سپریم کورٹ نے ٹرمپ کی امیگریشن پالیسی کے اہم منصوبے کو روک دیا، پیدائشی شہریت برقرار

امریکی سپریم کورٹ نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے پیدائشی شہریت محدود کرنے کی کوشش کو مسترد کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ امریکی آئین کی چودھویں ترمیم کے تحت امریکہ میں پیدا ہونے والے تقریباً تمام افراد امریکی شہریت کے حق دار ہیں، چاہے ان کے والدین کی امیگریشن حیثیت کچھ بھی ہو۔ یہ فیصلہ ٹرمپ کی امیگریشن پالیسی کے لیے ایک بڑا قانونی دھچکا قرار دیا جا رہا ہے۔

سپریم کورٹ نے 6 کے مقابلے میں 3 ووٹوں سے ٹرمپ انتظامیہ کے اس ایگزیکٹو آرڈر کو برقرار رکھنے سے انکار کر دیا، جس کے تحت ایسے بچوں کو پیدائشی امریکی شہریت دینے سے روکنے کی کوشش کی گئی تھی جن کے والدین نہ امریکی شہری ہوں اور نہ ہی قانونی مستقل رہائشی۔ اس حکم نامے کو پہلے ہی نچلی عدالتوں نے معطل کر رکھا تھا۔

چیف جسٹس جان رابرٹس نے اکثریتی فیصلہ تحریر کرتے ہوئے کہا کہ امریکی آئین کی چودھویں ترمیم اور 1898 کے تاریخی مقدمے ‘United States v. Wong Kim Ark’ نے یہ اصول واضح کر دیا ہے کہ امریکی سرزمین پر پیدا ہونے والے تقریباً تمام افراد پیدائشی شہریت کے حق دار ہیں۔ عدالت نے قرار دیا کہ صدارتی حکم نامے کے ذریعے اس آئینی اصول کو تبدیل نہیں کیا جا سکتا۔

یہ مقدمہ ٹرمپ انتظامیہ کی سخت گیر امیگریشن پالیسی کا اہم حصہ سمجھا جا رہا تھا۔ قانونی ماہرین کے مطابق اس فیصلے کے بعد پیدائشی شہریت کے اصول میں بنیادی تبدیلی صرف آئینی ترمیم یا کانگریس کی جانب سے منظور کیے گئے ایسے قانون کے ذریعے ہی ممکن ہو سکتی ہے جو امریکی آئین سے مطابقت رکھتا ہو۔

امریکہ میں پیدائشی شہریت کا اصول 1868 میں منظور ہونے والی چودھویں آئینی ترمیم پر مبنی ہے، جبکہ 1898 میں سپریم کورٹ نے اپنے تاریخی فیصلے میں اس کی توثیق کرتے ہوئے واضح کیا تھا کہ امریکی سرزمین پر پیدا ہونے والے بیشتر افراد خودکار طور پر امریکی شہری تصور کیے جائیں گے، سوائے چند محدود استثنائی حالات، جیسے غیر ملکی سفارت کاروں کے بچوں، کے۔