Tag: کارونجھر

  • زاویہ: دھرتی کے خاموش پاسبان: بین الاقوامی یوم چٹان پر کارونجھر، کھیرتھر اور ہنگول کی بقا کا مقدمہ

    زاویہ: دھرتی کے خاموش پاسبان: بین الاقوامی یوم چٹان پر کارونجھر، کھیرتھر اور ہنگول کی بقا کا مقدمہ

    انسان نے جب تہذیب کی پہلی اینٹ رکھی تو اس کے ہاتھ میں پتھر تھا۔ جب اس نے اپنے عقائد کو لافانی بنانا چاہا تو چٹانوں کے سینے پر کتبے تراشے۔ آج 13 جولائی 2026 کو جب دنیا بھر میں چٹانوں کا عالمی دن منایا جا رہا ہے تو یہ محض زمین کے ایک ٹھوس ارضیاتی ڈھانچے کا جشن نہیں بلکہ اس خاموش، قدیم اور غیور پاسبان کو خراج تحسین پیش کرنے کا دن ہے جس کی گود میں انسانی تمدن، لامتناہی حیاتیاتی تنوع اور کرہ ارض کا مادی توازن سانس لے رہا ہے۔

    بدقسمتی سے ہم ایک ایسے عہد میں جی رہے ہیں جہاں مادی ترقی کی اندھی ہوس نے دھرتی کے ان قدیم ماحولیاتی ستونوں کو محض ‘معدنیات کی منڈی’ سمجھ لیا ہے۔ وادی سندھ کے تاریخی جغرافیے اور اس سے متصل مکران و لسبیلہ کے ساحلی پہاڑی سلسلوں پر نظر دوڑائیں تو کارونجھر کی ابدی گرینائٹ چٹانیں، کھیرتھر کا وسیع چونے کے پتھر کا قلعہ اور ہنگول کا ماورائی منظر پیش کرنے والا چٹانی شاہکار اس وقت تاریخ کے بدترین ماحولیاتی بحران اور انسانی جارحیت کا سامنا کر رہے ہیں۔

     یہ مضمون ان چٹانی سلسلوں کی حیاتیاتی، تمدنی اور معاشی اہمیت کا احاطہ کرتے ہوئے ان کو لاحق ہولناک خطرات اور ان کے پائیدار تحفظ کے لیے ایک جامع، سائنسی اور صحافتی مقدمہ پیش کرتا ہے۔

    کسی خطے کے ماحولیاتی اور حیاتیاتی نظام میں چٹانوں کی بنیادی اہمیت

    چٹانیں کسی بھی ماحولیاتی نظام میں وہی حیثیت رکھتی ہیں جو انسانی جسم میں ہڈیوں کے ڈھانچے کی ہوتی ہے۔ یہ بے جان پتھر نہیں بلکہ حیات نو کا سرچشمہ ہیں۔

    آبی تحفظ کے قدرتی مراکز

    پہاڑی چٹانیں قدرتی طور پر آبی ذخیرہ گاہوں کا کام کرتی ہیں۔ مون سون یا بارانی بارشوں کا پانی جب ان چٹانوں پر گرتا ہے تو یہ اس پانی کو ضائع ہونے سے روکتی ہیں۔ چٹانوں کی دراڑوں اور مساموں سے رس رس کر پانی زیر زمین جاتا ہے، جو نہ صرف مٹیالے پانی کو صاف کر کے میٹھے پانی کے چشموں کو جنم دیتا ہے بلکہ پورے خطے کی زیر زمین آبی سطح کو بھی برقرار رکھتا ہے۔

    مٹی کی تخلیق اور نباتاتی بقا

    چٹانوں کے کٹاؤ اور موسمیاتی اثرات کے لاکھوں سالہ عمل سے ہی وہ زرخیز مٹی بنتی ہے جو معدنیات سے بھرپور ہوتی ہے۔ پہاڑی چٹانوں کی اوٹ میں ایسے نایاب درخت، گھاس اور جڑی بوٹیاں اگتی ہیں جو شدید ترین قحط اور موسمی سختیوں کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں اور مقامی مال مویشیوں کے لیے چارے کا واحد ذریعہ بنتی ہیں۔

    جنگلی حیات کی محفوظ پناہ گاہیں

    چٹانوں کے قدرتی غار، عمودی چوٹیاں اور گہری کھائیاں چرند پرند کے لیے قدرتی قلعے کا کام کرتی ہیں۔ عقاب اور گدھ جیسے نایاب پرندے ان چٹانی بلندیوں پر گھونسلے بناتے ہیں، جبکہ پہاڑی بکرے، چیتے اور دیگر نایاب درندے ان غاروں میں اپنی نسل بڑھاتے ہیں۔

    انسانی تمدن کی ڈھال

    تاریخ گواہ ہے کہ چٹانی سلسلوں نے ہمیشہ سیلابوں کے ہولناک رخ موڑے ہیں، صحرائی اور سرد ہواؤں کے سامنے فصیل بن کر مقامی آبادیوں کو تحفظ فراہم کیا ہے اور صدیوں سے انسانوں کو پناہ، روزگار اور ثقافتی شناخت دی ہے۔

    کارونجھر کی چٹانیں، تھر کے ماتھے کا گلابی تاج جو بارود کے ڈھیر پر ہے

    ضلع تھرپارکر کے آخری قصبے نگرپارکر میں واقع ‘کارونجھر کا پہاڑی سلسلہ’ تقریباً 19 کلومیٹر طویل ہے۔ ارضیاتی سائنس کے مطابق یہ دنیا کے قدیم ترین چٹانی سلسلوں میں سے ایک ہے، جس کی عمر 3.5 سے 5 ارب سال بتائی جاتی ہے۔ یہ سلسلہ بنیادی طور پر انتہائی قیمتی اور خوبصورت ‘گلابی گرینائٹ’ اور آتش فشانی پتھروں پر مشتمل ہے۔

    جغرافیائی، تاریخی اور مذہبی سحر

    کارونجھر محض ایک پہاڑ نہیں بلکہ تاریخ، تصوف اور قدیم مذاہب کا ایک حسین سنگم ہے۔ ہندو عقائد اور جین مت میں اسے انتہائی مقدس مانا جاتا ہے، جہاں مقامی روایات کے مطابق 108 مقدس آستان موجود ہیں۔ ان میں سب سے اہم ‘ساردھرو دھام’ ہے، جسے ہندو مت میں دریائے گنگا کے بعد اشنان کا دوسرا بڑا مرکز مانا جاتا ہے، جہاں عقیدت مند اپنے پیاروں کی خاک ارپن کرتے ہیں۔

    یہاں کارونجھر کی چٹانوں کے بیچ بہتا ہوا سدا بہار قدرتی چشمہ اور انچلیشور مہادیو مندر واقع ہے۔ پاک بھارت سرحد کے بالکل قریب واقع چوڑیو جبل کی چوٹی پر ماتا درگا کا مندر سیاحوں کے لیے ایک سحر انگیز منظر پیش کرتا ہے۔

    اس کے علاوہ یہ خطہ ماضی میں بین الاقوامی تجارتی بندرگاہ ‘پاری نگر’ کا حصہ تھا۔ یہاں پہاڑ کے دامن میں واقع ‘بھوڈیسر تالاب’ میں بارش کا پانی جمع ہوتا ہے اور سردیوں میں مہاجر پرندے ڈیرے ڈالتے ہیں۔ اسی تالاب کے قریب سفید سنگ مرمر سے بنی تاریخی ‘بھوڈیسر مسجد’ موجود ہے، جسے گجرات کے سلطان محمود بیگڑا نے 1505 میں تعمیر کروایا تھا، جو اسلامی اور مقامی فن تعمیر کا شاہکار ہے۔

    اس کے پاس ہی چودھویں صدی کے قدیم ‘جین مندر’ قائم ہیں، جن کے پتھروں پر کی گئی نقش و نگاری دیکھنے سے تعلق رکھتی ہے۔

    نایاب جنگلی حیات کا گڑھ

    تھر کے تپتے ریگستان کے بیچوں بیچ کارونجھر کا یہ سبز چٹانی سلسلہ نایاب جنگلی حیات کی آخری پناہ گاہ ہے۔ یہ دنیا کے ان چند آخری مقامات میں سے ایک ہے جہاں سفید پشت والے گدھ اور لمبی چونچ والے گدھ پائے جاتے ہیں، جو دنیا بھر میں معدومیت کے شدید خطرے سے دوچار ہیں۔

    یہاں کی وادیاں ہزاروں دیسی موروں کا مسکن ہیں، جن کا مون سون کی بارشوں میں چٹانوں پر رقص ایک سحر انگیز منظر ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ چنکارا ہرن، نیل گائے، صحرائی لومڑی، بھیڑیے، سرمئی اور کالا تیتر اور چکور ان چٹانوں کی اوٹ میں زندگی بسر کرتے ہیں۔

    کارونجھر کو لاحق خطرات: کٹاؤ اور بارود کا کھیل

    کارونجھر کا سب سے بڑا المیہ اس کا یہی قیمتی ‘گلابی گرینائٹ’ ہے۔ کان کنی مافیا اور کارپوریٹ ہوس کی نظریں اس پہاڑ کو کھا رہی ہیں۔ یہاں گرینائٹ کی غیر قانونی اور بے دریغ کٹائی کے لیے ڈائنامائٹ کے ہولناک دھماکے کیے جاتے ہیں۔ ان دھماکوں کے نتیجے میں:

    پہاڑ کا قدرتی ارضیاتی توازن بگڑ چکا ہے، جس سے 20 سے زائد بارانی اور قدرتی چشمے، جیسے اینچلیشور اور گؤمکھی، خشک ہو رہے ہیں، جو تھر کے انسانوں اور مال مویشیوں کے لیے زندگی کی علامت ہیں۔

    بارود کے دھماکوں اور مشینوں کے شور کی وجہ سے نایاب گدھ، چنکارا اور مور ان پہاڑیوں کو چھوڑ کر ہجرت کرنے پر مجبور ہیں یا مر رہے ہیں۔

    چودھویں صدی کے نایاب جین مندروں کی چٹانی بنیادیں ہل چکی ہیں اور ان قدیم عمارتوں پر دراڑیں آ گئی ہیں۔ اگرچہ سندھ ہائی کورٹ نے کان کنی پر پابندی کے تاریخی فیصلے دیے ہیں، لیکن چوری چھپے کٹاؤ کا خطرہ اب بھی برقرار ہے۔

    کھیرتھر کا پہاڑی سلسلہ، چونے کے پتھر کا قلعہ جو سیمنٹ فیکٹریوں کی نذر ہو رہا ہے

    سندھ اور بلوچستان کی جغرافیائی سرحد پر واقع کھیرتھر کا پہاڑی سلسلہ زیادہ تر رسوبی چٹانوں اور چونے کے پتھر پر مشتمل ہے۔ اس کا ایک بڑا حصہ کھیرتھر نیشنل پارک کے تحت محفوظ ہے، جو 3,000 مربع کلومیٹر سے زائد رقبے پر پھیلا ہوا پاکستان کا تیسرا بڑا نیشنل پارک ہے۔

    قبل از تاریخ کے نقوش اور سیاحتی عجائبات

    کھیرتھر تمدنی اور مہم جوئی کی تاریخ کا ایک روشن باب ہے۔ اس کی چٹانوں میں قبل از تاریخ دور کے انسانوں کی بنائی ہوئی چٹانی تصویریں اور قدیم غار موجود ہیں۔ یہاں مریدانی زرتشتیوں، پارسیوں، کے قدیم مقبرے اور آثار بھی ملتے ہیں۔

    کھیرتھر کے سائے میں ‘تائونگ’ کے مقام پر پتھروں سے بنے ہوئے چوکنڈی طرز کے سینکڑوں سال پرانے مقبرے موجود ہیں، جن پر قدیم جنگجوؤں اور روایتی زیورات کی نقش و نگاری ہے۔

    سیاحتی اعتبار سے یہاں دنیا کا سب سے بڑا قلعہ ‘رانی کوٹ’ واقع ہے، جسے ‘دیوار سندھ’ کہا جاتا ہے۔ اس کی فصیلیں کھیرتھر کی چٹانوں پر 32 کلومیٹر تک سانپ کی طرح بل کھاتی ہوئی گزرتی ہیں۔ اس کے علاوہ کھیرتھر کی سب سے اونچی چوٹی ‘گورکھ ہل اسٹیشن’ 5,688 فٹ کی بلندی پر واقع ہے، جسے ‘سندھ کا مری’ کہا جاتا ہے، جہاں کا درجہ حرارت سردیوں میں نقطہ انجماد سے بھی نیچے چلا جاتا ہے اور یہ ستارہ بینی کے لیے مشہور ہے۔

    کراچی کے قریب گڈاپ اور جامشورو کی سرحد پر کھیرتھر کی چٹانوں کے درمیان واقع پچران آبشار اور کیرچھات سیاحتی مرکز مہم جوئی کے لیے بہترین مقامات ہیں۔

    حیاتیاتی تنوع کی سلطنت

    کھیرتھر نیشنل پارک نایاب ترین جنگلی حیات کا مسکن ہے۔

    سندھ آئی بیکس

    خوبصورت مڑے ہوئے سینگوں والا یہ جنگلی بکرا کھیرتھر کی عمودی اور دشوار گزار چٹانوں پر حیرت انگیز پھرتی سے چلتا ہے اور یہی اس پارک کی سب سے بڑی پہچان ہے۔

    بلینڈ فورڈ اڑیال

    یہ جنگلی بھیڑ کی ایک انتہائی نایاب نسل ہے، جو صرف ان خشک چٹانی علاقوں میں پائی جاتی ہے۔

    نایاب جنگلی بلیاں

    حال ہی میں خودکار کیمروں کے ذریعے یہاں انتہائی پراسرار اور نایاب سیاہ گوش اور ریتلی بلی کی موجودگی ریکارڈ کی گئی ہے۔ سیاہ گوش اپنے کانوں کے اوپر بالوں کے گچھوں اور ہوا میں اچھل کر پرندوں کو پکڑنے کی غیر معمولی صلاحیت کے لیے مشہور ہے۔

    یہاں ہندوستانی بھیڑیا، لگڑ بھگا اور شہد خور بجو بھی پائے جاتے ہیں، جبکہ ناپید ہو جانے والے کالے ہرن کو دوبارہ یہاں آباد کرنے کا منصوبہ بھی جاری ہے۔

    کھیرتھر کو لاحق خطرات: تجارتی کان کنی اور ڈرلنگ

    کھیرتھر کا ماحولیاتی نظام اس وقت بارود اور بھاری مشینری کے بوٹوں تلے کچلا جا رہا ہے۔

    سیمنٹ فیکٹریوں کے لیے کان کنی

    سیمنٹ کی تیاری کے لیے کھیرتھر کے چونے کے پتھر کو بے رحمی سے کاٹا اور کرش کیا جا رہا ہے۔ پہاڑوں کے پورے کے پورے حصے غائب کیے جا رہے ہیں، جس سے چٹانوں کی ساخت کمزور ہو رہی ہے اور بڑے پیمانے پر لینڈ سلائیڈنگ ہو رہی ہے۔

    تیل و گیس کی ڈرلنگ

    نیشنل پارک کی حدود کے اندر اور اس کے اطراف میں تیل اور گیس کی تلاش کے لیے کی جانے والی ڈرلنگ اور دھماکوں نے خاموش جنگلی حیات، خصوصاً آئی بیکس اور اڑیال، کو شدید متاثر کیا ہے، جس سے ان کی افزائش نسل بری طرح متاثر ہو رہی ہے۔

    بارانی ندیوں کی تباہی

    چٹانوں کی کٹائی سے گاج ندی جیسے بارانی ندی نالوں کا قدرتی نظام تباہ ہو رہا ہے، جو دادو اور جامشورو کے اضلاع کو سیراب کرتے ہیں۔ اس کے نتیجے میں زیر زمین پانی تیزی سے خشک ہو رہا ہے۔

    ہنگول نیشنل پارک کی چٹانیں، خلائی منظرنامہ اور انسانی مداخلت کی دیمک

    اگرچہ ہنگول نیشنل پارک کھیرتھر کا حصہ نہیں بلکہ بلوچستان کے مکران ساحلی پہاڑی سلسلے، ضلع لسبیلہ، آواران اور گوادر، میں واقع ہے، لیکن یہ تقریباً 6,190 مربع کلومیٹر رقبے پر پھیلا ہوا پاکستان کا سب سے بڑا نیشنل پارک ہے۔

    اپنی خلائی منظرنامے سے مشابہ چٹانی ساخت کے باعث یہ دنیا بھر میں ایک منفرد ارضیاتی عجوبہ سمجھا جاتا ہے۔ یہاں لاکھوں سال تک سمندری ہواؤں اور پانی کے کٹاؤ نے چٹانوں کو حیرت انگیز قدرتی مجسموں کی شکل دے دی ہے۔

    ہنگول کی چٹانی کائنات

    مذہبی تقدس اور بین المذاہب ہم آہنگی: دریائے ہنگول کے کنارے پہاڑوں کی غار نما چٹانوں میں واقع ‘ہنگلاج ماتا مندر’ ہندو مت کے مقدس ترین مقامات، 51 شکتی پیٹھوں، میں شمار ہوتا ہے۔ عقیدے کے مطابق یہاں دیوی ستی کا ماتھا گرا تھا۔ ہر سال اپریل میں یہاں ہنگلاج یاترا ہوتی ہے، جہاں لاکھوں یاتری جمع ہوتے ہیں۔

    وہ یہاں موجود 300 فٹ اونچے مٹی کے متحرک آتش فشاں ‘چندر گپ’ پر چڑھ کر پوجا کرتے ہیں۔ اس مقام کی سب سے بڑی خوبصورتی یہ ہے کہ مقامی مسلم برادری اسے ‘نانی اماں کا آستانہ’ کہتی ہے اور صدیوں سے مسلمان ہی اس مندر کے محافظ ہیں۔

    سندھ کے عظیم صوفی شاعر شاہ عبداللطیف بھٹائی نے بھی یہاں کا روحانی سفر کیا اور اپنے کلام ‘شاہ جو رسالو’ کے ‘سر رپ’ اور ‘سر رامکلی’ میں ان جوگیوں کو خراج تحسین پیش کیا جو نانی کے آستانے کی طرف مائل سفر تھے۔ تاریخی طور پر 325 قبل مسیح میں سکندر اعظم کی فوج کا ایک بڑا حصہ بھی اسی چٹانی مکران ساحلی راستے سے گزرا تھا۔

    قدرت کے تراشے ہوئے شاہکار اور نایاب حیات

    مکران ساحلی شاہراہ کے کنارے کھڑی چٹانیں دیکھ کر لگتا ہے کہ کسی نے پتھروں کا شہر آباد کر رکھا ہے۔ یہاں ‘امید کی شہزادی’ نامی چٹانی مجسمہ موجود ہے، جس کا یہ نام ہالی ووڈ اداکارہ انجلینا جولی نے رکھا تھا، اور ہو بہو مصر کے مجسمے جیسا ‘بلوچستان کا ابوالہول’ بھی موجود ہے۔

    یہاں کی چٹانی کھائیاں امریکہ کے گرینڈ کینین کی یاد دلاتی ہیں، اسی مناسبت سے انہیں ‘پاکستان کا گرینڈ کینین’ کہا جاتا ہے، جہاں نیلے سمندر کا ساحل کنڈ ملیر ان چٹانوں سے آ ملتا ہے۔ یہ چٹانیں آئی بیکس، چیتوں، ہنگول ندی کے نایاب اود بلاؤ اور مگرمچھوں کی محفوظ پناہ گاہ ہیں۔

    ہنگول کو لاحق خطرات: بے ہنگم سیاحت کی دیمک: اگرچہ ہنگول میں کارونجھر کی طرح کان کنی اس سطح پر نہیں ہے، لیکن یہاں کا بحران مختلف نوعیت کا ہے۔

    پلاسٹک اور ماحولیاتی آلودگی

    کنڈ ملیر بیچ اور مکران ساحلی شاہراہ پر آنے والے لاکھوں بے ہنگم سیاحوں نے ان نازک مٹیالی چٹانوں اور وادیوں کو کچرے دان میں تبدیل کر دیا ہے۔ پلاسٹک کے کچرے کی وجہ سے نایاب جنگلی جانور اور سمندری حیات موت کے منہ میں جا رہی ہے۔

    انسانی مداخلت اور ساخت کو نقصان

    تعمیراتی سرگرمیوں، تجارتی دکانوں اور ساحلی شاہراہ کے اطراف بڑھتی ہوئی انسانی مداخلت کی وجہ سے ہوا اور مٹی سے بنے یہ نازک چٹانی شاہکار، جیسے ‘بلوچستان کا ابوالہول’ اور ‘امید کی شہزادی’، اپنی اصل ارضیاتی ساخت کھو رہے ہیں، جبکہ لوگ ان پر چڑھ کر ان کی مٹیالی تہوں کو بھی نقصان پہنچا رہے ہیں۔

    ان چٹانی اثاثوں کی حفاظت کیسے کی جائے؟

    ہم اپنے ان جغرافیائی اور تمدنی تاجوں کو یوں مٹنے نہیں دے سکتے۔ ان چٹانوں کا تحفظ صرف حکومت کی نہیں بلکہ پوری قوم کی ذمہ داری ہے۔ اس ضمن میں درج ذیل فوری اور پائیدار اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے۔

    کارونجھر کے لیے: عالمی ورثے کا درجہ اور کان کنی کا مستقل خاتمہ

    کارونجھر کے مقامی لوگ سچ کہتے ہیں کہ ‘کارونجھر سونا دیتا ہے’۔ ان کا سونا یہ گرینائٹ نہیں بلکہ وہ پانی اور جڑی بوٹیاں ہیں جو انہیں تھر میں زندہ رکھتی ہیں۔

    قانونی تحفظ

    حکومت سندھ کو چاہیے کہ سندھ ہائی کورٹ کے فیصلوں کی روشنی میں کارونجھر پر کان کنی کو ہمیشہ کے لیے ناقابل ضمانت جرم قرار دے۔

    عالمی ورثے کا درجہ

    کارونجھر کو اس کے قدیم جین مندروں، گرینائٹ چٹانوں اور نایاب گدھوں کی وجہ سے عالمی حیاتیاتی اور ثقافتی ورثہ قرار دلوانے کے لیے سندھ حکومت وفاقی حکومت کے ذریعے فوری طور پر مقدمہ تیار کر کے بین الاقوامی سطح پر پیش کرے۔

    کھیرتھر کے لیے: کان کنی سے پاک علاقہ اور نیشنل پارک قوانین کا نفاذ

    سیمنٹ فیکٹریوں کی منتقلی

    کھیرتھر نیشنل پارک کی حدود سے کم از کم 50 کلومیٹر کے دائرے تک چونے کے پتھر کی کٹائی پر مکمل پابندی عائد کی جائے اور سیمنٹ فیکٹریوں کو متبادل غیر حساس مقامات پر منتقل کیا جائے۔

    ماحول دوست سیاحت

    گورکھ ہل اور رانی کوٹ جیسے مقامات پر تجارتی ہوٹلنگ کے بجائے خیمہ بستیوں اور ماحول دوست سیاحت کو فروغ دیا جائے تاکہ آئی بیکس اور نایاب جنگلی بلیوں، خصوصاً سیاہ گوش، کا مسکن محفوظ رہے۔

    ہنگول کے لیے: منظم سیاحت اور پلاسٹک پر پابندی

    پلاسٹک سے پاک علاقہ: ہنگول نیشنل پارک اور کنڈ ملیر بیچ کی حدود میں ہر قسم کے غیر تحلیل ہونے والے پلاسٹک کے داخلے پر سخت جرمانے عائد کیے جائیں۔ پارک کے داخلی راستوں پر گاڑیوں کی تلاشی کا مؤثر نظام قائم کیا جائے۔

    حفاظتی باڑ اور نگرانی: ‘بلوچستان کے ابوالہول’ اور ‘امید کی شہزادی’ جیسی چٹانی ساختوں کے گرد حفاظتی باڑ لگائی جائے تاکہ سیاح ان پر چڑھ کر انہیں نقصان نہ پہنچا سکیں، جبکہ دور سے مشاہدے کے لیے نگرانی کے ٹاور قائم کیے جائیں۔

    مقامی آبادی کی شمولیت

    کسی بھی پارک یا چٹان کا تحفظ اس وقت تک ممکن نہیں جب تک وہاں کے مقامی لوگوں کو اس کا حصہ نہ بنایا جائے۔ تھر کے نگرپارکر، کھیرتھر کے گڈاپ اور جامشورو، اور ہنگول کے لاسی اور بلوچ باشندوں کو جنگلی حیات کے محافظوں کے طور پر بھرتی کیا جائے، جبکہ سیاحت سے حاصل ہونے والی آمدنی کا ایک مخصوص حصہ مقامی اسکولوں، اسپتالوں اور پانی کے منصوبوں پر خرچ کیا جائے تاکہ وہ خود ان چٹانوں کے محافظ بنیں۔

    چٹانیں بولتی نہیں ہیں، لیکن جب وہ ٹوٹتی ہیں تو ان کی خاموشی پورے خطے کو قبرستان بنا دیتی ہے۔ اگر کارونجھر کا گرینائٹ ختم ہو گیا تو تھر پیاس سے مر جائے گا۔ اگر کھیرتھر کا چونا پتھر کٹ گیا تو سندھ کی جنگلی بکری تاریخ کی کتابوں میں گم ہو جائے گی، اور اگر ہنگول کی چٹانیں مٹی کا ڈھیر بن گئیں تو ہم قدرت کے ایک عظیم شاہکار سے محروم ہو جائیں گے۔

    چٹانوں کے عالمی دن پر ہمیں یہ عہد کرنا ہوگا کہ ہم ترقی کے نام پر اپنے ان تاریخی اور ماحولیاتی ستونوں کا سودا نہیں ہونے دیں گے۔ یہ پہاڑ ہماری زمین کا تاج ہیں، اور تاج بیچے نہیں جاتے، ان کی حفاظت کی جاتی ہے۔

  • نگرپارکر: کارونجھر کی آغوش میں بسا ایک تاریخی شہر

    نگرپارکر: کارونجھر کی آغوش میں بسا ایک تاریخی شہر

    پارکر کے میدانوں پر، کارونجھر کی گود میں نگرپارکر کا خوبصورت شہر آباد ہے۔ جس کے دونوں اطراف سے کارونجھر (پہاڑ) سے بہہ کر آنے والی برساتی ندیوں کا گزر ہوتا ہے۔ شہر کے وسط کی خوبصورتی مٹی کے نلی دار کھپریلوں (نرین) سے بنی چھتوں والی پرانی بازار ہے، جسے ’پالن بازار‘ کہا جاتا ہے۔

    شہر میں داخل ہوتے ہی ایک قدیم جین مندر استقبال کرتا ہے، تو دوسرا کارونجھر سے ہم کلام ہونے کے لیے بازار سے باہر نکلتے وقت الوداع کہنے کے لیے تاریخ کا اونچا سر اٹھائے کھڑا ہے۔ بازار سے ایک راستہ کارونجھر میں موجود ’ساردھڑے دھام‘ کی طرف جاتا ہے، تو دوسرا راستہ گھڑٹیاری کے گھاٹ سے ہوتا ہوا کاسبو کی طرف نکلتا ہے۔ ساردھڑے جانے والے راستے پر چندن گڑھ کے آثار ہیں، ان آثاروں کے سامنے پنگل سوامی کا مندر ہے جس میں سورج کی پوجا کی جاتی تھی۔

    اس شہر میں کھپریلوں والا پرانا گھر ہو یا کوئی عام عمارت، یہاں کے اصل رہائشیوں کا یہ رواج رہا ہے کہ وہ گھر میں دیے (چراغ) کے لیے ایک خوبصورت طاقچہ (آلا) ضرور بنواتے ہیں۔

    جب بادل گھیر کر آتے ہیں اور پارکر کے میدانوں پر بارش کا سماں باندھتے ہیں، تب کارونجھر کی حسیناؤں کے دل میں جاگی ہوئی آرزو ایک لوک دوہے کا روپ اختیار کر لیتی ہے کہ:

    گهر نيگڙو، ڏيئو سچنت، آپ سميڻو مانرو ڪنت،
    پڇي ڀل وسو ميهولا، هون ستوڙي ڪران نچنت،

    (ترجمہ: خوبصورت و مضبوط گھر ہو، اس میں روشن چراغ جل رہا ہو، اور ساتھ میں میری ہی عمر اور ہم خیال میرا شوہر ہو، اس کے بعد بھلے بارشیں برستی رہیں، میں بے فکر ہو کر سکون کی نیند سوؤں گی)

    اسی کیفیت اور منظرنامے پر حضرت شاہ عبداللطیف بھٹائی رحمة اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ:

    اڱڻ تازي، ٻَهَر ڪُنڊيون، پکا پٽ سُنهَن،
    سُرهي سيج، پاسي پرين، مر پيا مينهن وسن،
    اسان ۽ پِرينِ، شال هُون برابر ڏينهڙا۔

    (شاہ جو رسالو؛ کلیان آڈوانی، ص 393)

    (صحن میں اصیل گھوڑے بندھے ہوں، باہر دودھیل بھینسیں ہوں، زمین پر خوبصورت جھونپڑیاں بھلی لگ رہی ہوں، مہکتی ہوئی سیج ہو اور پہلو میں محبوب ہو، پھر بھلے موسلا دھار بارشیں برسیں؛ خدا کرے کہ ہمارے اور محبوب کے یہ (وصل کے) دن ہمیشہ قائم رہیں)

  • نگرپارکر: کارونجھر کی آغوش میں بسا ایک تاریخی شہر

    نگرپارکر: کارونجھر کی آغوش میں بسا ایک تاریخی شہر

    پارکر کے میدانوں پر، کارونجھر کی گود میں نگرپارکر کا خوبصورت شہر آباد ہے، جس کے دونوں اطراف سے کارونجھر (پہاڑ) سے بہہ کر آنے والی برساتی ندیوں کا گزر ہوتا ہے۔ شہر کے وسط کی خوبصورتی مٹی کے نلی دار کھپریلوں (نریں) سے بنی چھتوں والی پرانی بازار ہے، جسے ’پالن بازار‘ کہا جاتا ہے۔

    شہر میں داخل ہوتے ہی ایک قدیم جین مندر استقبال کرتا ہے، تو دوسرا کارونجھر سے ہم کلام ہونے کے لیے بازار سے باہر نکلتے وقت الوداع کہنے کے لیے تاریخ کا اونچا سر اٹھائے کھڑا ہے۔ بازار سے ایک راستہ کارونجھر میں موجود ’ساردھڑو دھام‘ کی طرف جاتا ہے، تو دوسرا راستہ گھڑٹیاری کے گھاٹ سے ہوتا ہوا کاسبو کی طرف نکلتا ہے۔ ساردھڑو جانے والے راستے پر چندن گڑھ کے آثار ہیں، ان آثار کے سامنے پنگل سوامی کا مندر ہے، جس میں سورج کی پوجا کی جاتی تھی۔

    اس شہر میں کھپریلوں والا پرانا گھر ہو یا کوئی عام عمارت، یہاں کے اصل رہائشیوں کا یہ رواج رہا ہے کہ وہ گھر میں دیے (چراغ) کے لیے ایک خوبصورت طاقچہ (آلا) ضرور بنواتے ہیں۔

    جب بادل گھیر کر آتے ہیں اور پارکر کے میدانوں پر بارش کا سماں باندھتے ہیں، تب کارونجھر کی حسیناؤں کے دل میں جاگی ہوئی آرزو ایک لوک دوہے کا روپ اختیار کر لیتی ہے کہ:

    گهر نيگڙو، ڏيئو سچنت، آپ سميڻو مانرو ڪنت،
    پڇي ڀل وسو ميهولا، هون ستوڙي ڪران نچنت،

    (ترجمہ: خوبصورت و مضبوط گھر ہو، اس میں روشن چراغ جل رہا ہو، اور ساتھ میں میری ہی عمر اور ہم خیال میرا شوہر ہو، اس کے بعد بھلے بارشیں برستی رہیں، میں بے فکر ہو کر سکون کی نیند سوؤں گی)

    اسی کیفیت اور منظرنامے پر حضرت شاہ عبداللطیف بھٹائی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ:

    اڱڻ تازي، ٻَهَر ڪُنڊيون، پکا پٽ سُنهَن،
    سُرهي سيج، پاسي پرين، مر پيا مينهن وسن،
    اسان ۽ پِرينِ، شال هُون برابر ڏينهڙا۔

    (شاہ جو رسالو؛ کلیان آڈوانی، ص 393)

    (صحن میں اصیل گھوڑے بندھے ہوں، باہر دودھیل بھینسیں ہوں، زمین پر خوبصورت جھونپڑیاں بھلی لگ رہی ہوں، مہکتی ہوئی سیج ہو اور پہلو میں محبوب ہو، پھر بھلے موسلا دھار بارشیں برسیں؛ خدا کرے کہ ہمارے اور محبوب کے یہ (وصل کے) دن ہمیشہ قائم رہیں۔)

  • زاویہ: کارونجھر، لاکھوں سال پرانی ایک تہذیب جو پتھر بن گئی

    زاویہ: کارونجھر، لاکھوں سال پرانی ایک تہذیب جو پتھر بن گئی

    تم انہیں محض گرینائٹ کے پتھر جان کر کاٹنا چاہتے ہو، ہم انہیں مقدس تاریخ کو اپنے اندر سموئے وہ مقدس چٹانیں سمجھتے ہیں، جن کا ایک ایک عکس اپنی کہانی خود بیان کرتا ہے۔ کارونجھر محض ایک پہاڑ نہیں بلکہ ایک ایسی لازوال تہذیب ہے جو پتھر بن گئی ہو۔

    جب نگرپارکر کے نوجوان فوٹوگرافر دلیپ پرمار نے اپنی آنکھ اور کیمرے کے لینز کو کارونجھر کے چھپے ہوئے حسن پر مرکوز کیا تو دنیا دنگ رہ گئی۔ کارونجھر کی چوٹی کی طرف بہنے والے پانی اور چٹان کے ملاپ کا عکس جب بڑا کر کے دیکھا جائے تو ایک واضح چہرہ یا شکل ابھرتی ہے، ایک ایسا پراسرار چہرہ جو موبائل کو سیدھا رکھنے پر واضح ہوتا ہے اور آڑا کرنے پر صرف پتھر اور پانی کا سنگم دکھائی دیتا ہے۔

    یہ اس دھرتی کا جادو ہے جو باریک تصویربندی کے ذریعے اب عالمی سطح پر وائرل ہو چکا ہے۔

    ماہرین ارضیات کے مطابق کارونجھر کا یہ سلسلہ تقریباً ڈھائی سے پانچ ارب سال پرانا ہے، یعنی یہ اس دور کی چٹانیں ہیں جب زمین کی اوپری سطح تشکیل پا رہی تھی۔ اربوں سال کے موسمیاتی اثرات، بارشوں اور ہوا کے دباؤ نے ان چٹانوں کو ایسی حیرت انگیز شکلیں بخشی ہیں جو انسانی فہم کو دنگ کر دیتی ہیں۔

    یہاں دلیپ پرمار کی دریافت کردہ اونٹ نما چٹان موجود ہے جو صحرا میں بیٹھے اونٹ کا گمان پیدا کرتی ہے، مگرمچھ نما چٹان ہے جس کی کھردری سطح مگرمچھ کی پشت جیسی ہے، اور عقاب، پرندوں اور انسانی کھوپڑی جیسی پراسرار شکلیں ہیں جو شام کے سائے گہرے ہوتے ہی داستان گوئی کرتی محسوس ہوتی ہیں۔

    یہ پہاڑی سلسلہ قدیم دور کی ایک عظیم تجارتی، تمدنی اور مذہبی سلطنت کا گواہ ہے۔ ماضی میں، خصوصاً 1226 تک، یہ خطہ جین مت کے ماننے والوں کا مضبوط قلعہ تھا، جہاں آج بھی تاج محل سے پرانا گوری مندر اور اس کے گنبدوں پر بنی قدیم تصاویر موجود ہیں۔ اسی پہاڑ کے دامن میں جین مندروں کے ساتھ سفید سنگ مرمر کی بھوڈیسر مسجد، جو 1505 میں سلطان محمود شاہ بیگڑا نے تعمیر کروائی، واقع ہے، جو یہاں کے مذہبی ہم آہنگی کے شاندار ماضی کو ظاہر کرتی ہے۔

    اس کے ساتھ ساتھ سردھڑو دھام، انچل ایشور اور چوڑیو مندر جیسے ہندو مت کے مقدس آستانے بھی اسی دامن میں موجود ہیں۔ مون سون کے آتے ہی کارونجھر کا رنگ بدل جاتا ہے اور اس سے گوردھرو اور بھٹیانی جیسی بیس سے زائد بارانی ندیاں اور چشمے پھوٹ پڑتے ہیں۔

    مقامی لوگ کہتے ہیں کہ ‘کارونجھر روزانہ سو تولے سونا دیتا ہے’ کیونکہ یہ نایاب جڑی بوٹیوں، جنگلی موروں، چنکارا ہرنوں اور قیمتی سرخ گرینائٹ کا امین ہے۔ یہ وہی دھرتی ہے جہاں انگریز استعمار کے خلاف یہاں کے سچے سپوت روپلو کولہی نے کارونجھر کی چٹانوں کو اپنی پناہ گاہ بنا کر جنگ لڑی اور اپنی جان کا نذرانہ پیش کیا۔

    بدقسمتی سے حالیہ برسوں میں کارونجھر کے ان تیرتے اور متوازن پتھروں کو نجی کمپنیوں نے کان کنی اور دھماکوں کے ذریعے نقصان پہنچایا، لیکن سندھ کے باشعور عوام اور عدلیہ نے بروقت اقدام کرتے ہوئے یہاں ہر قسم کی کان کنی پر مستقل پابندی عائد کی اور اسے جنگلی حیات کی محفوظ پناہ گاہ قرار دیا۔ کارونجھر کو بچانا دراصل سندھ کی تاریخ اور میراث کو بچانا ہے۔

  • تھرپارکر کے کارونجھر سے انڈیا کے اراولی تک: پہاڑی سلسلوں کے تحفظ کے لیے تحریکیں متحرک

    تھرپارکر کے کارونجھر سے انڈیا کے اراولی تک: پہاڑی سلسلوں کے تحفظ کے لیے تحریکیں متحرک

    تھرپارکر کے کارونجھر پہاڑی سلسلے کو بچانے کے لیے مقامی لوگ مسلسل اور پُرامن جدوجہد نے سرحد پار ایک نئی ماحولیاتی بیداری کو جنم دیا ہے۔ اسی جدوجہد سے حوصلہ پاکر مغربی انڈیا میں اراولی پہاڑی سلسلے کے تحفظ کے لیے ایک منظم، غیر جانبدار اور شہری بنیادوں پر قائم تحریک سرگرم ہو چکی ہے۔

    اس تحریک میں نیشنل کیپیٹل ریجن سمیت انڈیا کے مختلف علاقوں کے عام شہری شامل ہیں، جن کا کسی سیاسی جماعت، مذہبی تنظیم یا کاروباری گروہ سے کوئی تعلق نہیں۔ ان کا واحد مقصد اراولی پہاڑی سلسلے کو تباہی سے بچانا ہے۔

    اراولی پہاڑی سلسلہ شمال مغربی انڈیا میں تقریباً سات سو کلومیٹر تک پھیلا ہوا ہے۔ یہ گجرات سے شروع ہو کر راجستھان، ہریانہ سے گزرتا ہوا دہلی تک پہنچتا ہے۔ یہ پہاڑ اپنے راستے میں آباد بستیوں کے لیے ایک خوبصورت قدرتی پس منظر بناتے ہیں۔ اراولی کی سب سے بلند چوٹی گرو شکھر راجستھان میں واقع ماؤنٹ آبو پر ہے۔

    انڈیا میں 1970 کی دہائی کی معروف چپکو تحریک اور سندھ کے صحرا میں 2019 کی گگرال کے درخت کو راکھی باندھ کر بچانے کی تاریخی ماحول دوست جدوجہد آج اراولی بچاؤ تحریک کے لیے ایک مثال اور رہنمائی کا ذریعہ ہیں۔

    اراولی بچاؤ تحریک کے رہنماؤں کے مطابق اس وقت اراولی پہاڑی سلسلہ شدید ماحولیاتی دباؤ کا شکار ہے۔ پہاڑوں میں بڑے پیمانے پر کان کنی ہو رہی ہے، رہائشی اور تجارتی عمارتیں تیزی سے بن رہی ہیں، غیر قانونی قبضے بڑھ رہے ہیں اور ماحول کے تحفظ سے متعلق قوانین کو کمزور کیا جا رہا ہے۔

    ان تمام سرگرمیوں کے باعث اراولی کو ایسا نقصان پہنچ رہا ہے جس کی بھرپائی ممکن نہیں۔
    ماہرین ارضیات کے مطابق اراولی کی اہمیت صرف انڈیا تک محدود نہیں۔ اس کا ارضیاتی رشتہ پاکستان کے جنوب مشرقی صوبہ سندھ سے بھی جڑتا ہے۔ یہاں پائی جانے والی گرینائٹ جیسی چٹانیں اسی قدیم نظام سے منسلک سمجھی جاتی ہیں جو اراولی میں بھی پائی جاتی ہیں۔

    بعض تحقیقی مطالعات کے مطابق نگرپارکر کے کارونجھر پہاڑی سلسلے کے گرینائٹ ذخائر مغربی راجستھان میں موجود قدیم آتش فشانی سلسلے کی توسیع ہیں، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ سرحد کے دونوں جانب ایک ہی ارضیاتی تاریخ کے اثرات موجود ہیں۔
    سندھ کے سرکاری معدنیاتی ریکارڈ میں بھی نگرپارکر کے اس قدیم چٹانی نظام کے پھیلاؤ کی نشاندہی ملتی ہے، جو رن آف کچھ کے قریب واقع ہے۔


    راجستھان میں اراولی پہاڑی سلسلے کے بلند ترین مقام گرو شکھر سے نظر آنے والا منظر

    اسی طرح سکھر کے قریب روہڑی کے علاقے میں موجود چٹانی ٹیلے مکمل پہاڑی سلسلہ تو نہیں، مگر ماہرین انہیں مشرقی سرحد کے ساتھ واقع انڈیای پہاڑی علاقوں سے جوڑتے ہیں۔

    روہڑی کے سماجی رہنما ستار زنگیجو کے مطابق خیرپور کے کوٹ بنگلو اور روہڑی کی چٹانیں اسی خطے سے مشابہ ہیں، اور سندھ کے شہری اراولی کے تحفظ کی شہری تحریک کی اخلاقی حمایت کرتے ہیں۔

    دو ماحولیاتی طور پر متنازع انڈین منصوبے
    اراولی پہاڑی سلسلے کی عمر کروڑوں سال بتائی جاتی ہے۔ یہ سلسلہ شمال مغربی انڈیا کے موسم کو متوازن رکھنے میں کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔ اراولی نہ صرف گریٹر تھر کے صحرا کو پھیلنے سے روکتی ہے بلکہ زیرِ زمین پانی کو محفوظ رکھنے اور لاکھوں افراد کو پینے اور زراعت کے لیے پانی فراہم کرنے میں بھی مدد دیتی ہے۔

    حالیہ برسوں میں انڈین حکومت نے دو ایسے بڑے منصوبے شروع کیے ہیں جنہیں ماہرین ماحول دشمن قرار دے رہے ہیں۔ پہلا منصوبہ اراولی چٹانوں کی کٹائی سے متعلق ہے۔

    اکتوبر 2025 میں سپریم کورٹ کے ایک فیصلے کے تحت ایک سو میٹر سے کم اونچائی والی چٹانوں کو پہاڑوں کے بچائو کے قانونی دائرے سے خارج کر دیا گیا، جس کے نتیجے میں راجستھان، ہریانہ، دہلی اور گجرات تک پھیلی اراولی چٹانوں کی بڑی مقدار قانونی تحفظ سے محروم ہو گئی ہے۔

    اس فیصلے کے بعد ان چٹانوں کی کٹائی اور ہمواری کی راہ ہموار ہو گئی ہے۔
    دوسرا متنازع منصوبہ راجستھان کے صحرائی خطے میں جالور اندرونی بندرگاہ کی تعمیر ہے۔ اس منصوبے کے تحت گجرات کے ساحل سے سمندری پانی کو سینکڑوں کلومیٹر اندر لا کر ایک بندرگاہ قائم کی جائے گی، تاکہ اراولی کی معدنیات کو بحری جہازوں کے ذریعے برآمد کیا جا سکے۔

    ماہرین کے مطابق سمندری پانی کو اتنا اندر لانے سے زیرِ زمین پانی کے نمکین ہونے کا شدید خطرہ ہے، جس سے آبی نظام مستقل طور پر متاثر ہو سکتا ہے۔ یہ منصوبہ لونی اور جاوائی دریاؤں پر انحصار کرتا ہے، جہاں پہلے ہی آلودگی اور پانی کی قلت موجود ہے۔ بڑے پیمانے پر کھدائی سے ان دریاؤں کے قدرتی بہاؤ پر مزید دباؤ پڑنے کا خدشہ ہے۔

    انڈیا کے اراولی پہاڑی سلسلے کا نقشہ: یہ سلسلہ شمال مغربی انڈیا میں تقریباً سات سو کلومیٹر تک پھیلا ہوا ہے۔

    پاکستان کی سرحد سے جڑا مغربی راجستھان کا صحرائی ماحولیاتی نظام نہایت نازک سمجھا جاتا ہے۔ یہاں کی نباتات اور جنگلی حیات محدود وسائل پر قائم ہیں، اور بندرگاہ کی تعمیر اور بڑھتی ہوئی آمد و رفت سے اس توازن کے بگڑنے کا اندیشہ ہے۔

    موسمیاتی تبدیلی نے صورتحال کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔ درجہ حرارت میں اضافہ، بارشوں کی غیر یقینی کیفیت اور زیرِ زمین پانی کی سطح میں مسلسل کمی ماہرین کے لیے تشویش کا باعث بن رہی ہے۔

    سندھ کے صحرا اور ماحولیاتی نظام کو درپیش خطرات
    بظاہر یہ منصوبے انڈیا کے اندرونی ترقیاتی اقدامات دکھائی دیتے ہیں، مگر پاکستانی ماہرین کے مطابق ان کے اثرات سرحدوں تک محدود نہیں رہیں گے۔ ماہر ماحولیات عرفان عباسی کا کہنا ہے کہ اگر جالور اندرونی بندرگاہ اور 2025 کی نئی سپریم کورٹ تعریف کے بعد اراولی کی مسلسل کٹائی جاری رہی تو اس کے ماحولیاتی اثرات پورے خطے کو اپنی لپیٹ میں لے سکتے ہیں۔

    ان کے مطابق سندھ کے ساحل سے لے کر ہمالیہ تک ایک سلسلہ وار موسمی تبدیلیاں شروع ہو سکتی ہیں۔

    جالور بندرگاہ کا منصوبہ رن آف کچھ اور بحیرۂ عرب سے جڑنے کی وجہ سے پاکستان کے صوبہ سندھ کے ساتھ مشترکہ سمندری اور آبی نظام کو براہِ راست متاثر کرتا ہے۔

    جالور بندرگاہ کے لیے 262 کلومیٹر طویل نہر کی کھدائی سے خلیجِ کچھ میں مد و جزر کے نظام میں تبدیلی کا خدشہ ہے۔
    سندھ میں پہلے ہی سجاول اور بدین اضلاع میں سمندری پانی کی دراندازی ایک سنگین مسئلہ ہے، جس نے زرخیز زمینوں کو بنجر بنا دیا ہے۔ یہ منصوبہ انڈس ڈیلٹا میں میٹھے پانی کی باقی ماندہ گزرگاہوں میں نمکین پانی کے پھیلاؤ کو مزید تیز کر سکتا ہے۔

    سرحد کے قریب تعمیراتی سرگرمیوں اور بحری آمدورفت میں اضافے سے انڈس ڈیلٹا کے تمر یا مینگرووز کو بھی خطرات لاحق ہیں۔ گزشتہ چند دہائیوں میں یہ مینگرووز تقریباً 42 فیصد کم ہو چکے ہیں، حالانکہ یہی جنگلات ساحلی سندھ کو سمندری طوفانوں اور کٹاؤ سے بچانے کا سب سے مضبوط دفاع ہیں۔

    اگرچہ جالور منصوبہ انڈیای دریائی نظام تک محدود ہے، تاہم رن آف کچھ کے آبی توازن میں تبدیلی سندھ کے ڈیلٹا میں نمکین اور میٹھے پانی کے نازک توازن کو متاثر کر سکتی ہے، جس سے ماہی گیری، جھینگا فارمنگ اور ساحلی معیشت کو نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے۔

    ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ اگر اراولی پہاڑی سلسلہ کمزور پڑ گیا تو تھر کے ریگستان سے اٹھنے والی ریت اور گرد و غبار کی آندھیاں بغیر کسی قدرتی رکاوٹ کے ہریانہ اور قومی دارالحکومت کے خطے تک پہنچیں گی، جس سے صحرا زدگی کا عمل تیز اور ماحولیاتی بحران مزید گہرا ہو جائے گا۔

    ماحولیاتی ماہر عرفان عباسی کے مطابق پاکستان کو انٹرنیشنل کورٹ آف جسٹس میں دونوں ماحول دشمن منصوبوں کے خلاف کیس داخل کرنا چاہیے۔