[rank_math_breadcrumb]

سانگھڑ: سنجھورو میں نشے کے عادی افراد کے علاج والا ‘امید کا گھر’ جس کی بنیاد امریکی شہری نے رکھی

ضلع سانگھڑ کی تحصیل سنجھورو میں قائم ‘ہاؤس آف ہوپ’ یا ‘امید کا گھر’ پاکستان کے قدیم ترین منشیات بحالی مراکز میں شمار ہوتا ہے۔ یہ ادارہ ان افراد کی بحالی کے لیے قائم کیا گیا جو منشیات کی لت میں مبتلا ہو کر معاشرے اور اپنے خاندان سے کٹ چکے تھے۔ اس ادارے کا بنیادی مقصد صرف نشہ چھڑانا نہیں بلکہ مریضوں کو دوبارہ ایک باوقار، صحت مند اور خودمختار زندگی کی طرف واپس لانا ہے۔

ہاؤس آف ہوپ کی بنیاد 1982 میں امریکی نژاد ڈی لا سالے برادر اور سماجی کارکن برادر نارمن رے نے رکھی۔ برادر نارمن رے کئی دہائیوں تک پاکستان، خصوصاً سندھ میں صحت، تعلیم اور سماجی بہبود کے شعبوں میں خدمات انجام دیتے رہے۔ انہوں نے کراچی میں جذام کے مریضوں کی خدمت کرنے والے ادارے ‘میری ایڈیلیڈ لیپروسی سینٹر’ کے ذریعے کام کرتے ہوئے محسوس کیا کہ منشیات کی لت ایک بڑھتا ہوا سماجی اور طبی بحران بن چکی ہے، لیکن اس کے علاج اور بحالی کے لیے ملک میں مناسب سہولیات موجود نہیں تھیں۔ اسی ضرورت کو مدنظر رکھتے ہوئے انہوں نے سنجھورو میں ایک رہائشی بحالی مرکز قائم کیا۔

سنجھورو کے انتخاب کی ایک اہم وجہ اس کا نسبتاً پُرسکون اور دیہی ماحول تھا۔ ماہرین کے مطابق منشیات سے بحالی کے عمل میں شور و غل سے دور، قدرتی ماحول مریضوں کی ذہنی اور جسمانی بحالی میں معاون ثابت ہوتا ہے۔ اسی لیے شہر کی بجائے سندھ کے زرعی علاقے سنجھورو کو منتخب کیا گیا، جہاں مریض علاج کے ساتھ معمول کی زندگی، جسمانی محنت اور سماجی سرگرمیوں میں بھی حصہ لے سکتے تھے۔

ہاؤس آف ہوپ میں مریضوں کے لیے رہائشی بحالی پروگرام ترتیب دیا گیا، جس میں طبی نگرانی، نفسیاتی مشاورت، گروہی نشستیں، روحانی رہنمائی، نظم و ضبط، روزمرہ ذمہ داریوں کی تربیت اور سماجی بحالی کو علاج کا حصہ بنایا گیا۔ ادارے کا مقصد صرف جسم سے نشہ ختم کرنا نہیں بلکہ مریض کی شخصیت، رویے اور طرز زندگی میں مثبت تبدیلی لانا تھا تاکہ وہ دوبارہ نشے کی طرف نہ لوٹے۔

برادر نارمن رے نے بعد ازاں کراچی میں ‘ہاف وے ہاؤس’ بھی قائم کیا، جہاں سنجھورو سے علاج مکمل کرنے والے افراد کو معاشرے میں واپسی کے دوران عارضی رہائش اور مسلسل رہنمائی فراہم کی جاتی تھی۔ اس کے علاوہ کراچی میں موبائل کلینک اور ڈراپ اِن سینٹر بھی شروع کیے گئے تاکہ ایسے افراد تک بھی علاج اور طبی سہولتیں پہنچائی جا سکیں جو سڑکوں پر زندگی گزار رہے تھے یا بحالی مرکز تک نہیں پہنچ سکتے تھے۔

سن 2000 کی دہائی کے آغاز میں جب پاکستان میں انجیکشن کے ذریعے منشیات استعمال کرنے والوں میں ایچ آئی وی کے پھیلاؤ کا خطرہ بڑھا تو برادر نارمن رے نے نقصانات میں کمی کی حکمت عملی، آگاہی، طبی مشاورت اور محفوظ طرز عمل کے پروگراموں کو بھی اپنی خدمات کا حصہ بنایا۔ اس اقدام کا مقصد نہ صرف منشیات کی لت کا علاج کرنا تھا بلکہ اس سے جڑی خطرناک بیماریوں کی روک تھام بھی تھا۔

ہاؤس آف ہوپ کئی برسوں سے ‘میری ایڈیلیڈ لیپروسی سینٹر’ کے ذیلی منصوبے کے طور پر کام کرتا رہا ہے۔ اس ادارے کے اخراجات مریضوں کی معمولی فیس، مقامی عطیات اور بین الاقوامی امداد سے پورے کیے جاتے رہے، جبکہ اس کی نگرانی سماجی خدمت سے وابستہ ماہرین اور منتظمین کرتے رہے ہیں۔

برادر نارمن رے کا شمار پاکستان میں سماجی خدمت کے نمایاں ناموں میں ہوتا ہے۔ انہوں نے تقریباً نصف صدی پاکستان میں گزار کر جذام کے مریضوں، منشیات کے عادی افراد اور محروم طبقات کی خدمت کی۔ 2014 میں ان کے انتقال کے بعد بھی ہاؤس آف ہوپ ان کے مشن کی علامت کے طور پر اپنی خدمات جاری رکھے ہوئے ہے۔

آج ہاؤس آف ہوپ سندھ میں منشیات سے بحالی کے ان چند اداروں میں شامل ہے جنہوں نے چار دہائیوں سے زیادہ عرصے تک ہزاروں افراد کو نئی زندگی کی امید دی۔ اس ادارے کی بنیاد اس یقین پر رکھی گئی تھی کہ منشیات کا عادی شخص مجرم نہیں بلکہ ایک مریض ہے، اور اگر اسے مناسب علاج، احترام اور مسلسل رہنمائی فراہم کی جائے تو وہ دوبارہ معاشرے کا مفید شہری بن سکتا ہے۔