28 دسمبر 1997: شیخ ایاز کا یومِ وفات، ایک دور کا اختتام

شیخ ایاز

‘سندھو دیش کی دھرتی! تجھ پر اپنا سر نچھاور کروں میں مٹی ماتھے لگاؤں’

یہ شیخ ایاز کی وہ شاعری ہے جسے سائیں جی ایم سید نے، ناراضگی کے باوجود، سندھو دیش کا قومی ترانہ قرار دیا تھا۔

شیخ ایاز کا اصل نام شیخ مبارک علی تھا۔ ان کے والد کا نام شیخ غلام حسین تھا۔ وہ دو مارچ 1923 کو شکارپور شہر میں پیدا ہوئے۔

شیخ ایاز نے ابتدائی اور ثانوی تعلیم شکارپور ہی میں حاصل کی۔ 1941 میں بمبئی یونیورسٹی سے میٹرک پاس کیا۔ 1942 میں شکارپور کے سی اینڈ ایس کالج سے انٹرمیڈیٹ کیا۔1944 میں ڈی جے سندھ کالج کراچی سے گریجویشن مکمل کی اور 1945 میں ایل ایل بی میں داخلہ لیا۔

قانون کی تعلیم مکمل کرنے کے بعد 1950 میں وکالت شروع کی اور جلد ہی سندھ کے نامور وکلا میں شمار ہونے لگے۔ پہلے کراچی ہائی کورٹ میں عبدالحئی قریشی اور جمال صدیقی کے ساتھ، بعد میں خالد اسحاق اور عبدالقادر شیخ کے ساتھ وکالت کی۔ اس کے بعد سکھر میں وکالت شروع کی۔

شیخ ایاز سندھی ادبی سنگت سندھ کے بانی اراکین میں شامل تھے۔ انہوں نے 1945 میں ڈاکٹر گربخشاڻي کی رہنمائی میں چلنے والے ‘سندھی سرکل’ کی نشستوں میں شرکت کی۔

جب اپریل 1946 میں کراچی میں گوبند مالہی نے سندھی ادبی سنگت سندھ کی بنیاد رکھی تو شیخ ایاز اور بہاری لال چھابڑیا پہلے مشترکہ سیکریٹری منتخب ہوئے۔

تقسیم کے سانحے میں شیخ ایاز کے قریبی دوست، نارائن شیام، کیرت بابانی، گوبند مالہی، اے جی اتم، بہاری لال چھابڑیا، موتی رام رامواڻي، ایڈووکیٹ امر لال پنجواڻي، ڈاکٹر ارجن شاد اور دیگر — بھارت چلے گئے۔ اس تاریخی سانحے نے شیخ ایاز کے ذہن پر گہرا اثر ڈالا۔

سندھی ادیبوں کی بڑی تعداد کے بھارت چلے جانے کے بعد شیخ ایاز اردو ادیبوں کی محفلوں میں جانے لگے۔ اردو شاعری کا انہیں پہلے ہی وسیع مطالعہ تھا، اس لیے انہوں نے اردو میں بھی شاعری کی، جہاں انہیں بڑا مقام حاصل ہوا۔

انہوں نے شکارپور ضلع میں بھی سنگت کو منظم کیا اور انجمن ترقی پسند مصنفین سے وابستہ رہے۔ تقسیم کے بعد پاکستان رائٹرز گلڈ اور سائیں جی ایم سید کی قائم کردہ بزمِ صوفیائے سندھ سے بھی گہرا تعلق رہا۔

اپنی قومی اور مزاحمتی شاعری کے باعث شیخ ایاز کو جیل یاترا بھی کرنا پڑی۔ رجعت پسند حلقوں نے ان پر کفر اور بغاوت کے الزامات لگائے اور کئی مقدمات قائم کیے۔

اسی سلسلے میں ‘ادب کی آڑ میں’ کے نام سے ایک کتاب شائع ہوئی جس میں جدید سندھی ادب اور خاص طور پر شیخ ایاز کے خلاف مہم چلائی گئی۔

اس کے جواب میں رسول بخش پلیجو نے “انڌا اونڌا ویڄ”، مولانا غلام محمد گرامی نے “مشرقی شاعری کے فنی اقدار و رجحانات” اور قاسم پتھر نے محمد ابراہیم جویو کی رہنمائی میں “ادب کے نام پر” لکھ کر جواب دیا۔

شیخ ایاز کا شمار سندھ کے عظیم شاعروں میں ہوتا ہے۔ ان کی قومی شاعری کے سبب انہیں جنرل ایوب خان اور جنرل یحییٰ خان کے ادوار میں سینٹرل جیل سکھر اور سینٹرل جیل ساہیوال میں قید بھی کاٹنی پڑی۔

ان کے ناقدین کا کہنا ہے کہ اگر شیخ ایاز، وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو سے سندھ یونیورسٹی جامشورو کی وائس چانسلری قبول نہ کرتے تو وہ شاہ عبداللطیف بھٹائی کے بعد سندھی زبان کے سب سے بڑے شاعر ہوتے۔

قوم پرست سیاست میں سائیں جی ایم سید کی جدوجہد اور تحریروں کے بعد، شیخ ایاز کی شاعری نے تحریک کو نیا رخ دیا۔

سائیں جی ایم سید نے شیخ ایاز کے نظم

‘سندھو دیس کی دھرتی، تجھ پر سر نچھاور’

کو آزاد سندھو دیش کا قومی ترانہ قرار دیا۔

شیخ ایاز جہاں سائیں جی ایم سید کے بہت قریب تھے، وہیں ذوالفقار علی بھٹو شہید بھی انہیں بے حد پسند کرتے تھے۔

لیکن 1976 میں جب شیخ ایاز نے سندھ یونیورسٹی کی وائس چانسلری قبول کی تو سائیں جی ایم سید کو شدید صدمہ ہوا۔

میں آج آپ کو ایک تاریخی واقعہ سناتا ہوں:

جب 1973 کا آئین منظور ہوا تو خوشی کے موقع پر جنوری 1974 میں لاڑکانہ اسٹیڈیم میں ایک عظیم الشان تقریب منعقد ہوئی۔

میں اس وقت چھٹی جماعت کا طالب علم تھا اور میں نے اس تقریب میں وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو سے ہاتھ ملایا تھا۔

اس اسٹیج پر ذوالفقار علی بھٹو، جنرل ٹکا خان، ممتاز علی بھٹو، غلام مصطفیٰ جتوئی، عبدالحفیظ پیرزادہ، غلام مصطفیٰ کھر اور مولانا کوثر نیازی موجود تھے۔

صوفیانہ موسیقی کا پروگرام بھی رکھا گیا۔

جب فقیر عبدالغفور نے لطیف سائیں کی کافی پیش کی تو اس کے بعد وزیر اعظم بھٹو نے فرمائش کی کہ شیخ ایاز کی وائی

‘سندھڑی تے سر کون نہ دے گا، سہندو کون ملامت او یار’ سنائی جائے۔

جب فقیر عبدالغفور یہ وائی گا رہے تھے تو ذوالفقار علی بھٹو اپنی کرسی سے اٹھ کر ان کے ساتھ جھومنے لگے، جبکہ ٹکا خان اور دیگر وزرا یہ منظر دیکھتے رہے۔

یہ بھی سب کو معلوم ہے کہ بھٹو صاحب غیر ملکی سربراہان — شاہِ ایران رضا شاہ پہلوی، یاسر عرفات، شیخ زاید — کے دورۂ لاڑکانہ کے موقع پر فقیر عبدالغفور، ڈھول فقیر اور استاد منظور علی خان سے بھٹائی اور شیخ ایاز کا کلام سنا کرتے تھے۔

جب شیخ ایاز نے 1976 میں وائس چانسلری قبول کی تو سائیں جی ایم سید ناراض ہو گئے، مگر اس کے باوجود وہ شیخ ایاز کی شاعری کے دلدادہ رہے۔

شیخ ایاز 1976 سے 1980 تک سندھ یونیورسٹی کے وائس چانسلر رہے اور چار سالہ مدت مکمل کی۔

جو بھی ہو، شیخ ایاز کی سندھ سے محبت اور حب الوطنی پر مبنی شاعری کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔

آج بھی جب کوئی فنکار اس وائی کو اسٹیج پر گاتا ہے تو جسم کے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں:

‘سندھڑی تے سر کون نہ دے گا، سہندو کون ملامت او یار’

اسی بارے میں: