چوٹیاری ڈیم سندھ کے ضلع سانگھڑ میں واقع ہے۔ اس کی تعمیر دو ہزار کی دہائی کے آغاز میں کی گئی۔ منصوبے کا بنیادی مقصد بارش اور سیلابی پانی کو ذخیرہ کرنا، زرعی علاقوں کو پانی فراہم کرنا اور سانگھڑ کے گرد و نواح میں آبپاشی کے نظام کو بہتر بنانا تھا۔ ڈیم کی تعمیر کے نتیجے میں ایک وسیع آبی ذخیرہ وجود میں آیا جسے چوٹیاری جھیل یا چوٹیاری ریزروائر کہا جاتا ہے۔
چوٹیاری ڈیم سانگھڑ شہر کے مشرق اور جنوب مشرق میں واقع ہے۔ جغرافیائی طور پر یہ علاقہ نیم صحرائی اور زرعی خطے کے سنگم پر واقع ہے، جس کی وجہ سے یہاں کا ماحولیاتی نظام منفرد نوعیت رکھتا ہے۔ یہی محل وقوع اس جھیل کو قدرتی لحاظ سے اہم بناتا ہے۔
چوٹیاری ریزروائر سندھ کے بڑے آبی ذخائر میں شمار ہوتا ہے۔ پانی کی سطح میں کمی بیشی کے ساتھ اس کا رقبہ تبدیل ہوتا رہتا ہے۔ بھراؤ کی صورت میں جھیل کئی ہزار ایکڑ پر پھیل جاتی ہے۔ مون سون کے بعد اس کا پھیلاؤ بڑھ جاتا ہے جبکہ خشک موسم میں جھیل کا حجم سکڑ جاتا ہے۔
یہ علاقہ نقل مکانی کرنے والے اور مقامی پرندوں کے لیے ایک اہم مسکن سمجھا جاتا ہے۔ سردیوں کے موسم میں بطخیں، کونجیں، مرغابیاں اور دیگر آبی پرندے یہاں آتے ہیں۔ اسی بنیاد پر چوٹیاری جھیل کو سندھ کے نمایاں پرندہ جاتی علاقوں میں شمار کیا جاتا ہے، اگرچہ اسے مکمل قانونی تحفظ حاصل نہیں۔
جھیل اور اس کے اطراف میں مختلف جنگلی جانور بھی پائے جاتے ہیں۔ ان میں لومڑی، گیدڑ، جنگلی بلی، خرگوش اور مختلف اقسام کے رینگنے والے جانور شامل ہیں۔ پانی اور چراگاہوں کی دستیابی مقامی جنگلی حیات کے لیے سہارا فراہم کرتی ہے، تاہم انسانی سرگرمیوں کے باعث یہ نظام دباؤ کا شکار ہے۔
چوٹیاری جھیل ماہی گیری کے حوالے سے بھی اہم ہے۔ یہاں روہو، مریل، تھیلہ، سنگھاڑا اور دیگر مقامی مچھلیاں پائی جاتی ہیں۔ ماہی گیری مقامی آبادی کے لیے روزگار کا ذریعہ ہے، تاہم بے قابو شکار اور آلودگی کے باعث مچھلیوں کی اقسام اور مقدار میں کمی کی شکایات سامنے آتی رہی ہیں۔
چوٹیاری ریزروائر کی ایک نمایاں خصوصیت اس کے اندر بننے والے قدرتی جزیرے ہیں۔ پانی کی سطح بڑھنے پر یہ جزیرے نمایاں ہو جاتے ہیں۔ بعض مواقع پر یہ جزیرے پرندوں کے عارضی قیام اور افزائش کے لیے استعمال ہوتے ہیں، جس سے جھیل کی قدرتی کشش میں اضافہ ہوتا ہے۔
چوٹیاری ڈیم کے پاس ممالیہ جانوروں، پرندوں، پانی اور خشکی میں پائے جانے والے جانوروں تازہ پانی کی مچھلیوں کا مسکن ہے۔ اس کے علاوہ یہ علاقہ ان جانوروں کی پناہ گاہ بھی ہے جو آئی یو سی این کی ریڈ لسٹ میں شامل ہیں۔
ساگا ڈیجیٹل سے گفتگو کرتے ہوئے مقامی گائیڈ اور مقامی ماہی گیر عبدالستار ملاح نے کہا کہ چوٹیاری ڈیم میں میتھے پانی کی پاکستان میں سب سے ‘مہنگی ترین’ مچی پائی جائی جاتیں ہیں۔
