انسان نے جب تہذیب کی پہلی اینٹ رکھی تو اس کے ہاتھ میں پتھر تھا۔ جب اس نے اپنے عقائد کو لافانی بنانا چاہا تو چٹانوں کے سینے پر کتبے تراشے۔ آج 13 جولائی 2026 کو جب دنیا بھر میں چٹانوں کا عالمی دن منایا جا رہا ہے تو یہ محض زمین کے ایک ٹھوس ارضیاتی ڈھانچے کا جشن نہیں بلکہ اس خاموش، قدیم اور غیور پاسبان کو خراج تحسین پیش کرنے کا دن ہے جس کی گود میں انسانی تمدن، لامتناہی حیاتیاتی تنوع اور کرہ ارض کا مادی توازن سانس لے رہا ہے۔
بدقسمتی سے ہم ایک ایسے عہد میں جی رہے ہیں جہاں مادی ترقی کی اندھی ہوس نے دھرتی کے ان قدیم ماحولیاتی ستونوں کو محض ‘معدنیات کی منڈی’ سمجھ لیا ہے۔ وادی سندھ کے تاریخی جغرافیے اور اس سے متصل مکران و لسبیلہ کے ساحلی پہاڑی سلسلوں پر نظر دوڑائیں تو کارونجھر کی ابدی گرینائٹ چٹانیں، کھیرتھر کا وسیع چونے کے پتھر کا قلعہ اور ہنگول کا ماورائی منظر پیش کرنے والا چٹانی شاہکار اس وقت تاریخ کے بدترین ماحولیاتی بحران اور انسانی جارحیت کا سامنا کر رہے ہیں۔
یہ مضمون ان چٹانی سلسلوں کی حیاتیاتی، تمدنی اور معاشی اہمیت کا احاطہ کرتے ہوئے ان کو لاحق ہولناک خطرات اور ان کے پائیدار تحفظ کے لیے ایک جامع، سائنسی اور صحافتی مقدمہ پیش کرتا ہے۔
کسی خطے کے ماحولیاتی اور حیاتیاتی نظام میں چٹانوں کی بنیادی اہمیت
چٹانیں کسی بھی ماحولیاتی نظام میں وہی حیثیت رکھتی ہیں جو انسانی جسم میں ہڈیوں کے ڈھانچے کی ہوتی ہے۔ یہ بے جان پتھر نہیں بلکہ حیات نو کا سرچشمہ ہیں۔
آبی تحفظ کے قدرتی مراکز
پہاڑی چٹانیں قدرتی طور پر آبی ذخیرہ گاہوں کا کام کرتی ہیں۔ مون سون یا بارانی بارشوں کا پانی جب ان چٹانوں پر گرتا ہے تو یہ اس پانی کو ضائع ہونے سے روکتی ہیں۔ چٹانوں کی دراڑوں اور مساموں سے رس رس کر پانی زیر زمین جاتا ہے، جو نہ صرف مٹیالے پانی کو صاف کر کے میٹھے پانی کے چشموں کو جنم دیتا ہے بلکہ پورے خطے کی زیر زمین آبی سطح کو بھی برقرار رکھتا ہے۔
مٹی کی تخلیق اور نباتاتی بقا
چٹانوں کے کٹاؤ اور موسمیاتی اثرات کے لاکھوں سالہ عمل سے ہی وہ زرخیز مٹی بنتی ہے جو معدنیات سے بھرپور ہوتی ہے۔ پہاڑی چٹانوں کی اوٹ میں ایسے نایاب درخت، گھاس اور جڑی بوٹیاں اگتی ہیں جو شدید ترین قحط اور موسمی سختیوں کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں اور مقامی مال مویشیوں کے لیے چارے کا واحد ذریعہ بنتی ہیں۔
جنگلی حیات کی محفوظ پناہ گاہیں
چٹانوں کے قدرتی غار، عمودی چوٹیاں اور گہری کھائیاں چرند پرند کے لیے قدرتی قلعے کا کام کرتی ہیں۔ عقاب اور گدھ جیسے نایاب پرندے ان چٹانی بلندیوں پر گھونسلے بناتے ہیں، جبکہ پہاڑی بکرے، چیتے اور دیگر نایاب درندے ان غاروں میں اپنی نسل بڑھاتے ہیں۔

انسانی تمدن کی ڈھال
تاریخ گواہ ہے کہ چٹانی سلسلوں نے ہمیشہ سیلابوں کے ہولناک رخ موڑے ہیں، صحرائی اور سرد ہواؤں کے سامنے فصیل بن کر مقامی آبادیوں کو تحفظ فراہم کیا ہے اور صدیوں سے انسانوں کو پناہ، روزگار اور ثقافتی شناخت دی ہے۔
کارونجھر کی چٹانیں، تھر کے ماتھے کا گلابی تاج جو بارود کے ڈھیر پر ہے
ضلع تھرپارکر کے آخری قصبے نگرپارکر میں واقع ‘کارونجھر کا پہاڑی سلسلہ’ تقریباً 19 کلومیٹر طویل ہے۔ ارضیاتی سائنس کے مطابق یہ دنیا کے قدیم ترین چٹانی سلسلوں میں سے ایک ہے، جس کی عمر 3.5 سے 5 ارب سال بتائی جاتی ہے۔ یہ سلسلہ بنیادی طور پر انتہائی قیمتی اور خوبصورت ‘گلابی گرینائٹ’ اور آتش فشانی پتھروں پر مشتمل ہے۔
جغرافیائی، تاریخی اور مذہبی سحر
کارونجھر محض ایک پہاڑ نہیں بلکہ تاریخ، تصوف اور قدیم مذاہب کا ایک حسین سنگم ہے۔ ہندو عقائد اور جین مت میں اسے انتہائی مقدس مانا جاتا ہے، جہاں مقامی روایات کے مطابق 108 مقدس آستان موجود ہیں۔ ان میں سب سے اہم ‘ساردھرو دھام’ ہے، جسے ہندو مت میں دریائے گنگا کے بعد اشنان کا دوسرا بڑا مرکز مانا جاتا ہے، جہاں عقیدت مند اپنے پیاروں کی خاک ارپن کرتے ہیں۔
یہاں کارونجھر کی چٹانوں کے بیچ بہتا ہوا سدا بہار قدرتی چشمہ اور انچلیشور مہادیو مندر واقع ہے۔ پاک بھارت سرحد کے بالکل قریب واقع چوڑیو جبل کی چوٹی پر ماتا درگا کا مندر سیاحوں کے لیے ایک سحر انگیز منظر پیش کرتا ہے۔
اس کے علاوہ یہ خطہ ماضی میں بین الاقوامی تجارتی بندرگاہ ‘پاری نگر’ کا حصہ تھا۔ یہاں پہاڑ کے دامن میں واقع ‘بھوڈیسر تالاب’ میں بارش کا پانی جمع ہوتا ہے اور سردیوں میں مہاجر پرندے ڈیرے ڈالتے ہیں۔ اسی تالاب کے قریب سفید سنگ مرمر سے بنی تاریخی ‘بھوڈیسر مسجد’ موجود ہے، جسے گجرات کے سلطان محمود بیگڑا نے 1505 میں تعمیر کروایا تھا، جو اسلامی اور مقامی فن تعمیر کا شاہکار ہے۔
اس کے پاس ہی چودھویں صدی کے قدیم ‘جین مندر’ قائم ہیں، جن کے پتھروں پر کی گئی نقش و نگاری دیکھنے سے تعلق رکھتی ہے۔
نایاب جنگلی حیات کا گڑھ
تھر کے تپتے ریگستان کے بیچوں بیچ کارونجھر کا یہ سبز چٹانی سلسلہ نایاب جنگلی حیات کی آخری پناہ گاہ ہے۔ یہ دنیا کے ان چند آخری مقامات میں سے ایک ہے جہاں سفید پشت والے گدھ اور لمبی چونچ والے گدھ پائے جاتے ہیں، جو دنیا بھر میں معدومیت کے شدید خطرے سے دوچار ہیں۔
یہاں کی وادیاں ہزاروں دیسی موروں کا مسکن ہیں، جن کا مون سون کی بارشوں میں چٹانوں پر رقص ایک سحر انگیز منظر ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ چنکارا ہرن، نیل گائے، صحرائی لومڑی، بھیڑیے، سرمئی اور کالا تیتر اور چکور ان چٹانوں کی اوٹ میں زندگی بسر کرتے ہیں۔

کارونجھر کو لاحق خطرات: کٹاؤ اور بارود کا کھیل
کارونجھر کا سب سے بڑا المیہ اس کا یہی قیمتی ‘گلابی گرینائٹ’ ہے۔ کان کنی مافیا اور کارپوریٹ ہوس کی نظریں اس پہاڑ کو کھا رہی ہیں۔ یہاں گرینائٹ کی غیر قانونی اور بے دریغ کٹائی کے لیے ڈائنامائٹ کے ہولناک دھماکے کیے جاتے ہیں۔ ان دھماکوں کے نتیجے میں:
پہاڑ کا قدرتی ارضیاتی توازن بگڑ چکا ہے، جس سے 20 سے زائد بارانی اور قدرتی چشمے، جیسے اینچلیشور اور گؤمکھی، خشک ہو رہے ہیں، جو تھر کے انسانوں اور مال مویشیوں کے لیے زندگی کی علامت ہیں۔
بارود کے دھماکوں اور مشینوں کے شور کی وجہ سے نایاب گدھ، چنکارا اور مور ان پہاڑیوں کو چھوڑ کر ہجرت کرنے پر مجبور ہیں یا مر رہے ہیں۔
چودھویں صدی کے نایاب جین مندروں کی چٹانی بنیادیں ہل چکی ہیں اور ان قدیم عمارتوں پر دراڑیں آ گئی ہیں۔ اگرچہ سندھ ہائی کورٹ نے کان کنی پر پابندی کے تاریخی فیصلے دیے ہیں، لیکن چوری چھپے کٹاؤ کا خطرہ اب بھی برقرار ہے۔
کھیرتھر کا پہاڑی سلسلہ، چونے کے پتھر کا قلعہ جو سیمنٹ فیکٹریوں کی نذر ہو رہا ہے
سندھ اور بلوچستان کی جغرافیائی سرحد پر واقع کھیرتھر کا پہاڑی سلسلہ زیادہ تر رسوبی چٹانوں اور چونے کے پتھر پر مشتمل ہے۔ اس کا ایک بڑا حصہ کھیرتھر نیشنل پارک کے تحت محفوظ ہے، جو 3,000 مربع کلومیٹر سے زائد رقبے پر پھیلا ہوا پاکستان کا تیسرا بڑا نیشنل پارک ہے۔
قبل از تاریخ کے نقوش اور سیاحتی عجائبات
کھیرتھر تمدنی اور مہم جوئی کی تاریخ کا ایک روشن باب ہے۔ اس کی چٹانوں میں قبل از تاریخ دور کے انسانوں کی بنائی ہوئی چٹانی تصویریں اور قدیم غار موجود ہیں۔ یہاں مریدانی زرتشتیوں، پارسیوں، کے قدیم مقبرے اور آثار بھی ملتے ہیں۔
کھیرتھر کے سائے میں ‘تائونگ’ کے مقام پر پتھروں سے بنے ہوئے چوکنڈی طرز کے سینکڑوں سال پرانے مقبرے موجود ہیں، جن پر قدیم جنگجوؤں اور روایتی زیورات کی نقش و نگاری ہے۔
سیاحتی اعتبار سے یہاں دنیا کا سب سے بڑا قلعہ ‘رانی کوٹ’ واقع ہے، جسے ‘دیوار سندھ’ کہا جاتا ہے۔ اس کی فصیلیں کھیرتھر کی چٹانوں پر 32 کلومیٹر تک سانپ کی طرح بل کھاتی ہوئی گزرتی ہیں۔ اس کے علاوہ کھیرتھر کی سب سے اونچی چوٹی ‘گورکھ ہل اسٹیشن’ 5,688 فٹ کی بلندی پر واقع ہے، جسے ‘سندھ کا مری’ کہا جاتا ہے، جہاں کا درجہ حرارت سردیوں میں نقطہ انجماد سے بھی نیچے چلا جاتا ہے اور یہ ستارہ بینی کے لیے مشہور ہے۔
کراچی کے قریب گڈاپ اور جامشورو کی سرحد پر کھیرتھر کی چٹانوں کے درمیان واقع پچران آبشار اور کیرچھات سیاحتی مرکز مہم جوئی کے لیے بہترین مقامات ہیں۔
حیاتیاتی تنوع کی سلطنت
کھیرتھر نیشنل پارک نایاب ترین جنگلی حیات کا مسکن ہے۔
سندھ آئی بیکس
خوبصورت مڑے ہوئے سینگوں والا یہ جنگلی بکرا کھیرتھر کی عمودی اور دشوار گزار چٹانوں پر حیرت انگیز پھرتی سے چلتا ہے اور یہی اس پارک کی سب سے بڑی پہچان ہے۔

بلینڈ فورڈ اڑیال
یہ جنگلی بھیڑ کی ایک انتہائی نایاب نسل ہے، جو صرف ان خشک چٹانی علاقوں میں پائی جاتی ہے۔
نایاب جنگلی بلیاں
حال ہی میں خودکار کیمروں کے ذریعے یہاں انتہائی پراسرار اور نایاب سیاہ گوش اور ریتلی بلی کی موجودگی ریکارڈ کی گئی ہے۔ سیاہ گوش اپنے کانوں کے اوپر بالوں کے گچھوں اور ہوا میں اچھل کر پرندوں کو پکڑنے کی غیر معمولی صلاحیت کے لیے مشہور ہے۔
یہاں ہندوستانی بھیڑیا، لگڑ بھگا اور شہد خور بجو بھی پائے جاتے ہیں، جبکہ ناپید ہو جانے والے کالے ہرن کو دوبارہ یہاں آباد کرنے کا منصوبہ بھی جاری ہے۔
کھیرتھر کو لاحق خطرات: تجارتی کان کنی اور ڈرلنگ
کھیرتھر کا ماحولیاتی نظام اس وقت بارود اور بھاری مشینری کے بوٹوں تلے کچلا جا رہا ہے۔
سیمنٹ فیکٹریوں کے لیے کان کنی
سیمنٹ کی تیاری کے لیے کھیرتھر کے چونے کے پتھر کو بے رحمی سے کاٹا اور کرش کیا جا رہا ہے۔ پہاڑوں کے پورے کے پورے حصے غائب کیے جا رہے ہیں، جس سے چٹانوں کی ساخت کمزور ہو رہی ہے اور بڑے پیمانے پر لینڈ سلائیڈنگ ہو رہی ہے۔
تیل و گیس کی ڈرلنگ
نیشنل پارک کی حدود کے اندر اور اس کے اطراف میں تیل اور گیس کی تلاش کے لیے کی جانے والی ڈرلنگ اور دھماکوں نے خاموش جنگلی حیات، خصوصاً آئی بیکس اور اڑیال، کو شدید متاثر کیا ہے، جس سے ان کی افزائش نسل بری طرح متاثر ہو رہی ہے۔
بارانی ندیوں کی تباہی
چٹانوں کی کٹائی سے گاج ندی جیسے بارانی ندی نالوں کا قدرتی نظام تباہ ہو رہا ہے، جو دادو اور جامشورو کے اضلاع کو سیراب کرتے ہیں۔ اس کے نتیجے میں زیر زمین پانی تیزی سے خشک ہو رہا ہے۔
ہنگول نیشنل پارک کی چٹانیں، خلائی منظرنامہ اور انسانی مداخلت کی دیمک
اگرچہ ہنگول نیشنل پارک کھیرتھر کا حصہ نہیں بلکہ بلوچستان کے مکران ساحلی پہاڑی سلسلے، ضلع لسبیلہ، آواران اور گوادر، میں واقع ہے، لیکن یہ تقریباً 6,190 مربع کلومیٹر رقبے پر پھیلا ہوا پاکستان کا سب سے بڑا نیشنل پارک ہے۔
اپنی خلائی منظرنامے سے مشابہ چٹانی ساخت کے باعث یہ دنیا بھر میں ایک منفرد ارضیاتی عجوبہ سمجھا جاتا ہے۔ یہاں لاکھوں سال تک سمندری ہواؤں اور پانی کے کٹاؤ نے چٹانوں کو حیرت انگیز قدرتی مجسموں کی شکل دے دی ہے۔
ہنگول کی چٹانی کائنات
مذہبی تقدس اور بین المذاہب ہم آہنگی: دریائے ہنگول کے کنارے پہاڑوں کی غار نما چٹانوں میں واقع ‘ہنگلاج ماتا مندر’ ہندو مت کے مقدس ترین مقامات، 51 شکتی پیٹھوں، میں شمار ہوتا ہے۔ عقیدے کے مطابق یہاں دیوی ستی کا ماتھا گرا تھا۔ ہر سال اپریل میں یہاں ہنگلاج یاترا ہوتی ہے، جہاں لاکھوں یاتری جمع ہوتے ہیں۔
وہ یہاں موجود 300 فٹ اونچے مٹی کے متحرک آتش فشاں ‘چندر گپ’ پر چڑھ کر پوجا کرتے ہیں۔ اس مقام کی سب سے بڑی خوبصورتی یہ ہے کہ مقامی مسلم برادری اسے ‘نانی اماں کا آستانہ’ کہتی ہے اور صدیوں سے مسلمان ہی اس مندر کے محافظ ہیں۔
سندھ کے عظیم صوفی شاعر شاہ عبداللطیف بھٹائی نے بھی یہاں کا روحانی سفر کیا اور اپنے کلام ‘شاہ جو رسالو’ کے ‘سر رپ’ اور ‘سر رامکلی’ میں ان جوگیوں کو خراج تحسین پیش کیا جو نانی کے آستانے کی طرف مائل سفر تھے۔ تاریخی طور پر 325 قبل مسیح میں سکندر اعظم کی فوج کا ایک بڑا حصہ بھی اسی چٹانی مکران ساحلی راستے سے گزرا تھا۔
قدرت کے تراشے ہوئے شاہکار اور نایاب حیات
مکران ساحلی شاہراہ کے کنارے کھڑی چٹانیں دیکھ کر لگتا ہے کہ کسی نے پتھروں کا شہر آباد کر رکھا ہے۔ یہاں ‘امید کی شہزادی’ نامی چٹانی مجسمہ موجود ہے، جس کا یہ نام ہالی ووڈ اداکارہ انجلینا جولی نے رکھا تھا، اور ہو بہو مصر کے مجسمے جیسا ‘بلوچستان کا ابوالہول’ بھی موجود ہے۔
یہاں کی چٹانی کھائیاں امریکہ کے گرینڈ کینین کی یاد دلاتی ہیں، اسی مناسبت سے انہیں ‘پاکستان کا گرینڈ کینین’ کہا جاتا ہے، جہاں نیلے سمندر کا ساحل کنڈ ملیر ان چٹانوں سے آ ملتا ہے۔ یہ چٹانیں آئی بیکس، چیتوں، ہنگول ندی کے نایاب اود بلاؤ اور مگرمچھوں کی محفوظ پناہ گاہ ہیں۔
ہنگول کو لاحق خطرات: بے ہنگم سیاحت کی دیمک: اگرچہ ہنگول میں کارونجھر کی طرح کان کنی اس سطح پر نہیں ہے، لیکن یہاں کا بحران مختلف نوعیت کا ہے۔

پلاسٹک اور ماحولیاتی آلودگی
کنڈ ملیر بیچ اور مکران ساحلی شاہراہ پر آنے والے لاکھوں بے ہنگم سیاحوں نے ان نازک مٹیالی چٹانوں اور وادیوں کو کچرے دان میں تبدیل کر دیا ہے۔ پلاسٹک کے کچرے کی وجہ سے نایاب جنگلی جانور اور سمندری حیات موت کے منہ میں جا رہی ہے۔
انسانی مداخلت اور ساخت کو نقصان
تعمیراتی سرگرمیوں، تجارتی دکانوں اور ساحلی شاہراہ کے اطراف بڑھتی ہوئی انسانی مداخلت کی وجہ سے ہوا اور مٹی سے بنے یہ نازک چٹانی شاہکار، جیسے ‘بلوچستان کا ابوالہول’ اور ‘امید کی شہزادی’، اپنی اصل ارضیاتی ساخت کھو رہے ہیں، جبکہ لوگ ان پر چڑھ کر ان کی مٹیالی تہوں کو بھی نقصان پہنچا رہے ہیں۔
ان چٹانی اثاثوں کی حفاظت کیسے کی جائے؟
ہم اپنے ان جغرافیائی اور تمدنی تاجوں کو یوں مٹنے نہیں دے سکتے۔ ان چٹانوں کا تحفظ صرف حکومت کی نہیں بلکہ پوری قوم کی ذمہ داری ہے۔ اس ضمن میں درج ذیل فوری اور پائیدار اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے۔
کارونجھر کے لیے: عالمی ورثے کا درجہ اور کان کنی کا مستقل خاتمہ
کارونجھر کے مقامی لوگ سچ کہتے ہیں کہ ‘کارونجھر سونا دیتا ہے’۔ ان کا سونا یہ گرینائٹ نہیں بلکہ وہ پانی اور جڑی بوٹیاں ہیں جو انہیں تھر میں زندہ رکھتی ہیں۔
قانونی تحفظ
حکومت سندھ کو چاہیے کہ سندھ ہائی کورٹ کے فیصلوں کی روشنی میں کارونجھر پر کان کنی کو ہمیشہ کے لیے ناقابل ضمانت جرم قرار دے۔
عالمی ورثے کا درجہ
کارونجھر کو اس کے قدیم جین مندروں، گرینائٹ چٹانوں اور نایاب گدھوں کی وجہ سے عالمی حیاتیاتی اور ثقافتی ورثہ قرار دلوانے کے لیے سندھ حکومت وفاقی حکومت کے ذریعے فوری طور پر مقدمہ تیار کر کے بین الاقوامی سطح پر پیش کرے۔
کھیرتھر کے لیے: کان کنی سے پاک علاقہ اور نیشنل پارک قوانین کا نفاذ
سیمنٹ فیکٹریوں کی منتقلی
کھیرتھر نیشنل پارک کی حدود سے کم از کم 50 کلومیٹر کے دائرے تک چونے کے پتھر کی کٹائی پر مکمل پابندی عائد کی جائے اور سیمنٹ فیکٹریوں کو متبادل غیر حساس مقامات پر منتقل کیا جائے۔
ماحول دوست سیاحت
گورکھ ہل اور رانی کوٹ جیسے مقامات پر تجارتی ہوٹلنگ کے بجائے خیمہ بستیوں اور ماحول دوست سیاحت کو فروغ دیا جائے تاکہ آئی بیکس اور نایاب جنگلی بلیوں، خصوصاً سیاہ گوش، کا مسکن محفوظ رہے۔
ہنگول کے لیے: منظم سیاحت اور پلاسٹک پر پابندی
پلاسٹک سے پاک علاقہ: ہنگول نیشنل پارک اور کنڈ ملیر بیچ کی حدود میں ہر قسم کے غیر تحلیل ہونے والے پلاسٹک کے داخلے پر سخت جرمانے عائد کیے جائیں۔ پارک کے داخلی راستوں پر گاڑیوں کی تلاشی کا مؤثر نظام قائم کیا جائے۔
حفاظتی باڑ اور نگرانی: ‘بلوچستان کے ابوالہول’ اور ‘امید کی شہزادی’ جیسی چٹانی ساختوں کے گرد حفاظتی باڑ لگائی جائے تاکہ سیاح ان پر چڑھ کر انہیں نقصان نہ پہنچا سکیں، جبکہ دور سے مشاہدے کے لیے نگرانی کے ٹاور قائم کیے جائیں۔
مقامی آبادی کی شمولیت
کسی بھی پارک یا چٹان کا تحفظ اس وقت تک ممکن نہیں جب تک وہاں کے مقامی لوگوں کو اس کا حصہ نہ بنایا جائے۔ تھر کے نگرپارکر، کھیرتھر کے گڈاپ اور جامشورو، اور ہنگول کے لاسی اور بلوچ باشندوں کو جنگلی حیات کے محافظوں کے طور پر بھرتی کیا جائے، جبکہ سیاحت سے حاصل ہونے والی آمدنی کا ایک مخصوص حصہ مقامی اسکولوں، اسپتالوں اور پانی کے منصوبوں پر خرچ کیا جائے تاکہ وہ خود ان چٹانوں کے محافظ بنیں۔
چٹانیں بولتی نہیں ہیں، لیکن جب وہ ٹوٹتی ہیں تو ان کی خاموشی پورے خطے کو قبرستان بنا دیتی ہے۔ اگر کارونجھر کا گرینائٹ ختم ہو گیا تو تھر پیاس سے مر جائے گا۔ اگر کھیرتھر کا چونا پتھر کٹ گیا تو سندھ کی جنگلی بکری تاریخ کی کتابوں میں گم ہو جائے گی، اور اگر ہنگول کی چٹانیں مٹی کا ڈھیر بن گئیں تو ہم قدرت کے ایک عظیم شاہکار سے محروم ہو جائیں گے۔
چٹانوں کے عالمی دن پر ہمیں یہ عہد کرنا ہوگا کہ ہم ترقی کے نام پر اپنے ان تاریخی اور ماحولیاتی ستونوں کا سودا نہیں ہونے دیں گے۔ یہ پہاڑ ہماری زمین کا تاج ہیں، اور تاج بیچے نہیں جاتے، ان کی حفاظت کی جاتی ہے۔







