پاکستان کی شمولیت ٹرمپ کے نام نہاد غزہ امن بورڈ میں ایک لمحاتی سیاسی فتح نہیں بلکہ فلسطینی عوام کے مفادات کے ساتھ ایک واضح دھوکہ ہے۔ انصاف کے بغیر امن محض ایک پردہ فریب ہے، اور پاکستان کے اس اقدام نے مسلم اُمہ اور اپنی بین الاقوامی ساکھ پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی قیادت میں بنایا گیا یہ بورڈ بظاہر امن کی تلاش کے طور پر پیش کیا جاتا ہے، مگر حقیقت یہ ہے کہ یہ منصوبہ طاقتور ممالک کے مفادات کو تحفظ دینے اور فلسطینی عوام کی آواز دبانے کے لیے بنایا گیا ہے۔ پاکستان کی شمولیت نے اس فریب کو مزید جواز فراہم کر دیا ہے۔
غزہ، جو برسوں سے محاصرے، بمباری اور انسانی بحران کا شکار ہے، وہاں امن کے دعوے محض نعرہ ہیں جب تک کہ فلسطینی عوام کو فیصلہ سازی میں شامل نہیں کیا جاتا۔ پاکستان کو چاہیے تھا کہ وہ اس عمل میں غلط فریق کے ساتھ شمولیت کی بجائے فلسطینی عوام کے حقوق کی حمایت کرے۔
ٹرمپ کا امن بورڈ نہ صرف فلسطینیوں کی نمائندگی سے محروم ہے بلکہ یہ بین الاقوامی قوانین اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کو بھی نظرانداز کرتا دکھائی دیتا ہے۔ پاکستان کی شمولیت نے یہ تاثر دیا ہے کہ ہمارے مفادات عالمی طاقتوں کے دباؤ کے آگے ترجیحی ہیں، نہ کہ انسانی انصاف کے۔
تاریخ اور حقائق گواہ ہیں کہ غزہ میں بحران کی اصل جڑ سیاسی ناانصافی، غیر قانونی قبضہ، اور اجتماعی سزا ہے۔ ایسے میں پاکستان کی شمولیت نے عالمی سطح پر انصاف کے تقاضوں کی تضحیک کی ہے اور اپنی ساکھ کو نقصان پہنچایا ہے۔
یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ کے پچھلے اقدامات، جیسے یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنا اور فلسطینی امداد میں کٹوتی، اس بورڈ کی غیر جانبداری پر سنجیدہ سوالات اٹھاتے ہیں۔ پاکستان کے لیے یہ ایک سنگین اخلاقی اور سیاسی غلطی ہے۔
اصل امن اس وقت ممکن ہوگا جب عالمی برادری اور شمولیت کرنے والے ممالک غزہ کے محاصرے کے خاتمے، جنگی جرائم کے احتساب، اور فلسطینیوں کے حق خودارادیت کو تسلیم کریں۔ بصورت دیگر، یہ سب محض سیاسی تماشہ اور دھوکہ بازی کے سوا کچھ نہیں۔
پاکستان کو اپنے موقف پر نظر ثانی کرنی ہوگی، اور اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے چارٹر اور حقیقی انصاف کے لیے فلسطینی عوام کے ساتھ کھڑا ہونا ہوگا، نہ کہ طاقتور فریقوں کے کھیل کا حصہ بننا۔

