Tag: بدین

  • بدین: منشیات کے پیسوں کے لیے بیٹے نے ماں کو قتل کر دیا: پولیس

    بدین: منشیات کے پیسوں کے لیے بیٹے نے ماں کو قتل کر دیا: پولیس

    کامران خمیسو خواجہ بدین پولیس کے مطابق گاؤں عرس ملاح میں نوجوان نے منشیات خریدنے کے پیسے نہ دینے پر اپنی ماں کو قتل کر دیا۔

    پولیس کی مطابق نوجوان کرسٹل میتھ، جسے مقامی زبان میں ‘آئس’ کہا جاتا ہے، کا عادی تھا اور اس نے ماں سے پیسے طلب کیے۔ انکار پر کلہاڑی کے وار کر کے ماں کو قتل کر دیا۔

    واقعے کی اطلاع ملنے پر مقامی افراد نے پولیس کو آگاہ کیا، جس کے بعد بدین پولیس کی بھاری نفری موقع پر پہنچی۔ پولیس نے ملزم کو آلہ قتل سمیت گرفتار کر لیا۔ واقعے کا مقدمہ مقتولہ کے بھائی کی مدعیت میں مقامی تھانے میں درج کر لیا گیا ہے۔

    مقامی ذرائع کے مطابق زیریں سندھ کے اضلاع بدین، سجاول، ٹھٹھہ، ٹنڈو محمد خان اور حیدرآباد میں نوجوانوں میں منشیات کا استعمال تشویشناک حد تک بڑھ چکا ہے۔

  • سانگھڑ اور بدین ڈیجیٹل دور میں داخل: چار ارب روپے کے براڈبینڈ منصوبے پر دستخط

    سانگھڑ اور بدین ڈیجیٹل دور میں داخل: چار ارب روپے کے براڈبینڈ منصوبے پر دستخط

    سندھ گورنر ہاؤس میں منعقدہ ایک اہم تقریب کے دوران وفاقی وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن شزا فاطمہ خواجہ نے ضلع سانگھڑ اور بدین میں ڈیجیٹل کنیکٹیویٹی بہتر بنانے کے ایک بڑے منصوبے کے معاہدے پر دستخط کیے۔ یہ منصوبہ وفاقی حکومت، یونیورسل سروس فنڈ (USF) اور نجی شعبے کے تعاون سے شروع کیا جا رہا ہے جس کا مقصد سندھ کے دیہی اور پسماندہ علاقوں کو تیز رفتار انٹرنیٹ سے جوڑنا ہے۔

    تقریب میں وفاقی اور صوبائی حکام، آئی ٹی کمپنیوں کے نمائندوں اور دیگر متعلقہ اداروں کے عہدیداروں نے شرکت کی۔ حکام کے مطابق اس منصوبے پر تقریباً چار ارب روپے لاگت آئے گی اور اس کے مکمل ہونے سے سانگھڑ اور بدین کے لاکھوں افراد جدید ڈیجیٹل سہولتوں سے مستفید ہوں گے۔

    حکومت کی جانب سے شروع کیے گئے اس منصوبے کے تحت دونوں اضلاع میں 400 کلومیٹر سے زائد فائبر آپٹک لائنیں بچھائی جائیں گی تاکہ دور دراز علاقوں میں بھی تیز رفتار انٹرنیٹ دستیاب ہو سکے۔ اس منصوبے کا بنیادی مقصد دیہی علاقوں میں ڈیجیٹل سہولتوں کی کمی کو دور کرنا اور شہری و دیہی علاقوں کے درمیان ڈیجیٹل فرق کو کم کرنا ہے۔
    ماہرین کے مطابق اس منصوبے سے مقامی کاروبار، تعلیمی اداروں، سرکاری دفاتر اور عام شہریوں کو انٹرنیٹ کے ذریعے جدید خدمات تک رسائی حاصل ہوگی۔ خاص طور پر آن لائن تعلیم، ای-کامرس، ٹیلی میڈیسن اور سرکاری خدمات کے ڈیجیٹل نظام کو فروغ ملے گا۔

    سندھ کے لیے منصوبے کی اہمیت
    یہ منصوبہ سندھ کے ان علاقوں کے لیے انتہائی اہم سمجھا جا رہا ہے جہاں انٹرنیٹ کی سہولت محدود یا نہ ہونے کے برابر تھی۔ بہتر ڈیجیٹل کنیکٹیویٹی سے نہ صرف نوجوانوں کے لیے آن لائن تعلیم اور فری لانسنگ کے مواقع بڑھیں گے بلکہ چھوٹے کاروبار بھی ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے ذریعے اپنے کاروبار کو وسعت دے سکیں گے۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ سندھ کے دیہی علاقوں میں انٹرنیٹ کی بہتر سہولت ملنے سے آئی ٹی سے وابستہ روزگار کے مواقع بڑھیں گے اور صوبے کی معیشت کو بھی فائدہ پہنچے گا۔ اس کے ساتھ ساتھ حکومتی خدمات کی آن لائن فراہمی سے عوام کو سرکاری دفاتر کے چکر لگانے کی ضرورت بھی کم ہوگی۔

    تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر شزا فاطمہ خواجہ نے کہا کہ سانگھڑ اور بدین کے لیے شروع کیا جانے والا منصوبہ ڈیجیٹل پاکستان وژن کی ایک اہم کڑی ہے اور اس سے لاکھوں افراد کو فائدہ ہوگا۔ ان کے مطابق سانگھڑ ضلع میں چار سو کلومیٹر سے زائد فائبر کیبل بچھائی جائے گی جس کے ذریعے 54 ٹاؤنز اور یونین کونسلز کو کور کیا جائے گا اور تقریباً 14 لاکھ افراد مستفید ہوں گے، جبکہ بدین ضلع کے 144 دیہات اور تقریباً ساڑھے چار لاکھ افراد کو بھی اس منصوبے سے فائدہ پہنچے گا۔

    گورنر سندھ کامران ٹیسوری نے اپنے خطاب میں کہا کہ صوبے کے دور دراز علاقوں میں انٹرنیٹ کی فراہمی سندھ کے عوام کے لیے بڑی خوشخبری ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ڈیجیٹل کنیکٹیویٹی بہتر ہونے سے نوجوانوں کے لیے روزگار اور تعلیم کے مواقع بڑھیں گے جبکہ کاروباری سرگرمیوں کو بھی فروغ ملے گا۔

    انہوں نے امید ظاہر کی کہ اس منصوبے کے بعد صوبے کے دیگر اضلاع میں بھی اسی نوعیت کے منصوبے شروع کیے جائیں گے تاکہ پورے سندھ میں ڈیجیٹل ترقی کا عمل تیز ہو سکے۔

    مقامی آبادی کے لیے ممکنہ فوائد
    اس منصوبے سے سانگھڑ اور بدین کے تقریباً اٹھارہ لاکھ سے زائد افراد مستفید ہوں گے۔ بہتر انٹرنیٹ سہولت کی بدولت طلبہ آن لائن کلاسز اور ڈیجیٹل لرننگ پلیٹ فارمز سے فائدہ اٹھا سکیں گے، جبکہ کاروباری افراد ای-کامرس کے ذریعے اپنی مصنوعات ملکی اور بین الاقوامی منڈیوں تک پہنچا سکیں گے۔

    اس کے علاوہ صحت کے شعبے میں ٹیلی میڈیسن کے ذریعے شہری بڑے شہروں کے ماہر ڈاکٹروں سے آن لائن مشورہ حاصل کر سکیں گے، جس سے صحت کی سہولتوں میں نمایاں بہتری آئے گی۔

    ماہرین کے مطابق ڈیجیٹل انفراسٹرکچر میں سرمایہ کاری سے آئی ٹی سیکٹر کی ترقی میں مزید تیزی آئے گی اور پاکستان کی آئی ٹی برآمدات میں بھی اضافہ ہوگا۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ ڈیجیٹل پاکستان پروگرام کے تحت ایسے منصوبے ملک کی معیشت کو جدید ٹیکنالوجی سے ہم آہنگ بنانے میں اہم کردار ادا کریں گے۔

    وفاقی وزارت آئی ٹی نے اعلان کیا ہے کہ سانگھڑ اور بدین کے بعد دیگر پسماندہ علاقوں میں بھی اسی طرز کے منصوبے شروع کیے جائیں گے تاکہ پورے ملک میں یکساں ڈیجیٹل سہولتیں فراہم کی جا سکیں۔ اس مقصد کے لیے سرکاری اور نجی اداروں کے درمیان شراکت داری کو مزید مضبوط کیا جائے گا۔

    ڈیجیٹل کنیکٹیویٹی پروجیکٹ کیا ہے؟
    ڈیجیٹل کنیکٹیویٹی پروجیکٹ دراصل حکومتِ پاکستان کا وہ پروگرام ہے جس کے ذریعے ملک کے دور دراز اور پسماندہ علاقوں کو تیز رفتار انٹرنیٹ، موبائل براڈبینڈ اور فائبر آپٹک نیٹ ورک سے جوڑا جا رہا ہے۔ اس منصوبے کا بنیادی مقصد شہری اور دیہی علاقوں کے درمیان ڈیجیٹل فرق کو کم کرنا، آن لائن تعلیم، کاروبار، ای-گورننس اور آئی ٹی روزگار کے مواقع بڑھانا ہے۔
    یہ منصوبے زیادہ تر یونیورسل سروس فنڈ پاکستان (USF) کے ذریعے چلائے جا رہے ہیں، جو ٹیلی کام کمپنیوں کے تعاون سے ان علاقوں میں نیٹ ورک قائم کرتا ہے جہاں نجی کمپنیاں تجارتی بنیادوں پر سرمایہ کاری نہیں کرتیں۔

    حکومت پاکستان نے رواں مالی سال کے دوران یو ایس ایف کو تقریباً 22 ارب روپے جاری کیے ہیں تاکہ پورے ملک کے پسماندہ اضلاع میں یہ سروس شروع کی جا سکے، جبکہ حال ہی میں یو ایس ایف اور جاز کے درمیان ایک معاہدے کے تحت پنجاب اور خیبر پختونخوا کے نو اضلاع میں بھی اسی نوعیت کے منصوبے شروع کیے جا رہے ہیں۔

  • ‘سندھ: بدین کی شکور جھیل کے درمیاں گزرنے والے سرحد پر انڈیا نے دیوار نما روڈ بنا کر مچھلیوں کو پاکستان آنے سے روک دیا’

    ‘سندھ: بدین کی شکور جھیل کے درمیاں گزرنے والے سرحد پر انڈیا نے دیوار نما روڈ بنا کر مچھلیوں کو پاکستان آنے سے روک دیا’

    سندھ کے ضلع بدین میں واقع شکور جھیل کے ماہی گیروں کے مطابق جھیل کے درمیاں گزرنے والے پاکستان، انڈیا سرح پر انڈیا کی جانب سے بارڈر سیکورٹی کے ایک دیوار نما روڈ تعمیر کرانے سے مچھلیوں کو پاکستان آنے سے روک دیا گیا ہے۔

    شکور جھیل پر کئی دہائیوں سے ماہی گیری کرنے والے مقامی ماہی گیر غلام رسول ملاح نے ساگا ڈیجیٹل کو بتایا: ‘دیوار نما روڈ کے باعث کئی اقسام کی مچھلیاں اب پاکستان نہیں آتیں، اس لیے مقامی ماہی گیر بے روزگار ہوگئے ہیں۔’

    شکور جھیل پاکستان اور انڈیا کے درمیان واقع ایک قدرتی آبی ذخیرہ ہے۔ یہ جھیل رن آف کچھ کے نیم صحرائی خطے میں واقع ہے اور زمینی سرحد جھیل کے عین درمیان سے گزرتی ہے۔ اسی وجہ سے شکور جھیل دونوں ممالک کے درمیان قدرتی سرحدی جھیل کے طور پر جانی جاتی ہے۔

    دستیاب جغرافیائی نقشوں اور سیٹلائٹ امیجز کے مطابق شکور جھیل کا کل رقبہ اندازاً 150 مربع کلومیٹر بنتا ہے۔ اس میں سے تقریباً 90 مربع کلومیٹر حصہ پاکستان میں جبکہ تقریباً 60 مربع کلومیٹر حصہ انڈیا میں واقع ہے۔ یہ تقسیم کسی تحریری آبی معاہدے کے تحت نہیں بلکہ بین الاقوامی زمینی سرحد کے مطابق ہے۔

    انڈیا کی جانب شکور جھیل کے شمال مشرقی حصے کے ساتھ ایک بارڈر روڈ تعمیر کی گئی ہے۔ سرکاری طور پر یہ سڑک سرحدی نگرانی، لاجسٹکس اور سیکیورٹی مقاصد کے لیے بنائی گئی۔ یہ سڑک انڈو پاک بین الاقوامی سرحد کے ساتھ ساتھ چلتی ہے اور زمینی ساخت کے باعث کئی مقامات پر اونچی بند نما شکل اختیار کر چکی ہے۔

    یہ بات سرکاری طور پر تسلیم شدہ ہے کہ سرحدی علاقوں میں بننے والی یہ سڑکیں فوجی اور سیکیورٹی ضروریات کے تحت تعمیر کی جاتی ہیں۔ تاہم ان سڑکوں کی تعمیر کے دوران قدرتی آبی نظام یا آبی حیات کی نقل و حرکت سے متعلق کوئی مشترکہ سرحدی ماحولیاتی فریم ورک موجود نہیں۔

    مقامی ماہی گیروں کا کہنا ہے کہ ماضی میں مون سون کے دوران شکور جھیل ایک مکمل آبی اکائی بن جاتی تھی اور پانی، مچھلی اور دیگر آبی حیات پورے جھیل میں آزادانہ طور پر پھیل جاتی تھیں۔ اب ان کے مطابق بارڈر روڈ جھیل کے قدرتی پھیلاؤ کو متاثر کر رہی ہے، جس کے باعث مچھلی کی آمد میں کمی محسوس ہو رہی ہے۔ یہ شکایت مقامی سطح پر بارہا سامنے آ چکی ہے، تاہم اس حوالے سے کسی سرکاری سائنسی تحقیق یا مشترکہ مطالعے کی رپورٹ تاحال دستیاب نہیں۔

    ماحولیاتی ماہرین عمومی طور پر یہ مؤقف رکھتے ہیں کہ جب سرحدی انفرا اسٹرکچر قدرتی آبی راستوں پر بنایا جائے تو اس کے اثرات صرف جغرافیائی نہیں بلکہ ماحولیاتی بھی ہو سکتے ہیں۔ شکور جھیل جیسے آبی ذخائر میں پانی کی قدرتی گردش، مچھلیوں کی افزائش اور مہاجر پرندوں کی موجودگی ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہوتی ہے۔

    شکور جھیل اس حقیقت کی واضح مثال ہے کہ سرحدی انتظامی فیصلے جب قدرتی نظام کے ساتھ متوازن نہ ہوں تو ان کے اثرات مقامی آبادی تک پہنچتے ہیں۔ یہ جھیل آج ایک آبی ذخیرے کے ساتھ ساتھ ایک حساس سرحدی اور ماحولیاتی مسئلہ بھی بن چکی ہے۔

  • کیلاش کولہی قتل: قاتلوں کی گرفتاری میں تاخیر کے خلاف بدین میں خواتین سمیت احتجاج

    کیلاش کولہی قتل: قاتلوں کی گرفتاری میں تاخیر کے خلاف بدین میں خواتین سمیت احتجاج

    چند روز قبل بدین کی تحصیل تلہار کے قریب گاؤں پیرُو لاشاری میں ایک دلخراش واقعے میں زرعی مزدور کیلاش کولہی کام کے دوران فائرنگ کے نتیجے میں جاں بحق ہوگیا۔ مقتول کے اہلِ خانہ اور مقامی عینی شاہدین کے مطابق مبینہ طور پر یہ قتل زمین کے مالک سر فراز نظامانی نے کیا، جو واقعے کے فوراً بعد فرار ہوگیا۔ پولیس کی جانب سے ملزم کی گرفتاری میں تاخیر کے خلاف اور مقتول کے خاندان کو انصاف دلانے کے مطالبے پر بدین شہر میں ایک بڑا احتجاجی دھرنا دیا گیا، جس میں ہزاروں مرد و خواتین نے شرکت کی۔

    دھرنے میں سندھیانی تحریک، قومی عوامی تحریک، سندھ یونائیٹڈ پارٹی اور مرزا گروپ کے کارکنان نے بھرپور شرکت کی۔ احتجاج سے خطاب کرتے ہوئے سید نواز شاہ بھاڈائی، منظور سولنگی، حیدر قادری، شازیہ احمدانی، حسین درس، دانش نور سومری اور ڈاکٹر عزیز میمن نے واقعے کی شدید مذمت کی اور مطالبہ کیا کہ ملزم کو فوری طور پر گرفتار کرکے قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔ مقررین نے پولیس کی کارکردگی پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ تاخیر انصاف کے تقاضوں کے منافی ہے۔

    انسانی حقوق اور سماجی کارکنوں کا کہنا ہے کہ کیلاش کولہی کا قتل کوئی انفرادی واقعہ نہیں بلکہ سندھ کے دیہی علاقوں میں پسماندہ طبقات، بالخصوص مذہبی اقلیتوں اور بے زمین ہاریوں کو درپیش مسلسل جبر اور استحصال کی عکاسی کرتا ہے۔ ان کے مطابق زرعی مزدور معاشی اور سماجی طور پر بااثر زمینداروں پر انحصار کرنے پر مجبور ہوتے ہیں، جس کے باعث طاقت کا غیر مساوی توازن جنم لیتا ہے اور کمزور طبقات تشدد اور دھمکیوں کا نشانہ بنتے ہیں۔

    عینی شاہدین کے مطابق مقتول نے اپنی محنت سے زمین پر ایک عارضی جھونپڑی قائم کر رکھی تھی تاکہ اپنے خاندان کو رہائش فراہم کرسکے، جس پر اسی روز مالکِ زمین سے تنازع پیدا ہوا۔ مبینہ طور پر تلخ کلامی کے بعد فائرنگ کی گئی، جس کے نتیجے میں کیلاش کولہی موقع پر ہی دم توڑ گیا۔ واقعے کے بعد متاثرہ خاندان اور مقامی افراد نے فوری احتجاج شروع کردیا۔

    سول سوسائٹی کے نمائندوں نے خبردار کیا ہے کہ ملزمان کی گرفتاری اور تفتیش میں تاخیر ایک ایسے ماحول کو جنم دیتی ہے جہاں بااثر افراد خود کو قانون سے بالاتر سمجھنے لگتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر بروقت اور مؤثر کارروائی نہ کی گئی تو اس سے نہ صرف نظامِ انصاف پر عوامی اعتماد مجروح ہوگا بلکہ پہلے سے عدم تحفظ کا شکار طبقات میں خوف اور بے بسی میں مزید اضافہ ہوگا۔ مظاہرین نے مطالبہ کیا ہے کہ متاثرہ خاندان کو مکمل تحفظ فراہم کیا جائے اور واقعے میں ملوث افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔