Tag: ڈونلڈ ٹرمپ

  • واشنگٹن: امریکی صدر کی جانب سے صحافیوں کو دیے عشائیے میں فائرنگ، ٹرمپ محفوظ رہے

    واشنگٹن: امریکی صدر کی جانب سے صحافیوں کو دیے عشائیے میں فائرنگ، ٹرمپ محفوظ رہے

    میڈیا رپورٹس کے مطابق واشنگٹن میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی موجودگی میں وائٹ ہاؤس کے میڈیا نمائندوں یعنی وائٹ ہاؤس رپورٹرز ایسوسی ایشن کے اعزاز میں منعقد عشائیے کے دوران فائرنگ کا واقعہ پیش آیا۔ واقعے میں صدر ٹرمپ محفوظ رہے جبکہ حملہ آور کو گرفتار کر لیا گیا۔

    رپورٹس کے مطابق ہلٹن ہوٹل میں جاری تقریب کے دوران اچانک زور دار آواز سنی گئی جس سے سکیورٹی خدشات پیدا ہوئے اور کچھ دیر کے لیے ہلچل مچ گئی۔ اس دوران سیکریٹ سروس اہلکار صدر ٹرمپ کو فوری طور پر تقریب سے باہر لے گئے جبکہ کئی مہمان میزوں کے نیچے چھپ گئے۔

    تقریب کا آغاز ہی ہوا تھا کہ صدر ٹرمپ کو ایک پرچی دکھائی گئی۔ اسی نوعیت کی پرچی اس سے قبل وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولائن لیویٹ کو بھی دی گئی تھی۔ اس موقع پر صدر کے قریب بیٹھی ایک خاتون کو حیرت زدہ ہوتے دیکھا گیا۔

    تقریب میں 2600 سے زائد افراد شریک تھے اور فائرنگ کے بعد متعدد شرکا نے میزوں کے نیچے پناہ لی۔

    ابتدائی اطلاعات کے مطابق مبینہ مسلح مشتبہ شخص کی شناخت سامنے آ رہی ہے۔ بی بی سی کے امریکی پارٹنر سی بی ایس نیوز کے مطابق 31 سالہ مشتبہ شخص کا تعلق کیلیفورنیا کے شہر ٹورنس سے بتایا جا رہا ہے جو لاس اینجلس کے جنوب مغربی مضافاتی علاقے میں واقع ہے۔

    واشنگٹن ڈی سی کی میئر کے مطابق مشتبہ شخص کو قریبی ہسپتال میں طبی امداد دی جا رہی ہے اور وہ پولیس کی حراست میں ہے۔

    صدر ٹرمپ کے اٹارنی جنرل ٹوڈ بلینش کا کہنا ہے کہ حملہ آور پر جلد ہی فرد جرم عائد کی جائے گی۔

    اس سے قبل صدر ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں میڈیا نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مشتبہ شخص نے تقریباً ‘پچاس گز کے فاصلے’ سے دوڑ کر حملہ کرنے کی کوشش کی، جس پر سکیورٹی اہلکاروں نے فوری ردعمل دیتے ہوئے اپنے ہتھیار تان لیے۔

    صدر ٹرمپ کا مزید کہنا تھا کہ ان کے خیال میں حملہ آور اکیلا تھا۔ ‘یہ پاگل لوگ ہیں اور ان سے نمٹنے کی ضرورت ہے’۔

  • امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو سخت اور غیر شائستہ زبان میں دھمکی دیدی

    امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو سخت اور غیر شائستہ زبان میں دھمکی دیدی

    امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو سخت اور غیر شائستہ زبان میں دھمکی دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر اہم سمندری گزرگاہ آبنائے ہرمز کو دوبارہ نہ کھولا گیا تو ایران کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ اگر یہ راستہ بحال نہ ہوا تو ‘منگل کا دن ایران میں پاور پلانٹس اور پلوں پر حملوں کا دن ہوگا۔’

    ٹرمپ نے 6 اپریل کی ڈیڈ لائن کا حوالہ دیتے ہوئے ایک بار پھر خبردار کیا کہ اگر ایران نے مطالبات نہ مانے تو سخت کارروائی کی جائے گی، اگرچہ اس سے پہلے بھی دی گئی ڈیڈ لائنز میں تبدیلی ہوتی رہی ہے۔ دوسری جانب ٹرمپ نے بتایا کہ ایران کے اوپر ایک لڑاکا طیارہ گرائے جانے کے بعد لاپتہ ہونے والا ایک امریکی عملے کا رکن بحفاظت بازیاب ہو گیا ہے اور اب ‘محفوظ اور سلامت’ ہے۔

    تاہم انہوں نے یہ بھی کہا کہ اس اہلکار کو ایران کے پہاڑی علاقے کے اندر سے نکالتے وقت شدید زخمی حالت میں پایا گیا۔ اس کامیاب ریسکیو آپریشن کے بعد امریکا کو اس خدشے سے بھی وقتی نجات مل گئی ہے کہ کہیں یہ اہلکار ایران کے لیے جنگی قیدی کے طور پر پروپیگنڈا کا ذریعہ نہ بن جائے۔

  • کشیدگی کے دوران پاکستان نے انڈیا کے 10 جنگی طیارے گرائے: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا نیا دعویٰ

    کشیدگی کے دوران پاکستان نے انڈیا کے 10 جنگی طیارے گرائے: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا نیا دعویٰ

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ گزشتہ برس مئی میں انڈیا اور پاکستان کے درمیان صورتحال انتہائی خطرناک ہوگئی تھی، یہ ایٹمی جنگ بن سکتی تھی۔ پاکستان اور انڈیا ایک دوسرے پر بھرپور حملے کر رہے تھے۔

    امریکی ٹی وی چینل فاکس بزنس کو دئیے گئے ایک انٹرویو میں امریکی صدر نے دعویٰ کیا: ‘اس کشیدگی کے پاکستان نے انڈیا کے 10 جنگی طیارے طیارے مار گرائے تھے۔’

    امریکی صدر نے ابتدائی طور پر پانچ طیاروں کے مار گرائے جانے کا ذکر کیا تھا اور بعدازاں وہ یہ تعداد بڑھا کر اکتوبر میں 7 اور پھر نومبر میں 8 کر دی تھی۔

    صدر ٹرمپ کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف نے بھی ان سے کہا تھا کہ انہوں نے جنگ رکوا کر کم از کم ایک کروڑ جانیں بچائیں کیونکہ حالات ایٹمی جنگ کی طرف بڑھ رہے تھے۔

    ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا: ‘میرے خیال میں اگر ٹیرف کا دباؤ نہ ہوتا تو یہ جنگ ایٹمی رخ اختیار کر لیتی۔’

    فاکس بزنس کی رپورٹ کے مطابق اگرچہ ٹرمپ نے جنگ رکوانے کا کریڈٹ خود کو دیا ہے اور پاکستان نے بھی امریکی کردار کو سراہا ہے، تاہم انڈیا نے اس معاملے میں امریکی صدر کے کردار کو تسلیم نہیں کیا۔ اس کے برعکس پاکستان نے ڈونلڈ ٹرمپ کو نوبیل امن انعام کے لیے نامزد بھی کیا تھا۔

    گزشتہ برس مئی میں پاکستان اور انڈیا کے سخت کشیدگی دیکھنے میں آئی تھی، جس کا آغاز مقبوضہ کشمیر کے علاقے پہلگام میں سیاحوں پر ہونے والے دہشت گرد حملے کے بعد ہوا۔ اس حملے میں 26 افراد ہلاک ہوئے تھے اور بھارت نے اس کا الزام پاکستان پر عائد کیا تھا۔

    تاہم پاکستان نے اس حملے میں ملوث ہونے کی سختی سے تردید کی اور غیر جانبدار تحقیقات میں تعاون کی پیشکش بھی کی تھی۔

    دونوں فریقوں نے ایک دوسرے پر حملے کیے اور یہ کشیدگی مئی میں ٹرمپ کے جنگ بندی کے اعلان کے ساتھ ختم ہو گئی۔
    صدر ٹرمپ نے کئی مواقع پر فیلڈ مارشل عاصم منیر کی بھی تعریف کی اور انہیں ایک ’انتہائی قابل احترام جنرل‘، ایک ’عظیم جنگجو‘ اور اپنا ‘پسندیدہ‘ قرار دیا۔

     

  • پاکستان اور غزہ بورڈ آف پیس: انصاف کے بغیر امن ممکن نہیں

    پاکستان اور غزہ بورڈ آف پیس: انصاف کے بغیر امن ممکن نہیں

    پاکستان کی شمولیت ٹرمپ کے نام نہاد غزہ امن بورڈ میں ایک لمحاتی سیاسی فتح نہیں بلکہ فلسطینی عوام کے مفادات کے ساتھ ایک واضح دھوکہ ہے۔ انصاف کے بغیر امن محض ایک پردہ فریب ہے، اور پاکستان کے اس اقدام نے مسلم اُمہ اور اپنی بین الاقوامی ساکھ پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی قیادت میں بنایا گیا یہ بورڈ بظاہر امن کی تلاش کے طور پر پیش کیا جاتا ہے، مگر حقیقت یہ ہے کہ یہ منصوبہ طاقتور ممالک کے مفادات کو تحفظ دینے اور فلسطینی عوام کی آواز دبانے کے لیے بنایا گیا ہے۔ پاکستان کی شمولیت نے اس فریب کو مزید جواز فراہم کر دیا ہے۔

    غزہ، جو برسوں سے محاصرے، بمباری اور انسانی بحران کا شکار ہے، وہاں امن کے دعوے محض نعرہ ہیں جب تک کہ فلسطینی عوام کو فیصلہ سازی میں شامل نہیں کیا جاتا۔ پاکستان کو چاہیے تھا کہ وہ اس عمل میں غلط فریق کے ساتھ شمولیت کی بجائے فلسطینی عوام کے حقوق کی حمایت کرے۔

    ٹرمپ کا امن بورڈ نہ صرف فلسطینیوں کی نمائندگی سے محروم ہے بلکہ یہ بین الاقوامی قوانین اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کو بھی نظرانداز کرتا دکھائی دیتا ہے۔ پاکستان کی شمولیت نے یہ تاثر دیا ہے کہ ہمارے مفادات عالمی طاقتوں کے دباؤ کے آگے ترجیحی ہیں، نہ کہ انسانی انصاف کے۔

    تاریخ اور حقائق گواہ ہیں کہ غزہ میں بحران کی اصل جڑ سیاسی ناانصافی، غیر قانونی قبضہ، اور اجتماعی سزا ہے۔ ایسے میں پاکستان کی شمولیت نے عالمی سطح پر انصاف کے تقاضوں کی تضحیک کی ہے اور اپنی ساکھ کو نقصان پہنچایا ہے۔

    یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ کے پچھلے اقدامات،  جیسے یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنا اور فلسطینی امداد میں کٹوتی،  اس بورڈ کی غیر جانبداری پر سنجیدہ سوالات اٹھاتے ہیں۔ پاکستان کے لیے یہ ایک سنگین اخلاقی اور سیاسی غلطی ہے۔

    اصل امن اس وقت ممکن ہوگا جب عالمی برادری اور شمولیت کرنے والے ممالک غزہ کے محاصرے کے خاتمے، جنگی جرائم کے احتساب، اور فلسطینیوں کے حق خودارادیت کو تسلیم کریں۔ بصورت دیگر، یہ سب محض سیاسی تماشہ اور دھوکہ بازی کے سوا کچھ نہیں۔

    پاکستان کو اپنے موقف پر نظر ثانی کرنی ہوگی، اور اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے چارٹر اور حقیقی انصاف کے لیے فلسطینی عوام کے ساتھ کھڑا ہونا ہوگا، نہ کہ طاقتور فریقوں کے کھیل کا حصہ بننا۔

  • نوبل امن انعام کا تحفہ، عالمی سیاست میں نیا تنازع

    نوبل امن انعام کا تحفہ، عالمی سیاست میں نیا تنازع

    وینزویلا کی سیاست اور عالمی طاقتوں کے تعلقات سے متعلق ایک متنازع بیانیہ حالیہ دنوں میں سوشل میڈیا اور بعض غیر مصدقہ رپورٹس میں زیرِ بحث رہا، جس میں اپوزیشن رہنما ماریا کورینا ماچادو اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حوالے سے غیر معمولی دعوے سامنے آئے۔

    ان دعووں کے مطابق ماریا کورینا ماچادو کو 2025 میں نوبل امن انعام ملنے اور بعد ازاں یہ میڈل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو پیش کیے جانے کا ذکر کیا گیا۔ بعض بیانیوں میں کہا گیا کہ یہ پیشکش وائٹ ہاؤس میں ایک تختی کے ساتھ کی گئی، جس میں ٹرمپ کی قیادت کی تعریف اور وینزویلا کے ‘عوام کی جانب سے شکریہ’ ادا کرنے کا حوالہ دیا گیا۔

    اسی سلسلے میں بعض دعووں میں یہ بھی کہا گیا کہ امریکہ نے وینزویلا میں براہ راست فوجی مداخلت کی، صدر اور ان کی اہلیہ کو گرفتار کیا گیا اور صدر ٹرمپ نے خود کو وینزویلا کا عبوری صدر قرار دیا۔

    عالمی سطح پر دستیاب مستند معلومات کے مطابق اس نوعیت کے اقدامات یا اعلانات کی سرکاری توثیق موجود نہیں، جبکہ وینزویلا کا سیاسی بحران طویل عرصے سے سفارتی دباؤ، پابندیوں اور اندرونی کشمکش کے تناظر میں جاری ہے۔

    نوبل امن انعام سے متعلق بھی یہ واضح ہے کہ اس اعزاز کا اعلان ہر سال اکتوبر میں ناروے کی نوبل کمیٹی کرتی ہے اور 2025 کے انعام کے بارے میں ماریا کورینا ماچادو کے بطور انعام یافتہ ہونے کی کوئی مصدقہ اطلاع سامنے نہیں آئی۔ اسی طرح یہ دعویٰ بھی زیرِ گردش رہا کہ انہوں نے یہ انعام وینزویلا کے عوام اور صدر ٹرمپ کی حمایت کے نام منسوب کیا، جس کی آزادانہ تصدیق نہیں ہو سکی۔

    دلچسپ امر یہ ہے کہ ماضی میں ڈونلڈ ٹرمپ کے نوبل امن انعام کے لیے نامزد ہونے کی خبریں مختلف ممالک کے حوالے سے سامنے آتی رہی ہیں، تاہم نامزدگی اور انعام ملنے کے درمیان واضح فرق موجود ہے۔ ان بیانیوں میں اس فرق کو اکثر نظر انداز کیا گیا، جس سے کنفیوژن پیدا ہوا۔

    2026 کے آغاز سے متعلق بعض دعووں میں امریکہ کی وینزویلا میں براہ راست مداخلت کو ایک فیصلہ کن موڑ قرار دیا گیا اور اسی تناظر میں مبینہ طور پر نوبل امن انعام کا میڈل پیش کرنے کی بات کی گئی۔ تاہم ماہرین کے مطابق ایسی خبریں زیادہ تر قیاس آرائی یا سیاسی پراپیگنڈے کا حصہ ہو سکتی ہیں۔

    اس معاملے پر رائے شدید طور پر منقسم دکھائی دیتی ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ نوبل امن انعام کسی فرد نہیں بلکہ امن، اصولی جدوجہد اور اخلاقی اقدار کی علامت ہوتا ہے، اس لیے اس سے متعلق کسی بھی خبر یا دعوے کو مستند ذرائع کے بغیر قبول نہیں کیا جا سکتا۔

    بعض حلقے اسے وینزویلا کی سیاست میں بیرونی اثر و رسوخ کے تاثر سے جوڑتے ہیں، جبکہ دیگر کے نزدیک یہ عالمی سیاست میں معلوماتی جنگ کی ایک مثال ہے۔

    مجموعی طور پر یہ معاملہ ایک تصدیق شدہ واقعے سے زیادہ ایک متنازع بیانیہ بن کر سامنے آیا ہے، جو عالمی سیاست، معلومات کے استعمال اور عوامی رائے پر اثر انداز ہونے کی کوششوں کی عکاسی کرتا ہے۔ یہ واقعہ اس بات کی یاد دہانی بھی ہے کہ حساس عالمی امور میں کسی بھی دعوے کو حقائق کی جانچ کے بغیر حتمی سچ کے طور پر پیش کرنا خود ایک بڑا سوال بن جاتا ہے۔