Tag: تعلیم

  • جب سانس بوجھ بن جائے تو سبق کیسے یاد رہے

    جب سانس بوجھ بن جائے تو سبق کیسے یاد رہے

    صبح کے وقت شہر ابھی پوری طرح جاگا بھی نہیں ہوتا لیکن سڑکوں پر گاڑیوں کا شور بڑھنے لگتا ہے۔ فضا میں دھواں پھیلنے لگتا ہے اور کہیں کہیں کچرا جلنے کی بو بھی آتی ہے۔ انہی حالات میں ہزاروں بچے بستے اٹھائے اسکولوں کی طرف روانہ ہوتے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ جب سانس لینا ہی مشکل ہو تو سیکھنے کا عمل بھی متاثر ہوئے بغیر نہیں رہتا۔

    یہ مسئلہ اب صرف ماحولیات تک محدود نہیں رہا۔ اسے صحت اور تعلیم دونوں زاویوں سے دیکھا جا رہا ہے۔

    کراچی کی فضا اور اعداد و شمار

    23 مئی 2026 کو شہر میں اے کیو آئی 134 ریکارڈ کیا گیا، جو صحت کے لیے خاصی نقصان دہ سطح سمجھی جاتی ہے۔ رواں برس مارچ میں اے کیو آئی 153 بھی ریکارڈ کیا گیا تھا۔ ماہرین کے مطابق ایسی فضا میں مسلسل سانس لینا انسانی جسم پر نمایاں اثرات ڈال سکتا ہے۔ بچوں کے لیے اس کا درست موازنہ کرنا آسان نہیں، لیکن یہ طے ہے کہ ان کے لیے خطرہ زیادہ ہوتا ہے۔

    شہری امور کے ماہرین کے مطابق شہر میں فضائی آلودگی کا بڑا سبب ٹریفک ہے۔ اندازہ ہے کہ لگ بھگ ستر فیصد آلودگی گاڑیوں کے دھوئیں سے پیدا ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ صنعتی اخراج، کچرا جلانا، ڈیزل جنریٹر، تعمیراتی سرگرمیوں کی گرد اور ناقص ایندھن کا جلنا بھی فضا کو خراب کرتے ہیں۔

    پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن سینٹر کے سیکریٹری جنرل ڈاکٹر عبدالغفور شورو کے مطابق باریک آلودہ ذرات ‘پی ایم 2 اعشاریہ 5’ بچوں کے نشوونما پاتے پھیپھڑوں کو نقصان پہنچا کر سانس کی دائمی بیماریوں کا خطرہ بڑھاتے ہیں، جبکہ خراب فضائی معیار توجہ اور تعلیمی کارکردگی کو بھی متاثر کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ٹریفک کا دھواں اور بیرونی سرگرمیاں بچوں کو زیادہ متاثر کرتی ہیں، اس لیے آلودگی والے دنوں میں اے کیو آئی کی نگرانی کی جائے اور این 95 ماسک کے بغیر غیر ضروری باہر جانے سے گریز کرنا چاہیے۔

    بچے زیادہ متاثر کیوں ہوتے ہیں؟

    ڈاکٹروں کے مطابق بچے بڑوں کی نسبت تیزی سے سانس لیتے ہیں، اس لیے وہ فضا میں موجود باریک ذرات زیادہ مقدار میں اپنے جسم میں جذب کر لیتے ہیں۔ یہ ذرات پھیپھڑوں کی نشوونما پر اثر ڈالتے ہیں اور بعض صورتوں میں توجہ اور یادداشت کو بھی متاثر کرتے ہیں۔

    پیڈیاٹرک ماہر ڈاکٹر صائمہ کاشف کے مطابق بچپن وہ مرحلہ ہے جب سانس کا نظام تیزی سے بڑھ رہا ہوتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ پچھلے دو تین برس میں بچوں میں الرجی اور سانس کے مسائل میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ پہلے وائرل فلو سال میں چند بار ہوتا تھا، اب بعض بچوں میں یہ تعداد زیادہ ہو گئی ہے اور زیادہ تر کیس الرجی سے جڑے ہوتے ہیں۔ سانس کی بیماریاں اب صرف سردیوں تک محدود نہیں رہیں بلکہ سال بھر سامنے آ رہی ہیں، خاص طور پر بڑے شہروں میں۔

    عام علامات

    متاثرہ بچوں میں ناک کی سوزش، مستقل نزلہ، ناک بند رہنے کے باعث منہ سے سانس لینا، نیند میں خلل، بار بار انفیکشن اور کھانسی جیسی علامات دیکھی جاتی ہیں۔ یہ سب اس بات کی علامت ہیں کہ بچہ مسلسل آلودہ فضا میں سانس لے رہا ہے۔

    ہمدرد یونیورسٹی سے وابستہ حکیم محمد انس شمسی کے مطابق صاف ہوا صحت مند زندگی کی بنیادی ضرورت ہے۔ اس میں موجود نائٹروجن اور آکسیجن جسم کو نیوٹریشن پہنچانے کا اہم ذریعہ ہیں، لیکن اب یہی عناصر فضا میں مناسب یا مطلوبہ مقدار میں موجود نہ ہوں تو اس کا براہ راست اثر بڑھتے ہوئے بچوں کی مجموعی نشوونما پر پڑتا ہے۔ اس سے نہ صرف پھیپھڑے بلکہ پورے جسم کی نشوونما شدید متاثر ہوتی ہے۔ صبح کے وقت ماحول میں خنکی کی وجہ سے آلودگی کی سطح ویسے ہی بڑھی ہوئی ہوتی ہے، اور آلودہ ذرات زیادہ مقدار میں سانس کے ذریعے جسم میں داخل ہوتے ہیں۔ پہلے بچوں میں سانس کے مسائل صرف سردیوں میں سامنے آتے تھے لیکن اب یہ سارا سال کا مسئلہ بن گئے ہیں۔

    دماغ اور سیکھنے کی صلاحیت

    مائنڈ سائنس کے ماہر آصف علی خان کے مطابق فضائی آلودگی کے باریک ذرات دماغ کے ان حصوں کو متاثر کر سکتے ہیں جو توجہ، یادداشت اور فیصلہ سازی سے متعلق ہیں۔ بعض مطالعات میں دماغی سوزش اور سیکھنے کی رفتار میں کمی کے شواہد ملے ہیں۔ ایسی صورت میں بچہ کلاس میں جلد تھک جاتا ہے اور اس کے لیے سبق پر توجہ دینا مشکل ہو جاتا ہے۔

    کلاس روم کی صورتحال

    شہر کے مختلف تعلیمی اداروں کے اساتذہ سے بات چیت میں یہ سامنے آیا کہ آلودگی زیادہ ہونے سے بچوں میں سر درد، تھکن اور گلے کی تکالیف بڑھ جاتی ہیں۔ اساتذہ کے مطابق ایسے دنوں میں غیر حاضری بھی بڑھتی ہے اور تعلیمی سرگرمیوں کی رفتار متاثر ہوتی ہے۔

    بہادرآباد کے ایک تعلیمی ادارے کے سربراہ محمد عارف کا کہنا ہے کہ اگر حالات بہتر نہ ہوئے تو طویل مدت میں تعلیمی معیار متاثر ہو سکتا ہے۔ کورنگی کی ایک استاد تابندہ سحر کے مطابق آلودگی کے دوران فلو اور سانس کے مسائل کی وجہ سے حاضری کم ہو جاتی ہے۔

    آلودگی کم کرنے کے اہم مشورے

    پرائیویٹ اسکول ایسوسی ایشن کے جنرل سیکریٹری زبیر احمد کی رائے میں فضائی آلودگی اب صرف ماحولیاتی مسئلہ نہیں بلکہ بچوں کی صحت اور تعلیم کے لیے ایک ‘تعلیمی ایمرجنسی’ بن چکی ہے۔ آلودہ فضا بچوں کی جسمانی نشوونما اور توجہ کی صلاحیت کو متاثر کرتی ہے، اس لیے اسکول سطح پر فوری اقدامات ناگزیر ہیں۔

    ماہرین کے مطابق کلاس رومز میں پودے لگانے، اسکول کے اطراف گرین بیلٹ بنانے اور ہوا کے معیار ناپنے والے حساسات نصب کرنے سے فضا کی نگرانی ممکن بنائی جا سکتی ہے۔ اساتذہ کو ایئر کوالٹی انڈیکس ‘اے کیو آئی’ سے متعلق تربیت دینا ضروری ہے۔ ٹرانسپورٹ کے شعبے میں نجی گاڑیوں کا ہجوم مقامی آلودگی بڑھاتا ہے۔ کار پولنگ اور محفوظ جدید سہولیات سے لیس بس سروس اس مسئلے کا بہتر حل ہو سکتے ہیں۔

    عالمی تحقیق کیا کہتی ہے

    مختلف ملکوں میں ہونے والی تحقیق نے فضائی آلودگی اور تعلیمی کارکردگی کے درمیان تعلق کی نشاندہی کی ہے۔ ایک بین الاقوامی جائزے میں اٹھائیس ممالک کے مطالعات کا تجزیہ کیا گیا، جس میں یہی رجحان سامنے آیا کہ زیادہ آلودگی والے علاقوں میں امتحانی نتائج نسبتاً کم رہے۔ امریکہ میں ہونے والے ایک بڑے مطالعے میں بھی یہی بات سامنے آئی کہ فضا میں موجود باریک ذرات میں اضافے کے ساتھ ریاضی اور انگریزی کے نمبروں میں کمی دیکھی گئی، اور کم عمر بچے زیادہ متاثر ہوئے۔

    محکمہ موسمیات کے محدود وسائل

    پاکستان میٹرولوجیکل ڈپارٹمنٹ کے مطابق کراچی میں اس وقت فضائی آلودگی ناپنے کے آلات ‘ایئر کوالٹی میٹرنگ سینسرز’ موجود نہیں ہیں، اس لیے واضح صورتحال نہیں بتائی جا سکتی۔ سیٹلائٹ ڈیٹا کے تناظر میں دیکھیں تو فضائی آلودگی مسلسل بڑھ رہی ہے۔

    ترجمان انجم نذیر ضیغم نے بتایا کہ سردیوں میں ہوا شمال مشرق کی جانب سے چلتی ہے، جبکہ گرمیوں میں جنوب مغربی ہوا سمندر سے خشکی کی جانب آتی ہے۔ سردیوں میں اے کیو آئی زیادہ بڑھ جاتا ہے، جبکہ گرمیوں میں اس کا اثر نسبتاً کم محسوس ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ فضائی آلودگی اب خطرہ بن گئی ہے، اس لیے زیادہ سے زیادہ درخت لگانے کی ضرورت ہے تاکہ مسئلہ کم ہو سکے۔

    وجوہات اور چیلنجز

    پرانی گاڑیاں، صنعتی دھواں، کچرا ٹھکانے لگانے کا ناقص نظام، تعمیراتی گرد اور غیر منصوبہ بند شہری پھیلاؤ اس مسئلے کو بڑھا رہے ہیں۔ حکومتی سطح پر کچھ اقدامات ضرور کیے گئے ہیں، مگر مؤثر نگرانی اور عمل درآمد کے بغیر بہتری محدود رہی ہے۔

    والدین کا کردار

    ماہرین مشورہ دیتے ہیں کہ شدید آلودگی کے دنوں میں بچوں کو غیر ضروری طور پر باہر نہ بھیجا جائے، ماسک کے استعمال پر توجہ دی جائے اور سانس یا الرجی کی علامات کو معمولی سمجھ کر نظرانداز نہ کیا جائے۔

    آگے کیا ہونا چاہیے

    کچرا جلانے پر سخت پابندی، گاڑیوں کے دھوئیں کی باقاعدہ جانچ، اسکولوں کے اطراف ٹریفک کا بہتر انتظام، شجرکاری اور صاف توانائی کے فروغ جیسے اقدامات ناگزیر ہیں۔ بعض تعلیمی ماہرین نصاب میں ماحولیاتی شعور کو عملی انداز میں شامل کرنے پر بھی زور دیتے ہیں۔

    صاف ہوا کوئی اضافی سہولت نہیں بلکہ بچوں کی صحت اور تعلیم دونوں کی بنیاد ہے۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ آنے والی نسلیں بہتر سیکھ سکیں تو انہیں سانس لینے کے لیے بہتر فضا بھی دینا ہوگی۔

  • محکمہ تعلیم سندھ کے اساتذہ کے تبادلے کے لیے آن لائین درخواست کے نظام ای ٹرانسفر سسٹم کا آغاز

    محکمہ تعلیم سندھ کے اساتذہ کے تبادلے کے لیے آن لائین درخواست کے نظام ای ٹرانسفر سسٹم کا آغاز

    محکمہ تعلیم سندھ میں تبادلوں کے لیے پریشان اساتذہ کے لیے ایک بڑی خوش خبری، محکمہ تعلیم سندھ نے اساتذہ کے لیے گھر بیٹھ کر تبادلے کی درخواست دینے کے لیے ای ٹرانسفر سسٹم متعارف کرادیا ہے۔

    اس کا مقصد تبادلوں کے عمل کو ڈیجیٹل، شفاف اور میرٹ پر مبنی بنانا ہے۔ تبادلوں اور تقرریوں کا پرانا طریقہ وقت طلب بھی تھا اور پیچیدہ بھی۔ اساتذہ کو دفاتر کے چکر لگانے پڑتے تھے۔درخواستوں میں تاخیر، سفارش اور شفافیت پر سوالات بھی سامنے آتے تھے۔

    اس وقت محکمہ تعلیم سندھ میں تقریباً ایک لاکھ پانچ ہزار پرائمری اسکول ٹیچرز اور تقریباً 28 ہزار جونیئر ایلیمنٹری اسکول ٹیچرز سمیت کُل تقریباً ایک لاکھ ساڑھے 33 ہزار اساتذہ خدمات انجام دے رہے ہیں۔ اساتذہ کی اتنی بڑی تعداد میں ہزاروں اساتذہ روزانہ کی بنیاد پر اپنے تبادلے کے لیے پریشان رہتے ہیں۔

    اس نئے نظام کو استعمال کرنے کے لیے مغکمہ تعلیم نے ویب سائٹ eportal.sindheducation.gov.pk جاری کردی ہے۔

    نظام ای ٹرانسفر سسٹم کو اساتذہ کیسے استعمال کریں؟ تمام تفصیلات ساگا ڈیجیتل کی اس ویڈیو میں

  • پشاور: خیبر پختونخوا میں تعلیم کے فروغ اور سکولوں سے باہر بچوں کی شمولیت کے لیے ایکویٹی بجٹنگ ناگزیر، تعلیمی ماہرین

    پشاور: خیبر پختونخوا میں تعلیم کے فروغ اور سکولوں سے باہر بچوں کی شمولیت کے لیے ایکویٹی بجٹنگ ناگزیر، تعلیمی ماہرین

    تعلیمی ماہرین کا کہنا ہے کہ خیبر پختونخوا میں سکولوں سے باہر بچوں کو تعلیمی اداروں میں لانے اور تعلیمی معیار بہتر بنانے کے لیے ابتدائی اور ثانوی تعلیم کے بجٹ میں اضافہ اور اس کے مؤثر استعمال کے ساتھ ایکویٹی بجٹنگ کو فروغ دینا ناگزیر ہے۔ ان کے مطابق موجودہ ضروریات کے مقابلے میں وسائل کی منصفانہ تقسیم کے بغیر تعلیمی اہداف حاصل نہیں کیے جا سکتے۔

    سنٹر فار پبلک پالیسی ریسرچ، انسٹی ٹیوٹ آف مینجمنٹ سائنسز، پشاور نے اپنے پروجیکٹ خیبر پختونخوا میں ابتدائی اور ثانوی تعلیم میں ایکویٹی بجٹنگ کے فروغ کے تحت مقامی صحافیوں کے لیے ایک روزہ تربیتی ورکشاپ کا اہتمام کیا۔ ورکشاپ کا مقصد ایکویٹی بجٹنگ کے تصور پر صحافیوں کی سمجھ بوجھ مضبوط بنانا اور تعلیمی فنانسنگ پر ذمہ دار اور باخبر میڈیا کوریج کو فروغ دینا تھا۔

    تربیتی سیشن کے دوران پروجیکٹ کوآرڈینیٹر ڈاکٹر ظفر ظہیر نے بتایا کہ خیبر پختونخوا حکومت نے رواں مالی سال کے بجٹ میں ابتدائی اور ثانوی تعلیم کے لیے 363 ارب روپے مختص کیے ہیں، جو مجموعی صوبائی بجٹ کا 17 فیصد بنتا ہے۔ ان کے مطابق بجٹ میں یہ حصہ اہم ہے، تاہم زمینی ضروریات کے مقابلے میں ناکافی محسوس ہوتا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ اس وقت صوبے میں چار اعشاریہ نو ملین بچے سکولوں سے باہر ہیں۔ ان بچوں کو تعلیمی نظام میں لانے، ابتدائی اور ثانوی تعلیم کے فروغ اور درپیش چیلنجز کے حل کے لیے تعلیمی بجٹ میں مزید اضافہ ناگزیر ہے۔ انہوں نے عوامی مکالمے کی تشکیل، تعلیمی وسائل کی منصفانہ تقسیم اور ان کے مؤثر استعمال کے لیے اداروں کو جوابدہ بنانے میں میڈیا کے کردار پر بھی زور دیا۔

     

  • ڈیجیٹل سروے کے نتائج: تعلیم، صحت اور انٹرنیٹ رسائی میں ‘بہتری’، چیلنجز برقرار

    ڈیجیٹل سروے کے نتائج: تعلیم، صحت اور انٹرنیٹ رسائی میں ‘بہتری’، چیلنجز برقرار

    نئے سال کے آغاز پر وفاقی حکومت کے ادارے پاکستان بیورو آف اسٹیٹکس نے ہاؤس ہولڈ انٹیگریٹڈ اکنامک سروے 2024–25 کی رپورٹ جاری کر دی ہے، جس کے مطابق ملک کے سماجی اشاریوں میں مجموعی طور پر کچھ حد تک بہتری دیکھنے میں آئی ہے۔ یہ سروے یکم جنوری کو اسلام آباد میں وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات احسن اقبال نے باضابطہ طور پر جاری کیا۔ اس موقع پر انہوں نے کہا کہ پاکستان کا پہلا مکمل طور پر ڈیجیٹل ہاؤس ہولڈ سروے ہے، جس کا مقصد عوام کے معاشی اور سماجی حالات کی درست اور حقیقی تصویر پیش کرنا ہے۔

    رپورٹ کے مطابق ہاؤس ہولڈ انٹیگریٹڈ اکنامک سروے کا موجودہ مرحلہ ستمبر 2024 سے جون 2025 تک مکمل کیا گیا۔ اس دوران اینڈرائیڈ ٹیبلٹس پر مبنی ڈیجیٹل نظام کے ذریعے پاکستان بھر میں، آزاد جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان سمیت، 32 ہزار 814 گھرانوں سے معلومات اکٹھی کی گئیں۔ حکام کے مطابق ڈیجیٹل طریقہ کار سے ڈیٹا کی شفافیت اور درستگی میں نمایاں بہتری آئی ہے۔

    سروے کے نتائج کو صوبائی سطح پر دو الگ رپورٹس کی صورت میں مرتب کیا گیا ہے، جن میں سماجی رپورٹ اور معاشی رپورٹ شامل ہیں۔ سماجی رپورٹ میں تعلیم، معلومات و مواصلاتی ٹیکنالوجی، صحت، آبادی و خاندانی بہبود، رہائش، پانی، صفائی ستھرائی اور خوراک کی عدم تحفظ سے متعلق اہم اشاریوں پر تفصیلی معلومات فراہم کی گئی ہیں، جبکہ معاشی رپورٹ میں گھرانوں کی آمدنی اور اخراجات کے رجحانات کا جائزہ لیا گیا ہے اور اخراجات کی بنیاد پر غربت کے تخمینے کے لیے ضروری اعداد و شمار بھی شامل کیے گئے ہیں۔

    تعلیم اور صحت کی صورتحال

    تعلیم کے شعبے سے متعلق سروے کے ابتدائی نتائج کے مطابق ملک میں شرح خواندگی 60 فیصد سے بڑھ کر 63 فیصد ہو گئی ہے، جسے ماہرین تعلیمی شعبے میں بتدریج بہتری کی علامت قرار دے رہے ہیں۔ اسی طرح اسکول سے باہر بچوں کی شرح میں بھی معمولی کمی دیکھنے میں آئی ہے، جو 30 فیصد سے کم ہو کر 28 فیصد رہ گئی ہے۔ تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ یہ پیش رفت حوصلہ افزا ہے، لیکن تعلیمی چیلنجز بدستور موجود ہیں۔

    دوسری جانب یونیسف کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار سرکاری اعداد و شمار سے قدرے مختلف تصویر پیش کرتے ہیں۔ یونیسف کے مطابق سال 2025 میں پاکستان دنیا میں اسکول سے باہر بچوں کی تعداد کے لحاظ سے دوسرے نمبر پر تھا۔ اندازوں کے مطابق 5 سے 16 سال کی عمر کے تقریباً 2 کروڑ 51 لاکھ بچے اسکول سے باہر ہیں، جو اس عمر کے مجموعی بچوں کی آبادی کا 35 فیصد بنتا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ صورتحال نہ صرف قومی ترقی کے لیے تشویش ناک ہے بلکہ مستقبل کی افرادی قوت پر بھی منفی اثرات مرتب کر سکتی ہے۔

    صحت کے شعبے میں سروے کے نتائج نسبتاً مثبت رجحانات کی نشاندہی کرتے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق بچوں کی مکمل ویکسینیشن کی شرح 68 فیصد سے بڑھ کر 73 فیصد ہو گئی ہے، جبکہ نوزائیدہ اور شیر خوار بچوں کی اموات میں بھی کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ صاف ایندھن استعمال کرنے والے گھرانوں کی شرح میں بھی اضافہ ہوا ہے، جسے ماحولیاتی بہتری اور صحت مند طرزِ زندگی کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے۔

    ڈیجیٹل رسائی میں خاطرخواہ اضافہ

    ڈیجیٹل رسائی کے حوالے سے سروے کے نتائج خاص طور پر نمایاں ہیں۔ رپورٹ کے مطابق گھریلو سطح پر انٹرنیٹ تک رسائی 34 فیصد سے بڑھ کر 70 فیصد ہو گئی ہے، جبکہ افراد کی سطح پر انٹرنیٹ استعمال 17 فیصد سے بڑھ کر 57 فیصد تک پہنچ چکا ہے۔ مزید برآں، تقریباً 96 فیصد گھرانوں میں موبائل یا اسمارٹ فون کی موجودگی اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ پاکستان تیزی سے ڈیجیٹل معیشت کی جانب بڑھ رہا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ رجحان مستقبل میں آن لائن تعلیم، ای-کامرس اور ڈیجیٹل روزگار کے مواقع میں اضافے کا سبب بن سکتا ہے۔

    اعدادوشمارکے مطابق جاری مالی سال کے پہلے 5ماہ میں موبائل فونزکی درآمدات پر801.13ملین ڈالرزرمبادلہ خرچ ہواجوگزشتہ مالی سال کی اسی مدت کے مقابلہ میں 40.51فیصدزیادہ ہے۔گزشتہ مالی سال کی اسی مدت میں موبائل فونز کی درآمدات پر570.18ملین ڈالرزرمبادلہ خرچ ہواتھا،نومبرمیں موبائل فونزکی درآمدات پر156.56ملین ڈالرزرمبادلہ خرچ ہواجونومبر2024کے مقابلہ میں 4.81فیصدزیادہ ہے،نومبر 2024میں موبائل فونزکی درآمدات پر149.37ملین ڈالرزرمبادلہ خرچ ہواتھا۔

    اکتوبرکے مقابلہ میں نومبرمیں موبائل فونزکی درآمدات میں ماہانہ بنیادوں پر8.30فیصدکی کمی ہوئی، اکتوبرمیں موبائل فونزکادرآمدی بل 144.56ملین ڈالرریکارڈکیاگیاتھا۔

    غربت میں کمی

    ماہرین معاشیات کے مطابق سروے کے اعداد و شمار غربت میں کمی، سماجی تحفظ کے پروگراموں اور وسائل کی منصفانہ تقسیم کے لیے نہایت اہم ثابت ہوں گے۔ ان کے مطابق یہ سروے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو اس قابل بنائے گا کہ وہ زمینی حقائق کی بنیاد پر ترقیاتی منصوبے ترتیب دیں اور عوامی فلاح کے پروگراموں کو مزید مؤثر بنایا جا سکے، خاص طور پر تعلیم، صحت اور ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کے شعبوں میں۔

    مجموعی طور پر ہاؤس ہولڈ انٹیگریٹڈ اکنامک سروے 2024–25 کو پاکستان میں ڈیٹا پر مبنی حکمرانی کی جانب ایک اہم سنگِ میل قرار دیا جا رہا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر ان نتائج کو مؤثر پالیسی اقدامات میں تبدیل کیا گیا تو یہ سروے پاکستانی عوام کے معیارِ زندگی میں حقیقی اور دیرپا بہتری لانے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔