دنیا کی سب سے بڑی فلمی صنعت، یعنی انڈیا کی بالی ووڈ بھی اے آئی سے شدید متاثر

دنیا بھر میں آرٹیفیشل انٹیلی جنس نے جہاں دیگر کاروباری اور ٹیکنالوجی سیکٹرز کو متاثر کیا ہے، وہاں دنیا کی سب سے بڑی فلمی صنعت، یعنی بھارت کی بالی ووڈ کو بھی اثر انداز کیا ہے۔ بالی ووڈ فلم انڈسٹری اس وقت اے آئی کی ایک بڑی تبدیلی سے گزر رہی ہے۔ اس تبدیلی نے فلم بنانے کے طریقے، رفتار اور اخراجات سب کچھ بدل کر رکھ دیا ہے۔

یہ ٹیکنالوجی مستقبل میں فلمی دنیا کی شکل مکمل طور پر تبدیل کر سکتی ہے، لیکن اس کے ساتھ کئی خدشات بھی سامنے آ رہے ہیں۔

بھارت دنیا میں سب سے زیادہ فلمیں بنانے والا ملک ہے، جہاں ہر سال مختلف زبانوں میں سینکڑوں فلمیں تیار ہوتی ہیں۔ یہاں کے بڑے اداکار، جیسے شاہ رخ خان اور امیتابھ بچن، کروڑوں لوگوں میں بے حد مقبول ہیں۔

لیکن حالیہ برسوں میں فلمی صنعت کو کئی مسائل کا سامنا کرنا پڑا ہے، جیسے سینما گھروں میں ناظرین کی تعداد میں کمی اور آن لائن اسٹریمنگ پلیٹ فارمز کا بڑھتا ہوا اثر۔

تحقیقاتی ادارے اورمیکس میڈیا (Ormax Media) کے مطابق 2025 میں فلم دیکھنے والوں کی تعداد کم ہو کر 83 کروڑ 20 لاکھ رہ گئی، جو 2019 میں ایک ارب تین کروڑ تھی۔

گذشتہ سال باکس آفس کی کمائی 1.4 ارب ڈالر کی ریکارڈ سطح تک پہنچ گئی، لیکن وبا کے بعد سے آمدنی غیر مستحکم رہی ہے اور چند ہٹ فلموں اور مہنگے ٹکٹوں پر انحصار کرتی رہی ہے۔

کم لاگت اور وقت کی بچت

ان حالات میں فلم ساز اب بڑے پیمانے پر مصنوعی ذہانت کا سہارا لے رہے ہیں۔ اس نئی ٹیکنالوجی کی مدد سے فلمیں نہ صرف تیزی سے بن رہی ہیں بلکہ ان کی لاگت بھی بہت کم ہو گئی ہے۔ فلم انڈسٹری کے ماہرین کے مطابق، کچھ فلموں کی تیاری کا خرچ پہلے کے مقابلے میں پانچواں حصہ رہ گیا ہے، جبکہ بنانے کا وقت بھی ایک چوتھائی ہو گیا ہے۔

کلیکٹو کے اے آئی اسٹوڈیو ‘گیلری فائیو’ کے سربراہ، راہول ریگولاپتی نے خبر رساں ایجنسی روئٹرز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا: ‘اے آئی روایتی فلم سازی کے مقابلے میں، خاص طور پر دیومالائی اور فینٹسی فلموں میں، لاگت کو کم کر کے پانچویں حصے تک لے آئی ہے۔’

انہوں نے مزید کہا کہ پروڈکشن کا وقت بھی کم ہو کر ایک چوتھائی رہ گیا ہے۔ بھارت میں کم از کم ایک بڑا فلمی ادارہ اپنی پوری فلموں کی لائبریری کا جائزہ لے رہا ہے تاکہ انہیں اے آئی کے ذریعے دوبارہ ریلیز کیا جا سکے، جبکہ گوگل، مائیکروسافٹ اور اینویڈیا نے مقامی فلم سازوں کے ساتھ شراکت داری کر کے اس میدان میں پہلے ہی قدم رکھ دیا ہے۔

پرانی فلمیں نئے انداز سے پیش

مصنوعی ذہانت کا استعمال فلم سازی کے مختلف مراحل میں کیا جا رہا ہے۔ اب مکمل فلمیں کمپیوٹر کے ذریعے بنائی جا رہی ہیں، پرانی فلموں کو نئے انداز میں دوبارہ پیش کیا جا رہا ہے، اور فلموں کو کئی زبانوں میں آسانی سے ڈب کیا جا رہا ہے۔ اس طرح فلم ساز ایک ہی فلم کو مختلف علاقوں میں باآسانی پیش کر سکتے ہیں، جس سے ان کی آمدنی بڑھانے میں مدد ملتی ہے۔

خاص طور پر مذہبی اور تاریخی کہانیوں پر مبنی فلموں میں مصنوعی ذہانت کا استعمال تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ مثال کے طور پر رامائن اور مہابھارت جیسی کہانیوں پر مبنی فلمیں اور ڈرامے جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے تیار کیے جا رہے ہیں۔ ایک مشہور سیریز ‘مہابھارت’ کو آن لائن پلیٹ فارم پر کروڑوں لوگوں نے دیکھا، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس طرح کے مواد کی مانگ بہت زیادہ ہے۔

ناظرین کا ملا جلا ردعمل

تاہم، اس نئی ٹیکنالوجی کو ہر طرف سے مثبت ردعمل نہیں مل رہا۔ بہت سے ناظرین نے شکایت کی ہے کہ مصنوعی ذہانت سے بنی ویڈیوز غیر فطری لگتی ہیں۔ خاص طور پر اداکاروں کے ہونٹوں کی حرکت اور چہرے کے تاثرات بعض اوقات حقیقت کے قریب نہیں ہوتے، جس سے فلم کا معیار متاثر ہوتا ہے۔

اسی طرح ایک اور مثال میں، ایک پرانی فلم ‘رانجھنا’ کو اے آئی کی مدد سے نئے انداز میں تیار کیا گیا، مگر فلم کے اختتام کو مصنوعی ذہانت کی مدد سے بدل دیا گیا۔ اصل فلم میں ہیرو مر جاتا ہے، لیکن نئے ورژن میں اسے زندہ دکھایا گیا۔ اس تبدیلی پر فلم کے اداکار دھنوش نے سخت تنقید کی اور کہا کہ اس سے فلم کی اصل روح متاثر ہوئی ہے۔

اس کے باوجود، اس فلم کو دوبارہ ریلیز کرنے پر کافی لوگ دیکھنے آئے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ کاروباری لحاظ سے یہ طریقہ کار کامیاب ہو سکتا ہے۔

کلیکٹو آرٹسٹس نیٹ ورک نامی بالی ووڈ ٹیلنٹ ایجنسی کے ٹیک اسٹوڈیو ونگ، گیلری فائیو میں کام میں مصروف ملازمین۔ صنعتی ماہرین کا کہنا ہے کہ مصنوعی ذہانت بھارت میں اسٹوڈیوز کو پروڈکشن کے دورانیے اور اخراجات میں بڑی کٹوتی کرنے کے قابل بنا رہی ہے۔
رائٹرز / پریانشو سنگھ

اے آئی سے زبانوں کی ڈبنگ میں آسانی

فلمی صنعت میں مصنوعی ذہانت کے استعمال کا ایک اہم فائدہ زبانوں کا مسئلہ حل کرنا بھی ہے۔ بھارت میں درجنوں زبانیں بولی جاتی ہیں، جس کی وجہ سے ایک فلم کو پورے ملک میں کامیاب بنانے کے لیے اسے مختلف زبانوں میں پیش کرنا ضروری ہوتا ہے۔

اب نئی ٹیکنالوجی کے ذریعے نہ صرف آواز بلکہ چہرے کی حرکت بھی زبان کے مطابق تبدیل کی جا سکتی ہے، جس سے ڈبنگ زیادہ فطری لگتی ہے۔

یہی وجہ ہے کہ عالمی ٹیکنالوجی کمپنیاں بھی اس شعبے میں دلچسپی لے رہی ہیں۔ گوگل، مائیکروسافٹ اور اینویڈیا جیسی بڑی کمپنیاں بھارتی فلم سازوں کے ساتھ مل کر کام کر رہی ہیں۔ یہ کمپنیاں جدید سافٹ ویئر اور کمپیوٹنگ پاور فراہم کر رہی ہیں تاکہ فلم سازی کو مزید آسان اور تیز بنایا جا سکے۔

گوگل نے اگست میں بالی وڈ کے ہدایت کار کے ساتھ مل کر کام کیا تاکہ اپنی ویڈیو بنانے والی ٹیکنالوجی اور ‘فلو اے آئی’ جیسے ٹولز استعمال کرتے ہوئے پانچ حصوں پر مشتمل ایک فلم سیریز تیار کی جا سکے اور اے آئی کے ذریعے فلم سازی کا تجربہ کیا جا سکے۔

گوگل کی ٹیکنالوجی اور معاشرتی امور کی نائب صدر نے خبر رساں ادارے رائٹرز کو بتایا کہ اے آئی کی مدد سے آزاد فنکار بھی پیچیدہ مناظر بنا سکتے ہیں، جو عام طور پر کم بجٹ یا عملی مشکلات کی وجہ سے ممکن نہیں ہوتے۔ مائیکروسافٹ بھی کلیکٹو کے ساتھ مل کر کام کر رہا ہے۔

ان کے ایک عہدیدار نے رائٹرز کو بتایا کہ وہ اے آئی کی کمپیوٹنگ پاور فراہم کر رہے ہیں تاکہ ایسی شراکت داریوں کے ذریعے عالمی اسٹوری ٹیلنگ کے اگلے دور کو تشکیل دیا جا سکے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہی رفتار برقرار رہی تو مستقبل میں بھارت مصنوعی ذہانت کے ذریعے فلم سازی میں دنیا کا مرکز بن سکتا ہے۔ کچھ اندازوں کے مطابق، یہ ٹیکنالوجی میڈیا اور تفریحی صنعت کی آمدنی میں اضافہ کر سکتی ہے اور اخراجات کو بھی کم کر سکتی ہے۔

ہالی ووڈ میں اے آئی پر زیادہ پابندیاں ہیں

دوسری جانب، مغربی ممالک خاص طور پر ہالی وڈ میں مصنوعی ذہانت کے استعمال پر زیادہ پابندیاں ہیں۔ وہاں اداکاروں اور ہدایت کاروں کی تنظیمیں اس بات پر زور دیتی ہیں کہ کسی بھی اداکار کی ڈیجیٹل شکل یا کارکردگی کو بغیر اجازت تبدیل نہ کیا جائے۔ اس کا مقصد فنکاروں کے حقوق کا تحفظ کرنا ہے۔

کچھ ماہرین اور فلم ساز اس بات پر تشویش کا اظہار کر رہے ہیں کہ مصنوعی ذہانت فلمی صنعت کے لیے خطرہ بھی بن سکتی ہے۔ ان کے مطابق، اگر کمپیوٹر خود فلمیں بنانے لگیں تو انسانی تخلیقی صلاحیت متاثر ہو سکتی ہے اور فلمیں صرف ایک فارمولا بن کر رہ جائیں گی۔

تاہم، کچھ لوگ اس کو ایک موقع کے طور پر دیکھتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ مصنوعی ذہانت نئے فلم سازوں کو کم خرچ میں کام کرنے کا موقع فراہم کرے گی اور چھوٹے تخلیق کار بھی بڑے منصوبے بنا سکیں گے۔ اس طرح فلمی دنیا میں نئے خیالات اور نئے لوگ سامنے آ سکتے ہیں۔

مصنوعی ذہانت نے فلمی صنعت میں ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ ایک طرف یہ ٹیکنالوجی فلم سازی کو سستا، تیز اور آسان بنا رہی ہے، جبکہ دوسری طرف یہ سوال بھی اٹھ رہا ہے کہ کیا اس سے فن اور تخلیقی معیار متاثر ہوگا۔

مستقبل میں یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ ٹیکنالوجی اور انسانی تخلیق کے درمیان توازن کیسے قائم رکھا جائے، تاکہ فلمی صنعت ترقی بھی کرے اور اپنی اصل خوبصورتی بھی برقرار رکھ سکے۔

اسی بارے میں: