شمالی سندھ کے ضلع کندھ کوت کے کچے کے رہائشی فیاض احمد کے مطابق کچے کے رہائشیوں کے لیے دریائے سندھ زندگی کی حیثیت رکھتا ہے، جہاں مقیم لاکھوں لوگ نہ صرف کھیتی باڑی کرتے ہیں، بلکہ مویشی بھی پالتے ہیں۔
ساگا ڈیجیٹل سے گفتگو کرتے ہوئے فیاض احمد نے کہا: ‘دریا ہمارا روح ہے، اگر دریا ہوگا تو ہم زندہ رہیں گے۔’
دریائے سندھ کے کچے کا علاقہ فطری ماحولیاتی توازن کا ایک اہم حصہ رہا ہے۔ یہ خطہ صدیوں سے قدرتی جنگلات، جھیلوں اور دریا سے جڑے حیاتیاتی نظام کا حامل رہا ہے، جو انسانی زندگی اور فطرت کے درمیان قدرتی ربط کو ظاہر کرتا ہے۔
کچہ علاقہ نہ صرف سندھ بلکہ پورے پاکستان کے لیے اناج کی فراہمی کا ایک اہم ذریعہ سمجھا جاتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ لائیو اسٹاک اور ماہی گیری کے لیے بھی بنیادی حیثیت رکھتا ہے، جس پر لاکھوں لوگوں کا روزگار وابستہ ہے۔
دریائے سندھ کے دونوں اطراف بچاؤ بند کے درمیانی حصے کو کچہ کہا جاتا ہے۔ دریائے سندھ کا کچہ پنجاب اور سندھ تک پھیلا ہوا ہے۔ یہاں موجود قدرتی جنگلات، نشیبی زمینیں اور آبی نظام ایک متوازن ماحولیاتی ڈھانچے کی عکاسی کرتے ہیں۔
سنہ 2013 کے ایک سروے کے مطابق سندھ کے کچہ علاقوں میں تقریباً 40 لاکھ افراد آباد تھے۔ ان لوگوں کا انحصار زراعت، مال مویشی پالنے اور ماہی گیری پر رہا ہے، جو نسل در نسل ان کی معیشت کا حصہ بنی رہی ہے۔
ساون کے موسم میں کچہ کے مناظر نمایاں طور پر سرسبز ہو جاتے ہیں۔ اس دوران ببڑ، باہڑ اور بھٹن جیسے بڑے درخت اپنی پوری بہار دکھاتے ہیں۔ یہ درخت کچہ کے صدیوں پرانے فطری ورثے کا حصہ سمجھے جاتے ہیں۔
تاہم سرکاری غفلت، بااثر عناصر کی مداخلت اور انتظامی کمزوریوں کے باعث کچہ کے جنگلات کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ ناجائز قبضے، زمینوں کو لیز پر دینا، جنگلات کے شعبے کی عدم توجہی اور شجرکاری نہ ہونے کے باعث یہ علاقہ تیزی سے متاثر ہو رہا ہے۔
ماہرین کے مطابق اگر بروقت اور سنجیدہ اقدامات نہ کیے گئے تو کچہ علاقہ اپنی ماحولیاتی شناخت کھو سکتا ہے۔ وہ خطہ جو کبھی زندگی، سرسبزی اور خوشحالی کی علامت تھا، مستقبل میں صرف ایک یاد بن کر رہ جانے کا خدشہ ہے۔
کچہ علاقہ صرف سندھ تک محدود نہیں بلکہ دریائے سندھ کے ساتھ ساتھ پنجاب میں بھی پھیلا ہوا ہے۔ یہ خطہ دریا کے قدرتی نظام کا ایک لازمی حصہ سمجھا جاتا ہے اور صدیوں سے انسانی زندگی اور فطرت کے درمیان توازن قائم کیے ہوئے ہے۔
دریائے سندھ کے دونوں اطراف بچاؤ بند موجود ہیں۔ ان بندوں کے درمیان فاصلہ ہر مقام پر یکساں نہیں۔ کہیں یہ فاصلہ تقریباً 20 کلومیٹر تک پھیلا ہوا ہے، جبکہ بعض علاقوں میں یہ صرف دو کلومیٹر تک محدود رہ جاتا ہے۔
عام حالات میں دریائے سندھ کچہ کے درمیان بہتا ہے۔ دریا کے ساتھ جڑی یہ زمینیں قدرتی طور پر زرخیز ہوتی ہیں اور سیلابی نظام کا حصہ رہتی ہیں۔ اسی لیے مقامی لوگ کچہ کو دریا کی سانس بھی کہتے ہیں۔
گرمیوں میں صورتحال یکسر بدل جاتی ہے۔ جب شمالی پہاڑوں پر برف پگھلتی ہے اور مون سون کی بارشیں شروع ہوتی ہیں تو دریائے سندھ میں پانی کی مقدار بڑھ جاتی ہے۔ اس دوران کچہ کا بیشتر علاقہ زیر آب آ جاتا ہے۔
سیلابی پانی کچھ عرصے بعد اتر جاتا ہے۔ پانی کے اترنے کے بعد کچہ کی زمین غیر معمولی طور پر زرخیز ہو جاتی ہے۔ اسی سیرابی کے بعد مقامی آبادی مختلف فصلوں کے بیج بوتی ہے۔ کم خرچ میں اور کم وقت میں تیار ہونے والی کئی فصلیں یہاں کامیابی سے اگائی جاتی ہیں۔
کچہ کے علاقوں میں قدرتی جنگلات وسیع پیمانے پر موجود ہیں۔ یہ جنگلات نہ صرف ماحولیاتی توازن قائم رکھتے ہیں بلکہ مقامی معیشت میں بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ انہی جنگلات کی وجہ سے کچہ میں قدرتی شہد وافر مقدار میں ملتا ہے، جو مقامی آبادی کے لیے روزگار اور آمدن کا ایک اہم ذریعہ ہے۔
یوں کچہ علاقہ محض دریا کے کنارے کی زمین نہیں بلکہ ایک مکمل زندہ نظام ہے۔ یہ نظام پانی، زراعت، جنگلات اور انسانی زندگی کو آپس میں جوڑتا ہے اور دریائے سندھ کے ساتھ جڑے علاقوں کی بقا کی ضمانت بنتا ہے۔
