سیاست کا صحرا ہو یا ادب کا کٹھن راستہ، دونوں راستوں پر جہاں پیار، محبت اور اپنائیت کے تازہ و توانا پھول نچھاور ہوتے ہیں، وہاں غصہ، نفرت، پسند و ناپسند اور حسد کے مرجھائے ہوئے کنول بھی ملتے ہیں۔ شاہ عبداللطیف بھٹائی رحمة اللہ علیہ نے فرمایا ہے:
جو وڙ جڙي جن سين سي وڙ ڪن
(جن کا جو ظرف یا خصلت ہوتی ہے، وہ ویسا ہی برتاؤ کرتے ہیں)

سائیں سردار شاہ کے سیاسی و ادبی سفر سے کوئی کتنے ہی اختلافات کیوں نہ رکھے، لیکن اس بات سے کبھی انکار نہیں کیا جا سکتا کہ انہوں نے قدم قدم پر کثیر الجہتی تنقیدی تیر برداشت کر کے 97 ہزار اساتذہ کی خالص میرٹ پر بھرتی، نصابی اصلاحات (خاص طور پر نصاب کی کتابوں سے تعصب اور نفرت انگیز مواد کا خاتمہ اور اسے جدید اصولوں کے تحت تیار کرنا)، نصابی و غیر نصابی سرگرمیوں بالخصوص سائنس اور آرٹ کے سنگم سے ہونے والی سرگرمیوں کو فروغ دینا، میوزک ٹیچرز کے تقرر کی کوشش کرنا (جو بعد میں کچھ وجوہات کی بنا پر نہ ہو سکے)، ٹیچر لائسنسنگ متعارف کروانا، نچلی سطح تک اسکولوں کے لیے مخصوص بجٹ مقرر کرنا، اسکولوں میں بک بینک قائم کرنا، مانیٹرنگ کا جدید ڈیجیٹل نظام وضع کرنا، اور اسمبلی ارکان و مخیر حضرات کو اسکولوں کی سرپرستی کی دعوت دینے جیسی مختلف اور منفرد سرگرمیوں کے ذریعے تعلیمی نظام میں تبدیلی لانے کی بھرپور کوشش کر کے ایک نئی تاریخ رقم کی ہے۔

اس تمام تعلیمی اصلاحات اور ترقی کے عمل میں، مجموعی طور پر ہمارے سماجی رویوں میں ایک دوسرے کا دست و بازو بننے اور ساتھ نبھانے کی روایت نے کتنا سر اٹھایا ہے؟ (یہ ایک سوچنے کا مقام ہے)۔
میں جب سائیں سردار شاہ کی اس تعلیمی تحرک پر تنقید (جو کہ تنقید کم اور طنز زیادہ ہوتی ہے) سنتا ہوں اور سائیں سردار شاہ کے صبر و برداشت کو دیکھتا ہوں، تو مجھے 2025 میں نوبل انعام پانے والے ادیب لاسلو کراسناہروکائی (László Krasznahorkai) یاد آتے ہیں، جنہوں نے 1985 میں ایک شاہکار ناول "سیٹن ٹینگو” (Satantango) لکھا تھا۔ بعد میں اسی ناول پر مشہور فلم ساز بیلا ٹار کے ساتھ مل کر ساڑھے سات گھنٹے کی بلیک اینڈ وائٹ فلم بنائی تھی۔ ایک ایسی فلم جس میں لوگ صرف بارش کو برستے ہوئے یا گائے کے غول کو چلتے ہوئے گھنٹوں دیکھتے رہتے ہیں۔ لاسلو کے ناول اور فلم کا حاصلِ کلام ایک جملے میں، ایک سوال کی صورت میں چیلنج ہے کہ:
"کیا آپ میں زندگی کو ٹھہر کر دیکھنے کا حوصلہ ہے؟”

لاسلو نے اپنے نوبل لیکچر میں اپنے "ٹھہراؤ” (Stillness) کے فلسفے کو بیان کرتے ہوئے کہا تھا کہ آج کا انسان "معلومات کے سیلاب” میں ڈوب رہا ہے، لیکن "دانائی” کے قحط کا شکار ہے۔ ہم نے زبان کو رابطے کا ذریعہ نہیں، بلکہ شور مچانے کا اوزار بنا دیا ہے۔ لاسلو نے نوبل انعام کا اسٹیج چھوڑنے سے پہلے آخری بات یہ کہی:
"ادب کا کام آپ کو خوش کرنا نہیں، بلکہ آپ کو جگانا ہے— چاہے وہ جاگنا کتنا ہی تکلیف دہ کیوں نہ ہو اور اس کے لیے آپ کو کوئی بھی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے۔”

سائیں سردار شاہ سیاستدان کے ساتھ ساتھ ایک خوبصورت شاعر اور ادیب بھی ہیں۔ انہوں نے اپنی تعلیمی وزارت کی سرگرمیوں کے ذریعے یہ جگایا (ثابت کیا) ہے کہ خالص میرٹ پر اساتذہ بھرتی کیے جا سکتے ہیں، نفرت سے پاک نصاب تشکیل دیا جا سکتا ہے، نچلی سطح تک بجٹ مقرر کیا جا سکتا ہے، اسکولوں میں سائنس اور آرٹ کے سنگم سے بچوں کی ذہنی نشوونما کی جا سکتی ہے، اور سندھ کا اسکول دنیا کے ٹاپ ٹین (نمایاں دس نمبروں) میں شامل ہو سکتا ہے۔
لاسلو نے اپنی تقریر/لیکچر کے آخری جملے پر آنے سے پہلے اپنے سامعین کو متوجہ کرتے ہوئے کہا تھا:
"آپ کی توجہ (Attention) وہ آخری چیز ہے جو آپ کے پاس بچی ہے، اسے سستی تفریح کے بدلے مت بیچیں۔”

چنانچہ ہمارے پاس بھی ہماری آخری توجہ ہی بچی ہے۔ سائیں سردار شاہ بھی ایک انسان ہیں۔ انسان ہونے کے ناطے ان سے بشری کمزوریاں ہو سکتی ہیں، لیکن مجموعی طور پر سائیں سردار شاہ نے تعلیمی اصلاحات اور ترقی کے لیے جو مثبت اقدامات اٹھائے ہیں، ان میں ہمیں اپنا مثبت ساتھ دینا چاہیے۔ ہمیں اپنی توانائی اس غیر ضروری تنقید میں ضائع نہیں کرنی چاہیے جو زیادہ تر طنز کے دائرے میں آتی ہے۔

