Tag: عمران خان

  • عمران خان کے بیٹوں کا والد کی صحت پر اظہار تشویش، حکومت نے الزامات مسترد کر دیے

    عمران خان کے بیٹوں کا والد کی صحت پر اظہار تشویش، حکومت نے الزامات مسترد کر دیے

    سابق وزیراعظم عمران خان کے دونوں بیٹوں نے اپنے والد کی صحت پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ پاکستانی حکام انہیں اپنے والد سے ملاقات کی اجازت نہیں دے رہے، جبکہ حکومت نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ عمران خان کو قانون اور جیل قواعد کے مطابق خاندان، وکلا اور ڈاکٹروں تک مناسب رسائی حاصل ہے۔ یہ دعوے اور جوابات امریکی نشریاتی ادارے سی این این کو دیے گئے انٹرویوز اور بیانات میں سامنے آئے ہیں۔

    سی این این کے مطابق سابق وزیراعظم عمران خان کی گرفتاری کو تین سال مکمل ہونے پر ان کے بیٹے قاسم خان اور سلیمان عیسیٰ خان نے لندن سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ انہیں گزشتہ سات ماہ سے اپنے والد کی صحت کے بارے میں کوئی مستند اطلاع نہیں ملی۔ ان کا کہنا تھا کہ نہ خاندان کو ملاقات کی اجازت دی جا رہی ہے، نہ وکلا کو اور نہ ہی ڈاکٹروں کو، جس کی وجہ سے انہیں اپنے والد کی صحت کے بارے میں شدید خدشات لاحق ہیں۔

    دوسری جانب عمران خان کی جماعت پاکستان تحریک انصاف کے ہزاروں کارکنوں نے بدھ کے روز ملک کے مختلف شہروں میں ریلیاں نکالیں اور عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کی رہائی کا مطالبہ کیا۔

    واضح رہے کہ عمران خان 2018 سے 2022 تک پاکستان کے وزیراعظم رہے۔ انہیں 2022 میں قومی اسمبلی میں عدم اعتماد کی تحریک کے ذریعے اقتدار سے ہٹایا گیا تھا۔ اس کے بعد وہ موجودہ حکومت کے خلاف ملک بھر میں جلسے کرتے رہے۔ عمران خان نے اپنی حکومت کے خاتمے کا الزام حکومت، اسٹیبلشمنٹ اور امریکا پر عائد کیا تھا، تاہم فوج اور امریکا دونوں نے ان الزامات کی تردید کی تھی۔

    بعد ازاں عمران خان کو بدعنوانی اور ریاستی راز افشا کرنے سمیت مختلف مقدمات میں سزا سنائے جانے کے بعد گرفتار کر لیا گیا۔ عمران خان اور ان کی جماعت ان مقدمات کو سیاسی انتقام قرار دیتی ہے، جبکہ حکومت کا مؤقف ہے کہ تمام کارروائیاں قانون کے مطابق کی جا رہی ہیں۔

    سی این این کے مطابق قاسم اور سلیمان اپنی والدہ جمائما گولڈ اسمتھ کے ساتھ 2004 میں والدین کی علیحدگی کے بعد سے برطانیہ میں مقیم ہیں۔ دونوں بھائیوں کا کہنا ہے کہ جب بھی وہ میڈیا پر اپنے والد کے حق میں بات کرتے ہیں تو پاکستان آنے کی راہ میں مزید رکاوٹیں کھڑی کر دی جاتی ہیں۔

    قاسم خان نے کہا کہ وہ پاکستان آکر اپنے والد سے ملنا چاہتے ہیں لیکن انہیں سفر کی اجازت نہیں مل رہی۔ ان کے بقول اس بات کی کوئی وجہ نہیں کہ انہیں پاکستان آنے کی اجازت نہ دی جائے۔

    اس کے جواب میں پاکستان کی وزارت اطلاعات نے سی این این کو بتایا کہ قاسم اور سلیمان دونوں کے پاس بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے قومی شناختی کارڈ موجود ہیں، اس لیے انہیں پاکستان آنے کے لیے ویزے کی ضرورت ہی نہیں۔ وزارت اطلاعات نے کہا کہ دونوں بھائیوں کے الزامات گمراہ کن ہیں اور ایک انتظامی معاملے کو سیاسی رنگ دینے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

    تاہم قاسم اور سلیمان کا کہنا تھا کہ ان کے قومی شناختی کارڈ کی مدت ختم ہو چکی ہے اور ان کی تجدید نہیں کی گئی، جبکہ وزارت اطلاعات نے اس مخصوص دعوے پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔

    ادھر انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے بھی ایک بیان جاری کرتے ہوئے پاکستانی حکام سے مطالبہ کیا کہ عمران خان اور بشریٰ بی بی کو بغیر کسی شرط کے اپنے اہل خانہ اور وکلا سے ملاقات کا حق دیا جائے۔ تنظیم نے کہا کہ

    دونوں کو مناسب طبی سہولتیں فراہم کی جائیں اور اگر انہیں تنہائی میں رکھا گیا ہے تو اس عمل کو فوری طور پر ختم کیا جائے۔

    پاکستانی حکومت نے سی این این کو جاری اپنے تفصیلی بیان میں کہا کہ عمران خان کو سات ماہ تک رابطوں سے محروم رکھنے یا خاندان، وکلا اور ڈاکٹروں سے ملاقات نہ کرانے کے دعوے مکمل طور پر غلط ہیں۔ حکومت کے مطابق ریکارڈ سے ثابت ہوتا ہے کہ عمران خان کو متعدد مواقع پر ملاقات اور رابطے کی سہولت دی گئی۔

    حکومت نے بتایا کہ عمران خان نے 21 مارچ 2026 کو اپنے ایک بیٹے سے ٹیلی فون پر بات بھی کی تھی، جس سے واضح ہوتا ہے کہ ان کے رابطے مکمل طور پر بند نہیں کیے گئے بلکہ پاکستان جیل قواعد، عدالتی احکامات اور سکیورٹی تقاضوں کے مطابق منظم کیے جا رہے ہیں۔

    حکومت نے عمران خان کی صحت کے بارے میں بھی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ان کی طبی حالت مستحکم ہے، انہیں کسی سنگین یا نظرانداز کی گئی بیماری کا سامنا نہیں اور انہیں ڈاکٹروں کی ہدایات کے مطابق علاج، ادویات اور طبی معائنہ مسلسل فراہم کیا جا رہا ہے۔

    بیان میں عمران خان کی رہائش کی تفصیلات بھی بیان کی گئیں۔ حکومت کے مطابق وہ تقریباً 30 سے 35 قیدیوں کے لیے مختص سات کمروں پر مشتمل ایک علیحدہ احاطے میں رہ رہے ہیں، جہاں انہیں بستر، گدہ، تکیے، کمبل، میز، کرسی، صفائی کی سہولتیں، ورزش کا سامان، کشادہ راہداری اور سبزہ بھی دستیاب ہے۔ حکومت کا کہنا تھا کہ یہ صورتحال اس تاثر سے بالکل مختلف ہے جو عوام کے سامنے پیش کیا جا رہا ہے۔

    تاہم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے ماضی میں بھی تحریک انصاف کے کارکنوں اور رہنماؤں کی بڑے پیمانے پر گرفتاریوں کو من مانی کارروائیاں قرار دیا ہے۔ قاسم خان نے سی این این کو بتایا کہ ان کی جماعت کے کئی کارکن اب بھی انسداد دہشت گردی کے مقدمات میں زیر حراست ہیں جبکہ متعدد افراد کو فوجی عدالتوں سے سزائیں بھی سنائی جا چکی ہیں۔

    جب دونوں بھائیوں سے پوچھا گیا کہ کیا ان کے والد حکومت کے ساتھ کسی مفاہمتی معاہدے پر آمادہ ہو سکتے ہیں، تو سلیمان خان نے کہا کہ عمران خان اس وقت تک ایسا کوئی معاہدہ نہیں کریں گے جب تک دیگر سیاسی قیدیوں کے مسئلے کا بھی کوئی حل نہ نکلے۔ قاسم خان نے بھی کہا کہ فی الحال ایسا امکان کم دکھائی دیتا ہے۔

    قاسم خان نے مزید کہا کہ حکومت ان کے والد کی تازہ طبی رپورٹ بھی جاری نہیں کر رہی، اس لیے انہیں خدشہ ہے کہ گزشتہ چند ماہ میں عمران خان کی صحت مزید خراب ہو سکتی ہے۔ انہوں نے عالمی برادری سے اپیل کی کہ وہ پاکستان کی صورتحال کا نوٹس لے اور اس معاملے پر توجہ دے۔

  • تحریک انصاف کے سابق سیکرٹری جنرل کا استعفیٰ، 2003 میں عمران خان کو لکھا خط آج بھی کیوں اہم؟

    تحریک انصاف کے سابق سیکرٹری جنرل کا استعفیٰ، 2003 میں عمران خان کو لکھا خط آج بھی کیوں اہم؟

    سنہ 2003 میں پاکستان تحریک انصاف کے بانی چیئرمین عمران خان کو اُس وقت کے سیکرٹری جنرل معراج محمد خان کی جانب سے لکھا گیا ایک تفصیلی استعفیٰ اور تنقیدی خط آج بھی پاکستان کی سیاست میں غیر معمولی اہمیت کا حامل سمجھا جاتا ہے۔ اس خط میں سیاسی جماعت کی تنظیم، قیادت، فیصلہ سازی، انتخابی حکمت عملی، جمہوری روایات اور پارٹی کے اندرونی معاملات پر جو سوالات اٹھائے گئے تھے، سیاسی مبصرین کے مطابق ان میں سے کئی نکات آج بھی ملکی سیاست میں زیر بحث ہیں۔

    بائیں بازو کی سیاست سے وابستہ اور پاکستان پیپلز پارٹی کے بانی رہنماؤں میں شمار ہونے والے معراج محمد خان نے جب عمران خان کی نو قائم ہونے والی پاکستان تحریک انصاف میں شمولیت اختیار کی تو اس فیصلے نے سیاسی حلقوں، تجزیہ نگاروں اور صحافیوں کو حیران کر دیا تھا۔ اس کی ایک بڑی وجہ یہ تھی کہ عمران خان کو ابتدا ہی سے اسٹیبلشمنٹ کے قریب سمجھا جاتا تھا، خصوصاً اُس وقت جب معروف سماجی شخصیت مولانا عبدالستار ایدھی نے انکشاف کیا کہ عمران خان نے اُس وقت کے ڈی جی آئی ایس آئی جنرل حمید گل کے ہمراہ ان سے ملاقات کر کے انہیں بھی سیاست میں آنے کی دعوت دی تھی۔

    تاہم تقریباً پانچ برس تک تحریک انصاف میں فعال کردار ادا کرنے کے بعد جب معراج محمد خان نے پارٹی سے استعفیٰ دیا تو اس فیصلے نے سیاسی اور صحافتی حلقوں میں کوئی غیر معمولی حیرت پیدا نہیں کی۔ بہت سے مبصرین کے نزدیک یہ استعفیٰ اُن اختلافات کا منطقی نتیجہ تھا جن کی جھلک معراج محمد خان نے اپنے تفصیلی استعفے میں بھی پیش کی۔

    اس خط کی نقل پاکستان تحریک انصاف سندھ کے رہنما راشد میمن نے ساگا ڈیجیٹل کو فراہم کی، جس کی بنیاد پر اس تاریخی دستاویز کا جائزہ لیا گیا۔ یہ خط دو مئی 2003 کو معراج محمد خان نے پی ٹی آئی کے چیئرمین عمران خان کے نام تحریر کیا تھا، جس میں انہوں نے پاکستان تحریک انصاف کے سیکرٹری جنرل اور سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کے رکن کے عہدے سے استعفیٰ دیتے ہوئے پارٹی کے اندر موجود متعدد سیاسی اور تنظیمی مسائل کی نشاندہی کی تھی۔

    معراج محمد خان نے اپنے خط میں لکھا کہ وہ پانچ برس سے زیادہ عرصہ پاکستان تحریک انصاف کے ساتھ وابستہ رہے، مگر اس دوران وہ اس نتیجے پر پہنچے کہ عمران خان کے اردگرد موجود چند غیر سیاسی ساتھی پارٹی کو جس انداز سے چلانا چاہتے ہیں، وہ ان کی سیاسی سمجھ اور تجربے سے مطابقت نہیں رکھتا۔ اسی وجہ سے انہوں نے اپنی ذمہ داریوں سے الگ ہونے کا فیصلہ کیا۔

    انہوں نے لکھا کہ عمران خان جیسی معروف اور باصلاحیت شخصیت کی موجودگی، ملک میں سیاسی خلا اور اُس وقت کے سازگار حالات کے باوجود پاکستان تحریک انصاف اپنے قیام کے سات برس بعد بھی ایک مضبوط عوامی سیاسی جماعت نہیں بن سکی۔ ان کے مطابق کسی بھی بڑے مقصد کے حصول کے لیے مضبوط تنظیم، اجتماعی قیادت، سیاسی کارکنوں کی تربیت اور مسلسل عوامی جدوجہد ضروری ہوتی ہے، لیکن پارٹی اس سمت میں پیش رفت نہ کر سکی۔

    معراج محمد خان نے پارٹی قیادت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ بعض بااثر افراد کو یہ خدشہ تھا کہ اگر تحریک انصاف ایک حقیقی جمہوری جماعت بن گئی اور باصلاحیت سیاسی کارکن بڑی تعداد میں شامل ہو گئے تو ان کا اثر و رسوخ ختم ہو جائے گا۔ ان کے بقول اسی سوچ کے باعث پارٹی کے اندر گروہ بندی، بداعتمادی اور انتشار کو فروغ ملا، جبکہ ایسے افراد کو بھی شامل کیا گیا جن کی شہرت متنازع تھی، جس سے پارٹی کی ساکھ متاثر ہوئی۔

    انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے ہزاروں افراد تبدیلی کی امید لے کر تحریک انصاف میں شامل ہوئے تھے، لیکن انہیں منظم کرنے، سیاسی تربیت دینے اور قیادت تیار کرنے کے بجائے پارٹی میں اجتماعی قیادت کے فقدان، غیر واضح حکمت عملی اور فیصلوں پر عمل درآمد نہ ہونے کے باعث بڑی تعداد میں کارکن مایوس ہو کر الگ ہو گئی۔ ان کے مطابق پارٹی رفتہ رفتہ ایک محدود حلقے تک سمٹ کر رہ گئی۔

    خط میں 2002 کے عام انتخابات کی حکمت عملی پر بھی سخت تنقید کی گئی۔ معراج محمد خان نے لکھا کہ پارٹی کے بعض اہم عہدیداروں نے یہ تاثر دیا کہ فوجی حکومت عمران خان کو اپنی پہلی ترجیح بنائے گی اور مضبوط انتخابی امیدوار خود تحریک انصاف میں شامل ہو جائیں گے۔ ان کے مطابق اسی سوچ کے تحت پارٹی نے ایسی سیاسی حکمت عملی اختیار کی جس کا نہ اخلاقی، نہ قانونی اور نہ ہی سیاسی جواز موجود تھا۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ جمہوری حلقوں میں پارٹی کی ساکھ متاثر ہوئی، جبکہ جن امیدواروں کی آمد کی توقع کی جا رہی تھی وہ بھی شامل نہ ہوئے۔

    انہوں نے لکھا کہ سیاست اتفاق سے نہیں بلکہ مسلسل منصوبہ بندی، تنظیم سازی اور عوامی رابطوں سے آگے بڑھتی ہے۔ ان کے مطابق اگرچہ پارٹی کے امیدوار محدود وسائل کے باوجود انتخابات لڑے، لیکن تنظیمی کمزوریوں کی وجہ سے مطلوبہ نتائج حاصل نہ کیے جا سکے۔

    معراج محمد خان نے اس خط میں عمران خان کی میانوالی سے کامیابی میں مقامی کارکنوں، خصوصاً حفیظ اللہ خان نیازی کی کوششوں کو سراہا۔ اسی طرح انہوں نے اکبر ایس بابر کی جانب سے میڈیا میں پارٹی کا مؤقف اجاگر کرنے اور حامد خان کی آئین کی بحالی اور ایل ایف او کے خلاف قانونی جدوجہد کو بھی قابل تحسین قرار دیا۔

    انہوں نے اُس وقت کے ملکی حالات کا ذکر کرتے ہوئے لکھا کہ مہنگائی، بے روزگاری، دہشت گردی، فرقہ واریت، خواتین کے خلاف جرائم، اقلیتوں کے تحفظ، صوبائی حقوق، عدلیہ کی کمزوری اور آئین میں مداخلت جیسے متعدد مسائل موجود تھے۔ ان کے مطابق یہ تمام حالات ایک مضبوط عوامی تحریک چلانے کے لیے سازگار تھے، لیکن تحریک انصاف ان عوامی مسائل پر مؤثر احتجاجی اور سیاسی جدوجہد نہ کر سکی۔

    خط میں الزام عائد کیا گیا کہ پارٹی نے عوامی تحریک منظم کرنے کے بجائے اسٹیبلشمنٹ کی حمایت حاصل کرنے پر زیادہ توجہ دی، جس سے نہ صرف ایک اہم سیاسی موقع ضائع ہوا بلکہ پارٹی کی عوامی ساکھ بھی متاثر ہوئی۔

    تنظیمی معاملات پر اظہار خیال کرتے ہوئے معراج محمد خان نے کہا کہ پارٹی آئین کے مطابق سیکرٹری جنرل تنظیمی امور کا ذمہ دار ہوتا ہے، مگر فیصلے مسلسل عارضی بنیادوں پر کیے گئے۔ مختلف اوقات میں چیف آرگنائزر مقرر کر کے سیکرٹری جنرل کے کردار کو کمزور کیا گیا، جس کے نتیجے میں اختیارات کا ٹکراؤ، بدانتظامی اور انتشار پیدا ہوا۔

    انہوں نے عمران خان کو مشورہ دیا کہ سیاسی جماعت کو ذاتی دوستوں، ریٹائرڈ افسران یا غیر منتخب افراد کے ذریعے نہیں چلایا جا سکتا۔ ان کے مطابق اس طریقے سے زیادہ سے زیادہ ایک دباؤ ڈالنے والا گروہ یا غیر سرکاری تنظیم تو بن سکتی ہے، مگر عوامی سیاسی جماعت تشکیل نہیں دی جا سکتی۔

    خط میں قیادت کے حوالے سے بھی اہم مشاہدات پیش کیے گئے۔ معراج محمد خان نے لکھا کہ اگرچہ عمران خان ورلڈ کپ جیتنے اور شوکت خانم ہسپتال کے قیام کی وجہ سے عوام میں مقبول شخصیت ہیں، لیکن صرف ذاتی مقبولیت کسی سیاسی جماعت کی کامیابی کی ضمانت نہیں بن سکتی۔ ان کے مطابق عوام نے پارٹی کو نظام میں تبدیلی کا مؤثر ذریعہ نہیں سمجھا، جس کا اظہار انتخابی نتائج سے بھی ہوا۔

    انہوں نے پارٹی کے سیاسی بیانیے کو بھی غیر واضح قرار دیا۔ ان کے مطابق تحریک انصاف عوام کو یہ واضح طور پر نہیں بتا سکی کہ وہ کن طبقات کی نمائندہ جماعت ہے، اس کا معاشی اور سماجی پروگرام کیا ہے اور وہ موجودہ نظام کے متبادل کے طور پر کس قسم کا نظام نافذ کرنا چاہتی ہے۔ ان کے خیال میں صرف بدعنوانی کے خاتمے کا نعرہ عوام کے اعتماد کے لیے کافی نہیں تھا۔

    معراج محمد خان نے مزید لکھا کہ پارٹی نے دوسری ہم خیال سیاسی جماعتوں اور رہنماؤں کے ساتھ اتحاد یا مشترکہ جدوجہد سے بھی گریز کیا، جس کے باعث وہ اپنی سیاسی بنیاد کو وسیع کرنے میں کامیاب نہ ہو سکی۔

    اپنے خط کے اختتام پر انہوں نے لکھا کہ انہوں نے اپنی سیاسی زندگی کے تجربے کی بنیاد پر عمران خان کی بھرپور مدد کرنے کی کوشش کی، مگر موجودہ حالات میں وہ پارٹی کا حصہ رہنے کو مناسب نہیں سمجھتے۔ انہوں نے واضح

    کیا کہ ان کا مقصد تنقید برائے تنقید نہیں بلکہ دیانتداری کے ساتھ اپنا مؤقف سامنے رکھنا ہے تاکہ مستقبل میں اس پر غور کیا جا سکے۔

    سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ دو دہائیاں گزرنے کے باوجود اس خط میں اٹھائے گئے کئی سوالات، جن میں پارٹی کے اندر جمہوریت، تنظیم سازی، اجتماعی قیادت، سیاسی بیانیہ، فیصلہ سازی اور عوامی رابطے جیسے موضوعات شامل ہیں، آج بھی پاکستان کی سیاست میں اپنی اہمیت رکھتے ہیں۔ اسی وجہ سے معراج محمد خان کا یہ خط نہ صرف تحریک انصاف کی ابتدائی تاریخ بلکہ مجموعی پاکستانی سیاسی نظام کو سمجھنے کے لیے بھی ایک اہم تاریخی دستاویز تصور کیا جاتا ہے۔

  • نواز شریف کے پلیٹ لیٹس کی طرح عمران خان کی کم ہوتی بینائی، کیا عمران خان نواز شریف بننے پر تیار ہوچکے ہیں؟

    نواز شریف کے پلیٹ لیٹس کی طرح عمران خان کی کم ہوتی بینائی، کیا عمران خان نواز شریف بننے پر تیار ہوچکے ہیں؟

    عمران خان کی بینائی کے گرد گزشتہ چند دن میں جتنی بھی ڈویلپمنٹس ہوئی ہیں وہ انتہائی مشکوک معلوم ہوتی ہیں، ہم یہ سوالات بعد میں اٹھائیں گے کہ کس طرح ایک محکوم سپریم کورٹ میں اتنی ہمت آگئی کہ وہ اچانک عمران خان کے معاملے میں فعال ہو گئی؟ اور کس طرح عمران خان کے وکیل سلمان صفدر کو ہی عدالتی معاون مقرر کردیاگیا؟

     

    سب سے بڑا سوالیہ نشان تو خود یہ رپورٹ ہے جس میں یہ دعویٰ کر دیا گیا ہے کہ عمران خان کی بینائی پوری 85 فیصد جاچکی ہے، میرے نزدیک اس رپورٹ کا یہ حصہ انتہائی Cleverly Articulated ہے، سلمان صفدر نے نیوز کانفرنس میں کمال ہوشیاری سے کہہ دیا کہ میں کچھ نہیں کہوں گا رپورٹ خود سب کچھ بتا رہی ہے۔

     

    رپورٹ کے مطابق پٹیشنر (عمران خان) نے بتایا کہ انجیکشن لگنے کے بعد ان کی بینائی صرف 15 فیصد ہی بحال ہوئی ہے، بینائی کتنی گئی ہے اور کتنی باقی ہے؟ بینائی مستقل ختم ہوگئی ہے؟ یا بحال ہو سکتی ہے؟ اس کی تصدیق کوئی آئی اسپیشلسٹ میڈیکل انویسٹیگیشن رپورٹ کے ساتھ ہی کر سکتا ہے مگر یہاں بھی یہ تصدیق اور مستند رائے اسی طرح غائب ہے جس طرح 2019 میں نواز شریف کے پلیٹ لیٹس صرف دو ہزار تک گر جانے کے دعووں کے وقت تھی۔

     

    اس وقت بھی کسی ساکھ والے معالج کے بجائے صرف پارٹی رہنما ایک مشکوک لیبارٹری کی رپورٹ لہرا کر شام غریباں برپا کرتے تھے جو بعد میں جھوٹی اور فراڈ ثابت ہوئیں ۔

     

    اس سے زیادہ اہم سوالات پی ٹی آئی رہنماؤں کے طرز عمل پر اٹھتے ہیں

     

    اس سے پہلے عمران خان کے ساتھ روا رکھے گئے ہر ظلم کا ذمہ دار عمران خان اور ان کی پارٹی براہ راست سپہ سالار فیلڈ مارشل عاصم منیر کو قرار دیتی آئی ہے مگر جمعرات کی نیوز کانفرنس میں اس سارے معاملے کا واحد ذمہ دار صرف جیل سپرٹنڈنٹ عبد الغفور انجم قرار پایا ہے اور سلمان اکرم راجا کے ساتھ ساتھ علیمہ خان نے بھی نیوز کانفرنس میں صرف عبدالغفور انجم پر ہی اکتفا کیا ہے جو عاصم منیر کو براہ راست زمہ دار قرار دینے میں ذرا سا بھی نہیں چوکتی تھیں ۔

     

    حیرت انگیز بات یہ ہے کہ جمعرات کو کہ فیملی سے ملاقات کا دن ہے اس دن علیمہ خان پہلی بار اڈیالہ جیل جانا بھی بھول گئیں، اور اس سے زیادہ مزیدار بات یہ ہے اس رپورٹ میں عمران خان سے جیل میں ملاقاتوں کی بندش کا کوئی ذکر ہی موجود نہیں ہے، سلمان صفدر کی رپورٹ میں ایسی کوئی چیز نہیں ہے کہ عمران خان نے ملاقاتیں بند ہونے کی کوئی شکایت کی ہو، حالانکہ قیدی کو حاصل بنیادی قانونی حقوق میں اہلخانہ سے ملاقات سب سے اہم ہوتی ہے ۔

     

    رپورٹ میں اس کا ہی ذکر نہ ہونا، پی ٹی آئی رہنماؤں کا بھی اس کی شکایت اور احتجاج نہ کرنا سوالات کو جنم دیتا ہے ۔

     

    ہمارے دوست اور استادوں جیسے سینیئر صحافی مطیع اللہ جان نے بجا طور پر کہا ہے کہ چھبیسویں اور ستائیسویں ترمیم کے بعد بغیر دانت والی سپریم کورٹ اور یحییٰ آفریدی جیسے اپنے ادارے کو تباہ کرنے والے چیف جسٹس کا کیس لگانا، عمران خان کے وکیل سلمان صفدر کو ہی عدالتی معاون بنانا، اڈیالہ جیل کے دورے اور عمران خان کی ملاقات کی اجازت دینا اور پھر سلمان صفدر کی Cleverly Articulated Report کو پبلک کرنے کی اجازت دے دینا سب کچھ طے شدہ ہی لگتا ہے، ورنہ پانچ ماہ سے ملاقاتیں بند رہیں شور مچتا رہا اور جسٹس یحییٰ آفریدی سمیت کسی منصف کی پیشانی پر بل تک نہیں آئے حالانکہ ملاقاتوں کا حکم اسلام آباد کی ڈوگر کورٹ کا ہی تھا ۔

     

    یہاں نکتے ملانے سے جو تصویر بن رہی ہے وہ کچھ ایسی ہے کہ جیسے یہ نظام اور عمران خان دونوں کو ہی بڑے چیلنجرز درپیش ہیں اور دونوں کو ہی ماضی سے بہتر فیس سیونگ کی بھی تلاش ہے ۔

     

    یقیناً نظام نے کچھ بڑے سمجھوتے کیئے ہوں گے جو عمران خان بھی ایک قدم آگے بڑھے ہیں ۔

     

    عمران خان کی شخصیت کا تجزیہ اور اب تک کے تجربے کو دیکھیں تو ایک بات تو یقینی ہے کہ جتنا زیادہ دبائو ہوگا عمران خان کا طرز عمل اتنا ہی مضبوط ہوگا، وہ پچاس پچپن سال سے پریشر اور چیلنج میں زیادہ بہتر پرفارم کرتا نظر آیا ہے ۔

     

     

    یعنی اس نظام نے اب تک عمران خان کو اسی کام میں لگایا ہوا ہے جس میں وہ سب سے اچھا ہے ۔ اور اسی پریشر ٹیکٹکس میں ہی اس نے بہادری کی وہ مثال قائم کی ہے کہ جس کی بدولت عمران خان مقبولیت کی اس معراج پر ہے جو اس سے پہلے ملک میں کسی کو حاصل نہیں رہی ہے ۔

     

    اور اس نے نواز شریف بننے کے لیئے تو اتنی سختیاں برداشت نہیں کی ہیں؟ نہ وہ بننے پر تیار ہوگا ۔

     

    یہ سمجھنا بھی ضروری ہے کہ اس نظام کے سامنے غزہ بورڈ آف پیس جیسا چیلنج ہے جس کا بوجھ تن تنہا اٹھانا آسان نہیں ہے

     

    تو نظام کی مجبوری کو بھی سمجھنا چاہیئے ۔

  • روحانی اثر یا سیاسی فیصلہ سازی؟ بانی پی ٹی آئی پر عالمی جریدے کی ہنگامہ خیز رپورٹ

    روحانی اثر یا سیاسی فیصلہ سازی؟ بانی پی ٹی آئی پر عالمی جریدے کی ہنگامہ خیز رپورٹ

    یہ پاکستان کی سیاست کی وہ داستان ہے جس میں طاقت، روحانیت، سیاست اورعقائد ایک دوسرے میں یوں گڈمڈ ہوتے نظر آتے ہیں کہ حقیقت اور تاثر کے درمیان فرق کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔

    اور اب برطانوی جریدے دی اکانومسٹ گروپ کے ڈیجیٹل میگزین نے اسی موضوع پر ایک طویل، تحقیقاتی رپورٹ شائع کی ہے۔ اس رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ عمران خان کے دورِ حکومت میں ان کی بیگم بشریٰ بی بی نے مبینہ طور پر اہم سرکاری فیصلوں اور تقرریوں پر نمایاں اثر و رسوخ استعمال کیا۔ جریدے کے مطابق عمران خان کی سیاست، اُن کے سرکاری معاملات، اور یہاں تک کہ اُن کے قریبی رفقا تک رسائی میں بھی بشریٰ بی بی کا کردار مرکزی حیثیت اختیار کر چکا تھا۔

    شادی یا سیاسی موڑ؟

    سینئر صحافی اوون بینیٹ جونز کی تحریر کردہ اس رپورٹ کے مطابق، بانی پی ٹی آئی کی شخصیت، سیاست اور فیصلہ سازی میں ایک اہم موڑ اس وقت آیا جب ان کی شادی ان کی موجودہ بیگم بشریٰ بی بی سے ہوئی۔ یہ شادی ان کے وزیراعظم بننے سے کچھ مہینوں قبل ہوئی تھی۔ بشریٰ بیگم ایک ایسی شخصیت ہیں جنہیں ان کے قریبی حلقے "روحانی رہنمائی” کا ذریعہ سمجھتے رہے ہیں۔

    اوون بینیٹ جونز لکھتے ہیں کہ ان کی بیگم کی وجہ سے نہ صرف بانی پی ٹی آئی کے اندازِ حکمرانی پر سوالات اٹھائے گئے، بلکہ حکومتی نظام کے اندر بھی ایک نئی طرح کا اثر و رسوخ قائم ہوا۔

    حساس ملاقاتیں، تقرریاں اور اثر و رسوخ

    رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ بشریٰ بی بی سرکاری معاملات، اہم فیصلوں، حتیٰ کہ بعض حساس تقرریوں تک اثر انداز ہونے کی کوشش کرتی رہیں۔ جریدے نے اس بات کی بھی نشاندہی کی کہ عمران خان کے دور میں ڈی جی آئی ایس آئی کی تبدیلی سمیت کچھ حساس معاملات پر بھی انہی اثرات کی بازگشت سنائی دیتی رہی۔

    رپورٹ میں ایک سابق کابینہ رکن کا بیان بھی شامل ہے، جس کے مطابق بشریٰ بی بی حکومتی امور میں براہ راست مداخلت کرتی تھیں، جب کہ وہ حساس ملاقاتوں، حتیٰ کہ سابق وزیراعظم اور آرمی چیف کے اہم سیشنز میں بھی شریک رہتی تھیں۔

    اسی سلسلے میں یہ دعویٰ بھی سامنے آیا کہ بانی پی ٹی آئی کا سرکاری طیارہ بھی بشریٰ بی بی کی اجازت کے بغیر اُڑان نہیں بھرتا تھا۔
    ایک اور الزام کے مطابق، بانی نے بشریٰ بی بی کی ہدایات پر بعض قریبی ساتھیوں اور وفادار ملازمین سے بھی دوری اختیار کر لی۔
    یہ دعوے رپورٹ کے حصہ ہیں، اور دی اکانومسٹ انہیں متعدد ذرائع کے بیانات کے طور پر بیان کرتا ہے۔

    سیاست، کرکٹ اور کلٹ

    دی اکانومسٹ یہ بھی کہتا ہے کہ جب عمران خان وزیراعظم تھے، تو صحافیوں کے ساتھ ملاقاتوں میں ملکی پالیسیوں یا حکومتی کارکردگی سے زیادہ کرکٹ، نجی زندگی اور ذاتی تعلقات موضوعِ گفتگو بنے رہتے تھے۔

    دی اکانومسٹ کے مطابق عمران خان کی اسلام آباد کی رہائش بنی گالہ کے بعض سابق گھریلو ملازمین نے دعویٰ کیا کہ روحانی عملیات کے نام پر بعض رسومات بھی ادا کی جاتی تھیں، جن میں گوشت، کلیجی اور دیگر چیزوں کا استعمال کیا جاتا تھا۔ اگرچہ ان دعوؤں کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہوسکی، مگر جریدے نے انہیں سیاسی منظرنامے کا حصہ بننے والے بیانیوں میں سے ایک قرار دیا۔

    رپورٹ کے مطابق، اقتدار میں آنے سے پہلے بلند و بانگ دعوے کیے گئے، مگر اقتدار ملنے کے بعد ایک بھی بڑا وعدہ پورا نہ ہو سکا۔

    رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کرپشن کیسز نے بانی پی ٹی آئی کے "صاف شفاف” ہونے کے بیانیے کو شدید نقصان پہنچایا، اور پارٹی کو ایک منظم سیاسی جماعت کی بجائے ایک "کلٹ” کی طرح چلایا گیا۔

    دی اکانومسٹ کے مطابق “کچھ باخبر حلقوں کا خیال ہے کہ مستقبل میں بھی عمران خان کی حکمتِ عملی کا اہم حصہ بشریٰ بی بی کی رائے ہی رہے گا، چاہے وہ جیل میں ہوں یا رہائی کے بعد سیاسی میدان میں واپسی کریں۔

    رپورٹ کا مجموعی تاثر یہ ابھرتا ہے کہ بانی پی ٹی آئی کی سیاست، ان کے نظریات، ان کے فیصلے اور ان کے اردگرد موجود شخصیات سب مل کر ایک ایسی کہانی تشکیل دیتے ہیں جو پاکستان کی سیاسی تاریخ میں کم ہی نظر آتی ہے۔ یہ ایک ایسی کہانی ہے جہاں مذہب، روحانیت، طاقت اور سیاست ایک ساتھ مل کر ایک غیر روایتی بیانیہ تخلیق کرتے ہیں۔