سندھ کی سیاسی تاریخ میں جام صادق علی ایک ایسی شخصیت کے طور پر سامنے آئے جنہوں نے اگرچہ مختصر مدت کے لیے وزارت اعلیٰ سنبھالی، مگر ان کے دور اقتدار کے اثرات طویل عرصے تک محسوس کیے جاتے رہے۔
جام صادق علی 1934 میں ضلع سانگھڑ کے قصبے جام نواز علی میں پیدا ہوئے اور پاکستان پیپلز پارٹی کے پہلے دور حکومت میں ایک اہم رہنما کے طور پر ابھرے۔ وہ سندھ کے وزیر بلدیات بھی رہے۔ سابق فوجی آمر ضیا الحق کے مارشل لا کے دوران وہ جلاوطنی اختیار کرنے پر مجبور ہوئے، تاہم 1988 میں بہاولپور طیارہ حادثے میں ضیا الحق کی ہلاکت کے بعد 1989 میں وطن واپس آ گئے۔
1988 کے عام انتخابات کے بعد بینظیر بھٹو کے برسر اقتدار آنے پر انہیں سندھ میں اثر و رسوخ کی بنیاد پر سیاسی مشیر مقرر کیا گیا۔
فوجی آمر ضیا الحق کی موت کے بعد 1988 میں ہونے والے عام انتخابات میں پاکستان پیپلز پارٹی کا مقابلہ کرنے کے لیے سیاسی اتحاد اسلامی جمہوری اتحاد یا آئی جے آئی تشکیل دیا گیا تھا۔
بعد ازاں 1990 میں صدر غلام اسحاق خان کی جانب سے حکومت برطرف کیے جانے کے بعد ایک نگران سیٹ اپ قائم کیا گیا، جس میں جام صادق علی کو سندھ کا نگران وزیر اعلیٰ مقرر کیا گیا اور یوں ان کی بھرپور سیاسی واپسی ہوئی۔
بینظیر بھٹو کے دور اقتدار کے دوران نواز شریف کی قیادت میں اسلامی جمہوری اتحاد قائم ہوا، جبکہ غلام مصطفیٰ جتوئی کو نگران وزیر اعظم بنایا گیا۔ یوں وفاق اور سندھ میں ایسی سیاسی قیادت سامنے لائی گئی جسے پیپلز پارٹی کے مقابلے میں کھڑا کیا گیا۔
1990 کے عام انتخابات کے بعد جام صادق علی سندھ اسمبلی میں لیڈر آف دی ہاؤس منتخب ہوئے اور پانچ مارچ 1992 کو اپنی وفات تک وزیر اعلیٰ کے منصب پر فائز رہے۔ اگرچہ 130 رکنی صوبائی ایوان میں آئی جے آئی کو صرف 20 نشستیں حاصل ہوئیں، تاہم سیاسی جوڑ توڑ کے نتیجے میں اس وقت کی مہاجر قومی موومنٹ ایم کیو ایم کو ساتھ ملا کر حکومت قائم کر لی گئی۔
درحقیقت جام صادق علی کی حکومت ایم کیو ایم کی مرہون منت ہی بن سکی کیونکہ ایم کیو ایم نے سندھ اسمبلی میں کل 36 نشستیں حاصل کی تھیں اور آزاد اراکین کو ملا کر سادہ اکثریت سے صوبائی حکومت تشکیل دی گئی تھی جس کی سربراہی جام صادق کو سونپی گئی، جبکہ پیپلز پارٹی سب سے زیادہ نشستیں لے کر ایوان میں سب سے بڑی پارٹی بن گئی تھی اور اس کی ریزرو نشستوں کے ساتھ کل 60 نشستیں تھیں۔
جام صادق علی کا وزیر اعلیٰ کے طور پر اگست 1990 سے مارچ 1992 تک کا یہ عرصہ سندھ کی سیاست میں ‘سیاہ و سفید’ کا ایک عجیب امتزاج تھا۔ اس زمانے میں ایک طرف ترقیاتی کاموں اور لسانی ہم آہنگی کی کوششیں نظر آئیں، وہیں دوسری طرف سیاسی انتقام، شہروں میں پرتشدد واقعات اور متنازع فیصلوں کی ایک طویل فہرست بھی موجود ہے۔
متنازع اقدامات اور سیاسی انتقام
جام صادق علی ایک منجھے ہوئے زیرک سیاستدان تھے جنہوں نے اپنی سیاست کا بڑا حصہ پیپلز پارٹی کے سائے میں گزارا۔ تاہم جب وہ سندھ کے وزیر اعلیٰ منتخب ہوئے تو وہ سندھ کی سیاست میں ایک بڑے تلاطم کا پیش خیمہ ثابت ہوئے۔
جام صادق علی کے دور کو اکثر ‘سیاسی انتقام کا دور’ کہا جاتا ہے۔ ان کے دور اقتدار کی سب سے بڑی شہرت پیپلز پارٹی کے خلاف ان کا سخت گیر رویہ تھا۔
انہوں نے اپنے سابقہ ساتھیوں اور پیپلز پارٹی کے کارکنوں کے خلاف مقدمات اور گرفتاریوں کا وہ سلسلہ شروع کیا جس کی مثال کم ہی ملتی ہے۔ ان پر الزام لگایا جاتا ہے کہ انہوں نے ریاستی مشینری کا بے دریغ استعمال کر کے سیاسی مخالفین کو دیوار سے لگایا۔
رپورٹس کے مطابق اس دور میں پاکستان پیپلز پارٹی کے کارکنوں اور رہنماؤں کے خلاف بڑے پیمانے پر کارروائیاں کی گئیں۔ مختلف اخبارات میں چھپی خبروں کے مطابق اپوزیشن سے تعلق رکھنے والے افراد کو نہ صرف گرفتار کیا گیا بلکہ بعض کیسز میں انہیں طویل حراست میں بھی رکھا گیا۔
اس وقت کے صدر غلام اسحاق خان کے داماد عرفان اللہ مروت کو سندھ میں صوبائی مشیر داخلہ مقرر کیا گیا تھا۔ ان کے ہی ایک رشتہ دار سمیع اللہ مروت سی آئی اے کے سربراہ تھے، جن کے ذریعے اپوزیشن پاکستان پیپلز پارٹی کے کارکنوں پر سی آئی اے سینٹر میں زیر حراست تشدد کیا جاتا تھا۔
اخباری مواد کے مطابق صوبائی حکومت نے ریاستی اداروں خصوصاً پولیس اور کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی سی آئی اے کو استعمال کرتے ہوئے اپوزیشن پر دباؤ بڑھایا۔ ان اقدامات کا مقصد پیپلز پارٹی کے اثر و رسوخ کو کم کرنا اور اسے سیاسی طور پر کمزور کرنا تھا۔ اخباری رپورٹس میں اس دور کو ‘سیاسی محاذ آرائی’ اور ‘انتظامی دباؤ’ کا دور قرار دیا گیا۔
پیپلز پارٹی کی طلبہ تنظیم پیپلز اسٹوڈنٹس فیڈریشن گرلز ونگ کراچی کی رہنما راحیلہ ٹوانہ کو اس وقت کی سی آئی اے پولیس نے گرفتار کر کے بدنام زمانہ سی آئی اے صدر ٹارچر سینٹر منتقل کر دیا، جہاں ان کے ساتھ ان کے بھائی اور ایک دوست کو بھی حراست میں رکھا گیا۔ بعد ازاں ایک انٹرویو میں، جو 11 فروری 1991 کو انگریزی روزنامہ دی نیوز میں شائع ہوا، راحیلہ ٹوانہ نے الزام عائد کیا کہ دوران حراست انہیں شدید تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔
ان کے بیان کے مطابق پولیس اہلکاروں نے ان کے ہاتھوں اور پاؤں پر تشدد کیا، جس کے باعث وہ صحیح طور پر چلنے سے بھی قاصر ہو گئیں۔ انہوں نے کہا کہ انہیں رات گیارہ بجے ہاتھوں سے باندھ کر لٹکایا گیا اور صبح چار بجے تک اسی حالت میں رکھا گیا۔ مزید یہ کہ تین دن تک انہیں کھانے سے محروم رکھا گیا اور دباؤ ڈالنے کے لیے ان کے بھائی کو بھی تشدد کی دھمکیاں دی گئیں۔
راحیلہ ٹوانہ کا کہنا تھا کہ ان پر دباؤ ڈالا گیا کہ وہ بینظیر بھٹو، آصف علی زرداری اور منظور حسین وسان کے خلاف بیان دیں، تاہم انہوں نے انکار کر دیا۔ ان کے مطابق بعد میں اہلکاروں نے زبردستی ان سے خالی کاغذات پر دستخط بھی کروائے۔ یہ واقعہ اس دور میں زیر حراست افراد کے ساتھ مبینہ سلوک کے حوالے سے سنگین سوالات اٹھاتا ہے۔
صوبائی حکومت اور ایم کیو ایم کی جانب سے صحافیوں پر تشدد
جام صادق علی کے دور میں سندھ میں بارہ کے قریب صحافیوں کو ان کے پاکستان پیپلز پارٹی سے تعلق کی بنیاد پر گرفتار کیا گیا۔ گرفتار کیے جانے والے صحافیوں میں بشیر بدر بھٹو، حضرت پردیسی، حسن جتوئی، زاہد سومرو، عبدل زانو، طارق بھٹی، اسماعیل بھٹو، عبدالقادر بگٹی، شفیع، عبدالتوراب سانگی اور عبدالستار شامل تھے۔
کراچی میں پولیس نے ماہنامہ ‘ہیرالڈ’ کی کاپیاں ضبط کر لیں کیونکہ اس شمارے میں اس وقت کے صوبائی مشیر داخلہ عرفان اللہ مروت کے بارے میں ایک رپورٹ شائع ہوئی تھی جس میں ان کے خفیہ پہلوؤں کو بے نقاب کیا گیا تھا۔
حکومت میں ایک بہت بڑا حصہ رکھنے اور کراچی اور صوبے کے دیگر شہری علاقوں کی انتظامیہ اور بلدیاتی اداروں پر مکمل کنٹرول ہونے کے باعث ایم کیو ایم نے اپنے مخالفین کے خلاف پرتشدد کارروائیاں جاری رکھیں۔ اپوزیشن کے ساتھ ساتھ اخبارات اور صحافی بھی اس دباؤ سے محفوظ نہ رہ سکے۔
سندھی اخبار عوامی آواز کے پہلے ایڈیٹر اور سینئر صحافی سہیل سانگی کے مطابق جام صادق علی سندھی اخباروں کے ایڈیٹرز کو خاص طور پر ڈنر یا لنچ پر بلاتے تھے اور پیپلز پارٹی کے خلاف خبریں چھاپنے پر زور دیتے تھے۔ ان کے دور میں کئی اخبارات کے سرکاری اشتہارات بند کیے گئے تاکہ انہیں اپوزیشن کے خلاف لکھنے پر مجبور کیا جائے۔
مگر ان تمام جابرانہ اقدامات کے باوجود سندھی اخبارات نے جام صادق علی حکومت کے مظالم پر کھل کر لکھا۔ اس دور میں کئی نئے سندھی اخبارات جاری ہوئے اور سندھی صحافت کی تاریخ میں پہلی مرتبہ سندھی اخبارات نے مشترکہ اداریے لکھنا شروع کیے۔
وفاقی اردو یونیورسٹی کے پروفیسر ڈاکٹر اوج کمال اپنے پی ایچ ڈی مقالے ‘Threat to Journalists in Pakistan’ میں لکھتے ہیں کہ اکتوبر 1990 کے انتخابات کے بعد مسلم لیگ کی حکومت نے متحدہ قومی موومنٹ کے ساتھ اتحاد میں آتے ہی پریس کی آزادی محدود کرنے کے اقدامات شروع کر دیے۔ پہلے سے موجود پابندیاں مزید سخت ہو گئیں اور مختلف گروہوں کی جانب سے میڈیا پر دباؤ بڑھتا گیا۔
ان کے مطابق انیس مارچ 1991 کو ایم کیو ایم کے کارکنوں نے ڈان کے اخبارات چھین لیے اور بائیس مارچ کو اس کی ترسیل نہیں ہونے دی گئی، جبکہ کراچی میں اس کا بائیکاٹ بھی کیا گیا۔ انگریزی روزنامہ ‘دی نیوز’ کے صحافی کامران خان کو ان کے کراچی کے دفتر کے سامنے چاقو مارا گیا، جبکہ ہفت روزہ جریدے ‘تکبیر’ کے مدیر مولانا صلاح الدین کے گھر کو آگ لگا دی گئی۔
ڈاکٹر اوج کمال کے مطابق اس دور میں صحافیوں کی گرفتاریاں بھی معمول بن گئیں۔ پولیس کی جانب سے ہراساں کرنا ایک عام ہتھکنڈا تھا۔ اگست 1991 میں ڈان کے حسن سنگرمی اور روزنامہ مشرق کے الیاس کو کراچی میں تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ مزید برآں 1992 میں جنگ گروپ کے سربراہ میر شکیل الرحمان اور ‘دی نیوز’ کی مدیر ملیحہ لودھی کے خلاف بھی مقدمات درج کیے گئے۔ اس پورے دور میں میڈیا اداروں اور صحافیوں پر حملوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا۔
جام صادق علی کی وفات کے بعد کراچی میں امن و امان کی بگڑتی صورتحال کے باعث وفاقی حکومت نے جون 1992 میں فوجی آپریشن شروع کیا، جسے عام طور پر کراچی آپریشن کہا جاتا ہے۔ اس میں رینجرز اور فوج نے حصہ لیا۔ ابتدا میں اس کا ہدف جرائم پیشہ عناصر اور مسلح گروہوں کے خلاف کارروائی تھا، تاہم بعد میں اس کے دائرہ کار میں کراچی کی اہم سیاسی پارٹی ایم کیو ایم بھی آ گئی۔

سندھ کے پانی کا مسئلہ: 1991 کا معاہدہ
جام صادق علی کے دور میں کچھ اہم نوعیت کے واقعات بھی پیش آئے جو سندھ کے کئی دیرینہ مسائل کو حل کرنے میں اہم پیش رفت ثابت ہوئے۔ ان میں سے سب سے نمایاں واقعہ 1991 کا ‘واٹر اپورشنمنٹ اکارڈ’ تھا۔ یہ معاہدہ آج بھی سندھ میں متنازع فیصلہ کے طور پر یاد کیا جاتا ہے، جس کے تحت دریائے سندھ کے پانی میں صوبوں کے حصے تعین کیے گئے۔
اگرچہ اس وقت اسے ایک بڑی کامیابی قرار دیا گیا تھا، لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ سندھ کے کسانوں اور ماہرین زراعت نے اسے سندھ کے حقوق پر ڈاکہ قرار دیا۔ ان کا موقف تھا کہ جام صادق علی نے وفاقی حکومت اور صوبہ پنجاب کے حکمرانوں کو خوش کرنے کے لیے سندھ کے دیرینہ پانی کے حقوق پر سمجھوتہ کیا، جس کے اثرات آج بھی بنجر زمینوں کی صورت میں نظر آتے ہیں۔
واٹر اکارڈ میں کئی مثبت نکات بھی شامل تھے، جن کے تحت دریائے سندھ کا پانی کوٹری سے نیچے چھوڑنے کو یقینی بنانا بھی شامل تھا تاکہ انڈس ڈیلٹا کی آبی حیات کا تحفظ ہو سکے۔ اس معاہدے میں واضح کیا گیا کہ سمندر میں کھارے پانی کے پھیلاؤ کو روکنے اور ماحولیاتی نظام کو بچانے کے لیے سالانہ تقریباً 10 ملین ایکڑ فٹ پانی کوٹری بیراج کے نیچے چھوڑا جانا چاہیے۔
تاہم معاہدے کی شرائط میں یہ بھی شامل تھا کہ پانی کی اس مقدار کا حتمی تعین ایک سائنسی مطالعے کے ذریعے کیا جائے گا تاکہ ماہرین کی رائے کی روشنی میں دریا کے ڈیلٹا کے لیے درکار پانی کی اصل مقدار کا درست اندازہ لگایا جا سکے۔ افسوس کہ اس سائنسی مطالعے کے لیے تب سے اب تک کوئی پیش رفت نہیں ہو سکی۔ خریف کے موسم کے دوران ہر سال سندھ میں پانی کی شدید قلت رہتی ہے۔
سندھی زبان اور ثقافت کا تحفظ
تمام تر تنازعات اور انسانی حقوق کی پامالی کے باوجود جام صادق علی کے کچھ اقدامات ایسے بھی تھے جنہیں آج بھی قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ ان کا سب سے بڑا کارنامہ 1991 میں ‘سندھی لینگویج اتھارٹی’ کا قیام تھا۔
یہ ادارہ آج بھی سندھی زبان کی ترویج، تحقیق اور اشاعت کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔ انہوں نے سندھی ثقافت اور ادب کی سرپرستی کی اور کئی ایسے منصوبے شروع کیے جن سے سندھ کی شناخت کو تقویت ملی۔
مزید برآں کراچی جیسے بڑے شہر میں امن و امان کی صورتحال کو بہتر بنانے کے لیے انہوں نے مختلف گروہوں کے درمیان مذاکرات کا راستہ کھولا۔ ان کے حامیوں کا کہنا ہے کہ جام صادق علی نے ایک ایسے وقت میں سندھ کی باگ ڈور سنبھالی جب صوبہ لسانی فسادات کی آگ میں جل رہا تھا اور انہوں نے اپنی انتظامی صلاحیتوں سے خون خرابے کو روکنے کی کوشش کی۔
جام صادق علی کے بارے میں مشہور تھا کہ وہ ایک بااثر اور رعب دار وزیر اعلیٰ تھے۔ ان کی انتظامیہ پر گرفت مضبوط تھی اور وہ بیوروکریسی سے کام لینا جانتے تھے۔ انہوں نے صوبے کے بنیادی ڈھانچے، سڑکوں اور پلوں کی تعمیر میں بھی دلچسپی لی۔ کراچی میں کورنگی انڈسٹریل ایریا کی جانب جانے والا ملیر ندی کے اوپر بنایا گیا ‘جام صادق پل’ ان کے دور کی ایک نشانی ہے جو آج بھی شہر کی ٹریفک کی روانی کے لیے اہم ہے۔
آخری ایام اور وفات
جام صادق علی کا انتقال پانچ مارچ 1992 کو جگر کے کینسر کے باعث ہوا۔ ان کی وفات کے بعد سندھ کی سیاست کا ایک باب تو بند ہو گیا لیکن ان کے چھوڑے ہوئے اثرات پر بحث آج بھی جاری ہے۔ ان کے جنازے میں ہزاروں افراد کی شرکت ان کے حامیوں کے مطابق اس بات کا ثبوت تھی کہ وہ جہاں اپوزیشن کے لیے ایک سخت گیر دشمن تھے وہیں عوام کے ایک حلقے میں مقبول بھی تھے۔
ان کی وفات کے بعد آئی جے آئی کے ایک اور مقامی رہنما سید مظفر حسین شاہ کو سندھ کا وزیر اعلیٰ چنا گیا۔
جام صادق علی کی شخصیت اور ان کے دور اقتدار کا کسی ایک زاویے سے مکمل احاطہ کرنا آسان نہیں۔ آج بھی جب سندھ کی سیاسی تاریخ کا جائزہ لیا جاتا ہے تو ان کا تذکرہ ایک ایسے وزیر اعلیٰ کے طور پر سامنے آتا ہے جس نے سیاست کے پیچیدہ ماحول میں اپنی سوچ کے مطابق فیصلے کیے، خواہ ان کے نتائج کتنے ہی بھاری کیوں نہ ہوں۔

