نگرپارکر: کارونجھر کی آغوش میں بسا ایک تاریخی شہر

کارونجھر

پارکر کے میدانوں پر، کارونجھر کی گود میں نگرپارکر کا خوبصورت شہر آباد ہے، جس کے دونوں اطراف سے کارونجھر (پہاڑ) سے بہہ کر آنے والی برساتی ندیوں کا گزر ہوتا ہے۔ شہر کے وسط کی خوبصورتی مٹی کے نلی دار کھپریلوں (نریں) سے بنی چھتوں والی پرانی بازار ہے، جسے ’پالن بازار‘ کہا جاتا ہے۔

شہر میں داخل ہوتے ہی ایک قدیم جین مندر استقبال کرتا ہے، تو دوسرا کارونجھر سے ہم کلام ہونے کے لیے بازار سے باہر نکلتے وقت الوداع کہنے کے لیے تاریخ کا اونچا سر اٹھائے کھڑا ہے۔ بازار سے ایک راستہ کارونجھر میں موجود ’ساردھڑو دھام‘ کی طرف جاتا ہے، تو دوسرا راستہ گھڑٹیاری کے گھاٹ سے ہوتا ہوا کاسبو کی طرف نکلتا ہے۔ ساردھڑو جانے والے راستے پر چندن گڑھ کے آثار ہیں، ان آثار کے سامنے پنگل سوامی کا مندر ہے، جس میں سورج کی پوجا کی جاتی تھی۔

اس شہر میں کھپریلوں والا پرانا گھر ہو یا کوئی عام عمارت، یہاں کے اصل رہائشیوں کا یہ رواج رہا ہے کہ وہ گھر میں دیے (چراغ) کے لیے ایک خوبصورت طاقچہ (آلا) ضرور بنواتے ہیں۔

جب بادل گھیر کر آتے ہیں اور پارکر کے میدانوں پر بارش کا سماں باندھتے ہیں، تب کارونجھر کی حسیناؤں کے دل میں جاگی ہوئی آرزو ایک لوک دوہے کا روپ اختیار کر لیتی ہے کہ:

گهر نيگڙو، ڏيئو سچنت، آپ سميڻو مانرو ڪنت،
پڇي ڀل وسو ميهولا، هون ستوڙي ڪران نچنت،

(ترجمہ: خوبصورت و مضبوط گھر ہو، اس میں روشن چراغ جل رہا ہو، اور ساتھ میں میری ہی عمر اور ہم خیال میرا شوہر ہو، اس کے بعد بھلے بارشیں برستی رہیں، میں بے فکر ہو کر سکون کی نیند سوؤں گی)

اسی کیفیت اور منظرنامے پر حضرت شاہ عبداللطیف بھٹائی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ:

اڱڻ تازي، ٻَهَر ڪُنڊيون، پکا پٽ سُنهَن،
سُرهي سيج، پاسي پرين، مر پيا مينهن وسن،
اسان ۽ پِرينِ، شال هُون برابر ڏينهڙا۔

(شاہ جو رسالو؛ کلیان آڈوانی، ص 393)

(صحن میں اصیل گھوڑے بندھے ہوں، باہر دودھیل بھینسیں ہوں، زمین پر خوبصورت جھونپڑیاں بھلی لگ رہی ہوں، مہکتی ہوئی سیج ہو اور پہلو میں محبوب ہو، پھر بھلے موسلا دھار بارشیں برسیں؛ خدا کرے کہ ہمارے اور محبوب کے یہ (وصل کے) دن ہمیشہ قائم رہیں۔)

اسی بارے میں: