سیاست کا صحرا ہو یا ادب کا کٹھن راستہ، دونوں راستوں پر جہاں پیار، محبت اور اپنائیت کے تازہ و توانا پھول نچھاور ہوتے ہیں، وہاں غصہ، نفرت، پسند و ناپسند اور حسد کے مرجھائے ہوئے کنول بھی ملتے ہیں۔ شاہ عبداللطیف بھٹائی رحمة اللہ علیہ نے فرمایا ہے:
جو وڙ جڙي جن سين سي وڙ ڪن
(جن کا جو ظرف یا خصلت ہوتی ہے، وہ ویسا ہی برتاؤ کرتے ہیں)
سائیں سردار شاہ کے سیاسی و ادبی سفر سے کوئی کتنے ہی اختلافات کیوں نہ رکھے، لیکن اس بات سے کبھی انکار نہیں کیا جا سکتا کہ انہوں نے قدم قدم پر کثیر الجہتی تنقیدی تیر برداشت کر کے 97 ہزار اساتذہ کی خالص میرٹ پر بھرتی، نصابی اصلاحات (خاص طور پر نصاب کی کتابوں سے تعصب اور نفرت انگیز مواد کا خاتمہ اور اسے جدید اصولوں کے تحت تیار کرنا)، نصابی و غیر نصابی سرگرمیوں بالخصوص سائنس اور آرٹ کے سنگم سے ہونے والی سرگرمیوں کو فروغ دینا، میوزک ٹیچرز کے تقرر کی کوشش کرنا (جو بعد میں کچھ وجوہات کی بنا پر نہ ہو سکے)، ٹیچر لائسنسنگ متعارف کروانا، نچلی سطح تک اسکولوں کے لیے مخصوص بجٹ مقرر کرنا، اسکولوں میں بک بینک قائم کرنا، مانیٹرنگ کا جدید ڈیجیٹل نظام وضع کرنا، اور اسمبلی ارکان و مخیر حضرات کو اسکولوں کی سرپرستی کی دعوت دینے جیسی مختلف اور منفرد سرگرمیوں کے ذریعے تعلیمی نظام میں تبدیلی لانے کی بھرپور کوشش کر کے ایک نئی تاریخ رقم کی ہے۔
اس تمام تعلیمی اصلاحات اور ترقی کے عمل میں، مجموعی طور پر ہمارے سماجی رویوں میں ایک دوسرے کا دست و بازو بننے اور ساتھ نبھانے کی روایت نے کتنا سر اٹھایا ہے؟ (یہ ایک سوچنے کا مقام ہے)۔
میں جب سائیں سردار شاہ کی اس تعلیمی تحرک پر تنقید (جو کہ تنقید کم اور طنز زیادہ ہوتی ہے) سنتا ہوں اور سائیں سردار شاہ کے صبر و برداشت کو دیکھتا ہوں، تو مجھے 2025 میں نوبل انعام پانے والے ادیب لاسلو کراسناہروکائی (László Krasznahorkai) یاد آتے ہیں، جنہوں نے 1985 میں ایک شاہکار ناول "سیٹن ٹینگو” (Satantango) لکھا تھا۔ بعد میں اسی ناول پر مشہور فلم ساز بیلا ٹار کے ساتھ مل کر ساڑھے سات گھنٹے کی بلیک اینڈ وائٹ فلم بنائی تھی۔ ایک ایسی فلم جس میں لوگ صرف بارش کو برستے ہوئے یا گائے کے غول کو چلتے ہوئے گھنٹوں دیکھتے رہتے ہیں۔ لاسلو کے ناول اور فلم کا حاصلِ کلام ایک جملے میں، ایک سوال کی صورت میں چیلنج ہے کہ:
"کیا آپ میں زندگی کو ٹھہر کر دیکھنے کا حوصلہ ہے؟”
لاسلو نے اپنے نوبل لیکچر میں اپنے "ٹھہراؤ” (Stillness) کے فلسفے کو بیان کرتے ہوئے کہا تھا کہ آج کا انسان "معلومات کے سیلاب” میں ڈوب رہا ہے، لیکن "دانائی” کے قحط کا شکار ہے۔ ہم نے زبان کو رابطے کا ذریعہ نہیں، بلکہ شور مچانے کا اوزار بنا دیا ہے۔ لاسلو نے نوبل انعام کا اسٹیج چھوڑنے سے پہلے آخری بات یہ کہی:
"ادب کا کام آپ کو خوش کرنا نہیں، بلکہ آپ کو جگانا ہے— چاہے وہ جاگنا کتنا ہی تکلیف دہ کیوں نہ ہو اور اس کے لیے آپ کو کوئی بھی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے۔”
سائیں سردار شاہ سیاستدان کے ساتھ ساتھ ایک خوبصورت شاعر اور ادیب بھی ہیں۔ انہوں نے اپنی تعلیمی وزارت کی سرگرمیوں کے ذریعے یہ جگایا (ثابت کیا) ہے کہ خالص میرٹ پر اساتذہ بھرتی کیے جا سکتے ہیں، نفرت سے پاک نصاب تشکیل دیا جا سکتا ہے، نچلی سطح تک بجٹ مقرر کیا جا سکتا ہے، اسکولوں میں سائنس اور آرٹ کے سنگم سے بچوں کی ذہنی نشوونما کی جا سکتی ہے، اور سندھ کا اسکول دنیا کے ٹاپ ٹین (نمایاں دس نمبروں) میں شامل ہو سکتا ہے۔
لاسلو نے اپنی تقریر/لیکچر کے آخری جملے پر آنے سے پہلے اپنے سامعین کو متوجہ کرتے ہوئے کہا تھا:
"آپ کی توجہ (Attention) وہ آخری چیز ہے جو آپ کے پاس بچی ہے، اسے سستی تفریح کے بدلے مت بیچیں۔”
چنانچہ ہمارے پاس بھی ہماری آخری توجہ ہی بچی ہے۔ سائیں سردار شاہ بھی ایک انسان ہیں۔ انسان ہونے کے ناطے ان سے بشری کمزوریاں ہو سکتی ہیں، لیکن مجموعی طور پر سائیں سردار شاہ نے تعلیمی اصلاحات اور ترقی کے لیے جو مثبت اقدامات اٹھائے ہیں، ان میں ہمیں اپنا مثبت ساتھ دینا چاہیے۔ ہمیں اپنی توانائی اس غیر ضروری تنقید میں ضائع نہیں کرنی چاہیے جو زیادہ تر طنز کے دائرے میں آتی ہے۔
امریکہ کی اندرونی سیاست کے اثرات پوری دنیا پر پڑتے ہیں۔ آج دنیا جو کچھ بھگت رہی ہے، اس کی بڑی وجہ امریکہ کے صدارتی انتخابات میں ٹرمپ کی کامیابی ہے۔ اس وقت جب امریکہ میں مڈٹرم انتخابات قریب ہیں، تب صدر ٹرمپ اپنی پارٹی کو ایک یقینی شکست سے بچانے کے لیے ڈیموکریٹک پارٹی کی سوشلسٹ لابی اور اس کے رہنما زہران ممدانی کو ہدف بنا رہا ہے۔
وہ دعویٰ کررہے ہیں کہ یہ لوگ امریکہ میں ذاتی ملکیت ختم کر کے کمیونزم لانا چاہتے ہیں، جسے روکنا اس کی ذمہ داری ہے۔ ایک ایسی بات جس کا حقیقت میں کوئی وجود نہیں، لیکن صدر ٹرمپ اپنی ڈوبتی سیاست کو بچانے کے لیے ہر طریقہ استعمال کرنا چاہتا ہے۔
یہ اب صرف صدر ٹرمپ کا معاملہ نہیں بلکہ ڈیموکریٹک پارٹی کے اندر بھی ہو رہا ہے۔ پارٹی کے اندر اعتدال پسند، بائیڈن گروپ، اور ترقی پسند، ڈیموکریٹک سوشلسٹ دھڑے، ممدانی، کے درمیان قیادت کی جنگ چل رہی ہے۔ یہ امریکی سیاست میں ایک نیا زلزلہ ہے۔ لیکن حقیقت میں ڈیموکریٹک سوشلسٹ کیا ہیں، اور مستقبل میں امریکہ پر ان کے کیا اثرات پڑیں گے، یہ سمجھنا بھی ضروری ہے۔
موجودہ سال 2026 کے وسط تک امریکہ میں ایک نیا سیاسی مقابلہ واضح نظر آ رہا ہے۔ یہ اب دونوں پارٹیوں میں بھی ہو رہا ہے۔ حالیہ کامیابیوں کے بعد ڈیموکریٹک پارٹی کا ترقی پسند، ممدانی، دھڑا زیادہ اعتماد کے ساتھ کہہ رہا ہے کہ صرف ‘ٹرمپ کی مخالفت’ کافی نہیں۔ پارٹی کو عام مزدور، نوجوان اور متوسط طبقے کے لیے واضح معاشی فوائد دکھانا ہوں گے۔ وہ عموماً ذاتی ملکیت ختم کرنے یا سوویت طرز کا نظام لانے کی بات نہیں کرتے بلکہ ان کا ماڈل زیادہ تر شمالی یورپ کی سماجی جمہوریت سے مشابہت رکھتا ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ اس وقت امریکی سیاست میں سوشلسٹ بلاک کے ابھار کو اپنی ‘مڈٹرم انتخابات’ کی حکمت عملی کے لیے ایک اہم ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہا ہے۔ ٹرمپ اس وقت ایک مشکل صورتحال میں ہے، کیونکہ اس کی مقبولیت کے اعداد و شمار کم ہیں اور ووٹرز میں مہنگائی اور بیرونی جنگوں، خاص طور پر ایران کے ساتھ جنگ، کے بارے میں غصہ ہے۔
اس صورتحال کا مقابلہ کرنے کے لیے ٹرمپ اس وقت ‘خوف کا عنصر’ استعمال کر رہا ہے۔ ٹرمپ ووٹرز کو ڈرا رہا ہے کہ اگر ڈیموکریٹس جیت گئے تو ملک میں ‘کمیونسٹ نظام’ آ جائے گا، جو مذہب اور روایتی امریکی طرز زندگی کو تباہ کر دے گا۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ ممدانی یا اس کے ساتھیوں نے کبھی بھی ذاتی ملکیت ختم کرنے کی بات نہیں کی۔
صدر ٹرمپ ان پر برہم ہے اور کہتا ہے کہ یہ ‘کمیونسٹ جانور’ ہیں، جو مخالفین کو قتل کرنے کے لیے تیار بیٹھے ہیں۔ یہ بے رحم کمیونسٹ تمام مذاہب پر حملہ کریں گے۔ خاص طور پر عیسائیوں کو ان سے سب سے زیادہ خطرہ ہے۔ جو ہمارے ملک کے لیے بڑا خطرہ ہیں، انہیں روکنا وقت کی ضرورت ہے۔ اگر سرمایہ دار ختم ہو جائیں گے تو پھر لوگ کھائیں گے کہاں سے۔
ٹرمپ کی اس بیان بازی کا مقصد اپنے ‘ووٹنگ بیس’، سخت گیر ووٹرز، کو متحرک کرنا ہے۔ اگر یہ بیانیہ کامیاب رہا تو شاید ریپبلکن پارٹی کچھ سیٹیں بچا لے، لیکن اگر عوام کی اصل توجہ معاشی مسائل، مہنگائی، پر رہی تو ٹرمپ کی اس ‘کمیونسٹ’ مہم کا اثر کم ہو سکتا ہے، جس سے اسے مڈٹرم انتخابات میں نقصان ہونے کا امکان ہے۔
گروپ کون سا ہے؟
آخر یہ کون سا گروپ ہے، جس کے نام پر صدر ٹرمپ پوری قوم کو ڈرا رہا ہے؟ اس کا نام ہے ڈیموکریٹک سوشلسٹس آف امریکہ۔ اس کا کوئی ایک سربراہ نہیں بلکہ برنی سینڈرز اور الیگزینڈریا اوکاسیو کورٹیز سالوں سے اس کی پشت پر کھڑے ہیں۔ یہ ایک گراس روٹ تحریک ہے، جس کی بڑھتی رفتار حیران کن ہے۔ صرف دس سالوں میں ممبرشپ پانچ ہزار سے ایک لاکھ تک پہنچی ہے، یعنی بیس گنا اضافہ۔ یہ کوئی معمولی رجحان نہیں، یہ ایک سیاسی زلزلہ ہے۔
نیویارک سٹی ڈی ایس اے اس کا سب سے طاقتور دھڑا ہے، جس کی قیادت اب نیویارک سٹی کا نوجوان میئر زہران ممدانی کر رہا ہے۔ لیکن کیا یہ واقعی ذاتی ملکیت ختم کرنا یا سوویت طرز کا نظام لانا چاہتے ہیں، جیسا ٹرمپ دعویٰ کر رہا ہے؟ حقیقت اس سے بالکل مختلف ہے۔ ان کا ماڈل زیادہ تر شمالی یورپ کی سماجی جمہوریت سے ملتا ہے، نہ روسی نظام سے اور نہ چینی نظام سے۔
یہ چاہتے ہیں کہ سرمایہ داروں سے ٹیکس وصول کر کے غریب لوگوں کو اس کا فائدہ دیا جائے۔ یونیورسل ہیلتھ سہولیات، رینٹ فریز، مفت چائلڈ کیئر، مفت بسیں اور شہر کی اپنی گروسری دکانیں۔
کامیابی کیوں مل رہی ہے؟
جون 2026 کے نیویارک پرائمری انتخابات میں ایک واضح اشارہ ملا۔ ممدانی کی طرف سے تجویز کردہ تینوں کانگریشنل امیدوار جیت گئے، جن میں تجربہ کار سیاست دان ایڈریانو ایسپیلاٹ بھی شامل تھا، جو پانچ بار جیتتا رہا ہے۔ یہ صرف نیویارک کی بات نہیں۔ واشنگٹن ڈی سی اور لاس اینجلس میں بھی ایسے ہی سوشلسٹ امیدوار آگے بڑھ رہے ہیں۔ ممدانی کی مقبولیت کا گراف دیکھیں تو پتا چلے گا کہ نیویارک سٹی میں اب یہ 58 سے 26 فیصد تک پہنچ گیا ہے۔
کچھ ماہرین، جیسے کولمبیا یونیورسٹی کے پروفیسر رابرٹ شاپیرو، کہتے ہیں کہ یہ اثر شاید صرف نیویارک تک محدود رہے، لیکن وہ خود بھی مانتے ہیں کہ مہنگائی اور معاشی مشکلات کا بیانیہ قومی سطح پر بھی اثر کر سکتا ہے۔
اصل صورتحال اس سے بھی زیادہ دلچسپ ہے۔ 44 فیصد امریکی سوشلزم کو رد کرتے ہیں، لیکن ڈیموکریٹس کے اندر یہ عدد بالکل برعکس ہے۔ 46 فیصد اسے پسند کرتے ہیں۔ یہی وہ عدد ہے جس نے ڈیموکریٹک پارٹی کے بڑے رہنماؤں، حکیم جیفریز اور چک شومر، کو پریشان کر رکھا ہے۔
نیویارک اٹارنی جنرل لیٹیٹیا جیمز نے کہا ہے کہ ممدانی کی حمایتیں پارٹی کو ‘توڑ’ سکتی ہیں۔ ممدانی بلاک کو شہری سطح پر بڑی کامیابی مل چکی ہے، لیکن قومی سطح پر 2026 اور 2028 کے انتخابات ہی یہ طے کریں گے کہ یہ رجحان کب تک چلے گا یا یہ صرف نیویارک تک محدود رہے گا۔
جب کہ جو بائیڈن کا اعتدال پسند گروپ آج بھی ملک کی کئی ریاستوں میں کامیابی سے چل رہا ہے۔ قومی سطح پر ڈیموکریٹک پارٹی ابھی بھی متوسط دھڑے، موڈریٹس، اور ترقی پسند دھڑے کی مشترکہ پارٹی ہے۔ اس وقت ممدانی کا گروپ مڈٹرم انتخابات میں کم آمدنی والے طبقے کے لیے سرکاری صحت کی مفت سہولیات، مزدور یونینز کی بحالی، مناسب اجرت، سستے گھر، مفت تعلیم اور سرمایہ داروں سے ٹیکس لے کر لیبر کلاس میں تقسیم کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے۔
ارب پتیوں اور بڑی کمپنیوں سے زیادہ ٹیکس وصول کیا جائے۔ یہ پیسہ صحت، تعلیم، رہائش، بچوں کی دیکھ بھال اور دیگر عوامی خدمات پر خرچ کیا جائے۔ معاشی عدم مساوات کم کی جائے، جبکہ امریکی ترقی پسند اکثر ان کی حمایت کر رہے ہیں۔
سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ ڈیموکریٹک پارٹی کا بڑا حصہ ابھی بھی سینٹرسٹ ہے، جو کارپوریٹ لابی کے قریب ہیں۔ یہ سوشلسٹ پالیسیوں کو ‘انتہا پسند’ قرار دے کر روکیں گے۔ یہ گروپ ایک نئی سیاسی طاقت بن کر ابھر رہا ہے، جو امریکہ کی روایتی سیاست کو چیلنج کر رہا ہے۔
اگرچہ ان کی کامیابی کا راستہ مشکل ہے، لیکن انہوں نے بحث کا محور تبدیل کر دیا ہے، جس کے نتیجے میں اب بڑی پارٹیاں بھی صحت اور تعلیم کے حقوق پر بات کرنے کے لیے مجبور ہیں۔ ان کا ابھار امریکی سیاست کے لیے ایک نیا موڑ ہے۔ ان کی اقتصادی اور خارجہ پالیسی ریپبلکن سے مختلف ہے۔ یہ پالیسی امریکی سرمایہ دارانہ نظام کی بنیادوں کو ہلا دیتی ہے۔ جب یہ ارب پتیوں پر ٹیکس بڑھانے کی بات کرتے ہیں تو وہ اصل میں امریکہ کے اس کارپوریٹ کلچر کو چیلنج کرتے ہیں، جو دہائیوں سے سیاست پر اثر انداز ہے۔
ان کی کامیابی کا مطلب ہو گا امریکہ میں ‘مڈل کلاس’ کی بحالی، لیکن اس کے نتیجے میں کارپوریٹ سیکٹر کا سیاسی اثر کم ہو جائے گا۔ یہ چاہتے ہیں کہ دنیا کے ساتھ جنگیں ختم کی جائیں، وہ بجٹ غریب امریکیوں پر خرچ کیا جائے۔ اسرائیل کو خیرباد کہہ کر فلسطینیوں کی نسل کشی بند کی جائے اور عرب ممالک کے ساتھ تجارت بڑھائی جائے۔ ایران کے ساتھ ہر معاملہ سفارت کاری کے ذریعے حل کیا جائے۔
اگر یہ گروپ کامیاب ہوتا ہے تو امریکہ شاید اپنی ‘گلوبل ہیجیمنی’ سے ہاتھ کھینچ کر ایک زیادہ ‘آئسولیشنسٹ’ یا کم جارحانہ ملک بن جائے۔ یہ تبدیلی مشرق اور مغرب کے درمیان طاقت کے توازن کو مکمل طور پر تبدیل کر دے گی۔
ان کی کامیابی کے امکانات اس بات پر منحصر ہیں کہ کیا یہ ثابت کر سکتے ہیں کہ ‘امریکہ کو اپنے شہریوں کا خیال رکھنے کے لیے عالمی جنگوں کی ضرورت نہیں۔’ اگر یہ یہ بیانیہ مستحکم کرنے میں کامیاب ہو گئے تو نہ صرف ڈیموکریٹک پارٹی بلکہ پوری امریکی ریاست کا رخ تبدیل ہو جائے گا۔ لیکن اس راستے میں امریکی ‘ملٹری انڈسٹریل کمپلیکس’، فوجی صنعتی ڈھانچہ، کا بڑی رکاوٹ ہونا یقینی ہے، کیونکہ اس کا وجود ہی ان جنگوں سے وابستہ ہے جنہیں یہ گروپ ختم کرنا چاہتا ہے۔
اصل سوال یہ نہیں کہ کیا ممدانی بلاک جیتے گا یا ہارے گا۔ اصل سوال یہ ہے کہ کیا یہ امریکہ کی سیاست کا بنیادی بیانیہ بدل چکے ہیں۔ اس کا جواب پہلے ہی ‘ہاں’ میں مل رہا ہے۔ صحت، تعلیم اور سستائی کے مسائل اب بڑی پارٹیوں کی بھی مرکزی بحث بن چکے ہیں۔ جسے کچھ سال پہلے ‘انتہا پسند’ سمجھا جاتا تھا، وہ اب مین اسٹریم بحث ہے۔
یہی وہ سبب ہے جو ٹرمپ کو اتنا پریشان کر رہا ہے۔ وہ جانتا ہے کہ اگر مقابلہ خالص معیشت پر رہا تو وہ ہار جائے گا۔ اس لیے وہ بحث کو ‘نظریاتی جنگ’ کی طرف لے جانا چاہتا ہے۔ سوشلزم بمقابلہ امریکیزم۔ کیونکہ یہی وہ میدان ہے جس پر وہ ابھی کچھ ووٹرز کو متحرک کر سکتا ہے۔
لیکن سوال یہ ہے کہ کیا یہ خوف کا کارڈ ہمیشہ کارگر رہے گا، یا نئی نسل، جسے بیرونی جنگوں سے زیادہ اپنے گھر کی معیشت کی فکر ہے، آخرکار اس سے بالاتر ہو جائے گی؟ اس کا جواب نہ صرف ڈیموکریٹک پارٹی کے مستقبل بلکہ پوری امریکہ کے عالمی کردار کو بھی نئے سرے سے طے کرے گا۔
سندھ کی سیاسی تاریخ میں جام صادق علی ایک ایسی شخصیت کے طور پر سامنے آئے جنہوں نے اگرچہ مختصر مدت کے لیے وزارت اعلیٰ سنبھالی، مگر ان کے دور اقتدار کے اثرات طویل عرصے تک محسوس کیے جاتے رہے۔
جام صادق علی 1934 میں ضلع سانگھڑ کے قصبے جام نواز علی میں پیدا ہوئے اور پاکستان پیپلز پارٹی کے پہلے دور حکومت میں ایک اہم رہنما کے طور پر ابھرے۔ وہ سندھ کے وزیر بلدیات بھی رہے۔ سابق فوجی آمر ضیا الحق کے مارشل لا کے دوران وہ جلاوطنی اختیار کرنے پر مجبور ہوئے، تاہم 1988 میں بہاولپور طیارہ حادثے میں ضیا الحق کی ہلاکت کے بعد 1989 میں وطن واپس آ گئے۔
1988 کے عام انتخابات کے بعد بینظیر بھٹو کے برسر اقتدار آنے پر انہیں سندھ میں اثر و رسوخ کی بنیاد پر سیاسی مشیر مقرر کیا گیا۔ فوجی آمر ضیا الحق کی موت کے بعد 1988 میں ہونے والے عام انتخابات میں پاکستان پیپلز پارٹی کا مقابلہ کرنے کے لیے سیاسی اتحاد اسلامی جمہوری اتحاد یا آئی جے آئی تشکیل دیا گیا تھا۔
بعد ازاں 1990 میں صدر غلام اسحاق خان کی جانب سے حکومت برطرف کیے جانے کے بعد ایک نگران سیٹ اپ قائم کیا گیا، جس میں جام صادق علی کو سندھ کا نگران وزیر اعلیٰ مقرر کیا گیا اور یوں ان کی بھرپور سیاسی واپسی ہوئی۔
بینظیر بھٹو کے دور اقتدار کے دوران نواز شریف کی قیادت میں اسلامی جمہوری اتحاد قائم ہوا، جبکہ غلام مصطفیٰ جتوئی کو نگران وزیر اعظم بنایا گیا۔ یوں وفاق اور سندھ میں ایسی سیاسی قیادت سامنے لائی گئی جسے پیپلز پارٹی کے مقابلے میں کھڑا کیا گیا۔
1990 کے عام انتخابات کے بعد جام صادق علی سندھ اسمبلی میں لیڈر آف دی ہاؤس منتخب ہوئے اور پانچ مارچ 1992 کو اپنی وفات تک وزیر اعلیٰ کے منصب پر فائز رہے۔ اگرچہ 130 رکنی صوبائی ایوان میں آئی جے آئی کو صرف 20 نشستیں حاصل ہوئیں، تاہم سیاسی جوڑ توڑ کے نتیجے میں اس وقت کی مہاجر قومی موومنٹ ایم کیو ایم کو ساتھ ملا کر حکومت قائم کر لی گئی۔
درحقیقت جام صادق علی کی حکومت ایم کیو ایم کی مرہون منت ہی بن سکی کیونکہ ایم کیو ایم نے سندھ اسمبلی میں کل 36 نشستیں حاصل کی تھیں اور آزاد اراکین کو ملا کر سادہ اکثریت سے صوبائی حکومت تشکیل دی گئی تھی جس کی سربراہی جام صادق کو سونپی گئی، جبکہ پیپلز پارٹی سب سے زیادہ نشستیں لے کر ایوان میں سب سے بڑی پارٹی بن گئی تھی اور اس کی ریزرو نشستوں کے ساتھ کل 60 نشستیں تھیں۔
جام صادق علی کا وزیر اعلیٰ کے طور پر اگست 1990 سے مارچ 1992 تک کا یہ عرصہ سندھ کی سیاست میں ‘سیاہ و سفید’ کا ایک عجیب امتزاج تھا۔ اس زمانے میں ایک طرف ترقیاتی کاموں اور لسانی ہم آہنگی کی کوششیں نظر آئیں، وہیں دوسری طرف سیاسی انتقام، شہروں میں پرتشدد واقعات اور متنازع فیصلوں کی ایک طویل فہرست بھی موجود ہے۔
متنازع اقدامات اور سیاسی انتقام
جام صادق علی ایک منجھے ہوئے زیرک سیاستدان تھے جنہوں نے اپنی سیاست کا بڑا حصہ پیپلز پارٹی کے سائے میں گزارا۔ تاہم جب وہ سندھ کے وزیر اعلیٰ منتخب ہوئے تو وہ سندھ کی سیاست میں ایک بڑے تلاطم کا پیش خیمہ ثابت ہوئے۔
جام صادق علی کے دور کو اکثر ‘سیاسی انتقام کا دور’ کہا جاتا ہے۔ ان کے دور اقتدار کی سب سے بڑی شہرت پیپلز پارٹی کے خلاف ان کا سخت گیر رویہ تھا۔
انہوں نے اپنے سابقہ ساتھیوں اور پیپلز پارٹی کے کارکنوں کے خلاف مقدمات اور گرفتاریوں کا وہ سلسلہ شروع کیا جس کی مثال کم ہی ملتی ہے۔ ان پر الزام لگایا جاتا ہے کہ انہوں نے ریاستی مشینری کا بے دریغ استعمال کر کے سیاسی مخالفین کو دیوار سے لگایا۔
رپورٹس کے مطابق اس دور میں پاکستان پیپلز پارٹی کے کارکنوں اور رہنماؤں کے خلاف بڑے پیمانے پر کارروائیاں کی گئیں۔ مختلف اخبارات میں چھپی خبروں کے مطابق اپوزیشن سے تعلق رکھنے والے افراد کو نہ صرف گرفتار کیا گیا بلکہ بعض کیسز میں انہیں طویل حراست میں بھی رکھا گیا۔
اس وقت کے صدر غلام اسحاق خان کے داماد عرفان اللہ مروت کو سندھ میں صوبائی مشیر داخلہ مقرر کیا گیا تھا۔ ان کے ہی ایک رشتہ دار سمیع اللہ مروت سی آئی اے کے سربراہ تھے، جن کے ذریعے اپوزیشن پاکستان پیپلز پارٹی کے کارکنوں پر سی آئی اے سینٹر میں زیر حراست تشدد کیا جاتا تھا۔
اخباری مواد کے مطابق صوبائی حکومت نے ریاستی اداروں خصوصاً پولیس اور کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی سی آئی اے کو استعمال کرتے ہوئے اپوزیشن پر دباؤ بڑھایا۔ ان اقدامات کا مقصد پیپلز پارٹی کے اثر و رسوخ کو کم کرنا اور اسے سیاسی طور پر کمزور کرنا تھا۔ اخباری رپورٹس میں اس دور کو ‘سیاسی محاذ آرائی’ اور ‘انتظامی دباؤ’ کا دور قرار دیا گیا۔
پیپلز پارٹی کی طلبہ تنظیم پیپلز اسٹوڈنٹس فیڈریشن گرلز ونگ کراچی کی رہنما راحیلہ ٹوانہ کو اس وقت کی سی آئی اے پولیس نے گرفتار کر کے بدنام زمانہ سی آئی اے صدر ٹارچر سینٹر منتقل کر دیا، جہاں ان کے ساتھ ان کے بھائی اور ایک دوست کو بھی حراست میں رکھا گیا۔ بعد ازاں ایک انٹرویو میں، جو 11 فروری 1991 کو انگریزی روزنامہ دی نیوز میں شائع ہوا، راحیلہ ٹوانہ نے الزام عائد کیا کہ دوران حراست انہیں شدید تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔
ان کے بیان کے مطابق پولیس اہلکاروں نے ان کے ہاتھوں اور پاؤں پر تشدد کیا، جس کے باعث وہ صحیح طور پر چلنے سے بھی قاصر ہو گئیں۔ انہوں نے کہا کہ انہیں رات گیارہ بجے ہاتھوں سے باندھ کر لٹکایا گیا اور صبح چار بجے تک اسی حالت میں رکھا گیا۔ مزید یہ کہ تین دن تک انہیں کھانے سے محروم رکھا گیا اور دباؤ ڈالنے کے لیے ان کے بھائی کو بھی تشدد کی دھمکیاں دی گئیں۔
راحیلہ ٹوانہ کا کہنا تھا کہ ان پر دباؤ ڈالا گیا کہ وہ بینظیر بھٹو، آصف علی زرداری اور منظور حسین وسان کے خلاف بیان دیں، تاہم انہوں نے انکار کر دیا۔ ان کے مطابق بعد میں اہلکاروں نے زبردستی ان سے خالی کاغذات پر دستخط بھی کروائے۔ یہ واقعہ اس دور میں زیر حراست افراد کے ساتھ مبینہ سلوک کے حوالے سے سنگین سوالات اٹھاتا ہے۔
صوبائی حکومت اور ایم کیو ایم کی جانب سے صحافیوں پر تشدد
جام صادق علی کے دور میں سندھ میں بارہ کے قریب صحافیوں کو ان کے پاکستان پیپلز پارٹی سے تعلق کی بنیاد پر گرفتار کیا گیا۔ گرفتار کیے جانے والے صحافیوں میں بشیر بدر بھٹو، حضرت پردیسی، حسن جتوئی، زاہد سومرو، عبدل زانو، طارق بھٹی، اسماعیل بھٹو، عبدالقادر بگٹی، شفیع، عبدالتوراب سانگی اور عبدالستار شامل تھے۔
کراچی میں پولیس نے ماہنامہ ‘ہیرالڈ’ کی کاپیاں ضبط کر لیں کیونکہ اس شمارے میں اس وقت کے صوبائی مشیر داخلہ عرفان اللہ مروت کے بارے میں ایک رپورٹ شائع ہوئی تھی جس میں ان کے خفیہ پہلوؤں کو بے نقاب کیا گیا تھا۔
حکومت میں ایک بہت بڑا حصہ رکھنے اور کراچی اور صوبے کے دیگر شہری علاقوں کی انتظامیہ اور بلدیاتی اداروں پر مکمل کنٹرول ہونے کے باعث ایم کیو ایم نے اپنے مخالفین کے خلاف پرتشدد کارروائیاں جاری رکھیں۔ اپوزیشن کے ساتھ ساتھ اخبارات اور صحافی بھی اس دباؤ سے محفوظ نہ رہ سکے۔
سندھی اخبار عوامی آواز کے پہلے ایڈیٹر اور سینئر صحافی سہیل سانگی کے مطابق جام صادق علی سندھی اخباروں کے ایڈیٹرز کو خاص طور پر ڈنر یا لنچ پر بلاتے تھے اور پیپلز پارٹی کے خلاف خبریں چھاپنے پر زور دیتے تھے۔ ان کے دور میں کئی اخبارات کے سرکاری اشتہارات بند کیے گئے تاکہ انہیں اپوزیشن کے خلاف لکھنے پر مجبور کیا جائے۔
مگر ان تمام جابرانہ اقدامات کے باوجود سندھی اخبارات نے جام صادق علی حکومت کے مظالم پر کھل کر لکھا۔ اس دور میں کئی نئے سندھی اخبارات جاری ہوئے اور سندھی صحافت کی تاریخ میں پہلی مرتبہ سندھی اخبارات نے مشترکہ اداریے لکھنا شروع کیے۔
وفاقی اردو یونیورسٹی کے پروفیسر ڈاکٹر اوج کمال اپنے پی ایچ ڈی مقالے ‘Threat to Journalists in Pakistan’ میں لکھتے ہیں کہ اکتوبر 1990 کے انتخابات کے بعد مسلم لیگ کی حکومت نے متحدہ قومی موومنٹ کے ساتھ اتحاد میں آتے ہی پریس کی آزادی محدود کرنے کے اقدامات شروع کر دیے۔ پہلے سے موجود پابندیاں مزید سخت ہو گئیں اور مختلف گروہوں کی جانب سے میڈیا پر دباؤ بڑھتا گیا۔
ان کے مطابق انیس مارچ 1991 کو ایم کیو ایم کے کارکنوں نے ڈان کے اخبارات چھین لیے اور بائیس مارچ کو اس کی ترسیل نہیں ہونے دی گئی، جبکہ کراچی میں اس کا بائیکاٹ بھی کیا گیا۔ انگریزی روزنامہ ‘دی نیوز’ کے صحافی کامران خان کو ان کے کراچی کے دفتر کے سامنے چاقو مارا گیا، جبکہ ہفت روزہ جریدے ‘تکبیر’ کے مدیر مولانا صلاح الدین کے گھر کو آگ لگا دی گئی۔
ڈاکٹر اوج کمال کے مطابق اس دور میں صحافیوں کی گرفتاریاں بھی معمول بن گئیں۔ پولیس کی جانب سے ہراساں کرنا ایک عام ہتھکنڈا تھا۔ اگست 1991 میں ڈان کے حسن سنگرمی اور روزنامہ مشرق کے الیاس کو کراچی میں تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ مزید برآں 1992 میں جنگ گروپ کے سربراہ میر شکیل الرحمان اور ‘دی نیوز’ کی مدیر ملیحہ لودھی کے خلاف بھی مقدمات درج کیے گئے۔ اس پورے دور میں میڈیا اداروں اور صحافیوں پر حملوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا۔
جام صادق علی کی وفات کے بعد کراچی میں امن و امان کی بگڑتی صورتحال کے باعث وفاقی حکومت نے جون 1992 میں فوجی آپریشن شروع کیا، جسے عام طور پر کراچی آپریشن کہا جاتا ہے۔ اس میں رینجرز اور فوج نے حصہ لیا۔ ابتدا میں اس کا ہدف جرائم پیشہ عناصر اور مسلح گروہوں کے خلاف کارروائی تھا، تاہم بعد میں اس کے دائرہ کار میں کراچی کی اہم سیاسی پارٹی ایم کیو ایم بھی آ گئی۔
سندھ کے پانی کا مسئلہ: 1991 کا معاہدہ
جام صادق علی کے دور میں کچھ اہم نوعیت کے واقعات بھی پیش آئے جو سندھ کے کئی دیرینہ مسائل کو حل کرنے میں اہم پیش رفت ثابت ہوئے۔ ان میں سے سب سے نمایاں واقعہ 1991 کا ‘واٹر اپورشنمنٹ اکارڈ’ تھا۔ یہ معاہدہ آج بھی سندھ میں متنازع فیصلہ کے طور پر یاد کیا جاتا ہے، جس کے تحت دریائے سندھ کے پانی میں صوبوں کے حصے تعین کیے گئے۔
اگرچہ اس وقت اسے ایک بڑی کامیابی قرار دیا گیا تھا، لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ سندھ کے کسانوں اور ماہرین زراعت نے اسے سندھ کے حقوق پر ڈاکہ قرار دیا۔ ان کا موقف تھا کہ جام صادق علی نے وفاقی حکومت اور صوبہ پنجاب کے حکمرانوں کو خوش کرنے کے لیے سندھ کے دیرینہ پانی کے حقوق پر سمجھوتہ کیا، جس کے اثرات آج بھی بنجر زمینوں کی صورت میں نظر آتے ہیں۔
واٹر اکارڈ میں کئی مثبت نکات بھی شامل تھے، جن کے تحت دریائے سندھ کا پانی کوٹری سے نیچے چھوڑنے کو یقینی بنانا بھی شامل تھا تاکہ انڈس ڈیلٹا کی آبی حیات کا تحفظ ہو سکے۔ اس معاہدے میں واضح کیا گیا کہ سمندر میں کھارے پانی کے پھیلاؤ کو روکنے اور ماحولیاتی نظام کو بچانے کے لیے سالانہ تقریباً 10 ملین ایکڑ فٹ پانی کوٹری بیراج کے نیچے چھوڑا جانا چاہیے۔
تاہم معاہدے کی شرائط میں یہ بھی شامل تھا کہ پانی کی اس مقدار کا حتمی تعین ایک سائنسی مطالعے کے ذریعے کیا جائے گا تاکہ ماہرین کی رائے کی روشنی میں دریا کے ڈیلٹا کے لیے درکار پانی کی اصل مقدار کا درست اندازہ لگایا جا سکے۔ افسوس کہ اس سائنسی مطالعے کے لیے تب سے اب تک کوئی پیش رفت نہیں ہو سکی۔ خریف کے موسم کے دوران ہر سال سندھ میں پانی کی شدید قلت رہتی ہے۔
سندھی زبان اور ثقافت کا تحفظ
تمام تر تنازعات اور انسانی حقوق کی پامالی کے باوجود جام صادق علی کے کچھ اقدامات ایسے بھی تھے جنہیں آج بھی قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ ان کا سب سے بڑا کارنامہ 1991 میں ‘سندھی لینگویج اتھارٹی’ کا قیام تھا۔
یہ ادارہ آج بھی سندھی زبان کی ترویج، تحقیق اور اشاعت کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔ انہوں نے سندھی ثقافت اور ادب کی سرپرستی کی اور کئی ایسے منصوبے شروع کیے جن سے سندھ کی شناخت کو تقویت ملی۔
مزید برآں کراچی جیسے بڑے شہر میں امن و امان کی صورتحال کو بہتر بنانے کے لیے انہوں نے مختلف گروہوں کے درمیان مذاکرات کا راستہ کھولا۔ ان کے حامیوں کا کہنا ہے کہ جام صادق علی نے ایک ایسے وقت میں سندھ کی باگ ڈور سنبھالی جب صوبہ لسانی فسادات کی آگ میں جل رہا تھا اور انہوں نے اپنی انتظامی صلاحیتوں سے خون خرابے کو روکنے کی کوشش کی۔
جام صادق علی کے بارے میں مشہور تھا کہ وہ ایک بااثر اور رعب دار وزیر اعلیٰ تھے۔ ان کی انتظامیہ پر گرفت مضبوط تھی اور وہ بیوروکریسی سے کام لینا جانتے تھے۔ انہوں نے صوبے کے بنیادی ڈھانچے، سڑکوں اور پلوں کی تعمیر میں بھی دلچسپی لی۔ کراچی میں کورنگی انڈسٹریل ایریا کی جانب جانے والا ملیر ندی کے اوپر بنایا گیا ‘جام صادق پل’ ان کے دور کی ایک نشانی ہے جو آج بھی شہر کی ٹریفک کی روانی کے لیے اہم ہے۔
آخری ایام اور وفات
جام صادق علی کا انتقال پانچ مارچ 1992 کو جگر کے کینسر کے باعث ہوا۔ ان کی وفات کے بعد سندھ کی سیاست کا ایک باب تو بند ہو گیا لیکن ان کے چھوڑے ہوئے اثرات پر بحث آج بھی جاری ہے۔ ان کے جنازے میں ہزاروں افراد کی شرکت ان کے حامیوں کے مطابق اس بات کا ثبوت تھی کہ وہ جہاں اپوزیشن کے لیے ایک سخت گیر دشمن تھے وہیں عوام کے ایک حلقے میں مقبول بھی تھے۔
ان کی وفات کے بعد آئی جے آئی کے ایک اور مقامی رہنما سید مظفر حسین شاہ کو سندھ کا وزیر اعلیٰ چنا گیا۔
جام صادق علی کی شخصیت اور ان کے دور اقتدار کا کسی ایک زاویے سے مکمل احاطہ کرنا آسان نہیں۔ آج بھی جب سندھ کی سیاسی تاریخ کا جائزہ لیا جاتا ہے تو ان کا تذکرہ ایک ایسے وزیر اعلیٰ کے طور پر سامنے آتا ہے جس نے سیاست کے پیچیدہ ماحول میں اپنی سوچ کے مطابق فیصلے کیے، خواہ ان کے نتائج کتنے ہی بھاری کیوں نہ ہوں۔
عالمی سیاست کی پیچیدہ دنیا میں ایک حقیقت ہمیشہ واضح رہی ہے کہ ریاستوں کے تعلقات جذبات، نعروں یا ذاتی دوستیوں پر نہیں بلکہ مفادات کے توازن پر قائم ہوتے ہیں۔
تاریخ بار بار یہ ثابت کرتی ہے کہ جب کوئی ریاست حقیقت پسندی کے بجائے جذباتی انداز اختیار کرتی ہے تو اتحادیوں کے درمیان اعتماد کمزور پڑ جاتا ہے اور مشترکہ حکمت عملی متاثر ہوتی ہے۔
حالیہ دنوں میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا ایک بیان اسی بحث کو دوبارہ زندہ کر گیا ہے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ اگر ایران کے ساتھ بڑھتی کشیدگی کے دوران آبنائے ہرمز کو کھلا رکھنے کے لیے نیٹو ممالک نے امریکہ کا ساتھ نہ دیا تو اس کے سنگین نتائج نکل سکتے ہیں۔ اس بیان کو کئی مبصرین نے دباؤ ڈالنے کی کوشش اور سخت سفارتی انداز قرار دیا۔
آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین سمندری گزرگاہوں میں سے ایک ہے۔ عالمی تیل کی بڑی مقدار اسی راستے سے گزرتی ہے۔ اگر یہ راستہ بند ہوتا ہے تو اس کے اثرات صرف مشرق وسطیٰ تک محدود نہیں رہتے بلکہ عالمی معیشت بھی متاثر ہوتی ہے۔ اسی لیے امریکہ اسے ہر صورت کھلا رکھنا ضروری سمجھتا ہے۔
تاہم نیٹو کے کئی یورپی ممالک اس معاملے میں محتاط نظر آتے ہیں۔ ان کا ماننا ہے کہ ایران کے ساتھ براہ راست تصادم خطے کو مزید عدم استحکام کی طرف دھکیل سکتا ہے۔ اسی لیے وہ سفارتی حل، مذاکرات اور توازن کی پالیسی کو ترجیح دیتے ہیں۔ ہر ملک اپنے سیاسی، اقتصادی اور سلامتی کے مفادات کو سامنے رکھ کر فیصلہ کرتا ہے۔
یہ صورتحال ایک بار پھر واضح کرتی ہے کہ اتحاد بھی مفادات کے تابع ہوتے ہیں۔ نیٹو ایک مضبوط فوجی اتحاد ضرور ہے مگر اس کے تمام اراکین ہر معاملے پر ایک جیسا مؤقف اختیار نہیں کرتے۔ خاص طور پر جب بات کسی ممکنہ جنگ کی ہو تو کئی ممالک احتیاط کو ترجیح دیتے ہیں۔
ٹرمپ کا سخت لہجہ اسی لیے حیران کن سمجھا گیا۔ عالمی سفارت کاری میں تعلقات دباؤ سے نہیں بلکہ اعتماد، مشاورت اور مشترکہ حکمت عملی سے مضبوط ہوتے ہیں۔ دباؤ ڈالنے سے اتحاد کے اندر بے چینی اور شکوک پیدا ہو سکتے ہیں۔
عالمی سفارت کاری کا ایک اصول بار بار دہرایا جاتا ہے۔ ‘دوستیاں اور دشمنیاں مستقل نہیں ہوتیں، مفادات ہوتے ہیں’۔
موجودہ صورتحال بھی اسی حقیقت کی عکاسی کرتی ہے۔ امریکہ اور یورپی ممالک کے تعلقات دہائیوں پر محیط ہیں مگر اس کے باوجود ہر ملک اپنے مفادات کو سب سے پہلے رکھتا ہے۔
عالمی سیاست میں کامیابی اسی کو ملتی ہے جو اپنے اتحادیوں کے ساتھ تعلقات کو دباؤ کے بجائے اعتماد، احترام اور باہمی مفادات کی بنیاد پر آگے بڑھائے۔ طاقت، معیشت اور سفارت کاری ایک دوسرے سے جڑی ہوئی حقیقتیں ہیں اور ان میں توازن ہی پالیسیوں کا رخ طے کرتا ہے۔
آخر میں حقیقت سادہ ہے۔
ریاستیں نعروں سے نہیں، مفادات سے چلتی ہیں۔
جب انڈین لیجسلیٹو اسمبلی کے اجلاس کے اندر بھگت سنگھ نے بم پھینکے.
بھگت سنگھ برصغیر کا وہ انقلابی کردار ہے جس نے نہایت کم عمری میں ہی برصغیر کی سیاست اور انگریز سامراج سے آزادی کی جدوجہد پر اَن مِٹ نقوش چھوڑے۔
27 ستمبر 1907 کو لائل پور (موجودہ فیصل آباد) کے تعلقہ جڑانوالہ کے ایک چھوٹے سے گاؤں بنگا (جس کا نام بعد میں بھگت پور رکھا گیا) میں پیدا ہونے والے بھگت سنگھ کو محض 23 برس کی عمر میں 23 مارچ 1931 کو لاہور سینٹرل جیل میں تختہ دار پر چڑھا دیا گیا۔
بھگت سنگھ برطانوی سامراج کے بربریت سے سخت نالاں تھے۔ جب وہ صرف 12 برس کے تھے تو امرتسر میں جلیانوالہ باغ میں قتلِ عام کا واقعہ پیش آیا، جس نے اُن کی سوچ اور شعور پر گہرے اثرات مرتب کیے۔ کم عمری ہی میں وہ ہندوستاں سوشلسٹ ریپبلکن ایسوسی ایشن کے رکن اور رہنما کے طور پر ابھرے۔
اُس دور میں انگریز حکومت نے ہندوستان کے سیاسی مستقبل کے تعین کے لیے ۔سائمن کمیشن قائم کیا، جس میں ایک بھی مقامی ہندوستانی شامل نہ تھا۔ اس پر برصغیر کی تمام سیاسی جماعتوں اور رہنماؤں نے سائمن کمیشن کے بائیکاٹ کا اعلان کیا۔
جب سائمن کمیشن بمبئی پہنچنے والا تھا تو لاہور میں معروف سیاسی، سماجی، فلاحی اور قوم پرست رہنما لالا لجپت رائے کی قیادت میں لاہور ریلوے اسٹیشن پر احتجاج ہوا۔ اس احتجاج پر پولیس سپرنٹنڈنٹ جیمس اسکاٹ کی قیادت میں شدید تشدد کیا گیا، جس کے نتیجے میں ہندوستان کی مرکزی اسمبلی کے رکن اور کانگریس کے مرکزی رہنما لالا لجپت رائے زخمی ہوئے اور بعد ازاں وفات پا گئے۔
اس واقعے کے بعد نوجوان بھگت سنگھ نے لالا لجپت رائے کے خون کا بدلہ لینے کا فیصلہ کیا۔ 17 دسمبر 1928 کو بھگت سنگھ نے اپنے ساتھی راج گرو کے ہمراہ پولیس سپرنٹنڈنٹ جیمس اسکاٹ کے بجائے غلطی سے ایک اور نوجوان پولیس افسر جان سانڈرز کو قتل کر دیا۔ اس واقعے کے بعد وہ روپوش ہو کر لکھنؤ چلے گئے۔
بھگت سنگھ کی جانب سے اسمبلی میں بم پھینکنے والے واقعے کی شایع خبر
اس کے بعد بھگت سنگھ اور اُن کے ساتھیوں نے انگریز سرکار کے سامنے ایک بڑا دھماکا کرنے کا فیصلہ کیا۔ چنانچہ 8 اپریل 1929 کو دہلی میں مرکزی قانون ساز اسمبلی کے جاری اجلاس کے دوران بھگت سنگھ نے اپنے ساتھی بتوکیشور دت کے ساتھ دو کم شدت والے بم پھینکے، جن سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ انہوں نے اسمبلی میں پمفلٹ اچھالے، آزادی کے نعرے لگائے اور خود کو گرفتار کرا دیا۔
بروز پیر، 8 اپریل 1929
مرکزی قانون ساز اسمبلی، دہلی
ہندوستان کی تیسری مرکزی اسمبلی کا چوتھا اجلاس معمول کے مطابق اسپیکر وِٹھل بھائی پٹیل (سردار ولبھ بھائی پٹیل کے بڑے بھائی) کی صدارت میں جاری تھا۔ اس اجلاس میں سندھ کے دو اراکین، سیٹھ حاجی عبداللہ ہارون اور وڈیرہ محمد پناہ خان ڈکھن سمیت کُل 94 اراکین موجود تھے۔
سوال و جواب کے وقفے میں دو سوالات کے بعد اسپیکر نے اعلان کیا کہ اب ایوان میں ‘دی ٹریڈ ڈسپیوٹس بل‘ پر دوبارہ بحث کا آغاز کیا جائے گا۔ اس کے بعد میاں محمد شاہنواز (مغربی وسطی پنجاب — مسلم)، کرنل جی ڈی کرافورڈ (بنگال — یورپی)، ایم کے اچاریہ، سی ایس رنگا ایئر، فضل ابراہیم رحمت اللہ (بمبئی سینٹرل ڈویژن، مسلم دیہی) اور سر بھوپیندر ناتھ مترا نے بل پر تقاریر کیں۔
آخر میں اسپیکر نے قرارداد پیش کی کہ یہ بل جیسا کہ اسٹینڈنگ کمیٹی سے منظور ہو کر آیا ہے، ویسے ہی اس ایوان سے بھی منظور کیا جائے۔ ووٹنگ کے نتیجے میں بل کے حق میں 56 اور مخالفت میں 38 ووٹ پڑے۔ اسپیکر ابھی بل کی منظوری کا اعلان ہی کر رہے تھے کہ وزیٹرز گیلری سے چند بم ایوان میں اچھال دیے گئے۔ اگرچہ کوئی جانی نقصان نہ ہوا، تاہم چند اراکین زخمی ہو گئے۔
اسی دوران بھگت سنگھ اور اُن کے ساتھی ‘انقلاب زندہ باد‘ کے نعرے لگاتے ہوئے ایوان میں پمفلٹ پھینکتے رہے۔ دھماکوں کے بعد ایوان میں افراتفری پھیل گئی، مگر بھگت سنگھ اور اُن کے ساتھی فرار ہونے کے بجائے نعرے لگاتے ہوئے خود گرفتاری کے لیے پیش ہو گئے۔ اسپیکر بھی اپنی نشست چھوڑ کر چلے گئے، لیکن کچھ دیر بعد واپس آئے اور کارروائی ملتوی کرتے ہوئے اعلان کیا کہ اجلاس بروز جمعرات، 11 اپریل 1929، صبح 11 بجے دوبارہ ہوگا۔
اسمبلی میں بم دھماکے کے باوجود 11 اپریل 1929 کو اجلاس منعقد ہوا۔ اس اجلاس میں اسپیکر نے ایک قرارداد پیش کی جو متفقہ طور پر منظور کر لی گئی۔ قرارداد میں کہا گیا: ‘یہ ایوان اس ماہ کی آٹھ تاریخ کی صبح ہونے والے وحشیانہ اور غیر انسانی حملے پر اپنے دکھ اور غصے کا اظہار کرتا ہے اور سردار سر بومانجی دلال اور دیگر زخمی ہونے والوں سے گہری ہمدردی کا اظہار کرتا ہے۔
‘یہ ایوان خدائے مہربان کا شکر ادا کرتا ہے کہ اس حملے کے سنگین نتائج برآمد نہ ہوئے۔ یہ ایوان اس حملے کی مکمل مذمت کرتا ہے اور اعلیٰ حکام کو یقین دلاتا ہے کہ ایسے جرائم کے اعادے کو روکنے کے لیے جو بھی مناسب اقدامات ضروری ہوں، اُن میں اس ایوان کا مکمل تعاون حاصل ہوگا۔‘
اس واقعے کے بعد بھگت سنگھ اور اُن کے ساتھیوں پر مقدمات چلائے گئے۔ ٹرائل کے بعد بھگت سنگھ کو اسمبلی میں بم پھینکنے کے جرم میں عمر قید، جب کہ پولیس سارجنٹ جان سانڈرز کے قتل کے الزام میں سزائے موت سنائی گئی۔
23 مارچ 1931 کو بھگت سنگھ، راج گرو اور سکھ دیو کو لاہور سینٹرل جیل میں پھانسی دے دی گئی۔ اُن کے جسدِ خاکی ورثا کے حوالے کرنے کے بجائے رات کی تاریکی میں گنڈا سنگھ والا گاؤں میں آخری رسومات ادا کر کے راکھ دریائے ستلج میں بہا دی گئی۔
یہ پاکستان کی سیاست کی وہ داستان ہے جس میں طاقت، روحانیت، سیاست اورعقائد ایک دوسرے میں یوں گڈمڈ ہوتے نظر آتے ہیں کہ حقیقت اور تاثر کے درمیان فرق کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔
اور اب برطانوی جریدے دی اکانومسٹ گروپ کے ڈیجیٹل میگزین نے اسی موضوع پر ایک طویل، تحقیقاتی رپورٹ شائع کی ہے۔ اس رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ عمران خان کے دورِ حکومت میں ان کی بیگم بشریٰ بی بی نے مبینہ طور پر اہم سرکاری فیصلوں اور تقرریوں پر نمایاں اثر و رسوخ استعمال کیا۔ جریدے کے مطابق عمران خان کی سیاست، اُن کے سرکاری معاملات، اور یہاں تک کہ اُن کے قریبی رفقا تک رسائی میں بھی بشریٰ بی بی کا کردار مرکزی حیثیت اختیار کر چکا تھا۔
شادی یا سیاسی موڑ؟
سینئر صحافی اوون بینیٹ جونز کی تحریر کردہ اس رپورٹ کے مطابق، بانی پی ٹی آئی کی شخصیت، سیاست اور فیصلہ سازی میں ایک اہم موڑ اس وقت آیا جب ان کی شادی ان کی موجودہ بیگم بشریٰ بی بی سے ہوئی۔ یہ شادی ان کے وزیراعظم بننے سے کچھ مہینوں قبل ہوئی تھی۔ بشریٰ بیگم ایک ایسی شخصیت ہیں جنہیں ان کے قریبی حلقے "روحانی رہنمائی” کا ذریعہ سمجھتے رہے ہیں۔
اوون بینیٹ جونز لکھتے ہیں کہ ان کی بیگم کی وجہ سے نہ صرف بانی پی ٹی آئی کے اندازِ حکمرانی پر سوالات اٹھائے گئے، بلکہ حکومتی نظام کے اندر بھی ایک نئی طرح کا اثر و رسوخ قائم ہوا۔
حساس ملاقاتیں، تقرریاں اور اثر و رسوخ
رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ بشریٰ بی بی سرکاری معاملات، اہم فیصلوں، حتیٰ کہ بعض حساس تقرریوں تک اثر انداز ہونے کی کوشش کرتی رہیں۔ جریدے نے اس بات کی بھی نشاندہی کی کہ عمران خان کے دور میں ڈی جی آئی ایس آئی کی تبدیلی سمیت کچھ حساس معاملات پر بھی انہی اثرات کی بازگشت سنائی دیتی رہی۔
رپورٹ میں ایک سابق کابینہ رکن کا بیان بھی شامل ہے، جس کے مطابق بشریٰ بی بی حکومتی امور میں براہ راست مداخلت کرتی تھیں، جب کہ وہ حساس ملاقاتوں، حتیٰ کہ سابق وزیراعظم اور آرمی چیف کے اہم سیشنز میں بھی شریک رہتی تھیں۔
اسی سلسلے میں یہ دعویٰ بھی سامنے آیا کہ بانی پی ٹی آئی کا سرکاری طیارہ بھی بشریٰ بی بی کی اجازت کے بغیر اُڑان نہیں بھرتا تھا۔
ایک اور الزام کے مطابق، بانی نے بشریٰ بی بی کی ہدایات پر بعض قریبی ساتھیوں اور وفادار ملازمین سے بھی دوری اختیار کر لی۔
یہ دعوے رپورٹ کے حصہ ہیں، اور دی اکانومسٹ انہیں متعدد ذرائع کے بیانات کے طور پر بیان کرتا ہے۔
سیاست، کرکٹ اور کلٹ
دی اکانومسٹ یہ بھی کہتا ہے کہ جب عمران خان وزیراعظم تھے، تو صحافیوں کے ساتھ ملاقاتوں میں ملکی پالیسیوں یا حکومتی کارکردگی سے زیادہ کرکٹ، نجی زندگی اور ذاتی تعلقات موضوعِ گفتگو بنے رہتے تھے۔
دی اکانومسٹ کے مطابق عمران خان کی اسلام آباد کی رہائش بنی گالہ کے بعض سابق گھریلو ملازمین نے دعویٰ کیا کہ روحانی عملیات کے نام پر بعض رسومات بھی ادا کی جاتی تھیں، جن میں گوشت، کلیجی اور دیگر چیزوں کا استعمال کیا جاتا تھا۔ اگرچہ ان دعوؤں کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہوسکی، مگر جریدے نے انہیں سیاسی منظرنامے کا حصہ بننے والے بیانیوں میں سے ایک قرار دیا۔
رپورٹ کے مطابق، اقتدار میں آنے سے پہلے بلند و بانگ دعوے کیے گئے، مگر اقتدار ملنے کے بعد ایک بھی بڑا وعدہ پورا نہ ہو سکا۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کرپشن کیسز نے بانی پی ٹی آئی کے "صاف شفاف” ہونے کے بیانیے کو شدید نقصان پہنچایا، اور پارٹی کو ایک منظم سیاسی جماعت کی بجائے ایک "کلٹ” کی طرح چلایا گیا۔
دی اکانومسٹ کے مطابق “کچھ باخبر حلقوں کا خیال ہے کہ مستقبل میں بھی عمران خان کی حکمتِ عملی کا اہم حصہ بشریٰ بی بی کی رائے ہی رہے گا، چاہے وہ جیل میں ہوں یا رہائی کے بعد سیاسی میدان میں واپسی کریں۔
رپورٹ کا مجموعی تاثر یہ ابھرتا ہے کہ بانی پی ٹی آئی کی سیاست، ان کے نظریات، ان کے فیصلے اور ان کے اردگرد موجود شخصیات سب مل کر ایک ایسی کہانی تشکیل دیتے ہیں جو پاکستان کی سیاسی تاریخ میں کم ہی نظر آتی ہے۔ یہ ایک ایسی کہانی ہے جہاں مذہب، روحانیت، طاقت اور سیاست ایک ساتھ مل کر ایک غیر روایتی بیانیہ تخلیق کرتے ہیں۔