Tag: سندھ

  • روائتی پگڑی یا پٹکو، پھینٹو: ہند و سندھ تہذیب میں راجپوت شناخت، غیرت اور ذمہ داری کی علامت

    روائتی پگڑی یا پٹکو، پھینٹو: ہند و سندھ تہذیب میں راجپوت شناخت، غیرت اور ذمہ داری کی علامت

    چیف جسٹس پاکستان جسٹس یحییٰ آفریدی نے ضلع تھرپارکر کا دورہ کیا۔اس دورے کے دوران انہوں نے انصاف کی فراہمی اور عدالتی نظام سے متعلق امور کا جائزہ لیا۔یہ دورہ مقامی سطح پر عدالتی رسائی اور مسائل کو سمجھنے کے تناظر میں اہم سمجھا جا رہا ہے۔

    اعلامیے کے مطابق چیف جسٹس پاکستان نے یہ فیلڈ وزٹ لا اینڈ جسٹس کمیشن آف پاکستان کے چیئرمین کی حیثیت سے کیا۔
    اس موقع پر چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ بھی ان کے ہمراہ موجود تھے۔ دورے کو عدالتی نگرانی اور مشاورت کے عمل کا حصہ قرار دیا گیا۔

    دورے کے دوران مقامی افراد نے چیف جسٹس پاکستان کو راجپوتی پگڑی پہنائی۔ اس پگڑی کو مقامی زبان میں پٹکا یا پھینٹو کہا جاتا ہے۔ یہ عمل محض روایتی اعزاز نہیں بلکہ ایک گہری علامتی حیثیت رکھتا ہے۔

    روایتی پگڑی یا پٹکا یا پھینٹو کی تاریخ

    برصغیر کی سرزمین خصوصاً ہند و سندھ کا خطہ اپنی قدیم تہذیب اور علامتی روایات کے باعث منفرد مقام رکھتا ہے۔
    ان روایات میں پٹکا ایک نمایاں اور باوقار علامت کے طور پر سامنے آتا ہے۔ سندھ کے تھرپارکر، نگرپارکر اور کارونجھر میں اسے پھینٹو کہا جاتا ہے۔ پھینٹو محض سر پر باندھنے والا کپڑا نہیں۔ یہ صدیوں پر محیط تاریخ، راجپوت شناخت، غیرت اور بہادری کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ اس کا تعلق دھرتی سے وفاداری اور اجتماعی ذمہ داری کے تصور سے بھی جڑا ہے۔

    پٹکے کا تعلق براہ راست ہند و سندھ تہذیبی خطے سے جڑا ہوا ہے۔ یہ خطہ آج کے پاکستان اور انڈیا کے وسیع علاقوں پر مشتمل ہے۔ سندھ کے کئی اضلاع اور انڈیا کے راجستھان، گجرات خصوصاً کچھ، ہریانہ اور مدھیہ پردیش میں یہ روایت زندہ ہے۔

    اگرچہ برصغیر میں مختلف اقوام پگڑی یا دستار باندھتی ہیں۔ مگر رنگین پھینٹو خاص طور پر راجپوت اقوام کی پہچان سمجھا جاتا ہے۔اس کی ساخت اور رنگ اسے دوسری پگڑیوں سے منفرد بناتے ہیں۔

    تاریخی طور پر راجپوت محافظ اور جنگجو قوم سمجھے جاتے رہے ہیں۔ وہ قلعوں، سرحدوں اور پہاڑی علاقوں کے رکھوالے رہے۔اسی لیے ان کے لباس میں وقار اور جرات نمایاں نظر آتی ہے۔

    قدیم زمانے میں شوخ اور نمایاں رنگ پہننا ہر فرد کا حق نہیں تھا۔یہ اعزاز صرف سرداروں اور محافظ طبقے کو حاصل ہوتا تھا۔رنگین پھینٹو اسی امتیاز اور ذمہ داری کی علامت بن گیا۔

    پھینٹو کے رنگ محض خوبصورتی کے لیے استعمال نہیں ہوتے۔ہر رنگ ایک الگ مفہوم رکھتا ہے اور ایک پیغام دیتا ہے۔سرخ قربانی، نارنجی توانائی، پیلا دانائی اور نیلا اصول پسندی کی علامت سمجھا جاتا ہے۔

    کئی رنگوں کا امتزاج راجپوت ثقافت کے اتحاد اور تنوع کی نمائندگی کرتا ہے۔ یہ امتزاج اجتماعی ذمہ داری اور باہمی ربط کا اظہار بھی ہے۔اسی وجہ سے پھینٹو کو سماجی شناخت کا اہم حصہ مانا جاتا ہے۔

    سندھ کے نگرپارکر اور کارونجھر میں پھینٹو کو خاص مقام حاصل ہے۔یہاں اسے صرف ثقافتی لباس نہیں سمجھا جاتا۔
    بلکہ اسے دھرتی اور قدرتی وسائل کے تحفظ کا اخلاقی عہد مانا جاتا ہے۔

    روایت کے مطابق جو شخص پھینٹو باندھتا ہے۔وہ اس خطے، اس کے پہاڑوں اور پانی کی حفاظت کا وعدہ کرتا ہے۔
    اس سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ ناانصافی اور تباہی پر خاموش نہیں رہے گا۔

    راجپوت روایت میں کسی معزز مہمان کو پھینٹو پہنانا خاص اہمیت رکھتا ہے۔ یہ عمل اعزاز کے ساتھ ساتھ ذمہ داری کی منتقلی کی علامت ہوتا ہے۔یوں مہمان کو بھی دھرتی کے ورثے کا اخلاقی امین سمجھا جاتا ہے۔

    جدید دور میں جب ثقافتی اقدار ماند پڑتی جا رہی ہیں۔پٹکا یا پھینٹو راجپوت شناخت کو زندہ رکھنے کا ذریعہ بن رہا ہے۔
    یہ نئی نسل کو تاریخ اور ذمہ داری سے جوڑنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔

    ایک کم معروف حقیقت یہ ہے کہ کارونجھر کے بعض علاقوں میں پھینٹو باندھنے والے فرد کو مقامی سطح پر قدرتی تنازعات میں ثالث کا اخلاقی حق بھی حاصل سمجھا جاتا ہے۔یہ تصور تحریری قانون کا حصہ نہیں۔ مگر سماجی طور پر اسے بڑی اہمیت دی جاتی ہے۔

    آج پھینٹو صرف روایت کی علامت نہیں رہا۔یہ ثقافتی بقا، ماحولیاتی شعور اور اجتماعی ذمہ داری کی نشانی بن چکا ہے۔
    یہی وجہ ہے کہ یہ روایت آج بھی زندہ اور متحرک ہے۔

    آخر میں یہ کہنا درست ہوگا کہ پٹکا یا پھینٹو محض لباس نہیں۔یہ عزت، ذمہ داری اور دھرتی سے وفاداری کا عہد ہے۔
    راجپوت کے سر پر بندھا پھینٹو اس عہد کی خاموش گواہی دیتا ہے۔

     

  • کامریڈ جام ساقی کی والدہ کی فاتح خوانی کے لیے بغیر پروٹوکول بے نطیر بھٹو کی آمد کا قصہ

    کامریڈ جام ساقی کی والدہ کی فاتح خوانی کے لیے بغیر پروٹوکول بے نطیر بھٹو کی آمد کا قصہ

    دروازے پر ہلکی سی دستک ہوئی، دروازہ کھلا تو سامنے بے نظیر بھٹو کھڑی تھیں، پاکستان کی سابق وزیرِ اعظم، اسلامی دنیا کی پہلی خاتون سربراہِ حکومت، مگر نہ کسی رسمی اعلان کے ساتھ، نہ کسی پروٹوکول کے شور میں گھری ہوئی۔ وہ اس وقار کے ساتھ گھر کے اندر آئیں جو عہدوں سے نہیں، تربیت اور شعور سے جنم لیتا ہے، اور کسی غیر ضروری تکلف کے بغیر پلنگ پر بیٹھ گئیں۔

    طاقت کا غرور نہیں، صرف وقار کی سادگی۔ ایک خاموش اعلان، اقتدار انسان کو بڑا نہیں کرتا، انسانیت عہدوں کو باوقار بناتی ہے۔ یہ ایک ایسا لمحہ تھا جو صرف آنکھوں سے دیکھا جا سکتا تھا، مگر دل پر نقش ہو جاتا ہے۔

    یہ واقعہ اس وقت کا ہے جب اپنے نظریات کے باعث کئی سال جیل کاٹنے والے سندھ کے بائیں بازو کے ترقی پسند سیاست دان کامریڈ جام ساقی کی والدہ کا انتقال ہوا۔ کامریڈ جام ساقی ان لوگوں میں سے تھے جنہوں نے نظریے کے لیے قید و بند، ریاستی جبر اور سیاسی تنہائی جھیلی، مگر اقتدار اور آسائش سے ہمیشہ فاصلہ رکھا۔ ان کی سیاست اقتدار کے ایوانوں تک پہنچنے کا وسیلہ نہیں تھی، بلکہ اصول، سوال اور مزاحمت کی سیاست تھی۔

    جام ساقی اور بے نظیر بھٹو کے نظریاتی اختلافات واضح اور گہرے تھے۔ جام ساقی سخت گیر انقلابی، طبقاتی جدوجہد کے قائل اور ریاستی ڈھانچے کی تبدیلی کے حامی تھے، جبکہ بے نظیر بھٹو جمہوری، پارلیمانی اور عوامی رائے کے ذریعے تبدیلی کی علمبردار تھیں۔ ایک انقلابی سیاست کا نمائندہ، دوسری انتخابی سیاست کی علامت۔ مگر انسانی وقار نے اختلاف کے تمام فاصلے ختم کر دیے۔

    یہ واقعہ اس بات کی دلیل ہے کہ اختلاف نظریات میں ہو سکتا ہے، مگر احترام، اخلاق اور انسانیت کے اصول ہر وقت قائم رہ سکتے ہیں۔ یہ وہ لمحہ ہے جو آج کی سیاست کے شور اور فاصلوں کے بیچ بھی خاموشی کے ساتھ اپنا پیغام دیتا ہے۔

    جام ساقی کے گھر میں فرنیچر تک موجود نہیں تھا۔ یہ سادگی غربت یا مجبوری کا نتیجہ نہیں، بلکہ نظریاتی انتخاب تھا۔ میزبان پریشان تھے کہ پاکستان کی سابق وزیرِ اعظم، اسلامی دنیا کی پہلی خاتون سربراہ حکومت، کو کہاں بٹھایا جائے؟

    مگر بے نظیر بھٹو نے اس اضطراب کو محسوس ہونے ہی نہیں دیا۔ پلنگ پر بیٹھنا، خاموشی سے غم بانٹنا، اور گلاس پانی پینا، یہ سب ایک ایسا عمل تھا جو اقتدار اور نظریاتی اختلاف کے تمام رکاوٹوں کو توڑ دیتا ہے۔ یہ عمل محض ایک تعزیت یا اخلاقی روایت نہیں، بلکہ قیادت کا ایک زندہ اور عملی معیار تھا۔

    تعزیت کے دوران جب میزبان نے پوچھا کہ وہ ان کی خدمت میں کیا پیش کریں، تو محترمہ بے نظیر بھٹو نے جام ساقی کے گھر سے ایک گلاس پانی مانگا، ایسا پانی جو نہ ابلا ہوا تھا، نہ فلٹر شدہ۔ یہ محض پانی نہیں، بلکہ نظریاتی اختلاف کے باوجود انسانی برابری کو تسلیم کرنے کا خاموش مگر گہرا اعلان تھا۔

    یہ لمحہ ہمیں سکھاتا ہے کہ قیادت کا اصل امتحان اقتدار میں نہیں، بلکہ انسانوں کے درمیان کھڑے ہو کر انسان بنے رہنے میں ہے۔ بے نظیر بھٹو نے نہ کوئی تقریر کی، نہ کوئی اعلان، نہ کوئی سیاسی فائدہ سمیٹا۔ صرف ایک خاموش عمل کے ذریعے انہوں نے یہ واضح کر دیا کہ حقیقی عظمت عہدوں میں نہیں، کردار، انسان دوستی اور وقار میں ہے۔

    یہ وہ مقام ہے جہاں اختلاف، نظریاتی فاصلہ، اور سیاسی کشمکش بھی پس منظر میں چلی جاتی ہیں۔ یہاں اقتدار کا زور نہیں، صرف انسانیت کی آواز بلند ہوتی ہے۔ یہ لمحہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ عوامی قیادت عوام کے قریب ہوتی ہے، اور کسی عہدے یا منصب کے بغیر بھی لوگوں کے دکھ میں شریک ہونا ممکن ہے۔

    یہ واقعہ یاد دلاتا ہے کہ بالغ جمہوریت میں اختلاف دشمنی نہیں ہوتا۔ نظریات ٹکراتے ہیں، مگر احترام اور انسانیت قائم رہ سکتی ہے۔ آج کی سیاست میں، جہاں اختلاف فوراً نفرت، تشدد اور کردار کشی میں بدل جاتا ہے، وہاں یہ واقعہ ایک زندہ سبق ہے کہ اختلاف کے ساتھ احترام بھی ممکن ہے۔

    یہ واقعہ ہمیں یہ بھی سکھاتا ہے کہ قیادت صرف عہدے، اقتدار یا نعروں میں نہیں، بلکہ انسانوں کے دکھ میں شریک ہونے میں اور نظریاتی اختلاف کے باوجود انسانیت کی پاسداری کرنے میں ہے۔

    بے نظیر بھٹو آج بھی یاد کی جاتی ہیں، اور جام ساقی آج بھی احترام کے ساتھ یاد کیے جاتے ہیں۔ یہ لمحہ دونوں شخصیات کو ایک اخلاقی بلندی پر لا کھڑا کرتا ہے جہاں اختلاف کے باوجود احترام زندہ رہتا ہے۔

    یہ واقعہ ہمیں یہ سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ سیاست صرف اقتدار، طاقت یا منصب کی جنگ نہیں، بلکہ اخلاق، انسانیت اور احترام کا امتحان بھی ہے۔

    ایک معیار جو آج بھی سوال کرتا ہے: ہم نے سیاست تو بہت دیکھی، مگر کیا ہم نے اختلاف کے ساتھ احترام اور قیادت کے ساتھ انسانیت بھی دیکھی؟

     

    نوٹ: یہ تحریر لکھاری کی ذاتی آرا  ہے، ساگا  ڈیجیٹل کا لکھاری کے خیالات  سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

     

  • منفرد ادب، شاعری اور موسیقی والی صحرائے تھر کی مقبول زبان ڈھاٹکی، جس کا رسم الخط بھی ہے

    منفرد ادب، شاعری اور موسیقی والی صحرائے تھر کی مقبول زبان ڈھاٹکی، جس کا رسم الخط بھی ہے

    سندھ کے ضلع تھرپارکر کے چیلہار شہر کے رہائشی اور ڈھاٹکی زبان کے شاعر اور متعدد کتابوں کے لکھاری،  صحرا  تھر کی  زبان لوک ادب لوک دانائی اور ثقافت پر کام کرنے والے بھارو مل امرانی کے مطابق ڈھاٹکی زبان کو تھر کے ریگستان میں نمایاں حیثیت حاصل ہے اور اس خطے کی اکثریت آبادی ڈھاٹکی زبان بولتی ہے۔

    ساگا ڈیجیٹل سے گفتگو کرتے ہوئے بھارومل امرانی نے کہا: ‘سندھ کے اس ریگستانی حصے کو مُردھر یا مروستھل بھی کہا جاتا ہے۔ ‘مُردھر’ یا ‘مروستھل’ کے نام کی وجہ سے ریگستان کے لوگوں کی زبان کو مروبھاشا کا نام دیا گیا۔ مُردھر یا مروستھل کے نام کی وجہ سے ریگستان کے لوگوں کی زبان کو مروبھاشا کا نام دیا گیا۔

    ‘مروگجر اور مروبھاشا کی طرح ریگستانی زبان کے لئے پنگل اور ڈنگل کا اصطلاح بھی 15ویں اور 16 ٓویں صدی میں مشہور ہوئی۔تھرپارکر درواڑی اور راجپوتی تھذیب کا سنگم ہے، تھرپارکر کی علاقائی تاریخ کی طرح زبان کی تاریخ بھی قدیم ہے۔

    ‘تھر کی زبان پے موھن جو دڑو کی امر مُھر لگی ہوئی ہے، دوسری زبان کے الفاظ کو اپنے ماحول کا رنگ دے کر اپنے وجود میں شامل کرنے سے اس بولی کی  وسعت بڑتی گئی، تھرپارکر کی علائقائی بولی میں جہاں پانچ ہزار سال پرانے سندھی اور دراوڑی زبانوں کے الفاظ ملتے ہیں وہاں جدید دور کے سائنسی ایجادات کے سائنسی نام جنم لے رہے ہیں۔’

    بھارومل امرانی کے مطابق  تھرپارکر علاقائی لحاظ سے سات حصوں ڈاٹ، ونگو، کنٹھو، کھاہوڑ،پارکر،سامروٹی اور وٹ پے مشتمل ہے۔ کہا جاتا ہے کہ ان حصوں میں ہر ایک حصے کا اپنا لہجا ہے۔ مگر مجموعی طور تھرپارکر میں بولی جانے والی زبان کے تیں لہجے ہیں۔ سندھی تھری، پارکری، ڈھاٹکی۔

    ‘ڈھاٹکی تھر کی اہم زبان ہے، جس کو سوڈکی بھی کہتے ہیں۔ ایک غیر سرکاری سروے مطابق ضلع تھر میں 75 فیصد لوگوں کی مادری زبان ڈاٹکی ہے، 98 فیصد تھر کی آبادی ڈھاٹکی سمجھ اور بول سکتی ہے۔

    ‘دنیا کے لوک ادب کی طرح بادشاہوں اور پریوں کے ساتھ ساتھ یہاں کے مقامی لوک کرداروں کی کہانیوں اور شعر و شاعری کا بڑا ذخیرہ ملتا ہے،

    ‘موروں کے دلربا رقص اور حب الوطنی کے عظیم کردار مارئی کے داستان میں مھکتے ہوئے ڈھاٹکی کے گیتوں کو مقامی گلوکاروں مراد فقیر، مائی بھاگی، مائی ودھائی،موہن بھگت، استاد حسین فقیر، استاد شفیع فقیر، صادق فقیر، فوزیہ سومرو، عارب فقیر، حیدررند، بھگڑو ناچیز، انب فقیر،مصری ڈیپلائی، رجب فقیر، رفیق فقیر اور دیگر گلوکاروں نے دل و روح سے گایا ہے۔’

    بھارومل امرانی کے مطابق عربی رسم الخط میں سندھی الف ب کے تعاون سے ڈھاٹکی کی رسم الخط تیار کی گئی ہے۔ ڈھاٹکی زبان کے حروف تہجی کا تعداد 34 رکھا گیا ہے۔

    ڈھاٹکی پر سندھ میں ڈاکٹر پھلو سندر اور ہند میں ڈاکٹر مرلی بھوانانی نے پی ایچ ڈی کی ہے ۔ ڈھاٹکی سیکھنے کے کچھ کتاب شایع ہوئی ہیں۔ مگر اب تک ڈاٹکی کا کوئی جریدہ نہیں نکلتا۔ ریڈیو پاکستان مٹھی پے دو ڈھاٹکی کے پروگرام ڈھاٹی ماںجھا دھول اور تھر ری سرہان روزانہ نشر ہوتے ہیں۔ پیارو شوانی اور بھارومل امرانی نے شیخ ایاز کی شاعری کو ڈھاٹکی روپ دیا ہے۔ استاد لغاری نے شاھ جو رسالو کا ڈھاٹکی میں ترجمہ کیا ہے ۔

  • 28 دسمبر 1997: شیخ ایاز کا یومِ وفات، ایک دور کا اختتام

    28 دسمبر 1997: شیخ ایاز کا یومِ وفات، ایک دور کا اختتام

    ‘سندھو دیش کی دھرتی! تجھ پر اپنا سر نچھاور کروں میں مٹی ماتھے لگاؤں’

    یہ شیخ ایاز کی وہ شاعری ہے جسے سائیں جی ایم سید نے، ناراضگی کے باوجود، سندھو دیش کا قومی ترانہ قرار دیا تھا۔

    شیخ ایاز کا اصل نام شیخ مبارک علی تھا۔ ان کے والد کا نام شیخ غلام حسین تھا۔ وہ دو مارچ 1923 کو شکارپور شہر میں پیدا ہوئے۔

    شیخ ایاز نے ابتدائی اور ثانوی تعلیم شکارپور ہی میں حاصل کی۔ 1941 میں بمبئی یونیورسٹی سے میٹرک پاس کیا۔ 1942 میں شکارپور کے سی اینڈ ایس کالج سے انٹرمیڈیٹ کیا۔1944 میں ڈی جے سندھ کالج کراچی سے گریجویشن مکمل کی اور 1945 میں ایل ایل بی میں داخلہ لیا۔

    قانون کی تعلیم مکمل کرنے کے بعد 1950 میں وکالت شروع کی اور جلد ہی سندھ کے نامور وکلا میں شمار ہونے لگے۔ پہلے کراچی ہائی کورٹ میں عبدالحئی قریشی اور جمال صدیقی کے ساتھ، بعد میں خالد اسحاق اور عبدالقادر شیخ کے ساتھ وکالت کی۔ اس کے بعد سکھر میں وکالت شروع کی۔

    شیخ ایاز سندھی ادبی سنگت سندھ کے بانی اراکین میں شامل تھے۔ انہوں نے 1945 میں ڈاکٹر گربخشاڻي کی رہنمائی میں چلنے والے ‘سندھی سرکل’ کی نشستوں میں شرکت کی۔

    جب اپریل 1946 میں کراچی میں گوبند مالہی نے سندھی ادبی سنگت سندھ کی بنیاد رکھی تو شیخ ایاز اور بہاری لال چھابڑیا پہلے مشترکہ سیکریٹری منتخب ہوئے۔

    تقسیم کے سانحے میں شیخ ایاز کے قریبی دوست، نارائن شیام، کیرت بابانی، گوبند مالہی، اے جی اتم، بہاری لال چھابڑیا، موتی رام رامواڻي، ایڈووکیٹ امر لال پنجواڻي، ڈاکٹر ارجن شاد اور دیگر — بھارت چلے گئے۔ اس تاریخی سانحے نے شیخ ایاز کے ذہن پر گہرا اثر ڈالا۔

    سندھی ادیبوں کی بڑی تعداد کے بھارت چلے جانے کے بعد شیخ ایاز اردو ادیبوں کی محفلوں میں جانے لگے۔ اردو شاعری کا انہیں پہلے ہی وسیع مطالعہ تھا، اس لیے انہوں نے اردو میں بھی شاعری کی، جہاں انہیں بڑا مقام حاصل ہوا۔

    انہوں نے شکارپور ضلع میں بھی سنگت کو منظم کیا اور انجمن ترقی پسند مصنفین سے وابستہ رہے۔ تقسیم کے بعد پاکستان رائٹرز گلڈ اور سائیں جی ایم سید کی قائم کردہ بزمِ صوفیائے سندھ سے بھی گہرا تعلق رہا۔

    اپنی قومی اور مزاحمتی شاعری کے باعث شیخ ایاز کو جیل یاترا بھی کرنا پڑی۔ رجعت پسند حلقوں نے ان پر کفر اور بغاوت کے الزامات لگائے اور کئی مقدمات قائم کیے۔

    اسی سلسلے میں ‘ادب کی آڑ میں’ کے نام سے ایک کتاب شائع ہوئی جس میں جدید سندھی ادب اور خاص طور پر شیخ ایاز کے خلاف مہم چلائی گئی۔

    اس کے جواب میں رسول بخش پلیجو نے “انڌا اونڌا ویڄ”، مولانا غلام محمد گرامی نے “مشرقی شاعری کے فنی اقدار و رجحانات” اور قاسم پتھر نے محمد ابراہیم جویو کی رہنمائی میں “ادب کے نام پر” لکھ کر جواب دیا۔

    شیخ ایاز کا شمار سندھ کے عظیم شاعروں میں ہوتا ہے۔ ان کی قومی شاعری کے سبب انہیں جنرل ایوب خان اور جنرل یحییٰ خان کے ادوار میں سینٹرل جیل سکھر اور سینٹرل جیل ساہیوال میں قید بھی کاٹنی پڑی۔

    ان کے ناقدین کا کہنا ہے کہ اگر شیخ ایاز، وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو سے سندھ یونیورسٹی جامشورو کی وائس چانسلری قبول نہ کرتے تو وہ شاہ عبداللطیف بھٹائی کے بعد سندھی زبان کے سب سے بڑے شاعر ہوتے۔

    قوم پرست سیاست میں سائیں جی ایم سید کی جدوجہد اور تحریروں کے بعد، شیخ ایاز کی شاعری نے تحریک کو نیا رخ دیا۔

    سائیں جی ایم سید نے شیخ ایاز کے نظم

    ‘سندھو دیس کی دھرتی، تجھ پر سر نچھاور’

    کو آزاد سندھو دیش کا قومی ترانہ قرار دیا۔

    شیخ ایاز جہاں سائیں جی ایم سید کے بہت قریب تھے، وہیں ذوالفقار علی بھٹو شہید بھی انہیں بے حد پسند کرتے تھے۔

    لیکن 1976 میں جب شیخ ایاز نے سندھ یونیورسٹی کی وائس چانسلری قبول کی تو سائیں جی ایم سید کو شدید صدمہ ہوا۔

    میں آج آپ کو ایک تاریخی واقعہ سناتا ہوں:

    جب 1973 کا آئین منظور ہوا تو خوشی کے موقع پر جنوری 1974 میں لاڑکانہ اسٹیڈیم میں ایک عظیم الشان تقریب منعقد ہوئی۔

    میں اس وقت چھٹی جماعت کا طالب علم تھا اور میں نے اس تقریب میں وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو سے ہاتھ ملایا تھا۔

    اس اسٹیج پر ذوالفقار علی بھٹو، جنرل ٹکا خان، ممتاز علی بھٹو، غلام مصطفیٰ جتوئی، عبدالحفیظ پیرزادہ، غلام مصطفیٰ کھر اور مولانا کوثر نیازی موجود تھے۔

    صوفیانہ موسیقی کا پروگرام بھی رکھا گیا۔

    جب فقیر عبدالغفور نے لطیف سائیں کی کافی پیش کی تو اس کے بعد وزیر اعظم بھٹو نے فرمائش کی کہ شیخ ایاز کی وائی

    ‘سندھڑی تے سر کون نہ دے گا، سہندو کون ملامت او یار’ سنائی جائے۔

    جب فقیر عبدالغفور یہ وائی گا رہے تھے تو ذوالفقار علی بھٹو اپنی کرسی سے اٹھ کر ان کے ساتھ جھومنے لگے، جبکہ ٹکا خان اور دیگر وزرا یہ منظر دیکھتے رہے۔

    یہ بھی سب کو معلوم ہے کہ بھٹو صاحب غیر ملکی سربراہان — شاہِ ایران رضا شاہ پہلوی، یاسر عرفات، شیخ زاید — کے دورۂ لاڑکانہ کے موقع پر فقیر عبدالغفور، ڈھول فقیر اور استاد منظور علی خان سے بھٹائی اور شیخ ایاز کا کلام سنا کرتے تھے۔

    جب شیخ ایاز نے 1976 میں وائس چانسلری قبول کی تو سائیں جی ایم سید ناراض ہو گئے، مگر اس کے باوجود وہ شیخ ایاز کی شاعری کے دلدادہ رہے۔

    شیخ ایاز 1976 سے 1980 تک سندھ یونیورسٹی کے وائس چانسلر رہے اور چار سالہ مدت مکمل کی۔

    جو بھی ہو، شیخ ایاز کی سندھ سے محبت اور حب الوطنی پر مبنی شاعری کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔

    آج بھی جب کوئی فنکار اس وائی کو اسٹیج پر گاتا ہے تو جسم کے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں:

    ‘سندھڑی تے سر کون نہ دے گا، سہندو کون ملامت او یار’

  • اپنے نام کی رہائشی کالونی بناکر کر ایک ہزار درخت لگانے والے مٹھی کے ریٹائرڈ کانجی مل میگھواڑ

    اپنے نام کی رہائشی کالونی بناکر کر ایک ہزار درخت لگانے والے مٹھی کے ریٹائرڈ کانجی مل میگھواڑ

    سندھ کے ضلع تھرپارکر کے ضلعی ہیڈکواٹر مٹھی میں رٹائرڈ بینکر کانجی مل میگھواڑ نے تقریباً 45 سال قبل اپنے نام ‘ کانجی مل کالونی’ کے نام پر رہائشی کالونی بنائی اور وہاں ایک ہزار پودے لگائے جوکہ اب بڑے پیڑ بن چکے ہیں۔

    ساگا ڈیجیٹل سے گفتگو کرتے ہوئے کانجی مل میگھواڑ نے کہا: ‘میرا گاؤں مٹھی سے دور ہے اور بنیادی سہولیات سے محروم ہے، اس لیے مین نے 1993 میں نقل مکانی کرکے میں مٹھی شھر میں آباد ہوا۔ جہاں میں بینک میں ملازمت کرتا تھا اسی دوران مجھے خیال آیا کہ میں کیوں نہ ایک رہائشی کالونی بناؤں اور یہاں شجرکاری کروں۔

    ‘تو میں نے یہ کالونی بنائی اور پودے لاگئے جو آج بڑے درخت بن گئے ہیں۔’

  • حر تحریک کے لازوال خواتین کردار

    حر تحریک کے لازوال خواتین کردار

    سورمی ڈھِجانی نظاماني، فقیر فتح محمد نظاماني کی اہلیہ اور فقیر عبدالقادر نظاماني کی والدہ تھیں۔ حر تحریک کے دوران وہ برطانوی سامراج کے خلاف گوریلا جدوجہد میں عملی طور پر شریک رہیں۔ اماں ڈھِجانی نظاماني نے حر مجاہدین کے ساتھ مل کر انگریزوں کے خلاف متعدد چھاپہ مار اور گوریلا کارروائیوں میں حصہ لیا۔ بالآخر برطانوی افواج نے انہیں سانگھڑ سے گرفتار کر لیا۔

    اماں ڈھِجانی نظاماني نے اپنی زندگی کے تقریباً دس سال سینٹرل جیل حیدرآباد، سینٹرل جیل سکھر اور مختلف عقوبت خانوں میں قید و بند کی صعوبتیں برداشت کیں، مگر انہوں نے کبھی ہمت نہیں ہاری۔ چند سال قبل وہ تقریباً پچانوے برس کی عمر میں اس دارِ فانی سے رخصت ہوئیں۔ سندھ آج بھی ان کی بہادری اور جرأت کو سلام پیش کرتا ہے۔

    اسی طرح مَکھی کے علاقے، گھِجھر پٹ کے گاؤں محمد بخش ہنگور کے بہادر حریانی گاؤں میں، جب مرد موجود نہیں تھے، تو گاؤں کی تمام عورتوں نے مل کر مورچہ بندی کی اور حریانی مسمات شاہل کی قیادت میں انگریز فوج کا ڈٹ کر مقابلہ کیا۔ اس معرکے میں مسمات شاہل نے جامِ شہادت نوش کیا۔

    سنجهوري کے گاؤں بھڑی کی سُکھی خاصخيلي بھی حر تحریک کی جدوجہد کے دوران برطانوی فوج سے مقابلہ کرتے ہوئے گرفتار ہوئیں اور انہوں نے اپنی جوانی کے قیمتی سال سینٹرل جیل سکھر میں گزارے۔ اسی واقعے میں ان کی تیرہ سالہ رشتہ دار بچی بختاور خاصخيلي انگریز فوج کے ہاتھوں شہید ہوئی۔

    گاؤں گلشير وسان کی حریانی مسمات حاکم زادی کو بھی حر گوریلوں کا ساتھ دینے کے الزام میں گرفتار کیا گیا۔ انہوں نے اپنی زندگی کے کئی سال سینٹرل جیل حیدرآباد اور سینٹرل جیل سکھر میں گزارے، جبکہ کچھ عرصہ سخت مشقت کے ساتھ عقوبت خانوں میں بھی قید رہیں۔

    مکھی کے گاؤں کھکارو پٹ کی حریانی مائی قائماں ملاني نے دیگر ساتھی خواتین کے ساتھ مل کر انگریز فوجی دستوں کے خلاف شدید مزاحمت کی۔ بالآخر وہ گرفتار ہوئیں اور طویل قید کاٹی۔

    جھول کی غلام فاطمہ کیریو، المعروف کرڑی کیرانی نے تو ایک مسلح دستہ تک منظم کیا تھا، جو اکثر رات کے وقت انگریز فوجی چوکیوں پر حملہ کرتا، فوجیوں کو ہلاک کرتا اور ان کا اسلحہ و گولہ بارود چھین کر لے جاتا تھا۔ انہی اچانک اور جرأت مندانہ کارروائیوں کی وجہ سے انہیں کرڑی کیریانی کہا جانے لگا۔ آخرکار وہ بھی گرفتار ہوئیں اور اپنی زندگی کا بڑا حصہ جیلوں اور عقوبت خانوں میں گزارا۔

    اسی طرح وطن کی آزادی کے لیے “آزادی یا موت” اور “وطن یا کفن” کے نعرے کے تحت جدوجہد کرنے والی حریانی سون بائي بهن  کو بھی سندھ کی ایک عظیم خاتون گوریلا قائد کے طور پر یاد کیا جاتا ہے۔ 1888 سے 1896 کے دوران جب حر تحریک کا آغاز ہوا تو حر گوریلا کارروائیوں میں مائی سون بائي بهن کا کردار مرکزی حیثیت رکھتا تھا۔

     

    مائی سون بائي بهن، حر کمانڈر محبت فقیر بهن کی بہن اور عظیم مجاہد وريام فقير خاصخيلي (رلي وارو) کی اہلیہ تھیں۔ ان کے دو بیٹے بچو بادشاہ خاصخيلي اور پير بخش فقير خاصخيلي تھے، جن میں پير بخش فقير خاصخيلي نار وارو فقير کے نام سے مشہور ہوئے۔

    شہید بچو بادشاہ کی شادی مائی سعيدان خاصخيلی سے ہوئی جبکہ ان کے بھائی پير بخش فقير کی شادی مائی بيگم بهن سے ہوئی۔ جب بچو بادشاہ نے انگریزوں کے خلاف بغاوت کا اعلان کیا اور گوریلا جنگ کا آغاز ہوا تو اگر ان کارروائیوں میں مائی سون بائی بهن کا ذکر نہ ہو تو حر تحریک کی داستان ادھوری رہ جاتی ہے۔

    مائی سون بائي بهن نہ صرف اپنے بیٹوں کے ساتھ گوریلا کارروائیوں میں شریک رہیں بلکہ ان کی دونوں بہوئیں، مائی سعيدان اور مائی بيگم بهن بھی ان معرکوں میں برابر کی شریک تھیں۔ مائی سون بائي بهن کے بھائی محبت فقير بهن اور پير بخش وسان المعروف پيرو وزير بچو بادشاہ کے گوریلا دستے کے کمانڈر تھے۔

    بچو بادشاہ کی قیادت میں حر مجاہدین نے انگریزوں کا جینا دوبھر کر دیا اور ایک متبادل حکومت قائم کر لی، جس کا دائرہ سانگھڑ، میرپورخاص اور تھرپارکر تک پھیلا ہوا تھا۔ مکھی ٻيلي سے مٹھڑاؤ اور شہدادپور تک کا پورا علاقہ انگریز فوج کے خلاف شدید مزاحمت کا مرکز بنا رہا۔

     

    بعد ازاں ایک سازش کے تحت بچو بادشاہ، عيسو فقير ڏاهري اور دیگر حر مجاہدین گرفتار ہوئے اور انہیں سانگھڑ شہر کے چوک میں سرِعام پھانسی دے دی گئی۔ پير بخش وسان عرف پيرو وزير انگریز فوج سے مقابلے میں شہید ہوئے۔

    ان پھانسیوں کے بعد مائی سون بائي بهن اور ان کی دونوں بہوئیں بھی گرفتار ہوئیں اور انہیں عمر قید کی سزا دے کر کالا پانی (جيسلمير جیل) بھیج دیا گیا۔ اسی طرح سینکڑوں حر مرد و خواتین کو عقوبت خانوں میں قید رکھا گیا۔ طویل اسیری کے بعد جب برطانوی حکومت برصغیر سے ختم ہوئی تو ان بہادر حریانی خواتین کو آزادی نصیب ہوئی۔

    حر تحریک کی ان خواتین میں سعدان خاصخيلن، مريم خاصخيلن، بصران خاصخيلن، مرادان خاصخيلن، فريدان خاصخيلن، زهران خاصخيلن، عاقلان خاصخيلن، مائی بھان خاصخيلن، ہوندل خاصخيلن، مرکان خاصخيلن، لال خاتون خاصخيلن، سرندي خاصخيلن، ہول خاتون خاصخيلن، جادو خاصخيلن سمیت بے شمار گمنام حریانی خواتین شامل تھیں، جنہوں نے سندھ وطن کے لیے جدوجہد کی، شہادتیں دیں، جیلیں کاٹیں، عقوبتیں برداشت کیں اور روپوشی کی زندگی گزاری۔

  • 25 دسمبر 1876: قائدِ اعظم محمد علی جناح کا یومِ پیدائش: قائدِ اعظم کا انتقال کیسے ہوا؟

    25 دسمبر 1876: قائدِ اعظم محمد علی جناح کا یومِ پیدائش: قائدِ اعظم کا انتقال کیسے ہوا؟

    بانیِ پاکستان محمد علی جناح 25 دسمبر 1876 کو جھِرک (سندھ) میں پیدا ہوئے۔ آپ کے والد کا نام پونجا جناح تھا جو ایک تاجر تھے۔ قائدِ اعظم نے ابتدائی تعلیم کراچی کے سندھ مدرسۃ الاسلام سے حاصل کی، پھر اعلیٰ تعلیم کے لیے لندن گئے اور لنکنز اِن سے بیرسٹری کی ڈگری حاصل کی۔ کم عمری میں ہی ممتاز بیرسٹر کے طور پر پہچانے جانے لگے۔

    سیاسی زندگی کا آغاز انڈین نیشنل کانگریس سے کیا اور ابتدا میں ہندو مسلم اتحاد کے بڑے حامی رہے، اسی وجہ سے آپ کو ‘ہندو مسلم اتحاد کا سفیر’ کہا گیا۔ 1913 میں کانگریس سے علیحدگی اختیار کر کے آل انڈیا مسلم لیگ میں شامل ہوئے۔ 1930 کے بعد مسلمانوں کے لیے علیحدہ وطن کے تصور کو قوت دی۔ 1937
    میں مسلم لیگ نے آپ کو ‘قائدِ اعظم’ کا خطاب دیا۔
    23 مارچ 1940 کو لاہور میں قراردادِ لاہور منظور ہوئی، جس میں مسلم اکثریتی علاقوں پر مشتمل آزاد ریاست کا مطالبہ کیا گیا۔ بالآخر 14 اگست 1947 کو پاکستان معرضِ وجود میں آیا اور قائدِ اعظم اس کے پہلے گورنر جنرل بنے۔ اس وقت آپ کی عمر ستر برس کے قریب تھی اور صحت کمزور ہو چکی تھی۔

    بیماری اور آخری ایام

    25 مئی 1948 کو ڈاکٹروں نے آرام کی غرض سے کوئٹہ میں قیام کا مشورہ دیا۔ یکم جولائی 1948 کو کراچی آ کر سٹیٹ بینک آف پاکستان کا افتتاح کیا، مگر چھ جولائی کو طبیعت بگڑ گئی اور دوبارہ کوئٹہ جانے کا کہا گیا۔ اس سفر میں نہ کوئی سرکاری ڈاکٹر ساتھ تھا اور نہ مناسب پروٹوکول، فاطمہ جناح خود اپنے بھائی کو کوئٹہ لے گئیں۔

    14 جولائی 1948 کو ڈاکٹروں کے مشورے پر زیارت منتقل کیا گیا۔ 21 جولائی کو فاطمہ جناح نے حکومت کے ذمہ داران کو اطلاع دی کہ قائدِ اعظم کی حالت تشویشناک ہے اور فوری طبی مدد درکار ہے، مگر خاطر خواہ اقدام نہ ہو سکا۔

    اس وقت پاکستان میں پی آئی اے موجود نہ تھی۔ صرف اورینٹ ایئر لائنز تھی، جس کی زیارت کے لیے فوری پرواز دستیاب نہ تھی۔ بالآخر کرنل ڈاکٹر الٰہی بخش اپنی ذاتی کوششوں سے 23 جولائی کو کوئٹہ پہنچے اور مزید ڈاکٹروں اور نرس مس ڈنہم کو بھی بلایا گیا۔ فاطمہ جناح شب بیداری کے ساتھ تیمارداری کرتی رہیں، مگر افاقہ نہ ہوا۔

    قائدِ اعظم نے خواہش ظاہر کی کہ انہیں کراچی واپس لے جایا جائے۔ ایک موقع پر وزیرِ اعظم لیاقت علی خان عیادت کے لیے زیارت آئے۔ فاطمہ جناح اپنی کتاب ‘میرا بھائی’ میں لکھتی ہیں کہ ملاقات کے بعد قائدِ اعظم نے کہا: ‘فاطی! تم سمجھتی ہو وہ میری عیادت کو آئے تھے؟ وہ تو یہ دیکھنے آئے تھے کہ میں کب مروں گا۔’

    کراچی واپسی اور انتقال

    قائدِ اعظم کو کوئٹہ ایئر بیس سے ایئر فورس کے ‘وائکنگ’ طیارے کے ذریعے کراچی لایا گیا۔ جہاز میں ڈاکٹر الٰہی بخش، فاطمہ جناح، اے ڈی سی لیفٹیننٹ مظہر، امین اور اسٹاف نرس مس ڈنہم موجود تھے۔

    ماڑی پور ایئر بیس پر صرف ان کے برطانوی ملٹری سیکریٹری کرنل جیفری نولز ایک پرانی ایمبولینس کے ساتھ موجود تھے۔ بدقسمتی سے راستے میں ایمبولینس کا ایندھن ختم ہو گیا اور وہ کچرے کے ڈھیر کے پاس کافی دیر کھڑی رہی۔

    فاطمہ جناح اپنے دوپٹے سے مکھیاں ہٹاتی رہیں۔ بعد ازاں دوسری ایمبولینس منگوا کر انہیں گورنر ہاؤس پہنچایا گیا، مگر حالت نہ سنبھل سکی۔
    بالآخر 11 ستمبر 1948 کی رات 10 بج کر 20 منٹ پر پاکستان کے بانی قائدِ اعظم محمد علی جناح انتقال فرما گئے۔

  • لاکھوں نقطوں سے پینٹنگ بنانے والے عمرکوٹ کے آرٹسٹ

    لاکھوں نقطوں سے پینٹنگ بنانے والے عمرکوٹ کے آرٹسٹ

    سندھ کے ضلع عمرکوٹ کے شہر ڈھورونارو کے رہائشی محمد علی نے ڈاٹ پر تصویر بنانے کا منفرد کام اپنایا۔ وہ پینٹنگ کے لیے لاکھوں ڈاتس کا استعمال کرتے ہیں۔

    ڈاٹ آرٹسٹ محمد علی منڱريو نے ساگا ڈیجیٹل کو بتایا کہ میں فائن آرٹسٹ ہوں اور میں نے بیچلر آف فائن آرٹس سندھ یونیورسٹی سے 2021 میں مکمل کیا۔ آرٹ کی دنیا میں قدم رکھنے کے بعد میں نے ایک منفرد انداز اپنایا جسے ڈاٹ آرٹ یا پوائنٹلزم موومنٹ کہتے ہیں۔ اس انداز میں ہر پینٹنگ چھوٹے چھوٹے نکتوں کے ذریعے بنائی جاتی ہے، جو تصویر میں گہرائی اور حقیقت پیدا کرتے ہیں۔

    محمد علی منڱريو کے مطابق: ‘میری زندگی اور گاؤں کے حالات میرے کام کا بنیادی حصہ ہیں۔ 2022 میں سلاب آیا جس سے نہ صرف میں بلکہ میرا پورا گاؤں متاثر ہوا۔ اس تجربے سے متاثر ہو کر میں نے ایک پینٹنگ بنائی جس میں ایک ماں اپنے بچے کو لے کر جا رہی ہے۔ ماں کے سر پر ایک کھجور کے پتوں سے بنی ٹوکری ہے جس میں بچہ ہے اور ساتھ ایک کتے کا پلہ بھی موجود ہے۔

    ‘میں نے اس پینٹنگ میں پانچ لاکھ نقطوں کا استعمال کیا ہے یہ پینٹنگ نہ صرف میری تخلیقی مہارت کو ظاہر کرتی ہے بلکہ انسانی جذبات اور سماجی مسائل کو بھی اجاگر کرتی ہے۔

    ‘میں نے تھر کے مسائل پر بھی کام کیا، جہاں بچوں کی مشکلات اور حالات کو کینواس کے ذریعے ظاہر کیا ہے مختلف میڈیمز جیسے چارکول، پینسل اور آئل کلرز کے ذریعے پیش کیا۔ اس کے علاوہ، میں نے مشہور شخصیات کے اسکیچز بھی بنائے، جیسے میں قائد اعظم محمد علی جناح ، عاطف اسلم اور اور بھی ہیروز کی پینٹنگز بنائی ہیں تاکہ فن اور ثقافت کو عام لوگوں تک پہنچایا جا سکے اور لوگ اس سے متاثر ہوں۔’

    محمد علی منڱريو کا تعلق ایک چھوٹے گاؤں سے ہے، جہاں آرٹ کے مٹیریل مہنگے اور کم دستیاب ہوتے ہیں۔ اس لیے وہ اکثر ان کو اپنے کام کے لیے جدوجہد کرنی پڑتی ہے۔

    محمد علی منڱريو کے مطابق: ‘میری خواہش ہے کہ میرے پاس ایک سٹوڈیو ہو جہاں میں اپنے منفرد انداز میں پینٹنگز تخلیق کر سکوں اور آرٹ کو ایک پروفیشنل سطح پر لے جا سکوں۔ میں چاہتا ہوں کہ میرا کام نہ صرف گاؤں بلکہ بڑی گیلریز اور سوسائٹی تک پہنچے تاکہ لوگ میرے فن کو سمجھیں اور اس سے متاثر ہوں۔’

    محمد علی منڱريو کے لیے آرٹ صرف تخلیق کا ذریعہ نہیں، بلکہ ایک پیغام ہے جو وہ اپنے کام کے ذریعے دنیا تک پہنچانا چاہتے ہیں۔
    ‘میں چاہتا ہوں کہ میرا فن لوگوں کے دلوں تک پہنچے اور انہیں سوچنے، محسوس کرنے اور اپنی دنیا کے بارے میں زیادہ آگاہ ہونے پر مجبور کرے۔ میرا سفر ابھی جاری ہے اور میں اپنے منفرد اسٹائل کو آگے بڑھانے کے لیے پرعزم ہوں۔’

  • مٹھی: گائے کی زچگی کے دوران موت ہونے یتیم نر بچھڑے ’سورجیو بیل’ کی مقامی افرادتمام عمر اجتماعی کفالت کیسے کرتے ہیں؟

    مٹھی: گائے کی زچگی کے دوران موت ہونے یتیم نر بچھڑے ’سورجیو بیل’ کی مقامی افرادتمام عمر اجتماعی کفالت کیسے کرتے ہیں؟

    سندھ کے ضلع تھرپارکر میں اگر زچگی کے دوران گائے مر جائے اور نر بچھڑا زندہ بچ جائے تو اس یتیم بچھڑے کو مٹھی شہر کے مرکزی چوک پر رکھ دیا جاتا ہے اور مٹھی کے رہائشی اجتماعی طور پر اس یتیم بچھڑے کو پال کر نہ صرف بڑا کرتے ہیں، مگر جب تک وہ زندہ ہوتا ہے اس بیل کی اجتماعی کفالت کی جاتی ہے۔

    یتیم بچھڑے کے بڑے ہونے پر اس کو ’سورجیو بیل’کا نام دیا جاتا ہے اور مٹھی شہر کے راستوں پر ٓج پر درجنوں ’سورجیو بیل’دیکھے جاسکتے ہیں۔
    سندھ میں ایک منفرد سماجی اور مذہبی روایت پائی جاتی ہے جسے مقامی طور پر سورج بیل کہا جاتا ہے۔ اس روایت کا تعلق ایسے بیل بچھڑے سے ہوتا ہے جو ولادت کے دوران گائے کی موت کے بعد زندہ بچ جائے۔ مقامی عقیدے کے مطابق جب گائے زچگی کے دوران مر جائے اور اس کا بچہ زندہ رہے تو وہ بچھڑا یتیم تصور کیا جاتا ہے اور اسے کسی ایک فرد کی ملکیت نہیں رہنے دیا جاتا۔

    مقامی افراد کے مطابق سورج بیل یا ’سورجیو بیل’کو کسی ایک گھر یا باڑے میں بند نہیں کیا جاتا بلکہ اسے آزاد چھوڑ دیا جاتا ہے تاکہ وہ شہر میں گھوم پھر سکے۔ اس طرح یہ بیل پورے شہر کی مشترکہ ذمہ داری بن جاتا ہے۔

    شہر کے مختلف علاقوں میں گھومتے ہوئے سورج بیل کو دکاندار، راہگیر اور مقامی رہائشی خوراک فراہم کرتے ہیں۔ دکانوں کے سامنے اس کے لیے اناج، سبز چارہ، روٹیاں، دودھ اور دیگر اشیائے خورونوش رکھی جاتی ہیں۔

    مٹھی کے بازاروں میں سورج بیل کا آنا ایک معمول کی بات سمجھی جاتی ہے اور لوگ اسے دیکھ کر خوراک پیش کرتے ہیں۔ سورج بیل اکثر انہی راستوں پر گھومتا ہے جہاں انسانی سرگرمیاں زیادہ ہوتی ہیں۔

    مقامی ہندو برادری کے مطابق بیل کو مذہبی اہمیت حاصل ہے اور اسے طاقت، محنت اور تحفظ کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ مٹھی میں سورج بیل کی روایت اسی مذہبی اور سماجی سوچ سے جڑی ہوئی ہے۔ یہاں گائے کے ساتھ ساتھ بیل کو بھی مقدس جانور مانا جاتا ہے۔ اسی لیے یتیم بچھڑے کو تنہا چھوڑنے کے بجائے اجتماعی نگہداشت کا حصہ بنایا جاتا ہے۔

    ’سورجیو بیل’کی دیکھ بھال کے لیے کوئی باقاعدہ کمیٹی یا ادارہ قائم نہیں ہوتا بلکہ یہ ذمہ داری فطری طور پر شہر کے لوگوں میں تقسیم ہو جاتی ہے۔ بعض اوقات مقامی لوگ اس کی صحت کا خیال رکھنے کے لیے جانوروں کے ڈاکٹر سے بھی رجوع کرتے ہیں۔ اگر سورج بیل بیمار ہو جائے تو علاج کے اخراجات بھی اجتماعی طور پر برداشت کیے جاتے ہیں۔

    یہ بیل عموماً پُرامن اور مانوس ہوتا ہے کیونکہ اسے شروع سے انسانوں کے درمیان رہنے کی عادت ہو جاتی ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ سورج بیل کسی کو نقصان نہیں پہنچاتا اور ٹریفک یا بازار میں بھی محتاط انداز میں چلتا ہے۔ پولیس اور بلدیاتی عملہ بھی اس بیل کو شہر کی روایت کا حصہ سمجھتے ہوئے اسے ہٹانے کی کوشش نہیں کرتا۔

    مٹھی کی یہ روایت کئی دہائیوں سے جاری ہے اور مقامی ثقافت کا حصہ بن چکی ہے۔ ’سورجیو بیل’نہ صرف مذہبی عقیدے سے جڑا ہوا ہے بلکہ یہ روایت مٹھی میں اجتماعی ذمہ داری، جانوروں سے ہمدردی اور سماجی ہم آہنگی کی ایک مثال کے طور پر دیکھی جاتی ہے۔ شہر میں آنے والے مہمانوں اور سیاحوں کے لیے ’سورجیو بیل’ایک منفرد منظر ہوتا ہے جو تھرپارکر کی سماجی زندگی کی عکاسی کرتا ہے۔

     

  • آمریت کے سائے میں محبت، خواب اور ٹوٹتا ہوا سماج: ارشد وحید کے انگریزی ناول’Other Days’ کے سندھی ترجمے کا جائزہ

    آمریت کے سائے میں محبت، خواب اور ٹوٹتا ہوا سماج: ارشد وحید کے انگریزی ناول’Other Days’ کے سندھی ترجمے کا جائزہ

    دنیائے ادب میں ناول فکشن کی ایک مقبول ادبی صنف ہے ۔ عالمی ادب میں کچھ ناول نگاروں کے ناولز کو شاہکار مانا جاتا ہے۔

    دنیا کے مشہور ناول نگاروں کی ایک طویل لسٹ بنائی جاسکتی ہے ۔ دنیا کے کئی مشہور ناولز پر ہالیووڈ اور بالیووڈ میں فلمیں بھی بنائی جاتی رہی ہیں ۔
    بر صغیر پاک و ہند میں بھی اردو میں کئی مشہورناول لکھے گئے ہیں ۔ اسی طرح پاکستان کی صوہائی زبانوں میں بھی قابل ذکر ادبی تخلیقیں شایع ہوتی ہیں ۔ اور دنیا کے اور ملک کے ادبی کتابوں کے تراجم بھی شایع ہوتے ریتے ہیں ، خاص طور پر سندھی زبان میں شاعری اور ادب نے بہت ترقی کی ہے ۔

    سندھی زبان میں بھی بہت سے مشہور ناول لکھے جا چکے ہیں۔ سندھی کے مشہور ناول نگاروں میں سراج ، آغا سلیم ، علی بابا ، حلیم بروہی اورامر جلیل کے لکھے ہوئے ناول نمایاں اور سر فہرست ہیں۔ سندھی میں موجودہ دور میں ناول لکھنے کا رجحان کافی بڑہا ہے۔ سندھی زبان میں ہمیشہ کتابیں چھپتی رہتی ہیں اورپڑھنے والوں کی بڑی تعداد سوشل میڈیا کے انفلوئنس کے باوجود اب بھی کتابیں پڑھتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ نہ صرف سندھی میں کتابیں چھپتی ہیں بلکہ دوسری زبانوں سے کتابیں ترجمہ بھی کی جاتی ہیں۔
    آج ہم ایک ایسی ہی کتاب پر بات کریں گے جو حال ہی میں سندھی میں ترجمہ ہوکر شایع ہوئی ہے ۔

    ملک کے انگریزی اور اردو کے نامور رائیٹر ارشد وحید کے ایک انگریزی ناول’Other Days’
    جس کو پاکستان اکیڈمی آف لیٹرس کی طرف سے 2022 میں پطرس بخاری ایوارڈ بھی مل چکا ہے۔ اس ناول سے پہلے بھی ارشد وحید کی کئی تصانیف اور تراجم شایع ہوچکے ہیں ۔
    حال ہی میں اس ناول کے سندھی ترجمے کی کتاب ’بیا ڈینھن‘ کے ٹائیٹل کے ساتھ شایع ہوئی ہے۔ اس ناول کا سندھی ترجمہ سندھ کے سینیئرادیب اور صحافی نصیر اعجاز نے کیا ہے۔ 294 صفحات اور خوبصورت ٹائیٹل اور عمدہ چھپائی پر مشتمل اس عمدہ ناول کا کوئی بڑا دیباچہ شامل نہیں ہے ، سچ تو یہ ہے کہ عمدہ کتابوں کو اس کی ضرورت بھی نہیں ہوتی۔ امید ہے کہ یہ ناول سندھی ادب میں ترجمہ کی ہوئی اچھی اور اہم کتابوں کی لسٹ میں شمار ہوگا۔

    ناول کا آغاز ہیروئن سارا کی اپنے پرانے کلاس فیلو دائود کے ساتھ طویل عرصے کے بعد اچانک ملاقات سے ہوتی ہے۔اور پھر ان کا ماضی جیسے لوٹ آتا ہے۔ یہاں سے مصنف نے فلیش بیک ٹیکنیک کا خوبصورتی سے استعمال کرتے ہوئے کہانی کا پس منظر بیان کیا ہے۔

    مارشل لا لگنے کے بعد جنرل ضیا نے مذہب کا بے دریغ استعمال کیا، سخت قوانین نافذ کیے اور جبر و وحشت کو ملک کے عوام پر مسلط کیا۔ اس بدترین آمریت میں نوجوان طلبا پر کیا گذری اور مذہبی انتہاپسندی کی شدت میں اضافے نے ملک کے سماج کو کس طرح متاثر کیا یہ سب فنکارانہ انداز میں ناول میں بیان کیا گیا ہے۔

    یہ ناول ضیاء آمریت کے جبر کی تاریخ ہے جس نے ملک کا چہرہ مسخ کردیا اور آج تک وہ نقش مٹ نہیں پائے ہیں ۔ ضیاء آمریت کا دور سیاسی و فکری آزادیوں پر سخت پابندیوں اور جبر کا دور تھا، جس سے وابستہ تلخ سچائیوں کو اس ناول میں ادبی مہارت کے ساتھ اجاگر کیا گیا ہے ۔

    ناول کا مرکزی خیال اہم اور حقیقت کے قریب ہے۔ رائیٹر کہیں بھی خطبہ نہیں دیتے نہ ہی اپنے خیالات و نظریات قاری پر مسلط کرتے ہیں۔ کیونکہ ادب کا کام ہی یہ ہے کہ وہ تاریخ کو بھولنے نہ دے اور اس کا فطری اظہار کرے۔ ناول کا دردناک پہلو وہ ہے جہاں طلبا سیاست تشدد پسند گروہوں میں تبدیل ہو جاتی ہے، اور ایک جگہ ترقی پسند طلبا پر ہونے والا حملا سماج کی بیمار نفسیات اور مذہبی شدت پسندی کی ریاستی سرپرستی کا ثبوت دیتا ہے۔ ناول کا فنی اسلوب مضبوط، کردار حقیقی اور جاندار، زبان سادہ اور سمجھ میں آنے والی ہے۔

    مرکزی کرداروں سارا اور دائود کا اس تکلیف دہ واقعے کے بعد بچھڑ کے ملک سے باہر چلے جانا اور لمبے عرصے کے بعد واپسی، اپنے ماضی کے مناظر اور کرداروں سے ملنے کی خواہش کہانی کو آگے لے جاتی ہے۔

    دائود جو اپنی کہانی لکھنے کے لئے واپس وطن آتا ہے، اسی لئے ماضی کےکرداروں اورپرانی جگہوں کو ڈھونڈتا رہتا ہے، لیکن لمبے عرصے کےبعد واپس آنے والوں کے لئے سب کچھ ویسا نھیں رہتا، بہت کچھ بدل جاتا ہے، جگہیں، گلیاں، لوگ، اور یہاں تک کہ وہ خود بھے ویسے نھیں رہتے۔

    دائود کےماضی کی یادوں کے نقش دھندلا چکے ہوتے ہیں، یادیں ادھوری ہیں اور وہ کردار جوماضی میں اس کے ساتھ تھے اب سایوں میں تبدیل ہوچکے ہیں۔ یہ نفسیاتی حقیقت ناول میں فنکارانہ انداز میں دکھائی گئی ہے ۔

    اپنی کہانی کے کردار نہ ملنا ایک فنکار/ لکھاری کے لئے اذیتناک ہے ۔کردار نہ ملنے کے بعد وہ اپنی کہانی میں ایک علامتی پتلی تماشا سجاتا ہے اور ان پتلیوں سے اپنے ماضی کے کردار ادا کرنے کے لئے کہتا ہے لیکن ایسا نہیں ہوپاتا ۔ ناول کا یہ حصہ بہت متاثرکن اوراداس کردینے والا ہے ۔ پتلی تماشہ ناول میں ایک زبردست علامت اور Metafictional ہے جو جدید ادب کا اہم اسلوب ہے ۔

    کردار لکھاری کے غلام نہیں ہوتے اور وہ اپنی تاریخ میں زندہ رہتے ہیں۔ یادیں لکھنے والے کے کنٹرول سے باہر بھی وجود رکھتی ہیں۔ معاشرہ ٹوٹ چکا ہے اور لوگ پُتلے اور ہیولے کی طرح بن گئے ہیں۔ جو یہ دکھاتے ہیں کہ جبر کا دور لوگوں کے اندر کی طاقت ، آزادی اور آواز چھین لیتا ہے ۔

    لوگوں کے کردار اصل نہیں رہے۔ فقط شکلیں رہ گئیں اور مجبوری اور خوف۔ لوگ اپنی مرضی سے کچھ نہیں کرسکتے۔ کسی کے ہاتھوں میں ان کی ڈور ہے اور وہ پتلے بن گئے ہیں۔ وہ کردار جو ماضی میں مضبوط، روشن اور جاندار تھے، وہ سائے بن گئے ، اپنے رنگ اور اپنی آواز کھو بیٹھے۔
    یہ سماجی بربادی کا عظیم استعارہ ہے۔

    ادبی فکر کافکا اور میلان کنڈیرا کے پاس ملتا ہے۔ یہ ناول کا سب سے گہرا ،فکری اورعلامتی حصہ ہے جہاں ناول نگار زندگی، تاریخ، سیاست اور ادب کو ایک نقطے پر لاکر جوڑتا ہے۔ ناول کے کرداروں کی ٹریجڈی یہ ہے کہ انہوں نے محبت، آزادی اور برابری کے خواب دیکھے لیکن وہ خواب پورے نہیں ہوسکے۔

    ان لوگوں کے صرف خواب ہی نہیں ٹوٹے، بلکہ وہ اپنے ہونےکا جواز ہی گنوا بیٹھے۔ جب آپ کے آدرش باقی نہ رہیں توجینے کا جواز کیا رہ جاتا ہے؟ ناول بڑی خوبصورتی سے یہ سوال اٹھاتا ہے۔

    وجودیت کا بڑا المیہ ہے کہ انسان اپنے لیے اجنبی بن جائے۔ اس ناول کا کمال سیاسی شکست کو وجودیت کے سوال میں بدلنا ہے۔ یہ ناول انسانی روح کی شکست کا نوحہ ہے جو پڑھنے والے کو یہ سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ جو انسان اپنے خواب گنوا بیٹھے کیا وہ واقعی زندہ ہے؟

    نہ پھول تھے نہ چمن تھا نہ آشیانا تھا
    چھوٹے اسیر تو بدلا ہوا زمانہ تھا ۔
    مرزا سلامت علی دبیر