چیف جسٹس پاکستان جسٹس یحییٰ آفریدی نے ضلع تھرپارکر کا دورہ کیا۔اس دورے کے دوران انہوں نے انصاف کی فراہمی اور عدالتی نظام سے متعلق امور کا جائزہ لیا۔یہ دورہ مقامی سطح پر عدالتی رسائی اور مسائل کو سمجھنے کے تناظر میں اہم سمجھا جا رہا ہے۔
اعلامیے کے مطابق چیف جسٹس پاکستان نے یہ فیلڈ وزٹ لا اینڈ جسٹس کمیشن آف پاکستان کے چیئرمین کی حیثیت سے کیا۔
اس موقع پر چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ بھی ان کے ہمراہ موجود تھے۔ دورے کو عدالتی نگرانی اور مشاورت کے عمل کا حصہ قرار دیا گیا۔
دورے کے دوران مقامی افراد نے چیف جسٹس پاکستان کو راجپوتی پگڑی پہنائی۔ اس پگڑی کو مقامی زبان میں پٹکا یا پھینٹو کہا جاتا ہے۔ یہ عمل محض روایتی اعزاز نہیں بلکہ ایک گہری علامتی حیثیت رکھتا ہے۔
روایتی پگڑی یا پٹکا یا پھینٹو کی تاریخ
برصغیر کی سرزمین خصوصاً ہند و سندھ کا خطہ اپنی قدیم تہذیب اور علامتی روایات کے باعث منفرد مقام رکھتا ہے۔
ان روایات میں پٹکا ایک نمایاں اور باوقار علامت کے طور پر سامنے آتا ہے۔ سندھ کے تھرپارکر، نگرپارکر اور کارونجھر میں اسے پھینٹو کہا جاتا ہے۔ پھینٹو محض سر پر باندھنے والا کپڑا نہیں۔ یہ صدیوں پر محیط تاریخ، راجپوت شناخت، غیرت اور بہادری کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ اس کا تعلق دھرتی سے وفاداری اور اجتماعی ذمہ داری کے تصور سے بھی جڑا ہے۔
پٹکے کا تعلق براہ راست ہند و سندھ تہذیبی خطے سے جڑا ہوا ہے۔ یہ خطہ آج کے پاکستان اور انڈیا کے وسیع علاقوں پر مشتمل ہے۔ سندھ کے کئی اضلاع اور انڈیا کے راجستھان، گجرات خصوصاً کچھ، ہریانہ اور مدھیہ پردیش میں یہ روایت زندہ ہے۔
اگرچہ برصغیر میں مختلف اقوام پگڑی یا دستار باندھتی ہیں۔ مگر رنگین پھینٹو خاص طور پر راجپوت اقوام کی پہچان سمجھا جاتا ہے۔اس کی ساخت اور رنگ اسے دوسری پگڑیوں سے منفرد بناتے ہیں۔
تاریخی طور پر راجپوت محافظ اور جنگجو قوم سمجھے جاتے رہے ہیں۔ وہ قلعوں، سرحدوں اور پہاڑی علاقوں کے رکھوالے رہے۔اسی لیے ان کے لباس میں وقار اور جرات نمایاں نظر آتی ہے۔
قدیم زمانے میں شوخ اور نمایاں رنگ پہننا ہر فرد کا حق نہیں تھا۔یہ اعزاز صرف سرداروں اور محافظ طبقے کو حاصل ہوتا تھا۔رنگین پھینٹو اسی امتیاز اور ذمہ داری کی علامت بن گیا۔
پھینٹو کے رنگ محض خوبصورتی کے لیے استعمال نہیں ہوتے۔ہر رنگ ایک الگ مفہوم رکھتا ہے اور ایک پیغام دیتا ہے۔سرخ قربانی، نارنجی توانائی، پیلا دانائی اور نیلا اصول پسندی کی علامت سمجھا جاتا ہے۔
کئی رنگوں کا امتزاج راجپوت ثقافت کے اتحاد اور تنوع کی نمائندگی کرتا ہے۔ یہ امتزاج اجتماعی ذمہ داری اور باہمی ربط کا اظہار بھی ہے۔اسی وجہ سے پھینٹو کو سماجی شناخت کا اہم حصہ مانا جاتا ہے۔
سندھ کے نگرپارکر اور کارونجھر میں پھینٹو کو خاص مقام حاصل ہے۔یہاں اسے صرف ثقافتی لباس نہیں سمجھا جاتا۔
بلکہ اسے دھرتی اور قدرتی وسائل کے تحفظ کا اخلاقی عہد مانا جاتا ہے۔
روایت کے مطابق جو شخص پھینٹو باندھتا ہے۔وہ اس خطے، اس کے پہاڑوں اور پانی کی حفاظت کا وعدہ کرتا ہے۔
اس سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ ناانصافی اور تباہی پر خاموش نہیں رہے گا۔
راجپوت روایت میں کسی معزز مہمان کو پھینٹو پہنانا خاص اہمیت رکھتا ہے۔ یہ عمل اعزاز کے ساتھ ساتھ ذمہ داری کی منتقلی کی علامت ہوتا ہے۔یوں مہمان کو بھی دھرتی کے ورثے کا اخلاقی امین سمجھا جاتا ہے۔
جدید دور میں جب ثقافتی اقدار ماند پڑتی جا رہی ہیں۔پٹکا یا پھینٹو راجپوت شناخت کو زندہ رکھنے کا ذریعہ بن رہا ہے۔
یہ نئی نسل کو تاریخ اور ذمہ داری سے جوڑنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔
ایک کم معروف حقیقت یہ ہے کہ کارونجھر کے بعض علاقوں میں پھینٹو باندھنے والے فرد کو مقامی سطح پر قدرتی تنازعات میں ثالث کا اخلاقی حق بھی حاصل سمجھا جاتا ہے۔یہ تصور تحریری قانون کا حصہ نہیں۔ مگر سماجی طور پر اسے بڑی اہمیت دی جاتی ہے۔
آج پھینٹو صرف روایت کی علامت نہیں رہا۔یہ ثقافتی بقا، ماحولیاتی شعور اور اجتماعی ذمہ داری کی نشانی بن چکا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ یہ روایت آج بھی زندہ اور متحرک ہے۔
آخر میں یہ کہنا درست ہوگا کہ پٹکا یا پھینٹو محض لباس نہیں۔یہ عزت، ذمہ داری اور دھرتی سے وفاداری کا عہد ہے۔
راجپوت کے سر پر بندھا پھینٹو اس عہد کی خاموش گواہی دیتا ہے۔













