Tag: غزہ

  • غزہ میں کئی سالوں سے جاری جنگ میں ممنوعہ ہتھیاروں کا زمین، ہوا، پانی پر اثرات

    غزہ میں کئی سالوں سے جاری جنگ میں ممنوعہ ہتھیاروں کا زمین، ہوا، پانی پر اثرات

    فلسطین، خاص طور پر غزہ کی پٹی میں جاری جنگ اب صرف ہتھیاروں کی جھڑپ تک محدود نہیں رہی بلکہ یہ ایک کثیرالجہتی انسانی، ماحولیاتی اور طبی بحران میں تبدیل ہو چکی ہے۔ بمباری، مبینہ طور پر ممنوعہ ہتھیاروں کے استعمال اور بنیادی ڈھانچے کی تباہی کے باعث غزہ کی زمین، پانی اور فضا زہریلے مادّوں سے آلودہ ہو چکی ہے۔ عالمی اداروں جیسے ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن، اقوام متحدہ، یونیسف اور اقوام متحدہ کے ماحولیاتی پروگرام نے خبردار کیا ہے کہ غزہ اب صرف ایک جنگی علاقہ نہیں بلکہ ایک ‘ماحولیاتی اور طبی ٹائم بم’ بن چکا ہے۔

    سفید فاسفورس جیسے ہتھیاروں، بھاری دھاتوں، ملبے میں موجود ایسبیسٹس اور تباہ شدہ سیوریج نظام کے باعث وبائی امراض پھیلنے لگے ہیں۔ پولیو کا دوبارہ ظاہر ہونا، ہیپاٹائٹس، اسہال، پھیپھڑوں کی بیماریاں اور کینسر کے بڑھتے خدشات صورتحال کو مزید سنگین بنا رہے ہیں۔ طبی ماہرین کے مطابق اگر فوری عالمی مداخلت اور ماحولیاتی صفائی (Soil Remediation اور Detoxification) نہ کی گئی تو اس کے اثرات آنے والی نسلوں تک رہیں گے۔

    فلسطین، خصوصاً غزہ میں جاری جنگ کے دوران اسرائیلی بمباری اور مبینہ طور پر ممنوعہ ہتھیاروں کے استعمال نے نہ صرف بڑے پیمانے پر تباہی مچائی ہے بلکہ ماحولیاتی آلودگی اور زہریلے مادّوں کے باعث خطرناک بیماریاں بھی جنم لے رہی ہیں۔ مختلف عالمی صحت تنظیموں اور طبی ماہرین کے مطابق صورتحال انتہائی تشویشناک ہے۔

    مقامی ادارے عالمی طاقتوں اور تنظیموں کو رپورٹس دے رہے ہیں کہ اسرائیل کو ایسے مہلک کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال سے روکا جائے، مگر کوئی ملک مؤثر اقدام کے لیے تیار دکھائی نہیں دیتا اور بمباری کا سلسلہ جاری ہے۔

    سفید فاسفورس کے اثرات رپورٹس کے مطابق اسرائیل گزشتہ دو برسوں سے حماس کے خلاف جنگ کے دوران گنجان آباد علاقوں میں بھی سفید فاسفورس استعمال کر رہا ہے۔ یہ مادہ فضا میں پھیل کر زمین پر زہریلا دھواں بکھیر دیتا ہے، جس سے سانس گھٹنے، شدید جلنے اور اموات کے واقعات پیش آ رہے ہیں۔ طبی ماہرین کے مطابق سفید فاسفورس جسم کو ہڈیوں تک جلا دیتا ہے، خون میں شامل ہو کر جگر، گردوں اور دل کو متاثر کرتا ہے اور اعضا کی ناکامی (Organ Failure) کا سبب بن سکتا ہے۔

    دھماکوں کے نتیجے میں ٹنگسٹن (Tungsten)، پارہ (Mercury) اور سیسہ (Lead) جیسی بھاری دھاتیں ماحول میں شامل ہو جاتی ہیں، جو مٹی اور پانی کے ذریعے انسانی جسم میں جا کر بالخصوص خون اور ہڈیوں کے کینسر کا سبب بن سکتی ہیں۔ حاملہ خواتین پر ان کے اثرات سے بچوں میں پیدائشی نقائص کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

    ماحولیاتی زہر اور انفیکشن مسلسل بمباری کے باعث عمارتوں کا ملبہ، سیوریج کا گندا پانی اور کیمیائی مادّے آپس میں مل چکے ہیں، جس سے جلدی امراض، ہیپاٹائٹس اے، ہیضہ اور اسہال عام ہو رہے ہیں۔ حال ہی میں غزہ کے گندے پانی میں پولیو وائرس کی تصدیق بھی ہوئی ہے۔ بارودی دھواں اور ایسبیسٹس سے آلودہ گرد پھیپھڑوں کے لیے انتہائی خطرناک ہے اور کینسر کا باعث بن سکتی ہے۔

    ماہرین کے مطابق غزہ میں استعمال ہونے والے ہتھیاروں کے اثرات کئی نسلوں تک برقرار رہ سکتے ہیں۔ زہریلے مادّے زرعی پیداوار کے ذریعے خوراک کا حصہ بن رہے ہیں، جو ایک خاموش تباہی ہے۔ صورتحال کا موازنہ عراق کے شہر فلوجہ اور جاپان کے ہیروشیما سے کیا جا رہا ہے، جہاں جنگی اثرات نے طویل مدتی طبی مسائل کو جنم دیا تھا۔

    رپورٹس کے مطابق غزہ میں تقریباً چار کروڑ ٹن ملبہ موجود ہے، جس میں ایسبیسٹس، سیسہ اور ناکارہ گولہ بارود شامل ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ غزہ کا 97 فیصد پانی پینے کے قابل نہیں رہا۔ پولیو (ٹائپ 2) کے کیسز 25 سال بعد دوبارہ سامنے آئے ہیں، جبکہ لاکھوں افراد سانس کی بیماریوں اور بچے شدید اسہال کا شکار ہیں۔
    طبی تنظیم ڈاکٹرز وِد آؤٹ بارڈرز اور دیگر اداروں کے مطابق غزہ کا صحت کا نظام مکمل طور پر تباہ ہو چکا ہے۔ ادویات کی شدید قلت ہے، ہزاروں زخمی بغیر علاج کے ہیں اور سینکڑوں افراد کے اعضا کاٹنے پڑے ہیں۔ اینٹی بایوٹکس کی کمی کے باعث زخم سڑ کر گینگرین میں تبدیل ہو رہے ہیں۔ قبل از وقت پیدائش میں 300 فیصد اضافہ ہوا ہے اور بجلی و آکسیجن کی کمی سے نوزائیدہ بچے دم توڑ رہے ہیں۔

    غزہ کی موجودہ صورتحال ایک عام جنگی سانحے سے بڑھ کر انسانی صحت، ماحول اور آنے والی نسلوں کی بقا کا مسئلہ بن چکی ہے۔ ماہرین کے مطابق شہری علاقوں میں خطرناک اور آتش گیر ہتھیاروں کا استعمال بین الاقوامی انسانی قانون کی روح کے منافی ہے۔
    صحت کے نظام کی بحالی، صاف پانی کی فراہمی اور مٹی کی مکمل ڈی ٹاکسیفکیشن کے بغیر معمول کی زندگی کی بحالی ممکن نہیں۔ عالمی برادری کو فوری طور پر غیر جانبدار تحقیقات، انسانی امداد اور ماحولیاتی بحالی کے لیے مشترکہ حکمت عملی اپنانا ہوگی۔

    اگر جنگ جاری رہی اور ماحولیاتی زہر کو نظرانداز کیا گیا تو غزہ محض ایک تباہ شدہ شہر نہیں رہے گا بلکہ ایک ایسا خطہ بن جائے گا جہاں بیماریاں، جینیاتی تبدیلیاں اور نفسیاتی صدمات کئی دہائیوں تک انسانی تقدیر بنے رہیں گے۔

    تاریخ بتاتی ہے کہ ایسی صورتحال صرف عمارتوں کی تعمیر نو سے حل نہیں ہوتی بلکہ اس کے لیے انصاف، سیاسی حل اور ماحولیاتی بحالی کے مشترکہ عزم کی ضرورت ہوتی ہے۔

  • پاکستان اور غزہ بورڈ آف پیس: انصاف کے بغیر امن ممکن نہیں

    پاکستان اور غزہ بورڈ آف پیس: انصاف کے بغیر امن ممکن نہیں

    پاکستان کی شمولیت ٹرمپ کے نام نہاد غزہ امن بورڈ میں ایک لمحاتی سیاسی فتح نہیں بلکہ فلسطینی عوام کے مفادات کے ساتھ ایک واضح دھوکہ ہے۔ انصاف کے بغیر امن محض ایک پردہ فریب ہے، اور پاکستان کے اس اقدام نے مسلم اُمہ اور اپنی بین الاقوامی ساکھ پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی قیادت میں بنایا گیا یہ بورڈ بظاہر امن کی تلاش کے طور پر پیش کیا جاتا ہے، مگر حقیقت یہ ہے کہ یہ منصوبہ طاقتور ممالک کے مفادات کو تحفظ دینے اور فلسطینی عوام کی آواز دبانے کے لیے بنایا گیا ہے۔ پاکستان کی شمولیت نے اس فریب کو مزید جواز فراہم کر دیا ہے۔

    غزہ، جو برسوں سے محاصرے، بمباری اور انسانی بحران کا شکار ہے، وہاں امن کے دعوے محض نعرہ ہیں جب تک کہ فلسطینی عوام کو فیصلہ سازی میں شامل نہیں کیا جاتا۔ پاکستان کو چاہیے تھا کہ وہ اس عمل میں غلط فریق کے ساتھ شمولیت کی بجائے فلسطینی عوام کے حقوق کی حمایت کرے۔

    ٹرمپ کا امن بورڈ نہ صرف فلسطینیوں کی نمائندگی سے محروم ہے بلکہ یہ بین الاقوامی قوانین اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کو بھی نظرانداز کرتا دکھائی دیتا ہے۔ پاکستان کی شمولیت نے یہ تاثر دیا ہے کہ ہمارے مفادات عالمی طاقتوں کے دباؤ کے آگے ترجیحی ہیں، نہ کہ انسانی انصاف کے۔

    تاریخ اور حقائق گواہ ہیں کہ غزہ میں بحران کی اصل جڑ سیاسی ناانصافی، غیر قانونی قبضہ، اور اجتماعی سزا ہے۔ ایسے میں پاکستان کی شمولیت نے عالمی سطح پر انصاف کے تقاضوں کی تضحیک کی ہے اور اپنی ساکھ کو نقصان پہنچایا ہے۔

    یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ کے پچھلے اقدامات،  جیسے یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنا اور فلسطینی امداد میں کٹوتی،  اس بورڈ کی غیر جانبداری پر سنجیدہ سوالات اٹھاتے ہیں۔ پاکستان کے لیے یہ ایک سنگین اخلاقی اور سیاسی غلطی ہے۔

    اصل امن اس وقت ممکن ہوگا جب عالمی برادری اور شمولیت کرنے والے ممالک غزہ کے محاصرے کے خاتمے، جنگی جرائم کے احتساب، اور فلسطینیوں کے حق خودارادیت کو تسلیم کریں۔ بصورت دیگر، یہ سب محض سیاسی تماشہ اور دھوکہ بازی کے سوا کچھ نہیں۔

    پاکستان کو اپنے موقف پر نظر ثانی کرنی ہوگی، اور اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے چارٹر اور حقیقی انصاف کے لیے فلسطینی عوام کے ساتھ کھڑا ہونا ہوگا، نہ کہ طاقتور فریقوں کے کھیل کا حصہ بننا۔