دنیائے ادب میں ناول فکشن کی ایک مقبول ادبی صنف ہے ۔ عالمی ادب میں کچھ ناول نگاروں کے ناولز کو شاہکار مانا جاتا ہے۔
دنیا کے مشہور ناول نگاروں کی ایک طویل لسٹ بنائی جاسکتی ہے ۔ دنیا کے کئی مشہور ناولز پر ہالیووڈ اور بالیووڈ میں فلمیں بھی بنائی جاتی رہی ہیں ۔
بر صغیر پاک و ہند میں بھی اردو میں کئی مشہورناول لکھے گئے ہیں ۔ اسی طرح پاکستان کی صوہائی زبانوں میں بھی قابل ذکر ادبی تخلیقیں شایع ہوتی ہیں ۔ اور دنیا کے اور ملک کے ادبی کتابوں کے تراجم بھی شایع ہوتے ریتے ہیں ، خاص طور پر سندھی زبان میں شاعری اور ادب نے بہت ترقی کی ہے ۔
سندھی زبان میں بھی بہت سے مشہور ناول لکھے جا چکے ہیں۔ سندھی کے مشہور ناول نگاروں میں سراج ، آغا سلیم ، علی بابا ، حلیم بروہی اورامر جلیل کے لکھے ہوئے ناول نمایاں اور سر فہرست ہیں۔ سندھی میں موجودہ دور میں ناول لکھنے کا رجحان کافی بڑہا ہے۔ سندھی زبان میں ہمیشہ کتابیں چھپتی رہتی ہیں اورپڑھنے والوں کی بڑی تعداد سوشل میڈیا کے انفلوئنس کے باوجود اب بھی کتابیں پڑھتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ نہ صرف سندھی میں کتابیں چھپتی ہیں بلکہ دوسری زبانوں سے کتابیں ترجمہ بھی کی جاتی ہیں۔
آج ہم ایک ایسی ہی کتاب پر بات کریں گے جو حال ہی میں سندھی میں ترجمہ ہوکر شایع ہوئی ہے ۔
ملک کے انگریزی اور اردو کے نامور رائیٹر ارشد وحید کے ایک انگریزی ناول’Other Days’
جس کو پاکستان اکیڈمی آف لیٹرس کی طرف سے 2022 میں پطرس بخاری ایوارڈ بھی مل چکا ہے۔ اس ناول سے پہلے بھی ارشد وحید کی کئی تصانیف اور تراجم شایع ہوچکے ہیں ۔
حال ہی میں اس ناول کے سندھی ترجمے کی کتاب ’بیا ڈینھن‘ کے ٹائیٹل کے ساتھ شایع ہوئی ہے۔ اس ناول کا سندھی ترجمہ سندھ کے سینیئرادیب اور صحافی نصیر اعجاز نے کیا ہے۔ 294 صفحات اور خوبصورت ٹائیٹل اور عمدہ چھپائی پر مشتمل اس عمدہ ناول کا کوئی بڑا دیباچہ شامل نہیں ہے ، سچ تو یہ ہے کہ عمدہ کتابوں کو اس کی ضرورت بھی نہیں ہوتی۔ امید ہے کہ یہ ناول سندھی ادب میں ترجمہ کی ہوئی اچھی اور اہم کتابوں کی لسٹ میں شمار ہوگا۔
ناول کا آغاز ہیروئن سارا کی اپنے پرانے کلاس فیلو دائود کے ساتھ طویل عرصے کے بعد اچانک ملاقات سے ہوتی ہے۔اور پھر ان کا ماضی جیسے لوٹ آتا ہے۔ یہاں سے مصنف نے فلیش بیک ٹیکنیک کا خوبصورتی سے استعمال کرتے ہوئے کہانی کا پس منظر بیان کیا ہے۔
مارشل لا لگنے کے بعد جنرل ضیا نے مذہب کا بے دریغ استعمال کیا، سخت قوانین نافذ کیے اور جبر و وحشت کو ملک کے عوام پر مسلط کیا۔ اس بدترین آمریت میں نوجوان طلبا پر کیا گذری اور مذہبی انتہاپسندی کی شدت میں اضافے نے ملک کے سماج کو کس طرح متاثر کیا یہ سب فنکارانہ انداز میں ناول میں بیان کیا گیا ہے۔
یہ ناول ضیاء آمریت کے جبر کی تاریخ ہے جس نے ملک کا چہرہ مسخ کردیا اور آج تک وہ نقش مٹ نہیں پائے ہیں ۔ ضیاء آمریت کا دور سیاسی و فکری آزادیوں پر سخت پابندیوں اور جبر کا دور تھا، جس سے وابستہ تلخ سچائیوں کو اس ناول میں ادبی مہارت کے ساتھ اجاگر کیا گیا ہے ۔
ناول کا مرکزی خیال اہم اور حقیقت کے قریب ہے۔ رائیٹر کہیں بھی خطبہ نہیں دیتے نہ ہی اپنے خیالات و نظریات قاری پر مسلط کرتے ہیں۔ کیونکہ ادب کا کام ہی یہ ہے کہ وہ تاریخ کو بھولنے نہ دے اور اس کا فطری اظہار کرے۔ ناول کا دردناک پہلو وہ ہے جہاں طلبا سیاست تشدد پسند گروہوں میں تبدیل ہو جاتی ہے، اور ایک جگہ ترقی پسند طلبا پر ہونے والا حملا سماج کی بیمار نفسیات اور مذہبی شدت پسندی کی ریاستی سرپرستی کا ثبوت دیتا ہے۔ ناول کا فنی اسلوب مضبوط، کردار حقیقی اور جاندار، زبان سادہ اور سمجھ میں آنے والی ہے۔
مرکزی کرداروں سارا اور دائود کا اس تکلیف دہ واقعے کے بعد بچھڑ کے ملک سے باہر چلے جانا اور لمبے عرصے کے بعد واپسی، اپنے ماضی کے مناظر اور کرداروں سے ملنے کی خواہش کہانی کو آگے لے جاتی ہے۔
دائود جو اپنی کہانی لکھنے کے لئے واپس وطن آتا ہے، اسی لئے ماضی کےکرداروں اورپرانی جگہوں کو ڈھونڈتا رہتا ہے، لیکن لمبے عرصے کےبعد واپس آنے والوں کے لئے سب کچھ ویسا نھیں رہتا، بہت کچھ بدل جاتا ہے، جگہیں، گلیاں، لوگ، اور یہاں تک کہ وہ خود بھے ویسے نھیں رہتے۔
دائود کےماضی کی یادوں کے نقش دھندلا چکے ہوتے ہیں، یادیں ادھوری ہیں اور وہ کردار جوماضی میں اس کے ساتھ تھے اب سایوں میں تبدیل ہوچکے ہیں۔ یہ نفسیاتی حقیقت ناول میں فنکارانہ انداز میں دکھائی گئی ہے ۔
اپنی کہانی کے کردار نہ ملنا ایک فنکار/ لکھاری کے لئے اذیتناک ہے ۔کردار نہ ملنے کے بعد وہ اپنی کہانی میں ایک علامتی پتلی تماشا سجاتا ہے اور ان پتلیوں سے اپنے ماضی کے کردار ادا کرنے کے لئے کہتا ہے لیکن ایسا نہیں ہوپاتا ۔ ناول کا یہ حصہ بہت متاثرکن اوراداس کردینے والا ہے ۔ پتلی تماشہ ناول میں ایک زبردست علامت اور Metafictional ہے جو جدید ادب کا اہم اسلوب ہے ۔
کردار لکھاری کے غلام نہیں ہوتے اور وہ اپنی تاریخ میں زندہ رہتے ہیں۔ یادیں لکھنے والے کے کنٹرول سے باہر بھی وجود رکھتی ہیں۔ معاشرہ ٹوٹ چکا ہے اور لوگ پُتلے اور ہیولے کی طرح بن گئے ہیں۔ جو یہ دکھاتے ہیں کہ جبر کا دور لوگوں کے اندر کی طاقت ، آزادی اور آواز چھین لیتا ہے ۔
لوگوں کے کردار اصل نہیں رہے۔ فقط شکلیں رہ گئیں اور مجبوری اور خوف۔ لوگ اپنی مرضی سے کچھ نہیں کرسکتے۔ کسی کے ہاتھوں میں ان کی ڈور ہے اور وہ پتلے بن گئے ہیں۔ وہ کردار جو ماضی میں مضبوط، روشن اور جاندار تھے، وہ سائے بن گئے ، اپنے رنگ اور اپنی آواز کھو بیٹھے۔
یہ سماجی بربادی کا عظیم استعارہ ہے۔
ادبی فکر کافکا اور میلان کنڈیرا کے پاس ملتا ہے۔ یہ ناول کا سب سے گہرا ،فکری اورعلامتی حصہ ہے جہاں ناول نگار زندگی، تاریخ، سیاست اور ادب کو ایک نقطے پر لاکر جوڑتا ہے۔ ناول کے کرداروں کی ٹریجڈی یہ ہے کہ انہوں نے محبت، آزادی اور برابری کے خواب دیکھے لیکن وہ خواب پورے نہیں ہوسکے۔
ان لوگوں کے صرف خواب ہی نہیں ٹوٹے، بلکہ وہ اپنے ہونےکا جواز ہی گنوا بیٹھے۔ جب آپ کے آدرش باقی نہ رہیں توجینے کا جواز کیا رہ جاتا ہے؟ ناول بڑی خوبصورتی سے یہ سوال اٹھاتا ہے۔
وجودیت کا بڑا المیہ ہے کہ انسان اپنے لیے اجنبی بن جائے۔ اس ناول کا کمال سیاسی شکست کو وجودیت کے سوال میں بدلنا ہے۔ یہ ناول انسانی روح کی شکست کا نوحہ ہے جو پڑھنے والے کو یہ سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ جو انسان اپنے خواب گنوا بیٹھے کیا وہ واقعی زندہ ہے؟
نہ پھول تھے نہ چمن تھا نہ آشیانا تھا
چھوٹے اسیر تو بدلا ہوا زمانہ تھا ۔
مرزا سلامت علی دبیر

