کبھی کبھی تاریخ کتابوں میں نہیں ملتی۔ وہ کسی شکستہ ستون پر بیٹھی ہوتی ہے، کسی ویران مندر کی دیوار سے لپٹی ہوتی ہے، کسی پہاڑ کے خاموش سینے میں دفن ہوتی ہے۔
بس ضرورت ہوتی ہے کہ کوئی ٹھہر کر اسے سنے۔ کارونجھر کی پہاڑیوں پر شام اترتی ہے تو نگرپارکر کے قدیم مندر کچھ ایسا ہی کرتے ہیں۔ ڈوبتے سورج کی زرد روشنی جب ان کے شکستہ پتھروں پر پڑتی ہے تو یوں لگتا ہے جیسے ماضی اپنی راکھ جھاڑ کر ہمارے سامنے آ کھڑا ہوا ہو۔ وہ پوچھتا ہے: کیا تم مجھے بھول گئے ہو؟
نگرپارکر کے جین مندر محض پرانی عمارتیں نہیں۔ یہ ایک ایسی تہذیبی دنیا کے باقی ماندہ آثار ہیں جس میں آج کی طرح سرحدیں نہیں تھیں، پاسپورٹ نہیں تھے، ویزے نہیں تھے۔ سندھ سے کَچھ، گجرات سے راجستھان تک راستے کھلے تھے۔ ان راستوں پر صرف قافلے نہیں چلتے تھے؛ تہذیبیں چلتی تھیں۔ تجارت کے ساتھ زبانیں سفر کرتی تھیں، فنون ایک دوسرے تک پہنچتے تھے، خیالات سرحدیں عبور کرتے تھے اور مذاہب انسانوں کے ساتھ ایک خطے سے دوسرے خطے تک جاتے تھے۔ اسی دنیا کا ایک اہم نشان نگرپارکر ہے۔
ہم نے نگرپارکر کو زیادہ تر تھر، کارونجھر، موروں، بارش اور ریگستان کے حوالے سے جانا ہے، لیکن نگرپارکر کی کہانی اس سے کہیں زیادہ پرانی اور کہیں زیادہ وسیع ہے۔ گوڑی، ویراواہ، بوڈھیسر اور دوسرے مقامات پر موجود جین آثار ہمیں بتاتے ہیں کہ اس خطے میں ایک ایسی مذہبی اور ثقافتی روایت بھی موجود تھی جس نے سندھ کی تاریخ پر اپنے نقوش چھوڑے۔ ویراواہ کا جین مندر اپنے پتھریلے ستونوں اور نفیس نقش و نگار کے ذریعے آج بھی اپنے عہد کے فنِ تعمیر کی عظمت بیان کرتا ہے۔ وہاں سے ملنے والا سنگِ مرمر کا خوب صورت کندہ شدہ ٹکڑا کراچی کے قومی عجائب گھر میں محفوظ ہے۔ یوں ماضی کے کچھ ٹکڑے ہمارے درمیان موجود ہیں، لیکن المیہ یہ ہے کہ ہم ان کے درمیان رہتے ہوئے بھی ان کی کہانی سے بے خبر ہیں۔
نگرپارکر کے جین ورثے کو سمجھنے کے لیے ہمیں اپنے موجودہ نقشے سے کچھ دیر کے لیے باہر نکلنا ہوگا۔ آج سندھ پاکستان میں ہے، کَچھ اور گجرات بھارت میں ہیں، راجستھان کی اپنی سیاسی شناخت ہے، مگر تاریخ نے یہ سرحدیں نہیں بنائی تھیں۔ تاریخ کے زمانے میں یہ خطے ایک دوسرے سے تجارتی اور ثقافتی رشتوں میں بندھے ہوئے تھے۔ جین تاجروں نے اس پورے خطے کی معاشی زندگی میں اہم کردار ادا کیا۔ تجارت نے انہیں دور دور تک پہنچایا، اور ان کے ساتھ ان کی مذہبی اور ثقافتی روایت بھی سفر کرتی رہی۔ اس لیے نگرپارکر کے جین مندر کسی ’دوسری‘ تہذیب کے آثار نہیں۔ وہ اسی سرزمین کی تہذیبی تاریخ کا حصہ ہیں جسے ہم آج سندھ کہتے ہیں۔ اور شاید یہی وہ نکتہ ہے جسے ہمیں سب سے پہلے سمجھنے کی ضرورت ہے: ورثے کی کوئی شہریت نہیں ہوتی۔ اس کا احترام کرنے کے لیے سرحد پار جانے کی ضرورت نہیں ہوتی، صرف تاریخ کو تاریخ کی نظر سے دیکھنے کی ضرورت ہوتی ہے۔
برصغیر کی مذہبی تاریخ بھی ہماری اسی فکری دیانت کا تقاضا کرتی ہے۔ جین دھرم، بدھ دھرم اور سکھ دھرم کو ہندو دھرم کی محض تین شاخیں قرار دینا تاریخی اعتبار سے درست نہیں۔ یہ اپنی الگ مذہبی، فلسفیانہ اور روحانی روایات رکھنے والے مذاہب ہیں، جنہوں نے برصغیر کی تہذیبی تشکیل میں اپنا اپنا کردار ادا کیا۔ جین روایت اپنے مذہبی تسلسل کو 24 تیرتھنکروں سے جوڑتی ہے، جن میں مہاویر آخری اور تاریخی اعتبار سے سب سے نمایاں تیرتھنکر ہیں۔ بدھ مت گوتم بدھ کی تعلیمات سے ابھرا، جبکہ سکھ مت پندرہویں صدی میں گرو نانک کی تعلیمات کے ذریعے ایک مستقل مذہبی روایت کے طور پر سامنے آیا۔ یہ تفصیلات محض مذہبی معلومات نہیں، بلکہ ہمیں یہ سمجھنے میں مدد دیتی ہیں کہ برصغیر کی تہذیب کبھی یک رنگ نہیں رہی۔ اس کی اصل خوب صورتی ہی اس کے تنوع میں تھی، اور سندھ بھی اسی تنوع کا ایک زندہ باب ہے۔
جین برادری تعداد میں چھوٹی ضرور ہے، مگر تعلیم، تجارت، صنعت، زیورات، ہیروں، مالیات اور کاروبار کے مختلف شعبوں میں اس کی تاریخی موجودگی غیر معمولی رہی ہے۔ اس برادری کی بلند شرحِ خواندگی اور معاشی سرگرمیوں میں نمایاں مقام اس کی اجتماعی قوت کا اندازہ دیتے ہیں۔ اسی مقام پر ایک خیال جنم لیتا ہے: اگر جین برادری اپنے تاریخی ورثے کے تحفظ کے لیے آگے آئے تو کیا نگرپارکر کے مندر دوبارہ سانس نہیں لے سکتے؟ کیا گوڑی اور ویراواہ کے شکستہ ستون دوبارہ محفوظ نہیں کیے جا سکتے؟ کیا بوڈھیسر کے آثار کو ایک منظم تحقیقی منصوبے کے تحت محفوظ نہیں کیا جا سکتا؟ یقیناً کیا جا سکتا ہے، مگر اس کے لیے ایک واضح اصول ضروری ہوگا: ورثہ محفوظ ہوگا، ملکیت اور اختیار پاکستان کے پاس ہوگا، اور تعاون شفاف اصولوں کے تحت ہوگا۔ جین برادری مالی معاونت، مذہبی و تاریخی معلومات اور ماہرین فراہم کر سکتی ہے، جبکہ پاکستانی ادارے قانونی اختیار، انتظامی نگرانی اور تحفظ کی ذمہ داری سنبھال سکتے ہیں۔ یہ کسی ملک کو اپنے ورثے کا اختیار دینا نہیں ہوگا؛ یہ تاریخ کے وارثوں کو تاریخ کی حفاظت میں شریک کرنا ہوگا۔
لیکن اگر ہم صرف دیواریں بچا کر رک گئے تو شاید ہم اصل مقصد سے محروم رہ جائیں گے۔ مندر بحال ہوں تو ان کے دروازے بھی کھلنے چاہئیں۔ کبھی جن راستوں سے جین یاتری اپنے مقدس مقامات تک پہنچتے تھے، کیا وہ راستے دوبارہ آباد نہیں ہو سکتے؟ مناسب سفارتی، قانونی اور حفاظتی انتظامات کے تحت جین یاتریوں کو نگرپارکر کے تاریخی تیرتھوں کی زیارت کی اجازت دی جا سکتی ہے۔ ابتدا محدود وفود سے ہو سکتی ہے، تجربات سے سیکھا جا سکتا ہے اور پھر ایک مستقل اور منظم نظام قائم کیا جا سکتا ہے۔ یہاں پاکستان کے پاس پہلے ہی ایک قابلِ ذکر مثال موجود ہے: کرتارپور۔ 2019 میں کرتارپور راہداری کا افتتاح ہوا۔ بھارتی سکھ یاتریوں کو دربار صاحب کرتارپور تک ویزا کے بغیر رسائی حاصل ہوئی۔ پاکستان نے اسے مذہبی سیاحت، بین المذاہب ہم آہنگی اور امن کی علامت کے طور پر پیش کیا۔ کرتارپور نے دنیا کو ایک سادہ مگر طاقتور پیغام دیا: مقدس مقامات نفرت کی سرحدیں نہیں، امن کے پل بن سکتے ہیں۔ تو پھر نگرپارکر کیوں نہیں؟
ذرا تصور کیجیے کہ کارونجھر کی پہاڑیوں کے دامن میں قدیم جین مندر دوبارہ محفوظ حالت میں کھڑے ہوں، راستے بہتر ہوں، ایک چھوٹا مگر جدید ورثہ مرکز قائم ہو اور وہاں جین دھرم کی سندھ میں تاریخ، قدیم تجارتی راستوں، گوڑی، ویراواہ، بوڈھیسر اور کارونجھر کی مذہبی و ثقافتی تاریخ کو محفوظ کیا جائے۔ دنیا بھر سے محقق آئیں، جین یاتری آئیں، سیاح آئیں، مقامی نوجوان گائیڈ بنیں، دستکار اپنی مصنوعات فروخت کریں، چھوٹے کاروبار قائم ہوں، رہائش کے نئے مواقع پیدا ہوں اور تھرپارکر، جسے ہم اکثر محرومی کے استعارے کے طور پر دیکھتے ہیں، اپنے ورثے کے ذریعے معاشی امکانات کی ایک نئی کہانی لکھنا شروع کر دے۔ یہ صرف سیاحت نہیں ہوگی، بلکہ ورثے کو معیشت سے، تاریخ کو روزگار سے اور مذہبی احترام کو سفارت کاری سے جوڑنے کا منصوبہ ہوگا۔
نگرپارکر میں اگر جین ورثہ مرکز بنایا جائے تو اسے محض چند پرانی اشیا رکھنے والا عجائب گھر نہیں ہونا چاہیے، بلکہ ایک زندہ تحقیقی مرکز ہونا چاہیے۔ قدیم کتب، کتبے، تصاویر، نقشے اور دستاویزات ڈیجیٹل شکل میں محفوظ ہوں، مندروں کی سہ جہتی دستاویز کاری کی جائے، جامعات کو تحقیق کے مواقع دیے جائیں اور دنیا بھر کے جین اداروں اور ماہرین کو علمی تعاون کے لیے مدعو کیا جائے۔ اس طرح نگرپارکر کا ورثہ صرف ماضی کی یاد نہیں رہے گا؛ وہ مستقبل کے علم کا ذریعہ بھی بن جائے گا۔
اصل سوال شاید یہ ہے کہ ہم اپنی تاریخ کو کس نظر سے دیکھتے ہیں۔ کیا ہم تاریخ میں صرف وہی کچھ دیکھنا چاہتے ہیں جو ہماری موجودہ شناخت سے مطابقت رکھتا ہو؟ اگر ایسا ہے تو ہم اپنی تاریخ کا ایک بڑا حصہ خود اپنے ہاتھوں سے مٹا دیں گے۔ سندھ کی تہذیب کی خوب صورتی ہی اس کے تنوع میں ہے۔ بدھ مت کے آثار ہوں، ہندو روایات ہوں، جین مندر ہوں، سکھوں کی یادگاریں ہوں یا اسلامی تہذیب کے شاندار آثار، یہ سب سندھ کے تہذیبی حافظے کا حصہ ہیں۔ کسی ایک باب کو مٹانے کا مطلب پوری کتاب کو ادھورا کر دینا ہے۔ اسی لیے جین ورثے کا تحفظ صرف جین برادری کا مسئلہ نہیں؛ یہ سندھ کی تاریخ اور پاکستان کی تہذیبی ذمہ داری ہے۔
جین برادری کے بہت سے صاحبِ ثروت خاندان اور کاروباری افراد خیراتی اداروں، ہسپتالوں، تعلیمی اداروں، مذہبی مراکز، جانوروں کے تحفظ اور ثقافتی منصوبوں پر خطیر رقوم خرچ کرتے رہے ہیں۔ لیکن نگرپارکر کے لیے کسی فرد کی سخاوت سے زیادہ اہم ایک ادارہ جاتی شراکت ہوگی۔ ایک ایسی ’ورثہ شراکت داری‘ جس میں ہر روپے کا حساب ہو، ہر مرمت ماہرین کی نگرانی میں ہو، ہر قدم قانونی ہو اور سب سے بڑھ کر ہر تاریخی عمارت کی اصل شناخت محفوظ رہے۔ کیونکہ آثارِ قدیمہ کی بحالی سیمنٹ اور پتھر کا کام نہیں، یہ یادداشت کی حفاظت ہے۔
سوچیے، اگر ایک دن جین یاتری اپنے آباؤ اجداد کی اس دھرتی پر واپس آئیں، کارونجھر کو دیکھیں، گوڑی کے مندر کے سامنے کھڑے ہوں، ویراواہ کے ستونوں کو احترام سے دیکھیں اور بوڈھیسر کے آثار کے سامنے خاموش کھڑے ہوں۔ شاید ان کی آنکھوں میں آنسو ہوں، اور شاید کسی پاکستانی مقامی گائیڈ کی آنکھوں میں بھی۔ کیونکہ یہ صرف ایک یاتری کی واپسی نہیں ہوگی؛ یہ تاریخ کی واپسی ہوگی۔ یہ سندھ کی اپنی ایک بھولی ہوئی شناخت سے ملاقات ہوگی، اور پاکستان کے لیے دنیا کو یہ بتانے کا موقع ہوگا کہ اس ملک کی تہذیبی داستان اس کی موجودہ سیاسی سرحدوں سے کہیں زیادہ پرانی، وسیع اور رنگا رنگ ہے۔
نگرپارکر کے مندر آج بھی خاموش ہیں، مگر خاموشی ہمیشہ بے زبانی نہیں ہوتی۔ کبھی کبھی خاموش پتھر چیخنے سے زیادہ بلند آواز رکھتے ہیں۔ وہ ہمیں شاید یہی کہہ رہے ہیں کہ ہمیں بھولو نہیں، ہمیں صرف کھنڈر مت سمجھو، ہمیں دوبارہ پڑھو، ہمیں محفوظ کرو اور ہمارے دروازے ان لوگوں کے لیے کھولو جن کے آباؤ اجداد نے کبھی یہاں عبادت کی تھی۔ وقت شاید ہم سے ایک فیصلہ مانگ رہا ہے: کیا ہم ان پتھروں کو ماضی کی قبر بنا دیں گے یا انہیں مستقبل کا دروازہ بنائیں گے؟
اگر پاکستان نگرپارکر کے جین مندروں کو بحال کرتا ہے، جین برادری کو اس ورثے کے تحفظ میں شفاف اور باوقار شراکت دیتا ہے، تحقیق اور سیاحت کے دروازے کھولتا ہے اور جین یاتریوں کے لیے عزت، تحفظ اور برابری کی بنیاد پر راستہ بناتا ہے، تو یہ محض چند مندروں کی مرمت نہیں ہوگی۔ یہ ایک تہذیبی اعلان ہوگا، ایک ایسا اعلان جو کہے گا کہ پاکستان اپنی تاریخ سے خوف زدہ نہیں۔ وہ اپنی سرزمین پر گزرنے والی ہر تہذیب کے نشان کو محفوظ رکھنا چاہتا ہے۔ وہ جانتا ہے کہ ورثہ کسی ایک مذہب، کسی ایک قوم یا کسی ایک دور کی ملکیت نہیں؛ ورثہ آنے والی نسلوں کی امانت ہے۔
اور شاید اسی لیے کارونجھر کے پتھر آج بھی انتظار میں ہیں۔ کسی لشکر کے نہیں، کسی فاتح کے نہیں، صرف ایسے مسافروں کے جو ماضی کو لوٹنے نہیں، اسے سلام کرنے آئیں۔ کیونکہ سرحدیں نقشوں پر کھینچی جاتی ہیں، مگر تہذیبیں دلوں میں آباد رہتی ہیں۔ اور جو ملک اپنی مٹی پر پڑے ہر تہذیب کے قدموں کے نشان کو عزت دیتا ہے، وہ صرف اپنے ماضی کی حفاظت نہیں کرتا، وہ اپنے مستقبل کو بھی وسیع تر، روشن تر اور زیادہ انسانی بناتا ہے۔






