Tag: تعلیم

  • پاکستان میں تعلیم کا بحران برقرار، ڈھائی کروڑ سے زیادہ بچے اسکول نہیں جا رہے: رپورٹ

    پاکستان میں تعلیم کا بحران برقرار، ڈھائی کروڑ سے زیادہ بچے اسکول نہیں جا رہے: رپورٹ

    پاکستان میں قومی تعلیمی ایمرجنسی کے اعلان کو دو سال سے زیادہ عرصہ گزرنے کے باوجود ملک میں ڈھائی کروڑ سے زائد بچے آج بھی اسکولوں سے باہر ہیں۔

    ایک نئی پالیسی جائزہ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ تعلیم کے شعبے کا سب سے بڑا مسئلہ نئی پالیسیاں بنانا نہیں بلکہ ان پر مؤثر عمل درآمد ہے۔ رپورٹ کے مطابق کمزور طرز حکمرانی، ناکافی مالی وسائل، ناقص انتظامی ڈھانچہ، درست اعداد و شمار کی عدم دستیابی اور صوبوں کے درمیان نمایاں تفاوت نے لاکھوں بچوں کو تعلیم سے محروم رکھا ہوا ہے۔

    یہ جامع تقابلی جائزہ رپورٹ سول سروسز اکیڈمی (سی ایس اے) نے تیار کی ہے، جس میں پنجاب، سندھ، خیبر پختونخوا، بلوچستان، اسلام آباد، گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کے تعلیمی نظام کا تفصیلی تجزیہ کیا گیا ہے۔

    رپورٹ کے مطابق اس وقت پاکستان میں اسکول جانے کی عمر کے تقریباً 2 کروڑ 51 لاکھ سے 2 کروڑ 60 لاکھ بچے تعلیم سے محروم ہیں۔ اس لحاظ سے پاکستان دنیا میں اسکول سے باہر بچوں کی دوسری بڑی آبادی رکھنے والا ملک بن چکا ہے۔

    رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ آئین کے آرٹیکل 25 اے کے تحت پانچ سے 16 سال تک کے ہر بچے کو مفت اور لازمی تعلیم کا حق حاصل ہے، جبکہ وفاق اور تمام صوبوں نے نیشنل ایجوکیشن ایکشن پلان 2026 کے تحت مختلف منصوبے بھی تیار کیے ہیں۔

    اس کے باوجود عملی نتائج سامنے نہیں آ سکے۔ رپورٹ کے مطابق منصوبہ بندی اور عمل درآمد کے درمیان فرق مسلسل بڑھ رہا ہے، جس کے باعث لاکھوں بچے آج بھی اسکولوں تک رسائی حاصل نہیں کر پا رہے۔ اگر حکمرانی، احتساب اور مالیاتی نظام میں بنیادی اصلاحات نہ کی گئیں تو قومی تعلیمی ایمرجنسی صرف ایک علامتی اعلان بن کر رہ جائے گی۔

    رپورٹ میں پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ایجوکیشن کے اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ یہ بحران کئی دہائیوں سے جاری غفلت کا نتیجہ ہے۔

    تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی، غربت، کمزور سرکاری ادارے اور تعلیم پر مسلسل کم سرمایہ کاری نے ہر گزرتے سال کے ساتھ اسکول سے باہر بچوں کی تعداد میں اضافہ کیا ہے۔

    رپورٹ کے مطابق ریاستی تعلیمی نظام آبادی میں اضافے کے مطابق ترقی نہیں کر سکا، جس کے نتیجے میں نجی اسکولوں کا دائرہ تو وسیع ہوا، مگر غریب اور پسماندہ طبقات کے بچوں کی تعلیمی محرومی برقرار رہی۔

    رپورٹ کے مطابق پنجاب میں سب سے زیادہ بچے اسکولوں سے باہر ہیں۔ صوبے میں ایسے بچوں کی تعداد 96 لاکھ سے ایک کروڑ چار لاکھ کے درمیان ہے۔

    پنجاب اسکول ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کی 2026 کی بنیادی رپورٹ کے مطابق 64 لاکھ بچوں نے کبھی اسکول میں داخلہ ہی نہیں لیا، جبکہ 31 لاکھ 60 ہزار بچے داخلہ لینے کے بعد تعلیم ادھوری چھوڑ گئے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ صرف داخلہ دلانا کافی نہیں بلکہ بچوں کو اسکول میں برقرار رکھنا بھی ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے۔

    پنجاب میں اگرچہ ڈیجیٹل نگرانی کے نظام، انتظامی اصلاحات اور سرکاری و نجی شراکت داری کے منصوبے شروع کیے گئے ہیں، لیکن شہری اور دیہی علاقوں کے درمیان تعلیمی فرق اب بھی نمایاں ہے۔

    دیہی پنجاب میں 24 فیصد بچے اسکولوں سے باہر ہیں، جبکہ شہری علاقوں میں یہ شرح 14 فیصد ہے۔

    جنوبی پنجاب سب سے زیادہ متاثرہ خطہ قرار دیا گیا ہے، جہاں راجن پور میں 48 فیصد، ڈیرہ غازی خان میں 46 فیصد اور مظفر گڑھ میں 45 فیصد بچے اسکول نہیں جا رہے۔

    رپورٹ کے مطابق صوبے کو مڈل اور سیکنڈری سطح پر کم از کم 35 ہزار نئے کلاس رومز کی ضرورت ہے، جبکہ غربت، گھریلو مالی مشکلات اور چائلڈ لیبر بچوں کو تعلیم سے دور رکھنے کی اہم وجوہات ہیں۔

    رپورٹ میں سندھ کی صورتحال کو دیگر صوبوں سے مختلف قرار دیا گیا ہے۔ اس کے مطابق سندھ میں بنیادی مسئلہ بچوں کا ابتدائی داخلہ نہیں بلکہ پرائمری تعلیم کے بعد ان کی تعلیم کا تسلسل برقرار رکھنا ہے۔

    صوبے میں تقریباً 74 لاکھ بچے اسکولوں سے باہر ہیں، جن میں 41 لاکھ لڑکیاں شامل ہیں۔ یہ تعداد سندھ کی اسکول جانے کی عمر کی آبادی کا تقریباً 44 فیصد بنتی ہے۔

    رپورٹ کے مطابق سندھ میں 36 ہزار سے زائد پرائمری اسکول موجود ہیں، لیکن مڈل اسکولوں کی تعداد صرف 2 ہزار 634 اور سیکنڈری اسکولوں کی تعداد ایک ہزار 674 ہے۔ اسی وجہ سے پرائمری تعلیم مکمل کرنے کے بعد تقریباً 54 فیصد بچے مزید تعلیم جاری نہیں رکھ پاتے۔

    رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 2022 اور 2024 کے سیلاب نے بھی ہزاروں سرکاری اسکولوں کو نقصان پہنچایا، جس سے پہلے سے موجود تعلیمی مسائل مزید سنگین ہو گئے۔ اس کے علاوہ غربت، چائلڈ لیبر، جاگیردارانہ نظام اور صنفی امتیاز بھی خصوصاً لڑکیوں کی تعلیم کی راہ میں بڑی رکاوٹ ہیں۔

    خیبر پختونخوا میں تقریباً 49 لاکھ بچے اسکولوں سے باہر ہیں، جو ملک بھر کے ایسے بچوں کا تقریباً 19 فیصد بنتے ہیں۔

    رپورٹ کے مطابق دشوار گزار پہاڑی علاقے، سکیورٹی مسائل، انتظامی پیچیدگیاں اور بالخصوص ضم شدہ اضلاع میں خواتین اساتذہ کی شدید کمی اس مسئلے کی بنیادی وجوہات ہیں۔ بالائی کوہستان، تورغر اور باجوڑ جیسے اضلاع میں لڑکیوں کے اسکولوں اور خواتین اساتذہ کی کمی کے باعث والدین اپنی بچیوں کو تعلیم دلانے سے گریز کرتے ہیں، جبکہ بعض علاقوں میں سماجی روایات بھی لڑکیوں کی تعلیم میں رکاوٹ بنتی ہیں۔

    بلوچستان کو رپورٹ میں تعلیمی لحاظ سے سب سے زیادہ پسماندہ صوبہ قرار دیا گیا ہے۔ اگرچہ 2023 میں اسکول سے باہر بچوں کی شرح 69 فیصد تھی جو 2025 میں کم ہو کر 45 فیصد رہ گئی، تاہم صوبے میں بنیادی سہولیات کی شدید کمی اب بھی برقرار ہے۔

    رپورٹ کے مطابق بلوچستان کے کئی علاقوں میں بچوں کو پرائمری اسکول تک پہنچنے کے لیے اوسطاً 30 کلومیٹر جبکہ سیکنڈری اسکول تک جانے کے لیے 360 کلومیٹر تک سفر کرنا پڑتا ہے، جس کے باعث باقاعدگی سے تعلیم حاصل کرنا انتہائی مشکل ہو جاتا ہے۔

    رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ بلوچستان کے 15 ہزار 270 اسکولوں میں سے 3 ہزار 617 غیر فعال یا گھوسٹ اسکول ہیں۔ فعال اسکولوں کی صورتحال بھی تشویشناک ہے۔

    تقریباً 79 فیصد اسکولوں میں بجلی نہیں، 56 فیصد میں بیت الخلا موجود نہیں اور 49 فیصد میں چار دیواری تک نہیں ہے۔ رپورٹ کے مطابق صوبے میں اسکول سے باہر بچوں میں 78 فیصد لڑکیاں ہیں، جو صنفی عدم مساوات کی سنگین تصویر پیش کرتی ہے۔

    رپورٹ میں اسلام آباد، گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کی صورتحال کا بھی جائزہ لیا گیا ہے۔ اسلام آباد میں شہری علاقوں میں داخلے کی شرح 85 فیصد ہے، لیکن دیہی علاقوں میں یہ کم ہو کر 62 فیصد رہ جاتی ہے، جبکہ دارالحکومت کی 60 سے زیادہ غیر رسمی آبادیوں کو سرکاری تعلیمی منصوبہ بندی میں شامل ہی نہیں کیا گیا۔

    گلگت بلتستان کے ضلع دیامر میں 42 فیصد بچے اسکولوں سے باہر ہیں، جبکہ آزاد کشمیر میں تقریباً نصف بچے پرائمری تعلیم مکمل کرنے سے پہلے ہی تعلیم چھوڑ دیتے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق ان علاقوں میں ماؤں کی ناخواندگی اور دور افتادہ جغرافیائی حالات اہم رکاوٹیں ہیں۔

    رپورٹ میں اس بات پر بھی زور دیا گیا ہے کہ تمام صوبوں میں ایک مشترکہ مسئلہ تعلیم پر کم سرکاری سرمایہ کاری ہے۔ سندھ اپنے تعلیمی بجٹ کا تقریباً 90 فیصد حصہ تنخواہوں اور انتظامی اخراجات پر خرچ کرتا ہے، جبکہ بلوچستان میں یہ شرح 81 فیصد ہے۔

    دوسری جانب پنجاب نے اسکولوں کی بہتری کے لیے 100 ارب روپے کے خصوصی پیکیج کا اعلان کیا ہے اور شراکت داری پر مبنی تعلیمی منصوبوں کو بھی وسعت دی جا رہی ہے۔

    تاہم مجموعی طور پر پاکستان میں تعلیم پر ہونے والے اخراجات عالمی معیار سے کہیں کم ہیں، جس کی وجہ سے آبادی میں اضافے اور آئینی ذمہ داریوں کے مطابق تعلیمی سہولیات فراہم نہیں ہو پا رہیں۔

    رپورٹ کے مطابق اب مسئلہ تشخیص کا نہیں بلکہ ان حل پر عمل درآمد کا ہے جن کی نشاندہی برسوں پہلے ہو چکی ہے۔

    اس مقصد کے لیے سفارش کی گئی ہے کہ نادرا کے ب فارم سے منسلک ایک متحدہ قومی طلبہ رجسٹری قائم کی جائے تاکہ ملک بھر میں داخلوں، حاضری اور تعلیم چھوڑنے والے بچوں کا حقیقی وقت میں ریکارڈ رکھا جا سکے۔

    رپورٹ کے مطابق قابل اعتماد قومی ڈیٹا نہ ہونے کی وجہ سے لاکھوں بچے سرکاری نظام کی نظروں سے اوجھل رہ جاتے ہیں اور صوبے پرانے مردم شماری کے اعداد و شمار یا نامکمل ریکارڈ پر انحصار کرتے ہیں۔

    رپورٹ میں یہ بھی تجویز دی گئی ہے کہ رسمی اور غیر رسمی تعلیم کے نظام کو آپس میں مربوط کیا جائے، تیز رفتار تعلیمی پروگراموں کو قانونی حیثیت دی جائے تاکہ تعلیم سے محروم بچے دوبارہ اسکولوں میں داخل ہو سکیں، جبکہ گنجان آباد علاقوں میں دو شفٹوں میں اسکول چلانے کا نظام بھی متعارف کرایا جائے۔

    اس کے علاوہ ملک بھر میں اسکول سے باہر بچوں کا نیا سروے کرانے، خصوصی ضروریات رکھنے والے بچوں کو عام تعلیمی نظام میں شامل کرنے اور یونیورسٹی سے فارغ التحصیل نوجوانوں کو کم از کم پانچ بچوں کو دوبارہ اسکول لانے کی قومی مہم میں شریک کرنے کی سفارش بھی کی گئی ہے۔

    رپورٹ کے مطابق اگر ان سفارشات پر مؤثر انداز میں عمل کیا جائے تو لاکھوں بچوں کو تعلیم کے بنیادی حق سے محروم رہنے سے بچایا جا سکتا ہے۔

  • سیاست کا صحرا اور تعلیمی بیداری: ایک تجزیہ

    سیاست کا صحرا اور تعلیمی بیداری: ایک تجزیہ

    سیاست کا صحرا ہو یا ادب کا کٹھن راستہ، دونوں راستوں پر جہاں پیار، محبت اور اپنائیت کے تازہ و توانا پھول نچھاور ہوتے ہیں، وہاں غصہ، نفرت، پسند و ناپسند اور حسد کے مرجھائے ہوئے کنول بھی ملتے ہیں۔ شاہ عبداللطیف بھٹائی رحمة اللہ علیہ نے فرمایا ہے:

    جو وڙ جڙي جن سين سي وڙ ڪن

    (جن کا جو ظرف یا خصلت ہوتی ہے، وہ ویسا ہی برتاؤ کرتے ہیں)

    سائیں سردار شاہ کے سیاسی و ادبی سفر سے کوئی کتنے ہی اختلافات کیوں نہ رکھے، لیکن اس بات سے کبھی انکار نہیں کیا جا سکتا کہ انہوں نے قدم قدم پر کثیر الجہتی تنقیدی تیر برداشت کر کے 97 ہزار اساتذہ کی خالص میرٹ پر بھرتی، نصابی اصلاحات (خاص طور پر نصاب کی کتابوں سے تعصب اور نفرت انگیز مواد کا خاتمہ اور اسے جدید اصولوں کے تحت تیار کرنا)، نصابی و غیر نصابی سرگرمیوں بالخصوص سائنس اور آرٹ کے سنگم سے ہونے والی سرگرمیوں کو فروغ دینا، میوزک ٹیچرز کے تقرر کی کوشش کرنا (جو بعد میں کچھ وجوہات کی بنا پر نہ ہو سکے)، ٹیچر لائسنسنگ متعارف کروانا، نچلی سطح تک اسکولوں کے لیے مخصوص بجٹ مقرر کرنا، اسکولوں میں بک بینک قائم کرنا، مانیٹرنگ کا جدید ڈیجیٹل نظام وضع کرنا، اور اسمبلی ارکان و مخیر حضرات کو اسکولوں کی سرپرستی کی دعوت دینے جیسی مختلف اور منفرد سرگرمیوں کے ذریعے تعلیمی نظام میں تبدیلی لانے کی بھرپور کوشش کر کے ایک نئی تاریخ رقم کی ہے۔

    اس تمام تعلیمی اصلاحات اور ترقی کے عمل میں، مجموعی طور پر ہمارے سماجی رویوں میں ایک دوسرے کا دست و بازو بننے اور ساتھ نبھانے کی روایت نے کتنا سر اٹھایا ہے؟ (یہ ایک سوچنے کا مقام ہے)۔

    میں جب سائیں سردار شاہ کی اس تعلیمی تحرک پر تنقید (جو کہ تنقید کم اور طنز زیادہ ہوتی ہے) سنتا ہوں اور سائیں سردار شاہ کے صبر و برداشت کو دیکھتا ہوں، تو مجھے 2025 میں نوبل انعام پانے والے ادیب لاسلو کراسناہروکائی (László Krasznahorkai) یاد آتے ہیں، جنہوں نے 1985 میں ایک شاہکار ناول "سیٹن ٹینگو” (Satantango) لکھا تھا۔ بعد میں اسی ناول پر مشہور فلم ساز بیلا ٹار کے ساتھ مل کر ساڑھے سات گھنٹے کی بلیک اینڈ وائٹ فلم بنائی تھی۔ ایک ایسی فلم جس میں لوگ صرف بارش کو برستے ہوئے یا گائے کے غول کو چلتے ہوئے گھنٹوں دیکھتے رہتے ہیں۔ لاسلو کے ناول اور فلم کا حاصلِ کلام ایک جملے میں، ایک سوال کی صورت میں چیلنج ہے کہ:

    "کیا آپ میں زندگی کو ٹھہر کر دیکھنے کا حوصلہ ہے؟”

    لاسلو نے اپنے نوبل لیکچر میں اپنے "ٹھہراؤ” (Stillness) کے فلسفے کو بیان کرتے ہوئے کہا تھا کہ آج کا انسان "معلومات کے سیلاب” میں ڈوب رہا ہے، لیکن "دانائی” کے قحط کا شکار ہے۔ ہم نے زبان کو رابطے کا ذریعہ نہیں، بلکہ شور مچانے کا اوزار بنا دیا ہے۔ لاسلو نے نوبل انعام کا اسٹیج چھوڑنے سے پہلے آخری بات یہ کہی:

    "ادب کا کام آپ کو خوش کرنا نہیں، بلکہ آپ کو جگانا ہے— چاہے وہ جاگنا کتنا ہی تکلیف دہ کیوں نہ ہو اور اس کے لیے آپ کو کوئی بھی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے۔”

    سائیں سردار شاہ سیاستدان کے ساتھ ساتھ ایک خوبصورت شاعر اور ادیب بھی ہیں۔ انہوں نے اپنی تعلیمی وزارت کی سرگرمیوں کے ذریعے یہ جگایا (ثابت کیا) ہے کہ خالص میرٹ پر اساتذہ بھرتی کیے جا سکتے ہیں، نفرت سے پاک نصاب تشکیل دیا جا سکتا ہے، نچلی سطح تک بجٹ مقرر کیا جا سکتا ہے، اسکولوں میں سائنس اور آرٹ کے سنگم سے بچوں کی ذہنی نشوونما کی جا سکتی ہے، اور سندھ کا اسکول دنیا کے ٹاپ ٹین (نمایاں دس نمبروں) میں شامل ہو سکتا ہے۔

    لاسلو نے اپنی تقریر/لیکچر کے آخری جملے پر آنے سے پہلے اپنے سامعین کو متوجہ کرتے ہوئے کہا تھا:

    "آپ کی توجہ (Attention) وہ آخری چیز ہے جو آپ کے پاس بچی ہے، اسے سستی تفریح کے بدلے مت بیچیں۔”

    چنانچہ ہمارے پاس بھی ہماری آخری توجہ ہی بچی ہے۔ سائیں سردار شاہ بھی ایک انسان ہیں۔ انسان ہونے کے ناطے ان سے بشری کمزوریاں ہو سکتی ہیں، لیکن مجموعی طور پر سائیں سردار شاہ نے تعلیمی اصلاحات اور ترقی کے لیے جو مثبت اقدامات اٹھائے ہیں، ان میں ہمیں اپنا مثبت ساتھ دینا چاہیے۔ ہمیں اپنی توانائی اس غیر ضروری تنقید میں ضائع نہیں کرنی چاہیے جو زیادہ تر طنز کے دائرے میں آتی ہے۔

  • این ای ڈی یونیورسٹی میں گوگل جیمنی برائے تعلیم مرکز قائم

    این ای ڈی یونیورسٹی میں گوگل جیمنی برائے تعلیم مرکز قائم

    پاکستان میں جدید تعلیم اور مصنوعی ذہانت کے فروغ کی جانب ایک اہم پیش رفت کے طور پر کراچی کی این ای ڈی یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی میں گوگل جیمنی برائے تعلیم مرکز قائم کیا گیا ہے۔ اس مرکز کا مقصد طلبہ، اساتذہ اور محققین کو مصنوعی ذہانت کی جدید سہولیات سے آراستہ کرنا اور انہیں نئی ٹیکنالوجی کے مؤثر استعمال کی تربیت فراہم کرنا ہے۔

    وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے بدھ کے روز سندھ کے پہلے گوگل جیمنی فار ایجوکیشن کارنر کا افتتاح شامل ہے۔

    وزیراعلیٰ نے کہا کہ یہ صرف ایک نئی سہولت نہیں بلکہ مستقبل کی جانب کھلنے والا دروازہ ہے۔ اس اقدام سے سندھ کے طلبہ مصنوعی ذہانت کی جدید ٹیکنالوجی تک براہ راست رسائی حاصل کر سکیں گے۔

    انہوں نے کہا کہ این ای ڈی یونیورسٹی کے طلبہ گوگل جیمنی پلیٹ فارم، جدید کروم بک آلات اور کلاؤڈ پر مبنی تعلیمی ٹولز کے ذریعے عملی تربیت حاصل کریں گے، جس سے انہیں عالمی سطح پر مقابلے کے قابل بنانے میں مدد ملے گی۔

    اس موقعے پر بتایا گیا کہ اس مرکز کے قیام سے طلبہ کو گوگل جیمنی کی مدد سے تحقیق، تعلیمی منصوبوں، پروگرامنگ، تحریر، اعداد و شمار کے تجزیے اور دیگر تعلیمی سرگرمیوں میں معاونت حاصل ہوگی۔ اساتذہ بھی اس ٹیکنالوجی کے ذریعے تدریسی مواد تیار کر سکیں گے، لیکچر منصوبہ بندی کو بہتر بنا سکیں گے اور طلبہ کی سیکھنے کی صلاحیت میں اضافہ کر سکیں گے۔

    گوگل جیمنی مصنوعی ذہانت پر مبنی ایک جدید نظام ہے جو سوالات کے جواب دینے، مختلف زبانوں میں مواد تیار کرنے، خلاصے بنانے، پیچیدہ معلومات کو آسان انداز میں سمجھانے اور تخلیقی کاموں میں مدد فراہم کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ دنیا بھر کی جامعات میں ایسی ٹیکنالوجی کا استعمال تیزی سے بڑھ رہا ہے تاکہ طلبہ کو مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ بنایا جا سکے۔

    ماہرین تعلیم کے مطابق یہ مرکز طلبہ کو صرف مصنوعی ذہانت استعمال کرنا ہی نہیں سکھائے گا بلکہ انہیں اس کے ذمہ دارانہ اور اخلاقی استعمال سے بھی آگاہ کرے گا۔ اس کے ذریعے طلبہ کو یہ سمجھنے میں مدد ملے گی کہ مصنوعی ذہانت کو تحقیق، تعلیم اور پیشہ ورانہ زندگی میں کس طرح مؤثر انداز میں استعمال کیا جا سکتا ہے، جبکہ غلط معلومات، نقل اور دیگر چیلنجز سے کیسے بچا جا سکتا ہے۔

    مرکز میں مختلف تربیتی ورکشاپس، سیمینارز اور عملی سیشنز بھی منعقد کیے جائیں گے۔ ان پروگراموں میں طلبہ اور اساتذہ کو گوگل جیمنی کی مختلف خصوصیات سے روشناس کرایا جائے گا۔ انہیں یہ بھی بتایا جائے گا کہ مصنوعی ذہانت کی مدد سے مسائل کا حل کس طرح تلاش کیا جا سکتا ہے اور روزمرہ تعلیمی کاموں کو کس طرح زیادہ آسان اور مؤثر بنایا جا سکتا ہے۔

    تعلیمی ماہرین کا کہنا ہے کہ آنے والے برسوں میں مصنوعی ذہانت ہر شعبے کا اہم حصہ بن جائے گی۔ ایسے میں جامعات کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے طلبہ کو جدید مہارتوں سے آراستہ کریں تاکہ وہ قومی اور بین الاقوامی سطح پر بہتر مواقع حاصل کر سکیں۔ این ای ڈی یونیورسٹی میں اس مرکز کا قیام اسی سمت میں ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے۔

    اس اقدام سے توقع کی جا رہی ہے کہ یونیورسٹی میں تحقیق کے معیار میں بہتری آئے گی، اختراعی منصوبوں کی حوصلہ افزائی ہوگی اور طلبہ کو عالمی معیار کی ڈیجیٹل تعلیم تک بہتر رسائی حاصل ہوگی۔ یہ مرکز صنعت اور جامعات کے درمیان تعاون کو بھی فروغ دے سکتا ہے، جس کے نتیجے میں نئی تحقیق، اختراعات اور روزگار کے مواقع پیدا ہونے کی امید ہے۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر مصنوعی ذہانت کو درست رہنمائی اور ذمہ داری کے ساتھ استعمال کیا جائے تو یہ پاکستان کے تعلیمی نظام میں مثبت تبدیلی لا سکتی ہے۔ این ای ڈی یونیورسٹی میں گوگل جیمنی برائے تعلیم مرکز کا قیام اسی تبدیلی کی جانب ایک اہم قدم ہے، جس سے نئی نسل کو مستقبل کی ٹیکنالوجی سے ہم آہنگ کرنے اور ملک میں ڈیجیٹل تعلیم کے فروغ میں مدد ملے گی۔

    بعد ازاں وزیراعلیٰ نے گوگل کیریئر سرٹیفکیشن پروگرام 2026 کا افتتاح کیا۔ اس موقع پر محکمہ سائنس و انفارمیشن ٹیکنالوجی، سندھ ہائر ایجوکیشن کمیشن اور ٹیک ویلی پاکستان کے درمیان مفاہمتی یادداشت پر بھی دستخط کیے گئے۔

    اس پروگرام کے تحت سندھ کی تمام سرکاری جامعات میں زیر تعلیم طلبہ کو 20 ہزار گوگل کیریئر سرٹیفکیٹ اسکالرشپس دی جائیں گی۔ ان اسکالرشپس کے ذریعے طلبہ مصنوعی ذہانت، سائبر سکیورٹی، ڈیٹا اینالیٹکس، پراجیکٹ مینجمنٹ، یوزر تجربہ ڈیزائن، ڈیجیٹل مارکیٹنگ، ای کامرس، آئی ٹی سپورٹ اور دیگر جدید شعبوں میں عالمی معیار کے سرٹیفکیٹس حاصل کر سکیں گے۔

  • جب سانس بوجھ بن جائے تو سبق کیسے یاد رہے

    جب سانس بوجھ بن جائے تو سبق کیسے یاد رہے

    صبح کے وقت شہر ابھی پوری طرح جاگا بھی نہیں ہوتا لیکن سڑکوں پر گاڑیوں کا شور بڑھنے لگتا ہے۔ فضا میں دھواں پھیلنے لگتا ہے اور کہیں کہیں کچرا جلنے کی بو بھی آتی ہے۔ انہی حالات میں ہزاروں بچے بستے اٹھائے اسکولوں کی طرف روانہ ہوتے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ جب سانس لینا ہی مشکل ہو تو سیکھنے کا عمل بھی متاثر ہوئے بغیر نہیں رہتا۔

    یہ مسئلہ اب صرف ماحولیات تک محدود نہیں رہا۔ اسے صحت اور تعلیم دونوں زاویوں سے دیکھا جا رہا ہے۔

    کراچی کی فضا اور اعداد و شمار

    23 مئی 2026 کو شہر میں اے کیو آئی 134 ریکارڈ کیا گیا، جو صحت کے لیے خاصی نقصان دہ سطح سمجھی جاتی ہے۔ رواں برس مارچ میں اے کیو آئی 153 بھی ریکارڈ کیا گیا تھا۔ ماہرین کے مطابق ایسی فضا میں مسلسل سانس لینا انسانی جسم پر نمایاں اثرات ڈال سکتا ہے۔ بچوں کے لیے اس کا درست موازنہ کرنا آسان نہیں، لیکن یہ طے ہے کہ ان کے لیے خطرہ زیادہ ہوتا ہے۔

    شہری امور کے ماہرین کے مطابق شہر میں فضائی آلودگی کا بڑا سبب ٹریفک ہے۔ اندازہ ہے کہ لگ بھگ ستر فیصد آلودگی گاڑیوں کے دھوئیں سے پیدا ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ صنعتی اخراج، کچرا جلانا، ڈیزل جنریٹر، تعمیراتی سرگرمیوں کی گرد اور ناقص ایندھن کا جلنا بھی فضا کو خراب کرتے ہیں۔

    پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن سینٹر کے سیکریٹری جنرل ڈاکٹر عبدالغفور شورو کے مطابق باریک آلودہ ذرات ‘پی ایم 2 اعشاریہ 5’ بچوں کے نشوونما پاتے پھیپھڑوں کو نقصان پہنچا کر سانس کی دائمی بیماریوں کا خطرہ بڑھاتے ہیں، جبکہ خراب فضائی معیار توجہ اور تعلیمی کارکردگی کو بھی متاثر کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ٹریفک کا دھواں اور بیرونی سرگرمیاں بچوں کو زیادہ متاثر کرتی ہیں، اس لیے آلودگی والے دنوں میں اے کیو آئی کی نگرانی کی جائے اور این 95 ماسک کے بغیر غیر ضروری باہر جانے سے گریز کرنا چاہیے۔

    بچے زیادہ متاثر کیوں ہوتے ہیں؟

    ڈاکٹروں کے مطابق بچے بڑوں کی نسبت تیزی سے سانس لیتے ہیں، اس لیے وہ فضا میں موجود باریک ذرات زیادہ مقدار میں اپنے جسم میں جذب کر لیتے ہیں۔ یہ ذرات پھیپھڑوں کی نشوونما پر اثر ڈالتے ہیں اور بعض صورتوں میں توجہ اور یادداشت کو بھی متاثر کرتے ہیں۔

    پیڈیاٹرک ماہر ڈاکٹر صائمہ کاشف کے مطابق بچپن وہ مرحلہ ہے جب سانس کا نظام تیزی سے بڑھ رہا ہوتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ پچھلے دو تین برس میں بچوں میں الرجی اور سانس کے مسائل میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ پہلے وائرل فلو سال میں چند بار ہوتا تھا، اب بعض بچوں میں یہ تعداد زیادہ ہو گئی ہے اور زیادہ تر کیس الرجی سے جڑے ہوتے ہیں۔ سانس کی بیماریاں اب صرف سردیوں تک محدود نہیں رہیں بلکہ سال بھر سامنے آ رہی ہیں، خاص طور پر بڑے شہروں میں۔

    عام علامات

    متاثرہ بچوں میں ناک کی سوزش، مستقل نزلہ، ناک بند رہنے کے باعث منہ سے سانس لینا، نیند میں خلل، بار بار انفیکشن اور کھانسی جیسی علامات دیکھی جاتی ہیں۔ یہ سب اس بات کی علامت ہیں کہ بچہ مسلسل آلودہ فضا میں سانس لے رہا ہے۔

    ہمدرد یونیورسٹی سے وابستہ حکیم محمد انس شمسی کے مطابق صاف ہوا صحت مند زندگی کی بنیادی ضرورت ہے۔ اس میں موجود نائٹروجن اور آکسیجن جسم کو نیوٹریشن پہنچانے کا اہم ذریعہ ہیں، لیکن اب یہی عناصر فضا میں مناسب یا مطلوبہ مقدار میں موجود نہ ہوں تو اس کا براہ راست اثر بڑھتے ہوئے بچوں کی مجموعی نشوونما پر پڑتا ہے۔ اس سے نہ صرف پھیپھڑے بلکہ پورے جسم کی نشوونما شدید متاثر ہوتی ہے۔ صبح کے وقت ماحول میں خنکی کی وجہ سے آلودگی کی سطح ویسے ہی بڑھی ہوئی ہوتی ہے، اور آلودہ ذرات زیادہ مقدار میں سانس کے ذریعے جسم میں داخل ہوتے ہیں۔ پہلے بچوں میں سانس کے مسائل صرف سردیوں میں سامنے آتے تھے لیکن اب یہ سارا سال کا مسئلہ بن گئے ہیں۔

    دماغ اور سیکھنے کی صلاحیت

    مائنڈ سائنس کے ماہر آصف علی خان کے مطابق فضائی آلودگی کے باریک ذرات دماغ کے ان حصوں کو متاثر کر سکتے ہیں جو توجہ، یادداشت اور فیصلہ سازی سے متعلق ہیں۔ بعض مطالعات میں دماغی سوزش اور سیکھنے کی رفتار میں کمی کے شواہد ملے ہیں۔ ایسی صورت میں بچہ کلاس میں جلد تھک جاتا ہے اور اس کے لیے سبق پر توجہ دینا مشکل ہو جاتا ہے۔

    کلاس روم کی صورتحال

    شہر کے مختلف تعلیمی اداروں کے اساتذہ سے بات چیت میں یہ سامنے آیا کہ آلودگی زیادہ ہونے سے بچوں میں سر درد، تھکن اور گلے کی تکالیف بڑھ جاتی ہیں۔ اساتذہ کے مطابق ایسے دنوں میں غیر حاضری بھی بڑھتی ہے اور تعلیمی سرگرمیوں کی رفتار متاثر ہوتی ہے۔

    بہادرآباد کے ایک تعلیمی ادارے کے سربراہ محمد عارف کا کہنا ہے کہ اگر حالات بہتر نہ ہوئے تو طویل مدت میں تعلیمی معیار متاثر ہو سکتا ہے۔ کورنگی کی ایک استاد تابندہ سحر کے مطابق آلودگی کے دوران فلو اور سانس کے مسائل کی وجہ سے حاضری کم ہو جاتی ہے۔

    آلودگی کم کرنے کے اہم مشورے

    پرائیویٹ اسکول ایسوسی ایشن کے جنرل سیکریٹری زبیر احمد کی رائے میں فضائی آلودگی اب صرف ماحولیاتی مسئلہ نہیں بلکہ بچوں کی صحت اور تعلیم کے لیے ایک ‘تعلیمی ایمرجنسی’ بن چکی ہے۔ آلودہ فضا بچوں کی جسمانی نشوونما اور توجہ کی صلاحیت کو متاثر کرتی ہے، اس لیے اسکول سطح پر فوری اقدامات ناگزیر ہیں۔

    ماہرین کے مطابق کلاس رومز میں پودے لگانے، اسکول کے اطراف گرین بیلٹ بنانے اور ہوا کے معیار ناپنے والے حساسات نصب کرنے سے فضا کی نگرانی ممکن بنائی جا سکتی ہے۔ اساتذہ کو ایئر کوالٹی انڈیکس ‘اے کیو آئی’ سے متعلق تربیت دینا ضروری ہے۔ ٹرانسپورٹ کے شعبے میں نجی گاڑیوں کا ہجوم مقامی آلودگی بڑھاتا ہے۔ کار پولنگ اور محفوظ جدید سہولیات سے لیس بس سروس اس مسئلے کا بہتر حل ہو سکتے ہیں۔

    عالمی تحقیق کیا کہتی ہے

    مختلف ملکوں میں ہونے والی تحقیق نے فضائی آلودگی اور تعلیمی کارکردگی کے درمیان تعلق کی نشاندہی کی ہے۔ ایک بین الاقوامی جائزے میں اٹھائیس ممالک کے مطالعات کا تجزیہ کیا گیا، جس میں یہی رجحان سامنے آیا کہ زیادہ آلودگی والے علاقوں میں امتحانی نتائج نسبتاً کم رہے۔ امریکہ میں ہونے والے ایک بڑے مطالعے میں بھی یہی بات سامنے آئی کہ فضا میں موجود باریک ذرات میں اضافے کے ساتھ ریاضی اور انگریزی کے نمبروں میں کمی دیکھی گئی، اور کم عمر بچے زیادہ متاثر ہوئے۔

    محکمہ موسمیات کے محدود وسائل

    پاکستان میٹرولوجیکل ڈپارٹمنٹ کے مطابق کراچی میں اس وقت فضائی آلودگی ناپنے کے آلات ‘ایئر کوالٹی میٹرنگ سینسرز’ موجود نہیں ہیں، اس لیے واضح صورتحال نہیں بتائی جا سکتی۔ سیٹلائٹ ڈیٹا کے تناظر میں دیکھیں تو فضائی آلودگی مسلسل بڑھ رہی ہے۔

    ترجمان انجم نذیر ضیغم نے بتایا کہ سردیوں میں ہوا شمال مشرق کی جانب سے چلتی ہے، جبکہ گرمیوں میں جنوب مغربی ہوا سمندر سے خشکی کی جانب آتی ہے۔ سردیوں میں اے کیو آئی زیادہ بڑھ جاتا ہے، جبکہ گرمیوں میں اس کا اثر نسبتاً کم محسوس ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ فضائی آلودگی اب خطرہ بن گئی ہے، اس لیے زیادہ سے زیادہ درخت لگانے کی ضرورت ہے تاکہ مسئلہ کم ہو سکے۔

    وجوہات اور چیلنجز

    پرانی گاڑیاں، صنعتی دھواں، کچرا ٹھکانے لگانے کا ناقص نظام، تعمیراتی گرد اور غیر منصوبہ بند شہری پھیلاؤ اس مسئلے کو بڑھا رہے ہیں۔ حکومتی سطح پر کچھ اقدامات ضرور کیے گئے ہیں، مگر مؤثر نگرانی اور عمل درآمد کے بغیر بہتری محدود رہی ہے۔

    والدین کا کردار

    ماہرین مشورہ دیتے ہیں کہ شدید آلودگی کے دنوں میں بچوں کو غیر ضروری طور پر باہر نہ بھیجا جائے، ماسک کے استعمال پر توجہ دی جائے اور سانس یا الرجی کی علامات کو معمولی سمجھ کر نظرانداز نہ کیا جائے۔

    آگے کیا ہونا چاہیے

    کچرا جلانے پر سخت پابندی، گاڑیوں کے دھوئیں کی باقاعدہ جانچ، اسکولوں کے اطراف ٹریفک کا بہتر انتظام، شجرکاری اور صاف توانائی کے فروغ جیسے اقدامات ناگزیر ہیں۔ بعض تعلیمی ماہرین نصاب میں ماحولیاتی شعور کو عملی انداز میں شامل کرنے پر بھی زور دیتے ہیں۔

    صاف ہوا کوئی اضافی سہولت نہیں بلکہ بچوں کی صحت اور تعلیم دونوں کی بنیاد ہے۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ آنے والی نسلیں بہتر سیکھ سکیں تو انہیں سانس لینے کے لیے بہتر فضا بھی دینا ہوگی۔

  • محکمہ تعلیم سندھ کے اساتذہ کے تبادلے کے لیے آن لائین درخواست کے نظام ای ٹرانسفر سسٹم کا آغاز

    محکمہ تعلیم سندھ کے اساتذہ کے تبادلے کے لیے آن لائین درخواست کے نظام ای ٹرانسفر سسٹم کا آغاز

    محکمہ تعلیم سندھ میں تبادلوں کے لیے پریشان اساتذہ کے لیے ایک بڑی خوش خبری، محکمہ تعلیم سندھ نے اساتذہ کے لیے گھر بیٹھ کر تبادلے کی درخواست دینے کے لیے ای ٹرانسفر سسٹم متعارف کرادیا ہے۔

    اس کا مقصد تبادلوں کے عمل کو ڈیجیٹل، شفاف اور میرٹ پر مبنی بنانا ہے۔ تبادلوں اور تقرریوں کا پرانا طریقہ وقت طلب بھی تھا اور پیچیدہ بھی۔ اساتذہ کو دفاتر کے چکر لگانے پڑتے تھے۔درخواستوں میں تاخیر، سفارش اور شفافیت پر سوالات بھی سامنے آتے تھے۔

    اس وقت محکمہ تعلیم سندھ میں تقریباً ایک لاکھ پانچ ہزار پرائمری اسکول ٹیچرز اور تقریباً 28 ہزار جونیئر ایلیمنٹری اسکول ٹیچرز سمیت کُل تقریباً ایک لاکھ ساڑھے 33 ہزار اساتذہ خدمات انجام دے رہے ہیں۔ اساتذہ کی اتنی بڑی تعداد میں ہزاروں اساتذہ روزانہ کی بنیاد پر اپنے تبادلے کے لیے پریشان رہتے ہیں۔

    اس نئے نظام کو استعمال کرنے کے لیے مغکمہ تعلیم نے ویب سائٹ eportal.sindheducation.gov.pk جاری کردی ہے۔

    نظام ای ٹرانسفر سسٹم کو اساتذہ کیسے استعمال کریں؟ تمام تفصیلات ساگا ڈیجیتل کی اس ویڈیو میں

  • پشاور: خیبر پختونخوا میں تعلیم کے فروغ اور سکولوں سے باہر بچوں کی شمولیت کے لیے ایکویٹی بجٹنگ ناگزیر، تعلیمی ماہرین

    پشاور: خیبر پختونخوا میں تعلیم کے فروغ اور سکولوں سے باہر بچوں کی شمولیت کے لیے ایکویٹی بجٹنگ ناگزیر، تعلیمی ماہرین

    تعلیمی ماہرین کا کہنا ہے کہ خیبر پختونخوا میں سکولوں سے باہر بچوں کو تعلیمی اداروں میں لانے اور تعلیمی معیار بہتر بنانے کے لیے ابتدائی اور ثانوی تعلیم کے بجٹ میں اضافہ اور اس کے مؤثر استعمال کے ساتھ ایکویٹی بجٹنگ کو فروغ دینا ناگزیر ہے۔ ان کے مطابق موجودہ ضروریات کے مقابلے میں وسائل کی منصفانہ تقسیم کے بغیر تعلیمی اہداف حاصل نہیں کیے جا سکتے۔

    سنٹر فار پبلک پالیسی ریسرچ، انسٹی ٹیوٹ آف مینجمنٹ سائنسز، پشاور نے اپنے پروجیکٹ خیبر پختونخوا میں ابتدائی اور ثانوی تعلیم میں ایکویٹی بجٹنگ کے فروغ کے تحت مقامی صحافیوں کے لیے ایک روزہ تربیتی ورکشاپ کا اہتمام کیا۔ ورکشاپ کا مقصد ایکویٹی بجٹنگ کے تصور پر صحافیوں کی سمجھ بوجھ مضبوط بنانا اور تعلیمی فنانسنگ پر ذمہ دار اور باخبر میڈیا کوریج کو فروغ دینا تھا۔

    تربیتی سیشن کے دوران پروجیکٹ کوآرڈینیٹر ڈاکٹر ظفر ظہیر نے بتایا کہ خیبر پختونخوا حکومت نے رواں مالی سال کے بجٹ میں ابتدائی اور ثانوی تعلیم کے لیے 363 ارب روپے مختص کیے ہیں، جو مجموعی صوبائی بجٹ کا 17 فیصد بنتا ہے۔ ان کے مطابق بجٹ میں یہ حصہ اہم ہے، تاہم زمینی ضروریات کے مقابلے میں ناکافی محسوس ہوتا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ اس وقت صوبے میں چار اعشاریہ نو ملین بچے سکولوں سے باہر ہیں۔ ان بچوں کو تعلیمی نظام میں لانے، ابتدائی اور ثانوی تعلیم کے فروغ اور درپیش چیلنجز کے حل کے لیے تعلیمی بجٹ میں مزید اضافہ ناگزیر ہے۔ انہوں نے عوامی مکالمے کی تشکیل، تعلیمی وسائل کی منصفانہ تقسیم اور ان کے مؤثر استعمال کے لیے اداروں کو جوابدہ بنانے میں میڈیا کے کردار پر بھی زور دیا۔

     

  • ڈیجیٹل سروے کے نتائج: تعلیم، صحت اور انٹرنیٹ رسائی میں ‘بہتری’، چیلنجز برقرار

    ڈیجیٹل سروے کے نتائج: تعلیم، صحت اور انٹرنیٹ رسائی میں ‘بہتری’، چیلنجز برقرار

    نئے سال کے آغاز پر وفاقی حکومت کے ادارے پاکستان بیورو آف اسٹیٹکس نے ہاؤس ہولڈ انٹیگریٹڈ اکنامک سروے 2024–25 کی رپورٹ جاری کر دی ہے، جس کے مطابق ملک کے سماجی اشاریوں میں مجموعی طور پر کچھ حد تک بہتری دیکھنے میں آئی ہے۔ یہ سروے یکم جنوری کو اسلام آباد میں وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات احسن اقبال نے باضابطہ طور پر جاری کیا۔ اس موقع پر انہوں نے کہا کہ پاکستان کا پہلا مکمل طور پر ڈیجیٹل ہاؤس ہولڈ سروے ہے، جس کا مقصد عوام کے معاشی اور سماجی حالات کی درست اور حقیقی تصویر پیش کرنا ہے۔

    رپورٹ کے مطابق ہاؤس ہولڈ انٹیگریٹڈ اکنامک سروے کا موجودہ مرحلہ ستمبر 2024 سے جون 2025 تک مکمل کیا گیا۔ اس دوران اینڈرائیڈ ٹیبلٹس پر مبنی ڈیجیٹل نظام کے ذریعے پاکستان بھر میں، آزاد جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان سمیت، 32 ہزار 814 گھرانوں سے معلومات اکٹھی کی گئیں۔ حکام کے مطابق ڈیجیٹل طریقہ کار سے ڈیٹا کی شفافیت اور درستگی میں نمایاں بہتری آئی ہے۔

    سروے کے نتائج کو صوبائی سطح پر دو الگ رپورٹس کی صورت میں مرتب کیا گیا ہے، جن میں سماجی رپورٹ اور معاشی رپورٹ شامل ہیں۔ سماجی رپورٹ میں تعلیم، معلومات و مواصلاتی ٹیکنالوجی، صحت، آبادی و خاندانی بہبود، رہائش، پانی، صفائی ستھرائی اور خوراک کی عدم تحفظ سے متعلق اہم اشاریوں پر تفصیلی معلومات فراہم کی گئی ہیں، جبکہ معاشی رپورٹ میں گھرانوں کی آمدنی اور اخراجات کے رجحانات کا جائزہ لیا گیا ہے اور اخراجات کی بنیاد پر غربت کے تخمینے کے لیے ضروری اعداد و شمار بھی شامل کیے گئے ہیں۔

    تعلیم اور صحت کی صورتحال

    تعلیم کے شعبے سے متعلق سروے کے ابتدائی نتائج کے مطابق ملک میں شرح خواندگی 60 فیصد سے بڑھ کر 63 فیصد ہو گئی ہے، جسے ماہرین تعلیمی شعبے میں بتدریج بہتری کی علامت قرار دے رہے ہیں۔ اسی طرح اسکول سے باہر بچوں کی شرح میں بھی معمولی کمی دیکھنے میں آئی ہے، جو 30 فیصد سے کم ہو کر 28 فیصد رہ گئی ہے۔ تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ یہ پیش رفت حوصلہ افزا ہے، لیکن تعلیمی چیلنجز بدستور موجود ہیں۔

    دوسری جانب یونیسف کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار سرکاری اعداد و شمار سے قدرے مختلف تصویر پیش کرتے ہیں۔ یونیسف کے مطابق سال 2025 میں پاکستان دنیا میں اسکول سے باہر بچوں کی تعداد کے لحاظ سے دوسرے نمبر پر تھا۔ اندازوں کے مطابق 5 سے 16 سال کی عمر کے تقریباً 2 کروڑ 51 لاکھ بچے اسکول سے باہر ہیں، جو اس عمر کے مجموعی بچوں کی آبادی کا 35 فیصد بنتا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ صورتحال نہ صرف قومی ترقی کے لیے تشویش ناک ہے بلکہ مستقبل کی افرادی قوت پر بھی منفی اثرات مرتب کر سکتی ہے۔

    صحت کے شعبے میں سروے کے نتائج نسبتاً مثبت رجحانات کی نشاندہی کرتے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق بچوں کی مکمل ویکسینیشن کی شرح 68 فیصد سے بڑھ کر 73 فیصد ہو گئی ہے، جبکہ نوزائیدہ اور شیر خوار بچوں کی اموات میں بھی کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ صاف ایندھن استعمال کرنے والے گھرانوں کی شرح میں بھی اضافہ ہوا ہے، جسے ماحولیاتی بہتری اور صحت مند طرزِ زندگی کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے۔

    ڈیجیٹل رسائی میں خاطرخواہ اضافہ

    ڈیجیٹل رسائی کے حوالے سے سروے کے نتائج خاص طور پر نمایاں ہیں۔ رپورٹ کے مطابق گھریلو سطح پر انٹرنیٹ تک رسائی 34 فیصد سے بڑھ کر 70 فیصد ہو گئی ہے، جبکہ افراد کی سطح پر انٹرنیٹ استعمال 17 فیصد سے بڑھ کر 57 فیصد تک پہنچ چکا ہے۔ مزید برآں، تقریباً 96 فیصد گھرانوں میں موبائل یا اسمارٹ فون کی موجودگی اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ پاکستان تیزی سے ڈیجیٹل معیشت کی جانب بڑھ رہا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ رجحان مستقبل میں آن لائن تعلیم، ای-کامرس اور ڈیجیٹل روزگار کے مواقع میں اضافے کا سبب بن سکتا ہے۔

    اعدادوشمارکے مطابق جاری مالی سال کے پہلے 5ماہ میں موبائل فونزکی درآمدات پر801.13ملین ڈالرزرمبادلہ خرچ ہواجوگزشتہ مالی سال کی اسی مدت کے مقابلہ میں 40.51فیصدزیادہ ہے۔گزشتہ مالی سال کی اسی مدت میں موبائل فونز کی درآمدات پر570.18ملین ڈالرزرمبادلہ خرچ ہواتھا،نومبرمیں موبائل فونزکی درآمدات پر156.56ملین ڈالرزرمبادلہ خرچ ہواجونومبر2024کے مقابلہ میں 4.81فیصدزیادہ ہے،نومبر 2024میں موبائل فونزکی درآمدات پر149.37ملین ڈالرزرمبادلہ خرچ ہواتھا۔

    اکتوبرکے مقابلہ میں نومبرمیں موبائل فونزکی درآمدات میں ماہانہ بنیادوں پر8.30فیصدکی کمی ہوئی، اکتوبرمیں موبائل فونزکادرآمدی بل 144.56ملین ڈالرریکارڈکیاگیاتھا۔

    غربت میں کمی

    ماہرین معاشیات کے مطابق سروے کے اعداد و شمار غربت میں کمی، سماجی تحفظ کے پروگراموں اور وسائل کی منصفانہ تقسیم کے لیے نہایت اہم ثابت ہوں گے۔ ان کے مطابق یہ سروے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو اس قابل بنائے گا کہ وہ زمینی حقائق کی بنیاد پر ترقیاتی منصوبے ترتیب دیں اور عوامی فلاح کے پروگراموں کو مزید مؤثر بنایا جا سکے، خاص طور پر تعلیم، صحت اور ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کے شعبوں میں۔

    مجموعی طور پر ہاؤس ہولڈ انٹیگریٹڈ اکنامک سروے 2024–25 کو پاکستان میں ڈیٹا پر مبنی حکمرانی کی جانب ایک اہم سنگِ میل قرار دیا جا رہا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر ان نتائج کو مؤثر پالیسی اقدامات میں تبدیل کیا گیا تو یہ سروے پاکستانی عوام کے معیارِ زندگی میں حقیقی اور دیرپا بہتری لانے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔