عالمی سیاست کی پیچیدہ دنیا میں ایک حقیقت ہمیشہ واضح رہی ہے کہ ریاستوں کے تعلقات جذبات، نعروں یا ذاتی دوستیوں پر نہیں بلکہ مفادات کے توازن پر قائم ہوتے ہیں۔
تاریخ بار بار یہ ثابت کرتی ہے کہ جب کوئی ریاست حقیقت پسندی کے بجائے جذباتی انداز اختیار کرتی ہے تو اتحادیوں کے درمیان اعتماد کمزور پڑ جاتا ہے اور مشترکہ حکمت عملی متاثر ہوتی ہے۔
حالیہ دنوں میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا ایک بیان اسی بحث کو دوبارہ زندہ کر گیا ہے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ اگر ایران کے ساتھ بڑھتی کشیدگی کے دوران آبنائے ہرمز کو کھلا رکھنے کے لیے نیٹو ممالک نے امریکہ کا ساتھ نہ دیا تو اس کے سنگین نتائج نکل سکتے ہیں۔ اس بیان کو کئی مبصرین نے دباؤ ڈالنے کی کوشش اور سخت سفارتی انداز قرار دیا۔
آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین سمندری گزرگاہوں میں سے ایک ہے۔ عالمی تیل کی بڑی مقدار اسی راستے سے گزرتی ہے۔ اگر یہ راستہ بند ہوتا ہے تو اس کے اثرات صرف مشرق وسطیٰ تک محدود نہیں رہتے بلکہ عالمی معیشت بھی متاثر ہوتی ہے۔ اسی لیے امریکہ اسے ہر صورت کھلا رکھنا ضروری سمجھتا ہے۔
تاہم نیٹو کے کئی یورپی ممالک اس معاملے میں محتاط نظر آتے ہیں۔ ان کا ماننا ہے کہ ایران کے ساتھ براہ راست تصادم خطے کو مزید عدم استحکام کی طرف دھکیل سکتا ہے۔ اسی لیے وہ سفارتی حل، مذاکرات اور توازن کی پالیسی کو ترجیح دیتے ہیں۔ ہر ملک اپنے سیاسی، اقتصادی اور سلامتی کے مفادات کو سامنے رکھ کر فیصلہ کرتا ہے۔
یہ صورتحال ایک بار پھر واضح کرتی ہے کہ اتحاد بھی مفادات کے تابع ہوتے ہیں۔ نیٹو ایک مضبوط فوجی اتحاد ضرور ہے مگر اس کے تمام اراکین ہر معاملے پر ایک جیسا مؤقف اختیار نہیں کرتے۔ خاص طور پر جب بات کسی ممکنہ جنگ کی ہو تو کئی ممالک احتیاط کو ترجیح دیتے ہیں۔
ٹرمپ کا سخت لہجہ اسی لیے حیران کن سمجھا گیا۔ عالمی سفارت کاری میں تعلقات دباؤ سے نہیں بلکہ اعتماد، مشاورت اور مشترکہ حکمت عملی سے مضبوط ہوتے ہیں۔ دباؤ ڈالنے سے اتحاد کے اندر بے چینی اور شکوک پیدا ہو سکتے ہیں۔
عالمی سفارت کاری کا ایک اصول بار بار دہرایا جاتا ہے۔ ‘دوستیاں اور دشمنیاں مستقل نہیں ہوتیں، مفادات ہوتے ہیں’۔
موجودہ صورتحال بھی اسی حقیقت کی عکاسی کرتی ہے۔ امریکہ اور یورپی ممالک کے تعلقات دہائیوں پر محیط ہیں مگر اس کے باوجود ہر ملک اپنے مفادات کو سب سے پہلے رکھتا ہے۔
عالمی سیاست میں کامیابی اسی کو ملتی ہے جو اپنے اتحادیوں کے ساتھ تعلقات کو دباؤ کے بجائے اعتماد، احترام اور باہمی مفادات کی بنیاد پر آگے بڑھائے۔ طاقت، معیشت اور سفارت کاری ایک دوسرے سے جڑی ہوئی حقیقتیں ہیں اور ان میں توازن ہی پالیسیوں کا رخ طے کرتا ہے۔
آخر میں حقیقت سادہ ہے۔
ریاستیں نعروں سے نہیں، مفادات سے چلتی ہیں۔

