Tag: ڈونلڈ ٹرمپ

  • مشرقِ وسطیٰ میں چوہے بلی کا کھیل، چینی جادو اور پاکستان کی تزویراتی خاموشی

    مشرقِ وسطیٰ میں چوہے بلی کا کھیل، چینی جادو اور پاکستان کی تزویراتی خاموشی

    اگست 2026 کا سورج مشرقِ وسطیٰ کے تپتے ہوئے صحراؤں پر ایک نئی جغرافیائی سیاست کے سائے افگن کر رہا ہے۔ دنیا کی نظریں ایئر فورس ون سے آنے والے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس بیان پر ٹکی ہیں، جس میں انہوں نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے ‘تاریخ کے سب سے بڑے فوجی حملے’ کو آخری لمحات میں مؤخر کر کے ایران کو مذاکرات کی میز پر آنے کی دعوت دی ہے۔

    واشنگٹن کے پریس کور سے لے کر تہران کے چائے خانوں تک، اس وقت ایک ہی سوال گونج رہا ہے: کیا یہ واقعی امن کی کوئی سنجیدہ کوشش ہے یا پھر مڈ ٹرم الیکشن کی دہلیز پر کھڑے ایک شاطر سیاست دان کا بچھایا ہوا نیا جال؟

    اگر تہران کے تھنک ٹینک اور ایرانی قیادت کے ردعمل پر باریک بینی سے غور کیا جائے تو ان کا یہ موقف بالکل زمینی حقائق کے عین مطابق نظر آتا ہے کہ ٹرمپ کا یہ بیان محض ایک ‘نفسیاتی جنگ’ کا حصہ ہے۔ ایران پچھلی کئی دہائیوں سے سخت ترین پابندیوں کے لوہے کے چنے چبا چکا ہے، اس لیے وہ امریکی بیانات کے تضادات کو خوب سمجھتا ہے۔

    تہران بخوبی جانتا ہے کہ یہ حملہ کسی ‘رحم دلی’ یا خلیجی رہنماؤں کی منت سماجت پر نہیں روکا گیا، بلکہ یہ ایران کے اس جارحانہ دفاعی ردعمل کا خوف ہے، جس نے امریکی جنگی جنون کو بریک لگانے پر مجبور کیا۔ ایران نے واضح کر دیا تھا کہ اگر اس کے توانائی کے ڈھانچے کو چھوا گیا تو خطے کا کوئی بھی ملک اور کوئی بھی آئل فیلڈ محفوظ نہیں رہے گی۔

    لہٰذا تہران اس وقت تک کسی امریکی دباؤ میں نہیں آئے گا اور نہ ہی میز پر جھکے گا، بلکہ وہ اوباما دور کے جوہری معاہدے کی طرز پر ایک محدود حد تک لچک کا پتا کھیلے گا، یعنی یورینیم کی افزودگی کو بم بنانے کی آخری حد سے پیچھے رکھ کر بین الاقوامی برادری کو یہ پیغام دے گا کہ وہ بلیک میل نہیں ہوگا، لیکن سفارت کاری کے لیے اس کے دروازے بند بھی نہیں ہیں۔

    دوسری طرف، اس پورے کھیل میں سب سے دلچسپ اور حقیقت پسندانہ پہلو خلیجی ممالک، بالخصوص سعودی عرب اور قطر کا بدلا ہوا تزویراتی جھکاؤ ہے۔ تہران بھلے ہی اسے واشنگٹن کا نفسیاتی کھیل کہے، لیکن خلیجی ممالک کے لیے یہ ایک حقیقی اور ہولناک وجودی مسئلہ بن چکا تھا۔

    سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کا ‘ویژن 2030’ اور قطر و متحدہ عرب امارات کا معاشی ماڈل لامتناہی جنگوں کے ایندھن میں جلنے کے لیے نہیں بنایا گیا۔ ان ممالک کو معلوم ہے کہ اگر خطے میں ایک بھی چنگاری بھڑکی تو ان کے کھربوں ڈالر کے میگا پراجیکٹس اور عالمی سرمایہ کاری راتوں رات راکھ کا ڈھیر بن سکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ انہوں نے واشنگٹن کو واضح پیغام دیا ہے کہ وہ ایران کے خلاف اپنی فضائی حدود یا زمین پر موجود امریکی فوجی اڈوں کو استعمال کرنے کی اجازت ہرگز نہیں دیں گے۔

    وہ آرامکو پر ہونے والے حملوں کو بھولے نہیں ہیں، جب امریکہ نے ان کے دفاع کے لیے کوئی بڑی مہم جوئی نہیں کی تھی۔ اب وہ جان چکے ہیں کہ روایتی سیکیورٹی کے لیے صرف امریکہ پر تکیہ کرنا نادانی ہے۔

    یہیں سے اس پورے ڈرامے کا اصل ‘کنگ میکر’ منظر عام پر آتا ہے، اور وہ ہے چین

    بیجنگ اس پورے بحران میں کسی امریکی شور شرابے یا فوجی دھمکیوں کے بغیر، پس پردہ رہ کر اپنی خاموش اور مؤثر سفارت کاری کا جادو چلا رہا ہے۔ چین اس خطے کا سب سے بڑا تیل خریدار ہے اور مارچ 2023 میں اس کی ثالثی میں ہونے والا سعودی، ایران امن معاہدہ کوئی عارضی بندوبست نہیں تھا۔ چین پس پردہ رہ کر ایران اور خلیجی ممالک دونوں کو مسلسل یہ باور کرا رہا ہے کہ امریکہ ایک بیرونی طاقت ہے، جو اپنے اندرونی سیاسی مفادات کے تحت خطے کو آگ میں دھکیل سکتا ہے، اس لیے علاقائی مسائل کا حل علاقائی سفارت کاری سے ہی ممکن ہے۔

    چین کا یہ بڑھتا ہوا اثر و رسوخ مشرقِ وسطیٰ سے امریکی بالادستی کے خاتمے کا بگل بجا رہا ہے۔ امریکی صدر مڈ ٹرم الیکشن تک پٹرول کی قیمتوں کو کنٹرول میں رکھنے اور اپنے گھریلو ووٹروں کو مصروف رکھنے کے لیے چوہے بلی کا یہ کھیل جاری رکھیں گے، جبکہ چین خاموشی سے خطے کو اپنے معاشی دھارے میں پروتا چلا جائے گا۔

    اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس بدلتے ہوئے کثیر القطبی نظام اور عالمی مہروں کی اس شطرنج میں پاکستان کہاں کھڑا ہے؟

    سچی بات تو یہ ہے کہ بین الاقوامی طاقتوں کے اس چوہے بلی کے کھیل اور چین کی پس پردہ سفارت کاری کے نتیجے میں اگر خطے میں بڑی جنگ ٹلتی ہے تو یہ پاکستان کے لیے ایک بہت بڑا اور سانس لینے کا سنہری موقع ہے۔ پاکستان تاریخی طور پر ہمیشہ اس مشکل میں رہا ہے کہ اسے اپنے اسلامی پڑوسی ملک ایران اور اپنے دیرینہ معاشی محسن خلیجی ممالک میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا پڑتا تھا، لیکن چین کے اس سفارتی چھتر تلے اب پاکستان کو ان دونوں کے ساتھ متوازن تعلقات برقرار رکھنے کا نسبتاً محفوظ راستہ مل گیا ہے۔

    تاہم پاکستان کے موجودہ حالات اس بات کی اجازت نہیں دیتے کہ وہ اس سفارتی لچک کا فائدہ اٹھا کر کسی بڑے بین الاقوامی منصوبے، جیسے کہ پاک، ایران گیس پائپ لائن، پر فوری قدم بڑھائے۔ پاکستان اس وقت اپنے بدترین داخلی اور معاشی بحرانوں کی لپیٹ میں ہے۔

    ایک طرف آئی ایم ایف کی کڑی شرائط، دوست ممالک کے قرضوں کی تجدید پر چلنے والی معیشت اور ملکی برآمدات کو سہارا دینے کی اندرونی کوششیں ہیں، تو دوسری طرف سوات کے تھانے پر حالیہ خودکش حملے جیسے سنگین امن و امان کے چیلنجز اور ملک بھر میں مون سون کی تباہ کاریاں ہیں، جن کے باعث این ڈی ایم اے کے مطابق اب تک 126 قیمتی جانیں ضائع ہو چکی ہیں۔

    ان حالات میں امریکی پابندیوں کے خطرے کو دعوت دینا ملکی بقا کو داؤ پر لگانے کے مترادف ہوگا۔

    لہٰذا پاکستان کی موجودہ قیادت نے جو ‘صبر بھری تزویراتی’ پالیسی اختیار کر رکھی ہے، وہی اس وقت کا سب سے صائب اور حقیقت پسندانہ فیصلہ ہے۔ پاکستان کو اپنے اندرونی مسائل حل کرنے پر توجہ دینی چاہیے اور خاموشی سے امریکی مڈ ٹرم الیکشن کے نتائج کا انتظار کرنا چاہیے۔

    ان انتخابات کے بعد ہی یہ واضح ہوگا کہ واشنگٹن کا اگلا رخ کیا ہوگا اور کیا امریکی کانگریس خطے میں اپنی گرفت کھونے کے بعد پاکستان جیسے ممالک کو کوئی سفارتی رعایت دینے پر مجبور ہوتی ہے یا نہیں۔

    مشرقِ وسطیٰ اور جنوبی ایشیا کا یہ خطہ اب واشنگٹن کے ڈکٹیشن کے دور سے نکل چکا ہے۔ جب تک امریکی صدر اپنے الیکشن کے جوڑ توڑ میں مصروف ہیں اور ایران دباؤ کے خلاف ڈٹا ہوا ہے، چین کا پس پردہ سفارتی جادو خطے کو ایک نئے توازن کی طرف لے جا رہا ہے۔ پاکستان کے لیے عقلمندی کا واحد تقاضا یہی ہے کہ وہ عالمی طاقتوں کے اس کھیل میں کسی کا مہرہ بننے کے بجائے اپنے گھر کی صفائی کرے، معاشی پٹری کو درست کرے اور صحیح وقت کا انتظار کرے۔

    سیاست اور سفارت کی اس بساط پر بعض اوقات ‘کچھ نہ کرنا’ ہی سب سے بڑی اور بہترین حکمت عملی ہوتی ہے۔

  • ٹرمپ نے 2025 میں کرپٹو کاروبار سے 1.4 ارب ڈالر سے زائد آمدنی ظاہر کر دی

    ٹرمپ نے 2025 میں کرپٹو کاروبار سے 1.4 ارب ڈالر سے زائد آمدنی ظاہر کر دی

    امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی تازہ مالیاتی گوشواروں میں انکشاف کیا ہے کہ انہوں نے 2025 کے دوران اپنی خاندانی کرپٹو کرنسی سے متعلق کاروباری سرگرمیوں سے 1.4 ارب ڈالر سے زائد آمدنی حاصل کی۔ اس طرح ڈیجیٹل اثاثے اب ان کی ذاتی آمدنی کا سب سے بڑا ذریعہ بن کر سامنے آئے ہیں۔

    امریکی دفتر برائے سرکاری اخلاقیات میں جمع کرائے گئے سالانہ مالیاتی گوشواروں کے مطابق ٹرمپ کی کمپنیوں کو ‘ورلڈ لبرٹی فنانشل’ نامی کرپٹو منصوبے سے تقریباً 80 کروڑ ڈالر کی آمدنی ہوئی۔ یہ منصوبہ ٹرمپ اور ان کے بیٹوں نے مشترکہ طور پر شروع کیا تھا۔

    دستاویزات کے مطابق اس آمدنی میں 52 کروڑ ڈالر سے زائد کرپٹو ٹوکنز کی فروخت سے حاصل ہوئے، جبکہ 25 کروڑ ڈالر سے زیادہ اس منصوبے میں کاروباری حصص فروخت کرنے سے حاصل کیے گئے۔ اس کے علاوہ ٹرمپ نے اپنے نام سے منسوب ‘میم کوائن’ کی فروخت سے مزید 63 کروڑ 50 لاکھ ڈالر آمدنی ظاہر کی ہے۔

    مالیاتی گوشواروں سے ظاہر ہوتا ہے کہ گزشتہ ایک سال کے دوران ٹرمپ کی دولت کے ذرائع میں نمایاں تبدیلی آئی ہے اور اب ان کی زیادہ تر آمدنی کرپٹو کرنسی سے وابستہ منصوبوں سے آ رہی ہے۔

    ایک سال قبل جمع کرائے گئے مالیاتی گوشواروں میں ٹرمپ نے ورلڈ لبرٹی فنانشل سے صرف پانچ کروڑ 73 لاکھ 50 ہزار ڈالر آمدنی ظاہر کی تھی، تاہم ایک ہی سال میں یہ رقم کئی گنا بڑھ کر تقریباً 80 کروڑ ڈالر تک پہنچ گئی۔

    بین الاقوامی خبررساں ادارے رائٹرز کے مطابق اس غیر معمولی اضافے سے اندازہ ہوتا ہے کہ کرپٹو کاروبار ٹرمپ خاندان کے لیے انتہائی منافع بخش ثابت ہوا ہے۔

    رائٹرز کے تخمینے کے مطابق 2025 میں ٹرمپ کے دوبارہ وائٹ ہاؤس پہنچنے کے بعد سے ان کے خاندان نے کرپٹو منصوبوں سے مجموعی طور پر کم از کم 2.3 ارب ڈالر کمائے ہیں۔

    یہ انکشاف ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ٹرمپ انتظامیہ نے کرپٹو صنعت کے حق میں متعدد اقدامات کیے ہیں۔ ان میں اس شعبے کے لیے نئے ضابطے متعارف کرانے، اسٹیبل کوائنز سے متعلق قانون سازی کو آگے بڑھانے اور وفاقی اداروں کی سخت نگرانی میں نرمی جیسے فیصلے شامل ہیں۔

    ٹرمپ کے ناقدین کا کہنا ہے کہ صدر کی کاروباری دلچسپیوں اور حکومتی پالیسیوں کے درمیان مفادات کے ٹکراؤ کا خدشہ موجود ہے۔ ان کے مطابق جب کوئی صدر ایسے شعبے سے براہ راست مالی فائدہ اٹھا رہا ہو جس کے بارے میں حکومتی فیصلے بھی اسی کی انتظامیہ کر رہی ہو تو شفافیت اور غیر جانبداری پر سوالات اٹھنا فطری بات ہے۔

    سابق سرکاری اخلاقیات کے ماہرین نے بھی اس صورتحال پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی قوانین میں مزید اصلاحات کی ضرورت ہے تاکہ مستقبل میں صدور کے ذاتی مالی مفادات اور سرکاری اختیارات کے درمیان واضح حد بندی کی جا سکے۔

    دوسری جانب وائٹ ہاؤس نے ان تمام خدشات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ صدر ٹرمپ نے اپنی مالی معلومات قانون کے مطابق مکمل طور پر ظاہر کی ہیں اور تمام کاروباری سرگرمیاں قانونی دائرے میں ہیں۔ وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ صدر کی جانب سے شفافیت کے تمام تقاضے پورے کیے گئے ہیں اور مفادات کے ٹکراؤ کا کوئی معاملہ موجود نہیں۔

    اگرچہ کرپٹو کرنسی ٹرمپ کی آمدنی کا سب سے بڑا ذریعہ بن چکی ہے، تاہم ان کے روایتی کاروبار بھی بدستور منافع دے رہے ہیں۔ مالیاتی گوشواروں کے مطابق ان کے گالف ریزورٹس اور دیگر تفریحی مراکز کی آمدنی میں بھی اضافہ ہوا ہے۔

    ان کاروباروں سے حاصل ہونے والی مجموعی آمدنی 50 کروڑ ڈالر سے تجاوز کر گئی، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں تقریباً 15 فیصد زیادہ ہے۔

    اس کے برعکس ٹرمپ کے رئیل اسٹیٹ کاروبار میں آمدنی کی رفتار نسبتاً سست رہی، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان کی کاروباری سلطنت کا مرکز اب روایتی جائیداد سے ہٹ کر تیزی سے ڈیجیٹل اثاثوں اور کرپٹو مارکیٹ کی طرف منتقل ہو رہا ہے۔

    تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کے مالیاتی گوشوارے اس بات کی واضح مثال ہیں کہ کرپٹو کرنسی کی صنعت نے صرف چند برسوں میں عالمی سرمایہ کاری کے منظرنامے کو کس قدر تبدیل کر دیا ہے۔

    ان کے مطابق دنیا بھر میں ڈیجیٹل اثاثوں کی بڑھتی ہوئی مقبولیت نے سیاسی اور کاروباری شخصیات کے لیے بھی نئی سرمایہ کاری کے مواقع پیدا کیے ہیں، تاہم اس کے ساتھ شفافیت، احتساب اور مفادات کے ٹکراؤ سے متعلق بحث بھی مزید شدت اختیار کر گئی ہے۔

  • سپریم کورٹ نے ٹرمپ کی امیگریشن پالیسی کے اہم منصوبے کو روک دیا، پیدائشی شہریت برقرار

    سپریم کورٹ نے ٹرمپ کی امیگریشن پالیسی کے اہم منصوبے کو روک دیا، پیدائشی شہریت برقرار

    امریکی سپریم کورٹ نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے پیدائشی شہریت محدود کرنے کی کوشش کو مسترد کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ امریکی آئین کی چودھویں ترمیم کے تحت امریکہ میں پیدا ہونے والے تقریباً تمام افراد امریکی شہریت کے حق دار ہیں، چاہے ان کے والدین کی امیگریشن حیثیت کچھ بھی ہو۔ یہ فیصلہ ٹرمپ کی امیگریشن پالیسی کے لیے ایک بڑا قانونی دھچکا قرار دیا جا رہا ہے۔

    سپریم کورٹ نے 6 کے مقابلے میں 3 ووٹوں سے ٹرمپ انتظامیہ کے اس ایگزیکٹو آرڈر کو برقرار رکھنے سے انکار کر دیا، جس کے تحت ایسے بچوں کو پیدائشی امریکی شہریت دینے سے روکنے کی کوشش کی گئی تھی جن کے والدین نہ امریکی شہری ہوں اور نہ ہی قانونی مستقل رہائشی۔ اس حکم نامے کو پہلے ہی نچلی عدالتوں نے معطل کر رکھا تھا۔

    چیف جسٹس جان رابرٹس نے اکثریتی فیصلہ تحریر کرتے ہوئے کہا کہ امریکی آئین کی چودھویں ترمیم اور 1898 کے تاریخی مقدمے ‘United States v. Wong Kim Ark’ نے یہ اصول واضح کر دیا ہے کہ امریکی سرزمین پر پیدا ہونے والے تقریباً تمام افراد پیدائشی شہریت کے حق دار ہیں۔ عدالت نے قرار دیا کہ صدارتی حکم نامے کے ذریعے اس آئینی اصول کو تبدیل نہیں کیا جا سکتا۔

    یہ مقدمہ ٹرمپ انتظامیہ کی سخت گیر امیگریشن پالیسی کا اہم حصہ سمجھا جا رہا تھا۔ قانونی ماہرین کے مطابق اس فیصلے کے بعد پیدائشی شہریت کے اصول میں بنیادی تبدیلی صرف آئینی ترمیم یا کانگریس کی جانب سے منظور کیے گئے ایسے قانون کے ذریعے ہی ممکن ہو سکتی ہے جو امریکی آئین سے مطابقت رکھتا ہو۔

    امریکہ میں پیدائشی شہریت کا اصول 1868 میں منظور ہونے والی چودھویں آئینی ترمیم پر مبنی ہے، جبکہ 1898 میں سپریم کورٹ نے اپنے تاریخی فیصلے میں اس کی توثیق کرتے ہوئے واضح کیا تھا کہ امریکی سرزمین پر پیدا ہونے والے بیشتر افراد خودکار طور پر امریکی شہری تصور کیے جائیں گے، سوائے چند محدود استثنائی حالات، جیسے غیر ملکی سفارت کاروں کے بچوں، کے۔

  • واشنگٹن: امریکی صدر کی جانب سے صحافیوں کو دیے عشائیے میں فائرنگ، ٹرمپ محفوظ رہے

    واشنگٹن: امریکی صدر کی جانب سے صحافیوں کو دیے عشائیے میں فائرنگ، ٹرمپ محفوظ رہے

    میڈیا رپورٹس کے مطابق واشنگٹن میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی موجودگی میں وائٹ ہاؤس کے میڈیا نمائندوں یعنی وائٹ ہاؤس رپورٹرز ایسوسی ایشن کے اعزاز میں منعقد عشائیے کے دوران فائرنگ کا واقعہ پیش آیا۔ واقعے میں صدر ٹرمپ محفوظ رہے جبکہ حملہ آور کو گرفتار کر لیا گیا۔

    رپورٹس کے مطابق ہلٹن ہوٹل میں جاری تقریب کے دوران اچانک زور دار آواز سنی گئی جس سے سکیورٹی خدشات پیدا ہوئے اور کچھ دیر کے لیے ہلچل مچ گئی۔ اس دوران سیکریٹ سروس اہلکار صدر ٹرمپ کو فوری طور پر تقریب سے باہر لے گئے جبکہ کئی مہمان میزوں کے نیچے چھپ گئے۔

    تقریب کا آغاز ہی ہوا تھا کہ صدر ٹرمپ کو ایک پرچی دکھائی گئی۔ اسی نوعیت کی پرچی اس سے قبل وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولائن لیویٹ کو بھی دی گئی تھی۔ اس موقع پر صدر کے قریب بیٹھی ایک خاتون کو حیرت زدہ ہوتے دیکھا گیا۔

    تقریب میں 2600 سے زائد افراد شریک تھے اور فائرنگ کے بعد متعدد شرکا نے میزوں کے نیچے پناہ لی۔

    ابتدائی اطلاعات کے مطابق مبینہ مسلح مشتبہ شخص کی شناخت سامنے آ رہی ہے۔ بی بی سی کے امریکی پارٹنر سی بی ایس نیوز کے مطابق 31 سالہ مشتبہ شخص کا تعلق کیلیفورنیا کے شہر ٹورنس سے بتایا جا رہا ہے جو لاس اینجلس کے جنوب مغربی مضافاتی علاقے میں واقع ہے۔

    واشنگٹن ڈی سی کی میئر کے مطابق مشتبہ شخص کو قریبی ہسپتال میں طبی امداد دی جا رہی ہے اور وہ پولیس کی حراست میں ہے۔

    صدر ٹرمپ کے اٹارنی جنرل ٹوڈ بلینش کا کہنا ہے کہ حملہ آور پر جلد ہی فرد جرم عائد کی جائے گی۔

    اس سے قبل صدر ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں میڈیا نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مشتبہ شخص نے تقریباً ‘پچاس گز کے فاصلے’ سے دوڑ کر حملہ کرنے کی کوشش کی، جس پر سکیورٹی اہلکاروں نے فوری ردعمل دیتے ہوئے اپنے ہتھیار تان لیے۔

    صدر ٹرمپ کا مزید کہنا تھا کہ ان کے خیال میں حملہ آور اکیلا تھا۔ ‘یہ پاگل لوگ ہیں اور ان سے نمٹنے کی ضرورت ہے’۔

  • امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو سخت اور غیر شائستہ زبان میں دھمکی دیدی

    امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو سخت اور غیر شائستہ زبان میں دھمکی دیدی

    امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو سخت اور غیر شائستہ زبان میں دھمکی دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر اہم سمندری گزرگاہ آبنائے ہرمز کو دوبارہ نہ کھولا گیا تو ایران کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ اگر یہ راستہ بحال نہ ہوا تو ‘منگل کا دن ایران میں پاور پلانٹس اور پلوں پر حملوں کا دن ہوگا۔’

    ٹرمپ نے 6 اپریل کی ڈیڈ لائن کا حوالہ دیتے ہوئے ایک بار پھر خبردار کیا کہ اگر ایران نے مطالبات نہ مانے تو سخت کارروائی کی جائے گی، اگرچہ اس سے پہلے بھی دی گئی ڈیڈ لائنز میں تبدیلی ہوتی رہی ہے۔ دوسری جانب ٹرمپ نے بتایا کہ ایران کے اوپر ایک لڑاکا طیارہ گرائے جانے کے بعد لاپتہ ہونے والا ایک امریکی عملے کا رکن بحفاظت بازیاب ہو گیا ہے اور اب ‘محفوظ اور سلامت’ ہے۔

    تاہم انہوں نے یہ بھی کہا کہ اس اہلکار کو ایران کے پہاڑی علاقے کے اندر سے نکالتے وقت شدید زخمی حالت میں پایا گیا۔ اس کامیاب ریسکیو آپریشن کے بعد امریکا کو اس خدشے سے بھی وقتی نجات مل گئی ہے کہ کہیں یہ اہلکار ایران کے لیے جنگی قیدی کے طور پر پروپیگنڈا کا ذریعہ نہ بن جائے۔

  • کشیدگی کے دوران پاکستان نے انڈیا کے 10 جنگی طیارے گرائے: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا نیا دعویٰ

    کشیدگی کے دوران پاکستان نے انڈیا کے 10 جنگی طیارے گرائے: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا نیا دعویٰ

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ گزشتہ برس مئی میں انڈیا اور پاکستان کے درمیان صورتحال انتہائی خطرناک ہوگئی تھی، یہ ایٹمی جنگ بن سکتی تھی۔ پاکستان اور انڈیا ایک دوسرے پر بھرپور حملے کر رہے تھے۔

    امریکی ٹی وی چینل فاکس بزنس کو دئیے گئے ایک انٹرویو میں امریکی صدر نے دعویٰ کیا: ‘اس کشیدگی کے پاکستان نے انڈیا کے 10 جنگی طیارے طیارے مار گرائے تھے۔’

    امریکی صدر نے ابتدائی طور پر پانچ طیاروں کے مار گرائے جانے کا ذکر کیا تھا اور بعدازاں وہ یہ تعداد بڑھا کر اکتوبر میں 7 اور پھر نومبر میں 8 کر دی تھی۔

    صدر ٹرمپ کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف نے بھی ان سے کہا تھا کہ انہوں نے جنگ رکوا کر کم از کم ایک کروڑ جانیں بچائیں کیونکہ حالات ایٹمی جنگ کی طرف بڑھ رہے تھے۔

    ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا: ‘میرے خیال میں اگر ٹیرف کا دباؤ نہ ہوتا تو یہ جنگ ایٹمی رخ اختیار کر لیتی۔’

    فاکس بزنس کی رپورٹ کے مطابق اگرچہ ٹرمپ نے جنگ رکوانے کا کریڈٹ خود کو دیا ہے اور پاکستان نے بھی امریکی کردار کو سراہا ہے، تاہم انڈیا نے اس معاملے میں امریکی صدر کے کردار کو تسلیم نہیں کیا۔ اس کے برعکس پاکستان نے ڈونلڈ ٹرمپ کو نوبیل امن انعام کے لیے نامزد بھی کیا تھا۔

    گزشتہ برس مئی میں پاکستان اور انڈیا کے سخت کشیدگی دیکھنے میں آئی تھی، جس کا آغاز مقبوضہ کشمیر کے علاقے پہلگام میں سیاحوں پر ہونے والے دہشت گرد حملے کے بعد ہوا۔ اس حملے میں 26 افراد ہلاک ہوئے تھے اور بھارت نے اس کا الزام پاکستان پر عائد کیا تھا۔

    تاہم پاکستان نے اس حملے میں ملوث ہونے کی سختی سے تردید کی اور غیر جانبدار تحقیقات میں تعاون کی پیشکش بھی کی تھی۔

    دونوں فریقوں نے ایک دوسرے پر حملے کیے اور یہ کشیدگی مئی میں ٹرمپ کے جنگ بندی کے اعلان کے ساتھ ختم ہو گئی۔
    صدر ٹرمپ نے کئی مواقع پر فیلڈ مارشل عاصم منیر کی بھی تعریف کی اور انہیں ایک ’انتہائی قابل احترام جنرل‘، ایک ’عظیم جنگجو‘ اور اپنا ‘پسندیدہ‘ قرار دیا۔

     

  • پاکستان اور غزہ بورڈ آف پیس: انصاف کے بغیر امن ممکن نہیں

    پاکستان اور غزہ بورڈ آف پیس: انصاف کے بغیر امن ممکن نہیں

    پاکستان کی شمولیت ٹرمپ کے نام نہاد غزہ امن بورڈ میں ایک لمحاتی سیاسی فتح نہیں بلکہ فلسطینی عوام کے مفادات کے ساتھ ایک واضح دھوکہ ہے۔ انصاف کے بغیر امن محض ایک پردہ فریب ہے، اور پاکستان کے اس اقدام نے مسلم اُمہ اور اپنی بین الاقوامی ساکھ پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی قیادت میں بنایا گیا یہ بورڈ بظاہر امن کی تلاش کے طور پر پیش کیا جاتا ہے، مگر حقیقت یہ ہے کہ یہ منصوبہ طاقتور ممالک کے مفادات کو تحفظ دینے اور فلسطینی عوام کی آواز دبانے کے لیے بنایا گیا ہے۔ پاکستان کی شمولیت نے اس فریب کو مزید جواز فراہم کر دیا ہے۔

    غزہ، جو برسوں سے محاصرے، بمباری اور انسانی بحران کا شکار ہے، وہاں امن کے دعوے محض نعرہ ہیں جب تک کہ فلسطینی عوام کو فیصلہ سازی میں شامل نہیں کیا جاتا۔ پاکستان کو چاہیے تھا کہ وہ اس عمل میں غلط فریق کے ساتھ شمولیت کی بجائے فلسطینی عوام کے حقوق کی حمایت کرے۔

    ٹرمپ کا امن بورڈ نہ صرف فلسطینیوں کی نمائندگی سے محروم ہے بلکہ یہ بین الاقوامی قوانین اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کو بھی نظرانداز کرتا دکھائی دیتا ہے۔ پاکستان کی شمولیت نے یہ تاثر دیا ہے کہ ہمارے مفادات عالمی طاقتوں کے دباؤ کے آگے ترجیحی ہیں، نہ کہ انسانی انصاف کے۔

    تاریخ اور حقائق گواہ ہیں کہ غزہ میں بحران کی اصل جڑ سیاسی ناانصافی، غیر قانونی قبضہ، اور اجتماعی سزا ہے۔ ایسے میں پاکستان کی شمولیت نے عالمی سطح پر انصاف کے تقاضوں کی تضحیک کی ہے اور اپنی ساکھ کو نقصان پہنچایا ہے۔

    یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ کے پچھلے اقدامات،  جیسے یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنا اور فلسطینی امداد میں کٹوتی،  اس بورڈ کی غیر جانبداری پر سنجیدہ سوالات اٹھاتے ہیں۔ پاکستان کے لیے یہ ایک سنگین اخلاقی اور سیاسی غلطی ہے۔

    اصل امن اس وقت ممکن ہوگا جب عالمی برادری اور شمولیت کرنے والے ممالک غزہ کے محاصرے کے خاتمے، جنگی جرائم کے احتساب، اور فلسطینیوں کے حق خودارادیت کو تسلیم کریں۔ بصورت دیگر، یہ سب محض سیاسی تماشہ اور دھوکہ بازی کے سوا کچھ نہیں۔

    پاکستان کو اپنے موقف پر نظر ثانی کرنی ہوگی، اور اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے چارٹر اور حقیقی انصاف کے لیے فلسطینی عوام کے ساتھ کھڑا ہونا ہوگا، نہ کہ طاقتور فریقوں کے کھیل کا حصہ بننا۔

  • نوبل امن انعام کا تحفہ، عالمی سیاست میں نیا تنازع

    نوبل امن انعام کا تحفہ، عالمی سیاست میں نیا تنازع

    وینزویلا کی سیاست اور عالمی طاقتوں کے تعلقات سے متعلق ایک متنازع بیانیہ حالیہ دنوں میں سوشل میڈیا اور بعض غیر مصدقہ رپورٹس میں زیرِ بحث رہا، جس میں اپوزیشن رہنما ماریا کورینا ماچادو اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حوالے سے غیر معمولی دعوے سامنے آئے۔

    ان دعووں کے مطابق ماریا کورینا ماچادو کو 2025 میں نوبل امن انعام ملنے اور بعد ازاں یہ میڈل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو پیش کیے جانے کا ذکر کیا گیا۔ بعض بیانیوں میں کہا گیا کہ یہ پیشکش وائٹ ہاؤس میں ایک تختی کے ساتھ کی گئی، جس میں ٹرمپ کی قیادت کی تعریف اور وینزویلا کے ‘عوام کی جانب سے شکریہ’ ادا کرنے کا حوالہ دیا گیا۔

    اسی سلسلے میں بعض دعووں میں یہ بھی کہا گیا کہ امریکہ نے وینزویلا میں براہ راست فوجی مداخلت کی، صدر اور ان کی اہلیہ کو گرفتار کیا گیا اور صدر ٹرمپ نے خود کو وینزویلا کا عبوری صدر قرار دیا۔

    عالمی سطح پر دستیاب مستند معلومات کے مطابق اس نوعیت کے اقدامات یا اعلانات کی سرکاری توثیق موجود نہیں، جبکہ وینزویلا کا سیاسی بحران طویل عرصے سے سفارتی دباؤ، پابندیوں اور اندرونی کشمکش کے تناظر میں جاری ہے۔

    نوبل امن انعام سے متعلق بھی یہ واضح ہے کہ اس اعزاز کا اعلان ہر سال اکتوبر میں ناروے کی نوبل کمیٹی کرتی ہے اور 2025 کے انعام کے بارے میں ماریا کورینا ماچادو کے بطور انعام یافتہ ہونے کی کوئی مصدقہ اطلاع سامنے نہیں آئی۔ اسی طرح یہ دعویٰ بھی زیرِ گردش رہا کہ انہوں نے یہ انعام وینزویلا کے عوام اور صدر ٹرمپ کی حمایت کے نام منسوب کیا، جس کی آزادانہ تصدیق نہیں ہو سکی۔

    دلچسپ امر یہ ہے کہ ماضی میں ڈونلڈ ٹرمپ کے نوبل امن انعام کے لیے نامزد ہونے کی خبریں مختلف ممالک کے حوالے سے سامنے آتی رہی ہیں، تاہم نامزدگی اور انعام ملنے کے درمیان واضح فرق موجود ہے۔ ان بیانیوں میں اس فرق کو اکثر نظر انداز کیا گیا، جس سے کنفیوژن پیدا ہوا۔

    2026 کے آغاز سے متعلق بعض دعووں میں امریکہ کی وینزویلا میں براہ راست مداخلت کو ایک فیصلہ کن موڑ قرار دیا گیا اور اسی تناظر میں مبینہ طور پر نوبل امن انعام کا میڈل پیش کرنے کی بات کی گئی۔ تاہم ماہرین کے مطابق ایسی خبریں زیادہ تر قیاس آرائی یا سیاسی پراپیگنڈے کا حصہ ہو سکتی ہیں۔

    اس معاملے پر رائے شدید طور پر منقسم دکھائی دیتی ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ نوبل امن انعام کسی فرد نہیں بلکہ امن، اصولی جدوجہد اور اخلاقی اقدار کی علامت ہوتا ہے، اس لیے اس سے متعلق کسی بھی خبر یا دعوے کو مستند ذرائع کے بغیر قبول نہیں کیا جا سکتا۔

    بعض حلقے اسے وینزویلا کی سیاست میں بیرونی اثر و رسوخ کے تاثر سے جوڑتے ہیں، جبکہ دیگر کے نزدیک یہ عالمی سیاست میں معلوماتی جنگ کی ایک مثال ہے۔

    مجموعی طور پر یہ معاملہ ایک تصدیق شدہ واقعے سے زیادہ ایک متنازع بیانیہ بن کر سامنے آیا ہے، جو عالمی سیاست، معلومات کے استعمال اور عوامی رائے پر اثر انداز ہونے کی کوششوں کی عکاسی کرتا ہے۔ یہ واقعہ اس بات کی یاد دہانی بھی ہے کہ حساس عالمی امور میں کسی بھی دعوے کو حقائق کی جانچ کے بغیر حتمی سچ کے طور پر پیش کرنا خود ایک بڑا سوال بن جاتا ہے۔