Tag: نگرپارکر

  • خاموشی، نمک، پانی اور مہمان پرندے: سندھ کا منفرد صحرا رَن آف کَچھ جو کم لوگ دیکھ پاتے ہیں

    خاموشی، نمک، پانی اور مہمان پرندے: سندھ کا منفرد صحرا رَن آف کَچھ جو کم لوگ دیکھ پاتے ہیں

    نگرپارکر کے قریب واقع رَن آف کچھ میں ان دنوں نقل مکانی کرنے والے پرندوں کی بڑی تعداد دیکھی جا رہی ہے۔ پرندے پانی میں نہاتے، پروں کو صاف کرتے اور جھنڈ کی صورت میں حرکت کرتے نظر آتے ہیں۔ اردگرد پھیلا نمکین میدان اور ہلکا پانی اس علاقے کی شناخت ہے۔

    رَن آف کچھ ایک وسیع نمکین میدان ہے جو مون سون کے بعد موسم سرما میں جزوی طور پر پانی سے بھر جاتا ہے۔ اسی عرصے میں یہ علاقہ نقل مکانی کرنے والے پرندوں کے لیے عارضی مسکن بن جاتا ہے۔ پرندے یہاں خوراک حاصل کرتے ہیں اور چند ہفتوں کے قیام کے بعد اپنے اگلے سفر پر روانہ ہو جاتے ہیں۔

    دلچسپ حقیقت یہ ہے کہ رَن آف کچھ کا منظر ہر موسم میں بدل جاتا ہے۔ گرمیوں میں یہ سفید نمکین میدان دکھائی دیتا ہے، جبکہ مون سون کے بعد یہی علاقہ کم گہرے پانی میں تبدیل ہو جاتا ہے۔ اسی تبدیلی کی وجہ سے یہاں پرندوں اور دیگر آبی حیات کو سازگار ماحول ملتا ہے۔

    یہ علاقہ وائلڈ لائف سینکچوری قرار دیا جا چکا ہے۔ ساتھ ہی رَن آف کچھ رامسر کنونشن کے تحت عالمی اہمیت کے حامل ویٹ لینڈز میں شامل ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ ویٹ لینڈ پرندوں، نمکین پودوں اور مقامی حیات کے لیے ایک اہم قدرتی نظام فراہم کرتا ہے۔

    مقامی فوٹو جرنلسٹ دلیپ پرمار، جو کارونجھر فوٹوگرافی کے نام سے فیس بک پیج چلاتے ہیں، برسوں سے رَن اور کارونجھر کے مناظر کو دستاویزی شکل دے رہے ہیں۔

    دلیپ پرمار کے مطابق رَن آف کچھ پاکستان کے ان مقامات میں شامل ہے جو اپنی وسعت اور خاموش حسن کی وجہ سے منفرد ہیں۔

    ساگا ڈیجیٹل سے گفتگو کرتے ہوئے دلیپ پرمار نے کہا: ‘رَن صرف سیاحتی مقام نہیں بلکہ ایک حساس قدرتی علاقہ ہے۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ یہاں آنے والے لوگ صفائی، جنگلی حیات اور مقامی ماحول کا خاص خیال رکھیں۔’

    رَن آف کچھ کے یہ مناظر اس حقیقت کی یاد دہانی ہیں کہ سندھ میں صرف صحرا نہیں بلکہ ایسے قدرتی خطے بھی موجود ہیں جہاں پانی، پرندے اور زمین ایک ساتھ زندہ دکھائی دیتے ہیں۔

  • تھر میں غیر قانونی شکار، نگرپارکر میں زخمی ہرن پر مقامی افراد کا احتجاج

    تھر میں غیر قانونی شکار، نگرپارکر میں زخمی ہرن پر مقامی افراد کا احتجاج

    تھر کے علاقے نگرپارکر تحصیل کے گاؤں بہرائو میں ایک اور ہرن غیر قانونی شکار کا نشانہ بن گیا۔ مقامی افراد کے مطابق زخمی حالت میں ملنے والے ہرن کی اگلی دونوں ٹانگیں بری طرح ٹوٹی ہوئی تھیں، جس کے باعث وہ چلنے پھرنے سے قاصر تھا۔

    معروف گلوکار سیف سمیجو کو ویڈیو میں محکمہ جنگلی حیات سندھ کے افسر کے ساتھ مقالمہ کرتے دیکھا گیا۔

    مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ اس طرح کے واقعات نہ صرف جنگلی حیات کے تحفظ کے قوانین کی خلاف ورزی ہیں بلکہ تھر کے قدرتی ماحول کے لیے بھی خطرہ بنتے جا رہے ہیں۔ ویڈیو میں مقامی باشندے سندھی زبان میں اس واقعے پر افسوس اور غم و غصے کا اظہار کرتے دکھائی دیتے ہیں۔

    کم لوگ جانتے ہیں کہ تھر میں پائے جانے والے ہرن، جنہیں مقامی طور پر چنکارا کہا جاتا ہے، سخت موسمی حالات میں بھی زندہ رہنے کی غیر معمولی صلاحیت رکھتے ہیں اور یہ علاقے کے قدرتی توازن میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ یہ جانور کم پانی میں گزارا کر لیتے ہیں اور تھر کے نایاب پودوں کے بیج پھیلانے میں مدد دیتے ہیں۔

    ماہرین کے مطابق غیر قانونی شکار، خصوصاً تھر جیسے نازک ماحولیاتی نظام میں، جنگلی حیات کی بقا کے لیے سنگین خطرہ بن سکتا ہے۔ سندھ وائلڈ لائف قوانین کے تحت ہرن کا شکار ممنوع ہے اور اس پر سزا بھی مقرر ہے، تاہم مقامی سطح پر مؤثر نگرانی کی کمی کے باعث ایسے واقعات سامنے آتے رہتے ہیں۔

    مقامی افراد نے مطالبہ کیا ہے کہ متعلقہ ادارے فوری نوٹس لیں، غیر قانونی شکار میں ملوث عناصر کے خلاف کارروائی کریں اور تھر کی جنگلی حیات کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے تاکہ آئندہ ایسے واقعات نہ دہرائے جائیں۔