Tag: سندھ

  • یکتارو اور چپڑی کے ساتھ گانے والے ماضی کے مقبول سندھی گلوکار جلال چانڈیو، جن کے گانے کا انداز کئی خواتین گلوکاروں نے اپنایا

    یکتارو اور چپڑی کے ساتھ گانے والے ماضی کے مقبول سندھی گلوکار جلال چانڈیو، جن کے گانے کا انداز کئی خواتین گلوکاروں نے اپنایا

    بڑی مونچھیں، پیشانی تک رکھی ہوئی سندھی ٹوپی، قمیض کے کھلے ہوئے بٹن، گلے میں موٹی چین، آنکھوں میں عجیب سی اداسی، ہاتھ میں رنگ برنگی موتی جڑی جھالر والا ایکتارہ اور چپڑی۔ سندھ میں آج بھی اس قسم کے خدوخال کا تصور کرتے ہی جو پہلی شخصیت ذہن میں آتی ہے، وہ پچھلی صدی کے آخری عشروں کے سندھ کے سب سے مقبول اور عوامی گلوکار جلال چانڈیو کی ہے۔

    عوام میں جلال کا انداز ’جلال کٹ‘ کے نام سے مشہور ہوا۔ جن میں ’جلال کٹ ٹوپی‘، ’جلال کٹ شہپر‘ (مونچھیں) اور ’جلال کٹ یکتارو‘ خاصے مقبول ہوئے۔ ان کی شخصیت سے متاثر ہوکر ان کے بعد کئی فنکاروں نے ان کے سٹائل کی کاپی کرتے ہوئے ان ہی کے انداز میں گانے گائے اور مقبول بھی ہوئے۔ کچھ فن کار اپنے نام کے ساتھ جلال کا نام لگانا فخر سمجھتے تھے۔

    سنہ 1980 کے بعد سندھ کے دیہی علاقوں میں جلال چانڈیو کا نام ہر چوپال، ہر میلے اور ہر شادی میں سنائی دینے لگا۔ یہی جلال تھے۔ انہوں نے شاہ لطیف، سچل سرمست اور لوک شاعری کو اس زبان میں گایا جو عام آدمی کی اپنی زبان تھی۔

    ان کی آواز میں ہجر بھی تھا، مزاحمت بھی، اور وہ خاموش احتجاج بھی جو صرف دیہی سندھ سمجھ سکتا ہے۔ وہ اس سماج کی آواز بنے جو نہ خبروں میں آتا تھا، نہ شہ سرخیوں میں۔

    سندھی زبان میں وسطی سندھ کو ’ساہتی پرگنو‘ کہا جاتا ہے۔ جلال چانڈیو اسی ساہتی پرگنے کے ضلع نوشہروفیروز کے شہر پھُل کے نزدیک واقع تاریخی گاؤں ’ہرپا جو ہٹ‘، جس کا اب نام تبدیل ہوکر جلال چانڈیو گوٹھ ہوگیا ہے، میں 1944 میں پیدا ہوئے۔

    ان کے خاندان کا آبائی کام کپڑے سینا تھا۔ انہوں نے بچپن میں بکریاں بھی چرائیں مگر بعد میں ان کے والد حاجی فیض محمد نے ان سے سلائی کا کام سیکھنے کو کہا۔

    جلال چانڈیو نے درسی تعلیم حاصل نہیں کی تھی، مگر ان کا حافظہ کمال کا تھا۔ وہ کوئی بھی شعر یا کلام ایک بار سن لیتے تھے تو وہ انہیں ازبر ہوجاتا تھا۔ دیگر فن کاروں کی طرح انہوں نے کبھی بھی لکھا ہوا کلام نہیں پڑھا۔

    جلال چانڈیو نے تین شادیاں کی اور ان کے چار بیٹے اور ایک بیٹی ہے۔

    ویسے تو جلال شادیوں، تقریبات اور سندھ میں درگاہوں پر لگنے والے میلوں میں گاتے تھے، مگر 1970 کی دہائی میں جب ٹیپ ریکارڈر آیا تو لوگ ان کے گانوں کو ریکارڈ کرنے لگے تاکہ وہ بعد میں ان کا کلام سن سکیں۔ اسی دور میں سندھ میں کیسٹ کمپنیاں کھل گئی اور بعد میں ان کمپنیوں نے جلال کے کلام کی کیسٹس بھی ریلیز کیں۔

    ٹھیک پچیس سال پہلے، آج ہی کے دن 2001 میں اس جہاں سے رخصت ہوئے۔

    جلال چانڈیو کی وفات کے بعد انہیں ان کے آبائی گاؤں سے چار کلومیٹر دور گاؤں بودلو میں دفنایا گیا، جہاں ان کی برسی پر سندھ بھر کے فنکار گانا گا کر خراج عقیدت پیش کرتے ہیں۔

    سندھ میں چپڑی اور یکتارے پر گانے والے تمام فنکار برسی والے دن یہاں آتے ہیں اور یکتارا اور چپڑی پر گانا گاکر انہیں یاد کرتے ہیں.۔

    ان کی وفات پر سندھی صحافی اسحاق منگریو نے لکھا: ‘جلال چانڈیو نے صدی کے ایک چوتھائی حصے تک سندھ کے عوام کو ایکتارہ اور چپڑی کی دھن پر مست رکھا۔’

    ایک اندازے کے مطابق جلال چانڈیو نے اپنی زندگی میں تین ہزار کے قریب کیسٹیں ریکارڈ کروائیں۔ کیسٹ، ماضی میں مقبول مقناطیسی ٹیپ جو پلاسٹک کے ایک چھوٹے خول میں بند ہوتی تھی اور ٹیپ ریکارڈر یا ریڈیو کیسٹ پلیئر میں ڈال کر آواز سنی جاتی تھی۔

    چوتھائی صدی گزرنے کے باوجود ان کی آواز آج بھی میلوں ٹھیلوں، ہوٹلوں، ٹریکٹروں، بسوں اور ٹرکوں میں گونجتی رہتی ہے۔ ٹرکوں کے پیچھے ان کی تصویریں آج بھی نظر آ جاتی ہیں۔ ایسی عوامی مقبولیت شاید کسی گلوکار کو نصیب ہوئی ہو۔

    موسیقی کے علم سے ناآشنائی، آواز کی کھردراہٹ اور بعض اوقات مساجنسٹ انداز و اسلوب کے باوجود، گذشتہ صدی کے آخری عشروں میں سندھ کے عام لوگوں نے جس فنکار سے سب سے زیادہ خود کو جوڑا، وہ جلال چانڈیو تھا۔

    تاریخی شہر جیکب آباد کے ٹرک اڈے پر گڈز ٹرانسپورٹ کا کاروبار کرنے والے غلام محی الدین شاہ جلال چانڈیو کے پرستار تھے، انہوں نے متعدد ٹرکوں پر جلال کی تصایر بنوائیں۔

    چرواہے سے ڈاکو، ڈاکو سے درزی اور درزی سے فنکار بننے والا جلال چانڈیو جب حیدرآباد کے راجپوتانہ ہسپتال میں بیماری سے نبرد آزما تھے۔ انہی دنوں تازہ وفات پانے والی میڈم نورجہاں کے بارے میں اپنے کالم میں صحافی وسعت اللہ خان نے مشہور سندھی روزنامہ کاوش میں لکھا تھا: ‘میں نے کراچی بس کے کنڈکٹر کو کرایہ دیتے ہوئے کہا کہ کیا تمہیں معلوم ہے نورجہاں انتقال کر گئی ہیں؟ اس نے بات سنی اَن سنی کرتے ہوئے کہا: اچھا، تھوڑا آگے ہوتے چلو، نمائش، سبزی منڈی، حسن اسکوائر، نیپا’

    لیکن جلال کی رحلت پر نہ صرف پورے پھل شہر میں فضا سوگوار تھی بلکہ اس دن اگر سندھ کی کسی بس کا کوئی کنڈکٹر کسی وسعت اللہ خان کی طرف سے جلال چانڈیو کے بارے میں نورجہاں جیسی خبر سنتا تو اسے یوں سنی اَن سنی کر دے، اس کا امکان نہ ہونے کے برابر تھا۔

    کہتے ہیں کہ جلال چانڈیو جب ہسپتال میں زیرِ علاج تھا اور ڈاکٹروں نے کہا کہ اسےگردوان کی پیوندکاری کی ضرورت ہے تو ڈیوٹی پر مامور اس کا ایک پرستار سپاہی گردہ عطیہ کرنے کے لیے فوری طور پر پہنچ گیا تھا۔

    آسمان کو چھوتی ان کی مقبولیت دیکھ کر گوالیار گھرانے کے سندھ کے سب سے بڑے کلاسیکل فنکار استاد منظور علی خان نے کہا تھا: ‘ہم راگ کا کھاتے ہیں، جلال بھاگ (قسمت) کا کھاتا ہے۔’

    سندھ میں کیسٹوں کی مارکیٹنگ کی بنیاد رکھنے سے لے کر لوگوں کی شادیوں کی تاریخیں طے ہونے تک، جلال سندھ کا واحد زندہ لوک محبوب فنکار تھا جس نے سندھی معاشرے پر گہرے اثرات مرتب کیے۔

    جلال چانڈیو سندھی ٹوپی، اعلیٰ نسل کے گھوڑے اور اچھی نسل کی بھینس رکھنے کے شوقین تھے۔ ان کی ٹوپیاں  ضلع دادو کے علاقے جوہی سے آتی تھیں اور وہ ہر جوڑے کے ساتھ الگ سندھی ٹوپی پہنتے تھے۔ بھینس ایسی لیتے تھے جس پر کوئی داغ نہ ہو۔

    ایک آپریشن کے بعد ڈاکٹروں نے انہیں گھڑسواری کرنے سے منع کردیا تھا مگر پھر بھی وہ گھوڑے رکھتے تھے۔

    جلال کی مقبولیت کا یہ عالم تھا کہ گذشتہ سال میں انڈونیشیا کے جزیرے بالی میں، وہاں کے مشہور گرو، بھارت میں پیدا ہونے والے سندھی سائیں آنند کشن کے آشرم میں بیٹھا تھا تو ایک طرف بھٹائی کے رسالے کا انگریزی ترجمہ رکھا تھا اور دوسری طرف دنیا کے کونے کونے سے آئے ہوئے عقیدت مند اس سندھی مصرعے پر جھوم رہے تھے: ‘ڈیکھارن طبیبن کھے بیکار آ، منھنجو داروں، دوا تنھنجو دیدار آ۔”’ (دکھانا طبیبوں کو بے کار ہے، میری داروں دوا تمہارا دیدار ہے)۔

    مجھے بعد میں معلوم ہوا کہ آشرم میں بھجن کے طور پر گایا جانے والا یہ کلام دراصل جلال چانڈیو کا اوائلی دور میں گایا ہوا ہے۔

    ‘دیکھو سندھ کہاں کہاں پہنچ گئی ہے، پیارے’، ایک جلاوطن دوست نے مجھ سے کہا۔

    یہ بات عام طور پر سننے میں آتی ہے کہ ماضی میں سندھ کے لوگوں میں میڈم نورجہان کے گانے سننے کا بڑا رواج تھا، مگر بعد میں جب گلوکار جلال چانڈیو نے اپنے منفرد انداز میں گانا شروع کیا تو نورجہان کی مقبولیت کم ہو گئی۔ عوامی زبان میں اسے یوں بیان کیا جاتا ہے کہ نورجہان کا بوریہ بستر باندھ کر سندھ سے رخصت ہو جانا پڑا۔

    حقیقت میں یہ جملہ ایک محاورہ اور تاثر ہے، کوئی تاریخی یا دستاویزی حقیقت نہیں۔ میڈم نورجہان برصغیر کی وہ واحد گلوکارہ تھیں جن کی آواز فلمی موسیقی، کلاسیکی گائیکی اور عوامی گیتوں میں دہائیوں تک مقبول رہی۔ سندھ میں بھی ان کے فلمی اور ریڈیو گانے عرصے تک سنے جاتے رہے۔

    البتہ سنہ 1980 کی دہائی کے بعد سندھ میں عوامی اور لوک موسیقی کا ذوق بدلنے لگا۔ اسی دور میں جلال چانڈیو ابھرے جنہوں نے سندھی لوک شاعری، صوفیانہ کلام اور دیہی لہجے کو ایک نئی طاقت اور سادگی کے ساتھ پیش کیا۔ ان کا ایکتارہ، سادہ لباس اور درد بھری آواز دیہی سندھ کے عوام سے براہ راست جڑ گئی۔

    جلال چانڈیو نے سندھی لوک شاعری، صوفیانہ کلام اور دیہی لہجے کو ایک نئی طاقت اور سادگی کے ساتھ پیش کیا

    دلچسپ بات یہ ہے کہ جلال چانڈیو کی مقبولیت شہری یا فلمی موسیقی کی جگہ نہیں تھی بلکہ وہ دیہی اور لوک سماعت کا خلا پُر کر رہے تھے۔ اس تبدیلی کے باعث عوامی سطح پر یہ تاثر پیدا ہوا کہ پرانے ذوق کی جگہ نیا ذوق آ گیا ہے، جسے مبالغہ آمیز انداز میں نورجہان کے جانے سے تعبیر کیا گیا۔

    ماہرین موسیقی کے مطابق یہ مقابلہ نہیں بلکہ وقت کے ساتھ ذوق کی فطری تبدیلی تھی۔ نورجہان اپنی جگہ ایک عہد ہیں اور جلال چانڈیو سندھی لوک موسیقی کا ایک الگ باب۔ دونوں کی مقبولیت مختلف سماجی اور ثقافتی دائروں میں رہی اور آج بھی دونوں کو ان کے اپنے مقام پر سنا اور یاد کیا جاتا ہے۔

    بے پناہ مقبولیت کے باوجود جلال نے ایک روایتی سندھی انسان کی طرح زندگی گزاری۔ بیماری کے دوران وہ کبھی ہسپتال میں ہوتا اور کبھی سائیں سعدی موسانی کی درگاہ پر بیٹھا نظر آتا۔ اس کا حسِ مزاح بھی لاجواب تھا۔ وفات سے ایک ہفتہ قبل بیماری کے بستر پر اسحاق منگریو کو انٹرویو دیتے ہوئے اس نے کہا: ‘مجھے تو ہسپتال چھوڑتے ہی نہیں۔ ڈاکٹروں نے جتنی دوائیں مجھے کھلائی ہیں، اتنی اگر کوئی جانور کھا لے تو وہ بھی مر جائے۔’

    موجود سول ہسپتال حیدرآباد (سابق لال بتی) میں دوران علاج جب ان کا قریبی دوست عیادت کے آیا تو انہوں خود کلام لکھ کر گیا تھا۔ ‘اساں پان تنھجیوں گلاہیوں ویٹھے گایوں، بھلیں یار آئیں، تنھنجیوں لکھ بھلایوں’ (ہم خود تمہیں ہی یاد کررہے تھے، تم آگئے، تمہاری لاکھ مہربانیاں)

    گائکی کے علاوہ جلال چانڈیو نے سیاست میں بھی حصہ لیا اور ایک فلم بھی بنائی مگر پھر دونوں کو جلد ہی خیرآباد کہا۔ ایک انٹرویو میں انہوں نے کہا: ‘سیاست میں منافقت کرنی پڑتی ہے اور فلموں میں ناچنا پڑتا ہے لحاظہ میں نے دونوں ہی چھوڑ دیے ‘۔

    جلال کے انداز، اس کی شاعری کے انتخاب اور اس کی مردانہ بالادستی کو ابھارنے والے فن پر لوگوں کے ہزار اختلافات سہی، مگر وہ سندھ کا ایک غیر معمولی مقبول فنکار تھے۔ ان کے انداز کی جھلکیاں سندھی معاشرے اور ثقافت میں اس قدر رچ بس گئی تھیں کہ کئی خواتین گلوکاراؤں کو بھی اس کا اسلوب اپنانا پڑا۔ ان میں سے روبینہ حیدری نے تو باقاعدہ جلال چانڈیو والا انداز اپنایا اور تاج مستانی نے ایکتارہ اور چپڑی اٹھائی۔

    آج جب سندھی موسیقی ہر اعتبار سے زوال پذیر دکھائی دیتی ہے تو جلال چانڈیو پر لگایا جانے والا یہ الزام کہ اس نے خالص موسیقی کو پیچھے دھکیل کر ولگر کیسٹ کلچر کو فروغ دیا، اپنی معنویت کھو چکا ہے۔ تاریخ فنکاروں کو ان کی نیت نہیں، ان کے اثر سے یاد رکھتی ہے، اور جلال کا اثر یہ تھا کہ اس نے موسیقی کو درباروں، کلاس رومز اور اشرافیہ کی محفلوں سے نکال کر عام آدمی کے دکھ، خوشی اور روزمرہ زندگی کا حصہ بنا دیا۔

    اگر عابدہ پروین نصیبو لال کے ساتھ جھک کر مل سکتی ہے تو سندھ کی ثقافتی تاریخ میں اس جلال چانڈیو کے لیے بھی جگہ ہونی چاہیے جس کے اسلوب کو لاکھ تنقید کا سامنا رہا، مگر جس کی آواز نے میلوں، بسوں، ٹرکوں اور کھیتوں میں کام کرتے لوگوں کو اپنا عکس دکھایا۔ جلال نہ راگ کا پابند تھا، نہ روایت کا قیدی، وہ عوام کی سماعت اور نبض پر ہاتھ رکھنے والا فنکار تھا۔

    شاید اسی لیے چوتھائی صدی گزرنے کے بعد بھی سندھ کے کسی ویران اسٹینڈ، کسی دھول اڑاتے ٹریکٹر یا کسی اندھیری شاہراہ پر چلتے ٹرک سے جب ایکتارے کی وہ مانوس تان ابھرتی ہے تو لگتا ہے جلال کہیں گیا ہی نہیں۔ وہ اب بھی یہی ہے، سندھ کی اجتماعی یادداشت میں، زندہ، بے ترتیب، اور ناقابلِ فراموش۔

    آج جلال کی برسی پر سندھ کے کئی گھروں میں کوئی پرانی کیسٹ چلے گی، کہیں موبائل پر کوئی دھندلی ریکارڈنگ سنائی دے گی۔

    جلال چانڈیو جسمانی طور پر اس مٹی میں سو رہے ہیں، مگر ان کی آواز آج بھی زندہ ہے۔ سندھ کی راتوں میں، اس کی خاموشی میں، اور ان دلوں میں جو آج بھی ایکتارے کی ایک تار پر پوری کائنات سن لیتے ہیں۔

     

  • ‘سندھ: بدین کی شکور جھیل کے درمیاں گزرنے والے سرحد پر انڈیا نے دیوار نما روڈ بنا کر مچھلیوں کو پاکستان آنے سے روک دیا’

    ‘سندھ: بدین کی شکور جھیل کے درمیاں گزرنے والے سرحد پر انڈیا نے دیوار نما روڈ بنا کر مچھلیوں کو پاکستان آنے سے روک دیا’

    سندھ کے ضلع بدین میں واقع شکور جھیل کے ماہی گیروں کے مطابق جھیل کے درمیاں گزرنے والے پاکستان، انڈیا سرح پر انڈیا کی جانب سے بارڈر سیکورٹی کے ایک دیوار نما روڈ تعمیر کرانے سے مچھلیوں کو پاکستان آنے سے روک دیا گیا ہے۔

    شکور جھیل پر کئی دہائیوں سے ماہی گیری کرنے والے مقامی ماہی گیر غلام رسول ملاح نے ساگا ڈیجیٹل کو بتایا: ‘دیوار نما روڈ کے باعث کئی اقسام کی مچھلیاں اب پاکستان نہیں آتیں، اس لیے مقامی ماہی گیر بے روزگار ہوگئے ہیں۔’

    شکور جھیل پاکستان اور انڈیا کے درمیان واقع ایک قدرتی آبی ذخیرہ ہے۔ یہ جھیل رن آف کچھ کے نیم صحرائی خطے میں واقع ہے اور زمینی سرحد جھیل کے عین درمیان سے گزرتی ہے۔ اسی وجہ سے شکور جھیل دونوں ممالک کے درمیان قدرتی سرحدی جھیل کے طور پر جانی جاتی ہے۔

    دستیاب جغرافیائی نقشوں اور سیٹلائٹ امیجز کے مطابق شکور جھیل کا کل رقبہ اندازاً 150 مربع کلومیٹر بنتا ہے۔ اس میں سے تقریباً 90 مربع کلومیٹر حصہ پاکستان میں جبکہ تقریباً 60 مربع کلومیٹر حصہ انڈیا میں واقع ہے۔ یہ تقسیم کسی تحریری آبی معاہدے کے تحت نہیں بلکہ بین الاقوامی زمینی سرحد کے مطابق ہے۔

    انڈیا کی جانب شکور جھیل کے شمال مشرقی حصے کے ساتھ ایک بارڈر روڈ تعمیر کی گئی ہے۔ سرکاری طور پر یہ سڑک سرحدی نگرانی، لاجسٹکس اور سیکیورٹی مقاصد کے لیے بنائی گئی۔ یہ سڑک انڈو پاک بین الاقوامی سرحد کے ساتھ ساتھ چلتی ہے اور زمینی ساخت کے باعث کئی مقامات پر اونچی بند نما شکل اختیار کر چکی ہے۔

    یہ بات سرکاری طور پر تسلیم شدہ ہے کہ سرحدی علاقوں میں بننے والی یہ سڑکیں فوجی اور سیکیورٹی ضروریات کے تحت تعمیر کی جاتی ہیں۔ تاہم ان سڑکوں کی تعمیر کے دوران قدرتی آبی نظام یا آبی حیات کی نقل و حرکت سے متعلق کوئی مشترکہ سرحدی ماحولیاتی فریم ورک موجود نہیں۔

    مقامی ماہی گیروں کا کہنا ہے کہ ماضی میں مون سون کے دوران شکور جھیل ایک مکمل آبی اکائی بن جاتی تھی اور پانی، مچھلی اور دیگر آبی حیات پورے جھیل میں آزادانہ طور پر پھیل جاتی تھیں۔ اب ان کے مطابق بارڈر روڈ جھیل کے قدرتی پھیلاؤ کو متاثر کر رہی ہے، جس کے باعث مچھلی کی آمد میں کمی محسوس ہو رہی ہے۔ یہ شکایت مقامی سطح پر بارہا سامنے آ چکی ہے، تاہم اس حوالے سے کسی سرکاری سائنسی تحقیق یا مشترکہ مطالعے کی رپورٹ تاحال دستیاب نہیں۔

    ماحولیاتی ماہرین عمومی طور پر یہ مؤقف رکھتے ہیں کہ جب سرحدی انفرا اسٹرکچر قدرتی آبی راستوں پر بنایا جائے تو اس کے اثرات صرف جغرافیائی نہیں بلکہ ماحولیاتی بھی ہو سکتے ہیں۔ شکور جھیل جیسے آبی ذخائر میں پانی کی قدرتی گردش، مچھلیوں کی افزائش اور مہاجر پرندوں کی موجودگی ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہوتی ہے۔

    شکور جھیل اس حقیقت کی واضح مثال ہے کہ سرحدی انتظامی فیصلے جب قدرتی نظام کے ساتھ متوازن نہ ہوں تو ان کے اثرات مقامی آبادی تک پہنچتے ہیں۔ یہ جھیل آج ایک آبی ذخیرے کے ساتھ ساتھ ایک حساس سرحدی اور ماحولیاتی مسئلہ بھی بن چکی ہے۔

  • حیدرآباد: پی ایس ایل میں توسیع، آٹھ ٹیموں کا نیا مرحلہ اور سندھ کے تاریخی شہر حیدرآباد کی قومی کرکٹ میں واپسی

    حیدرآباد: پی ایس ایل میں توسیع، آٹھ ٹیموں کا نیا مرحلہ اور سندھ کے تاریخی شہر حیدرآباد کی قومی کرکٹ میں واپسی

    پاکستان سپر لیگ میں توسیع کے ساتھ قومی کرکٹ ایک نئے مرحلے میں داخل ہو گئی ہے۔ جمعرات کو ہونے والی فرنچائز نیلامی کے بعد لیگ میں دو نئی ٹیمیں شامل کر لی گئی ہیں، جس کے نتیجے میں پی ایس ایل اب ہر سیزن میں آٹھ ٹیموں کے ساتھ کھیلی جائے گی۔

    یہ تبدیلی صرف ٹیموں کی تعداد بڑھنے تک محدود نہیں بلکہ اس کے اثرات کرکٹ، معیشت اور علاقائی شناخت تک پھیلتے دکھائی دیتے ہیں۔
    اسلام آباد میں ہونے والی نیلامی میں حیدرآباد اور سیالکوٹ کے نام سے دو نئی فرنچائزز فروخت ہوئیں۔ اس سے قبل پی ایس ایل میں لاہور، اسلام آباد، کراچی، پشاور، کوئٹہ اور ملتان کی ٹیمیں شامل تھیں۔

    سات سال بعد ہونے والی یہ توسیع پی ایس ایل کی پہلی بڑی تنظیم نو سمجھی جا رہی ہے، جس کا مقصد لیگ کو مزید مضبوط اور پائیدار بنانا بتایا جا رہا ہے۔
    حیدرآباد کے نام سے ٹیم ایف کے ایس گروپ نے خریدی، جس کے لیے 175 کروڑ روپے کی بولی دی گئی۔ اس فیصلے کے ساتھ سندھ کا یہ تاریخی شہر ایک بار پھر قومی سطح کی کرکٹ گفتگو کا حصہ بن گیا ہے۔

    اگرچہ حیدرآباد طویل عرصے سے بڑے کرکٹ ایونٹس کی میزبانی سے دور رہا، مگر ماضی میں یہ شہر فرسٹ کلاس اور علاقائی کرکٹ کا اہم مرکز رہا ہے۔ کئی نامور کھلاڑیوں کا تعلق بھی اسی خطے سے جوڑا جاتا رہا ہے، جس کے باعث یہاں کرکٹ کی جڑیں آج بھی گہری سمجھی جاتی ہیں۔

    ایف کے ایس گروپ کی قیادت فواد سرور کر رہے ہیں، جن کا آبائی تعلق حیدرآباد سے ہے۔ گروپ کا پس منظر جنوب مشرقی ایشیا اور امریکہ میں پھیلے کاروباری نیٹ ورک سے جڑا ہوا ہے، جہاں خوراک و زراعت، انفراسٹرکچر، لاجسٹکس اور پراپرٹی جیسے شعبوں میں اس کی سرگرمیاں موجود ہیں۔ چار دہائیوں پر محیط تجربے کے باعث گروپ خود کو طویل المدتی سرمایہ کاری اور انتظامی صلاحیت کے حوالے سے مستحکم قرار دیتا ہے۔

    حیدرآباد کے نام سے ٹیم رکھنے کا فیصلہ شہر کے ساتھ جذباتی وابستگی کے ساتھ ساتھ مقامی شناخت کو قومی سطح پر اجاگر کرنے کی کوشش کے طور پر بھی دیکھا جا رہا ہے۔

    نیلامی کے عمل میں پاکستان کرکٹ بورڈ کو اندرون اور بیرون ملک سے 12 بولیاں موصول ہوئیں، جن میں سے تفصیلی جانچ کے بعد 10 بولی دہندگان کو تکنیکی طور پر اہل قرار دیا گیا۔ جائزے میں مالی استعداد، کارپوریٹ گورننس، قانونی و انتظامی صلاحیت اور طویل المدتی وژن جیسے پہلوؤں کو مدنظر رکھا گیا۔

    پی سی بی کے توسیعی فریم ورک کے تحت ممکنہ میزبان شہروں میں حیدرآباد، سیالکوٹ، فیصل آباد، راولپنڈی، مظفرآباد اور گلگت شامل تھے۔

    سیالکوٹ کی ٹیم او زی گروپ نے 185 کروڑ روپے کی بولی کے ساتھ حاصل کی۔ یہ گروپ ٹریڈنگ، ٹیکنالوجی، رئیل اسٹیٹ اور فوڈ سروسز کے شعبوں میں سرگرم ہے اور پاکستان کے علاوہ آسٹریلیا، نیوزی لینڈ اور متحدہ عرب امارات میں بھی اپنی موجودگی رکھتا ہے۔

    سیالکوٹ کا انتخاب اس شہر کی مضبوط کرکٹ روایت، صنعتی شناخت اور شائقین کے جوش و جذبے کے باعث کیا گیا، جو طویل عرصے سے قومی اور بین الاقوامی کرکٹ میں اپنا مقام رکھتا ہے۔

    پی ایس ایل کا گیارھواں سیزن 26 مارچ سے 3 مئی 2026 تک کھیلا جانا طے ہے۔ نئی فرنچائزز کی شمولیت سے نہ صرف میچوں کی تعداد میں اضافہ ہو گا بلکہ کھلاڑیوں، کوچز، براڈکاسٹ اور انتظامی عملے کے لیے روزگار کے نئے مواقع بھی پیدا ہوں گے۔ اس کے ساتھ ساتھ علاقائی معیشتوں کے فروغ اور بین الاقوامی کھلاڑیوں کی شمولیت کے امکانات بھی بڑھنے کی توقع کی جا رہی ہے۔

    حیدرآباد کے لیے یہ پیش رفت محض ایک کرکٹ ٹیم کا اضافہ نہیں بلکہ اس شہر کی اس امید کی علامت ہے کہ وہ دوبارہ قومی کھیل کے نقشے پر نمایاں ہو سکے۔ اگر فرنچائز مقامی ٹیلنٹ کی نشاندہی، نچلی سطح پر کرکٹ کی بحالی اور شائقین کی شمولیت پر توجہ دیتی ہے تو حیدرآباد مستقبل میں پی ایس ایل کا ایک فعال اور پہچانا ہوا مرکز بن سکتا ہے۔

    پی ایس ایل کی توسیع اس بات کا اشارہ بھی ہے کہ لیگ اب صرف بڑے شہروں تک محدود نہیں رہنا چاہتی بلکہ کرکٹ کی جڑیں ان علاقوں تک پھیلانے کی کوشش کر رہی ہے جہاں کھیل کا شوق آج بھی زندہ ہے۔

  • کیلاش کولہی قتل: قاتلوں کی گرفتاری میں تاخیر کے خلاف بدین میں خواتین سمیت احتجاج

    کیلاش کولہی قتل: قاتلوں کی گرفتاری میں تاخیر کے خلاف بدین میں خواتین سمیت احتجاج

    چند روز قبل بدین کی تحصیل تلہار کے قریب گاؤں پیرُو لاشاری میں ایک دلخراش واقعے میں زرعی مزدور کیلاش کولہی کام کے دوران فائرنگ کے نتیجے میں جاں بحق ہوگیا۔ مقتول کے اہلِ خانہ اور مقامی عینی شاہدین کے مطابق مبینہ طور پر یہ قتل زمین کے مالک سر فراز نظامانی نے کیا، جو واقعے کے فوراً بعد فرار ہوگیا۔ پولیس کی جانب سے ملزم کی گرفتاری میں تاخیر کے خلاف اور مقتول کے خاندان کو انصاف دلانے کے مطالبے پر بدین شہر میں ایک بڑا احتجاجی دھرنا دیا گیا، جس میں ہزاروں مرد و خواتین نے شرکت کی۔

    دھرنے میں سندھیانی تحریک، قومی عوامی تحریک، سندھ یونائیٹڈ پارٹی اور مرزا گروپ کے کارکنان نے بھرپور شرکت کی۔ احتجاج سے خطاب کرتے ہوئے سید نواز شاہ بھاڈائی، منظور سولنگی، حیدر قادری، شازیہ احمدانی، حسین درس، دانش نور سومری اور ڈاکٹر عزیز میمن نے واقعے کی شدید مذمت کی اور مطالبہ کیا کہ ملزم کو فوری طور پر گرفتار کرکے قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔ مقررین نے پولیس کی کارکردگی پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ تاخیر انصاف کے تقاضوں کے منافی ہے۔

    انسانی حقوق اور سماجی کارکنوں کا کہنا ہے کہ کیلاش کولہی کا قتل کوئی انفرادی واقعہ نہیں بلکہ سندھ کے دیہی علاقوں میں پسماندہ طبقات، بالخصوص مذہبی اقلیتوں اور بے زمین ہاریوں کو درپیش مسلسل جبر اور استحصال کی عکاسی کرتا ہے۔ ان کے مطابق زرعی مزدور معاشی اور سماجی طور پر بااثر زمینداروں پر انحصار کرنے پر مجبور ہوتے ہیں، جس کے باعث طاقت کا غیر مساوی توازن جنم لیتا ہے اور کمزور طبقات تشدد اور دھمکیوں کا نشانہ بنتے ہیں۔

    عینی شاہدین کے مطابق مقتول نے اپنی محنت سے زمین پر ایک عارضی جھونپڑی قائم کر رکھی تھی تاکہ اپنے خاندان کو رہائش فراہم کرسکے، جس پر اسی روز مالکِ زمین سے تنازع پیدا ہوا۔ مبینہ طور پر تلخ کلامی کے بعد فائرنگ کی گئی، جس کے نتیجے میں کیلاش کولہی موقع پر ہی دم توڑ گیا۔ واقعے کے بعد متاثرہ خاندان اور مقامی افراد نے فوری احتجاج شروع کردیا۔

    سول سوسائٹی کے نمائندوں نے خبردار کیا ہے کہ ملزمان کی گرفتاری اور تفتیش میں تاخیر ایک ایسے ماحول کو جنم دیتی ہے جہاں بااثر افراد خود کو قانون سے بالاتر سمجھنے لگتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر بروقت اور مؤثر کارروائی نہ کی گئی تو اس سے نہ صرف نظامِ انصاف پر عوامی اعتماد مجروح ہوگا بلکہ پہلے سے عدم تحفظ کا شکار طبقات میں خوف اور بے بسی میں مزید اضافہ ہوگا۔ مظاہرین نے مطالبہ کیا ہے کہ متاثرہ خاندان کو مکمل تحفظ فراہم کیا جائے اور واقعے میں ملوث افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔

  • سندھ حکومت کا سال 2025–26 کے مجموعی بجٹ تین ہزار 450 ارب روپے۔ سروس ڈیلیوری اور ترقیاتی اخراجات سمیت کس شعبے میں کتنی رقم مختص؟

    سندھ حکومت کا سال 2025–26 کے مجموعی بجٹ تین ہزار 450 ارب روپے۔ سروس ڈیلیوری اور ترقیاتی اخراجات سمیت کس شعبے میں کتنی رقم مختص؟

    سندھ حکومت نے مالی سال 2025–26 کے لیے مجموعی طور پر تقریباً 3450 ارب روپے کا بجٹ پیش کیا ہے۔ یہ بجٹ سندھ اسمبلی سے منظور شدہ ہے اور اس میں پورے مالی سال کے سرکاری اخراجات کا تخمینہ شامل ہے۔

    یہ بجٹ بنیادی طور پر دو بڑے حصوں میں تقسیم کیا جاتا ہے، ایک سروس ڈیلیوری یعنی روزمرہ اخراجات، اور دوسرا ترقیاتی اخراجات۔

    سروس ڈیلیوری کے لیے مختص رقم تقریباً 2100 ارب روپے ہے۔ یہ وہ اخراجات ہیں جو حکومت کو روزمرہ نظام چلانے کے لیے کرنا ہوتے ہیں۔ ان میں سرکاری ملازمین کی تنخواہیں، دفاتر کے انتظامی اخراجات، تعلیم، صحت، پولیس اور دیگر عوامی خدمات سے متعلق اخراجات شامل ہیں۔ اس حصے کا مقصد موجودہ نظام کو فعال رکھنا ہے۔

    ترقیاتی اخراجات کے لیے تقریباً 1350 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ یہ رقم صوبے میں ترقیاتی منصوبوں پر خرچ کی جاتی ہے۔ ان منصوبوں میں اسکولوں اور اسپتالوں کی تعمیر، سڑکوں اور پلوں کا انفراسٹرکچر، عوامی سہولیات اور جاری و نئے ترقیاتی پروگرام شامل ہوتے ہیں۔

    اعداد و شمار کے مطابق سندھ حکومت کا بجٹ 2025–26 روزمرہ انتظامی ضروریات اور ترقیاتی منصوبوں کے درمیان تقسیم کیا گیا ہے، جس کا مقصد ایک طرف موجودہ نظام کو برقرار رکھنا اور دوسری طرف ترقیاتی عمل کو آگے بڑھانا ہے۔

    مختصراً، سندھ کا کل بجٹ 3450 ارب روپے ہے، جس میں سے 2100 ارب روپے سروس ڈیلیوری اور 1350 ارب روپے ترقیاتی اخراجات کے لیے رکھے گئے ہیں۔

     

  • قدیم دریائے ہاکڑو کے بہاؤ پر بسنے والے شہر نئوں کوٹ کے ہر سال ڈوبنے کی کہانی

    قدیم دریائے ہاکڑو کے بہاؤ پر بسنے والے شہر نئوں کوٹ کے ہر سال ڈوبنے کی کہانی

    سندھ کے قدیم دریائے ہاکڑو کے بہاؤ پر بسنے والا نئوں کوٹ کا شہر ہر سال سیلاب کی زد میں آتا ہے۔ یہ شہر انتظامی طور پر دو اضلاع، تھرپارکر اور میرپور خاص، میں تقسیم ہے۔ تھرپارکر کی حدود میں آنے والا حصہ ڈھورو بازار یا سنتورو فارم کہلاتا ہے، جبکہ میرپور خاص کی حدود میں موجود حصہ نئوں کوٹ کے نام سے جانا جاتا ہے۔

    وہ وقت جب تھر تک پکی سڑکیں نہیں پہنچی تھیں، نئوں کوٹ اس خطے کا مرکزی شہر تھا۔ اس وقت تھرپارکر کی چار میں سے تین تحصیلوں کی آمدورفت اسی شہر کے ذریعے ہوتی تھی، کیونکہ یہی واحد شہر تھا جہاں سے ریلوے سڑک گزرتی تھی۔ اسی ریلوے لائن نے نئوں کوٹ کو تجارتی اور آبادیاتی طور پر وسعت دی۔

    وقت کے ساتھ لوگوں نے قدیم دریائے ہاکڑو کے کنارے آبادیاں بنائیں۔ رفتہ رفتہ یہ آبادیاں پھیلتی گئیں اور ایک وقت آیا کہ شہر کا بڑا حصہ خشک ہو چکے ہاکڑو کے اندر تک جا بسا۔ چونکہ دریا برسوں سے سوکھا ہوا تھا، اس لیے لوگوں کو یہ احساس ہی نہ رہا کہ وہ ایک قدیم دریا کے بہاؤ میں رہائش اختیار کر چکے ہیں۔

    یہ حقیقت پہلی بار 2011 میں اس وقت سامنے آئی جب شدید سیلاب آیا۔ نئوں کوٹ کی سب سے بڑی مارکیٹ اور سنتورو فارم، ڈھورو بازار سمیت متعدد کالونیاں مکمل طور پر زیر آب آ گئیں۔ دکانیں ڈوب گئیں اور کروڑوں روپے کا نقصان ہوا۔ یہ پہلا موقع تھا جب لوگوں کو نقل مکانی کرنا پڑی اور وہ قریبی ریت کے ٹیلوں پر جا کر آباد ہوئے۔ تقریباً دو مہینے تک متاثرہ خاندان انہی ٹیلوں پر رہے۔ پانی اترنے کے بعد لوگ دوبارہ شہر کی طرف لوٹ آئے۔

    اس کے بعد 2020 اور 2022 میں بھی سیلاب آیا اور نئوں کوٹ ایک بار پھر ڈوب گیا۔ ہر بار منظر ایک جیسا رہا، نقل مکانی، ریت کے ٹیلے اور واپسی۔ اب صورتحال یہ ہے کہ جب بھی بارشوں کا سلسلہ شروع ہوتا ہے، شہر کے لوگ خوف میں مبتلا ہو جاتے ہیں کہ کہیں دوبارہ سیلاب نہ آ جائے۔

    موسمیاتی تبدیلی کے باعث گزشتہ ایک دہائی کے دوران سندھ میں غیر معمولی بارشیں معمول بنتی جا رہی ہیں۔ جب بھی سندھ میں دریائے سندھ کے دائیں کنارے پر سیلابی صورتحال پیدا ہوتی ہے، اس کا براہ راست اثر نئوں کوٹ پر پڑتا ہے۔ قدیم ہاکڑو اب سندھ کا سب سے بڑا سیلابی نالا بن چکا ہے، جو سیلابی پانی کو شکور جھیل اور پھر سمندر کی جانب لے جاتا ہے، اور اسی بہاؤ میں نئوں کوٹ بار بار ڈوب جاتا ہے۔

    ہر بڑے سیلاب کے دوران نئوں کوٹ میڈیا کی خبروں میں تو آ جاتا ہے، مگر شہر کو مستقل بنیادوں پر محفوظ بنانے کے لیے اب تک کوئی جامع منصوبہ بندی سامنے نہیں آ سکی۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ وہ برسوں سے یہاں آباد ہیں، مگر بدلتے موسم اور بڑھتی بارشوں نے ان کی زندگی غیر محفوظ بنا دی ہے۔ ان کے مطابق حکومت کو فوری اور عملی منصوبہ بندی کرنا ہوگی۔

    شہر کے رہائشی سنجے کمار کا کہنا ہے کہ اگر نئوں کوٹ کو بچانا ہے تو ہاکڑو کے نالے کو باقاعدہ طور پر خالی کر کے اس کے اوپر فلائی اوور یا متبادل راستہ بنایا جائے، تاکہ سیلاب کے دوران آمدورفت متاثر نہ ہو۔ ان کے مطابق جب نئوں کوٹ ڈوبتا ہے تو تھرپارکر کا رابطہ باقی سندھ سے کٹ جاتا ہے، جس سے پورا خطہ مفلوج ہو جاتا ہے۔

    نئوں کوٹ آج بھی قدیم ہاکڑو کے بہاؤ میں سانس لے رہا ہے، مگر ہر آنے والا مون سون اس شہر کو یہ یاد دہانی کراتا ہے کہ اگر بروقت منصوبہ بندی نہ کی گئی تو یہ شہر ہر سال اسی طرح ڈوبتا رہے گا۔

     

  • وہیکل بم کیا ہے؟ پاکستان میں گاڑی بم کی تاریخ

    وہیکل بم کیا ہے؟ پاکستان میں گاڑی بم کی تاریخ

    کراچی میں پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے بھاری مقدار میں دھماکہ خیز مواد سے بھری گاڑی برآمد کرلی۔
    وزیر داخلہ سندھ ضیا الحسن لنجار کے مطابق گاڑی میں 3400 کلوگرام بارود بھرا ہوا تھا، دہشتگرد گروہ نے کراچی اسٹاک ایکسچینج کو بارودی مواد سے اُڑانے کی تیاری کررکھی تھی۔ دھماکے کے لیے اس طرح کی گاڑی کو
    وہیکل بورن امپرووائزڈ ایکسپلوسِو ڈیوائس جسے عام زبان میں وہیکل بم یا گاڑی بم کہا جاتا ہے،

    وہیکل بورن امپرووائزڈ ایکسپلوسِو ڈیوائس جسے عام زبان میں وہیکل بم کہا جاتا ہے، ایسا دھماکہ خیز آلہ ہوتا ہے جو کسی گاڑی کے اندر یا اس پر نصب کیا جاتا ہے۔ گاڑی کار ہو سکتی ہے، وین، پک اپ، بس یا بڑا ٹرک بھی۔ گاڑی کی مدد سے بارودی مواد ہدف تک پہنچایا جاتا ہے، اسی لیے اس طریقے میں تباہی کی شدت زیادہ ہوتی ہے اور نفسیاتی اثر بھی گہرا پڑتا ہے۔

    یہ ہتھیار کیوں خطرناک سمجھا جاتا ہے۔ اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ گاڑی عام ٹریفک میں غیر نمایاں رہتی ہے اور اس میں بھاری مقدار میں بارود منتقل کیا جا سکتا ہے۔ شہری علاقوں میں ایسی گاڑیاں ہجوم تک آسانی سے پہنچ جاتی ہیں۔ ایک کم معلوم حقیقت یہ ہے کہ بہت سے حملوں میں دھماکے کا وقت اس طرح چنا جاتا ہے کہ زیادہ لوگ موجود ہوں، تاکہ خوف کا اثر طویل ہو۔

    کن گاڑیوں کا زیادہ استعمال ہوا۔ پاکستان میں زیادہ تر حملوں میں عام کاریں اور چھوٹی وینز استعمال ہوئیں کیونکہ یہ آسانی سے دستیاب رہیں۔ پک اپ اور لوڈر گاڑیاں زیادہ وزن اٹھانے کے لیے استعمال ہوئیں۔ سب سے تباہ کن حملوں میں بڑے ٹرک اور ڈمپر استعمال کیے گئے جن میں سینکڑوں کلو بارودی مواد بھرا گیا۔ بعض علاقوں میں موٹر سائیکلیں بھی استعمال ہوئیں تاکہ تنگ گلیوں سے گزر ممکن ہو۔ ایک دلچسپ مگر تشویشناک حقیقت یہ ہے کہ کچھ حملوں میں ایمبولینس یا سروس گاڑیوں کا بیرونی ڈھانچا استعمال کیا گیا تاکہ جانچ سے بچا جا سکے۔

    پاکستان میں وہیکل بم حملوں کی ابتدا اور پھیلاؤ۔ دو ہزار سات کے بعد یہ رجحان نمایاں ہوا اور بڑے شہری مراکز اس کی زد میں آئے۔ اکتوبر 2007 میں کراچی کے علاقے کارساز میں سیاسی قافلے کو نشانہ بنایا گیا۔ اس حملے میں ایک سو اسی سے زائد افراد جان سے گئے اور پانچ سو سے زیادہ زخمی ہوئے۔ یہ واقعہ اس بات کی مثال بنا کہ ہجوم میں ہونے والا وہیکل بم کس قدر تباہی لا سکتا ہے۔

    ستمبر 2008 میں اسلام آباد کے ایک بڑے ہوٹل کے باہر ڈمپر ٹرک میں نصب وہیکل بم پھٹا۔ پچاس سے زائد افراد ہلاک ہوئے اور سینکڑوں زخمی ہوئے۔ دھماکے کے بعد آگ نے عمارت کو شدید نقصان پہنچایا۔ اس واقعے نے سیکیورٹی منصوبہ بندی میں فاصلے اور مضبوط رکاوٹوں کی اہمیت کو نمایاں کیا۔

    کراچی میں مارچ 2013 کو عباس ٹاؤن کے قریب کار بم دھماکا ہوا۔ چالیس سے زائد افراد ہلاک اور ایک سو سے زیادہ زخمی ہوئے۔ اس واقعے کی خاص بات یہ تھی کہ پہلے دھماکے کے بعد دوسرا دھماکا بھی ہوا، جس نے امدادی سرگرمیوں کو متاثر کیا۔ یہ حکمت عملی کم استعمال ہوتی ہے مگر انتہائی خطرناک سمجھی جاتی ہے۔

    بلوچستان میں وہیکل بم حملوں نے خاص طور پر شدید اثرات چھوڑے۔ جنوری 2013 میں کوئٹہ کے علمدار روڈ کے قریب کار بم دھماکے میں نوے سے زائد افراد جان سے گئے اور ایک سو بیس سے زیادہ زخمی ہوئے۔ یہ بلوچستان کی تاریخ کے مہلک ترین شہری حملوں میں شمار ہوتا ہے۔ کوئٹہ اور مستونگ کے واقعات نے یہ واضح کیا کہ مذہبی اجتماعات اور زیارات بھی نشانے پر رہے۔

    پشاور میں چیک پوسٹوں، بازاروں اور پولیس تنصیبات کے قریب وہیکل بم حملے ہوئے۔ ان حملوں میں سیکیورٹی اہلکاروں کے ساتھ عام شہری بھی متاثر ہوئے۔ ایک کم معلوم پہلو یہ ہے کہ کچھ حملوں میں گاڑی کو اس طرح پارک کیا گیا کہ دھماکے کی سمت عمارتوں کے اندر کی طرف ہو، تاکہ نقصان زیادہ ہو۔

    دنیا کے بڑے وہیکل بم اور ان کا سبق۔ جدید دور کا سب سے ہلا دینے والا وہیکل بم حملہ 2017 میں صومالیہ کے دارالحکومت موغادیشو میں ہوا۔ ایک بڑے ٹرک میں بھرے گئے بارودی مواد نے پورے علاقے کو تباہ کر دیا۔ سینکڑوں افراد ہلاک اور ہزاروں زخمی ہوئے۔ یہ واقعہ اس بات کی مثال بنا کہ ٹرک بم ایک پورے شہر کو مفلوج کر سکتے ہیں۔ اس سے پہلے 1995 میں امریکا کے شہر اوکلاہوما میں ٹرک بم حملے نے یہ ثابت کیا کہ یہ خطرہ صرف جنگی علاقوں تک محدود نہیں۔

    وہیکل بم میں کیا بھرا جاتا ہے۔ عام طور پر کھاد پر مبنی بارودی مرکبات، فوجی گولہ بارود، ایندھن اور دھات کے ٹکڑے شامل ہوتے ہیں۔ بعض صورتوں میں آگ اور دباؤ بڑھانے کے لیے مخصوص مرکبات ملائے جاتے ہیں۔ ایک دلچسپ حقیقت یہ ہے کہ دھماکے کے بعد بچ جانے والے پرزے اکثر تفتیشی اداروں کو حملہ آور نیٹ ورک تک پہنچنے میں مدد دیتے ہیں۔

    کم معلوم مگر اہم حقیقتیں۔ بڑے وہیکل بم کبھی اکیلے افراد تیار نہیں کرتے۔ اس کے لیے مالی وسائل، محفوظ مقامات، نقل و حمل اور تربیت یافتہ افراد کا جال درکار ہوتا ہے۔ بعض حملوں میں پہلا دھماکا ہجوم اکٹھا کرنے کے لیے کیا جاتا ہے اور دوسرا دھماکا امدادی ٹیموں کو نشانہ بناتا ہے۔ یہ طریقہ خوف اور نقصان دونوں کو بڑھاتا ہے۔ ایک اور حقیقت یہ ہے کہ بعض حملہ آور عام سروس روٹین اور اوقات کا مطالعہ کر کے حملے کا وقت طے کرتے ہیں۔

    نفسیاتی اور سماجی اثرات۔ وہیکل بم کا مقصد صرف جانی نقصان نہیں ہوتا بلکہ عدم تحفظ کا احساس پھیلانا بھی ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایسے حملے علامتی مقامات یا مصروف علاقوں میں کیے جاتے ہیں۔ طویل مدت میں یہ معاشرے پر خوف اور بے یقینی کے اثرات چھوڑتے ہیں۔

     

  • سندھ کے مشہور عشقیہ لوک داستان مومل راڻو میں ڈھاٹی اُونٹ کے چرچے، یہ اونٹ آج بھی مقبول کیوں؟

    سندھ کے مشہور عشقیہ لوک داستان مومل راڻو میں ڈھاٹی اُونٹ کے چرچے، یہ اونٹ آج بھی مقبول کیوں؟

    سندھ کے مشہور عشقیہ لوک داستان مومل راڻو میں ڈھاٹی اُونٹ کا خاص ذکر ملتا ہے۔ اس داستان کے مرکزی کردار راڻو مہندر امرکوٹ سے جیسلمیر تک رات کی تاریکی میں سفر کر کے اپنی محبوبہ مومل سے ملنے جاتا تھا۔ کہا جاتا ہے کہ وہ ایک ہی رات میں یہ طویل فاصلہ طے کر کے ملاقات کے بعد واپس آ کر آرام کرتا تھا۔ یہ روایت صحرائی سفر میں ڈھاٹی اُونٹ کی رفتار اور برداشت کی علامت بن چکی ہے۔

    سندھی شاعری کے سرتاج شاہ لطیف بھٹائی نے اپنی شاعری میں مومل راڻو پر پورا ایک سر تخلیق کیا ہے۔ اس سر میں ڈھاٹی اُونٹ کا ذکر بار بار آتا ہے، جو نہ صرف سواری بلکہ عشق، جدوجہد اور سفر کی علامت کے طور پر سامنے آتا ہے۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ اُونٹ تھر کی زندگی میں محض ایک جانور نہیں بلکہ تہذیبی اور علامتی اہمیت بھی رکھتا ہے۔

    اُونٹ کو ریگستان کا جہاز کہا جاتا ہے۔ پاکستان میں سب سے زیادہ اُونٹ سندھ کے ضلع تھرپارکر میں پائے جاتے ہیں۔ اسلام کوٹ پاکستان کا واحد شہر ہے جہاں ہر بدھ کے روز اُونٹوں کی باقاعدہ منڈی لگتی ہے۔ اس منڈی میں ملک کے مختلف حصوں کے ساتھ ساتھ بیرونِ ملک سے آنے والے تاجر بھی اپنی ضرورت کے مطابق اُونٹ خریدتے ہیں۔ یہ منڈی صحرائی معیشت کے ساتھ ساتھ صدیوں پرانی ثقافتی روایت کی بھی نمائندہ ہے۔

    تھر کے علاقے میں اُونٹوں کی کئی اقسام پائی جاتی ہیں جن میں مہراںوی، کھارائی، ہائبرڈ، سندھی اور ڈھاٹی اُونٹ شامل ہیں۔ یہ اقسام سرحد کے دونوں جانب تھر، راجستھان اور مارواڑ کے علاقوں میں بھی پائی جاتی ہیں۔

    ان اُونٹوں کو کھیتی باڑی، بوجھ اٹھانے، پانی بھرنے، کنوؤں سے پانی کھینچنے، تیل کے گھان چلانے، اُونٹ گاڑیوں اور سواری کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ صحرائی زندگی میں یہ جانور انسانی بقا کا ایک اہم سہارا رہا ہے۔

    ان اقسام میں ڈھاٹی اُونٹ کو ایک منفرد مقام حاصل ہے۔ یہ واحد قسم ہے جسے خاص طور پر سواری کے لیے پالا جاتا ہے۔ ڈھاٹی اُونٹ اپنی جسامت میں دوسرے اُونٹوں کے مقابلے میں دبلا، اونچا اور متوازن ہوتا ہے۔ یہ کم خوراک میں گزارا کر لیتا ہے، وزن میں ہلکا ہوتا ہے اور اسی وجہ سے تیز رفتار سفر کرتا ہے۔ طویل فاصلے طے کرتے ہوئے یہ کم تھکتا ہے، اسی لیے قدیم زمانے میں شاہی قاصد، سوداگر اور مسافر اسے ترجیح دیتے تھے۔

    دلچسپ بات یہ ہے کہ اُونٹ اپنے جسمانی درجہ حرارت کو خود منظم کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ شدید گرمی میں اس کا جسمانی درجہ حرارت بڑھ جاتا ہے اور رات کے وقت کم ہو جاتا ہے، جس سے پانی کی بچت ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اُونٹ کئی دن تک بغیر پانی کے زندہ رہ سکتا ہے، اور ریتلے طوفانوں میں بھی اپنا راستہ پہچاننے کی غیر معمولی صلاحیت رکھتا ہے۔

    اگرچہ آج سڑکوں، گاڑیوں اور جدید سفری سہولتوں نے صحرائی علاقوں میں آمد و رفت کو آسان بنا دیا ہے، پھر بھی تھر، راجستھان اور گجرات کے کئی علاقوں میں اُونٹ کی اہمیت برقرار ہے۔ جدید دور میں بھی یہاں کے لوگ گھریلو کام کاج، روزمرہ ضروریات اور بعض سفری مقاصد کے لیے اُونٹ پر انحصار کرتے ہیں۔ یہ جانور آج بھی صحرائی تہذیب، معیشت اور ثقافت کا ایک زندہ استعارہ ہے۔

  • سندھ کی قدیم اور درد بھری رومانوی لوک داستان سسئی پنہوں کی کہانی کیا ہے؟

    سندھ کی قدیم اور درد بھری رومانوی لوک داستان سسئی پنہوں کی کہانی کیا ہے؟

    سندھ کی قدیم اور درد بھری رومانوی لوک داستان سسئی پنہوں کی کہانی جو محبت، تقدیر اور سماجی سرحدوں کی علامت سمجھی جاتی ہے۔ اس داستان کو سوندی زبان کے صوفی شاعر شاہ عبدالطیف بھائی نے اپنی شاعر ی میں شامل کیا مگر یہ کہانی صرف شاعری کا موضوع نہیں بلکہ صدیوں پرانی روایات میں زندہ ایک روایت ہے، جسے سندھ کے مختلف علاقوں میں مختلف انداز میں بیان کیا جاتا ہے۔

    اس کہانی نے جنم لیا سندھ کے ضلع ٹھٹہ میں موجود قدیم شہر بھنبھور میں، جہاں ایک میوزیم قائم ہے۔ بھنبھور میوزیم کے انچارج ظہیر احمد کے مطابق سسئی کی پیدائش سیہون شریف میں ایک ہندو خاندان کے گھر ہوئی۔ ان کے بقول خاندان نے خوشی کے موقع پر پنڈت کو بلایا تاکہ نومولود کی کنڈلی دیکھی جائے۔ پنڈت نے کنڈلی دیکھنے کے بعد کہا کہ یہ بچی ایک دن مسلمان ہو جائے گی اور اس کی شادی ایک مسلمان مرد سے ہوگی۔ یہ پیش گوئی اس دور کے سماجی تصورات کے خلاف سمجھی گئی۔

    ساگا ڈیجیٹل سے گفتگو کرتے ہوئے ظہیر احمد نے کہا: ‘اس پیش گوئی کے بعد بچی کے والدین شدید خوف اور دباؤ کا شکار ہو گئے۔ خاندان کی روایت کے مطابق انہوں نے نومولود سسئی کو ایک صندوق میں رکھا اور دریائے سندھ کے حوالے کر دیا، یہ سوچ کر کہ شاید یوں بدنامی سے بچا جا سکے۔ ظہیر احمد کے مطابق یہ فیصلہ محبت یا نفرت سے زیادہ سماجی خوف کا نتیجہ تھا۔

    ‘یہ صندوق بہتا ہوا بھنبھور کے قریب پہنچا، جہاں ایک مسلمان دھوبی کو یہ دریا کے کنارے ملا۔ دھوبی نے صندوق کھولا تو اندر زندہ بچی کو پایا اور اسے اپنی اولاد کی طرح پالنا شروع کر دیا۔ یوں سسئی ایک ہندو خاندان میں جنم لے کر ایک مسلمان گھرانے میں پرورش پانے لگی۔’

    ظہیر احمد کے مطابق سسئی جوان ہوئی تو اپنی خوبصورتی، سادگی اور کردار کی وجہ سے مشہور ہو گئی۔ اسی دوران مکران کے علاقے سے تعلق رکھنے والے شہزادہ پنہوں بھنبھور آیا، جہاں اس کی ملاقات سسئی سے ہوئی۔ یہ ملاقات آہستہ آہستہ محبت میں بدل گئی، جو وقت کے ساتھ ایک عظیم داستان بن گئی۔

    ظہیر احمد نے بتایا کہ پنہوں اور سسئی کی محبت سماجی رکاوٹوں کی نذر ہو گئی۔ پنہوں کے خاندان نے اس رشتے کو قبول نہیں کیا اور اسے زبردستی واپس لے جایا گیا۔ سسئی نے پنہوں کی تلاش میں ریگستان کا سفر اختیار کیا، جو اس کہانی کا سب سے دردناک حصہ مانا جاتا ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ سسئی کا صحرا میں بھٹکتے ہوئے جان دینا اس محبت کی انتہا کی علامت ہے۔ یہ کہانی سندھ کی ثقافت میں اس بات کی مثال بن گئی کہ سچی محبت مذہب، ذات اور طاقت کی حدود کو نہیں مانتی۔

    ظہیر احمد کے مطابق سسئی پنہوں کی داستان آج بھی سندھ کے لوگوں کے دلوں میں زندہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ کہانی صرف دو افراد کی محبت نہیں بلکہ اس خطے کی تاریخ، سماجی ڈھانچے اور انسان کی تقدیر کے ساتھ جدوجہد کی عکاس ہے، اسی لیے صدیوں بعد بھی اسے سنایا اور سنا جاتا ہے۔

     

  • صحرائے تھر: نگرپارکر گاؤں جہاں موجود 150 سال قدیم پیلو کا درخت، جس کے سائے میں ‘150 لوگ آسانی’ سے بیٹھ سکتے ہیں

    صحرائے تھر: نگرپارکر گاؤں جہاں موجود 150 سال قدیم پیلو کا درخت، جس کے سائے میں ‘150 لوگ آسانی’ سے بیٹھ سکتے ہیں

    سندھ کے ضلع تھرپارکر کی تحصیل نگرپارکر کے نواحی گاؤں جام خان جو وانڈھیو میں موجود پیلو کا درخت آج بھی اپنی مضبوط جڑوں اور پھیلی ہوئی شاخوں کے ساتھ قائم ہے۔ یہ درخت مقامی لوگوں کے مطابق تقریباً 150 سال پرانا ہے اور تھر کے سخت موسموں، قحط اور تیز ہواؤں کا خاموش گواہ رہا ہے۔ ریگستانی خطے میں اس نوعیت کے قدیم درخت اب بہت کم رہ گئے ہیں، اسی لیے یہ پیلو خاص اہمیت رکھتا ہے۔

    اس درخت کے سائے کی وسعت مقامی روایت میں مثال کے طور پر بیان کی جاتی ہے۔ گاؤں کے بزرگ جام خان کے پوتے ساگر خاصخیلی کے مطابق پیلو اتنا وسیع ہے کہ اس کے نیچے بیک وقت 150 افراد ‘آرام’ سے بیٹھ سکتے ہیں۔ تھر جیسے گرم اور خشک علاقے میں ایسا سایہ کسی نعمت سے کم نہیں سمجھا جاتا۔

    پیلو کا یہ درخت صرف قدرتی حسن تک محدود نہیں بلکہ گاؤں کی سماجی زندگی کا مرکز بھی رہا ہے۔ ماضی میں گاؤں کے فیصلے، مشورے اور اجتماعی بیٹھکیں اسی درخت کے نیچے ہوا کرتی تھیں۔ مسافر، چرواہے اور مقامی لوگ گرمی کی شدت میں یہاں سستا کر دم لیتے تھے۔

    نگرپارکر اور اس کے آس پاس کے علاقوں میں پیلو کے درخت کو خاص تقدس حاصل ہے۔ اس کے پھل مقامی خوراک میں استعمال ہوتے رہے ہیں جبکہ اس کی چھال اور پتے روایتی علاج میں بھی کام آتے ہیں۔ ریگستانی ماحول میں پیلو ان چند درختوں میں شامل ہے جو کم پانی میں بھی زندہ رہنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

    پیلو کی جڑیں زمین میں گہرائی تک پھیلی ہوتی ہیں، جو اسے طویل عرصے تک قائم رہنے میں مدد دیتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ شدید خشک سالی کے باوجود یہ درخت سبز رہتا ہے۔ مقامی لوگ اسے صبر، برداشت اور بقا کی علامت سمجھتے ہیں۔

    یہ درخت اب گاؤں کی شناخت اور سیاحتی کشش کا اہم ذریعہ بھی بن چکا ہے۔ اس پیلو کو دیکھنے کے لیے مختلف علاقوں سے سیاح یہاں آتے ہیں، جن کا مقامی لوگ روایتی انداز میں استقبال کرتے ہیں۔ مہمانوں کو اپنے گھروں میں بٹھایا جاتا ہے، مقامی کھانے پیش کیے جاتے ہیں اور ان کے ساتھ وقت گزار کر تھر کی روایتی مہمان نوازی کا عملی مظاہرہ کیا جاتا ہے۔

    جام خان جو وانڈھیو کے رہنے والوں کے لیے یہ محض ایک درخت نہیں بلکہ یادوں اور روایتوں کا مرکز ہے۔ بچوں کی کھیل کود، بزرگوں کی باتیں اور مسافروں کی کہانیاں سب اسی سائے میں پروان چڑھیں۔ یہی وجہ ہے کہ یہ درخت گاؤں کے اجتماعی تشخص کا حصہ بن چکا ہے۔

    ایک کم معروف حقیقت یہ ہے کہ پیلو کے درخت کو صحرائی ماحول میں قدرتی پانی صاف کرنے والا نظام سمجھا جاتا ہے، کیونکہ اس کی جڑیں زیر زمین نمی کو محفوظ رکھ کر اردگرد کی مٹی میں پانی کی مقدار برقرار رکھتی ہیں۔ یہ خصوصیت آس پاس کی نباتات اور چرند پرند کے لیے بھی فائدہ مند ثابت ہوتی ہے۔

    آج جب تھرپارکر میں ماحولیاتی تبدیلی اور درختوں کی کمی ایک بڑا مسئلہ بن چکی ہے، جام خان جو وانڈھیو کا یہ پیلو درخت قدرتی ورثے کی علامت کے طور پر سامنے آتا ہے۔ یہ درخت یاد دلاتا ہے کہ ریگستان میں زندگی کا دارومدار مضبوط جڑوں، سایے اور انسانوں کے باہمی رشتوں کی قدر پر ہوتا ہے۔