سابق وزیراعظم عمران خان کے دونوں بیٹوں نے اپنے والد کی صحت پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ پاکستانی حکام انہیں اپنے والد سے ملاقات کی اجازت نہیں دے رہے، جبکہ حکومت نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ عمران خان کو قانون اور جیل قواعد کے مطابق خاندان، وکلا اور ڈاکٹروں تک مناسب رسائی حاصل ہے۔ یہ دعوے اور جوابات امریکی نشریاتی ادارے سی این این کو دیے گئے انٹرویوز اور بیانات میں سامنے آئے ہیں۔
سی این این کے مطابق سابق وزیراعظم عمران خان کی گرفتاری کو تین سال مکمل ہونے پر ان کے بیٹے قاسم خان اور سلیمان عیسیٰ خان نے لندن سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ انہیں گزشتہ سات ماہ سے اپنے والد کی صحت کے بارے میں کوئی مستند اطلاع نہیں ملی۔ ان کا کہنا تھا کہ نہ خاندان کو ملاقات کی اجازت دی جا رہی ہے، نہ وکلا کو اور نہ ہی ڈاکٹروں کو، جس کی وجہ سے انہیں اپنے والد کی صحت کے بارے میں شدید خدشات لاحق ہیں۔
دوسری جانب عمران خان کی جماعت پاکستان تحریک انصاف کے ہزاروں کارکنوں نے بدھ کے روز ملک کے مختلف شہروں میں ریلیاں نکالیں اور عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کی رہائی کا مطالبہ کیا۔
واضح رہے کہ عمران خان 2018 سے 2022 تک پاکستان کے وزیراعظم رہے۔ انہیں 2022 میں قومی اسمبلی میں عدم اعتماد کی تحریک کے ذریعے اقتدار سے ہٹایا گیا تھا۔ اس کے بعد وہ موجودہ حکومت کے خلاف ملک بھر میں جلسے کرتے رہے۔ عمران خان نے اپنی حکومت کے خاتمے کا الزام حکومت، اسٹیبلشمنٹ اور امریکا پر عائد کیا تھا، تاہم فوج اور امریکا دونوں نے ان الزامات کی تردید کی تھی۔
بعد ازاں عمران خان کو بدعنوانی اور ریاستی راز افشا کرنے سمیت مختلف مقدمات میں سزا سنائے جانے کے بعد گرفتار کر لیا گیا۔ عمران خان اور ان کی جماعت ان مقدمات کو سیاسی انتقام قرار دیتی ہے، جبکہ حکومت کا مؤقف ہے کہ تمام کارروائیاں قانون کے مطابق کی جا رہی ہیں۔

سی این این کے مطابق قاسم اور سلیمان اپنی والدہ جمائما گولڈ اسمتھ کے ساتھ 2004 میں والدین کی علیحدگی کے بعد سے برطانیہ میں مقیم ہیں۔ دونوں بھائیوں کا کہنا ہے کہ جب بھی وہ میڈیا پر اپنے والد کے حق میں بات کرتے ہیں تو پاکستان آنے کی راہ میں مزید رکاوٹیں کھڑی کر دی جاتی ہیں۔
قاسم خان نے کہا کہ وہ پاکستان آکر اپنے والد سے ملنا چاہتے ہیں لیکن انہیں سفر کی اجازت نہیں مل رہی۔ ان کے بقول اس بات کی کوئی وجہ نہیں کہ انہیں پاکستان آنے کی اجازت نہ دی جائے۔
اس کے جواب میں پاکستان کی وزارت اطلاعات نے سی این این کو بتایا کہ قاسم اور سلیمان دونوں کے پاس بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے قومی شناختی کارڈ موجود ہیں، اس لیے انہیں پاکستان آنے کے لیے ویزے کی ضرورت ہی نہیں۔ وزارت اطلاعات نے کہا کہ دونوں بھائیوں کے الزامات گمراہ کن ہیں اور ایک انتظامی معاملے کو سیاسی رنگ دینے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
تاہم قاسم اور سلیمان کا کہنا تھا کہ ان کے قومی شناختی کارڈ کی مدت ختم ہو چکی ہے اور ان کی تجدید نہیں کی گئی، جبکہ وزارت اطلاعات نے اس مخصوص دعوے پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔
ادھر انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے بھی ایک بیان جاری کرتے ہوئے پاکستانی حکام سے مطالبہ کیا کہ عمران خان اور بشریٰ بی بی کو بغیر کسی شرط کے اپنے اہل خانہ اور وکلا سے ملاقات کا حق دیا جائے۔ تنظیم نے کہا کہ
دونوں کو مناسب طبی سہولتیں فراہم کی جائیں اور اگر انہیں تنہائی میں رکھا گیا ہے تو اس عمل کو فوری طور پر ختم کیا جائے۔
پاکستانی حکومت نے سی این این کو جاری اپنے تفصیلی بیان میں کہا کہ عمران خان کو سات ماہ تک رابطوں سے محروم رکھنے یا خاندان، وکلا اور ڈاکٹروں سے ملاقات نہ کرانے کے دعوے مکمل طور پر غلط ہیں۔ حکومت کے مطابق ریکارڈ سے ثابت ہوتا ہے کہ عمران خان کو متعدد مواقع پر ملاقات اور رابطے کی سہولت دی گئی۔
حکومت نے بتایا کہ عمران خان نے 21 مارچ 2026 کو اپنے ایک بیٹے سے ٹیلی فون پر بات بھی کی تھی، جس سے واضح ہوتا ہے کہ ان کے رابطے مکمل طور پر بند نہیں کیے گئے بلکہ پاکستان جیل قواعد، عدالتی احکامات اور سکیورٹی تقاضوں کے مطابق منظم کیے جا رہے ہیں۔
حکومت نے عمران خان کی صحت کے بارے میں بھی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ان کی طبی حالت مستحکم ہے، انہیں کسی سنگین یا نظرانداز کی گئی بیماری کا سامنا نہیں اور انہیں ڈاکٹروں کی ہدایات کے مطابق علاج، ادویات اور طبی معائنہ مسلسل فراہم کیا جا رہا ہے۔
بیان میں عمران خان کی رہائش کی تفصیلات بھی بیان کی گئیں۔ حکومت کے مطابق وہ تقریباً 30 سے 35 قیدیوں کے لیے مختص سات کمروں پر مشتمل ایک علیحدہ احاطے میں رہ رہے ہیں، جہاں انہیں بستر، گدہ، تکیے، کمبل، میز، کرسی، صفائی کی سہولتیں، ورزش کا سامان، کشادہ راہداری اور سبزہ بھی دستیاب ہے۔ حکومت کا کہنا تھا کہ یہ صورتحال اس تاثر سے بالکل مختلف ہے جو عوام کے سامنے پیش کیا جا رہا ہے۔
تاہم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے ماضی میں بھی تحریک انصاف کے کارکنوں اور رہنماؤں کی بڑے پیمانے پر گرفتاریوں کو من مانی کارروائیاں قرار دیا ہے۔ قاسم خان نے سی این این کو بتایا کہ ان کی جماعت کے کئی کارکن اب بھی انسداد دہشت گردی کے مقدمات میں زیر حراست ہیں جبکہ متعدد افراد کو فوجی عدالتوں سے سزائیں بھی سنائی جا چکی ہیں۔
جب دونوں بھائیوں سے پوچھا گیا کہ کیا ان کے والد حکومت کے ساتھ کسی مفاہمتی معاہدے پر آمادہ ہو سکتے ہیں، تو سلیمان خان نے کہا کہ عمران خان اس وقت تک ایسا کوئی معاہدہ نہیں کریں گے جب تک دیگر سیاسی قیدیوں کے مسئلے کا بھی کوئی حل نہ نکلے۔ قاسم خان نے بھی کہا کہ فی الحال ایسا امکان کم دکھائی دیتا ہے۔
قاسم خان نے مزید کہا کہ حکومت ان کے والد کی تازہ طبی رپورٹ بھی جاری نہیں کر رہی، اس لیے انہیں خدشہ ہے کہ گزشتہ چند ماہ میں عمران خان کی صحت مزید خراب ہو سکتی ہے۔ انہوں نے عالمی برادری سے اپیل کی کہ وہ پاکستان کی صورتحال کا نوٹس لے اور اس معاملے پر توجہ دے۔






