Tag: سندھ

  • سندھ کے سرکاری اسکولوں درسی کتب کی مفت فراہمی کے لیے بُک بئنک کے قیام کا آغاز

    سندھ کے سرکاری اسکولوں درسی کتب کی مفت فراہمی کے لیے بُک بئنک کے قیام کا آغاز

    سندھ کے سرکاری اسکولوں میں قائم بُک بئنک کے نظام سے متعلق نئے انتظامی احکامات جاری کر دیے گئے ہیں۔ محکمہ اسکول ایجوکیشن کے مطابق سالانہ امتحانات کے بعد طلبہ کو مفت فراہم کی گئی درسی کتب لازمی طور پر واپس لی جائیں گی تاکہ انہیں آئندہ تعلیمی سال میں دوبارہ استعمال کیا جا سکے۔

    وزیر تعلیم سندھ سید سردار علی شاہ کی ہدایت پر جاری احکامات میں کہا گیا ہے کہ ہر طالب علم کے رزلٹ کارڈ پر درسی کتب کی واپسی کا اندراج کیا جائے گا۔ اسکول انتظامیہ جاری کی گئی اور واپس وصول ہونے والی کتابوں کا باقاعدہ ریکارڈ رکھے گی اور تمام جمع شدہ کتابیں بُک بئنک میں محفوظ کی جائیں گی۔

    محکمہ نے پرائمری سے ہائیر سیکنڈری سطح تک تمام طلبہ سے کتابوں کی واپسی یقینی بنانے کی ہدایت کی ہے۔ حکام کے مطابق یہ اقدام وسائل کے مؤثر استعمال اور سرکاری اخراجات میں کمی کے لیے کیا جا رہا ہے تاکہ ہر سال بڑی تعداد میں درسی کتابیں دوبارہ قابلِ استعمال رہیں۔

    نگرانی کے نظام کے تحت ضلعی تعلیمی افسران کو اپنے اضلاع میں موجود بُک بئنک اسٹاک کی تفصیلات جمع کرانے کی ہدایت دی گئی ہے۔ ضلعی سطح کا ریکارڈ ریجنل ڈائریکٹرز کو ارسال کیا جائے گا، جبکہ ریجنل ڈائریکٹرز مجموعی ضلع وار ڈیٹا محکمہ اسکول ایجوکیشن کو فراہم کرنے کے پابند ہوں گے۔

    حکام کا کہنا ہے کہ بُک بئنک کا مؤثر نفاذ نہ صرف درسی مواد کی دستیابی کو بہتر بنائے گا بلکہ سرکاری وسائل کے بہتر انتظام کو بھی یقینی بنائے گا، تاکہ زیادہ سے زیادہ طلبہ تک بروقت کتابیں پہنچائی جا سکیں۔

  • تاریخ کا انتقام:  پاکستان آرمی کے ہاتھوں ہلاک مائی جندو کے بیٹوں کو نواز شریف حکومت نے ڈاکو قرار دیا، مریم نواز نے مائی جندو کو ‘رول ماڈل ایوارڈ’ دیا

    تاریخ کا انتقام:  پاکستان آرمی کے ہاتھوں ہلاک مائی جندو کے بیٹوں کو نواز شریف حکومت نے ڈاکو قرار دیا، مریم نواز نے مائی جندو کو ‘رول ماڈل ایوارڈ’ دیا

    حال ہی میں لاہور کی نجی ہوٹل میں منعقد نجی ٹی وی چینل ‘ہم نیوز’ کے ‘وومین لیڈرز ایوارڈ’ تقریب میں پنجاب کی وزیر اعلی مریم نواز نے سندھ میں ماضی کے مقبول کیس ٹنڈو بہاول کیس کی مرکزی کرادار مائی جندو کو ‘رول ماڈل ایوارڈ’ دیا۔

    مریم نواز چھٹے ‘ہم نیوز وومین لیڈرز ایوارڈ’ کی تقریب میں بطور چیف گیسٹ شرکت کی۔

    مائی جندو کون ہیں؟

    پانچ  جون 1992 کو ضلع حیدرآباد کے قریب ٹنڈو بہاول میں ایک ایسا واقعہ پیش آیا جس نے سندھ کی تاریخ میں گہرا نشان چھوڑا۔ اس روز پاکستان آرمی کے ایک دستے نے کارروائی کرتے ہوئے نو دیہاتیوں کو دریائے سندھ کے کنارے جامشورو کے قریب گولی مار کر ہلاک کیا گیا۔

    اس وقت مریم نوزاز کے والد نواز شریف کی حکومت تھی۔ وفاقی حکومت کے مؤقف کے مطابق یہ افراد ڈاکو تھے۔ تاہم بعد کی تحقیقات اور میڈیا رپورٹس میں سامنے آیا کہ مقتولین غیر مسلح کسان اور مقامی باشندے تھے۔ اس واقعے نے قومی سطح پر شدید ردعمل پیدا کیا۔

    مقتولین میں مائی جندو کے دو بیٹے بہادر اور منٹھار ، اور ان کے داماد حاجی اکرم بھی شامل تھے۔ ایک ماں کے لیے یہ صدمہ ناقابلِ بیان تھا۔ مگر انہوں نے خاموشی اختیار نہیں کی۔ انہوں نے انصاف کے لیے آواز بلند کی۔

    واقعے کے بعد قانونی کارروائی شروع ہوئی۔ میڈیا کی توجہ اور عوامی دباؤ کے باعث متعلقہ فوجی افسران کے خلاف کورٹ مارشل کی کارروائی عمل میں آئی۔ مرکزی کردار میجر ارشد جمیل کو گرفتار کیا گیا اور فوجی عدالت میں مقدمہ چلا۔

    عدالتی کارروائی کے دوران کیس مسلسل خبروں میں رہا۔ یہ مقدمہ صرف ایک فوجداری کارروائی نہیں رہا بلکہ ریاستی احتساب کے سوال سے جڑ گیا۔ مائی جندو ہر سماعت میں موجود رہیں۔ وہ انصاف کے انتظار میں عدالتوں کے باہر بیٹھی نظر آتی تھیں۔

    11 ستمبر 1996 کو احتجاج ایک انتہائی المناک رخ اختیار کر گیا۔ مائی جندو کی دو بیٹیوں، حکیم زادی اور زیب النسا، نے انسدادِ دہشت گردی عدالت حیدرآباد کے باہر خود کو آگ لگا لی۔ یہ اقدام اس وقت سامنے آیا جب سزا پر عمل درآمد میں تاخیر ہو رہی تھی۔ دونوں شدید زخمی ہوئیں اور بعد ازاں جانبر نہ ہو سکیں۔

    یہ منظر قومی اخبارات میں شائع ہوا۔ انگریزی اخبار ڈان نےفرنٹ پیج پر اپر ہاف میں مائی جندو کی بیٹوں کی آگ میں جلتی تصویر بڑی سائیز میں شایع کی۔  اس واقعے نے ملک بھر میں ہلچل مچا دی۔ انسانی حقوق کے حلقوں میں اس پر شدید بحث ہوئی۔ عدالتوں پر دباؤ بڑھا کہ مقدمے کو منطقی انجام تک پہنچایا جائے۔

    28 اکتوبر 1996 کو پاکستان فوج کے حاضر سروس میجر ارشد جمیل کو حیدرآباد سینٹرل جیل میں پھانسی دے دی گئی۔ یہ ایک غیر معمولی واقعہ تھا کہ ایک حاضر سروس فوجی افسر کو کورٹ مارشل کے بعد سزائے موت دی گئی۔ اس فیصلے کو ریاستی احتساب کی مثال کے طور پر دیکھا گیا۔

    اس کے باوجود مائی جندو کا دکھ ختم نہیں ہوا۔ ان کے خاندان نے بیٹے، داماد اور بعد ازاں بیٹیوں کو کھو دیا تھا۔ قانونی فیصلے کے باوجود ایک ماں کے زخم باقی رہے۔

    2004 میں حکومت سندھ نے مقتولین کے خاندانوں کو بطور معاوضہ 24 ایکڑ زرعی زمین فی خاندان دینے کا اعلان کیا۔ مائی جندو نے بعد میں کہا کہ زمین بنجر تھی اور قابلِ کاشت نہیں تھی۔

    2006  میں ضلعی انتظامیہ کی جانب سے متاثرہ خاندانوں میں مالی معاوضہ تقسیم کیا گیا۔ تقریباً 4.55 ملین روپے کے چیکز ورثا کو دیے گئے۔ یہ اقدامات ریاستی ذمہ داری کی تکمیل کے طور پر پیش کیے گئے۔

    وقت گزرتا گیا مگر ٹنڈو بہاول کیس صحافتی اور سماجی مباحث میں زندہ رہا۔ اسے اکثر اس مثال کے طور پر پیش کیا گیا کہ ریاستی طاقت کے استعمال کے بعد عدالتی احتساب کیسے ممکن ہوا۔

    مائی جندو مختلف تقریبات میں مدعو کی گئیں۔ 2012 میں کراچی پریس کلب میں ایک تقریب میں انہیں خراجِ تحسین پیش کیا گیا۔ ان کی جدوجہد کو استقامت کی علامت قرار دیا گیا۔

    یہ کیس کئی حوالوں سے منفرد تھا۔ اول، اس میں ابتدائی سرکاری بیان اور بعد کی عدالتی حقیقت میں واضح فرق سامنے آیا۔ دوم، ایک فوجی افسر کا کورٹ مارشل اور پھانسی ایک غیر معمولی مثال بنی۔ سوم، ایک عام دیہاتی خاتون کی طویل مزاحمت قومی سطح پر سنی گئی۔

    ٹنڈو بہاول کا واقعہ آج بھی ریاستی جوابدہی کے مباحث میں حوالہ بنتا ہے۔ یہ سوال اٹھاتا ہے کہ انصاف کے حصول میں تاخیر کتنے گہرے سماجی زخم پیدا کر سکتی ہے۔

    مائی جندو کی کہانی کسی سیاسی نعرے سے زیادہ ایک انسانی داستان ہے۔ ایک ماں جس نے اپنے بچوں کی موت کے بعد بھی خاموشی قبول نہیں کی۔ انہوں نے عدالتوں کا دروازہ کھٹکھٹایا۔ انہوں نے احتجاج کیا۔ انہوں نے انتظار کیا۔

    انصاف ملا، مگر قیمت بھاری تھی۔

    ٹنڈو بہاول کیس محض ایک پرانا مقدمہ نہیں۔ یہ پاکستان کی عدالتی اور ریاستی تاریخ کا ایک اہم باب ہے۔ اور اس باب کے مرکز میں ایک نام ہمیشہ رہے گا۔

    اس وقت کے وزیراعظم نواز شریف کی حکومت کی جانب سے مائی جندو کے بیٹوں کو ڈاکو قرار دیا گیا، جب کہ مریم نواز نے مائی جندو کو ‘رول ماڈل ایوارڈ’ دیا، یہ ایک نئی تاریخ رقم ہوئی۔

     

     

  • ڈیپلو: والد نے بیٹے کو تحفہ دینے کے لیے بغیر نقطوں کے اشعار والی منفرد رلی چھ سال میں بنائی، جو 60 سالوں سے محفوظ ہے

    ڈیپلو: والد نے بیٹے کو تحفہ دینے کے لیے بغیر نقطوں کے اشعار والی منفرد رلی چھ سال میں بنائی، جو 60 سالوں سے محفوظ ہے

    سندھ میں رلی کو عورتوں کے ہاتھ کا ہنر سمجھا جاتا ہے۔ صدیوں سے یہ ثقافتی رلیاں گھروں میں عورتیں ہی تیار کرتی آئی ہیں۔ مگر تھر کے شہر ڈیپلو سے سامنے آنے والی ایک رلی اس روایت سے ہٹ کر ہے۔

    یہ رلی کسی خاتون نے نہیں بلکہ ایک مرد نے تیار کی۔ اس مرد کا نام عبداللہ کٹی تھا، جو سنہ 1966 میں ڈیپلو میں پرائمری استاد تھے۔ غربت کے باعث وہ سرکاری ملازمت کے ساتھ ساتھ رلی بھی تیار کر کے فروخت کرتے تھے، تاکہ اپنے بچوں کی کفالت کر سکے۔

    عبداللہ کٹی صرف استاد نہیں تھے بلکہ خطاط اور شاعر بھی تھے۔ سنہ 1966 میں جب اس کے ہاں بیٹے کی پیدائش ہوئی تو اس نے بازار سے کوئی تحفہ خریدنے کے بجائے اپنے ہاتھوں سے ایک رلی بنانے کا فیصلہ کیا۔

    یہ رلی عام رلی نہیں تھی۔ اس کے وسط میں عبداللہ کٹی نے اپنا لکھا ہوا ایک بیت کپڑے کے ٹکڑوں سے چٹ دیا۔ انہوں نے اس بیت میں کہیں بھی نقطے کا استعمال نہیں کیا گیا، جو خطاطی کا ایک مشکل اور کم معروف اسلوب سمجھا جاتا ہے۔

    اس رلی کو مکمل کرنے میں عبداللہ کٹی کو چھ سال لگے۔ وہ فرصت کے لمحات میں آہستہ آہستہ اس پر کام کرتے تھے، وقت گزرنے کے ساتھ یہ رلی مکمل ہوئی اور بیٹے کے لیے ایک یادگار تحفہ بن گیا۔

    آج یہ رلی عبداللہ کٹی کے وارثوں کے پاس محفوظ ہے۔ ڈیپلو کی یہ رلی صرف کپڑے کا نمونہ نہیں بلکہ سندھ کی ثقافت، ایک والد کی محنت اور محبت، اور ایک کم دیکھی گئی روایت کی خاموش کہانی ہے۔

     

  • نابینا بین نواز آمن وکیو: چیچک، محرومی اور سُروں میں ڈھلی زندگی

    نابینا بین نواز آمن وکیو: چیچک، محرومی اور سُروں میں ڈھلی زندگی

    احمد المعروف آمن وکیو درد کی ایسی داستان ہے جس کے دکھ اس کی پیدائش سے پہلے ہی اس کی زندگی کا حصہ بن گئے تھے۔ آمن وکیو کی پیدائش آج سے کئی دہائیاں پہلے سندھ کے صحراوی علاقے ڈیپلو کے قریب گاؤں جڑہیار میں ہوئی۔ اس دور میں تعلیم اور ریکارڈ کا کوئی منظم نظام موجود نہیں تھا، اسی لیے وہ اپنی پیدائش کی درست تاریخ نہیں جانتے۔

    آمن وکیو بتاتے ہیں کہ بچپن میں سندھ میں چیچک کی بیماری پھیلی ہوئی تھی۔ یہ وہ زمانہ تھا جب اس موذی مرض نے ہزاروں جانیں لیں اور بے شمار لوگوں کو عمر بھر کی معذوری دے دی۔ آمن وکیو اس وقت آٹھ برس کے تھے۔ بیماری نے ان کی آنکھوں کی بینائی ہمیشہ کے لیے چھین لی۔

    Saga Digital سے گفتگو کرتے ہوئے آمن وکیو نے بتایا کہ غربت کے باعث والدین روزگار کے لیے بیراج کے علاقوں میں گئے ہوئے تھے۔ وہ خود بھی ڈگری کے قریب ٹی لکھي موری کے ایک کارخانے میں کام کر رہے تھے، جہاں چیچک کی بیماری نے انہیں آ لیا۔ علاج کی سہولتیں محدود تھیں۔ انہیں ڈگری اور میرپورخاص کے ہسپتالوں میں لے جایا گیا، مگر ڈاکٹروں نے صاف بتا دیا کہ چیچک سے متاثر آنکھوں کا علاج ان کے پاس موجود نہیں۔

    بینائی سے محرومی کے بعد زندگی نے نیا رخ لیا۔ پندرہ برس کی عمر میں انہیں وڑھیجپ کے استاد ہوت درس ملے، جنہوں نے انہیں بین یعنی بانسری کی باقاعدہ تربیت دی۔ سر اور تال کی باریکیوں کو سمجھایا اور آٹھ بنیادی راگ سکھائے۔ انہی کی رہنمائی میں آمن وکیو اپنے علاقے کے معروف بین نواز بن گئے۔

    وقت کے ساتھ جسم نے ساتھ چھوڑنا شروع کیا۔ دانت گر گئے، سماعت کمزور ہو گئی، مگر بین کے سُر آج بھی ان کے ہاتھوں میں زندہ ہیں۔ وہ آج بھی تلنگ، جوگ، درگا، پہاڑی، ملھاری، راڻو اور مانجھ جیسے راگ بجا کر محفل کو ساکت کر دیتے ہیں۔

    آمن وکیو آج بھی کچی جھونپڑی میں رہتے ہیں۔ وہ قریبی دیہات میں شادی بیاہ کی تقریبات میں بین بجاتے ہیں اور اسی فن کو روزگار کا ذریعہ بنائے ہوئے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ ایک عام مزدور سے بہتر کما لیتے ہیں، مگر یہ آمدن مستقل نہیں۔

    ساگا ڈیجیٹل سے گفتگو کرتے ہوئے آمن وکیو نے کہا:موبائل فون اور جدید تفریحی ذرائع کے عام ہونے سے اب لوگ اس فن میں دلچسپی نہیں رکھتے۔’ ان کے بقول، پہلے شادیوں میں بین بجانے پر عزت بھی ملتی تھی، آج بس چند سکے تھما دیے جاتے ہیں۔

    انہوں نے بتایا کہ والدین نے ان کا نام احمد رکھا تھا، مگر وقت کے ساتھ وہ آمن کے نام سے پہچانے جانے لگے۔ ریڈیو مٹھی پر بھی انہوں نے آمن کے نام سے ہی خود کو متعارف کرایا۔ ایک زمانے میں حیدرآباد میں ان کا انٹرویو بھی ہوا، مگر نابینائی اور مسلسل سفر کی مجبوری کے باعث انہوں نے ریڈیو فنکار بننے کی پیشکش قبول نہیں کی۔

    آمن وکیو کی زندگی سندھ کے ان فنکاروں کی نمائندگی کرتی ہے جو بیماری، غربت اور لاپروائی کے باوجود اپنے فن کو زندہ رکھے ہوئے ہیں۔ ان کی بین کے سُر صرف موسیقی نہیں، بلکہ ایک ایسے معاشرے کی گواہی ہیں جہاں فن تو زندہ ہے، مگر فنکار اکثر نظر انداز کر دیے جاتے ہیں۔

     

  • احتجاج کریں مگر مرکزی شاہراہوں پر نہیں، قانون ہاتھ میں لینے والوں سے آہنی ہاتھوں سے نمٹا جائے گا: وزیر داخلہ سندھ

    احتجاج کریں مگر مرکزی شاہراہوں پر نہیں، قانون ہاتھ میں لینے والوں سے آہنی ہاتھوں سے نمٹا جائے گا: وزیر داخلہ سندھ

    وزیر داخلہ سندھ ضیاء الحسن لنجار نے کہا ہے کہ صوبے میں کسی کو بھی شاہراہیں بند کرنے یا شہری زندگی مفلوج کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ ایک انٹرویو میں انہوں نے واضح کیا کہ قانون کی خلاف ورزی کی صورت میں بلا امتیاز کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

    ان کا کہنا تھا کہ قومی شاہراہیں بند کرنا کسی جماعت یا گروہ کا اختیار نہیں اور اگر کسی نے زبردستی دکانیں بند کرانے یا سڑکیں بلاک کرنے کی کوشش کی تو قانون حرکت میں آئے گا۔

    ضیاء الحسن لنجار نے کہا کہ جماعت اسلامی کی جانب سے شاہراہ فیصل بند کر کے ٹریفک معطل کرنا کھلی قانون شکنی ہے اور اس واقعے میں دہشت گردی کی دفعات شامل ہونی چاہئیں تھیں۔ ان کے مطابق اگر ایسے مقدمات میں دہشت گردی کی دفعات شامل کی جائیں تو آئندہ کسی کو سڑک بند کرنے کی ہمت نہیں ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ شاہراہ فیصل بند کرنے کے لیے کسی قسم کی اجازت نہیں لی گئی تھی۔

    ضیاء الحسن لنجار نے بتایا کہ حافظ نعیم کو پیغام پہنچا دیا گیا ہے کہ سندھ اسمبلی کی سڑک بند نہ کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ احتجاج کرنا ہر شہری کا حق ہے لیکن اس کے لیے مرکزی شاہراہیں بند نہیں کی جا سکتیں۔ اگر احتجاج کرنا ہے تو سروس روڈ، پریس کلب یا مخصوص مقامات پر کیا جائے۔ انہوں نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ شہر بند کرنے کی ہرگز اجازت نہیں دی جائے گی۔

    وزیر داخلہ سندھ کا کہنا تھا کہ سندھ میں رواداری کے ساتھ معاملات چلائے جا رہے ہیں تاہم شہر میں دفعہ 144 نافذ ہے اور اس کی خلاف ورزی کی صورت میں قانونی کارروائی ناگزیر ہوگی۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر کسی نے ہڑتال یا سڑکیں بند کرنے کی کوشش کی تو قانون فوراً حرکت میں آئے گا اور کسی دباؤ کو خاطر میں نہیں لایا جائے گا۔

     

  • سندھ سولر انرجی پروجیکٹ میں مبینہ کرپشن: نیب نے وزیر اعلی سندھ کو سرکاری افسران کی مداخلت روکنے کا خط کیوں لکھا؟

    سندھ سولر انرجی پروجیکٹ میں مبینہ کرپشن: نیب نے وزیر اعلی سندھ کو سرکاری افسران کی مداخلت روکنے کا خط کیوں لکھا؟

    قومی احتساب بیورو نے سندھ سولر انرجی پروجیکٹ میں مبینہ کرپشن کی تحقیقات کے دوران وزیر اعلی سندھ کو خط لکھ کر سرکاری افسران کو نیب کے کام میں مداخلت سے باز رکھنے اور مکمل تعاون کی ہدایت دینے کی درخواست کی ہے۔ نیب کے مطابق تحقیقات کے دوران مختلف سرکاری محکموں کی جانب سے رکاوٹیں اور تاخیری حربے سامنے آئے، جس کے بعد یہ معاملہ براہ راست وزیر اعلی تک لے جانا پڑا۔

    یہ پیش رفت اس وقت سامنے آئی ہے جب نیب نے سندھ کے مختلف سرکاری افسران کو نوٹس جاری کیے اور بعد ازاں وزیر اعلی مراد علی شاہ کو بھی باضابطہ طور پر خط لکھا۔ سوال یہ اٹھایا جا رہا ہے کہ نیب اچانک اتنا متحرک کیوں ہوا اور ترقیاتی منصوبوں میں تحقیقات کی رفتار میں تیزی کیوں آئی۔

    یہ معاملہ سندھ سولر انرجی پروجیکٹ سے جڑا ہے، جس میں اربوں روپے کی مبینہ بے ضابطگیوں کی بات کی جا رہی ہے۔ جنوری 2019 میں سندھ حکومت اور ورلڈ بینک کے درمیان سندھ میں شمسی توانائی سے بجلی پیدا کرنے کے لیے 100 ملین ڈالر کے منصوبے کا معاہدہ طے پایا تھا۔ منصوبہ چار مراحل پر مشتمل تھا، جس کے پہلے مرحلے میں 400 میگا واٹ کا سولر پارک قائم کیا جانا تھا تاکہ لوڈ شیڈنگ پر قابو پایا جا سکے۔

    پہلے مرحلے کے لیے 40 ملین ڈالر مختص کیے گئے، جو پاکستانی کرنسی میں 11 ارب روپے سے زائد بنتے ہیں۔ اس مرحلے میں کے الیکٹرک کو بھی شامل کیا گیا تاکہ پیدا ہونے والی بجلی صارفین تک پہنچائی جا سکے۔ منصوبے کے تحت حب کے قریب دو مقامات، ملیر کے قریب ایک اور جامشورو میں ایک مقام پر زمین کا انتخاب کیا گیا۔ زمین ہموار کرنے اور ابتدائی کام کے لیے دو ٹھیکے داروں کو ڈھائی ارب روپے ایڈوانس ادا کیے گئے، حالانکہ منصوبہ ورلڈ بینک کے قرض پر شروع ہونا تھا۔ بعد ازاں یہ منصوبہ فائلوں میں دب کر رہ گیا۔

    دوسرے مرحلے میں سندھ کی سرکاری عمارتوں، جن میں اسکول اور ہسپتال شامل تھے، کو سولر انرجی پر منتقل کرنے کا منصوبہ بنایا گیا۔ اس مرحلے کے لیے مختص 25 ملین ڈالر کی رقم کو ریوائز کر کے 50 ملین ڈالر کر دیا گیا اور بچ جانے والی رقم ورلڈ بینک کو واپس کرنے کے بجائے اسی مرحلے میں شامل کر دی گئی۔

    2022 کے سیلاب کے بعد جیکب آباد کے پمپنگ اسٹیشنز کو سولر انرجی پر منتقل کرنے کے لیے امریکی ادارے کی جانب سے سندھ حکومت کو خط لکھا گیا۔ ورلڈ بینک نے اس منصوبے کو بھی سندھ سولر انرجی پروجیکٹ میں شامل کرنے کی ہدایت دی۔ جنوری 2023 میں ایک کمپنی کو پمپنگ اسٹیشنز کے لیے ٹھیکہ دیا گیا، تاہم جیکب آباد میں 1.4 میگا واٹ بجلی پیدا کرنے والا سولر پروجیکٹ بند پڑا ہے اور ورلڈ بینک کے تیس کروڑ روپے بظاہر ضائع ہو چکے ہیں۔

    دوسری جانب یو ایس ایڈ کی جانب سے شکایتی خطوط بھی لکھے گئے، مگر ایس ای سی پی کے ریکارڈ میں یہ منصوبہ مکمل ظاہر کیا گیا اور کمپلیشن سرٹیفیکیٹ بھی جاری کر دیا گیا۔ اسی منصوبے کے دوسرے مرحلے میں 56 سائٹس کو سولر انرجی پر منتقل کرنے اور مانیٹرنگ سسٹم نصب کرنے کا وعدہ کیا گیا تھا، جو تاحال عملی شکل اختیار نہ کر سکا۔

    نیب کے مطابق جب اس میگا پروجیکٹ میں مبینہ کرپشن کی تحقیقات شروع کی گئیں تو سندھ کا اینٹی کرپشن محکمہ اور بعض سرکاری افسران مداخلت کرنے لگے اور ٹال مٹول کے ہتھکنڈے اختیار کیے گئے۔ اسی صورتحال کے پیش نظر نیب نے وزیر اعلی سندھ کو خط لکھ کر افسران کو تعاون کی ہدایت دینے کا مطالبہ کیا۔

    نیب کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ ترقیاتی منصوبوں میں کرپشن کی تحقیقات میں تیزی کی وجوہات اور دیگر تفصیلات جلد سامنے لائی جائیں گی۔

  • ملیے اپنی پالتو بکریوں کے بچوں پر سندھ کی مشہور لوک داستانوں کے کرداروں کے نام رکھنے والے ٹنڈوالہیار کے فدا حسین چوہان سے

    ملیے اپنی پالتو بکریوں کے بچوں پر سندھ کی مشہور لوک داستانوں کے کرداروں کے نام رکھنے والے ٹنڈوالہیار کے فدا حسین چوہان سے

    سندھ کے ضلع ٹنڈو الہیار میں گھریلو سطح پر بڑے عرسے سے بکریاں پالنے والے فدا حسین چوہان نے 40 سے زائد ایرانی نسل کی بکریاں پال رکھی ہیں۔

    پیدائش کے بعد ہر بکری کے بچے کا باقاعدہ نام رکھا جاتا ہے۔ نام رکھنے کے وہ اپنے دوستوں دعوت کا اہتمام کرتے ہیں، جس میں شرکت کرنے والے ان کے دوست انہیں باضبطہ مبارک باد دیتے ہیں۔

    فدا حسین چوہان اپنی پالتو زیادہ تر بکریوں کے نام سندھ کی مشہور لوک داستانوں کے کرداروں کے ہیں۔ جو مقامی ثقافت سے گہری وابستگی کا اظہار ہیں۔

    ساگا ڈیجیٹل سے گفتگو کرتے ہوئے فدا حسین چوہان  نے کہا ایک بار کینیڈا سے سندھی ایسوسی ایشن آف نارتھ امریکہ (سانا) کے دوست ان سے ملنے آئے تو انہوں نے پوچھا وہ فلاں بکری کیس، فلان بکری خوبصورت ہے۔ ‘تب مجھے کیال آیا کہ کیوں نہ تمام بکریوں کے نام رکھے جائیں۔’

    جس کے بعد انہوں نے بکری کے بچوں کے نام رکنا شروع کیے۔ وہ اپنی پالتو بکریوں کے نام مشہور لوک داستانوں کے کرداروں بشمول مومل سومل رکھتے ہیں۔ ‘اگر میں اپنے بچے کو بولوں کی مومل کو لے لاؤ تو مومل کو ہی لاتے ہیں۔’

    ان بکریوں سے گھر کے افراد جیسا پیار اور لگاؤ رکھا جاتا ہے، اور انہیں خاندان کا حصہ سمجھا جاتا ہے۔ فدا حسین چوہان کے خاندان والے اور دوست بکریوں کو دیے گئے نام سے یاد رکھتے ہیں۔

  • سانحہ گل پلازہ: زمین کی خریداری عبدالستار افغانی کے دور میں، لیز پر فاروق ستار کے دستخط، اضافی فلور کی اجازت نعمت اللہ خان کے دور میں، وزیر اعلی سندھ کو رپورٹ پیش

    سانحہ گل پلازہ: زمین کی خریداری عبدالستار افغانی کے دور میں، لیز پر فاروق ستار کے دستخط، اضافی فلور کی اجازت نعمت اللہ خان کے دور میں، وزیر اعلی سندھ کو رپورٹ پیش

    گل پلازہ میں آتشزدگی کے بعد وزیر اعلی سندھ کو پیش کی گئی رپورٹ میں شاپنگ پلازہ کی تعمیر سے متعلق اہم انکشافات سامنے آئے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق زمین کی ملکیت، لیز اور بعد ازاں اضافی تعمیرات مختلف ادوار میں منظور کی گئیں۔

    رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ گل پلازہ کی زمین بلدیہ عظمی کراچی کی ملکیت تھی، جسے 1883 میں ٹرام سروس کے لیے ایسٹ انڈیا کمپنی کو 99 سال کے لیے لیز پر دیا گیا تھا۔ لیز کی مدت ختم ہونے سے ایک ماہ قبل جنیکا گروپ نے زمین خرید لی، جبکہ لیز کے خاتمے کے باوجود تعمیراتی کام شروع کر دیا گیا۔

    اس وقت میئر کراچی جماعت اسلامی کے رہنما عبدالستار افغانی تھے۔ رپورٹ کے مطابق ان کے دور میں لیز ختم ہونے سے قبل شروع ہونے والی تعمیرات کو
    روکنے کے لیے کوئی مؤثر اقدام نہیں کیا گیا۔ عبدالستار افغانی بطور میئر نومبر 1979 سے فروری 1987 تک عہدے پر فائز رہے، جبکہ نومبر 1983 سے فروری 1987 تک دوبارہ منتخب ہوئے۔ ان ہی کے دور میں ٹرام سروس کے لیے دی گئی لیز 1983 میں ختم ہوئی۔

    رپورٹ کے مطابق لیز ختم ہونے سے ایک ماہ قبل جنیکا گروپ نے زمین پر تعمیرات شروع کیں، جو 1990 تک جاری رہیں۔ بعد ازاں جب فاروق ستار میئر کراچی منتخب ہوئے تو ان کے دور میں گل پلازہ کی زمین جنیکا کمپنی کو 99 سال کے لیے لیز پر دی گئی۔

    ساگا ڈیجیٹل کو موصول رپورٹ میں شامل دستاویز کے مطابق تین نومبر 1991 کو اس وقت کے میئر کراچی ڈاکٹر فاروق ستار نے بلدیہ عظمی کی زمین گل پلازہ کے لیے لیز پر دینے کے کاغذات پر دستخط کیے۔ تفصیلی رپورٹ کے مطابق یہ زمین گل پلازہ شاپنگ مال کو تین روپے فی گز کے حساب سے کرائے پر دی گئی۔


    فاروق ستار 1988 سے 1992 تک بطور میئر کراچی خدمات انجام دیتے رہے۔ رپورٹ کے مطابق زمین کی لیز ان ہی کے دور میں ان کے دستخط سے جاری کی گئی۔

    رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ گل پلازہ کے متنازعہ اضافی فلور کو 2003 میں ریگولرائز کیا گیا۔ اس وقت جماعت اسلامی کے نعمت اللہ خان میئر کراچی تھے، جن کے دور میں اضافی تعمیرات کی اجازت دی گئی۔

  • سانحہ گل پلازہ: وزیراعلیٰ سندھ کا لواحقین کو ایک کروڑ روپے معاوضہ، دکانداروں کو ایک کروڑ روپے کا بلاسود قرضہ، مارکیٹ کو دوبارہ ‘اسی حالت’ تعمیر کرانے کا اعلان

    سانحہ گل پلازہ: وزیراعلیٰ سندھ کا لواحقین کو ایک کروڑ روپے معاوضہ، دکانداروں کو ایک کروڑ روپے کا بلاسود قرضہ، مارکیٹ کو دوبارہ ‘اسی حالت’ تعمیر کرانے کا اعلان

    وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ گل پلازہ واقعے میں جان سے جانے والوں کے لواحقین کو ایک کروڑ روپے معاوضہ دیا جائے گا اور یہ رقم ریلیز ہو چکی ہے۔ کمشنر کو ہدایت دی گئی ہے کہ لواحقین کی شناخت مکمل کر کے فوری طور پر رقم حوالے کی جائے، اگرچہ جان کی کوئی قیمت نہیں ہوتی۔ انہوں نے کہا کہ ہر دکاندار کو فوری گذر بسر کے لیے پانچ لاکھ روپے دیے جائیں گے تاکہ وہ اپنے پاؤں پر کھڑا ہو سکے، جبکہ کے سی سی آئی کے ذریعے دکانداروں کے سامان کے نقصان کا بھی معاوضہ دیا جائے گا۔

    وزیراعلیٰ سندھ کے مطابق دو ماہ کے اندر تمام متاثرہ دکانداروں کو متبادل جگہ فراہم کی جائے گی۔ اس مقصد کے لیے دو عمارتیں دیکھی گئی ہیں، ایک میں پانچ سو اور دوسری میں تین سو پچاس دکانیں موجود ہیں۔

    سندھ اسمبلی اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے وزیراعلی سندھ نے کہا عمارتوں کے مالکان نے یقین دہانی کرائی ہے کہ ایک سال تک کوئی کرایہ نہیں لیا جائے گا اور کوشش ہو گی کہ دو سال تک یہ دکانیں مفت فراہم کی جائیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کے پاس پارکنگ پلازہ سمیت مزید عمارتیں بھی موجود ہیں جہاں اگلے دو ماہ میں دکانیں دی جا سکیں گی۔

    وزیراعلیٰ سندھ نے اعلان کیا کہ ہر دکاندار کو ایک کروڑ روپے کا بلاسود قرضہ دیا جائے گا، اس قرضے کی ضمانت حکومت سندھ دے گی اور سود بھی حکومت ادا کرے گی۔ اس حوالے سے سندھ انٹرپرائز لیمیٹڈ سے بات کی جا چکی ہے۔ سانحے کے نقصانات کے ازالے کے لیے تاجروں کی ایک کمیٹی بھی بنا دی گئی ہے اور اس واقعے پر مزید اقدامات کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

    مراد علی شاہ نے بتایا کہ گل پلازہ کو اسی حالت میں دوبارہ تعمیر کیا جائے گا اور دو سال میں تعمیر مکمل کی جائے گی۔ نئی تعمیر میں اتنی ہی دکانیں بنیں گی جتنی پہلے تھیں، ایک بھی دکان زائد نہیں ہو گی۔ انہوں نے گل پلازہ کو گرانے کا بھی اعلان کیا اور کہا کہ یہ فیصلہ مکمل ذمہ داری کے ساتھ کیا گیا ہے۔
    انہوں نے کہا کہ صوبے بھر میں تمام عمارتوں کا آڈٹ شروع کر دیا گیا ہے اور اب تک تین سو سے زائد عمارتوں کا جائزہ لیا جا چکا ہے۔ جن عمارتوں میں حفاظتی انتظامات نہیں ہوں گے، انہیں مختصر وقت دیا جائے گا اور حفاظتی اقدامات نہ کرنے والی عمارتوں کو سیل کیا جائے گا۔ وزیراعلیٰ سندھ نے واضح کیا کہ تمام عمارتوں کے لیے لازمی انشورنس کا قانون بھی بنایا جا رہا ہے۔

    وزیراعلیٰ سندھ نے بتایا کہ آگ لگنے کے واقعے پر امدادی ادارے الگ الگ انتظامات کے تحت کام کر رہے تھے، تاہم اب فیصلہ کیا گیا ہے کہ تمام امدادی اداروں کو ایک کمان کے تحت چلایا جائے گا تاکہ ردعمل مزید مؤثر ہو سکے۔ انہوں نے کہا کہ فیصلوں پر تنقید ضرور کریں لیکن اس سانحے کو خفیہ ایجنڈے کے لیے استعمال نہ کیا جائے۔

    سانحے کی تفصیلات بتاتے ہوئے مراد علی شاہ نے کہا کہ ابتدا میں اٹھاسی افراد لاپتہ تھے، جن میں ایک زندہ نکل آیا اور پانچ نام دہرائے گئے تھے، یوں کل بیاسی تصدیق شدہ لاپتہ افراد تھے۔ اب تک اکسٹھ لاشیں برآمد ہو چکی ہیں جبکہ پندرہ افراد تاحال لاپتہ ہیں۔ اکسٹھ لاشوں میں سے نو کی شناخت ڈی این اے کے ذریعے ہو چکی ہے اور مجموعی طور پر پندرہ افراد کی شناخت مکمل ہو گئی ہے۔ پینتالیس لاشوں کے ڈی این اے مکمل کیے جا چکے ہیں جبکہ نو کی شناخت باقی ہے۔

    وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ گل پلازہ کے حوالے سے کے بی سی اے کو سنہ 1979 میں اس جگہ پر عمارت بنانے کی درخواست ملی تھی۔ سیل ڈیڈ سنہ 1983 میں منظور ہوئی اور اسی دہائی میں عمارت مکمل ہوئی۔ یہ جگہ سنہ 1884 میں ننانوے سالہ لیز پر دی گئی تھی جو سنہ 1983 میں مکمل ہو گئی، بعد ازاں آٹھ سال بعد سنہ 1991 میں لیز کی تجدید کی گئی اور یہ منظوری اس وقت کے میئر نے دی۔ اصل منصوبے میں بیسمنٹ اور دو فلور شامل تھے، سنہ 1998 میں تیسرا فلور ڈالنے کی درخواست دی گئی، سنہ 2001 میں ایک آرڈیننس کے تحت بے ضابطگیوں کو ریگولرائز کیا گیا اور سنہ 2003 میں گل پلازہ کی تمام بے ضابطگیوں کو ریگولرائز کر دیا گیا۔

    مراد علی شاہ نے کہا کہ یہ تمام بے ضابطگیاں اٹھارھویں ترمیم سے پہلے کی ہیں۔ اس وقت اگر کوئی شخص اس سانحے کو اٹھارھویں ترمیم سے جوڑتا ہے تو سوال یہ ہے کہ اس ترمیم سے پہلے یہ سب منظوری کون دے رہا تھا۔ انہوں نے کہا کہ ایسے سانحات کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنا جرم ہے اور لوگوں کی لاشوں پر خفیہ ایجنڈا مسلط نہیں کیا جانا چاہیے۔

    وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ سانحہ گل پلازہ نے پورے ملک کو غمگین کر دیا ہے، کئی معصوم جانیں ضائع ہوئیں اور ہر طرف سوگ کی کیفیت ہے۔ انہوں نے شہدا کے بلند درجات، لواحقین کے لیے صبر اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کی دعا کی اور کہا کہ غفلتوں اور کوتاہیوں کا سدباب کیا جائے گا اور تمام ذمہ داروں کے خلاف ایف آئی آر درج کر کے سزا یقینی بنائی جائے گی۔

  • ‘دریائے سندھ بہتا ہے تو سندھ کی ثقافت زندہ رہتی ہے’: کندھ کوٹ ضلع میں دریائے سندھ کا کچہ کیسا نظر آتا ہے؟

    ‘دریائے سندھ بہتا ہے تو سندھ کی ثقافت زندہ رہتی ہے’: کندھ کوٹ ضلع میں دریائے سندھ کا کچہ کیسا نظر آتا ہے؟

    شمالی سندھ کے ضلع کندھ کوت کے کچے کے رہائشی فیاض احمد کے مطابق کچے کے رہائشیوں کے لیے دریائے سندھ زندگی کی حیثیت رکھتا ہے، جہاں مقیم لاکھوں لوگ نہ صرف کھیتی باڑی کرتے ہیں، بلکہ مویشی بھی پالتے ہیں۔

    ساگا ڈیجیٹل سے گفتگو کرتے ہوئے فیاض احمد نے کہا: ‘دریا ہمارا روح ہے، اگر دریا ہوگا تو ہم زندہ رہیں گے۔’

    دریائے سندھ کے کچے کا علاقہ فطری ماحولیاتی توازن کا ایک اہم حصہ رہا ہے۔ یہ خطہ صدیوں سے قدرتی جنگلات، جھیلوں اور دریا سے جڑے حیاتیاتی نظام کا حامل رہا ہے، جو انسانی زندگی اور فطرت کے درمیان قدرتی ربط کو ظاہر کرتا ہے۔

    کچہ علاقہ نہ صرف سندھ بلکہ پورے پاکستان کے لیے اناج کی فراہمی کا ایک اہم ذریعہ سمجھا جاتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ لائیو اسٹاک اور ماہی گیری کے لیے بھی بنیادی حیثیت رکھتا ہے، جس پر لاکھوں لوگوں کا روزگار وابستہ ہے۔

    دریائے سندھ کے دونوں اطراف بچاؤ بند کے درمیانی حصے کو کچہ کہا جاتا ہے۔ دریائے سندھ کا کچہ پنجاب اور سندھ تک پھیلا ہوا ہے۔ یہاں موجود قدرتی جنگلات، نشیبی زمینیں اور آبی نظام ایک متوازن ماحولیاتی ڈھانچے کی عکاسی کرتے ہیں۔

    سنہ 2013 کے ایک سروے کے مطابق سندھ کے کچہ علاقوں میں تقریباً 40 لاکھ افراد آباد تھے۔ ان لوگوں کا انحصار زراعت، مال مویشی پالنے اور ماہی گیری پر رہا ہے، جو نسل در نسل ان کی معیشت کا حصہ بنی رہی ہے۔

    ساون کے موسم میں کچہ کے مناظر نمایاں طور پر سرسبز ہو جاتے ہیں۔ اس دوران ببڑ، باہڑ اور بھٹن جیسے بڑے درخت اپنی پوری بہار دکھاتے ہیں۔ یہ درخت کچہ کے صدیوں پرانے فطری ورثے کا حصہ سمجھے جاتے ہیں۔

    تاہم سرکاری غفلت، بااثر عناصر کی مداخلت اور انتظامی کمزوریوں کے باعث کچہ کے جنگلات کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ ناجائز قبضے، زمینوں کو لیز پر دینا، جنگلات کے شعبے کی عدم توجہی اور شجرکاری نہ ہونے کے باعث یہ علاقہ تیزی سے متاثر ہو رہا ہے۔

    ماہرین کے مطابق اگر بروقت اور سنجیدہ اقدامات نہ کیے گئے تو کچہ علاقہ اپنی ماحولیاتی شناخت کھو سکتا ہے۔ وہ خطہ جو کبھی زندگی، سرسبزی اور خوشحالی کی علامت تھا، مستقبل میں صرف ایک یاد بن کر رہ جانے کا خدشہ ہے۔

    کچہ علاقہ صرف سندھ تک محدود نہیں بلکہ دریائے سندھ کے ساتھ ساتھ پنجاب میں بھی پھیلا ہوا ہے۔ یہ خطہ دریا کے قدرتی نظام کا ایک لازمی حصہ سمجھا جاتا ہے اور صدیوں سے انسانی زندگی اور فطرت کے درمیان توازن قائم کیے ہوئے ہے۔

    دریائے سندھ کے دونوں اطراف بچاؤ بند موجود ہیں۔ ان بندوں کے درمیان فاصلہ ہر مقام پر یکساں نہیں۔ کہیں یہ فاصلہ تقریباً 20 کلومیٹر تک پھیلا ہوا ہے، جبکہ بعض علاقوں میں یہ صرف دو کلومیٹر تک محدود رہ جاتا ہے۔

    عام حالات میں دریائے سندھ کچہ کے درمیان بہتا ہے۔ دریا کے ساتھ جڑی یہ زمینیں قدرتی طور پر زرخیز ہوتی ہیں اور سیلابی نظام کا حصہ رہتی ہیں۔ اسی لیے مقامی لوگ کچہ کو دریا کی سانس بھی کہتے ہیں۔

    گرمیوں میں صورتحال یکسر بدل جاتی ہے۔ جب شمالی پہاڑوں پر برف پگھلتی ہے اور مون سون کی بارشیں شروع ہوتی ہیں تو دریائے سندھ میں پانی کی مقدار بڑھ جاتی ہے۔ اس دوران کچہ کا بیشتر علاقہ زیر آب آ جاتا ہے۔

    سیلابی پانی کچھ عرصے بعد اتر جاتا ہے۔ پانی کے اترنے کے بعد کچہ کی زمین غیر معمولی طور پر زرخیز ہو جاتی ہے۔ اسی سیرابی کے بعد مقامی آبادی مختلف فصلوں کے بیج بوتی ہے۔ کم خرچ میں اور کم وقت میں تیار ہونے والی کئی فصلیں یہاں کامیابی سے اگائی جاتی ہیں۔

    کچہ کے علاقوں میں قدرتی جنگلات وسیع پیمانے پر موجود ہیں۔ یہ جنگلات نہ صرف ماحولیاتی توازن قائم رکھتے ہیں بلکہ مقامی معیشت میں بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ انہی جنگلات کی وجہ سے کچہ میں قدرتی شہد وافر مقدار میں ملتا ہے، جو مقامی آبادی کے لیے روزگار اور آمدن کا ایک اہم ذریعہ ہے۔

    یوں کچہ علاقہ محض دریا کے کنارے کی زمین نہیں بلکہ ایک مکمل زندہ نظام ہے۔ یہ نظام پانی، زراعت، جنگلات اور انسانی زندگی کو آپس میں جوڑتا ہے اور دریائے سندھ کے ساتھ جڑے علاقوں کی بقا کی ضمانت بنتا ہے۔