سندھ گورنر ہاؤس میں منعقدہ ایک اہم تقریب کے دوران وفاقی وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن شزا فاطمہ خواجہ نے ضلع سانگھڑ اور بدین میں ڈیجیٹل کنیکٹیویٹی بہتر بنانے کے ایک بڑے منصوبے کے معاہدے پر دستخط کیے۔ یہ منصوبہ وفاقی حکومت، یونیورسل سروس فنڈ (USF) اور نجی شعبے کے تعاون سے شروع کیا جا رہا ہے جس کا مقصد سندھ کے دیہی اور پسماندہ علاقوں کو تیز رفتار انٹرنیٹ سے جوڑنا ہے۔
تقریب میں وفاقی اور صوبائی حکام، آئی ٹی کمپنیوں کے نمائندوں اور دیگر متعلقہ اداروں کے عہدیداروں نے شرکت کی۔ حکام کے مطابق اس منصوبے پر تقریباً چار ارب روپے لاگت آئے گی اور اس کے مکمل ہونے سے سانگھڑ اور بدین کے لاکھوں افراد جدید ڈیجیٹل سہولتوں سے مستفید ہوں گے۔
حکومت کی جانب سے شروع کیے گئے اس منصوبے کے تحت دونوں اضلاع میں 400 کلومیٹر سے زائد فائبر آپٹک لائنیں بچھائی جائیں گی تاکہ دور دراز علاقوں میں بھی تیز رفتار انٹرنیٹ دستیاب ہو سکے۔ اس منصوبے کا بنیادی مقصد دیہی علاقوں میں ڈیجیٹل سہولتوں کی کمی کو دور کرنا اور شہری و دیہی علاقوں کے درمیان ڈیجیٹل فرق کو کم کرنا ہے۔
ماہرین کے مطابق اس منصوبے سے مقامی کاروبار، تعلیمی اداروں، سرکاری دفاتر اور عام شہریوں کو انٹرنیٹ کے ذریعے جدید خدمات تک رسائی حاصل ہوگی۔ خاص طور پر آن لائن تعلیم، ای-کامرس، ٹیلی میڈیسن اور سرکاری خدمات کے ڈیجیٹل نظام کو فروغ ملے گا۔
سندھ کے لیے منصوبے کی اہمیت
یہ منصوبہ سندھ کے ان علاقوں کے لیے انتہائی اہم سمجھا جا رہا ہے جہاں انٹرنیٹ کی سہولت محدود یا نہ ہونے کے برابر تھی۔ بہتر ڈیجیٹل کنیکٹیویٹی سے نہ صرف نوجوانوں کے لیے آن لائن تعلیم اور فری لانسنگ کے مواقع بڑھیں گے بلکہ چھوٹے کاروبار بھی ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے ذریعے اپنے کاروبار کو وسعت دے سکیں گے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ سندھ کے دیہی علاقوں میں انٹرنیٹ کی بہتر سہولت ملنے سے آئی ٹی سے وابستہ روزگار کے مواقع بڑھیں گے اور صوبے کی معیشت کو بھی فائدہ پہنچے گا۔ اس کے ساتھ ساتھ حکومتی خدمات کی آن لائن فراہمی سے عوام کو سرکاری دفاتر کے چکر لگانے کی ضرورت بھی کم ہوگی۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر شزا فاطمہ خواجہ نے کہا کہ سانگھڑ اور بدین کے لیے شروع کیا جانے والا منصوبہ ڈیجیٹل پاکستان وژن کی ایک اہم کڑی ہے اور اس سے لاکھوں افراد کو فائدہ ہوگا۔ ان کے مطابق سانگھڑ ضلع میں چار سو کلومیٹر سے زائد فائبر کیبل بچھائی جائے گی جس کے ذریعے 54 ٹاؤنز اور یونین کونسلز کو کور کیا جائے گا اور تقریباً 14 لاکھ افراد مستفید ہوں گے، جبکہ بدین ضلع کے 144 دیہات اور تقریباً ساڑھے چار لاکھ افراد کو بھی اس منصوبے سے فائدہ پہنچے گا۔
گورنر سندھ کامران ٹیسوری نے اپنے خطاب میں کہا کہ صوبے کے دور دراز علاقوں میں انٹرنیٹ کی فراہمی سندھ کے عوام کے لیے بڑی خوشخبری ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ڈیجیٹل کنیکٹیویٹی بہتر ہونے سے نوجوانوں کے لیے روزگار اور تعلیم کے مواقع بڑھیں گے جبکہ کاروباری سرگرمیوں کو بھی فروغ ملے گا۔
انہوں نے امید ظاہر کی کہ اس منصوبے کے بعد صوبے کے دیگر اضلاع میں بھی اسی نوعیت کے منصوبے شروع کیے جائیں گے تاکہ پورے سندھ میں ڈیجیٹل ترقی کا عمل تیز ہو سکے۔
مقامی آبادی کے لیے ممکنہ فوائد
اس منصوبے سے سانگھڑ اور بدین کے تقریباً اٹھارہ لاکھ سے زائد افراد مستفید ہوں گے۔ بہتر انٹرنیٹ سہولت کی بدولت طلبہ آن لائن کلاسز اور ڈیجیٹل لرننگ پلیٹ فارمز سے فائدہ اٹھا سکیں گے، جبکہ کاروباری افراد ای-کامرس کے ذریعے اپنی مصنوعات ملکی اور بین الاقوامی منڈیوں تک پہنچا سکیں گے۔
اس کے علاوہ صحت کے شعبے میں ٹیلی میڈیسن کے ذریعے شہری بڑے شہروں کے ماہر ڈاکٹروں سے آن لائن مشورہ حاصل کر سکیں گے، جس سے صحت کی سہولتوں میں نمایاں بہتری آئے گی۔
ماہرین کے مطابق ڈیجیٹل انفراسٹرکچر میں سرمایہ کاری سے آئی ٹی سیکٹر کی ترقی میں مزید تیزی آئے گی اور پاکستان کی آئی ٹی برآمدات میں بھی اضافہ ہوگا۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ ڈیجیٹل پاکستان پروگرام کے تحت ایسے منصوبے ملک کی معیشت کو جدید ٹیکنالوجی سے ہم آہنگ بنانے میں اہم کردار ادا کریں گے۔
وفاقی وزارت آئی ٹی نے اعلان کیا ہے کہ سانگھڑ اور بدین کے بعد دیگر پسماندہ علاقوں میں بھی اسی طرز کے منصوبے شروع کیے جائیں گے تاکہ پورے ملک میں یکساں ڈیجیٹل سہولتیں فراہم کی جا سکیں۔ اس مقصد کے لیے سرکاری اور نجی اداروں کے درمیان شراکت داری کو مزید مضبوط کیا جائے گا۔
ڈیجیٹل کنیکٹیویٹی پروجیکٹ کیا ہے؟
ڈیجیٹل کنیکٹیویٹی پروجیکٹ دراصل حکومتِ پاکستان کا وہ پروگرام ہے جس کے ذریعے ملک کے دور دراز اور پسماندہ علاقوں کو تیز رفتار انٹرنیٹ، موبائل براڈبینڈ اور فائبر آپٹک نیٹ ورک سے جوڑا جا رہا ہے۔ اس منصوبے کا بنیادی مقصد شہری اور دیہی علاقوں کے درمیان ڈیجیٹل فرق کو کم کرنا، آن لائن تعلیم، کاروبار، ای-گورننس اور آئی ٹی روزگار کے مواقع بڑھانا ہے۔
یہ منصوبے زیادہ تر یونیورسل سروس فنڈ پاکستان (USF) کے ذریعے چلائے جا رہے ہیں، جو ٹیلی کام کمپنیوں کے تعاون سے ان علاقوں میں نیٹ ورک قائم کرتا ہے جہاں نجی کمپنیاں تجارتی بنیادوں پر سرمایہ کاری نہیں کرتیں۔
حکومت پاکستان نے رواں مالی سال کے دوران یو ایس ایف کو تقریباً 22 ارب روپے جاری کیے ہیں تاکہ پورے ملک کے پسماندہ اضلاع میں یہ سروس شروع کی جا سکے، جبکہ حال ہی میں یو ایس ایف اور جاز کے درمیان ایک معاہدے کے تحت پنجاب اور خیبر پختونخوا کے نو اضلاع میں بھی اسی نوعیت کے منصوبے شروع کیے جا رہے ہیں۔

