Tag: ناول

  • میری پیاری بہن کے نام: ’بہن کا من مکھن، بھائی کا من پتھر‘

    میری پیاری بہن کے نام: ’بہن کا من مکھن، بھائی کا من پتھر‘

    میری پیاری بہن!
    کل میں نے جرمن ناول نگار ہرمن ہیسے کا ناول ‘سدھارتھ‘ پڑھ کر تمام کیا ہے، اور آج تمہارا ناول ’ایک جہاں اور ہے‘ پڑھ رہا ہوں۔ تمہارا ناول ’ایک جہاں اور ہے‘ ہو یا ناول ’شریکِ حیات‘، تمہاری کہانیاں ہوں یا ڈراما سیریل، تمہاری ہر تحریر میں کمال کی روانی کے ساتھ اکثر و بیشتر رومانی رنگوں کی دھنک ابھری ہوئی نظر آتی ہے۔

    تم نے سندھ کی الہڑ جوانی میں مقبول طارق عالم ابڑو کے ناول ’رہجی ویل منظر‘ کا اردو ترجمہ نہایت دل جمعی سے کیا تھا۔ تم میری کتاب ’تھر تھر اندر تھاک‘ کا اردو ترجمہ کر رہی تھیں، پتا نہیں کہ وہ کام کہاں تک پہنچا۔ امید ہے کہ اپنے اس بھائی کو اس کا احوال ضرور دو گی۔

    میری پیاری بہن! اردو ادب میں تصوف کے موضوع پر کئی ناول لکھے گئے ہیں، تم نے بھی اپنا ناول ’ایک جہاں اور ہے‘ تصوف کے بنوائی پر بیٹھ کر بونا ہے۔ تمہارے اس ضخیم ناول کی ایک کہانی میں کئی کردار ہیں، جن پر تفصیل سے دوسری بار لکھوں گا۔

    مجھے اس وقت تمہارا ناول پڑھتے ہوئے برصغیر میں میرا بائی کے بعد ویدانتی شاعری کے حوالے سے اہم حیثیت رکھنے والی شاعرہ سہجو بائی کی شاعری اور اس کی زندگی کی داستان یاد آ رہی ہے۔ میرے دوست دلیپ کوٹھاری نے سہجو بائی پر حال ہی میں ایک اچھا مضمون لکھا ہے۔

    سہجو بائی سنت کَوی چرن داس کی چیلی (شاگرد) تھیں۔ کہا جاتا ہے کہ سنت چرن داس کے تقریباً 5000 چیلے تھے، لیکن ان میں 108 چیلوں کو بڑا مرتبہ حاصل تھا جن کی گدیاں چلتی ہیں؛ سہجو بائی کا شمار انہی اہم چیلوں میں ہوتا ہے۔

    سہجو بائی کا ایک مشہور دوہا ہے:

    بانہہ چھڑائے جات ہو، نربل جان کے موہی
    ہردے میں سے جاؤ گے، تو مرد بندھوگی توہی!

    (مجھے کمزور و بے بس عورت سمجھ کر مجھ سے ہاتھ چھڑا کر چلے تو جا رہے ہو، لیکن میرے دل سے نکل کر دکھاؤ تو تمہیں مردِ کامل مانوں۔)

    کہا جاتا ہے کہ سہجو بائی کی شادی کی رسومات کے دوران جب ان کے ماموں کے بیٹے سنت چرن داس کو ایک رسم کی ادائیگی کے لیے بلایا گیا، تو گرو چرن داس نے ہار سنگھار کیے ہوئے دلہن سہجو بائی کے سر پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا:

    چلنا ہی رہنا نہیں، چلنا وشوا بیس
    سہجو تنک سہاگ پر، کہاں گتھوائی شیس!

    (اے سہجو! یاد رکھ کہ دنیا کے یہ تمام رنگ روپ چھوڑ کر یہاں سے رخصت ہونا ہے، یہ جگ فانی اور بے بقا ہے۔ کیا تو ایسے عارضی سہاگ کے سامنے اپنا سر جھکا کر ہار ماننا قبول کرے گی یا دائمی مکت (نجات) کے سچے مارگ پر چلنا پسند کرے گی؟)

    اس دوہے کے الفاظ سہجو کے دل میں تیر کی طرح پیوست ہو گئے۔ سہجو بائی نے ہار سنگھار اتار کر شادی سے صاف انکار کر دیا۔

    سہجو کے عزیز و اقارب میں ہلچل مچ گئی، سہجو کو سمجھانے کی بہت کوشش کی گئی لیکن سہجو اپنے فیصلے پر اٹل رہی۔ اسی اثنا میں ایسا ہوا کہ سہجو کے سسرال میں شادی کی خوشیاں منائی جا رہی تھیں کہ دولہا کا گھوڑا بپھر کر ایک درخت سے جا ٹکرایا، جس میں دولہا کو شدید چوٹیں آئیں اور وہ وفات پا گیا۔

    اس خبر کے پہنچتے ہی ہری پرشاد کے گھر میں بھی ماتم مچ گیا۔ سہجو کو سمجھانے والوں نے جا کر چرن داس کے قدم چھوئے اور معافی مانگی۔

    میری پیاری بہن! اب بات ’سدھارتھ‘ ناول کی کرتے ہیں۔ ’سدھارتھ‘ ناول کا اردو ترجمہ آصف فرخی نے کیا ہے۔ اس ناول میں سدھارتھ اپنے مذہبی گھرانے سے بغاوت کر کے خود بھگوان کی تلاش میں نکلتا ہے۔

    مکتی کے مارگ میں نہ صرف اس کے قدموں تلے زمین بدلتی ہے بلکہ من کے اندر بھی کیفیتوں کا بڑا تلاطم پیدا ہوتا ہے۔ راستے میں کہیں وسیع ریگستان آتا ہے تو کہیں ندیاں، نالے، شفاف چشمے اور پہاڑ آتے ہیں؛ کہیں من میں وہم و وسوسے اور تلخیاں ابھرتی ہیں تو کہیں گیان و دھیان کا دستور قائم ہوتا ہے۔

    میری پیاری بہن! میری عادت رہی ہے کہ میں کتاب پڑھتے ہوئے پوری کتاب پر حاشیے اور لکیریں کھینچ دیتا ہوں اور آخری خالی صفحے پر اپنی رائے لکھتا ہوں، لیکن اس کتاب میں صرف دو جگہوں پر میں نے نشان لگائے ہیں۔

    ایک وہاں جہاں سدھارتھ کی تمنا کی تڑپ اور تلخی ظاہر ہوتی ہے:

    ’اس کی آواز میں جتنی دکھ کی شدت تھی اتنی ہی تلخی بھرا طنز تھا، اس نے اپنے دوست گووند سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ گووند! تمہارا دوست جلد ہی سادھوؤں کا وہ راستہ چھوڑ دے گا جس راستے پر تمہارے ساتھ اتنے دنوں سے چل رہا ہے۔ میں پیاس کا ستایا ہوا ہوں گووند! سادھنا کے اتنے بڑے راستے پر چلتے ہوئے بھی میرے اندر کی پیاس نہ گھٹی، میرے من میں ہمیشہ علم کی پیاس رہی، میرا من سدا سوالوں سے بھرا رہا۔‘

    اور دوسری جگہ وہاں نشان لگائے ہیں جہاں کہانی میں سدھارتھ ’کملا‘ سے ملتا ہے۔ میں نے کتاب کے آخری صفحے پر ساحر لدھیانوی کا شعر لکھا:

    ’سنسار سے بھاگے پھرتے ہو بھگوان کو تم کیا پاؤ گے
    اس لوک کو بھی اپنا نہ سکے اس لوک میں بھی پچھتاؤ گے‘

    میری پیاری بہن! میں سدھارتھ اور کملا کا قصہ آدھے میں چھوڑ کر تم سے بھاشکر آچاریہ کی ’لیلاوتی‘ کا تذکرہ کرنا چاہتا ہوں۔

    برصغیر کے ریاضی دانوں میں بھاشکر آچاریہ کا نام نمایاں رہا ہے۔ 1114 میں جنم لینے والے بھاشکر 10 برس کی عمر میں نامور ریاضی دان اور نجوم کے ماہر، سداچاری، گنوان اور دھرماتما شخص مہیشور بھٹ کے شاگرد ہوئے، جن سے انہوں نے علمِ ریاضی اور نجوم میں مہارت حاصل کی اور ’بیج گنت‘ (ریاضی)، ’سدھانت سرومنی‘ (علمِ نجوم) اور ’لیلاوتی‘ (الجبرہ) کے نام سے سنسکرت زبان میں مختلف منظوم کتابیں لکھیں۔

    بھاشکر آچاریہ کی کتاب ’لیلاوتی‘ کے پس منظر میں ان کی زندگی کی ایک دلچسپ کہانی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ بھاشکر جب اپنے استاد مہیشور بھٹ کے آشرم میں تعلیم حاصل کر رہے تھے، تب استاد بھٹ کی بیٹی لیلاوتی بھی ساتھ پڑھتی تھی۔

    تعلیم کے دوران لیلاوتی، پریم کے رنگ میں رنگ کر بھاشکر کو سچے دل سے چاہنے لگی، لیکن بھاشکر کے دل میں اپنے استاد کی بیٹی کو بہن کا درجہ حاصل تھا۔

    لیلاوتی کے والدین نے اسے شادی کی پیشکش کی، لیکن اس نے صاف انکار کر دیا اور کہا: ’یہ ممکن ہی نہیں ہے۔ گرو کی بیٹی میری بہن ہے، اس سے شادی کیسے کروں؟‘

    بھاشکر کے انکار کرنے پر لیلاوتی نے قسم کھائی کہ وہ زندگی بھر شادی نہیں کرے گی۔ بھاشکر نے اسے ایسا کرنے سے روکا، لیکن وہ اپنی ضد پر قائم رہی۔

    بھاشکر اسی واقعے کے باعث استاد مہیشور بھٹ کے آشرم میں تعلیم ادھوری چھوڑ کر مشاہداتی و مطالعاتی تجربات کے لیے جنگل اور یوگیوں کے آشرموں کی طرف نکل گئے، جہاں انہوں نے اپنے علم کی بنیاد پر مختلف کتابیں تخلیق کرنا شروع کیں۔

    کافی عرصہ گزرنے کے بعد انہوں نے الجبرا کے بارے میں ایک کتاب لکھی جس کا نام لیلاوتی کے نام سے منسوب کرتے ہوئے ’لیلاوتی‘ رکھا۔

    پھر وہ تصنیف ’لیلاوتی‘ لے کر اپنے استاد کے در پر آئے تو پتا چلا کہ استاد کا تو انتقال ہو چکا ہے، اور بھاشکر کی صدا پر اسی سال کی بوڑھی عورت لیلاوتی نے جب دروازہ کھولا تو سامنے دیکھا کہ اس کی ہی عمر کا ایک ضعیف بوڑھا در پر کھڑا ہے۔

    پہلی نظر میں لیلاوتی اسے پہچان نہ سکی، لیکن بھاشکر نے جب کپڑے میں لپٹی کتاب نکال کر اس کے سامنے رکھی تو اس پر لکھا ’لیلاوتی‘ پڑھ کر وہ اسے پہچان گئی۔

    بے اختیار اس کے لبوں سے نکلا: ’اے میرے دل کے دیوتا!‘

    جواب میں بھاشکر نے پوری سنجیدگی و متانت سے کہا: ’اے میری بہن! تمہاری محبت امر ہے، تمہارے فراق نے مجھ سے یہ کتاب لکھوائی ہے۔‘

    بھاشکر کی ریاضی سے متعلق لکھی گئی کتاب ’لیلاوتی‘ کا فارسی میں ترجمہ فیضی نے اور انگریزی میں ڈاکٹر ٹیلر اور کولبرک نے کیا۔

    میری پیاری بہن! ’آگ کا دریا‘ میں قرۃ العین حیدر نے اپنے ایک کردار کی زبانی کہلوایا ہے کہ: ’صرف بوڑھی عورتیں امن چاہتی ہیں، لیکن دنیا کو بوڑھی عورتوں کی ضرورت نہیں۔‘

    میں یہ سطریں پڑھ کر حیرت میں پڑ گیا اور سوچنے لگا کہ قرۃ العین حیدر نے یہ سطریں کس کیفیت میں لکھی ہیں؟ کیا نوجوان لڑکیاں امن نہیں چاہتیں؟

    پھول، تتلی اور عورت امن کی علامت ہیں۔ سکون کا پیغام ہیں۔ چھوٹی بڑی ہر عورت کے اندر ماں کی ممتا ہوتی ہے۔ مجھے سندھی زبان کے خوبصورت شاعر مارو خشک کا یہ گیت بے اختیار یاد آ گیا:

    ’امن کی نگری، امن ہی چاہتی ہے
    چھوٹا بڑا ہر شخص سکون ڈھونڈ رہا ہے
    لمبی ہو یا پست قد، ہر عورت امن چاہتی ہے
    امن کی نگری، امن ہی چاہتی ہے…‘

    میٹھی نور جیسی میٹھی میری بہن!

    پروفیسر ساغر سمیجو میرے استاد، سندھ کے نامور شاعر پروفیسر سائیں داد ساند کے استاد رہے ہیں۔ پروفیسر ساغر سمیجو نے ایک بار سوال کیا تھا کہ ’تھر میں دین و دھرم کے عقیدے اور ایمان کی قسم کے علاوہ اور کون سی قسمیں کھائی جاتی ہیں؟‘

    سائیں ساغر کے سوال پر مجھے سب سے پہلے ’میٹھے نور‘ کی قسم یاد آئی تھی۔ تھر کے لوگوں کی قسموں میں جوانی کی قسم، باپ کی قسم، ماں کی قسم، بھائی کی قسم، بیٹے کی قسم، بیٹی کی قسم، بہن کی قسم، دودھ کی قسم، شام کی قسم، مانگ (سنگھار) کی قسم، تاروں بھری رات کی قسم، تمہاری قسم اور دیگر شامل ہیں۔

    تھر میں مجموعی طور پر کوئی بھی قسم جھوٹی نہیں کھائی جاتی، اور بہن تو بھائی کی قسم کبھی جھوٹی نہیں کھاتی؛ چلتے ہوئے پیر لڑکھڑائے تب بھی یہی کہتی ہے کہ ’میرا بھائی بچ جائے…‘

    صحرائی لوک روایتوں کی روشنی میں کہا جاتا ہے کہ ’بہن کا من مکھن، بھائی کا من پتھر‘؛ لیکن میں نے کبھی اپنی بہنوں کے لیے اپنا من پتھر نہیں کیا، سدا مکھن جیسا ملائم رکھا ہے۔

    میرے ہاتھ کی کلائی پر راکھی پورنم پر باندھی گئی بہنوں کی راکھیاں بارہ مہینے بندھی رہتی ہیں۔ مجھے راکھی پورنم کا تہوار برصغیر کے تمام تہواروں سے زیادہ پسند ہے۔

    اس تہوار پر محبت کے اٹوٹ رشتے میں رنگ کر کچے دھاگے کتنے مضبوط ہو جاتے ہیں۔ کسی کی بہن نہ ہو تو وہ منہ بولی بہن بنا لیتا ہے، اور اسی طرح کسی بہن کا بھائی نہ ہو تو وہ دھرم کا بھائی بنا لیتی ہے۔

    میری مٹھڑی ادی (پیاری بہن)!

    تھر کے دیہاتوں میں بھائی چارے اور رواداری کی ایسی کئی لوک دانائی کی خوشبو میں مہکتی رسمیں موجود ہیں، جو وقت کی دھند میں مدہم ضرور ہوئی ہیں، لیکن ان کا وجود مکمل ختم نہیں ہوا۔

    شادی کے موقع پر دولہا کو تیار کر کے گاؤں کا چکر لگوانے کے بعد چچا کے گھر اتارا جاتا ہے۔ اگر گاؤں میں کسی برادری کا صرف ایک گھر ہے، تو برابر میں رہنے والا دوسری برادری کا شخص اسے دھرم کا بھتیجا بنا کر اپنے گھر اتارتا ہے، جہاں اس کی بیٹی دولہا کی بہن بن کر ’گھوریا پانی‘ (صدقے کا پانی) پیتی ہے۔

    اسی طرح دھرم کے دستور کے تحت تھر کی برادریوں میں ’کھوڑا دینا‘ (گود دینا) کا بڑا رواج ہے۔ جب بارات بیاہ کر واپس گاؤں آتی ہے، تو سب سے پہلے دلہن کے جہیز میں شامل ’کھوڑے کا لوٹا‘ کسی کے حوالے کیا جاتا ہے۔

    اس رسم کے بعد دلہن، کھوڑے کا لوٹا لینے والے کی بیٹی بن جاتی ہے، پھر وہ نہ صرف پوری عمر اسے اپنی بیٹی سمجھ کر رشتہ نبھاتا ہے بلکہ اس کی اولاد بھی اسی رشتے کی روایت کو برقرار رکھتی ہے۔

    کہا جاتا ہے کہ ’خون کے رشتے میں پشتیں بدلتی ہیں، لیکن دھرم کے رشتے میں نسلیں الگ نہیں ہوتیں‘۔

    میری پیاری بہن! ایک بہن اپنے بھائی کے لیے ماں کی عدم موجودگی میں ماں کے تمام فرائض نبھاتی ہے، تو اسی طرح کہیں بھائی اپنی بہن کے لیے باپ جیسے فرائض نبھاتا ہوا نظر آتا ہے۔

    میری پیاری بہن!

    تھر میں کڑی دوپہر کا وقت ہے، بجلی چلی گئی ہے، گرمی کی وجہ سے میں اپنی چارپائی اٹھا کر دیوی کے بڑے درخت کے نیچے آ بیٹھا ہوں۔

    ایک یونانی کہاوت یاد آ رہی ہے کہ ’گھر میں ایک درخت اور بیٹی کا ہونا ضروری ہے، کیونکہ درخت تپش میں چھاؤں دیتا ہے اور بیٹی تکلیف میں والدین کا سہارا بنتی ہے۔‘

    میرے گھر میں دیوی کا یہ گھنا درخت تو ہے، لیکن بیٹی نہیں ہے۔ بہنیں بھی چڑیوں کی طرح اڑ کر اپنے گھر بسا چکی ہیں۔

    دل کی حسرت سے میری آنکھیں بھر آئی ہیں۔ میں قلم چھوڑ کر اپنے آنسو پونچھنا چاہتا ہوں۔ مزید احوال پھر کبھی ہوں گے۔

    چڑیوں کے اڑنے سے یاد آیا کہ تھر کے نامور افسانہ نگار پیارے دوست نصیر کنبھر کا افسانوی مجموعہ ’جھُرکِیُوں اُوڈامی وِیوُوں‘ (چڑیاں اڑ گئیں) موقع ملے تو کبھی ضرور پڑھنا۔

    ساتھ سامت، میری بہن، سدا جیتی رہو!

    تمام انگریزی الفاظ اور قوسین میں دی گئی انگریزی عبارتیں نکال دی ہیں، تمام اقتباسات کے لیے صرف ایک ہی قسم کی ’واحد واوین‘ استعمال کی ہیں، اور پیراگراف کے درمیان مناسب خالی جگہ رکھی ہے۔

  • ناول نگار محمد حنیف کا نیا ناول ‘دی ریبل انگلش اکیڈمی’ شائع ہوگیا

    ناول نگار محمد حنیف کا نیا ناول ‘دی ریبل انگلش اکیڈمی’ شائع ہوگیا

    ملک کے نامور صحافی اور ناول نگار محمد حنیف کا نیا ناول ‘دی ریبل انگلش اکیڈمی’ گروو پریس برطانیہ کے تحت شائع ہو چکا ہے۔

    محمد حنیف کا یہ چوتھا ناول ہے۔ ناول نگاری کی دنیا میں انہوں نے اپنے پہلے ناول ‘اے کیس آف ایکسپلوڈنگ مینگوز’ سے اپنا لوہا منوایا تھا۔ ملک پر آج بھی آسیب کی طرح چھائے ہوئے جنرل ضیاءالحق کی موت پر لکھے گئے اس ناول کے لیے حنیف نے کہا تھا، ‘میں نے ایکسپلوڈنگ مینگوز میں ضیاء کی موت کی مسٹری کو فکشن کے ذریعے حل کرنے کی کوشش کی ہے’۔

    اے آئی کے زمانے میں کتابیں لکھنا اور پڑھنا ایک جتنا ہی مشکل کام ہے، مگر محمد حنیف نے اپنی جادوئی قلم نگاری سے اپنے پڑھنے والوں کا ایک بہت بڑا حلقہ بنائے رکھا ہے۔

    2008 میں جب ان کا یہ پہلا ناول شائع ہوا تھا تو انہوں نے کہا تھا، ‘پہلا ناول چھاپنے کے لیے پبلشر ڈھونڈنا قسمت کے خلاف جوا کھیلنے کے مترادف ہے’، مگر جس طرح تھرپارکر کے ہندو بیوپاریوں میں عام کہاوت ہے کہ ‘سب سے مشکل کام پہلا لاکھ کمانا ہے، پھر آگے آسانی ہو جاتی ہے’، اسی طرح حنیف کا پہلا ناول ہی انہیں شہرت کی بلندیوں پر لے گیا۔

    یہی وجہ ہے کہ ان کے ہر نئے ناول کا پڑھنے والوں کو بے صبری سے انتظار رہتا ہے۔

    اس مرتبہ محمد حنیف طاقت اور سیاست کے باہمی تعلق کو سامنے لے کر آئے ہیں۔ یہ ناول قاری کو ایک ایسے سماج میں لے جاتا ہے جہاں انگریزی محض زبان نہیں بلکہ اختیار اور طبقاتی فرق کی علامت بن جاتی ہے۔

    محمد حنیف کی تحریر کا نمایاں پہلو طنز، سیاسی شعور اور عام آدمی کی زندگی سے جڑی تلخ حقیقتیں ہیں۔ صحافت کے تجربے نے ان کے فکشن کو ایک ایسا بیانیہ دیا ہے جو سوال اٹھاتا ہے اور قاری کو بے چین بھی کرتا ہے۔

    ناول ‘ریبل انگلش اکیڈمی’ کی کہانی ایک ایسے قصبے میں ترتیب دی گئی ہے جہاں ریاستی دباؤ، خوف اور سیاسی بے یقینی روزمرہ زندگی کا حصہ ہیں۔ کہانی کا مرکز ایک انگلش اکیڈمی ہے، جہاں لوگ بہتر مستقبل کی امید کے ساتھ آتے ہیں، مگر جلد ہی یہ واضح ہو جاتا ہے کہ زبان سیکھنا یہاں محض تعلیم نہیں بلکہ طاقت کے نظام میں داخل ہونے کی کوشش بھی ہے۔

    ناول کے کردار عام اور پہچانے ہوئے ہیں، استاد، طالب علم اور وہ لوگ جو نظام کے قریب یا اس کے حاشیے پر کھڑے ہیں۔ محمد حنیف ان کرداروں کو کسی خطابت کے بغیر آہستہ آہستہ کھولتے ہیں۔ مکالموں میں طنز ہے، مگر یہ طنز ہنسانے سے زیادہ چبھنے کے لیے ہے۔

    ‘ریبل انگلش اکیڈمی’ میں محبت اور سیاست ساتھ ساتھ چلتی ہیں، مگر کسی رومانوی مبالغے کے بغیر۔ سیاست یہاں پس منظر نہیں بلکہ کرداروں کی نجی زندگی میں سرایت کیے ہوئے ہے۔ زبان کبھی آزادی کی امید بنتی ہے اور کبھی کنٹرول کا ذریعہ۔ یہی کشمکش اس ناول کو محض کہانی سے آگے لے جاتی ہے۔

    یہ کتاب پاکستانی سماج کو باہر سے نہیں بلکہ اندر سے دیکھتی ہے۔ یہ کسی ایک دور تک محدود نہیں رہتی بلکہ ایک ایسی مسلسل کیفیت کو بیان کرتی ہے جو آج بھی موجود ہے۔ ‘ریبل انگلش اکیڈمی’ ان قارئین کے لیے اہم ہے جو ادب کے ذریعے زبان، طاقت اور سماج کے رشتے کو سمجھنا چاہتے ہیں۔

    یہ ناول ختم ہونے کے بعد بھی قاری کے ذہن میں سوال چھوڑ جاتا ہے، اور یہی محمد حنیف کے فکشن کی اصل پہچان ہے۔

  • آمریت کے سائے میں محبت، خواب اور ٹوٹتا ہوا سماج: ارشد وحید کے انگریزی ناول’Other Days’ کے سندھی ترجمے کا جائزہ

    آمریت کے سائے میں محبت، خواب اور ٹوٹتا ہوا سماج: ارشد وحید کے انگریزی ناول’Other Days’ کے سندھی ترجمے کا جائزہ

    دنیائے ادب میں ناول فکشن کی ایک مقبول ادبی صنف ہے ۔ عالمی ادب میں کچھ ناول نگاروں کے ناولز کو شاہکار مانا جاتا ہے۔

    دنیا کے مشہور ناول نگاروں کی ایک طویل لسٹ بنائی جاسکتی ہے ۔ دنیا کے کئی مشہور ناولز پر ہالیووڈ اور بالیووڈ میں فلمیں بھی بنائی جاتی رہی ہیں ۔
    بر صغیر پاک و ہند میں بھی اردو میں کئی مشہورناول لکھے گئے ہیں ۔ اسی طرح پاکستان کی صوہائی زبانوں میں بھی قابل ذکر ادبی تخلیقیں شایع ہوتی ہیں ۔ اور دنیا کے اور ملک کے ادبی کتابوں کے تراجم بھی شایع ہوتے ریتے ہیں ، خاص طور پر سندھی زبان میں شاعری اور ادب نے بہت ترقی کی ہے ۔

    سندھی زبان میں بھی بہت سے مشہور ناول لکھے جا چکے ہیں۔ سندھی کے مشہور ناول نگاروں میں سراج ، آغا سلیم ، علی بابا ، حلیم بروہی اورامر جلیل کے لکھے ہوئے ناول نمایاں اور سر فہرست ہیں۔ سندھی میں موجودہ دور میں ناول لکھنے کا رجحان کافی بڑہا ہے۔ سندھی زبان میں ہمیشہ کتابیں چھپتی رہتی ہیں اورپڑھنے والوں کی بڑی تعداد سوشل میڈیا کے انفلوئنس کے باوجود اب بھی کتابیں پڑھتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ نہ صرف سندھی میں کتابیں چھپتی ہیں بلکہ دوسری زبانوں سے کتابیں ترجمہ بھی کی جاتی ہیں۔
    آج ہم ایک ایسی ہی کتاب پر بات کریں گے جو حال ہی میں سندھی میں ترجمہ ہوکر شایع ہوئی ہے ۔

    ملک کے انگریزی اور اردو کے نامور رائیٹر ارشد وحید کے ایک انگریزی ناول’Other Days’
    جس کو پاکستان اکیڈمی آف لیٹرس کی طرف سے 2022 میں پطرس بخاری ایوارڈ بھی مل چکا ہے۔ اس ناول سے پہلے بھی ارشد وحید کی کئی تصانیف اور تراجم شایع ہوچکے ہیں ۔
    حال ہی میں اس ناول کے سندھی ترجمے کی کتاب ’بیا ڈینھن‘ کے ٹائیٹل کے ساتھ شایع ہوئی ہے۔ اس ناول کا سندھی ترجمہ سندھ کے سینیئرادیب اور صحافی نصیر اعجاز نے کیا ہے۔ 294 صفحات اور خوبصورت ٹائیٹل اور عمدہ چھپائی پر مشتمل اس عمدہ ناول کا کوئی بڑا دیباچہ شامل نہیں ہے ، سچ تو یہ ہے کہ عمدہ کتابوں کو اس کی ضرورت بھی نہیں ہوتی۔ امید ہے کہ یہ ناول سندھی ادب میں ترجمہ کی ہوئی اچھی اور اہم کتابوں کی لسٹ میں شمار ہوگا۔

    ناول کا آغاز ہیروئن سارا کی اپنے پرانے کلاس فیلو دائود کے ساتھ طویل عرصے کے بعد اچانک ملاقات سے ہوتی ہے۔اور پھر ان کا ماضی جیسے لوٹ آتا ہے۔ یہاں سے مصنف نے فلیش بیک ٹیکنیک کا خوبصورتی سے استعمال کرتے ہوئے کہانی کا پس منظر بیان کیا ہے۔

    مارشل لا لگنے کے بعد جنرل ضیا نے مذہب کا بے دریغ استعمال کیا، سخت قوانین نافذ کیے اور جبر و وحشت کو ملک کے عوام پر مسلط کیا۔ اس بدترین آمریت میں نوجوان طلبا پر کیا گذری اور مذہبی انتہاپسندی کی شدت میں اضافے نے ملک کے سماج کو کس طرح متاثر کیا یہ سب فنکارانہ انداز میں ناول میں بیان کیا گیا ہے۔

    یہ ناول ضیاء آمریت کے جبر کی تاریخ ہے جس نے ملک کا چہرہ مسخ کردیا اور آج تک وہ نقش مٹ نہیں پائے ہیں ۔ ضیاء آمریت کا دور سیاسی و فکری آزادیوں پر سخت پابندیوں اور جبر کا دور تھا، جس سے وابستہ تلخ سچائیوں کو اس ناول میں ادبی مہارت کے ساتھ اجاگر کیا گیا ہے ۔

    ناول کا مرکزی خیال اہم اور حقیقت کے قریب ہے۔ رائیٹر کہیں بھی خطبہ نہیں دیتے نہ ہی اپنے خیالات و نظریات قاری پر مسلط کرتے ہیں۔ کیونکہ ادب کا کام ہی یہ ہے کہ وہ تاریخ کو بھولنے نہ دے اور اس کا فطری اظہار کرے۔ ناول کا دردناک پہلو وہ ہے جہاں طلبا سیاست تشدد پسند گروہوں میں تبدیل ہو جاتی ہے، اور ایک جگہ ترقی پسند طلبا پر ہونے والا حملا سماج کی بیمار نفسیات اور مذہبی شدت پسندی کی ریاستی سرپرستی کا ثبوت دیتا ہے۔ ناول کا فنی اسلوب مضبوط، کردار حقیقی اور جاندار، زبان سادہ اور سمجھ میں آنے والی ہے۔

    مرکزی کرداروں سارا اور دائود کا اس تکلیف دہ واقعے کے بعد بچھڑ کے ملک سے باہر چلے جانا اور لمبے عرصے کے بعد واپسی، اپنے ماضی کے مناظر اور کرداروں سے ملنے کی خواہش کہانی کو آگے لے جاتی ہے۔

    دائود جو اپنی کہانی لکھنے کے لئے واپس وطن آتا ہے، اسی لئے ماضی کےکرداروں اورپرانی جگہوں کو ڈھونڈتا رہتا ہے، لیکن لمبے عرصے کےبعد واپس آنے والوں کے لئے سب کچھ ویسا نھیں رہتا، بہت کچھ بدل جاتا ہے، جگہیں، گلیاں، لوگ، اور یہاں تک کہ وہ خود بھے ویسے نھیں رہتے۔

    دائود کےماضی کی یادوں کے نقش دھندلا چکے ہوتے ہیں، یادیں ادھوری ہیں اور وہ کردار جوماضی میں اس کے ساتھ تھے اب سایوں میں تبدیل ہوچکے ہیں۔ یہ نفسیاتی حقیقت ناول میں فنکارانہ انداز میں دکھائی گئی ہے ۔

    اپنی کہانی کے کردار نہ ملنا ایک فنکار/ لکھاری کے لئے اذیتناک ہے ۔کردار نہ ملنے کے بعد وہ اپنی کہانی میں ایک علامتی پتلی تماشا سجاتا ہے اور ان پتلیوں سے اپنے ماضی کے کردار ادا کرنے کے لئے کہتا ہے لیکن ایسا نہیں ہوپاتا ۔ ناول کا یہ حصہ بہت متاثرکن اوراداس کردینے والا ہے ۔ پتلی تماشہ ناول میں ایک زبردست علامت اور Metafictional ہے جو جدید ادب کا اہم اسلوب ہے ۔

    کردار لکھاری کے غلام نہیں ہوتے اور وہ اپنی تاریخ میں زندہ رہتے ہیں۔ یادیں لکھنے والے کے کنٹرول سے باہر بھی وجود رکھتی ہیں۔ معاشرہ ٹوٹ چکا ہے اور لوگ پُتلے اور ہیولے کی طرح بن گئے ہیں۔ جو یہ دکھاتے ہیں کہ جبر کا دور لوگوں کے اندر کی طاقت ، آزادی اور آواز چھین لیتا ہے ۔

    لوگوں کے کردار اصل نہیں رہے۔ فقط شکلیں رہ گئیں اور مجبوری اور خوف۔ لوگ اپنی مرضی سے کچھ نہیں کرسکتے۔ کسی کے ہاتھوں میں ان کی ڈور ہے اور وہ پتلے بن گئے ہیں۔ وہ کردار جو ماضی میں مضبوط، روشن اور جاندار تھے، وہ سائے بن گئے ، اپنے رنگ اور اپنی آواز کھو بیٹھے۔
    یہ سماجی بربادی کا عظیم استعارہ ہے۔

    ادبی فکر کافکا اور میلان کنڈیرا کے پاس ملتا ہے۔ یہ ناول کا سب سے گہرا ،فکری اورعلامتی حصہ ہے جہاں ناول نگار زندگی، تاریخ، سیاست اور ادب کو ایک نقطے پر لاکر جوڑتا ہے۔ ناول کے کرداروں کی ٹریجڈی یہ ہے کہ انہوں نے محبت، آزادی اور برابری کے خواب دیکھے لیکن وہ خواب پورے نہیں ہوسکے۔

    ان لوگوں کے صرف خواب ہی نہیں ٹوٹے، بلکہ وہ اپنے ہونےکا جواز ہی گنوا بیٹھے۔ جب آپ کے آدرش باقی نہ رہیں توجینے کا جواز کیا رہ جاتا ہے؟ ناول بڑی خوبصورتی سے یہ سوال اٹھاتا ہے۔

    وجودیت کا بڑا المیہ ہے کہ انسان اپنے لیے اجنبی بن جائے۔ اس ناول کا کمال سیاسی شکست کو وجودیت کے سوال میں بدلنا ہے۔ یہ ناول انسانی روح کی شکست کا نوحہ ہے جو پڑھنے والے کو یہ سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ جو انسان اپنے خواب گنوا بیٹھے کیا وہ واقعی زندہ ہے؟

    نہ پھول تھے نہ چمن تھا نہ آشیانا تھا
    چھوٹے اسیر تو بدلا ہوا زمانہ تھا ۔
    مرزا سلامت علی دبیر