امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ گزشتہ برس مئی میں انڈیا اور پاکستان کے درمیان صورتحال انتہائی خطرناک ہوگئی تھی، یہ ایٹمی جنگ بن سکتی تھی۔ پاکستان اور انڈیا ایک دوسرے پر بھرپور حملے کر رہے تھے۔
امریکی ٹی وی چینل فاکس بزنس کو دئیے گئے ایک انٹرویو میں امریکی صدر نے دعویٰ کیا: ‘اس کشیدگی کے پاکستان نے انڈیا کے 10 جنگی طیارے طیارے مار گرائے تھے۔’
امریکی صدر نے ابتدائی طور پر پانچ طیاروں کے مار گرائے جانے کا ذکر کیا تھا اور بعدازاں وہ یہ تعداد بڑھا کر اکتوبر میں 7 اور پھر نومبر میں 8 کر دی تھی۔
صدر ٹرمپ کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف نے بھی ان سے کہا تھا کہ انہوں نے جنگ رکوا کر کم از کم ایک کروڑ جانیں بچائیں کیونکہ حالات ایٹمی جنگ کی طرف بڑھ رہے تھے۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا: ‘میرے خیال میں اگر ٹیرف کا دباؤ نہ ہوتا تو یہ جنگ ایٹمی رخ اختیار کر لیتی۔’
فاکس بزنس کی رپورٹ کے مطابق اگرچہ ٹرمپ نے جنگ رکوانے کا کریڈٹ خود کو دیا ہے اور پاکستان نے بھی امریکی کردار کو سراہا ہے، تاہم انڈیا نے اس معاملے میں امریکی صدر کے کردار کو تسلیم نہیں کیا۔ اس کے برعکس پاکستان نے ڈونلڈ ٹرمپ کو نوبیل امن انعام کے لیے نامزد بھی کیا تھا۔
گزشتہ برس مئی میں پاکستان اور انڈیا کے سخت کشیدگی دیکھنے میں آئی تھی، جس کا آغاز مقبوضہ کشمیر کے علاقے پہلگام میں سیاحوں پر ہونے والے دہشت گرد حملے کے بعد ہوا۔ اس حملے میں 26 افراد ہلاک ہوئے تھے اور بھارت نے اس کا الزام پاکستان پر عائد کیا تھا۔
تاہم پاکستان نے اس حملے میں ملوث ہونے کی سختی سے تردید کی اور غیر جانبدار تحقیقات میں تعاون کی پیشکش بھی کی تھی۔
دونوں فریقوں نے ایک دوسرے پر حملے کیے اور یہ کشیدگی مئی میں ٹرمپ کے جنگ بندی کے اعلان کے ساتھ ختم ہو گئی۔
صدر ٹرمپ نے کئی مواقع پر فیلڈ مارشل عاصم منیر کی بھی تعریف کی اور انہیں ایک ’انتہائی قابل احترام جنرل‘، ایک ’عظیم جنگجو‘ اور اپنا ‘پسندیدہ‘ قرار دیا۔

