[rank_math_breadcrumb]

مٹیاری: مٹھاس، ثقافت اور روحانیت کا سنگم

سندھ کے دل میں واقع ضلع مٹیاری اپنی منفرد ثقافتی پہچان، صوفی روایت اور ذائقوں کی وجہ سے ایک خاص مقام رکھتا ہے۔ قومی شاہراہ پر سفر کرنے والے اکثر اس ضلع میں ایک مختصر قیام ضرور کرتے ہیں، اور اس کی سب سے بڑی وجہ یہاں کا مشہور گاڑھے دودھ سے تیار کیا جانے والا ماوا اور روایتی آئس کریم ہے، جو نہ صرف مقامی لوگوں بلکہ مسافروں کے لیے بھی ایک لازمی ذائقہ بن چکا ہے۔

مٹیاری صرف کھانوں تک محدود نہیں بلکہ یہ سندھ کی روحانی تاریخ کا بھی ایک اہم مرکز ہے۔ یہاں عظیم صوفی شاعر شاہ عبداللطیف بھٹائی اور سروری جماعت کے روحانی پیشوا پیر مخدوم سرور نوح کے مزارات واقع ہیں، جہاں ہر سال ہزاروں عقیدت مند حاضری دیتے ہیں۔ یہ مزارات نہ صرف مذہبی عقیدت کا مرکز ہیں بلکہ سندھ کی صوفی روایت کی جیتی جاگتی علامت بھی ہیں۔

مٹیاری کا شہر ہالا اپنی روایتی دستکاریوں کی وجہ سے دنیا بھر میں پہچانا جاتا ہے۔ یہاں کی کاشی ٹائل، رنگین کڑھائی والی چارپائیاں، خواتین کے لیے ہاتھ سے بنے کپڑے ‘سوسی’ اور مردوں کے لیے کھڈی پر تیار کیے جانے والے کپڑے سندھ کی ثقافتی وراثت کی عکاسی کرتے ہیں۔ یہ ہنر نسل در نسل منتقل ہو رہا ہے اور آج بھی اپنی اصل شکل میں زندہ ہے۔

یوں مٹیاری ایک ایسا مقام ہے جہاں مٹھاس، ہنر اور روحانیت ایک ساتھ سانس لیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ یہ ضلع سندھ کی ثقافت اور روایت کو سمجھنے کے لیے ایک مکمل تصویر پیش کرتا ہے، جہاں ہر مسافر کو نہ صرف ذائقہ بلکہ تاریخ اور روحانیت کا بھی احساس ہوتا ہے۔

اسی بارے میں: