تھرپارکر کے کارونجھر سے انڈیا کے اراولی تک: پہاڑی سلسلوں کے تحفظ کے لیے تحریکیں متحرک

کارونجھر

تھرپارکر کے کارونجھر پہاڑی سلسلے کو بچانے کے لیے مقامی لوگ مسلسل اور پُرامن جدوجہد نے سرحد پار ایک نئی ماحولیاتی بیداری کو جنم دیا ہے۔ اسی جدوجہد سے حوصلہ پاکر مغربی انڈیا میں اراولی پہاڑی سلسلے کے تحفظ کے لیے ایک منظم، غیر جانبدار اور شہری بنیادوں پر قائم تحریک سرگرم ہو چکی ہے۔

اس تحریک میں نیشنل کیپیٹل ریجن سمیت انڈیا کے مختلف علاقوں کے عام شہری شامل ہیں، جن کا کسی سیاسی جماعت، مذہبی تنظیم یا کاروباری گروہ سے کوئی تعلق نہیں۔ ان کا واحد مقصد اراولی پہاڑی سلسلے کو تباہی سے بچانا ہے۔

اراولی پہاڑی سلسلہ شمال مغربی انڈیا میں تقریباً سات سو کلومیٹر تک پھیلا ہوا ہے۔ یہ گجرات سے شروع ہو کر راجستھان، ہریانہ سے گزرتا ہوا دہلی تک پہنچتا ہے۔ یہ پہاڑ اپنے راستے میں آباد بستیوں کے لیے ایک خوبصورت قدرتی پس منظر بناتے ہیں۔ اراولی کی سب سے بلند چوٹی گرو شکھر راجستھان میں واقع ماؤنٹ آبو پر ہے۔

انڈیا میں 1970 کی دہائی کی معروف چپکو تحریک اور سندھ کے صحرا میں 2019 کی گگرال کے درخت کو راکھی باندھ کر بچانے کی تاریخی ماحول دوست جدوجہد آج اراولی بچاؤ تحریک کے لیے ایک مثال اور رہنمائی کا ذریعہ ہیں۔

اراولی بچاؤ تحریک کے رہنماؤں کے مطابق اس وقت اراولی پہاڑی سلسلہ شدید ماحولیاتی دباؤ کا شکار ہے۔ پہاڑوں میں بڑے پیمانے پر کان کنی ہو رہی ہے، رہائشی اور تجارتی عمارتیں تیزی سے بن رہی ہیں، غیر قانونی قبضے بڑھ رہے ہیں اور ماحول کے تحفظ سے متعلق قوانین کو کمزور کیا جا رہا ہے۔

ان تمام سرگرمیوں کے باعث اراولی کو ایسا نقصان پہنچ رہا ہے جس کی بھرپائی ممکن نہیں۔
ماہرین ارضیات کے مطابق اراولی کی اہمیت صرف انڈیا تک محدود نہیں۔ اس کا ارضیاتی رشتہ پاکستان کے جنوب مشرقی صوبہ سندھ سے بھی جڑتا ہے۔ یہاں پائی جانے والی گرینائٹ جیسی چٹانیں اسی قدیم نظام سے منسلک سمجھی جاتی ہیں جو اراولی میں بھی پائی جاتی ہیں۔

بعض تحقیقی مطالعات کے مطابق نگرپارکر کے کارونجھر پہاڑی سلسلے کے گرینائٹ ذخائر مغربی راجستھان میں موجود قدیم آتش فشانی سلسلے کی توسیع ہیں، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ سرحد کے دونوں جانب ایک ہی ارضیاتی تاریخ کے اثرات موجود ہیں۔
سندھ کے سرکاری معدنیاتی ریکارڈ میں بھی نگرپارکر کے اس قدیم چٹانی نظام کے پھیلاؤ کی نشاندہی ملتی ہے، جو رن آف کچھ کے قریب واقع ہے۔


راجستھان میں اراولی پہاڑی سلسلے کے بلند ترین مقام گرو شکھر سے نظر آنے والا منظر

اسی طرح سکھر کے قریب روہڑی کے علاقے میں موجود چٹانی ٹیلے مکمل پہاڑی سلسلہ تو نہیں، مگر ماہرین انہیں مشرقی سرحد کے ساتھ واقع انڈیای پہاڑی علاقوں سے جوڑتے ہیں۔

روہڑی کے سماجی رہنما ستار زنگیجو کے مطابق خیرپور کے کوٹ بنگلو اور روہڑی کی چٹانیں اسی خطے سے مشابہ ہیں، اور سندھ کے شہری اراولی کے تحفظ کی شہری تحریک کی اخلاقی حمایت کرتے ہیں۔

دو ماحولیاتی طور پر متنازع انڈین منصوبے
اراولی پہاڑی سلسلے کی عمر کروڑوں سال بتائی جاتی ہے۔ یہ سلسلہ شمال مغربی انڈیا کے موسم کو متوازن رکھنے میں کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔ اراولی نہ صرف گریٹر تھر کے صحرا کو پھیلنے سے روکتی ہے بلکہ زیرِ زمین پانی کو محفوظ رکھنے اور لاکھوں افراد کو پینے اور زراعت کے لیے پانی فراہم کرنے میں بھی مدد دیتی ہے۔

حالیہ برسوں میں انڈین حکومت نے دو ایسے بڑے منصوبے شروع کیے ہیں جنہیں ماہرین ماحول دشمن قرار دے رہے ہیں۔ پہلا منصوبہ اراولی چٹانوں کی کٹائی سے متعلق ہے۔

اکتوبر 2025 میں سپریم کورٹ کے ایک فیصلے کے تحت ایک سو میٹر سے کم اونچائی والی چٹانوں کو پہاڑوں کے بچائو کے قانونی دائرے سے خارج کر دیا گیا، جس کے نتیجے میں راجستھان، ہریانہ، دہلی اور گجرات تک پھیلی اراولی چٹانوں کی بڑی مقدار قانونی تحفظ سے محروم ہو گئی ہے۔

اس فیصلے کے بعد ان چٹانوں کی کٹائی اور ہمواری کی راہ ہموار ہو گئی ہے۔
دوسرا متنازع منصوبہ راجستھان کے صحرائی خطے میں جالور اندرونی بندرگاہ کی تعمیر ہے۔ اس منصوبے کے تحت گجرات کے ساحل سے سمندری پانی کو سینکڑوں کلومیٹر اندر لا کر ایک بندرگاہ قائم کی جائے گی، تاکہ اراولی کی معدنیات کو بحری جہازوں کے ذریعے برآمد کیا جا سکے۔

ماہرین کے مطابق سمندری پانی کو اتنا اندر لانے سے زیرِ زمین پانی کے نمکین ہونے کا شدید خطرہ ہے، جس سے آبی نظام مستقل طور پر متاثر ہو سکتا ہے۔ یہ منصوبہ لونی اور جاوائی دریاؤں پر انحصار کرتا ہے، جہاں پہلے ہی آلودگی اور پانی کی قلت موجود ہے۔ بڑے پیمانے پر کھدائی سے ان دریاؤں کے قدرتی بہاؤ پر مزید دباؤ پڑنے کا خدشہ ہے۔

انڈیا کے اراولی پہاڑی سلسلے کا نقشہ: یہ سلسلہ شمال مغربی انڈیا میں تقریباً سات سو کلومیٹر تک پھیلا ہوا ہے۔

پاکستان کی سرحد سے جڑا مغربی راجستھان کا صحرائی ماحولیاتی نظام نہایت نازک سمجھا جاتا ہے۔ یہاں کی نباتات اور جنگلی حیات محدود وسائل پر قائم ہیں، اور بندرگاہ کی تعمیر اور بڑھتی ہوئی آمد و رفت سے اس توازن کے بگڑنے کا اندیشہ ہے۔

موسمیاتی تبدیلی نے صورتحال کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔ درجہ حرارت میں اضافہ، بارشوں کی غیر یقینی کیفیت اور زیرِ زمین پانی کی سطح میں مسلسل کمی ماہرین کے لیے تشویش کا باعث بن رہی ہے۔

سندھ کے صحرا اور ماحولیاتی نظام کو درپیش خطرات
بظاہر یہ منصوبے انڈیا کے اندرونی ترقیاتی اقدامات دکھائی دیتے ہیں، مگر پاکستانی ماہرین کے مطابق ان کے اثرات سرحدوں تک محدود نہیں رہیں گے۔ ماہر ماحولیات عرفان عباسی کا کہنا ہے کہ اگر جالور اندرونی بندرگاہ اور 2025 کی نئی سپریم کورٹ تعریف کے بعد اراولی کی مسلسل کٹائی جاری رہی تو اس کے ماحولیاتی اثرات پورے خطے کو اپنی لپیٹ میں لے سکتے ہیں۔

ان کے مطابق سندھ کے ساحل سے لے کر ہمالیہ تک ایک سلسلہ وار موسمی تبدیلیاں شروع ہو سکتی ہیں۔

جالور بندرگاہ کا منصوبہ رن آف کچھ اور بحیرۂ عرب سے جڑنے کی وجہ سے پاکستان کے صوبہ سندھ کے ساتھ مشترکہ سمندری اور آبی نظام کو براہِ راست متاثر کرتا ہے۔

جالور بندرگاہ کے لیے 262 کلومیٹر طویل نہر کی کھدائی سے خلیجِ کچھ میں مد و جزر کے نظام میں تبدیلی کا خدشہ ہے۔
سندھ میں پہلے ہی سجاول اور بدین اضلاع میں سمندری پانی کی دراندازی ایک سنگین مسئلہ ہے، جس نے زرخیز زمینوں کو بنجر بنا دیا ہے۔ یہ منصوبہ انڈس ڈیلٹا میں میٹھے پانی کی باقی ماندہ گزرگاہوں میں نمکین پانی کے پھیلاؤ کو مزید تیز کر سکتا ہے۔

سرحد کے قریب تعمیراتی سرگرمیوں اور بحری آمدورفت میں اضافے سے انڈس ڈیلٹا کے تمر یا مینگرووز کو بھی خطرات لاحق ہیں۔ گزشتہ چند دہائیوں میں یہ مینگرووز تقریباً 42 فیصد کم ہو چکے ہیں، حالانکہ یہی جنگلات ساحلی سندھ کو سمندری طوفانوں اور کٹاؤ سے بچانے کا سب سے مضبوط دفاع ہیں۔

اگرچہ جالور منصوبہ انڈیای دریائی نظام تک محدود ہے، تاہم رن آف کچھ کے آبی توازن میں تبدیلی سندھ کے ڈیلٹا میں نمکین اور میٹھے پانی کے نازک توازن کو متاثر کر سکتی ہے، جس سے ماہی گیری، جھینگا فارمنگ اور ساحلی معیشت کو نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے۔

ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ اگر اراولی پہاڑی سلسلہ کمزور پڑ گیا تو تھر کے ریگستان سے اٹھنے والی ریت اور گرد و غبار کی آندھیاں بغیر کسی قدرتی رکاوٹ کے ہریانہ اور قومی دارالحکومت کے خطے تک پہنچیں گی، جس سے صحرا زدگی کا عمل تیز اور ماحولیاتی بحران مزید گہرا ہو جائے گا۔

ماحولیاتی ماہر عرفان عباسی کے مطابق پاکستان کو انٹرنیشنل کورٹ آف جسٹس میں دونوں ماحول دشمن منصوبوں کے خلاف کیس داخل کرنا چاہیے۔

اسی بارے میں: