Tag: ڈیجیٹل دور

  • پاکستان میں پہلے مصنوعی ذہانت کے لیے تیار ڈیٹا سینٹر کا افتتاح، ڈیجیٹل معیشت کے نئے دور کا آغاز

    پاکستان میں پہلے مصنوعی ذہانت کے لیے تیار ڈیٹا سینٹر کا افتتاح، ڈیجیٹل معیشت کے نئے دور کا آغاز

    وزیراعظم شہباز شریف اور چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے پاکستان کے پہلے مصنوعی ذہانت کے لیے تیار جدید ڈیٹا سینٹر اور اے آئی کلاؤڈ اسکائی 47 قراقرم ون کا افتتاح کر دیا۔

    حکومت نے اس منصوبے کو ملک کی ڈیجیٹل ترقی، محفوظ ڈیٹا اور مصنوعی ذہانت کے فروغ کی جانب ایک اہم سنگ میل قرار دیا ہے۔

    جمع کے روز اسلام آباد میں منعقدہ افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ یہ منصوبہ پاکستان کی تکنیکی صلاحیتوں اور جدید ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کا مظہر ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس جدید مرکز کے قیام سے ملک میں ڈیجیٹل معیشت کو فروغ ملے گا، سرکاری اور نجی اداروں کو محفوظ ڈیجیٹل سہولتیں میسر آئیں گی اور مصنوعی ذہانت سمیت نئی ٹیکنالوجیز کی ترقی کی راہ ہموار ہوگی۔

    وزیراعظم نے کہا کہ انہوں نے اس جدید مرکز کا دورہ کیا اور وہاں موجود سہولتیں دیکھ کر بے حد متاثر ہوئے۔ ان کے مطابق پاکستان کے انجینئروں، ماہرین اور متعلقہ اداروں نے انتہائی مختصر مدت میں یہ منصوبہ مکمل کرکے اپنی صلاحیتوں کا ثبوت دیا ہے۔ انہوں نے اس منصوبے کو قومی ترقی کی جانب ایک اہم قدم قرار دیتے ہوئے کہا کہ اگر اسی جذبے سے کام جاری رکھا گیا تو پاکستان جدید ٹیکنالوجی کے میدان میں نمایاں مقام حاصل کرسکتا ہے۔

    وزیراعظم نے کہا کہ ملک کے اہم سرکاری اداروں کو بتدریج اس نئے ڈیجیٹل نظام سے منسلک کیا جائے گا تاکہ سرکاری خدمات مزید تیز، محفوظ اور مؤثر بنائی جا سکیں۔ ان کے مطابق مستقبل کی معیشت ڈیجیٹل ٹیکنالوجی پر مبنی ہوگی اور پاکستان کو بھی اسی سمت تیزی سے آگے بڑھنا ہوگا۔

    تقریب میں بتایا گیا کہ اسکائی 47 قراقرم ون ملک کا سب سے بڑا ڈیٹا سینٹر اور مصنوعی ذہانت کے لیے تیار کلاؤڈ پلیٹ فارم ہے۔ اس کی ابتدائی استعداد آٹھ اعشاریہ پانچ میگاواٹ ہے، جبکہ کراچی کے پورٹ قاسم میں مزید پانچ میگاواٹ صلاحیت کا ایک اور ڈیٹا سینٹر بھی تعمیر کیا جا رہا ہے، جسے رواں سال ستمبر تک مکمل کرنے کا منصوبہ ہے۔

    حکام کے مطابق اس منصوبے سے پاکستان میں ڈیٹا محفوظ رکھنے کی صلاحیت بڑھے گی، ملکی اداروں کو بیرون ملک سرورز پر انحصار کم کرنا پڑے گا اور کلاؤڈ کمپیوٹنگ کی جدید سہولتیں دستیاب ہوں گی۔ اس سے بینکنگ، ٹیلی کمیونی کیشن، صحت، تعلیم، ای کامرس اور سرکاری اداروں کو جدید ڈیجیٹل خدمات فراہم کرنے میں آسانی ہوگی۔

    تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور منصوبے پر کام کرنے والی تمام ٹیموں کی خدمات کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ قومی اداروں کے باہمی تعاون سے ایسے منصوبے پاکستان کی ترقی اور خوشحالی میں اہم کردار ادا کریں گے۔

    ماہرین کے مطابق دنیا بھر میں ڈیجیٹل معیشت تیزی سے فروغ پا رہی ہے اور بڑے ڈیٹا سینٹرز کسی بھی ملک کی ٹیکنالوجی، کاروبار اور سرکاری خدمات کے لیے بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔ پاکستان میں اس نوعیت کی جدید سہولت کے قیام سے مقامی آئی ٹی صنعت، سافٹ ویئر کمپنیوں، فری لانسرز اور اسٹارٹ اپ اداروں کو بھی فائدہ پہنچنے کی توقع ہے۔

    ڈیٹا سینٹر کیا ہوتا ہے اور مصنوعی ذہانت میں اس کا کیا کردار ہے؟

    ڈیٹا سینٹر ایک ایسا جدید اور محفوظ کمپیوٹر مرکز ہوتا ہے جہاں ہزاروں طاقتور سرور، ڈیٹا محفوظ رکھنے والے آلات، نیٹ ورکنگ کا نظام، بجلی کا بیک اپ اور ٹھنڈک فراہم کرنے کا خصوصی انتظام موجود ہوتا ہے۔ دنیا بھر کی ویب سائٹس، موبائل ایپس، بینک، سرکاری ادارے، اسپتال، جامعات اور کاروباری ادارے اپنا ڈیٹا انہی مراکز میں محفوظ رکھتے ہیں۔

    مصنوعی ذہانت یا اے آئی کو مؤثر انداز میں چلانے کے لیے انتہائی طاقتور کمپیوٹر، تیز رفتار پروسیسر اور بڑی مقدار میں ڈیٹا درکار ہوتا ہے۔ یہ تمام سہولتیں ڈیٹا سینٹر فراہم کرتے ہیں۔ جب کوئی ادارہ اے آئی ماڈل تیار کرتا ہے یا لاکھوں صارفین کو آن لائن خدمات دیتا ہے تو اس کے لیے مسلسل کمپیوٹنگ طاقت درکار ہوتی ہے، جو صرف جدید ڈیٹا سینٹر ہی مہیا کر سکتے ہیں۔

    ڈیٹا سینٹرز کی بدولت چیٹ بوٹس، زبان کا ترجمہ، چہرے کی شناخت، طبی تشخیص، موسم کی پیش گوئی، مالیاتی تجزیے، سمارٹ شہروں کے نظام اور خودکار صنعتی مشینوں جیسے شعبوں میں مصنوعی ذہانت بہتر انداز میں کام کر سکتی ہے۔

    اگر پاکستان میں مزید جدید ڈیٹا سینٹر قائم کیے جائیں تو مقامی کمپنیوں کو بیرون ملک سرورز پر کم انحصار کرنا پڑے گا، ڈیٹا زیادہ محفوظ رہے گا، آن لائن خدمات کی رفتار بہتر ہوگی اور مصنوعی ذہانت پر مبنی نئی صنعتوں، روزگار اور سرمایہ کاری کے مواقع بھی پیدا ہوں گے۔ اس طرح ڈیٹا سینٹر مستقبل کی ڈیجیٹل معیشت کی بنیاد ثابت ہو سکتے ہیں۔

  • سانگھڑ اور بدین ڈیجیٹل دور میں داخل: چار ارب روپے کے براڈبینڈ منصوبے پر دستخط

    سانگھڑ اور بدین ڈیجیٹل دور میں داخل: چار ارب روپے کے براڈبینڈ منصوبے پر دستخط

    سندھ گورنر ہاؤس میں منعقدہ ایک اہم تقریب کے دوران وفاقی وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن شزا فاطمہ خواجہ نے ضلع سانگھڑ اور بدین میں ڈیجیٹل کنیکٹیویٹی بہتر بنانے کے ایک بڑے منصوبے کے معاہدے پر دستخط کیے۔ یہ منصوبہ وفاقی حکومت، یونیورسل سروس فنڈ (USF) اور نجی شعبے کے تعاون سے شروع کیا جا رہا ہے جس کا مقصد سندھ کے دیہی اور پسماندہ علاقوں کو تیز رفتار انٹرنیٹ سے جوڑنا ہے۔

    تقریب میں وفاقی اور صوبائی حکام، آئی ٹی کمپنیوں کے نمائندوں اور دیگر متعلقہ اداروں کے عہدیداروں نے شرکت کی۔ حکام کے مطابق اس منصوبے پر تقریباً چار ارب روپے لاگت آئے گی اور اس کے مکمل ہونے سے سانگھڑ اور بدین کے لاکھوں افراد جدید ڈیجیٹل سہولتوں سے مستفید ہوں گے۔

    حکومت کی جانب سے شروع کیے گئے اس منصوبے کے تحت دونوں اضلاع میں 400 کلومیٹر سے زائد فائبر آپٹک لائنیں بچھائی جائیں گی تاکہ دور دراز علاقوں میں بھی تیز رفتار انٹرنیٹ دستیاب ہو سکے۔ اس منصوبے کا بنیادی مقصد دیہی علاقوں میں ڈیجیٹل سہولتوں کی کمی کو دور کرنا اور شہری و دیہی علاقوں کے درمیان ڈیجیٹل فرق کو کم کرنا ہے۔
    ماہرین کے مطابق اس منصوبے سے مقامی کاروبار، تعلیمی اداروں، سرکاری دفاتر اور عام شہریوں کو انٹرنیٹ کے ذریعے جدید خدمات تک رسائی حاصل ہوگی۔ خاص طور پر آن لائن تعلیم، ای-کامرس، ٹیلی میڈیسن اور سرکاری خدمات کے ڈیجیٹل نظام کو فروغ ملے گا۔

    سندھ کے لیے منصوبے کی اہمیت
    یہ منصوبہ سندھ کے ان علاقوں کے لیے انتہائی اہم سمجھا جا رہا ہے جہاں انٹرنیٹ کی سہولت محدود یا نہ ہونے کے برابر تھی۔ بہتر ڈیجیٹل کنیکٹیویٹی سے نہ صرف نوجوانوں کے لیے آن لائن تعلیم اور فری لانسنگ کے مواقع بڑھیں گے بلکہ چھوٹے کاروبار بھی ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے ذریعے اپنے کاروبار کو وسعت دے سکیں گے۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ سندھ کے دیہی علاقوں میں انٹرنیٹ کی بہتر سہولت ملنے سے آئی ٹی سے وابستہ روزگار کے مواقع بڑھیں گے اور صوبے کی معیشت کو بھی فائدہ پہنچے گا۔ اس کے ساتھ ساتھ حکومتی خدمات کی آن لائن فراہمی سے عوام کو سرکاری دفاتر کے چکر لگانے کی ضرورت بھی کم ہوگی۔

    تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر شزا فاطمہ خواجہ نے کہا کہ سانگھڑ اور بدین کے لیے شروع کیا جانے والا منصوبہ ڈیجیٹل پاکستان وژن کی ایک اہم کڑی ہے اور اس سے لاکھوں افراد کو فائدہ ہوگا۔ ان کے مطابق سانگھڑ ضلع میں چار سو کلومیٹر سے زائد فائبر کیبل بچھائی جائے گی جس کے ذریعے 54 ٹاؤنز اور یونین کونسلز کو کور کیا جائے گا اور تقریباً 14 لاکھ افراد مستفید ہوں گے، جبکہ بدین ضلع کے 144 دیہات اور تقریباً ساڑھے چار لاکھ افراد کو بھی اس منصوبے سے فائدہ پہنچے گا۔

    گورنر سندھ کامران ٹیسوری نے اپنے خطاب میں کہا کہ صوبے کے دور دراز علاقوں میں انٹرنیٹ کی فراہمی سندھ کے عوام کے لیے بڑی خوشخبری ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ڈیجیٹل کنیکٹیویٹی بہتر ہونے سے نوجوانوں کے لیے روزگار اور تعلیم کے مواقع بڑھیں گے جبکہ کاروباری سرگرمیوں کو بھی فروغ ملے گا۔

    انہوں نے امید ظاہر کی کہ اس منصوبے کے بعد صوبے کے دیگر اضلاع میں بھی اسی نوعیت کے منصوبے شروع کیے جائیں گے تاکہ پورے سندھ میں ڈیجیٹل ترقی کا عمل تیز ہو سکے۔

    مقامی آبادی کے لیے ممکنہ فوائد
    اس منصوبے سے سانگھڑ اور بدین کے تقریباً اٹھارہ لاکھ سے زائد افراد مستفید ہوں گے۔ بہتر انٹرنیٹ سہولت کی بدولت طلبہ آن لائن کلاسز اور ڈیجیٹل لرننگ پلیٹ فارمز سے فائدہ اٹھا سکیں گے، جبکہ کاروباری افراد ای-کامرس کے ذریعے اپنی مصنوعات ملکی اور بین الاقوامی منڈیوں تک پہنچا سکیں گے۔

    اس کے علاوہ صحت کے شعبے میں ٹیلی میڈیسن کے ذریعے شہری بڑے شہروں کے ماہر ڈاکٹروں سے آن لائن مشورہ حاصل کر سکیں گے، جس سے صحت کی سہولتوں میں نمایاں بہتری آئے گی۔

    ماہرین کے مطابق ڈیجیٹل انفراسٹرکچر میں سرمایہ کاری سے آئی ٹی سیکٹر کی ترقی میں مزید تیزی آئے گی اور پاکستان کی آئی ٹی برآمدات میں بھی اضافہ ہوگا۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ ڈیجیٹل پاکستان پروگرام کے تحت ایسے منصوبے ملک کی معیشت کو جدید ٹیکنالوجی سے ہم آہنگ بنانے میں اہم کردار ادا کریں گے۔

    وفاقی وزارت آئی ٹی نے اعلان کیا ہے کہ سانگھڑ اور بدین کے بعد دیگر پسماندہ علاقوں میں بھی اسی طرز کے منصوبے شروع کیے جائیں گے تاکہ پورے ملک میں یکساں ڈیجیٹل سہولتیں فراہم کی جا سکیں۔ اس مقصد کے لیے سرکاری اور نجی اداروں کے درمیان شراکت داری کو مزید مضبوط کیا جائے گا۔

    ڈیجیٹل کنیکٹیویٹی پروجیکٹ کیا ہے؟
    ڈیجیٹل کنیکٹیویٹی پروجیکٹ دراصل حکومتِ پاکستان کا وہ پروگرام ہے جس کے ذریعے ملک کے دور دراز اور پسماندہ علاقوں کو تیز رفتار انٹرنیٹ، موبائل براڈبینڈ اور فائبر آپٹک نیٹ ورک سے جوڑا جا رہا ہے۔ اس منصوبے کا بنیادی مقصد شہری اور دیہی علاقوں کے درمیان ڈیجیٹل فرق کو کم کرنا، آن لائن تعلیم، کاروبار، ای-گورننس اور آئی ٹی روزگار کے مواقع بڑھانا ہے۔
    یہ منصوبے زیادہ تر یونیورسل سروس فنڈ پاکستان (USF) کے ذریعے چلائے جا رہے ہیں، جو ٹیلی کام کمپنیوں کے تعاون سے ان علاقوں میں نیٹ ورک قائم کرتا ہے جہاں نجی کمپنیاں تجارتی بنیادوں پر سرمایہ کاری نہیں کرتیں۔

    حکومت پاکستان نے رواں مالی سال کے دوران یو ایس ایف کو تقریباً 22 ارب روپے جاری کیے ہیں تاکہ پورے ملک کے پسماندہ اضلاع میں یہ سروس شروع کی جا سکے، جبکہ حال ہی میں یو ایس ایف اور جاز کے درمیان ایک معاہدے کے تحت پنجاب اور خیبر پختونخوا کے نو اضلاع میں بھی اسی نوعیت کے منصوبے شروع کیے جا رہے ہیں۔