Tag: انڈیا

  • دنیا کی سب سے بڑی فلمی صنعت، یعنی انڈیا کی بالی ووڈ بھی اے آئی سے شدید متاثر

    دنیا بھر میں آرٹیفیشل انٹیلی جنس نے جہاں دیگر کاروباری اور ٹیکنالوجی سیکٹرز کو متاثر کیا ہے، وہاں دنیا کی سب سے بڑی فلمی صنعت، یعنی بھارت کی بالی ووڈ کو بھی اثر انداز کیا ہے۔ بالی ووڈ فلم انڈسٹری اس وقت اے آئی کی ایک بڑی تبدیلی سے گزر رہی ہے۔ اس تبدیلی نے فلم بنانے کے طریقے، رفتار اور اخراجات سب کچھ بدل کر رکھ دیا ہے۔

    یہ ٹیکنالوجی مستقبل میں فلمی دنیا کی شکل مکمل طور پر تبدیل کر سکتی ہے، لیکن اس کے ساتھ کئی خدشات بھی سامنے آ رہے ہیں۔

    بھارت دنیا میں سب سے زیادہ فلمیں بنانے والا ملک ہے، جہاں ہر سال مختلف زبانوں میں سینکڑوں فلمیں تیار ہوتی ہیں۔ یہاں کے بڑے اداکار، جیسے شاہ رخ خان اور امیتابھ بچن، کروڑوں لوگوں میں بے حد مقبول ہیں۔

    لیکن حالیہ برسوں میں فلمی صنعت کو کئی مسائل کا سامنا کرنا پڑا ہے، جیسے سینما گھروں میں ناظرین کی تعداد میں کمی اور آن لائن اسٹریمنگ پلیٹ فارمز کا بڑھتا ہوا اثر۔

    تحقیقاتی ادارے اورمیکس میڈیا (Ormax Media) کے مطابق 2025 میں فلم دیکھنے والوں کی تعداد کم ہو کر 83 کروڑ 20 لاکھ رہ گئی، جو 2019 میں ایک ارب تین کروڑ تھی۔

    گذشتہ سال باکس آفس کی کمائی 1.4 ارب ڈالر کی ریکارڈ سطح تک پہنچ گئی، لیکن وبا کے بعد سے آمدنی غیر مستحکم رہی ہے اور چند ہٹ فلموں اور مہنگے ٹکٹوں پر انحصار کرتی رہی ہے۔

    کم لاگت اور وقت کی بچت

    ان حالات میں فلم ساز اب بڑے پیمانے پر مصنوعی ذہانت کا سہارا لے رہے ہیں۔ اس نئی ٹیکنالوجی کی مدد سے فلمیں نہ صرف تیزی سے بن رہی ہیں بلکہ ان کی لاگت بھی بہت کم ہو گئی ہے۔ فلم انڈسٹری کے ماہرین کے مطابق، کچھ فلموں کی تیاری کا خرچ پہلے کے مقابلے میں پانچواں حصہ رہ گیا ہے، جبکہ بنانے کا وقت بھی ایک چوتھائی ہو گیا ہے۔

    کلیکٹو کے اے آئی اسٹوڈیو ‘گیلری فائیو’ کے سربراہ، راہول ریگولاپتی نے خبر رساں ایجنسی روئٹرز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا: ‘اے آئی روایتی فلم سازی کے مقابلے میں، خاص طور پر دیومالائی اور فینٹسی فلموں میں، لاگت کو کم کر کے پانچویں حصے تک لے آئی ہے۔’

    انہوں نے مزید کہا کہ پروڈکشن کا وقت بھی کم ہو کر ایک چوتھائی رہ گیا ہے۔ بھارت میں کم از کم ایک بڑا فلمی ادارہ اپنی پوری فلموں کی لائبریری کا جائزہ لے رہا ہے تاکہ انہیں اے آئی کے ذریعے دوبارہ ریلیز کیا جا سکے، جبکہ گوگل، مائیکروسافٹ اور اینویڈیا نے مقامی فلم سازوں کے ساتھ شراکت داری کر کے اس میدان میں پہلے ہی قدم رکھ دیا ہے۔

    پرانی فلمیں نئے انداز سے پیش

    مصنوعی ذہانت کا استعمال فلم سازی کے مختلف مراحل میں کیا جا رہا ہے۔ اب مکمل فلمیں کمپیوٹر کے ذریعے بنائی جا رہی ہیں، پرانی فلموں کو نئے انداز میں دوبارہ پیش کیا جا رہا ہے، اور فلموں کو کئی زبانوں میں آسانی سے ڈب کیا جا رہا ہے۔ اس طرح فلم ساز ایک ہی فلم کو مختلف علاقوں میں باآسانی پیش کر سکتے ہیں، جس سے ان کی آمدنی بڑھانے میں مدد ملتی ہے۔

    خاص طور پر مذہبی اور تاریخی کہانیوں پر مبنی فلموں میں مصنوعی ذہانت کا استعمال تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ مثال کے طور پر رامائن اور مہابھارت جیسی کہانیوں پر مبنی فلمیں اور ڈرامے جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے تیار کیے جا رہے ہیں۔ ایک مشہور سیریز ‘مہابھارت’ کو آن لائن پلیٹ فارم پر کروڑوں لوگوں نے دیکھا، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس طرح کے مواد کی مانگ بہت زیادہ ہے۔

    ناظرین کا ملا جلا ردعمل

    تاہم، اس نئی ٹیکنالوجی کو ہر طرف سے مثبت ردعمل نہیں مل رہا۔ بہت سے ناظرین نے شکایت کی ہے کہ مصنوعی ذہانت سے بنی ویڈیوز غیر فطری لگتی ہیں۔ خاص طور پر اداکاروں کے ہونٹوں کی حرکت اور چہرے کے تاثرات بعض اوقات حقیقت کے قریب نہیں ہوتے، جس سے فلم کا معیار متاثر ہوتا ہے۔

    اسی طرح ایک اور مثال میں، ایک پرانی فلم ‘رانجھنا’ کو اے آئی کی مدد سے نئے انداز میں تیار کیا گیا، مگر فلم کے اختتام کو مصنوعی ذہانت کی مدد سے بدل دیا گیا۔ اصل فلم میں ہیرو مر جاتا ہے، لیکن نئے ورژن میں اسے زندہ دکھایا گیا۔ اس تبدیلی پر فلم کے اداکار دھنوش نے سخت تنقید کی اور کہا کہ اس سے فلم کی اصل روح متاثر ہوئی ہے۔

    اس کے باوجود، اس فلم کو دوبارہ ریلیز کرنے پر کافی لوگ دیکھنے آئے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ کاروباری لحاظ سے یہ طریقہ کار کامیاب ہو سکتا ہے۔

    کلیکٹو آرٹسٹس نیٹ ورک نامی بالی ووڈ ٹیلنٹ ایجنسی کے ٹیک اسٹوڈیو ونگ، گیلری فائیو میں کام میں مصروف ملازمین۔ صنعتی ماہرین کا کہنا ہے کہ مصنوعی ذہانت بھارت میں اسٹوڈیوز کو پروڈکشن کے دورانیے اور اخراجات میں بڑی کٹوتی کرنے کے قابل بنا رہی ہے۔
    رائٹرز / پریانشو سنگھ

    اے آئی سے زبانوں کی ڈبنگ میں آسانی

    فلمی صنعت میں مصنوعی ذہانت کے استعمال کا ایک اہم فائدہ زبانوں کا مسئلہ حل کرنا بھی ہے۔ بھارت میں درجنوں زبانیں بولی جاتی ہیں، جس کی وجہ سے ایک فلم کو پورے ملک میں کامیاب بنانے کے لیے اسے مختلف زبانوں میں پیش کرنا ضروری ہوتا ہے۔

    اب نئی ٹیکنالوجی کے ذریعے نہ صرف آواز بلکہ چہرے کی حرکت بھی زبان کے مطابق تبدیل کی جا سکتی ہے، جس سے ڈبنگ زیادہ فطری لگتی ہے۔

    یہی وجہ ہے کہ عالمی ٹیکنالوجی کمپنیاں بھی اس شعبے میں دلچسپی لے رہی ہیں۔ گوگل، مائیکروسافٹ اور اینویڈیا جیسی بڑی کمپنیاں بھارتی فلم سازوں کے ساتھ مل کر کام کر رہی ہیں۔ یہ کمپنیاں جدید سافٹ ویئر اور کمپیوٹنگ پاور فراہم کر رہی ہیں تاکہ فلم سازی کو مزید آسان اور تیز بنایا جا سکے۔

    گوگل نے اگست میں بالی وڈ کے ہدایت کار کے ساتھ مل کر کام کیا تاکہ اپنی ویڈیو بنانے والی ٹیکنالوجی اور ‘فلو اے آئی’ جیسے ٹولز استعمال کرتے ہوئے پانچ حصوں پر مشتمل ایک فلم سیریز تیار کی جا سکے اور اے آئی کے ذریعے فلم سازی کا تجربہ کیا جا سکے۔

    گوگل کی ٹیکنالوجی اور معاشرتی امور کی نائب صدر نے خبر رساں ادارے رائٹرز کو بتایا کہ اے آئی کی مدد سے آزاد فنکار بھی پیچیدہ مناظر بنا سکتے ہیں، جو عام طور پر کم بجٹ یا عملی مشکلات کی وجہ سے ممکن نہیں ہوتے۔ مائیکروسافٹ بھی کلیکٹو کے ساتھ مل کر کام کر رہا ہے۔

    ان کے ایک عہدیدار نے رائٹرز کو بتایا کہ وہ اے آئی کی کمپیوٹنگ پاور فراہم کر رہے ہیں تاکہ ایسی شراکت داریوں کے ذریعے عالمی اسٹوری ٹیلنگ کے اگلے دور کو تشکیل دیا جا سکے۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہی رفتار برقرار رہی تو مستقبل میں بھارت مصنوعی ذہانت کے ذریعے فلم سازی میں دنیا کا مرکز بن سکتا ہے۔ کچھ اندازوں کے مطابق، یہ ٹیکنالوجی میڈیا اور تفریحی صنعت کی آمدنی میں اضافہ کر سکتی ہے اور اخراجات کو بھی کم کر سکتی ہے۔

    ہالی ووڈ میں اے آئی پر زیادہ پابندیاں ہیں

    دوسری جانب، مغربی ممالک خاص طور پر ہالی وڈ میں مصنوعی ذہانت کے استعمال پر زیادہ پابندیاں ہیں۔ وہاں اداکاروں اور ہدایت کاروں کی تنظیمیں اس بات پر زور دیتی ہیں کہ کسی بھی اداکار کی ڈیجیٹل شکل یا کارکردگی کو بغیر اجازت تبدیل نہ کیا جائے۔ اس کا مقصد فنکاروں کے حقوق کا تحفظ کرنا ہے۔

    کچھ ماہرین اور فلم ساز اس بات پر تشویش کا اظہار کر رہے ہیں کہ مصنوعی ذہانت فلمی صنعت کے لیے خطرہ بھی بن سکتی ہے۔ ان کے مطابق، اگر کمپیوٹر خود فلمیں بنانے لگیں تو انسانی تخلیقی صلاحیت متاثر ہو سکتی ہے اور فلمیں صرف ایک فارمولا بن کر رہ جائیں گی۔

    تاہم، کچھ لوگ اس کو ایک موقع کے طور پر دیکھتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ مصنوعی ذہانت نئے فلم سازوں کو کم خرچ میں کام کرنے کا موقع فراہم کرے گی اور چھوٹے تخلیق کار بھی بڑے منصوبے بنا سکیں گے۔ اس طرح فلمی دنیا میں نئے خیالات اور نئے لوگ سامنے آ سکتے ہیں۔

    مصنوعی ذہانت نے فلمی صنعت میں ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ ایک طرف یہ ٹیکنالوجی فلم سازی کو سستا، تیز اور آسان بنا رہی ہے، جبکہ دوسری طرف یہ سوال بھی اٹھ رہا ہے کہ کیا اس سے فن اور تخلیقی معیار متاثر ہوگا۔

    مستقبل میں یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ ٹیکنالوجی اور انسانی تخلیق کے درمیان توازن کیسے قائم رکھا جائے، تاکہ فلمی صنعت ترقی بھی کرے اور اپنی اصل خوبصورتی بھی برقرار رکھ سکے۔

  • کشیدگی کے دوران پاکستان نے انڈیا کے 10 جنگی طیارے گرائے: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا نیا دعویٰ

    کشیدگی کے دوران پاکستان نے انڈیا کے 10 جنگی طیارے گرائے: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا نیا دعویٰ

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ گزشتہ برس مئی میں انڈیا اور پاکستان کے درمیان صورتحال انتہائی خطرناک ہوگئی تھی، یہ ایٹمی جنگ بن سکتی تھی۔ پاکستان اور انڈیا ایک دوسرے پر بھرپور حملے کر رہے تھے۔

    امریکی ٹی وی چینل فاکس بزنس کو دئیے گئے ایک انٹرویو میں امریکی صدر نے دعویٰ کیا: ‘اس کشیدگی کے پاکستان نے انڈیا کے 10 جنگی طیارے طیارے مار گرائے تھے۔’

    امریکی صدر نے ابتدائی طور پر پانچ طیاروں کے مار گرائے جانے کا ذکر کیا تھا اور بعدازاں وہ یہ تعداد بڑھا کر اکتوبر میں 7 اور پھر نومبر میں 8 کر دی تھی۔

    صدر ٹرمپ کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف نے بھی ان سے کہا تھا کہ انہوں نے جنگ رکوا کر کم از کم ایک کروڑ جانیں بچائیں کیونکہ حالات ایٹمی جنگ کی طرف بڑھ رہے تھے۔

    ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا: ‘میرے خیال میں اگر ٹیرف کا دباؤ نہ ہوتا تو یہ جنگ ایٹمی رخ اختیار کر لیتی۔’

    فاکس بزنس کی رپورٹ کے مطابق اگرچہ ٹرمپ نے جنگ رکوانے کا کریڈٹ خود کو دیا ہے اور پاکستان نے بھی امریکی کردار کو سراہا ہے، تاہم انڈیا نے اس معاملے میں امریکی صدر کے کردار کو تسلیم نہیں کیا۔ اس کے برعکس پاکستان نے ڈونلڈ ٹرمپ کو نوبیل امن انعام کے لیے نامزد بھی کیا تھا۔

    گزشتہ برس مئی میں پاکستان اور انڈیا کے سخت کشیدگی دیکھنے میں آئی تھی، جس کا آغاز مقبوضہ کشمیر کے علاقے پہلگام میں سیاحوں پر ہونے والے دہشت گرد حملے کے بعد ہوا۔ اس حملے میں 26 افراد ہلاک ہوئے تھے اور بھارت نے اس کا الزام پاکستان پر عائد کیا تھا۔

    تاہم پاکستان نے اس حملے میں ملوث ہونے کی سختی سے تردید کی اور غیر جانبدار تحقیقات میں تعاون کی پیشکش بھی کی تھی۔

    دونوں فریقوں نے ایک دوسرے پر حملے کیے اور یہ کشیدگی مئی میں ٹرمپ کے جنگ بندی کے اعلان کے ساتھ ختم ہو گئی۔
    صدر ٹرمپ نے کئی مواقع پر فیلڈ مارشل عاصم منیر کی بھی تعریف کی اور انہیں ایک ’انتہائی قابل احترام جنرل‘، ایک ’عظیم جنگجو‘ اور اپنا ‘پسندیدہ‘ قرار دیا۔

     

  • 15 سالوں تک نوجوانوں کی دلوں پر راج کرنے والے معروف گلوکار اریجیت سنگھ نے رٹائرمنٹ کا اعلان کیوں کیا؟

    15 سالوں تک نوجوانوں کی دلوں پر راج کرنے والے معروف گلوکار اریجیت سنگھ نے رٹائرمنٹ کا اعلان کیوں کیا؟

    منوا لاگے، میں رنگ شربتوں کا، وے کملیا اور دیگر مقبول گانوں سے شہرت حاصل کرنے والے انڈیا کے معروف گلوکار اریجیت سنگھ نے 38 برس کی عمر میں پلے بیک سنگنگ سے کنارہ کشی کا اعلان کر کے موسیقی کے حلقوں کو حیران کر دیا ہے۔

    اریجیت سنگھ نے کہا کہ وہ اب فلمی موسیقی کے دباؤ اور تجارتی تقاضوں سے ہٹ کر ذاتی تخلیقی سفر پر توجہ دینا چاہتے ہیں۔ ان کے مطابق یہ فیصلہ اچانک نہیں بلکہ ایک طویل غور و فکر کا نتیجہ ہے۔

    اریجیت سنگھ نے گلوکاری سے ریٹائرمنٹ  کا اعلان اپنے انسٹا گرام اکاؤنٹ سے پوسٹ کرکے کیا۔ انہوں نے لکھا: ‘ہیلو، سب کو نیا سال مبارک۔ میں اپنے تمام سننے والوں کا شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں کہ آپ نے ان تمام برسوں میں مجھے بے حد محبت دی۔

    ‘مجھے یہ اعلان کرتے ہوئے خوشی ہو رہی ہے کہ اب میں بطور پلے بیک گلوکار کوئی نئی اسائنمنٹس قبول نہیں کروں گا۔ میں اس سفر کو یہیں ختم کر رہا ہوں۔ یہ ایک خوبصورت اور یادگار سفر تھا۔’

    یہ فیصلہ اس وقت سامنے آیا جب وہ اپنے کیریئر کے عروج پر تھے اور ان کے گانے ہر دل میں جگہ بنا چکے تھے۔ ان کی آواز کو محبت، درد اور سچائی کی علامت سمجھا جاتا ہے، اسی لیے مداحوں کے لیے یہ خبر افسوس کا باعث بنی۔

    اریجیت سنگھ نے فلمی دنیا میں اپنی محنت، سادگی اور لگن سے ایک خاص مقام حاصل کیا۔ ان کے گانے صرف سننے کے لیے نہیں بلکہ محسوس کرنے کے لیے ہوتے تھے۔ ان کے اس فیصلے نے یہ ثابت کیا کہ بعض اوقات انسان شہرت کے عروج پر بھی خاموشی کو ترجیح دیتا ہے۔ اگرچہ وہ پلے بیک سنگنگ چھوڑ رہے ہیں، مگر ان کی آواز ہمیشہ لوگوں کے دلوں میں زندہ رہے گی۔

    موسیقی کے ناقدین کے مطابق ان کا یہ فیصلہ فلمی موسیقی کے موجودہ ڈھانچے اور گلوکاروں پر بڑھتے دباؤ کی طرف بھی اشارہ کرتا ہے۔ اریجیت سنگھ کے مداحوں میں اس اعلان کے بعد حیرت اور اداسی دونوں کی کیفیت دیکھی جا رہی ہے، تاہم ان کے مستقبل کے منصوبوں پر دلچسپی برقرار ہے۔

    اریجیت سنگھکون ہیں؟

    اریجیت سنگھ انڈیا کے معروف پلے بیک گلوکار اور موسیقار ہیں، جو اپنی نرم، جذباتی اور سادہ گائیکی کے باعث پہچانے جاتے ہیں۔ وہ 25 اپریل 1987 کو مغربی بنگال کے ضلع مرشد آباد کے علاقے جیگانج میں پیدا ہوئے۔ ان کا تعلق ایک موسیقی دوست گھرانے سے ہے، والد کلاسیکل موسیقی سے وابستہ رہے جبکہ والدہ بھی گلوکاری اور طبلہ نوازی جانتی تھیں۔

    اریجیت سنگھ نے باقاعدہ موسیقی کی تربیت کم عمری میں شروع کی۔ انہوں نے انڈین کلاسیکل موسیقی، طبلہ اور رباب کی تعلیم حاصل کی۔ کم لوگ جانتے ہیں کہ وہ ابتدا میں موسیقار بننا چاہتے تھے اور گلوکاری ان کے لیے ایک قدرتی توسیع ثابت ہوئی۔

    ان کا عملی سفر 2005 میں ایک ٹی وی ریئلٹی شو سے شروع ہوا، جہاں وہ کامیاب تو نہ بن سکے لیکن موسیقی کے شعبے میں پہچان حاصل کرنے میں کامیاب رہے۔ چند برس جدوجہد کے بعد انہیں فلمی دنیا میں موقع ملا۔2011 میں مرڈر ٹو فلم میں ‘پھر محبت’ گانے سے انہیں شہرت ملی اور اور 2013 میں ایک رومانوی گیت کے ذریعے وہ اچانک شہرت کی بلندیوں پر پہنچ گئے۔

    اس کے بعد اریجیت سنگھ نے فلمی موسیقی میں مسلسل کام کیا اور رومانوی، اداس اور روحانی نوعیت کے گیتوں میں اپنی الگ شناخت بنائی۔ ان کی آواز کو نئی نسل کے جذبات کی نمائندہ سمجھا جاتا ہے۔ وہ مختلف انڈین زبانوں میں گانے گانے کی صلاحیت رکھتے ہیں، جن میں ہندی، بنگالی، تمل اور تیلگو شامل ہیں۔

    اریجیت سنگھ کو متعدد قومی اور فلمی اعزازات ملے۔ وہ کئی برس تک ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر سب سے زیادہ سنے جانے والے انڈین گلوکاروں میں شامل رہے۔ موسیقی کے ناقدین کے مطابق ان کی کامیابی کی بڑی وجہ آواز کے ساتھ سادگی اور شہرت سے دوری ہے۔

    ذاتی زندگی میں اریجیت سنگھ کم گو اور نجی نوعیت کے انسان سمجھے جاتے ہیں۔ وہ اپنی خاندانی زندگی اور عوامی نمائش سے گریز کو ترجیح دیتے ہیں۔ شادی شدہ ہیں اور بچوں کے ساتھ سادہ طرزِ زندگی گزارتے ہیں۔

    حالیہ برسوں میں اریجیت سنگھ نے اعلان کیا کہ وہ فلمی پلے بیک سنگنگ کے لیے نئی اسائنمنٹس محدود یا بند کر رہے ہیں اور اب لائیو کنسرٹس، آزاد موسیقی اور ذاتی تخلیقی منصوبوں پر توجہ دینا چاہتے ہیں۔ موسیقی کے حلقوں میں اس فیصلے کو ایک بڑے دور کے اختتام کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

    اریجیت سنگھ کو انڈیا کی جدید موسیقی کا وہ چہرہ مانا جاتا ہے جس نے کم نمائش اور زیادہ احساس کے ساتھ کامیابی حاصل کی۔

  • ‘مدر آف آل ڈیلز’ اور اس کے ممکنہ اثرات: پاکستان، انڈیا، چین، امریکہ اور یورپ کی بدلتی عالمی بساط

    ‘مدر آف آل ڈیلز’ اور اس کے ممکنہ اثرات: پاکستان، انڈیا، چین، امریکہ اور یورپ کی بدلتی عالمی بساط

    یورپ اور انڈیا کے درمیان ہونے والی مدر آف آل ڈیلز کو اگر محض ایک تجارتی معاہدہ سمجھا جائے تو یہ اس کی اصل معنویت کو کم کر دیتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ معاہدہ عالمی طاقتوں کے درمیان ایک خاموش مگر گہری ازسرنو صف بندی کی علامت ہے، جس کے اثرات پاکستان سمیت پورے خطے پر مرتب ہوں گے۔

    یہ ڈیل خاص طور پر انڈیا، چین، امریکہ اور یورپ کے باہمی تعلقات میں ایک نئے توازن کی نشاندہی کرتی ہے۔ بظاہر تجارت کے نام پر ہونے والا یہ معاہدہ دراصل عالمی سپلائی چین، سرمایہ کاری اور اسٹریٹجک ترجیحات کی سمت بدلنے کی کوشش ہے۔

    سب سے پہلے پاکستان کے تناظر میں دیکھا جائے تو یہ معاہدہ ایک تنبیہ بھی ہے اور ایک موقع بھی۔ یورپی یونین پہلے ہی پاکستان کی برآمدات، خصوصاً ٹیکسٹائل، کے لیے ایک بڑی منڈی ہے اور جی ایس پی پلس کے تحت رعایت فراہم کرتی ہے۔ مگر انڈیا کے ساتھ آزاد تجارتی معاہدہ یورپی منڈی میں مسابقت کو کہیں زیادہ سخت بنا دے گا۔

    اگر انڈین ٹیکسٹائل، انجینئرنگ مصنوعات اور آئی ٹی خدمات کم ٹیرف کے ساتھ یورپ پہنچتی ہیں تو پاکستانی برآمدی صنعت کو شدید دباؤ کا سامنا ہو سکتا ہے۔ اس صورتحال میں محض رعایتی اسکیموں پر انحصار پاکستان کے لیے کافی نہیں رہے گا۔

    یہ معاہدہ پاکستان کو یہ احساس بھی دلاتا ہے کہ جغرافیہ اب اکیلا ہتھیار نہیں رہا۔ معاشی سفارت کاری، صنعتی اپ گریڈیشن، ویلیو ایڈیشن اور منڈیوں کا تنوع ناگزیر ہو چکا ہے۔ اگر پاکستان ٹیکسٹائل سے آگے بڑھ کر آئی ٹی، زرعی پراسیسنگ اور گرین صنعتوں میں سنجیدہ اصلاحات کرے تو یورپ کے ساتھ زیادہ مضبوط اور پائیدار تعلق قائم کر سکتا ہے۔

    انڈیا اور چین کے تعلقات کے تناظر میں یہ ڈیل مزید اہم ہو جاتی ہے۔ سرحدی تنازعات اور باہمی عدم اعتماد کے باعث دونوں ممالک کے تعلقات پہلے ہی کشیدہ ہیں۔ یورپ کے ساتھ یہ معاہدہ انڈیا کی اس خواہش کی عکاسی کرتا ہے کہ وہ اپنی معاشی ترقی کے لیے چین پر انحصار کم کرنا چاہتا ہے۔

    یورپ بھی اسی سمت بڑھ رہا ہے۔ یہ معاہدہ چین کے خلاف کسی کھلے اتحاد کا اعلان نہیں، مگر متبادل سپلائی چین کی بنیاد ضرور رکھتا ہے۔ چین کے لیے یہ ایک اسٹریٹجک دباؤ ہے، کیونکہ یورپ جو طویل عرصے تک چینی مینوفیکچرنگ کا بڑا خریدار رہا، اب انڈیا کو ایک قابل اعتماد متبادل کے طور پر دیکھنے لگا ہے۔

    اسی لیے بیجنگ میں اس معاہدے کو برسلز اور نئی دہلی کے درمیان خاموش قربت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ یہ قربت مستقبل میں چین کے یورپی منڈی تک اثر و رسوخ کو محدود کر سکتی ہے۔

    اگر انڈیا اور امریکہ کے تعلقات کو دیکھا جائے تو تصویر مزید واضح ہو جاتی ہے۔ امریکہ طویل عرصے سے انڈیا کو چین کے توازن کے طور پر دیکھتا آیا ہے۔ یورپ اور انڈیا کا یہ معاہدہ امریکی حکمت عملی سے متصادم نہیں بلکہ اس کی تکمیل کرتا ہے۔

    امریکہ کے لیے یہ پیش رفت خوش آئند ہے کہ اس کا یورپی اتحادی بھی اب انڈیا کے ساتھ معاشی طور پر جڑ رہا ہے۔ اس سے چین پر عالمی انحصار کم ہو سکتا ہے۔ تاہم ایک باریک نکتہ یہ بھی ہے کہ انڈیا اب صرف امریکہ کا ثانوی شراکت دار نہیں رہے گا بلکہ یورپ کے ساتھ براہ راست بڑے معاہدے کر کے اپنی خودمختار حیثیت مضبوط کرے گا۔

    یہی پہلو یورپ اور امریکہ کے تعلقات پر بھی اثر انداز ہوتا ہے۔ دونوں اتحادی ہونے کے باوجود تجارت، سبسڈیز، ٹیکنالوجی ضوابط اور کاربن ٹیکس جیسے معاملات پر اختلافات رکھتے ہیں۔ انڈیا کے ساتھ یہ ڈیل یورپ کی اس خواہش کی عکاسی کرتی ہے کہ وہ عالمی تجارت میں ایک خودمختار معاشی طاقت کے طور پر فیصلے کرے۔

    دوسرے الفاظ میں یورپ یہ پیغام دے رہا ہے کہ وہ صرف واشنگٹن کی ترجیحات تک محدود نہیں رہے گا بلکہ اپنی الگ معاشی سمت بھی متعین کرے گا۔

    یوں یہ معاہدہ بیک وقت کئی سطحوں پر اثر انداز ہو رہا ہے۔ پاکستان کے لیے ایک چیلنج اور تنبیہ۔ چین کے لیے خاموش مقابلہ۔ امریکہ کے لیے اسٹریٹجک سہولت۔ اور یورپ کے لیے ایک خودمختار عالمی کردار کی علامت۔

    آخر میں اصل سوال یہ نہیں کہ مدر آف ڈیل انڈیا اور یورپ کو کیا دے گی، یہ تو وقت کے ساتھ واضح ہو جائے گا۔ اصل سوال یہ ہے کہ پاکستان اس بدلتی ہوئی عالمی بساط میں خود کو کہاں کھڑا دیکھنا چاہتا ہے، ایک تماشائی کے طور پر یا ایک سنجیدہ معاشی کھلاڑی کے طور پر۔

  • ‘سندھ: بدین کی شکور جھیل کے درمیاں گزرنے والے سرحد پر انڈیا نے دیوار نما روڈ بنا کر مچھلیوں کو پاکستان آنے سے روک دیا’

    ‘سندھ: بدین کی شکور جھیل کے درمیاں گزرنے والے سرحد پر انڈیا نے دیوار نما روڈ بنا کر مچھلیوں کو پاکستان آنے سے روک دیا’

    سندھ کے ضلع بدین میں واقع شکور جھیل کے ماہی گیروں کے مطابق جھیل کے درمیاں گزرنے والے پاکستان، انڈیا سرح پر انڈیا کی جانب سے بارڈر سیکورٹی کے ایک دیوار نما روڈ تعمیر کرانے سے مچھلیوں کو پاکستان آنے سے روک دیا گیا ہے۔

    شکور جھیل پر کئی دہائیوں سے ماہی گیری کرنے والے مقامی ماہی گیر غلام رسول ملاح نے ساگا ڈیجیٹل کو بتایا: ‘دیوار نما روڈ کے باعث کئی اقسام کی مچھلیاں اب پاکستان نہیں آتیں، اس لیے مقامی ماہی گیر بے روزگار ہوگئے ہیں۔’

    شکور جھیل پاکستان اور انڈیا کے درمیان واقع ایک قدرتی آبی ذخیرہ ہے۔ یہ جھیل رن آف کچھ کے نیم صحرائی خطے میں واقع ہے اور زمینی سرحد جھیل کے عین درمیان سے گزرتی ہے۔ اسی وجہ سے شکور جھیل دونوں ممالک کے درمیان قدرتی سرحدی جھیل کے طور پر جانی جاتی ہے۔

    دستیاب جغرافیائی نقشوں اور سیٹلائٹ امیجز کے مطابق شکور جھیل کا کل رقبہ اندازاً 150 مربع کلومیٹر بنتا ہے۔ اس میں سے تقریباً 90 مربع کلومیٹر حصہ پاکستان میں جبکہ تقریباً 60 مربع کلومیٹر حصہ انڈیا میں واقع ہے۔ یہ تقسیم کسی تحریری آبی معاہدے کے تحت نہیں بلکہ بین الاقوامی زمینی سرحد کے مطابق ہے۔

    انڈیا کی جانب شکور جھیل کے شمال مشرقی حصے کے ساتھ ایک بارڈر روڈ تعمیر کی گئی ہے۔ سرکاری طور پر یہ سڑک سرحدی نگرانی، لاجسٹکس اور سیکیورٹی مقاصد کے لیے بنائی گئی۔ یہ سڑک انڈو پاک بین الاقوامی سرحد کے ساتھ ساتھ چلتی ہے اور زمینی ساخت کے باعث کئی مقامات پر اونچی بند نما شکل اختیار کر چکی ہے۔

    یہ بات سرکاری طور پر تسلیم شدہ ہے کہ سرحدی علاقوں میں بننے والی یہ سڑکیں فوجی اور سیکیورٹی ضروریات کے تحت تعمیر کی جاتی ہیں۔ تاہم ان سڑکوں کی تعمیر کے دوران قدرتی آبی نظام یا آبی حیات کی نقل و حرکت سے متعلق کوئی مشترکہ سرحدی ماحولیاتی فریم ورک موجود نہیں۔

    مقامی ماہی گیروں کا کہنا ہے کہ ماضی میں مون سون کے دوران شکور جھیل ایک مکمل آبی اکائی بن جاتی تھی اور پانی، مچھلی اور دیگر آبی حیات پورے جھیل میں آزادانہ طور پر پھیل جاتی تھیں۔ اب ان کے مطابق بارڈر روڈ جھیل کے قدرتی پھیلاؤ کو متاثر کر رہی ہے، جس کے باعث مچھلی کی آمد میں کمی محسوس ہو رہی ہے۔ یہ شکایت مقامی سطح پر بارہا سامنے آ چکی ہے، تاہم اس حوالے سے کسی سرکاری سائنسی تحقیق یا مشترکہ مطالعے کی رپورٹ تاحال دستیاب نہیں۔

    ماحولیاتی ماہرین عمومی طور پر یہ مؤقف رکھتے ہیں کہ جب سرحدی انفرا اسٹرکچر قدرتی آبی راستوں پر بنایا جائے تو اس کے اثرات صرف جغرافیائی نہیں بلکہ ماحولیاتی بھی ہو سکتے ہیں۔ شکور جھیل جیسے آبی ذخائر میں پانی کی قدرتی گردش، مچھلیوں کی افزائش اور مہاجر پرندوں کی موجودگی ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہوتی ہے۔

    شکور جھیل اس حقیقت کی واضح مثال ہے کہ سرحدی انتظامی فیصلے جب قدرتی نظام کے ساتھ متوازن نہ ہوں تو ان کے اثرات مقامی آبادی تک پہنچتے ہیں۔ یہ جھیل آج ایک آبی ذخیرے کے ساتھ ساتھ ایک حساس سرحدی اور ماحولیاتی مسئلہ بھی بن چکی ہے۔

  • ‘اجرک کی بنیاد انڈیا کے خطے کَچھ سے ہوئی’: اداکارہ عالیہ بھٹ کا دعویٰ کتنا سچا؟

    ‘اجرک کی بنیاد انڈیا کے خطے کَچھ سے ہوئی’: اداکارہ عالیہ بھٹ کا دعویٰ کتنا سچا؟

    حال ہی میں ایک ویڈیو میں انڈین اداکارہ عالیہ بھٹ نے یہ دعویٰ کیا کہ اجرک کا تعلق انڈیا کے کَچھ خطے سے ہے۔ یہ بات تاریخی اور تہذیبی حقائق سے مطابقت نہیں رکھتی، اس لیے اس معاملے کی اصل حقیقت سامنے لانا ضروری ہے تاکہ ایک قدیم ورثے کے بارے میں ابہام دور ہو سکے۔

    اجرک محض ایک کپڑا نہیں بلکہ ہزاروں سال پرانی وادی سندھ کی تہذیب کی علامت ہے۔ اس کے رنگ، نقش و نگار اور ترتیب محض آرائش نہیں بلکہ ایک مکمل فکری اور ثقافتی زبان ہیں، جو صدیوں سے سندھ کے معاشرتی شعور کا حصہ رہی ہے۔

    موہن جو دڑو سے ملنے والے آثار اس حقیقت کی تصدیق کرتے ہیں کہ اجرک جیسی ڈیزائن روایت آج سے ہزاروں سال پہلے سندھ میں موجود تھی۔ موہن جو دڑو کے مشہور پجاری کنگ پریسٹ کے مجسمے پر اوڑھی ہوئی شال پر وہی جیومیٹریائی نقش دکھائی دیتے ہیں جو آج بھی اجرک میں نظر آتے ہیں، جو تہذیبی تسلسل کا واضح ثبوت ہیں۔

    دلچسپ بات یہ ہے کہ اجرک کے روایتی رنگ نیلا اور سرخ فطری ذرائع سے حاصل کیے جاتے تھے۔ نیلا رنگ نیل کے پودے سے جبکہ سرخ رنگ انار، مٹی اور دیگر قدرتی اجزا سے تیار کیا جاتا تھا۔ اس پورے عمل میں کئی دن لگتے تھے اور ہر مرحلہ مخصوص مہارت کا تقاضا کرتا تھا۔

    اجرک کی بلاک پرنٹنگ میں لکڑی کے ہاتھ سے بنے بلاکس استعمال ہوتے ہیں، جن کے نقش نسل در نسل منتقل ہوتے رہے ہیں۔ سندھ کے بعض کاریگر آج بھی وہی بلاکس استعمال کر رہے ہیں جن کی عمر کئی دہائیوں پر محیط ہے، جو اس ہنر کی زندہ روایت کو ظاہر کرتا ہے۔

    یہ بات درست ہے کہ آج انڈیا کے کچھ علاقوں، خاص طور پر کَچھ اور راجستھان میں بھی اجرک نما کپڑے تیار کیے جاتے ہیں۔ مگر تاریخی طور پر یہ اثرات سندھ اور وادی سندھ کی تہذیب سے وہاں تک پہنچے، جو قدیم تجارتی راستوں اور ثقافتی روابط کا نتیجہ تھے۔

    ثقافتیں جدید سیاسی سرحدوں سے کہیں زیادہ قدیم ہوتی ہیں۔ اجرک اس حقیقت کی واضح مثال ہے کہ تہذیبی علامتیں زمانے، سلطنتوں اور ریاستوں کی تبدیلی کے باوجود اپنی اصل شناخت برقرار رکھتی ہیں۔

    اجرک سندھ کی پہچان ہے، وادی سندھ کی وراثت ہے، اور ایک ایسی تہذیبی داستان ہے جو ہزاروں سال کے سفر کے بعد بھی زندہ ہے۔ اسے کسی ایک جدید خطے سے جوڑنا تاریخ اور تہذیب دونوں کے ساتھ ناانصافی کے مترادف ہے۔

     

  • طیارے زمین پر: انڈین ایئرفورس کے جنگی جہازوں، ہیلی کاپٹر اور تربیتی طیاروں کے حادثات کی ستر سال کے دوران مسلسل تباہی کی کہانی

    طیارے زمین پر: انڈین ایئرفورس کے جنگی جہازوں، ہیلی کاپٹر اور تربیتی طیاروں کے حادثات کی ستر سال کے دوران مسلسل تباہی کی کہانی

    حال ہی میں دُبئی ایئر شو کے دوران انڈین  تیجس طیارہ حادثے کا شکار ہوا جسے بین الاقوامی میڈیا نے نمایاں طور پر رپورٹ کیا۔

    یہ ویڈیو انڈین  فضائیہ کے سات دہائیوں کے دوران دو ہزار تین سو چوہتر طیارے تباہ ہونے کی کہانی ہے۔ ان حادثات میں ایک ہزار تین سو پانچ پائلٹ اور دو سو سے زیادہ فضائی عملے کے لوگ ہلاک ہوئے۔

    انڈین  فضائیہ نے گذشتہ سات دِہائیوں میں جتنے طیارے کھوئے ہیں، وہ دنیا کی کسی بھی بڑی ایئرفورس سے کہیں زیادہ ہیں۔ سرکاری بیانات بہت محدود ہیں، آزاد ذرائع، تحقیقی رپورٹس، پارلیمانی دستاویزات اور دفاعی ماخذ ایک ایسی تصویر دکھاتے ہیں جس میں حادثات معمول نہیں بلکہ ایک مستقل سانحہ بن چکے ہیں۔

    سب سے مُستَنَد اور قابلِ قبول تحقیق ریڈف کے دفاعی ماہر اَجے شُکلہ اور مُحقق دیوش کَپور نے کی۔ ان کے مطابق 1952 سے 2021 تک کل انڈین  فضائیہ کے 2304 طیارے تباہ ہوئے۔

    ان میں1126  جنگی طیارے، 1248 ٹرانسپورٹ اور دوسرے طیارے، 196ہیلی کاپٹر اور 229 تربیتی طیارے شامل تھے۔ ان حادثات میں 1305 پائلٹ ہلاک ہوئے۔ یہ واحد ڈیٹا ہے جس میں ستر سال کا مکمل ریکارڈ محفوظ ہے۔

    1950 سے 1990 تک کا عرصہ انڈین  فضائیہ کے لیے سب سے تباہ کن دور ثابت ہوا۔ انڈیا کے اپنے دفاعی ماخذ ‘بھارت رکھشک’ کے مطابق اس زمانے میں زیادہ تر حادثات کی وجوہات پائلٹ کی غلطی، فنی خرابی، ناقص دیکھ بھال اور پرانے جہاز تھے۔ انڈیا ٹوڈے کے دفاعی رپورٹر شِوَ اَروڑَ نے لکھا کہ اس دور میں انڈین  فضائیہ کا حفاظتی رکارڈ دنیا کی خطرناک ترین فضائی قوتوں میں شمار ہوتا تھا۔

    انڈین  فضائیہ کے سب سے زیادہ حادثات مگ-21 سے جڑے ہیں، جسے دنیا بھر میں دی فلائنگ کافن یعنی ‘اُڑتا تابوت’ بھی کہا جاتا ہے۔ بین الاقوامی اداروں اے پی نیوز، انڈیا ٹوڈے اور ٹائمز آف انڈیا کے مطابق مگ-21 نے سب سے زیادہ پائلٹ مارے۔

    انڈیا نے اسے ساٹھ برس بعد بھی ریٹائر نہیں کیا۔ 2000 کی دہائی میں ہر سال پانچ میں مگ-21 گرنے کی رپورٹس سامنے آتی رہیں۔ انڈیا ٹوڈے کے مطابق سن 2015 سے 2024 کے درمیان 104 مگ-21 کے حادثات میں 73 پائلٹ ہلاک ہوئے۔

    بڑے اور نمایاں حادثات کی فہرست بھی طویل ہے۔ پاکستان کے ساتھ 1965 کی جنگ میں انڈیا کے 59 طیارے گرے۔ 1971 کی جنگ میں 45 طیارے تباہ ہوئے۔ 1982 سے 1990 تک مگ-21 کے حادثات نے ہولَناک سلسلہ قائم رکھا، اور اس دوران تقریباً 250 مگ-21 تباہ ہوئے۔ 2016 میں این-32 ٹرانسپورٹ طیارہ سمندر میں لاپتہ ہوا۔ اس میں 29 اہلکار سوار تھے۔ یہ انڈیا کی تاریخ کا سب سے بڑا غیر جنگی حادثہ تھا جس کا ملبہ آج تک نہیں ملا۔

    2019 میں بالاکوٹ کشیدگی کے دوران انڈین مگ مار گرایا گیا اور پائلٹ ابھی نندن کو پاکستان نے گرفتار کیا۔ یہ واقعہ عالمی میڈیا کی توجہ کا مرکز بنا۔

    جدید دور میں بھی انڈیا فضائی حادثات نہیں روک سکا۔ 2024 میں میراج-2000 گر کر تباہ ہوا۔2025 میں میں جیگوار تربیتی طیارہ گرنے سے دونوں پائلٹ ہلاک ہوئے۔ 2025 ہی میں دبئی ایئر شو کے دوران انڈین  تیجس طیارہ حادثے کا شکار ہوا جسے بین الاقوامی میڈیا نے نمایاں طور پر رپورٹ کیا۔

    انڈین پارلیمانی کمیٹی برائے دفاع نے سن 2019 سے 2023 کی رپورٹس میں لکھا کہ حادثات کی بڑی وجوہات پرانے طیارے، ناقص تربیت، انسانی غلطیاں اور دیکھ بھال کے کمزور نظام ہیں۔

    عالمی میڈیا بھی یہی تصویر پیش کرتا ہے۔ بی بی سی لکھتا ہے کہ انڈیا کے پاس دنیا کے سب سے زیادہ حادثہ خیز پرانے طیارے ہیں۔ الجزیرہ کہتا ہے کہ انڈیا کے جدید کاری کے دعووں کے باوجود طیارے مسلسل گر رہے ہیں۔ اے پی نیوز نے لکھا کہ Mug  مگ-21 کے حادثات معمول بن چکے ہیں اور انڈیا پرانے جہازوں سے چھٹکارا حاصل نہیں کر سکا۔

    اگر تمام ماخذ یکجا کریں تو سن 1952 سے 2021 تک انڈیا کے 2374 طیارے تباہ ہوئے۔ 2021 سے 2025 تک تک مزید 21 سے 25 حادثات ریکارڈ ہوئے۔ یوں 2025 تک تک مجموعی تباہی تقریباً 2400 سے 2420 طیاروں تک پہنچتی ہے۔

    یہ صرف مشینوں کا نقصان نہیں۔ ان حادثات میں ایک ہزار تین سو پانچ پائلٹ اور دو سو سے زیادہ فضائی عملہ ہلاک ہوا۔ یہ دنیا کا سب سے بڑا غیر جنگی فوجی فضائی نقصان ہے۔

    یہ ریکارڈ صرف حادثات کی فہرست نہیں۔ یہ ایک مسلسل نظامی ناکامی کی کہانی ہے۔ غلط طیاروں کی خریداری، ناقص تربیت، بوسیدہ نظام، پرانے جہازوں پر انحصار اور حفاظتی اصولوں کی کمزوری نے انڈین  فضائیہ کو ایسی تباہی تک پہنچایا ہے جس کی مثال دنیا میں کم ملتی ہے۔

    ستر برس میں انڈیا نے جتنے فوجی طیارے گرائے اور کھوئے ہیں، دنیا کے کئی ملکوں نے اپنی پوری عسکری تاریخ میں اتنے جہاز بنائے بھی نہیں۔ یہ نقصان صرف تعداد کا نہیں، بلکہ ایک ایسی ناکامی کا ثبوت ہے جو سات دہائیوں میں مسلسل دوہرائی جاتی رہی اور آج تک ختم نہیں ہوئی۔

  • تھرپارکر کے کارونجھر سے انڈیا کے اراولی تک: پہاڑی سلسلوں کے تحفظ کے لیے تحریکیں متحرک

    تھرپارکر کے کارونجھر سے انڈیا کے اراولی تک: پہاڑی سلسلوں کے تحفظ کے لیے تحریکیں متحرک

    تھرپارکر کے کارونجھر پہاڑی سلسلے کو بچانے کے لیے مقامی لوگ مسلسل اور پُرامن جدوجہد نے سرحد پار ایک نئی ماحولیاتی بیداری کو جنم دیا ہے۔ اسی جدوجہد سے حوصلہ پاکر مغربی انڈیا میں اراولی پہاڑی سلسلے کے تحفظ کے لیے ایک منظم، غیر جانبدار اور شہری بنیادوں پر قائم تحریک سرگرم ہو چکی ہے۔

    اس تحریک میں نیشنل کیپیٹل ریجن سمیت انڈیا کے مختلف علاقوں کے عام شہری شامل ہیں، جن کا کسی سیاسی جماعت، مذہبی تنظیم یا کاروباری گروہ سے کوئی تعلق نہیں۔ ان کا واحد مقصد اراولی پہاڑی سلسلے کو تباہی سے بچانا ہے۔

    اراولی پہاڑی سلسلہ شمال مغربی انڈیا میں تقریباً سات سو کلومیٹر تک پھیلا ہوا ہے۔ یہ گجرات سے شروع ہو کر راجستھان، ہریانہ سے گزرتا ہوا دہلی تک پہنچتا ہے۔ یہ پہاڑ اپنے راستے میں آباد بستیوں کے لیے ایک خوبصورت قدرتی پس منظر بناتے ہیں۔ اراولی کی سب سے بلند چوٹی گرو شکھر راجستھان میں واقع ماؤنٹ آبو پر ہے۔

    انڈیا میں 1970 کی دہائی کی معروف چپکو تحریک اور سندھ کے صحرا میں 2019 کی گگرال کے درخت کو راکھی باندھ کر بچانے کی تاریخی ماحول دوست جدوجہد آج اراولی بچاؤ تحریک کے لیے ایک مثال اور رہنمائی کا ذریعہ ہیں۔

    اراولی بچاؤ تحریک کے رہنماؤں کے مطابق اس وقت اراولی پہاڑی سلسلہ شدید ماحولیاتی دباؤ کا شکار ہے۔ پہاڑوں میں بڑے پیمانے پر کان کنی ہو رہی ہے، رہائشی اور تجارتی عمارتیں تیزی سے بن رہی ہیں، غیر قانونی قبضے بڑھ رہے ہیں اور ماحول کے تحفظ سے متعلق قوانین کو کمزور کیا جا رہا ہے۔

    ان تمام سرگرمیوں کے باعث اراولی کو ایسا نقصان پہنچ رہا ہے جس کی بھرپائی ممکن نہیں۔
    ماہرین ارضیات کے مطابق اراولی کی اہمیت صرف انڈیا تک محدود نہیں۔ اس کا ارضیاتی رشتہ پاکستان کے جنوب مشرقی صوبہ سندھ سے بھی جڑتا ہے۔ یہاں پائی جانے والی گرینائٹ جیسی چٹانیں اسی قدیم نظام سے منسلک سمجھی جاتی ہیں جو اراولی میں بھی پائی جاتی ہیں۔

    بعض تحقیقی مطالعات کے مطابق نگرپارکر کے کارونجھر پہاڑی سلسلے کے گرینائٹ ذخائر مغربی راجستھان میں موجود قدیم آتش فشانی سلسلے کی توسیع ہیں، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ سرحد کے دونوں جانب ایک ہی ارضیاتی تاریخ کے اثرات موجود ہیں۔
    سندھ کے سرکاری معدنیاتی ریکارڈ میں بھی نگرپارکر کے اس قدیم چٹانی نظام کے پھیلاؤ کی نشاندہی ملتی ہے، جو رن آف کچھ کے قریب واقع ہے۔


    راجستھان میں اراولی پہاڑی سلسلے کے بلند ترین مقام گرو شکھر سے نظر آنے والا منظر

    اسی طرح سکھر کے قریب روہڑی کے علاقے میں موجود چٹانی ٹیلے مکمل پہاڑی سلسلہ تو نہیں، مگر ماہرین انہیں مشرقی سرحد کے ساتھ واقع انڈیای پہاڑی علاقوں سے جوڑتے ہیں۔

    روہڑی کے سماجی رہنما ستار زنگیجو کے مطابق خیرپور کے کوٹ بنگلو اور روہڑی کی چٹانیں اسی خطے سے مشابہ ہیں، اور سندھ کے شہری اراولی کے تحفظ کی شہری تحریک کی اخلاقی حمایت کرتے ہیں۔

    دو ماحولیاتی طور پر متنازع انڈین منصوبے
    اراولی پہاڑی سلسلے کی عمر کروڑوں سال بتائی جاتی ہے۔ یہ سلسلہ شمال مغربی انڈیا کے موسم کو متوازن رکھنے میں کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔ اراولی نہ صرف گریٹر تھر کے صحرا کو پھیلنے سے روکتی ہے بلکہ زیرِ زمین پانی کو محفوظ رکھنے اور لاکھوں افراد کو پینے اور زراعت کے لیے پانی فراہم کرنے میں بھی مدد دیتی ہے۔

    حالیہ برسوں میں انڈین حکومت نے دو ایسے بڑے منصوبے شروع کیے ہیں جنہیں ماہرین ماحول دشمن قرار دے رہے ہیں۔ پہلا منصوبہ اراولی چٹانوں کی کٹائی سے متعلق ہے۔

    اکتوبر 2025 میں سپریم کورٹ کے ایک فیصلے کے تحت ایک سو میٹر سے کم اونچائی والی چٹانوں کو پہاڑوں کے بچائو کے قانونی دائرے سے خارج کر دیا گیا، جس کے نتیجے میں راجستھان، ہریانہ، دہلی اور گجرات تک پھیلی اراولی چٹانوں کی بڑی مقدار قانونی تحفظ سے محروم ہو گئی ہے۔

    اس فیصلے کے بعد ان چٹانوں کی کٹائی اور ہمواری کی راہ ہموار ہو گئی ہے۔
    دوسرا متنازع منصوبہ راجستھان کے صحرائی خطے میں جالور اندرونی بندرگاہ کی تعمیر ہے۔ اس منصوبے کے تحت گجرات کے ساحل سے سمندری پانی کو سینکڑوں کلومیٹر اندر لا کر ایک بندرگاہ قائم کی جائے گی، تاکہ اراولی کی معدنیات کو بحری جہازوں کے ذریعے برآمد کیا جا سکے۔

    ماہرین کے مطابق سمندری پانی کو اتنا اندر لانے سے زیرِ زمین پانی کے نمکین ہونے کا شدید خطرہ ہے، جس سے آبی نظام مستقل طور پر متاثر ہو سکتا ہے۔ یہ منصوبہ لونی اور جاوائی دریاؤں پر انحصار کرتا ہے، جہاں پہلے ہی آلودگی اور پانی کی قلت موجود ہے۔ بڑے پیمانے پر کھدائی سے ان دریاؤں کے قدرتی بہاؤ پر مزید دباؤ پڑنے کا خدشہ ہے۔

    انڈیا کے اراولی پہاڑی سلسلے کا نقشہ: یہ سلسلہ شمال مغربی انڈیا میں تقریباً سات سو کلومیٹر تک پھیلا ہوا ہے۔

    پاکستان کی سرحد سے جڑا مغربی راجستھان کا صحرائی ماحولیاتی نظام نہایت نازک سمجھا جاتا ہے۔ یہاں کی نباتات اور جنگلی حیات محدود وسائل پر قائم ہیں، اور بندرگاہ کی تعمیر اور بڑھتی ہوئی آمد و رفت سے اس توازن کے بگڑنے کا اندیشہ ہے۔

    موسمیاتی تبدیلی نے صورتحال کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔ درجہ حرارت میں اضافہ، بارشوں کی غیر یقینی کیفیت اور زیرِ زمین پانی کی سطح میں مسلسل کمی ماہرین کے لیے تشویش کا باعث بن رہی ہے۔

    سندھ کے صحرا اور ماحولیاتی نظام کو درپیش خطرات
    بظاہر یہ منصوبے انڈیا کے اندرونی ترقیاتی اقدامات دکھائی دیتے ہیں، مگر پاکستانی ماہرین کے مطابق ان کے اثرات سرحدوں تک محدود نہیں رہیں گے۔ ماہر ماحولیات عرفان عباسی کا کہنا ہے کہ اگر جالور اندرونی بندرگاہ اور 2025 کی نئی سپریم کورٹ تعریف کے بعد اراولی کی مسلسل کٹائی جاری رہی تو اس کے ماحولیاتی اثرات پورے خطے کو اپنی لپیٹ میں لے سکتے ہیں۔

    ان کے مطابق سندھ کے ساحل سے لے کر ہمالیہ تک ایک سلسلہ وار موسمی تبدیلیاں شروع ہو سکتی ہیں۔

    جالور بندرگاہ کا منصوبہ رن آف کچھ اور بحیرۂ عرب سے جڑنے کی وجہ سے پاکستان کے صوبہ سندھ کے ساتھ مشترکہ سمندری اور آبی نظام کو براہِ راست متاثر کرتا ہے۔

    جالور بندرگاہ کے لیے 262 کلومیٹر طویل نہر کی کھدائی سے خلیجِ کچھ میں مد و جزر کے نظام میں تبدیلی کا خدشہ ہے۔
    سندھ میں پہلے ہی سجاول اور بدین اضلاع میں سمندری پانی کی دراندازی ایک سنگین مسئلہ ہے، جس نے زرخیز زمینوں کو بنجر بنا دیا ہے۔ یہ منصوبہ انڈس ڈیلٹا میں میٹھے پانی کی باقی ماندہ گزرگاہوں میں نمکین پانی کے پھیلاؤ کو مزید تیز کر سکتا ہے۔

    سرحد کے قریب تعمیراتی سرگرمیوں اور بحری آمدورفت میں اضافے سے انڈس ڈیلٹا کے تمر یا مینگرووز کو بھی خطرات لاحق ہیں۔ گزشتہ چند دہائیوں میں یہ مینگرووز تقریباً 42 فیصد کم ہو چکے ہیں، حالانکہ یہی جنگلات ساحلی سندھ کو سمندری طوفانوں اور کٹاؤ سے بچانے کا سب سے مضبوط دفاع ہیں۔

    اگرچہ جالور منصوبہ انڈیای دریائی نظام تک محدود ہے، تاہم رن آف کچھ کے آبی توازن میں تبدیلی سندھ کے ڈیلٹا میں نمکین اور میٹھے پانی کے نازک توازن کو متاثر کر سکتی ہے، جس سے ماہی گیری، جھینگا فارمنگ اور ساحلی معیشت کو نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے۔

    ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ اگر اراولی پہاڑی سلسلہ کمزور پڑ گیا تو تھر کے ریگستان سے اٹھنے والی ریت اور گرد و غبار کی آندھیاں بغیر کسی قدرتی رکاوٹ کے ہریانہ اور قومی دارالحکومت کے خطے تک پہنچیں گی، جس سے صحرا زدگی کا عمل تیز اور ماحولیاتی بحران مزید گہرا ہو جائے گا۔

    ماحولیاتی ماہر عرفان عباسی کے مطابق پاکستان کو انٹرنیشنل کورٹ آف جسٹس میں دونوں ماحول دشمن منصوبوں کے خلاف کیس داخل کرنا چاہیے۔