یہ پاکستان کی سیاست کی وہ داستان ہے جس میں طاقت، روحانیت، سیاست اورعقائد ایک دوسرے میں یوں گڈمڈ ہوتے نظر آتے ہیں کہ حقیقت اور تاثر کے درمیان فرق کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔
اور اب برطانوی جریدے دی اکانومسٹ گروپ کے ڈیجیٹل میگزین نے اسی موضوع پر ایک طویل، تحقیقاتی رپورٹ شائع کی ہے۔ اس رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ عمران خان کے دورِ حکومت میں ان کی بیگم بشریٰ بی بی نے مبینہ طور پر اہم سرکاری فیصلوں اور تقرریوں پر نمایاں اثر و رسوخ استعمال کیا۔ جریدے کے مطابق عمران خان کی سیاست، اُن کے سرکاری معاملات، اور یہاں تک کہ اُن کے قریبی رفقا تک رسائی میں بھی بشریٰ بی بی کا کردار مرکزی حیثیت اختیار کر چکا تھا۔
شادی یا سیاسی موڑ؟
سینئر صحافی اوون بینیٹ جونز کی تحریر کردہ اس رپورٹ کے مطابق، بانی پی ٹی آئی کی شخصیت، سیاست اور فیصلہ سازی میں ایک اہم موڑ اس وقت آیا جب ان کی شادی ان کی موجودہ بیگم بشریٰ بی بی سے ہوئی۔ یہ شادی ان کے وزیراعظم بننے سے کچھ مہینوں قبل ہوئی تھی۔ بشریٰ بیگم ایک ایسی شخصیت ہیں جنہیں ان کے قریبی حلقے "روحانی رہنمائی” کا ذریعہ سمجھتے رہے ہیں۔
اوون بینیٹ جونز لکھتے ہیں کہ ان کی بیگم کی وجہ سے نہ صرف بانی پی ٹی آئی کے اندازِ حکمرانی پر سوالات اٹھائے گئے، بلکہ حکومتی نظام کے اندر بھی ایک نئی طرح کا اثر و رسوخ قائم ہوا۔
حساس ملاقاتیں، تقرریاں اور اثر و رسوخ
رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ بشریٰ بی بی سرکاری معاملات، اہم فیصلوں، حتیٰ کہ بعض حساس تقرریوں تک اثر انداز ہونے کی کوشش کرتی رہیں۔ جریدے نے اس بات کی بھی نشاندہی کی کہ عمران خان کے دور میں ڈی جی آئی ایس آئی کی تبدیلی سمیت کچھ حساس معاملات پر بھی انہی اثرات کی بازگشت سنائی دیتی رہی۔
رپورٹ میں ایک سابق کابینہ رکن کا بیان بھی شامل ہے، جس کے مطابق بشریٰ بی بی حکومتی امور میں براہ راست مداخلت کرتی تھیں، جب کہ وہ حساس ملاقاتوں، حتیٰ کہ سابق وزیراعظم اور آرمی چیف کے اہم سیشنز میں بھی شریک رہتی تھیں۔
اسی سلسلے میں یہ دعویٰ بھی سامنے آیا کہ بانی پی ٹی آئی کا سرکاری طیارہ بھی بشریٰ بی بی کی اجازت کے بغیر اُڑان نہیں بھرتا تھا۔
ایک اور الزام کے مطابق، بانی نے بشریٰ بی بی کی ہدایات پر بعض قریبی ساتھیوں اور وفادار ملازمین سے بھی دوری اختیار کر لی۔
یہ دعوے رپورٹ کے حصہ ہیں، اور دی اکانومسٹ انہیں متعدد ذرائع کے بیانات کے طور پر بیان کرتا ہے۔
سیاست، کرکٹ اور کلٹ
دی اکانومسٹ یہ بھی کہتا ہے کہ جب عمران خان وزیراعظم تھے، تو صحافیوں کے ساتھ ملاقاتوں میں ملکی پالیسیوں یا حکومتی کارکردگی سے زیادہ کرکٹ، نجی زندگی اور ذاتی تعلقات موضوعِ گفتگو بنے رہتے تھے۔
دی اکانومسٹ کے مطابق عمران خان کی اسلام آباد کی رہائش بنی گالہ کے بعض سابق گھریلو ملازمین نے دعویٰ کیا کہ روحانی عملیات کے نام پر بعض رسومات بھی ادا کی جاتی تھیں، جن میں گوشت، کلیجی اور دیگر چیزوں کا استعمال کیا جاتا تھا۔ اگرچہ ان دعوؤں کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہوسکی، مگر جریدے نے انہیں سیاسی منظرنامے کا حصہ بننے والے بیانیوں میں سے ایک قرار دیا۔
رپورٹ کے مطابق، اقتدار میں آنے سے پہلے بلند و بانگ دعوے کیے گئے، مگر اقتدار ملنے کے بعد ایک بھی بڑا وعدہ پورا نہ ہو سکا۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کرپشن کیسز نے بانی پی ٹی آئی کے "صاف شفاف” ہونے کے بیانیے کو شدید نقصان پہنچایا، اور پارٹی کو ایک منظم سیاسی جماعت کی بجائے ایک "کلٹ” کی طرح چلایا گیا۔
دی اکانومسٹ کے مطابق “کچھ باخبر حلقوں کا خیال ہے کہ مستقبل میں بھی عمران خان کی حکمتِ عملی کا اہم حصہ بشریٰ بی بی کی رائے ہی رہے گا، چاہے وہ جیل میں ہوں یا رہائی کے بعد سیاسی میدان میں واپسی کریں۔
رپورٹ کا مجموعی تاثر یہ ابھرتا ہے کہ بانی پی ٹی آئی کی سیاست، ان کے نظریات، ان کے فیصلے اور ان کے اردگرد موجود شخصیات سب مل کر ایک ایسی کہانی تشکیل دیتے ہیں جو پاکستان کی سیاسی تاریخ میں کم ہی نظر آتی ہے۔ یہ ایک ایسی کہانی ہے جہاں مذہب، روحانیت، طاقت اور سیاست ایک ساتھ مل کر ایک غیر روایتی بیانیہ تخلیق کرتے ہیں۔

