبارات نے حکومت کی پالیسیوں، اصلاحات اور عوامی ردعمل کو نمایاں طور پر شائع کیا۔ لیبر پالیسی، زرعی اصلاحات، صنعتوں کی نیشنلائزیشن اور تعلیم کے فروغ جیسے اقدامات پر اخبارات میں بحث ہوتی رہی۔

اس دور میں کئی نئے سندھی اخبارات بھی سامنے آئے یا پہلے سے موجود اخبارات نے زیادہ مؤثر انداز میں کام کرنا شروع کیا۔ ان میں ’عبرت‘، ’ہلالِ پاکستان‘، ’مہران‘، ’نوائے سندھ‘ اور ’کاروان‘ جیسے اخبارات شامل تھے۔

روزنامہ ’عبرت‘، جو 1958 سے حیدرآباد سے شائع ہو رہا تھا، خاص طور پر اس دور میں ایک مقبول اور مؤثر اخبار بن کر ابھرا، جس نے سندھ کے عوامی مسائل اور سیاسی حالات کو بھرپور انداز میں پیش کیا۔

سندھی پریس نے اس دور میں نہ صرف حکومتی اقدامات کی حمایت کی بلکہ جہاں ضرورت پڑی تنقید بھی کی۔ اخبارات میں اداریے، کالم اور تجزیے شائع ہوتے تھے، جن میں سیاسی شعور پیدا کرنے کی کوشش کی جاتی تھی۔

ایم آر ڈی تحریک اور سندھی اخبارات کا کردار

تحریکِ بحالیٔ جمہوریت (ایم آر ڈی) 1981 میں جنرل ضیاء الحق کی فوجی حکومت کے خلاف شروع کی گئی ایک اہم سیاسی تحریک تھی، جس کا مقصد مارشل لا کا خاتمہ اور ملک میں جمہوری نظام کی بحالی تھا۔ اس تحریک میں مختلف سیاسی جماعتوں نے حصہ لیا، جن میں پاکستان پیپلز پارٹی اور عوامی نیشنل پارٹی نمایاں تھیں۔ خاص طور پر سندھ میں یہ تحریک شدت اختیار کر گئی، جہاں عوامی مظاہرے، ہڑتالیں اور جلوس روزمرہ کا حصہ بن گئے۔

مارشل لا حکومت نے اس تحریک کو دبانے کے لیے سخت اقدامات کیے۔ ہزاروں کارکنان کو گرفتار کیا گیا، جلوسوں پر گولیاں چلائی گئیں جس سے سینکڑوں ہلاکتیں ہوئیں۔ سیاسی کارکنوں اور صحافیوں کو کوڑوں اور قید کی سزائیں دی گئیں اور میڈیا پر بھی پابندیاں عائد کی گئیں۔ اس کے باوجود عوام نے جمہوریت کے حق میں آواز بلند کی۔

سخت سنسرشپ اور حکومتی دباؤ کے باوجود کئی سندھی اخبارات نے عوامی مزاحمت، احتجاجی مظاہروں اور گرفتاریوں کو نمایاں طور پر رپورٹ کیا۔ ان اخبارات نے ریاستی جبر، کوڑوں کی سزاؤں اور سیاسی کارکنوں پر ہونے والے مظالم کو اجاگر کیا، جس سے سندھ کے عوام میں شعور اور مزاحمت کا جذبہ بڑھا۔

اس دور کے نمایاں سندھی اخبارات ’عبرت‘، ’ہلال پاکستان‘، ’مہران‘، ’سندھ نیوز‘ اور ’آفتاب‘ نے اپنے اداریوں میں آمریت پر تنقید، جمہوریت کی اہمیت اور بنیادی انسانی حقوق کی بحالی پر زور دیا۔ اگرچہ کئی اخبارات کو بندشوں، جرمانوں اور دھمکیوں کا سامنا بھی کرنا پڑا، لیکن انہوں نے اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داری جاری رکھی۔

ان کی رپورٹنگ نے نہ صرف مقامی بلکہ قومی سطح پر ایم آر ڈی کی تحریک کو زندہ رکھا اور عوامی حمایت کو تقویت دی۔ سندھی صحافت نے اس دور میں حق گوئی اور جرات کی ایک روشن مثال قائم کی۔

جمہوریت کی بحالی اور صحافت کے نئے دور کا آغاز

1988 میں جنرل ضیاء الحق کی فضائی حادثے میں ہلاکت کے بعد ملک میں انتخابات ہوئے اور بے نظیر بھٹو کی قیادت میں جمہوری حکومت قائم ہوئی۔ ان کے مختصر دور میں صحافت کو پہلے کی نسبت زیادہ آزادی ملی۔ اخبارات کو اپنی رائے کے اظہار کے بہتر مواقع ملے اور سیاسی مباحثے میں وسعت پیدا ہوئی۔

اسی دور میں سندھی صحافت میں نئے اخبارات سامنے آئے اور سندھی صحافت کے انداز میں بھی نمایاں تبدیلی آئی۔ 1989 میں کراچی سے دائیں بازو کے کچھ کارکنوں نے مل کر روزنامہ ’عوامی آواز‘ کا اجرا کیا۔ یہ سندھی زبان کا پہلا مکمل کمپیوٹرائزڈ اخبار تھا، جس نے سندھی صحافت میں جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کی بنیاد رکھی۔ بعد میں دیگر سندھی اخبارات نے بھی اس طریقہ کار کو اپنایا۔

’عوامی آواز‘ نے اپنے آغاز کے بعد کئی ایسے موضوعات کو نمایاں شائع کیا جن پر پہلے سندھی صحافت میں کم توجہ دی جاتی تھی۔ عوامی آواز کے پہلے ایڈیٹر سہیل سانگی کے مطابق اخبار نے صرف خبروں تک محدود رہنے کے بجائے معاشرتی مسائل پر باقاعدہ مہمات بھی چلائیں۔ اس کے علاوہ اخبار میں مزدوروں، خواتین، بچوں اور سماجی تنظیموں کے لیے الگ ہفتہ وار یا پندرہ روزہ صفحات بھی شائع کیے جانے لگے، جس سے مختلف طبقوں کے مسائل کو زیادہ تفصیل سے پیش کیا جانے لگا۔

اس کے اگلے ہی سال، یعنی 1990 میں ایک اور سندھی اخبار ’کاوش‘ کا حیدرآباد سے اجرا ہوا۔ یہ بھی کمپیوٹرائزڈ اخبار تھا، مگر یہ جلد ہی اپنی ساکھ قائم کرنے میں کامیاب ہو گیا کیونکہ اس کی قیمت بھی کم تھی، عوام کے بنیادی مسائل پر کھل کر لکھا اور یہ پہلی مرتبہ رنگین چھپتا تھا۔

اس دور میں روزنامہ ’جاگو‘، ’برسات‘، ’سندھ‘ اور ’پکار‘ جیسے اخبارات بھی سامنے آئے۔ ان اخبارات نے نہ صرف سیاسی خبروں بلکہ سماجی اور ثقافتی موضوعات کو بھی جگہ دی۔ اس طرح سندھی صحافت کا دائرہ مزید وسیع ہوتا گیا اور عوامی مسائل زیادہ مؤثر انداز میں سامنے آنے لگے۔

جام صادق علی کا سیاہ دور اور سندھی اخبارات

بینظیر بھٹو کی حکومت کے خاتمے کے بعد 1990 کے عام انتخابات کے نتیجے میں وفاق میں وزیر اعظم نواز شریف کی سربراہی میں اسلامی جمہوری اتحاد (آئی جے آئی) کی حکومت قائم ہوئی، جس نے نہ صرف پیپلز پارٹی حکومت کے کئی اہم فیصلے معطل کیے بلکہ میڈیا پر بھی مختلف پابندیاں عائد کیں۔

سندھ میں بھی آئی جے آئی نے مہاجر قومی موومنٹ کے ساتھ مل کر حکومت قائم کی، جس کی سربراہی پیپلز پارٹی کے سابق رہنما جام صادق علی کو سونپی گئی۔

جام صادق علی کا دور سندھ کے سیاہ ترین ادوار میں شمار کیا جاتا ہے، جس میں سیاسی انتقام، اپوزیشن کو دبانے اور اخبارات و رسائل پر پابندیاں لگانے کے اقدامات کیے گئے۔

سندھی اخبارات نے اس دور میں حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا، تاہم اس کام میں انہیں مختلف دباؤ کا سامنا بھی کرنا پڑا۔ سہیل سانگی کے مطابق اس زمانے میں صحافت کرنا آسان نہیں تھا کیونکہ حکومت اور بااثر حلقوں کی طرف سے مسلسل دباؤ رہتا تھا۔

انہوں نے بتایا کہ جب جام صادق علی وزیر اعلیٰ بنے تو بعض سرکاری حلقوں کی طرف سے سندھی اخبارات کو ہدایت دی گئی کہ بے نظیر بھٹو سے متعلق خبریں شائع نہ کی جائیں۔ اس کے علاوہ بعض اخبارات کے سرکاری اشتہارات بھی بند کر دیے گئے تاکہ انہیں مالی مشکلات کا سامنا کرنا پڑے۔

اس دور میں سندھی اخبارات کے مدیران نے باہمی تعاون کی ایک نئی روایت قائم کی۔ مختلف اخبارات کے مدیران نے مل کر ’سندھی نیوز پیپر ایڈیٹرز کونسل‘ قائم کی۔ اس کونسل کے ذریعے اہم قومی اور صوبائی مسائل پر مشترکہ اداریے لکھے جاتے تھے۔

ان اداریوں میں جمہوری نظام کی مضبوطی، صوبائی خودمختاری، انسانی حقوق اور عوامی مفادات کے تحفظ پر زور دیا جاتا تھا۔ یہ روایت سندھی صحافت میں اتحاد اور پیشہ ورانہ یکجہتی کی مثال تھی۔

ان مشترکہ اداریوں کو اکثر سینئر صحافی فقیر محمد لاشاری، سہیل سانگی اور علی قاضی تحریر کرتے تھے، جبکہ بعد میں دیگر سندھی اخبارات بھی اس میں شامل ہونے لگے۔

اس کے علاوہ ان اخبارات نے اپنے اداریاتی صفحات پر سندھی زبان کے معروف ادیبوں اور دانشوروں کے کالم بھی شائع کرنا شروع کیے۔ ان لکھاریوں میں سراج میمن، سلیمان شیخ، یوسف شاہین، بدر ابڑو اور انور پیرزادو جیسے نمایاں نام شامل تھے۔ ان دانشوروں کے کالموں نے سندھی صحافت کو فکری اور ادبی طور پر مزید مضبوط بنایا۔

سہیل سانگی کے مطابق اخبارات کے درمیان تعاون کا یہ عالم تھا کہ ایک دوسرے کے ادارتی ڈیسک تک بھی رسائی ہوتی تھی۔ وہ نہ صرف اداریے شیئر کرتے تھے بلکہ اہم رپورٹس اور معلومات بھی ایک دوسرے کے ساتھ تبادلہ کرتے تھے۔ اس تعاون نے سندھی صحافت کو مزید مضبوط اور بااثر بنا دیا۔

ٹنڈو بہاول واقعہ اور سندھی اخبارات

ٹنڈو بہاول کا واقعہ جام صادق علی کی وفات کے کچھ عرصے بعد 5 جون 1992 کو پیش آیا۔ حیدرآباد کے قریب واقع گاؤں ٹنڈو بہاول پر پاکستان آرمی کے ایک دستے نے چھاپہ مارا اور نو دیہاتیوں کو اغوا کرنے کے بعد دریائے سندھ کے کنارے لے جا کر گولی مار کر قتل کر دیا۔

ابتدائی طور پر سرکاری مؤقف یہ پیش کیا گیا کہ مارے جانے والے افراد دراصل بھارتی ایجنٹ اور دہشت گرد تھے اور انہیں ایک کارروائی کے دوران ہلاک کیا گیا۔ تاہم بعد میں صحافیوں اور خصوصاً سندھی اخبارات کی تحقیقاتی رپورٹنگ سے یہ بات سامنے آئی کہ مقتولین عام کسان اور زرعی مزدور تھے اور ان کا کسی مجرمانہ سرگرمی سے کوئی تعلق نہیں تھا۔

اخباری رپورٹس کے مطابق ایک باوردی میجر نے انہیں سازش کے تحت قتل کر کے زمینوں پر قبضہ کرنے کی کوشش کی تھی۔

اس واقعے نے پورے صوبے میں شدید ردعمل پیدا کیا۔ متاثرہ خاندانوں، خصوصاً مائی جندو کی طویل جدوجہد اور میڈیا کی مسلسل رپورٹنگ کے نتیجے میں اصل حقیقت سامنے آئی۔ پہلی بار اس واقعے کی سرکاری تردید سندھ اسمبلی کے فلور پر اس وقت کے وزیر اعلیٰ سید مظفر حسین شاہ نے کی اور مرنے والوں کو بے گناہ قرار دیا۔ بعد ازاں فوجی عدالت میں مقدمہ چلا اور اس کارروائی کی قیادت کرنے والے افسر میجر ارشد جمیل کو سزائے موت دی گئی۔ 1996 میں انہیں پھانسی پر لٹکایا گیا۔

آج کے دور کے اخبارات

سابق فوجی آمر پرویز مشرف (1999-2008) کے دور میں ملک میں کئی الیکٹرونک میڈیا کے ٹی وی اور ایف ایم ریڈیو چینلز کو لائسنس جاری کیے گئے۔ سندھی اخبارات کے مالکان نے بھی سندھی زبان کے چینلز کے لیے لائسنس حاصل کیے۔

کاوش اخبار کے مالکان نے کاوش ٹی وی نیٹ ورک (کے ٹی این) کے نام سے پہلا چینل حاصل کیا۔ اس کے بعد کے ٹی این نیوز الگ، کے ٹی این انٹرٹینمینٹ اور کشش کے نام سے ٹی وی چینلز بھی کھولے گئے۔ اس طرح سندھ ٹی وی، مہران، آواز اور دھرتی چینلز نے بھی کام شروع کیا۔

آج کے ڈیجیٹل دور میں اگرچہ میڈیا کے ذرائع تبدیل ہو چکے ہیں، الیکٹرونک میڈیا کے ساتھ ساتھ سوشل میڈیا بھی پاپولر ہو گیا ہے، مگر سندھی اخبارات کی اہمیت اب بھی برقرار ہے۔ آج بھی سندھ کے دیہی علاقوں میں لوگ اخبارات پڑھتے ہیں۔

عبرت، عوامی آواز، کاوش، سندھ ایکسپریس، ہلال پاکستان، سوبھ، مہران، پکار اور پہنجی اخبار نمایاں ہیں اور یہ سلسلہ جاری رہے گا۔ یہ اخبارات نہ صرف سندھ کی ثقافتی شناخت کو محفوظ رکھتی ہیں بلکہ جمہوری اقدار کے فروغ میں بھی اپنا کردار ادا کر رہی ہیں۔ نئی نسل کے صحافی جدید ٹیکنالوجی کے ساتھ روایتی صحافتی اصولوں کو بھی آگے بڑھا رہے ہیں۔

اسی بارے میں: