Tag: سندھ

  • کوٹری: ‘مردانہ طاقت کے لیے مفید’ دریائے سندھ کی بغیر چھلکے والی بام مچھلی

    کوٹری: ‘مردانہ طاقت کے لیے مفید’ دریائے سندھ کی بغیر چھلکے والی بام مچھلی

    سردیوں کی صبح کوٹری بیراج کے نیچے دھند کے ہلکے پردے میں لپٹی ہوئی ہے۔ دریائے سندھ کا پانی گہرا اور خاموش ہے، مگر اس خاموشی میں ایک کشتی کی ہلکی سی آواز ابھرتی ہے۔ یہ عبدالمجید ملاح کی کشتی ہے۔

    ایک ایسا ماہی گیر جو اپنی پوری زندگی اسی دریا کے ساتھ گزارتا آیا ہے۔

    عبدالمجید ملاح 50 سال کے سادہ مزاج شخص ہیں۔ لیکن دریا کے معاملے میں ان کا تجربہ کسی کتاب سے کہیں زیادہ ہے۔ جال سنبھالتے ہوئے وہ بتاتے ہیں کہ دریا کے ہر موسم کی اپنی زبان ہوتی ہے اور وہ زبان صرف وہی سمجھ سکتا ہے جو نسلوں سے ان پانیوں میں سانس لے رہا ہو۔

    ساگا ڈیجیٹل سے گفتگو کرتے ہوئے عبدالمجید ملاح نے کہا: ‘کچھ مچھلیاں روایتی طور پر ‘گرم’ سمجھی جاتی ہیں اور لوگ انہیں جسمانی طاقت، خاص طور پر مردانہ توانائی کے لیے فائدہ مند مانتے ہیں۔

    عبدالمجید کے مطابق الّاچی مچھلی، سینگاڑہ اور بام سب سے زیادہ گرم تاثیر والی اور طاقت بخش مچھلیاں سمجھی جاتی ہیں۔ ‘بغیر جھلکے والی مچھلی ہمیشہ سے مردانہ طاقت کے لیے خاص طور پر مفید مانی جاتی رہی ہے۔’

    یہ تمام باتیں روایتی علم اور مقامی اعتقادات کا حصہ ہیں، جو ماہی گیروں کی نسلوں میں منتقل ہوتی رہی ہیں۔ عبدالمجید انہیں یقین کے ساتھ بیان کرتا ہے، لیکن ساتھ یہ بھی بتاتے ہیں کہ یہ باتیں اس کے بزرگوں کے تجربات اور مشاہدات کا حصہ تھیں۔

    وہ مسکراتے ہوئے کہتا ہے کہ اگر کوئی شخص یہ گرم تاثیر والی مچھلیاں کھا لے تو شدید سردی میں بھی دریائے سندھ کے ٹھنڈے پانی میں چھلانگ لگا سکتا ہے۔ اسے یقین ہے کہ دریا بھی طاقت دیتا ہے اور مچھلی بھی۔

    جال کھینچتے ہوئے اس کے ہاتھ میں ایک تازہ سینگاڑہ آتی ہے۔ وہ اسے دیکھ کر کہتا ہے کہ یہ دریا کی بہترین مچھلیوں میں شمار ہوتی ہے۔ ذائقے میں بھی اعلیٰ، اور روایتی اعتبار سے طاقت بخش بھی۔

    دھوپ کی ہلکی سی کرنیں جیسے ہی دریا پر پڑتی ہیں، منظر بدلنے لگتا ہے۔ پانی کی سطح چمکنے لگتی ہے، اور عبدالمجید کشتی کو آہستہ آہستہ کنارے کی طرف لے جاتا ہے۔

    اس کے چہرے پر اطمینان ہے، اس کا آج کا دن بھی دریا کے نام رہا۔

    کنارے پر اترتے ہوئے وہ کہتا ہے کہ دریا انسان کی محنت کا بدلہ ضرور دیتا ہے۔

    اس کے نزدیک سندھ کا دریا صرف پانی نہیں، روزگار، روایت، طاقت اور زندگی کا استعارہ ہے۔

    عبدالمجید کی باتیں سائنس کی نہیں، بلکہ صدیوں سے چلے آنے والے لوک علم کا حصہ ہیں۔

    کوٹری بیراج کے نیچے بہتا ہوا دریائے سندھ آج بھی ایسے لوگوں کی زندگیوں کا مرکز ہے، جو اس کے رحم و کرم، اس کی سخاوت اور اس کی کہانیوں کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں۔

  • ایک بچی کی موت کے باعث بننے والا سندھ کا قانون (امل عمر) ایکٹ 2019 کیا ہے؟

    ایک بچی کی موت کے باعث بننے والا سندھ کا قانون (امل عمر) ایکٹ 2019 کیا ہے؟

    سندھ میں حادثات، فائرنگ، حملوں یا کسی بھی ایمرجنسی میں زخمی شخص کو بغیر کسی قانونی کارروائی یا پولیس رپورٹ کا انتظار کیے فوری طبی امداد کو یقینی بنانے کے لیے نافذ کیا جانے والا قانون ایک بچی کی موت کے بعد بنایا گیا۔

    اس قانون کو سندھ اِنجرڈ پرسنز کمپلسری میڈیکل ٹریٹمنٹ (امل عمر) ایکٹ 2019 کا نام دیا گیا۔
    13 اگست 2018 میں امل عمر اور ان کے والدین کراچی میں ایک کانسرٹ دیکھنے جارہے تھے۔ ٹریفک سگنل پر ان کی گاڑی کے قریب ایک ڈکیت آگیا، ڈکیتی کے بعد پولیس کی جانب سے ہونے والی فائرنگ کے نتیجے میں امل کی موت واقع ہوئی۔

    اس واقع میں پولیس کے کردار پر تو انگلیاں اُٹھیں لیکن ساتھ ہی پرائیوٹ ہسپتال بھی تنقید کا نشانہ بنے۔ جب امل عمر کو گولی لگی تو ان کے والدین اُنہیں قریب ترین ہسپتال نیشنل میڈیکل سینٹر لے گئے۔ امل کی والدہ کے مطابق ہسپتال کے عملے نے ان کے مدد کرنے کے بجائے تاخیر سے کام لیا جس کی وجہ سے ان کا انتقال ہوگیا۔

    سپریم کورٹ نے اس واقعے کا از خود نوٹس لیا۔ سوشل میڈیا پر وائرل پوسٹس میں صارفین نے سندھ حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔

    جس کے بعد سندھ حکومت نے سندھ اِنجرڈ پرسنز کمپلسری میڈیکل ٹریٹمنٹ قانون اسمبلی سے پاس کرایا۔ اس قانون کو (امل عمر) ایکٹ 2019 کا نام دیا گیا۔

    یہ قانون اس لیے بنایا گیا تھا تاکہ حادثات، فائرنگ، حملوں یا کسی بھی ایمرجنسی میں زخمی شخص کو بغیر کسی قانونی کارروائی یا پولیس رپورٹ کا انتظار کیے فوری طبی امداد مل سکے۔

    اس کی وجہ وہ واقعات تھے جن میں اسپتالوں نے خوف یا غلط فہمی کی وجہ سے فوری علاج سے انکار کیا، اور جانیں ضائع ہو گئیں۔
    اس قانون کے مطابق سندھ میں کوئی بھی ہسپتال، چاہے وہ سرکاری ہو یا نجی، کسی بھی زخمی کو داخل کرنے یا ابتدائی طبی امداد دینے سے انکار نہیں کر سکتا۔

    ہسپتال پولیس کیس کے ڈر سے مریض کو نہیں روک سکتے، نہ ہی پولیس رپورٹ یا ایف آئی آر کا انتظار کیا جائے گا۔ جان بچانا ہمیشہ پہلی ترجیح ہوگی۔
    قانون یہ بھی واضح کرتا ہے کہ مریض یا لواحقین سے فوری طور پر پیسے مانگ کر علاج روکنا بھی جرم ہے۔ ہسپتال پر لازم ہے کہ وہ ابتدائی علاج کرے، مریض کو اسٹبلائز کرے، اور اگر ضرورت ہو تو مناسب سہولت والے ہسپتال ریفر کرے۔

    اگر کوئی ہسپتال اس قانون کی خلاف ورزی کرے تو اس پر جرمانہ بھی ہو سکتا ہے، اور ہسپتال انتظامیہ کے خلاف قانونی کارروائی بھی کی جا سکتی ہے۔
    یہ ایکٹ ہنگامی حالات میں انسانی جان کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے بنایا گیا تھا، تاکہ کسی بھی زخمی شخص کی زندگی کاغذی کارروائی یا غلط فہمیوں کی وجہ سے ضائع نہ ہو۔

    اگر آپ یا آپ کے آس پاس کبھی کوئی حادثہ پیش آئے، تو یاد رکھیے: سندھ کے کسی بھی ہسپتال کی قانونی ذمہ داری ہے کہ وہ فوری علاج فراہم کرے۔