Tag: عمران خان

  • نواز شریف کے پلیٹ لیٹس کی طرح عمران خان کی کم ہوتی بینائی، کیا عمران خان نواز شریف بننے پر تیار ہوچکے ہیں؟

    نواز شریف کے پلیٹ لیٹس کی طرح عمران خان کی کم ہوتی بینائی، کیا عمران خان نواز شریف بننے پر تیار ہوچکے ہیں؟

    عمران خان کی بینائی کے گرد گزشتہ چند دن میں جتنی بھی ڈویلپمنٹس ہوئی ہیں وہ انتہائی مشکوک معلوم ہوتی ہیں، ہم یہ سوالات بعد میں اٹھائیں گے کہ کس طرح ایک محکوم سپریم کورٹ میں اتنی ہمت آگئی کہ وہ اچانک عمران خان کے معاملے میں فعال ہو گئی؟ اور کس طرح عمران خان کے وکیل سلمان صفدر کو ہی عدالتی معاون مقرر کردیاگیا؟

     

    سب سے بڑا سوالیہ نشان تو خود یہ رپورٹ ہے جس میں یہ دعویٰ کر دیا گیا ہے کہ عمران خان کی بینائی پوری 85 فیصد جاچکی ہے، میرے نزدیک اس رپورٹ کا یہ حصہ انتہائی Cleverly Articulated ہے، سلمان صفدر نے نیوز کانفرنس میں کمال ہوشیاری سے کہہ دیا کہ میں کچھ نہیں کہوں گا رپورٹ خود سب کچھ بتا رہی ہے۔

     

    رپورٹ کے مطابق پٹیشنر (عمران خان) نے بتایا کہ انجیکشن لگنے کے بعد ان کی بینائی صرف 15 فیصد ہی بحال ہوئی ہے، بینائی کتنی گئی ہے اور کتنی باقی ہے؟ بینائی مستقل ختم ہوگئی ہے؟ یا بحال ہو سکتی ہے؟ اس کی تصدیق کوئی آئی اسپیشلسٹ میڈیکل انویسٹیگیشن رپورٹ کے ساتھ ہی کر سکتا ہے مگر یہاں بھی یہ تصدیق اور مستند رائے اسی طرح غائب ہے جس طرح 2019 میں نواز شریف کے پلیٹ لیٹس صرف دو ہزار تک گر جانے کے دعووں کے وقت تھی۔

     

    اس وقت بھی کسی ساکھ والے معالج کے بجائے صرف پارٹی رہنما ایک مشکوک لیبارٹری کی رپورٹ لہرا کر شام غریباں برپا کرتے تھے جو بعد میں جھوٹی اور فراڈ ثابت ہوئیں ۔

     

    اس سے زیادہ اہم سوالات پی ٹی آئی رہنماؤں کے طرز عمل پر اٹھتے ہیں

     

    اس سے پہلے عمران خان کے ساتھ روا رکھے گئے ہر ظلم کا ذمہ دار عمران خان اور ان کی پارٹی براہ راست سپہ سالار فیلڈ مارشل عاصم منیر کو قرار دیتی آئی ہے مگر جمعرات کی نیوز کانفرنس میں اس سارے معاملے کا واحد ذمہ دار صرف جیل سپرٹنڈنٹ عبد الغفور انجم قرار پایا ہے اور سلمان اکرم راجا کے ساتھ ساتھ علیمہ خان نے بھی نیوز کانفرنس میں صرف عبدالغفور انجم پر ہی اکتفا کیا ہے جو عاصم منیر کو براہ راست زمہ دار قرار دینے میں ذرا سا بھی نہیں چوکتی تھیں ۔

     

    حیرت انگیز بات یہ ہے کہ جمعرات کو کہ فیملی سے ملاقات کا دن ہے اس دن علیمہ خان پہلی بار اڈیالہ جیل جانا بھی بھول گئیں، اور اس سے زیادہ مزیدار بات یہ ہے اس رپورٹ میں عمران خان سے جیل میں ملاقاتوں کی بندش کا کوئی ذکر ہی موجود نہیں ہے، سلمان صفدر کی رپورٹ میں ایسی کوئی چیز نہیں ہے کہ عمران خان نے ملاقاتیں بند ہونے کی کوئی شکایت کی ہو، حالانکہ قیدی کو حاصل بنیادی قانونی حقوق میں اہلخانہ سے ملاقات سب سے اہم ہوتی ہے ۔

     

    رپورٹ میں اس کا ہی ذکر نہ ہونا، پی ٹی آئی رہنماؤں کا بھی اس کی شکایت اور احتجاج نہ کرنا سوالات کو جنم دیتا ہے ۔

     

    ہمارے دوست اور استادوں جیسے سینیئر صحافی مطیع اللہ جان نے بجا طور پر کہا ہے کہ چھبیسویں اور ستائیسویں ترمیم کے بعد بغیر دانت والی سپریم کورٹ اور یحییٰ آفریدی جیسے اپنے ادارے کو تباہ کرنے والے چیف جسٹس کا کیس لگانا، عمران خان کے وکیل سلمان صفدر کو ہی عدالتی معاون بنانا، اڈیالہ جیل کے دورے اور عمران خان کی ملاقات کی اجازت دینا اور پھر سلمان صفدر کی Cleverly Articulated Report کو پبلک کرنے کی اجازت دے دینا سب کچھ طے شدہ ہی لگتا ہے، ورنہ پانچ ماہ سے ملاقاتیں بند رہیں شور مچتا رہا اور جسٹس یحییٰ آفریدی سمیت کسی منصف کی پیشانی پر بل تک نہیں آئے حالانکہ ملاقاتوں کا حکم اسلام آباد کی ڈوگر کورٹ کا ہی تھا ۔

     

    یہاں نکتے ملانے سے جو تصویر بن رہی ہے وہ کچھ ایسی ہے کہ جیسے یہ نظام اور عمران خان دونوں کو ہی بڑے چیلنجرز درپیش ہیں اور دونوں کو ہی ماضی سے بہتر فیس سیونگ کی بھی تلاش ہے ۔

     

    یقیناً نظام نے کچھ بڑے سمجھوتے کیئے ہوں گے جو عمران خان بھی ایک قدم آگے بڑھے ہیں ۔

     

    عمران خان کی شخصیت کا تجزیہ اور اب تک کے تجربے کو دیکھیں تو ایک بات تو یقینی ہے کہ جتنا زیادہ دبائو ہوگا عمران خان کا طرز عمل اتنا ہی مضبوط ہوگا، وہ پچاس پچپن سال سے پریشر اور چیلنج میں زیادہ بہتر پرفارم کرتا نظر آیا ہے ۔

     

     

    یعنی اس نظام نے اب تک عمران خان کو اسی کام میں لگایا ہوا ہے جس میں وہ سب سے اچھا ہے ۔ اور اسی پریشر ٹیکٹکس میں ہی اس نے بہادری کی وہ مثال قائم کی ہے کہ جس کی بدولت عمران خان مقبولیت کی اس معراج پر ہے جو اس سے پہلے ملک میں کسی کو حاصل نہیں رہی ہے ۔

     

    اور اس نے نواز شریف بننے کے لیئے تو اتنی سختیاں برداشت نہیں کی ہیں؟ نہ وہ بننے پر تیار ہوگا ۔

     

    یہ سمجھنا بھی ضروری ہے کہ اس نظام کے سامنے غزہ بورڈ آف پیس جیسا چیلنج ہے جس کا بوجھ تن تنہا اٹھانا آسان نہیں ہے

     

    تو نظام کی مجبوری کو بھی سمجھنا چاہیئے ۔

  • روحانی اثر یا سیاسی فیصلہ سازی؟ بانی پی ٹی آئی پر عالمی جریدے کی ہنگامہ خیز رپورٹ

    روحانی اثر یا سیاسی فیصلہ سازی؟ بانی پی ٹی آئی پر عالمی جریدے کی ہنگامہ خیز رپورٹ

    یہ پاکستان کی سیاست کی وہ داستان ہے جس میں طاقت، روحانیت، سیاست اورعقائد ایک دوسرے میں یوں گڈمڈ ہوتے نظر آتے ہیں کہ حقیقت اور تاثر کے درمیان فرق کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔

    اور اب برطانوی جریدے دی اکانومسٹ گروپ کے ڈیجیٹل میگزین نے اسی موضوع پر ایک طویل، تحقیقاتی رپورٹ شائع کی ہے۔ اس رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ عمران خان کے دورِ حکومت میں ان کی بیگم بشریٰ بی بی نے مبینہ طور پر اہم سرکاری فیصلوں اور تقرریوں پر نمایاں اثر و رسوخ استعمال کیا۔ جریدے کے مطابق عمران خان کی سیاست، اُن کے سرکاری معاملات، اور یہاں تک کہ اُن کے قریبی رفقا تک رسائی میں بھی بشریٰ بی بی کا کردار مرکزی حیثیت اختیار کر چکا تھا۔

    شادی یا سیاسی موڑ؟

    سینئر صحافی اوون بینیٹ جونز کی تحریر کردہ اس رپورٹ کے مطابق، بانی پی ٹی آئی کی شخصیت، سیاست اور فیصلہ سازی میں ایک اہم موڑ اس وقت آیا جب ان کی شادی ان کی موجودہ بیگم بشریٰ بی بی سے ہوئی۔ یہ شادی ان کے وزیراعظم بننے سے کچھ مہینوں قبل ہوئی تھی۔ بشریٰ بیگم ایک ایسی شخصیت ہیں جنہیں ان کے قریبی حلقے "روحانی رہنمائی” کا ذریعہ سمجھتے رہے ہیں۔

    اوون بینیٹ جونز لکھتے ہیں کہ ان کی بیگم کی وجہ سے نہ صرف بانی پی ٹی آئی کے اندازِ حکمرانی پر سوالات اٹھائے گئے، بلکہ حکومتی نظام کے اندر بھی ایک نئی طرح کا اثر و رسوخ قائم ہوا۔

    حساس ملاقاتیں، تقرریاں اور اثر و رسوخ

    رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ بشریٰ بی بی سرکاری معاملات، اہم فیصلوں، حتیٰ کہ بعض حساس تقرریوں تک اثر انداز ہونے کی کوشش کرتی رہیں۔ جریدے نے اس بات کی بھی نشاندہی کی کہ عمران خان کے دور میں ڈی جی آئی ایس آئی کی تبدیلی سمیت کچھ حساس معاملات پر بھی انہی اثرات کی بازگشت سنائی دیتی رہی۔

    رپورٹ میں ایک سابق کابینہ رکن کا بیان بھی شامل ہے، جس کے مطابق بشریٰ بی بی حکومتی امور میں براہ راست مداخلت کرتی تھیں، جب کہ وہ حساس ملاقاتوں، حتیٰ کہ سابق وزیراعظم اور آرمی چیف کے اہم سیشنز میں بھی شریک رہتی تھیں۔

    اسی سلسلے میں یہ دعویٰ بھی سامنے آیا کہ بانی پی ٹی آئی کا سرکاری طیارہ بھی بشریٰ بی بی کی اجازت کے بغیر اُڑان نہیں بھرتا تھا۔
    ایک اور الزام کے مطابق، بانی نے بشریٰ بی بی کی ہدایات پر بعض قریبی ساتھیوں اور وفادار ملازمین سے بھی دوری اختیار کر لی۔
    یہ دعوے رپورٹ کے حصہ ہیں، اور دی اکانومسٹ انہیں متعدد ذرائع کے بیانات کے طور پر بیان کرتا ہے۔

    سیاست، کرکٹ اور کلٹ

    دی اکانومسٹ یہ بھی کہتا ہے کہ جب عمران خان وزیراعظم تھے، تو صحافیوں کے ساتھ ملاقاتوں میں ملکی پالیسیوں یا حکومتی کارکردگی سے زیادہ کرکٹ، نجی زندگی اور ذاتی تعلقات موضوعِ گفتگو بنے رہتے تھے۔

    دی اکانومسٹ کے مطابق عمران خان کی اسلام آباد کی رہائش بنی گالہ کے بعض سابق گھریلو ملازمین نے دعویٰ کیا کہ روحانی عملیات کے نام پر بعض رسومات بھی ادا کی جاتی تھیں، جن میں گوشت، کلیجی اور دیگر چیزوں کا استعمال کیا جاتا تھا۔ اگرچہ ان دعوؤں کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہوسکی، مگر جریدے نے انہیں سیاسی منظرنامے کا حصہ بننے والے بیانیوں میں سے ایک قرار دیا۔

    رپورٹ کے مطابق، اقتدار میں آنے سے پہلے بلند و بانگ دعوے کیے گئے، مگر اقتدار ملنے کے بعد ایک بھی بڑا وعدہ پورا نہ ہو سکا۔

    رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کرپشن کیسز نے بانی پی ٹی آئی کے "صاف شفاف” ہونے کے بیانیے کو شدید نقصان پہنچایا، اور پارٹی کو ایک منظم سیاسی جماعت کی بجائے ایک "کلٹ” کی طرح چلایا گیا۔

    دی اکانومسٹ کے مطابق “کچھ باخبر حلقوں کا خیال ہے کہ مستقبل میں بھی عمران خان کی حکمتِ عملی کا اہم حصہ بشریٰ بی بی کی رائے ہی رہے گا، چاہے وہ جیل میں ہوں یا رہائی کے بعد سیاسی میدان میں واپسی کریں۔

    رپورٹ کا مجموعی تاثر یہ ابھرتا ہے کہ بانی پی ٹی آئی کی سیاست، ان کے نظریات، ان کے فیصلے اور ان کے اردگرد موجود شخصیات سب مل کر ایک ایسی کہانی تشکیل دیتے ہیں جو پاکستان کی سیاسی تاریخ میں کم ہی نظر آتی ہے۔ یہ ایک ایسی کہانی ہے جہاں مذہب، روحانیت، طاقت اور سیاست ایک ساتھ مل کر ایک غیر روایتی بیانیہ تخلیق کرتے ہیں۔