Tag: سانگھڑ

  • سانگھڑ : شدید گرمی میں اور سندھ کی روائتی شربت تھادل کی بڑھتی مقبولیت

    سانگھڑ : شدید گرمی میں اور سندھ کی روائتی شربت تھادل کی بڑھتی مقبولیت

    محمد قذافی

    سانگھڑ میں گرمی کا موسم اپنے عروج کی طرف بڑھ رہا ہے اور درجہ حرارت میں مسلسل اضافے نے شہریوں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرنا شروع کر دیا ہے۔ تیز دھوپ اور حبس کے باعث لوگ گرمی سے بچاؤ کے لیے مختلف طریقے اختیار کر رہے ہیں، تاہم اس موسم میں ایک بار پھر روایتی دیسی مشروب ‘تھادل’ عوام کی پہلی ترجیح بن کر سامنے آیا ہے۔

    شہر بھر میں قائم تھادل کے اسٹالوں پر شہریوں کا رش دیکھنے میں آ رہا ہے، جہاں لوگ نہ صرف پیاس بجھانے بلکہ جسم کو ٹھنڈک پہنچانے کے لیے اس روایتی مشروب کا رخ کر رہے ہیں۔ تھادل صدیوں پرانی روایت کا حصہ ہے اور خاص طور پر سندھ کے علاقوں میں اسے گرمی کے موسم کا لازمی جزو سمجھا جاتا ہے۔

    یہ دیسی مشروب مختلف قدرتی اجزاء سے تیار کیا جاتا ہے، جن میں چینی، بادام، سفید زیرہ، الائچی، کالی مرچ، چار مغز، خشخاش، گلاب کے پھول، گل قند، سونف، کالا نمک، سفید پودینہ اور تمر شامل ہیں۔ ماہرین کے مطابق یہ اجزاء نہ صرف جسم کو فوری توانائی فراہم کرتے ہیں بلکہ معدے کو ٹھنڈک پہنچانے اور پانی کی کمی کو کم کرنے میں بھی مددگار ثابت ہوتے ہیں۔

    مقامی حکیموں اور غذائی ماہرین کا کہنا ہے کہ تھادل کا استعمال جسم کے درجہ حرارت کو متوازن رکھنے میں معاون ہوتا ہے۔ شدید گرمی میں جب جسم میں پانی اور نمکیات کی کمی ہو جاتی ہے، تو ایسے قدرتی مشروبات وقتی طور پر سکون فراہم کرتے ہیں اور بار بار پیاس لگنے کے عمل کو بھی کم کرتے ہیں۔

    سانگھڑ شہر اور اس کے گرد و نواح میں گرمی کی شدت بڑھنے کے ساتھ ہی تھادل کے درجنوں نئے اسٹال قائم ہو چکے ہیں۔ یہ نہ صرف ایک روایتی مشروب کے طور پر زندہ روایت کی علامت ہے بلکہ مقامی لوگوں کے لیے روزگار کا ذریعہ بھی بن رہا ہے۔

    شہریوں کا کہنا ہے کہ مہنگے مشروبات کے مقابلے میں تھادل ایک سستا، صحت بخش اور قدرتی متبادل ہے، جس کا ذائقہ بھی منفرد ہے اور اثر بھی فوری محسوس ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہر عمر کے افراد اس کی طرف راغب ہو رہے ہیں۔

    گرمی کی اس شدت میں جہاں جدید مشروبات دستیاب ہیں، وہیں سانگھڑ کے لوگ آج بھی اپنی روایات سے جڑے ہوئے ہیں، اور تھادل اس بات کی ایک واضح مثال ہے کہ مقامی دانش اور قدرتی اجزاء پر مبنی روایات آج بھی مؤثر اور زندہ ہیں۔

  • سانگھڑ اور بدین ڈیجیٹل دور میں داخل: چار ارب روپے کے براڈبینڈ منصوبے پر دستخط

    سانگھڑ اور بدین ڈیجیٹل دور میں داخل: چار ارب روپے کے براڈبینڈ منصوبے پر دستخط

    سندھ گورنر ہاؤس میں منعقدہ ایک اہم تقریب کے دوران وفاقی وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن شزا فاطمہ خواجہ نے ضلع سانگھڑ اور بدین میں ڈیجیٹل کنیکٹیویٹی بہتر بنانے کے ایک بڑے منصوبے کے معاہدے پر دستخط کیے۔ یہ منصوبہ وفاقی حکومت، یونیورسل سروس فنڈ (USF) اور نجی شعبے کے تعاون سے شروع کیا جا رہا ہے جس کا مقصد سندھ کے دیہی اور پسماندہ علاقوں کو تیز رفتار انٹرنیٹ سے جوڑنا ہے۔

    تقریب میں وفاقی اور صوبائی حکام، آئی ٹی کمپنیوں کے نمائندوں اور دیگر متعلقہ اداروں کے عہدیداروں نے شرکت کی۔ حکام کے مطابق اس منصوبے پر تقریباً چار ارب روپے لاگت آئے گی اور اس کے مکمل ہونے سے سانگھڑ اور بدین کے لاکھوں افراد جدید ڈیجیٹل سہولتوں سے مستفید ہوں گے۔

    حکومت کی جانب سے شروع کیے گئے اس منصوبے کے تحت دونوں اضلاع میں 400 کلومیٹر سے زائد فائبر آپٹک لائنیں بچھائی جائیں گی تاکہ دور دراز علاقوں میں بھی تیز رفتار انٹرنیٹ دستیاب ہو سکے۔ اس منصوبے کا بنیادی مقصد دیہی علاقوں میں ڈیجیٹل سہولتوں کی کمی کو دور کرنا اور شہری و دیہی علاقوں کے درمیان ڈیجیٹل فرق کو کم کرنا ہے۔
    ماہرین کے مطابق اس منصوبے سے مقامی کاروبار، تعلیمی اداروں، سرکاری دفاتر اور عام شہریوں کو انٹرنیٹ کے ذریعے جدید خدمات تک رسائی حاصل ہوگی۔ خاص طور پر آن لائن تعلیم، ای-کامرس، ٹیلی میڈیسن اور سرکاری خدمات کے ڈیجیٹل نظام کو فروغ ملے گا۔

    سندھ کے لیے منصوبے کی اہمیت
    یہ منصوبہ سندھ کے ان علاقوں کے لیے انتہائی اہم سمجھا جا رہا ہے جہاں انٹرنیٹ کی سہولت محدود یا نہ ہونے کے برابر تھی۔ بہتر ڈیجیٹل کنیکٹیویٹی سے نہ صرف نوجوانوں کے لیے آن لائن تعلیم اور فری لانسنگ کے مواقع بڑھیں گے بلکہ چھوٹے کاروبار بھی ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے ذریعے اپنے کاروبار کو وسعت دے سکیں گے۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ سندھ کے دیہی علاقوں میں انٹرنیٹ کی بہتر سہولت ملنے سے آئی ٹی سے وابستہ روزگار کے مواقع بڑھیں گے اور صوبے کی معیشت کو بھی فائدہ پہنچے گا۔ اس کے ساتھ ساتھ حکومتی خدمات کی آن لائن فراہمی سے عوام کو سرکاری دفاتر کے چکر لگانے کی ضرورت بھی کم ہوگی۔

    تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر شزا فاطمہ خواجہ نے کہا کہ سانگھڑ اور بدین کے لیے شروع کیا جانے والا منصوبہ ڈیجیٹل پاکستان وژن کی ایک اہم کڑی ہے اور اس سے لاکھوں افراد کو فائدہ ہوگا۔ ان کے مطابق سانگھڑ ضلع میں چار سو کلومیٹر سے زائد فائبر کیبل بچھائی جائے گی جس کے ذریعے 54 ٹاؤنز اور یونین کونسلز کو کور کیا جائے گا اور تقریباً 14 لاکھ افراد مستفید ہوں گے، جبکہ بدین ضلع کے 144 دیہات اور تقریباً ساڑھے چار لاکھ افراد کو بھی اس منصوبے سے فائدہ پہنچے گا۔

    گورنر سندھ کامران ٹیسوری نے اپنے خطاب میں کہا کہ صوبے کے دور دراز علاقوں میں انٹرنیٹ کی فراہمی سندھ کے عوام کے لیے بڑی خوشخبری ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ڈیجیٹل کنیکٹیویٹی بہتر ہونے سے نوجوانوں کے لیے روزگار اور تعلیم کے مواقع بڑھیں گے جبکہ کاروباری سرگرمیوں کو بھی فروغ ملے گا۔

    انہوں نے امید ظاہر کی کہ اس منصوبے کے بعد صوبے کے دیگر اضلاع میں بھی اسی نوعیت کے منصوبے شروع کیے جائیں گے تاکہ پورے سندھ میں ڈیجیٹل ترقی کا عمل تیز ہو سکے۔

    مقامی آبادی کے لیے ممکنہ فوائد
    اس منصوبے سے سانگھڑ اور بدین کے تقریباً اٹھارہ لاکھ سے زائد افراد مستفید ہوں گے۔ بہتر انٹرنیٹ سہولت کی بدولت طلبہ آن لائن کلاسز اور ڈیجیٹل لرننگ پلیٹ فارمز سے فائدہ اٹھا سکیں گے، جبکہ کاروباری افراد ای-کامرس کے ذریعے اپنی مصنوعات ملکی اور بین الاقوامی منڈیوں تک پہنچا سکیں گے۔

    اس کے علاوہ صحت کے شعبے میں ٹیلی میڈیسن کے ذریعے شہری بڑے شہروں کے ماہر ڈاکٹروں سے آن لائن مشورہ حاصل کر سکیں گے، جس سے صحت کی سہولتوں میں نمایاں بہتری آئے گی۔

    ماہرین کے مطابق ڈیجیٹل انفراسٹرکچر میں سرمایہ کاری سے آئی ٹی سیکٹر کی ترقی میں مزید تیزی آئے گی اور پاکستان کی آئی ٹی برآمدات میں بھی اضافہ ہوگا۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ ڈیجیٹل پاکستان پروگرام کے تحت ایسے منصوبے ملک کی معیشت کو جدید ٹیکنالوجی سے ہم آہنگ بنانے میں اہم کردار ادا کریں گے۔

    وفاقی وزارت آئی ٹی نے اعلان کیا ہے کہ سانگھڑ اور بدین کے بعد دیگر پسماندہ علاقوں میں بھی اسی طرز کے منصوبے شروع کیے جائیں گے تاکہ پورے ملک میں یکساں ڈیجیٹل سہولتیں فراہم کی جا سکیں۔ اس مقصد کے لیے سرکاری اور نجی اداروں کے درمیان شراکت داری کو مزید مضبوط کیا جائے گا۔

    ڈیجیٹل کنیکٹیویٹی پروجیکٹ کیا ہے؟
    ڈیجیٹل کنیکٹیویٹی پروجیکٹ دراصل حکومتِ پاکستان کا وہ پروگرام ہے جس کے ذریعے ملک کے دور دراز اور پسماندہ علاقوں کو تیز رفتار انٹرنیٹ، موبائل براڈبینڈ اور فائبر آپٹک نیٹ ورک سے جوڑا جا رہا ہے۔ اس منصوبے کا بنیادی مقصد شہری اور دیہی علاقوں کے درمیان ڈیجیٹل فرق کو کم کرنا، آن لائن تعلیم، کاروبار، ای-گورننس اور آئی ٹی روزگار کے مواقع بڑھانا ہے۔
    یہ منصوبے زیادہ تر یونیورسل سروس فنڈ پاکستان (USF) کے ذریعے چلائے جا رہے ہیں، جو ٹیلی کام کمپنیوں کے تعاون سے ان علاقوں میں نیٹ ورک قائم کرتا ہے جہاں نجی کمپنیاں تجارتی بنیادوں پر سرمایہ کاری نہیں کرتیں۔

    حکومت پاکستان نے رواں مالی سال کے دوران یو ایس ایف کو تقریباً 22 ارب روپے جاری کیے ہیں تاکہ پورے ملک کے پسماندہ اضلاع میں یہ سروس شروع کی جا سکے، جبکہ حال ہی میں یو ایس ایف اور جاز کے درمیان ایک معاہدے کے تحت پنجاب اور خیبر پختونخوا کے نو اضلاع میں بھی اسی نوعیت کے منصوبے شروع کیے جا رہے ہیں۔

  • سندھ کے ضلع سانگھڑ کی تحصیل کھپرو کی بوٹار جھیل سمیت اچھڑو تھر کے ریت کے ٹیلوں کے درمیاں وسیع صحرائی جھیلیں کیسی دکھتی ہیں؟

    سندھ کے ضلع سانگھڑ کی تحصیل کھپرو کی بوٹار جھیل سمیت اچھڑو تھر کے ریت کے ٹیلوں کے درمیاں وسیع صحرائی جھیلیں کیسی دکھتی ہیں؟

    بوٹار جھیل سندھ کے ضلع سانگھڑ کی تحصیل کھپرو میں واقع ہے۔ یہ جھیل انڈیا کی سرحد تک پھیلے وسیع سفید صحرا، جسے مقامی طور پر اچھڑو تھر یا وائٹ ڈیزرٹ کہا جاتا ہے، کے عین درمیان کئی کلومیٹر کے رقبے پر پھیلی ہوئی ہے۔

    یہ خطہ بظاہر ایک خشک اور بے آب و گیاہ صحرا دکھائی دیتا ہے، مگر اس کے بیچ موجود بوٹار جھیل اس تصور کو چیلنج کرتی ہے۔ یہاں ریت کے درمیان پانی ہے، جھیلوں کے کنارے زندگی سانس لیتی ہے، اور صحرا کے وسط میں ماہی گیری اور چرندوں کے چرنے کے مناظر نظر آتے ہیں۔

    اچھڑو تھر ایک ایسا علاقہ ہے جہاں درجنوں صحرائی آب گاہیں موجود ہیں۔ بوٹار جھیل، بکر جھیل، کلانکر جھیل اور ان جیسی کئی دیگر جھیلیں مل کر ایک منفرد صحرائی آبی نظام تشکیل دیتی ہیں۔ یہ جھیلیں کسی دریا، نہر یا ساحلی پٹی سے وابستہ نہیں بلکہ خالص صحرائی خطے میں واقع ہیں، جو انہیں غیر معمولی بناتی ہیں۔

    دنیا کے مختلف حصوں میں صحرائی آب گاہیں پائی جاتی ہیں، لیکن زیادہ تر عارضی ہوتی ہیں۔ بارش کے بعد پانی جمع ہوتا ہے، چند ہفتوں یا مہینوں میں جھیل بن جاتی ہے، اور پھر آہستہ آہستہ خشک ہو جاتی ہے۔ اس کے برعکس وائٹ ڈیزرٹ کی یہ جھیلیں مستقل ہیں۔ یہاں صدیوں سے پانی موجود ہے اور موسموں کی تبدیلی کے باوجود یہ آب گاہیں ختم نہیں ہوتیں۔

    مقامی لوگوں کے درمیان ایک قدیم عقیدہ پایا جاتا ہے کہ یہ جھیلیں سرسوتی دریا سے جڑی ہوئی ہیں۔ وہ دریا جو بظاہر صدیوں پہلے ختم ہو چکا، مگر مقامی روایت کے مطابق اب بھی زمین کے نیچے بہہ رہا ہے اور یہی زیر زمین بہاؤ ان جھیلوں کو پانی فراہم کرتا ہے۔ سائنس اس نظریے پر مزید تحقیق کی ضرورت بتاتی ہے، مگر ایک حقیقت واضح ہے کہ صحرا کے بیچ یہ جھیلیں آج بھی زندہ ہیں۔

    بوٹار جھیل کے کنارے کھڑے ہو کر منظر کچھ یوں محسوس ہوتا ہے جیسے صحرا میں ماہی گیری ہو رہی ہو۔ ایک طرف کھارا پانی پھیلا ہوتا ہے اور دوسری طرف سفید ریت۔ جھیل کے اطراف چرندے اور مویشی چر رہے ہوتے ہیں، جو اس علاقے کے روایتی طرزِ زندگی کی عکاسی کرتے ہیں۔

    اگرچہ جھیل کا پانی کھارا ہے، مگر یہاں ایک اور حیرت بھی موجود ہے۔ مقامی لوگ جھیل کے کنارے چھوٹے گڑھے کھودتے ہیں اور کچھ ہی دیر میں زمین سے رسنے والا پانی پینے کے قابل ہو جاتا ہے۔ یہ طریقہ آج بھی مقامی آبادی کی روزمرہ زندگی کا حصہ ہے اور صدیوں سے آزمایا جا رہا ہے۔

    یہ جھیلیں صرف پانی کا ذریعہ نہیں بلکہ چرواہوں، مویشیوں اور مقامی معیشت کے لیے بھی نہایت اہم ہیں۔ ماہرین کے مطابق وائٹ ڈیزرٹ کی یہ آب گاہیں دنیا کے نایاب صحرائی ماحولیاتی نظاموں میں شمار ہوتی ہیں۔ اس کے باوجود یہ خطہ تحقیق، دستاویزات اور تحفظ کی سنجیدہ توجہ سے محروم ہے۔

    اگر یہ جھیلیں ختم ہو گئیں تو صرف پانی ہی ضائع نہیں ہوگا بلکہ صدیوں پرانا ایک قدرتی راز بھی ہمیشہ کے لیے کھو جائے گا۔ بوٹار جھیل اور اس جیسے دیگر صحرائی تالاب ہمیں یہ یاد دلاتے ہیں کہ قدرت بعض اوقات وہاں بھی زندگی کو جنم دے دیتی ہے جہاں انسان اس کا تصور تک نہیں کرتا۔

    صحرا کے بیچ پانی اور پانی کے کنارے زندگی۔ یہی سندھ کے وائٹ ڈیزرٹ کی خاموش مگر حیرت انگیز کہانی ہے۔

     

  • سانگھڑ: ہیڈ جمڑاؤ کے مقام پر موجود تقریباً سوا صدی قدیم پیپل کا درخت کیسا دکھتا ہے؟

    سانگھڑ: ہیڈ جمڑاؤ کے مقام پر موجود تقریباً سوا صدی قدیم پیپل کا درخت کیسا دکھتا ہے؟

    سندھ کے ضلع سانگھڑ کے منڈ جمرائو یا ہیڈ جمڑاؤ کے مقام پر موجود برطانوی دور حکومت کا تقریباً سوا صدی قدیم پیپل کا درخت آج بھی اپنی تاریخی حیثیت برقرار رکھے ہوئے ہے۔

    مقامی روایات کے مطابق یہ درخت برطانوی راج کے زمانے میں لگایا گیا تھا اور اس نے ایک صدی سے زائد عرصہ مختلف ادوار دیکھے ہیں۔ یہ درخت نہ صرف علاقے کی شناخت بن چکا ہے بلکہ ماضی کی یادوں کا امین بھی سمجھا جاتا ہے۔

    برطانوی دور حکومت کے دوران درخت لگانے کی مہم کے دوران لگائے گئے بہت سے درخت موجود ہیں جن میں ایک پیپل کا درخت ہیڈ جمڑاؤ پر موجود ہے۔ ہیڈ جمڑاؤ پر لگے بورڈ کے مطابق 24  نومبر 1899 جمڑاؤ نہر کے افتتاح کے موقعہ پراس وقت کے بمبئی کے گورنر ولیم بیرن سینڈہرسٹ نے کیا۔ اس تقریب کے دوراب پیپل کا یہ درخت انہوں نے لگایا تھا۔

    سماجی رہنما، صحافی اور محقق سردار بھیو نے ساگا ڈیجیتل سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ برطانوی دور میں سرکاری اہلکار اور مسافر اس درخت کے سائے تلے آرام کیا کرتے تھے، جبکہ یہ مقام سماجی سرگرمیوں کا مرکز بھی رہا۔

    ماہرین ماحولیات کے مطابق ایسے قدیمی درخت ماحول کے تحفظ، آکسیجن کی فراہمی اور حیاتیاتی توازن میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

    مقامی لوگوں کے مطابق اس تاریخی درخت کو سرکاری طور پر محفوظ ورثہ قرار دیا جائے تاکہ آنے والی نسلیں بھی اس تاریخی اور قدرتی اثاثے سے لطف اندوز ہو سکیں گی۔

  • سانگھڑ: سیاحوں کے لیے فطری نظاروں والی چوٹیاری جھیل، جہاں ‘پاکستان کی مہنگی’ مچھلی پائی جاتی ہے

    سانگھڑ: سیاحوں کے لیے فطری نظاروں والی چوٹیاری جھیل، جہاں ‘پاکستان کی مہنگی’ مچھلی پائی جاتی ہے

    چوٹیاری ڈیم سندھ کے ضلع سانگھڑ میں واقع ہے۔ اس کی تعمیر دو ہزار کی دہائی کے آغاز میں کی گئی۔ منصوبے کا بنیادی مقصد بارش اور سیلابی پانی کو ذخیرہ کرنا، زرعی علاقوں کو پانی فراہم کرنا اور سانگھڑ کے گرد و نواح میں آبپاشی کے نظام کو بہتر بنانا تھا۔ ڈیم کی تعمیر کے نتیجے میں ایک وسیع آبی ذخیرہ وجود میں آیا جسے چوٹیاری جھیل یا چوٹیاری ریزروائر کہا جاتا ہے۔

    چوٹیاری ڈیم سانگھڑ شہر کے مشرق اور جنوب مشرق میں واقع ہے۔ جغرافیائی طور پر یہ علاقہ نیم صحرائی اور زرعی خطے کے سنگم پر واقع ہے، جس کی وجہ سے یہاں کا ماحولیاتی نظام منفرد نوعیت رکھتا ہے۔ یہی محل وقوع اس جھیل کو قدرتی لحاظ سے اہم بناتا ہے۔

    چوٹیاری ریزروائر سندھ کے بڑے آبی ذخائر میں شمار ہوتا ہے۔ پانی کی سطح میں کمی بیشی کے ساتھ اس کا رقبہ تبدیل ہوتا رہتا ہے۔ بھراؤ کی صورت میں جھیل کئی ہزار ایکڑ پر پھیل جاتی ہے۔ مون سون کے بعد اس کا پھیلاؤ بڑھ جاتا ہے جبکہ خشک موسم میں جھیل کا حجم سکڑ جاتا ہے۔

    یہ علاقہ نقل مکانی کرنے والے اور مقامی پرندوں کے لیے ایک اہم مسکن سمجھا جاتا ہے۔ سردیوں کے موسم میں بطخیں، کونجیں، مرغابیاں اور دیگر آبی پرندے یہاں آتے ہیں۔ اسی بنیاد پر چوٹیاری جھیل کو سندھ کے نمایاں پرندہ جاتی علاقوں میں شمار کیا جاتا ہے، اگرچہ اسے مکمل قانونی تحفظ حاصل نہیں۔

    جھیل اور اس کے اطراف میں مختلف جنگلی جانور بھی پائے جاتے ہیں۔ ان میں لومڑی، گیدڑ، جنگلی بلی، خرگوش اور مختلف اقسام کے رینگنے والے جانور شامل ہیں۔ پانی اور چراگاہوں کی دستیابی مقامی جنگلی حیات کے لیے سہارا فراہم کرتی ہے، تاہم انسانی سرگرمیوں کے باعث یہ نظام دباؤ کا شکار ہے۔

    چوٹیاری جھیل ماہی گیری کے حوالے سے بھی اہم ہے۔ یہاں روہو، مریل، تھیلہ، سنگھاڑا اور دیگر مقامی مچھلیاں پائی جاتی ہیں۔ ماہی گیری مقامی آبادی کے لیے روزگار کا ذریعہ ہے، تاہم بے قابو شکار اور آلودگی کے باعث مچھلیوں کی اقسام اور مقدار میں کمی کی شکایات سامنے آتی رہی ہیں۔

    چوٹیاری ریزروائر کی ایک نمایاں خصوصیت اس کے اندر بننے والے قدرتی جزیرے ہیں۔ پانی کی سطح بڑھنے پر یہ جزیرے نمایاں ہو جاتے ہیں۔ بعض مواقع پر یہ جزیرے پرندوں کے عارضی قیام اور افزائش کے لیے استعمال ہوتے ہیں، جس سے جھیل کی قدرتی کشش میں اضافہ ہوتا ہے۔

    چوٹیاری ڈیم کے پاس ممالیہ جانوروں، پرندوں، پانی اور خشکی میں پائے جانے والے جانوروں تازہ پانی کی مچھلیوں کا مسکن ہے۔ اس کے علاوہ یہ علاقہ ان جانوروں کی پناہ گاہ بھی ہے جو آئی یو سی این کی ریڈ لسٹ میں شامل ہیں۔

    ساگا ڈیجیٹل سے گفتگو کرتے ہوئے مقامی گائیڈ اور مقامی ماہی گیر عبدالستار ملاح نے کہا کہ چوٹیاری ڈیم میں میتھے پانی کی پاکستان میں سب سے ‘مہنگی ترین’ مچی پائی جائی جاتیں ہیں۔

  • سانگھڑ: پولیس کا خاتون پر بدترین تشدد کے ملزم کی گرفتاری کا دعویٰ

    سانگھڑ: پولیس کا خاتون پر بدترین تشدد کے ملزم کی گرفتاری کا دعویٰ

    صوبہ سندھ کے ضلع سانگھڑ میں پولیس نے خاتون پر بدترین تشدد کے الزام میں ایک ملزم کو گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا ہے، جبکہ متاثرہ خاتون کو علاج کے لیے سول اسپتال حیدرآباد کے پلاسٹک سرجری وارڈ میں داخل کر دیا گیا ہے۔

    دو روز قبل ضلع سانگھڑ کے علاقے چوٹیاریوں کے قریب شاد بانو نامی خاتون پر تشدد کا واقعہ سامنے آیا تھا، جس میں شاد بانو شدید زخمی ہو گئی تھیں۔

    زخمی خاتون کے بھائی اعجاز علی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ مقامی وڈیرے کے بیٹے نے ان کی بہن کو اس وقت گھر سے اغوا کیا جب اہلِ خانہ موجود نہیں تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کی بہن پر شدید تشدد کیا گیا اور وہ زخمی اور انتہائی تشویشناک حالت میں ملی۔ انہوں نے مزید بتایا کہ ان کی بہن کی زبان اور ہونٹوں کو کاٹا گیا تھا۔

    شاد بانو کی ناک کی ہڈی میں فریکچر

    متاثرہ خاتون شاد بانو کا معائنہ کرنے والے سول اسپتال حیدرآباد کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر مجیب کلوڑ کے مطابق زخمی خاتون کو کنسلٹنٹ پروفیسرز نے چیک کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ خاتون کی حالت اب بہتر ہے، تاہم وہ شدید خوف زدہ ہے۔ ڈاکٹر مجیب کلوڑ نے متاثرہ خاتون کی ناک کی ہڈی میں فریکچر کی بھی تصدیق کی ہے۔

    ملزم کی گرفتاری کا دعویٰ

    واقعے کا مقدمہ متاثرہ لڑکی کے اہلِ خانہ کی مدعیت میں تعزیراتِ پاکستان کی دفعات 311، 337 (جسمانی تشدد) اور 376 (زیادتی) کے تحت درج کیا گیا ہے۔
    دوسری جانب ایس ایس پی سانگھڑ عابد علی کا کہنا ہے کہ واقعے میں ملوث ایک ملزم وزیر علی کو گرفتار کر لیا گیا ہے، جسے مزید قانونی کارروائی کے لیے مقامی عدالت میں پیش کیا جائے گا۔