Tag: نگرپارکر

  • نگرپارکر کے خاموش جین مندروں اور تیرتھ تاترا کی بحالی

    نگرپارکر کے خاموش جین مندروں اور تیرتھ تاترا کی بحالی

    کبھی کبھی تاریخ کتابوں میں نہیں ملتی۔ وہ کسی شکستہ ستون پر بیٹھی ہوتی ہے، کسی ویران مندر کی دیوار سے لپٹی ہوتی ہے، کسی پہاڑ کے خاموش سینے میں دفن ہوتی ہے۔

    بس ضرورت ہوتی ہے کہ کوئی ٹھہر کر اسے سنے۔ کارونجھر کی پہاڑیوں پر شام اترتی ہے تو نگرپارکر کے قدیم مندر کچھ ایسا ہی کرتے ہیں۔ ڈوبتے سورج کی زرد روشنی جب ان کے شکستہ پتھروں پر پڑتی ہے تو یوں لگتا ہے جیسے ماضی اپنی راکھ جھاڑ کر ہمارے سامنے آ کھڑا ہوا ہو۔ وہ پوچھتا ہے: کیا تم مجھے بھول گئے ہو؟

    نگرپارکر کے جین مندر محض پرانی عمارتیں نہیں۔ یہ ایک ایسی تہذیبی دنیا کے باقی ماندہ آثار ہیں جس میں آج کی طرح سرحدیں نہیں تھیں، پاسپورٹ نہیں تھے، ویزے نہیں تھے۔ سندھ سے کَچھ، گجرات سے راجستھان تک راستے کھلے تھے۔ ان راستوں پر صرف قافلے نہیں چلتے تھے؛ تہذیبیں چلتی تھیں۔ تجارت کے ساتھ زبانیں سفر کرتی تھیں، فنون ایک دوسرے تک پہنچتے تھے، خیالات سرحدیں عبور کرتے تھے اور مذاہب انسانوں کے ساتھ ایک خطے سے دوسرے خطے تک جاتے تھے۔ اسی دنیا کا ایک اہم نشان نگرپارکر ہے۔

    ہم نے نگرپارکر کو زیادہ تر تھر، کارونجھر، موروں، بارش اور ریگستان کے حوالے سے جانا ہے، لیکن نگرپارکر کی کہانی اس سے کہیں زیادہ پرانی اور کہیں زیادہ وسیع ہے۔ گوڑی، ویراواہ، بوڈھیسر اور دوسرے مقامات پر موجود جین آثار ہمیں بتاتے ہیں کہ اس خطے میں ایک ایسی مذہبی اور ثقافتی روایت بھی موجود تھی جس نے سندھ کی تاریخ پر اپنے نقوش چھوڑے۔ ویراواہ کا جین مندر اپنے پتھریلے ستونوں اور نفیس نقش و نگار کے ذریعے آج بھی اپنے عہد کے فنِ تعمیر کی عظمت بیان کرتا ہے۔ وہاں سے ملنے والا سنگِ مرمر کا خوب صورت کندہ شدہ ٹکڑا کراچی کے قومی عجائب گھر میں محفوظ ہے۔ یوں ماضی کے کچھ ٹکڑے ہمارے درمیان موجود ہیں، لیکن المیہ یہ ہے کہ ہم ان کے درمیان رہتے ہوئے بھی ان کی کہانی سے بے خبر ہیں۔

    نگرپارکر کے جین ورثے کو سمجھنے کے لیے ہمیں اپنے موجودہ نقشے سے کچھ دیر کے لیے باہر نکلنا ہوگا۔ آج سندھ پاکستان میں ہے، کَچھ اور گجرات بھارت میں ہیں، راجستھان کی اپنی سیاسی شناخت ہے، مگر تاریخ نے یہ سرحدیں نہیں بنائی تھیں۔ تاریخ کے زمانے میں یہ خطے ایک دوسرے سے تجارتی اور ثقافتی رشتوں میں بندھے ہوئے تھے۔ جین تاجروں نے اس پورے خطے کی معاشی زندگی میں اہم کردار ادا کیا۔ تجارت نے انہیں دور دور تک پہنچایا، اور ان کے ساتھ ان کی مذہبی اور ثقافتی روایت بھی سفر کرتی رہی۔ اس لیے نگرپارکر کے جین مندر کسی ’دوسری‘ تہذیب کے آثار نہیں۔ وہ اسی سرزمین کی تہذیبی تاریخ کا حصہ ہیں جسے ہم آج سندھ کہتے ہیں۔ اور شاید یہی وہ نکتہ ہے جسے ہمیں سب سے پہلے سمجھنے کی ضرورت ہے: ورثے کی کوئی شہریت نہیں ہوتی۔ اس کا احترام کرنے کے لیے سرحد پار جانے کی ضرورت نہیں ہوتی، صرف تاریخ کو تاریخ کی نظر سے دیکھنے کی ضرورت ہوتی ہے۔

    برصغیر کی مذہبی تاریخ بھی ہماری اسی فکری دیانت کا تقاضا کرتی ہے۔ جین دھرم، بدھ دھرم اور سکھ دھرم کو ہندو دھرم کی محض تین شاخیں قرار دینا تاریخی اعتبار سے درست نہیں۔ یہ اپنی الگ مذہبی، فلسفیانہ اور روحانی روایات رکھنے والے مذاہب ہیں، جنہوں نے برصغیر کی تہذیبی تشکیل میں اپنا اپنا کردار ادا کیا۔ جین روایت اپنے مذہبی تسلسل کو 24 تیرتھنکروں سے جوڑتی ہے، جن میں مہاویر آخری اور تاریخی اعتبار سے سب سے نمایاں تیرتھنکر ہیں۔ بدھ مت گوتم بدھ کی تعلیمات سے ابھرا، جبکہ سکھ مت پندرہویں صدی میں گرو نانک کی تعلیمات کے ذریعے ایک مستقل مذہبی روایت کے طور پر سامنے آیا۔ یہ تفصیلات محض مذہبی معلومات نہیں، بلکہ ہمیں یہ سمجھنے میں مدد دیتی ہیں کہ برصغیر کی تہذیب کبھی یک رنگ نہیں رہی۔ اس کی اصل خوب صورتی ہی اس کے تنوع میں تھی، اور سندھ بھی اسی تنوع کا ایک زندہ باب ہے۔

    جین برادری تعداد میں چھوٹی ضرور ہے، مگر تعلیم، تجارت، صنعت، زیورات، ہیروں، مالیات اور کاروبار کے مختلف شعبوں میں اس کی تاریخی موجودگی غیر معمولی رہی ہے۔ اس برادری کی بلند شرحِ خواندگی اور معاشی سرگرمیوں میں نمایاں مقام اس کی اجتماعی قوت کا اندازہ دیتے ہیں۔ اسی مقام پر ایک خیال جنم لیتا ہے: اگر جین برادری اپنے تاریخی ورثے کے تحفظ کے لیے آگے آئے تو کیا نگرپارکر کے مندر دوبارہ سانس نہیں لے سکتے؟ کیا گوڑی اور ویراواہ کے شکستہ ستون دوبارہ محفوظ نہیں کیے جا سکتے؟ کیا بوڈھیسر کے آثار کو ایک منظم تحقیقی منصوبے کے تحت محفوظ نہیں کیا جا سکتا؟ یقیناً کیا جا سکتا ہے، مگر اس کے لیے ایک واضح اصول ضروری ہوگا: ورثہ محفوظ ہوگا، ملکیت اور اختیار پاکستان کے پاس ہوگا، اور تعاون شفاف اصولوں کے تحت ہوگا۔ جین برادری مالی معاونت، مذہبی و تاریخی معلومات اور ماہرین فراہم کر سکتی ہے، جبکہ پاکستانی ادارے قانونی اختیار، انتظامی نگرانی اور تحفظ کی ذمہ داری سنبھال سکتے ہیں۔ یہ کسی ملک کو اپنے ورثے کا اختیار دینا نہیں ہوگا؛ یہ تاریخ کے وارثوں کو تاریخ کی حفاظت میں شریک کرنا ہوگا۔

    لیکن اگر ہم صرف دیواریں بچا کر رک گئے تو شاید ہم اصل مقصد سے محروم رہ جائیں گے۔ مندر بحال ہوں تو ان کے دروازے بھی کھلنے چاہئیں۔ کبھی جن راستوں سے جین یاتری اپنے مقدس مقامات تک پہنچتے تھے، کیا وہ راستے دوبارہ آباد نہیں ہو سکتے؟ مناسب سفارتی، قانونی اور حفاظتی انتظامات کے تحت جین یاتریوں کو نگرپارکر کے تاریخی تیرتھوں کی زیارت کی اجازت دی جا سکتی ہے۔ ابتدا محدود وفود سے ہو سکتی ہے، تجربات سے سیکھا جا سکتا ہے اور پھر ایک مستقل اور منظم نظام قائم کیا جا سکتا ہے۔ یہاں پاکستان کے پاس پہلے ہی ایک قابلِ ذکر مثال موجود ہے: کرتارپور۔ 2019 میں کرتارپور راہداری کا افتتاح ہوا۔ بھارتی سکھ یاتریوں کو دربار صاحب کرتارپور تک ویزا کے بغیر رسائی حاصل ہوئی۔ پاکستان نے اسے مذہبی سیاحت، بین المذاہب ہم آہنگی اور امن کی علامت کے طور پر پیش کیا۔ کرتارپور نے دنیا کو ایک سادہ مگر طاقتور پیغام دیا: مقدس مقامات نفرت کی سرحدیں نہیں، امن کے پل بن سکتے ہیں۔ تو پھر نگرپارکر کیوں نہیں؟

    ذرا تصور کیجیے کہ کارونجھر کی پہاڑیوں کے دامن میں قدیم جین مندر دوبارہ محفوظ حالت میں کھڑے ہوں، راستے بہتر ہوں، ایک چھوٹا مگر جدید ورثہ مرکز قائم ہو اور وہاں جین دھرم کی سندھ میں تاریخ، قدیم تجارتی راستوں، گوڑی، ویراواہ، بوڈھیسر اور کارونجھر کی مذہبی و ثقافتی تاریخ کو محفوظ کیا جائے۔ دنیا بھر سے محقق آئیں، جین یاتری آئیں، سیاح آئیں، مقامی نوجوان گائیڈ بنیں، دستکار اپنی مصنوعات فروخت کریں، چھوٹے کاروبار قائم ہوں، رہائش کے نئے مواقع پیدا ہوں اور تھرپارکر، جسے ہم اکثر محرومی کے استعارے کے طور پر دیکھتے ہیں، اپنے ورثے کے ذریعے معاشی امکانات کی ایک نئی کہانی لکھنا شروع کر دے۔ یہ صرف سیاحت نہیں ہوگی، بلکہ ورثے کو معیشت سے، تاریخ کو روزگار سے اور مذہبی احترام کو سفارت کاری سے جوڑنے کا منصوبہ ہوگا۔

    نگرپارکر میں اگر جین ورثہ مرکز بنایا جائے تو اسے محض چند پرانی اشیا رکھنے والا عجائب گھر نہیں ہونا چاہیے، بلکہ ایک زندہ تحقیقی مرکز ہونا چاہیے۔ قدیم کتب، کتبے، تصاویر، نقشے اور دستاویزات ڈیجیٹل شکل میں محفوظ ہوں، مندروں کی سہ جہتی دستاویز کاری کی جائے، جامعات کو تحقیق کے مواقع دیے جائیں اور دنیا بھر کے جین اداروں اور ماہرین کو علمی تعاون کے لیے مدعو کیا جائے۔ اس طرح نگرپارکر کا ورثہ صرف ماضی کی یاد نہیں رہے گا؛ وہ مستقبل کے علم کا ذریعہ بھی بن جائے گا۔

    اصل سوال شاید یہ ہے کہ ہم اپنی تاریخ کو کس نظر سے دیکھتے ہیں۔ کیا ہم تاریخ میں صرف وہی کچھ دیکھنا چاہتے ہیں جو ہماری موجودہ شناخت سے مطابقت رکھتا ہو؟ اگر ایسا ہے تو ہم اپنی تاریخ کا ایک بڑا حصہ خود اپنے ہاتھوں سے مٹا دیں گے۔ سندھ کی تہذیب کی خوب صورتی ہی اس کے تنوع میں ہے۔ بدھ مت کے آثار ہوں، ہندو روایات ہوں، جین مندر ہوں، سکھوں کی یادگاریں ہوں یا اسلامی تہذیب کے شاندار آثار، یہ سب سندھ کے تہذیبی حافظے کا حصہ ہیں۔ کسی ایک باب کو مٹانے کا مطلب پوری کتاب کو ادھورا کر دینا ہے۔ اسی لیے جین ورثے کا تحفظ صرف جین برادری کا مسئلہ نہیں؛ یہ سندھ کی تاریخ اور پاکستان کی تہذیبی ذمہ داری ہے۔

    جین برادری کے بہت سے صاحبِ ثروت خاندان اور کاروباری افراد خیراتی اداروں، ہسپتالوں، تعلیمی اداروں، مذہبی مراکز، جانوروں کے تحفظ اور ثقافتی منصوبوں پر خطیر رقوم خرچ کرتے رہے ہیں۔ لیکن نگرپارکر کے لیے کسی فرد کی سخاوت سے زیادہ اہم ایک ادارہ جاتی شراکت ہوگی۔ ایک ایسی ’ورثہ شراکت داری‘ جس میں ہر روپے کا حساب ہو، ہر مرمت ماہرین کی نگرانی میں ہو، ہر قدم قانونی ہو اور سب سے بڑھ کر ہر تاریخی عمارت کی اصل شناخت محفوظ رہے۔ کیونکہ آثارِ قدیمہ کی بحالی سیمنٹ اور پتھر کا کام نہیں، یہ یادداشت کی حفاظت ہے۔

    سوچیے، اگر ایک دن جین یاتری اپنے آباؤ اجداد کی اس دھرتی پر واپس آئیں، کارونجھر کو دیکھیں، گوڑی کے مندر کے سامنے کھڑے ہوں، ویراواہ کے ستونوں کو احترام سے دیکھیں اور بوڈھیسر کے آثار کے سامنے خاموش کھڑے ہوں۔ شاید ان کی آنکھوں میں آنسو ہوں، اور شاید کسی پاکستانی مقامی گائیڈ کی آنکھوں میں بھی۔ کیونکہ یہ صرف ایک یاتری کی واپسی نہیں ہوگی؛ یہ تاریخ کی واپسی ہوگی۔ یہ سندھ کی اپنی ایک بھولی ہوئی شناخت سے ملاقات ہوگی، اور پاکستان کے لیے دنیا کو یہ بتانے کا موقع ہوگا کہ اس ملک کی تہذیبی داستان اس کی موجودہ سیاسی سرحدوں سے کہیں زیادہ پرانی، وسیع اور رنگا رنگ ہے۔

    نگرپارکر کے مندر آج بھی خاموش ہیں، مگر خاموشی ہمیشہ بے زبانی نہیں ہوتی۔ کبھی کبھی خاموش پتھر چیخنے سے زیادہ بلند آواز رکھتے ہیں۔ وہ ہمیں شاید یہی کہہ رہے ہیں کہ ہمیں بھولو نہیں، ہمیں صرف کھنڈر مت سمجھو، ہمیں دوبارہ پڑھو، ہمیں محفوظ کرو اور ہمارے دروازے ان لوگوں کے لیے کھولو جن کے آباؤ اجداد نے کبھی یہاں عبادت کی تھی۔ وقت شاید ہم سے ایک فیصلہ مانگ رہا ہے: کیا ہم ان پتھروں کو ماضی کی قبر بنا دیں گے یا انہیں مستقبل کا دروازہ بنائیں گے؟

    اگر پاکستان نگرپارکر کے جین مندروں کو بحال کرتا ہے، جین برادری کو اس ورثے کے تحفظ میں شفاف اور باوقار شراکت دیتا ہے، تحقیق اور سیاحت کے دروازے کھولتا ہے اور جین یاتریوں کے لیے عزت، تحفظ اور برابری کی بنیاد پر راستہ بناتا ہے، تو یہ محض چند مندروں کی مرمت نہیں ہوگی۔ یہ ایک تہذیبی اعلان ہوگا، ایک ایسا اعلان جو کہے گا کہ پاکستان اپنی تاریخ سے خوف زدہ نہیں۔ وہ اپنی سرزمین پر گزرنے والی ہر تہذیب کے نشان کو محفوظ رکھنا چاہتا ہے۔ وہ جانتا ہے کہ ورثہ کسی ایک مذہب، کسی ایک قوم یا کسی ایک دور کی ملکیت نہیں؛ ورثہ آنے والی نسلوں کی امانت ہے۔

    اور شاید اسی لیے کارونجھر کے پتھر آج بھی انتظار میں ہیں۔ کسی لشکر کے نہیں، کسی فاتح کے نہیں، صرف ایسے مسافروں کے جو ماضی کو لوٹنے نہیں، اسے سلام کرنے آئیں۔ کیونکہ سرحدیں نقشوں پر کھینچی جاتی ہیں، مگر تہذیبیں دلوں میں آباد رہتی ہیں۔ اور جو ملک اپنی مٹی پر پڑے ہر تہذیب کے قدموں کے نشان کو عزت دیتا ہے، وہ صرف اپنے ماضی کی حفاظت نہیں کرتا، وہ اپنے مستقبل کو بھی وسیع تر، روشن تر اور زیادہ انسانی بناتا ہے۔

  • نگرپارکر کے اسمال ڈیمز، بارش کے پانی نے صحرا کی تقدیر کیسے بدلنا شروع کی؟

    نگرپارکر کے اسمال ڈیمز، بارش کے پانی نے صحرا کی تقدیر کیسے بدلنا شروع کی؟

    سندھ کے ضلع تھرپارکر کی تحصیل نگرپارکر میں جب برسات ہوتی ہے تو کارونجھر کے قدیم گرینائٹ پہاڑوں سے درجنوں برساتی نالے رن کچھ کی جانب بہہ نکلتے ہیں۔

    ماضی میں یہ قیمتی پانی چند ہی دنوں میں ضائع ہو جاتا تھا، جس کے بعد مہینوں تک پورا علاقہ پانی کی شدید قلت، خشک سالی اور نقل مکانی جیسے مسائل کا سامنا کرتا تھا۔ تاہم گزشتہ چند برسوں میں انہی قدرتی گزرگاہوں پر تعمیر کیے جانے والے اسمال ڈیمز نے اس صورتحال کو بدلنا شروع کر دیا ہے۔

    نگرپارکر کا بیشتر علاقہ بارش پر منحصر ہے۔ یہاں نہ کوئی مستقل دریا بہتا ہے اور نہ ہی نہری نظام موجود ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مون سون کی بارشیں ہی اس خطے کی زراعت، مویشی پالنے اور پینے کے پانی کا بنیادی ذریعہ سمجھی جاتی ہیں۔ اگر بارش اچھی ہو تو صحرا سرسبز ہو جاتا ہے، لیکن اگر بارش کم ہو تو قحط جیسی صورتحال پیدا ہو جاتی ہے۔

    اسی مسئلے کو مدنظر رکھتے ہوئے سندھ حکومت نے مختلف مراحل میں کارونجھر سے اترنے والے برساتی پانی کو محفوظ بنانے کے لیے اسمال ڈیمز کی تعمیر کا منصوبہ شروع کیا۔ ابتدا میں ان ڈیمز کی تعداد محدود تھی، مگر اب نگرپارکر کے مختلف مقامات پر درجنوں اسمال ڈیمز تعمیر کیے جا چکے ہیں، جبکہ مزید منصوبوں پر بھی کام جاری ہے۔

    یہ ڈیمز بارش کے پانی کو ذخیرہ کرنے کے ساتھ ساتھ زیر زمین آبی ذخائر کو دوبارہ بھرنے میں بھی اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ ماہرین کے مطابق جب پانی کئی ماہ تک ڈیموں میں جمع رہتا ہے تو اس کا بڑا حصہ زمین میں جذب ہو کر زیر زمین پانی کی سطح بلند کرتا ہے، جس سے آس پاس کے کنوؤں اور بورنگ میں پانی کی دستیابی بہتر ہوتی ہے۔

    اسمال ڈیمز کا سب سے بڑا فائدہ زراعت کے شعبے کو پہنچ رہا ہے۔ پہلے جہاں بارش ختم ہونے کے چند ہفتوں بعد کھیت خشک ہو جاتے تھے، اب محفوظ شدہ پانی کی بدولت کئی ماہ تک کاشتکاری ممکن ہو رہی ہے۔ کسان اب صرف بارانی فصلوں تک محدود نہیں رہے بلکہ سبزیاں، پیاز، مرچ، گوار، باجرہ اور دیگر فصلیں بھی کاشت کر رہے ہیں۔ بعض علاقوں میں جدید آبپاشی کے طریقے بھی متعارف کرائے جا رہے ہیں، جس سے پانی کا بہتر استعمال ممکن ہو رہا ہے۔

    ان منصوبوں سے مویشی پالنے والے خاندانوں کو بھی فائدہ پہنچا ہے۔ بارش کے بعد ڈیموں میں محفوظ پانی اور اطراف میں اگنے والی گھاس مویشیوں کے لیے کئی ماہ تک چارے اور پانی کا انتظام فراہم کرتی ہے، جس سے قحط کے دوران ہونے والے نقصانات میں نمایاں کمی آ رہی ہے۔

    نگرپارکر میں اسمال ڈیمز کا ایک اہم اثر نقل مکانی میں کمی کی صورت میں بھی سامنے آیا ہے۔ ماضی میں بارش نہ ہونے کی صورت میں بڑی تعداد میں خاندان روزگار اور پانی کی تلاش میں دیگر شہروں کا رخ کرتے تھے، لیکن اب جن علاقوں میں ڈیم تعمیر ہوئے ہیں وہاں مقامی لوگوں کے لیے سال کے زیادہ عرصے تک روزگار کے مواقع پیدا ہو رہے ہیں۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ کارونجھر سے بہنے والا برساتی پانی صدیوں سے بغیر استعمال کے رن کچھ میں جا گرتا تھا۔ اگر اس پانی کا زیادہ سے زیادہ حصہ محفوظ کیا جائے تو نہ صرف ہزاروں ایکڑ فٹ پانی ذخیرہ کیا جا سکتا ہے بلکہ ہزاروں ایکڑ بنجر زمین کو بھی قابل کاشت بنایا جا سکتا ہے۔

    تاہم ماہرین اس بات پر بھی زور دیتے ہیں کہ اسمال ڈیمز کی کامیابی صرف تعمیر تک محدود نہیں۔ ان کی باقاعدہ دیکھ بھال، وقتاً فوقتاً گاد کی صفائی، مضبوط حفاظتی بند، پانی کے منصفانہ استعمال اور مقامی آبادی کی شمولیت بھی اتنی ہی ضروری ہے تاکہ یہ منصوبے کئی دہائیوں تک مؤثر رہ سکیں۔

    موسمیاتی تبدیلی کے باعث سندھ میں بارشوں کا نظام تیزی سے غیر یقینی ہوتا جا رہا ہے۔ ایسے حالات میں ماہرین اسمال ڈیمز کو صرف ترقیاتی منصوبہ نہیں بلکہ مستقبل کے لیے پانی کے تحفظ اور موسمیاتی تبدیلی سے مطابقت پیدا کرنے کی ایک اہم حکمت عملی قرار دیتے ہیں۔

    نگرپارکر کے یہ اسمال ڈیمز اس بات کی مثال ہیں کہ اگر بارش کے ہر قطرے کو محفوظ کر لیا جائے تو صحرا بھی سرسبز ہو سکتا ہے، زراعت کو نئی زندگی مل سکتی ہے اور مقامی معیشت کو پائیدار بنیادوں پر مضبوط بنایا جا سکتا ہے۔

    ‘ساگا ڈیجیٹل’، پاکستان کا اے آئی پاورڈ ڈیجیٹل میڈیا پلیٹ فارم۔

  • نگرپارکر: کارونجھر کی آغوش میں بسا ایک تاریخی شہر

    نگرپارکر: کارونجھر کی آغوش میں بسا ایک تاریخی شہر

    پارکر کے میدانوں پر، کارونجھر کی گود میں نگرپارکر کا خوبصورت شہر آباد ہے۔ جس کے دونوں اطراف سے کارونجھر (پہاڑ) سے بہہ کر آنے والی برساتی ندیوں کا گزر ہوتا ہے۔ شہر کے وسط کی خوبصورتی مٹی کے نلی دار کھپریلوں (نرین) سے بنی چھتوں والی پرانی بازار ہے، جسے ’پالن بازار‘ کہا جاتا ہے۔

    شہر میں داخل ہوتے ہی ایک قدیم جین مندر استقبال کرتا ہے، تو دوسرا کارونجھر سے ہم کلام ہونے کے لیے بازار سے باہر نکلتے وقت الوداع کہنے کے لیے تاریخ کا اونچا سر اٹھائے کھڑا ہے۔ بازار سے ایک راستہ کارونجھر میں موجود ’ساردھڑے دھام‘ کی طرف جاتا ہے، تو دوسرا راستہ گھڑٹیاری کے گھاٹ سے ہوتا ہوا کاسبو کی طرف نکلتا ہے۔ ساردھڑے جانے والے راستے پر چندن گڑھ کے آثار ہیں، ان آثاروں کے سامنے پنگل سوامی کا مندر ہے جس میں سورج کی پوجا کی جاتی تھی۔

    اس شہر میں کھپریلوں والا پرانا گھر ہو یا کوئی عام عمارت، یہاں کے اصل رہائشیوں کا یہ رواج رہا ہے کہ وہ گھر میں دیے (چراغ) کے لیے ایک خوبصورت طاقچہ (آلا) ضرور بنواتے ہیں۔

    جب بادل گھیر کر آتے ہیں اور پارکر کے میدانوں پر بارش کا سماں باندھتے ہیں، تب کارونجھر کی حسیناؤں کے دل میں جاگی ہوئی آرزو ایک لوک دوہے کا روپ اختیار کر لیتی ہے کہ:

    گهر نيگڙو، ڏيئو سچنت، آپ سميڻو مانرو ڪنت،
    پڇي ڀل وسو ميهولا، هون ستوڙي ڪران نچنت،

    (ترجمہ: خوبصورت و مضبوط گھر ہو، اس میں روشن چراغ جل رہا ہو، اور ساتھ میں میری ہی عمر اور ہم خیال میرا شوہر ہو، اس کے بعد بھلے بارشیں برستی رہیں، میں بے فکر ہو کر سکون کی نیند سوؤں گی)

    اسی کیفیت اور منظرنامے پر حضرت شاہ عبداللطیف بھٹائی رحمة اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ:

    اڱڻ تازي، ٻَهَر ڪُنڊيون، پکا پٽ سُنهَن،
    سُرهي سيج، پاسي پرين، مر پيا مينهن وسن،
    اسان ۽ پِرينِ، شال هُون برابر ڏينهڙا۔

    (شاہ جو رسالو؛ کلیان آڈوانی، ص 393)

    (صحن میں اصیل گھوڑے بندھے ہوں، باہر دودھیل بھینسیں ہوں، زمین پر خوبصورت جھونپڑیاں بھلی لگ رہی ہوں، مہکتی ہوئی سیج ہو اور پہلو میں محبوب ہو، پھر بھلے موسلا دھار بارشیں برسیں؛ خدا کرے کہ ہمارے اور محبوب کے یہ (وصل کے) دن ہمیشہ قائم رہیں)

  • نگرپارکر: کارونجھر کی آغوش میں بسا ایک تاریخی شہر

    نگرپارکر: کارونجھر کی آغوش میں بسا ایک تاریخی شہر

    پارکر کے میدانوں پر، کارونجھر کی گود میں نگرپارکر کا خوبصورت شہر آباد ہے، جس کے دونوں اطراف سے کارونجھر (پہاڑ) سے بہہ کر آنے والی برساتی ندیوں کا گزر ہوتا ہے۔ شہر کے وسط کی خوبصورتی مٹی کے نلی دار کھپریلوں (نریں) سے بنی چھتوں والی پرانی بازار ہے، جسے ’پالن بازار‘ کہا جاتا ہے۔

    شہر میں داخل ہوتے ہی ایک قدیم جین مندر استقبال کرتا ہے، تو دوسرا کارونجھر سے ہم کلام ہونے کے لیے بازار سے باہر نکلتے وقت الوداع کہنے کے لیے تاریخ کا اونچا سر اٹھائے کھڑا ہے۔ بازار سے ایک راستہ کارونجھر میں موجود ’ساردھڑو دھام‘ کی طرف جاتا ہے، تو دوسرا راستہ گھڑٹیاری کے گھاٹ سے ہوتا ہوا کاسبو کی طرف نکلتا ہے۔ ساردھڑو جانے والے راستے پر چندن گڑھ کے آثار ہیں، ان آثار کے سامنے پنگل سوامی کا مندر ہے، جس میں سورج کی پوجا کی جاتی تھی۔

    اس شہر میں کھپریلوں والا پرانا گھر ہو یا کوئی عام عمارت، یہاں کے اصل رہائشیوں کا یہ رواج رہا ہے کہ وہ گھر میں دیے (چراغ) کے لیے ایک خوبصورت طاقچہ (آلا) ضرور بنواتے ہیں۔

    جب بادل گھیر کر آتے ہیں اور پارکر کے میدانوں پر بارش کا سماں باندھتے ہیں، تب کارونجھر کی حسیناؤں کے دل میں جاگی ہوئی آرزو ایک لوک دوہے کا روپ اختیار کر لیتی ہے کہ:

    گهر نيگڙو، ڏيئو سچنت، آپ سميڻو مانرو ڪنت،
    پڇي ڀل وسو ميهولا، هون ستوڙي ڪران نچنت،

    (ترجمہ: خوبصورت و مضبوط گھر ہو، اس میں روشن چراغ جل رہا ہو، اور ساتھ میں میری ہی عمر اور ہم خیال میرا شوہر ہو، اس کے بعد بھلے بارشیں برستی رہیں، میں بے فکر ہو کر سکون کی نیند سوؤں گی)

    اسی کیفیت اور منظرنامے پر حضرت شاہ عبداللطیف بھٹائی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ:

    اڱڻ تازي، ٻَهَر ڪُنڊيون، پکا پٽ سُنهَن،
    سُرهي سيج، پاسي پرين، مر پيا مينهن وسن،
    اسان ۽ پِرينِ، شال هُون برابر ڏينهڙا۔

    (شاہ جو رسالو؛ کلیان آڈوانی، ص 393)

    (صحن میں اصیل گھوڑے بندھے ہوں، باہر دودھیل بھینسیں ہوں، زمین پر خوبصورت جھونپڑیاں بھلی لگ رہی ہوں، مہکتی ہوئی سیج ہو اور پہلو میں محبوب ہو، پھر بھلے موسلا دھار بارشیں برسیں؛ خدا کرے کہ ہمارے اور محبوب کے یہ (وصل کے) دن ہمیشہ قائم رہیں۔)

  • خاموشی، نمک، پانی اور مہمان پرندے: سندھ کا منفرد صحرا رَن آف کَچھ جو کم لوگ دیکھ پاتے ہیں

    خاموشی، نمک، پانی اور مہمان پرندے: سندھ کا منفرد صحرا رَن آف کَچھ جو کم لوگ دیکھ پاتے ہیں

    نگرپارکر کے قریب واقع رَن آف کچھ میں ان دنوں نقل مکانی کرنے والے پرندوں کی بڑی تعداد دیکھی جا رہی ہے۔ پرندے پانی میں نہاتے، پروں کو صاف کرتے اور جھنڈ کی صورت میں حرکت کرتے نظر آتے ہیں۔ اردگرد پھیلا نمکین میدان اور ہلکا پانی اس علاقے کی شناخت ہے۔

    رَن آف کچھ ایک وسیع نمکین میدان ہے جو مون سون کے بعد موسم سرما میں جزوی طور پر پانی سے بھر جاتا ہے۔ اسی عرصے میں یہ علاقہ نقل مکانی کرنے والے پرندوں کے لیے عارضی مسکن بن جاتا ہے۔ پرندے یہاں خوراک حاصل کرتے ہیں اور چند ہفتوں کے قیام کے بعد اپنے اگلے سفر پر روانہ ہو جاتے ہیں۔

    دلچسپ حقیقت یہ ہے کہ رَن آف کچھ کا منظر ہر موسم میں بدل جاتا ہے۔ گرمیوں میں یہ سفید نمکین میدان دکھائی دیتا ہے، جبکہ مون سون کے بعد یہی علاقہ کم گہرے پانی میں تبدیل ہو جاتا ہے۔ اسی تبدیلی کی وجہ سے یہاں پرندوں اور دیگر آبی حیات کو سازگار ماحول ملتا ہے۔

    یہ علاقہ وائلڈ لائف سینکچوری قرار دیا جا چکا ہے۔ ساتھ ہی رَن آف کچھ رامسر کنونشن کے تحت عالمی اہمیت کے حامل ویٹ لینڈز میں شامل ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ ویٹ لینڈ پرندوں، نمکین پودوں اور مقامی حیات کے لیے ایک اہم قدرتی نظام فراہم کرتا ہے۔

    مقامی فوٹو جرنلسٹ دلیپ پرمار، جو کارونجھر فوٹوگرافی کے نام سے فیس بک پیج چلاتے ہیں، برسوں سے رَن اور کارونجھر کے مناظر کو دستاویزی شکل دے رہے ہیں۔

    دلیپ پرمار کے مطابق رَن آف کچھ پاکستان کے ان مقامات میں شامل ہے جو اپنی وسعت اور خاموش حسن کی وجہ سے منفرد ہیں۔

    ساگا ڈیجیٹل سے گفتگو کرتے ہوئے دلیپ پرمار نے کہا: ‘رَن صرف سیاحتی مقام نہیں بلکہ ایک حساس قدرتی علاقہ ہے۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ یہاں آنے والے لوگ صفائی، جنگلی حیات اور مقامی ماحول کا خاص خیال رکھیں۔’

    رَن آف کچھ کے یہ مناظر اس حقیقت کی یاد دہانی ہیں کہ سندھ میں صرف صحرا نہیں بلکہ ایسے قدرتی خطے بھی موجود ہیں جہاں پانی، پرندے اور زمین ایک ساتھ زندہ دکھائی دیتے ہیں۔

  • تھر میں غیر قانونی شکار، نگرپارکر میں زخمی ہرن پر مقامی افراد کا احتجاج

    تھر میں غیر قانونی شکار، نگرپارکر میں زخمی ہرن پر مقامی افراد کا احتجاج

    تھر کے علاقے نگرپارکر تحصیل کے گاؤں بہرائو میں ایک اور ہرن غیر قانونی شکار کا نشانہ بن گیا۔ مقامی افراد کے مطابق زخمی حالت میں ملنے والے ہرن کی اگلی دونوں ٹانگیں بری طرح ٹوٹی ہوئی تھیں، جس کے باعث وہ چلنے پھرنے سے قاصر تھا۔

    معروف گلوکار سیف سمیجو کو ویڈیو میں محکمہ جنگلی حیات سندھ کے افسر کے ساتھ مقالمہ کرتے دیکھا گیا۔

    مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ اس طرح کے واقعات نہ صرف جنگلی حیات کے تحفظ کے قوانین کی خلاف ورزی ہیں بلکہ تھر کے قدرتی ماحول کے لیے بھی خطرہ بنتے جا رہے ہیں۔ ویڈیو میں مقامی باشندے سندھی زبان میں اس واقعے پر افسوس اور غم و غصے کا اظہار کرتے دکھائی دیتے ہیں۔

    کم لوگ جانتے ہیں کہ تھر میں پائے جانے والے ہرن، جنہیں مقامی طور پر چنکارا کہا جاتا ہے، سخت موسمی حالات میں بھی زندہ رہنے کی غیر معمولی صلاحیت رکھتے ہیں اور یہ علاقے کے قدرتی توازن میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ یہ جانور کم پانی میں گزارا کر لیتے ہیں اور تھر کے نایاب پودوں کے بیج پھیلانے میں مدد دیتے ہیں۔

    ماہرین کے مطابق غیر قانونی شکار، خصوصاً تھر جیسے نازک ماحولیاتی نظام میں، جنگلی حیات کی بقا کے لیے سنگین خطرہ بن سکتا ہے۔ سندھ وائلڈ لائف قوانین کے تحت ہرن کا شکار ممنوع ہے اور اس پر سزا بھی مقرر ہے، تاہم مقامی سطح پر مؤثر نگرانی کی کمی کے باعث ایسے واقعات سامنے آتے رہتے ہیں۔

    مقامی افراد نے مطالبہ کیا ہے کہ متعلقہ ادارے فوری نوٹس لیں، غیر قانونی شکار میں ملوث عناصر کے خلاف کارروائی کریں اور تھر کی جنگلی حیات کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے تاکہ آئندہ ایسے واقعات نہ دہرائے جائیں۔