سندھ کے ضلع بدین میں واقع شکور جھیل کے ماہی گیروں کے مطابق جھیل کے درمیاں گزرنے والے پاکستان، انڈیا سرح پر انڈیا کی جانب سے بارڈر سیکورٹی کے ایک دیوار نما روڈ تعمیر کرانے سے مچھلیوں کو پاکستان آنے سے روک دیا گیا ہے۔
شکور جھیل پر کئی دہائیوں سے ماہی گیری کرنے والے مقامی ماہی گیر غلام رسول ملاح نے ساگا ڈیجیٹل کو بتایا: ‘دیوار نما روڈ کے باعث کئی اقسام کی مچھلیاں اب پاکستان نہیں آتیں، اس لیے مقامی ماہی گیر بے روزگار ہوگئے ہیں۔’
شکور جھیل پاکستان اور انڈیا کے درمیان واقع ایک قدرتی آبی ذخیرہ ہے۔ یہ جھیل رن آف کچھ کے نیم صحرائی خطے میں واقع ہے اور زمینی سرحد جھیل کے عین درمیان سے گزرتی ہے۔ اسی وجہ سے شکور جھیل دونوں ممالک کے درمیان قدرتی سرحدی جھیل کے طور پر جانی جاتی ہے۔
دستیاب جغرافیائی نقشوں اور سیٹلائٹ امیجز کے مطابق شکور جھیل کا کل رقبہ اندازاً 150 مربع کلومیٹر بنتا ہے۔ اس میں سے تقریباً 90 مربع کلومیٹر حصہ پاکستان میں جبکہ تقریباً 60 مربع کلومیٹر حصہ انڈیا میں واقع ہے۔ یہ تقسیم کسی تحریری آبی معاہدے کے تحت نہیں بلکہ بین الاقوامی زمینی سرحد کے مطابق ہے۔
انڈیا کی جانب شکور جھیل کے شمال مشرقی حصے کے ساتھ ایک بارڈر روڈ تعمیر کی گئی ہے۔ سرکاری طور پر یہ سڑک سرحدی نگرانی، لاجسٹکس اور سیکیورٹی مقاصد کے لیے بنائی گئی۔ یہ سڑک انڈو پاک بین الاقوامی سرحد کے ساتھ ساتھ چلتی ہے اور زمینی ساخت کے باعث کئی مقامات پر اونچی بند نما شکل اختیار کر چکی ہے۔
یہ بات سرکاری طور پر تسلیم شدہ ہے کہ سرحدی علاقوں میں بننے والی یہ سڑکیں فوجی اور سیکیورٹی ضروریات کے تحت تعمیر کی جاتی ہیں۔ تاہم ان سڑکوں کی تعمیر کے دوران قدرتی آبی نظام یا آبی حیات کی نقل و حرکت سے متعلق کوئی مشترکہ سرحدی ماحولیاتی فریم ورک موجود نہیں۔
مقامی ماہی گیروں کا کہنا ہے کہ ماضی میں مون سون کے دوران شکور جھیل ایک مکمل آبی اکائی بن جاتی تھی اور پانی، مچھلی اور دیگر آبی حیات پورے جھیل میں آزادانہ طور پر پھیل جاتی تھیں۔ اب ان کے مطابق بارڈر روڈ جھیل کے قدرتی پھیلاؤ کو متاثر کر رہی ہے، جس کے باعث مچھلی کی آمد میں کمی محسوس ہو رہی ہے۔ یہ شکایت مقامی سطح پر بارہا سامنے آ چکی ہے، تاہم اس حوالے سے کسی سرکاری سائنسی تحقیق یا مشترکہ مطالعے کی رپورٹ تاحال دستیاب نہیں۔
ماحولیاتی ماہرین عمومی طور پر یہ مؤقف رکھتے ہیں کہ جب سرحدی انفرا اسٹرکچر قدرتی آبی راستوں پر بنایا جائے تو اس کے اثرات صرف جغرافیائی نہیں بلکہ ماحولیاتی بھی ہو سکتے ہیں۔ شکور جھیل جیسے آبی ذخائر میں پانی کی قدرتی گردش، مچھلیوں کی افزائش اور مہاجر پرندوں کی موجودگی ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہوتی ہے۔
شکور جھیل اس حقیقت کی واضح مثال ہے کہ سرحدی انتظامی فیصلے جب قدرتی نظام کے ساتھ متوازن نہ ہوں تو ان کے اثرات مقامی آبادی تک پہنچتے ہیں۔ یہ جھیل آج ایک آبی ذخیرے کے ساتھ ساتھ ایک حساس سرحدی اور ماحولیاتی مسئلہ بھی بن چکی ہے۔
