Tag: تھرپارکر

  • صحرا کی ریت میں دفن ایک پوری تہذیب کی کہانی: تھرپارکر میں سات صدیاں قدیم جین مندر اب کس حال میں ہیں؟

    صحرا کی ریت میں دفن ایک پوری تہذیب کی کہانی: تھرپارکر میں سات صدیاں قدیم جین مندر اب کس حال میں ہیں؟

    سندھ کے ضلع تھرپارکر کی دھنکتی ریت میں، جہاں سورج کی تپش زمین کو چیر دیتی ہے اور پانی سونے سے بھی قیمتی ہے، وقت کے خلاف اک عجوبہ آج بھی کھڑا ہے۔ سفید سنگ مرمر اور پہاڑی پتھروں سے تراشے گئے قدیم مندر دھول کے پردے میں سے ایسے اٹھتے ہیں جیسے کسی بھولی بسری تہذیب کے بھوت ہوں۔

    یہ ہیں نگرپارکر کے جین مندر۔ اور ان کے پاس سنانے کو بہت سی کہانیاں ہیں۔

    بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ یہ مندر موجود ہیں۔ اس سے بھی کم لوگ ان کے کھنڈروں میں قدم رکھ پائے ہیں۔ مگر جو لوگ یہاں آتے ہیں، وہ ایک پوری تہذیب کی باقیات کے سامنے کھڑے ہوتے ہیں ، وہ تہذیب جو کبھی اتنے مال و زر سے پھلی پھولی کہ مسافروں نے اس بنجر صحرا کو ہندوستان کا ‘سب سے شاندار خطہ’ قرار دے دیا تھا۔

    جب صحرا بندرگاہ تھا

    آج یہ ناممکن لگتا ہے۔ تھرپارکر سوکھے اور قحط کی سرزمین ہے۔ مگر بارہویں سے پندرھویں صدی کے درمیان یہی علاقہ ‘پاری نگر’ کے نام سے جانا جاتا تھا ، ایک رونق افروز بندرگاہ جہاں بحری جہاز آتے تھے اور سوداگر دولت کے ڈھیر لگاتے تھے۔

    یہاں کے جین تاجر بحیرہ عرب کے راستے تجارت کرتے تھے۔ دریائے ہاکڑو کے کنارے آباد یہ شہر اتنا خوشحال تھا کہ جین برادری نے اپنی عقیدت اور دولت کا اظہار پتھر میں کر دیا۔

    انہوں نے اپنے ایمان کو پتھر کی شکل دی۔ اور پتھر، سلطنتوں کے برعکس، بھولتا نہیں ہے۔

    گوڑی مندر: سنگ مرمر کا شاہکار

    تمام کھنڈروں میں ایک عمارت آج بھی وقار سے کھڑی ہے۔ گوڑی مندر ، جسے گوڑی جو مندر بھی کہا جاتا ہے ، 1375 سے 1376 عیسوی کے درمیان تعمیر ہوا، اور یہ جین مذہب کے 23ویں تیرتھنکر لارڈ پارشوناتھ کے لیے وقف تھا۔

    یہ مکمل طور پر سفید سنگ مرمر سے بنا ہے۔

    اس کی چھت پر 52 چھوٹے گنبد اور دو بڑے گنبد موجود ہیں۔ اندر کی دیواروں پر برصغیر کے شمالی حصے میں موجود قدیم ترین جین فریسکوز (دیواری مصوری) آج بھی موجود ہیں۔ تھری پوشاک میں ملبوس خواتین کی تصاویر اب بھی پتھر پر رقص کرتی ہیں ، ان کے رنگ ماند پڑ چکے ہیں مگر ان کی خوبصورتی چھ صدیوں کے باوجود کم نہیں ہوئی۔

    لیکن زمانہ بے رحم تھا۔ 1898 کے زلزلے نے مندر کے سب سے مقدس حصے شکھر (بلند گنبد) کو تباہ کر دیا۔ 2001 میں آنے والے 7.9 شدت کے زلزلے نے جو باقی بچا تھا، اسے بھی چکنا چور کر دیا۔

    پھر بھی، گوڑی مندر کھڑا ہے۔ ٹوٹا ہوا، مگر سانس لیتا ہوا۔

    ننگر بازار مندر: جہاں عبادت سب سے دیر تک جاری رہی

    ننگرپارکر شہر کے مرکزی بازار کے دل میں ایک اور مندر ایک مختلف کہانی سناتا ہے۔ بازار مندر 1947 تک، جب پاکستان وجود میں آیا ، مسلسل جین مت کے لوگوں کے استعمال میں رہا۔

    اس کے ستونوں پر جین مت کی نقاشی بنی ہوئی ہے، ہر پتھر ایک مقدس کہانی سناتا ہے۔ دیواروں پر موجود قدیم فریسکوز نے صدیوں تک عبادت گزاروں کو دیکھا۔ یہ کوئی بھولا بسری کھنڈر نہیں تھا۔ یہ ایک زندہ، سانس لیتی عبادت گاہ تھی، بالکل اسی لمحے تک جب تقسیمِ ہند نے برصغیر کو چیر کر رکھ دیا۔

    بھوڈیسر: تین مندر، تین تقدیریں

    نگرپارکر سے تقریباً چھ کلومیٹر دور بھوڈیسر کے مقام پر تین جین مندر مختلف مراحل میں کھڑے ہیں۔

    دو مندر 1375 اور 1449 عیسوی میں بنائے گئے تھے۔ تیسرا مکمل طور پر ملبے کا ڈھیر ہے۔

    یہ مندر کارونجھر پہاڑ کے پتھروں سے بنائے گئے ہیں، ان کی گنبد نما چھتیں آسمانوں کی بازگشت سناتی ہیں۔ اور تاریخ کا ایک عجیب موڑ دیکھیے کہ انہی مندروں کے قریب ایک سفید سنگ مرمر کی مسجد بھی موجود ہے، جو 1505 عیسوی میں تعمیر ہوئی ، اس کا طرزِ تعمیر جین مندروں سے اتنا ملتا ہے کہ آپ اسے بھی انہی میں شمار کر سکتے ہیں۔

    وہ مذاہب جو کبھی ساتھ ساتھ رہتے تھے۔ اب وہاں صرف خاموشی رہتی ہے۔

    جین کیوں اپنے قدیم آبائی وطن کو چھوڑ گئے؟

    یہ زوال ایک رات میں نہیں آیا۔ یہ قطرہ قطرہ، پتھر پتھر ہوا۔

    پہلے دریا نے راستہ بدلا۔ سندھ سے آنے والی گاد نے رن کچھ کو بھرنا شروع کر دیا، جس سے بحیرہ عرب پیچھے ہٹ گیا۔ بندرگاہ ختم ہو گئی۔ تجارتی راستے بدل گئے۔ اور انیسویں صدی کے اوائل تک جین برادری بڑی تعداد میں یہاں سے نکلنے لگی۔

    پھر 1947 میں تقسیمِ ہند آئی۔ بہت سے جین خاندان ہندوستان چلے گئے، امن کی تلاش میں۔ چند خاندان نگرپارکر میں رہ گئے، اپنے آبائی گھروں سے چمٹے ہوئے۔

    لیکن 1971 کی پاکستان بھارت جنگ نے آخری ضرب لگائی۔ باقی ماندہ جین خاندانوں نے جو کچھ اٹھا سکتے تھے، سمیٹ لیا۔ مقامی لوگوں کی زبانی روایت کے مطابق، نگرپارکر کا آخری جین خاندان 1972 کی ایک صبح اونٹ پر سوار ہو کر ہندوستان کی طرف روانہ ہوا۔

    وہ کبھی واپس نہیں آئے۔

    جانے سے پہلے، انہوں نے ایک حیران کن کام کیا۔ انہوں نے اپنی مقدس مورتیاں زمین میں دفن کر دیں ، تاکہ انہیں بچا سکیں، تباہی سے محفوظ رکھ سکیں۔ مہاویر کی درجنوں مورتیاں دہائیوں تک مٹی کے نیچے سوتی رہیں، انتظار کرتی رہیں۔

    حیران کن دریافت

    حال ہی میں، نگرپارکر کے ایک جین مندر کی بحالی کے دوران، مزدوروں نے ایک شاندار چیز دریافت کی۔ وہ دفن شدہ مورتیاں ، جنہیں آخری جین خاندان نے 1971 میں بے بسی سے چھپایا تھا ، زمین سے نکلیں۔

    زبانی روایت نے برسوں ان کا ذکر کیا تھا۔ اب زمین نے اپنا راز چھوڑ دیا۔ یہ مورتیاں تحفظ کے لیے حیدرآباد منتقل کر دی گئیں۔ ایک رخصت ہوتی قوم کا آخری عمل، بالآخر روشنی میں آ گیا۔

    آج کیا بچا ہے؟

    ان میں سے زیادہ تر مندر اب کھنڈر ہیں۔ مقامی دیہاتی، اپنے گھروں کے لیے پتھر ڈھونڈتے ہوئے، تاریخ کے ٹکڑے ٹکڑے اٹھا کر لے گئے ہیں۔ فریسکوز مزید دھندلا رہے ہیں۔ سنگ مرمر مزید پھٹ رہا ہے۔

    مگر اب بھی امید ہے۔

    2016 میں ان مندروں کو اقوام متحدہ کے ثقافتی ادارے یونیسکو کی عالمی ثقافتی ورثے کی عارضی فہرست میں شامل کیا گیا۔ سندھ ہائی کورٹ نے حال ہی میں کارونجھر پہاڑی سلسلے کو قانون کے تحت ایک یادگار قرار دیتے ہوئے ہر جین مندر کو اس کی اصل حالت میں بحال کرنے کا حکم دیا ہے۔

    یہ محض عمارتیں نہیں ہیں۔ یہ ایک پوری تہذیب کی کہانی ہے جس نے صحرا کو سونا بنا دیا، جس نے سنگ مرمر سے جنت تعمیر کی، جس نے پہاڑوں کے سائے میں عبادت کی اور کھلے سمندر پر تجارت کی۔

    ان کی کہانی ختم نہیں ہوئی۔ مگر آیا اس کا انجام خوش گوار ہوگا، یہ اس پر منحصر ہے کہ آج ہم کیا کرنے کا انتخاب کرتے ہیں۔

    تھرپارکر کے جین مندر صرف کھنڈر نہیں ہیں۔ وہ اس بات کا ثبوت ہیں کہ کبھی اس سخت سرزمین پر خوشحالی کھلی ہاتھوں برستی تھی، جب سوداگر اس کی بندرگاہوں سے سمندر پار جاتے تھے، جب فنکاروں نے اس کی دیواروں کو خوبصورتی سے سجا دیا تھا، اور جب ایمان نے ایسی عمارتیں تعمیر کیں جنہوں نے مرنے سے انکار کر دیا۔

    آج بھی، ہوا گوڑی مندر کے ٹوٹے ہوئے گنبدوں میں سے گزرتی ہے۔ آج بھی، سورج بازار مندر کے سنگ مرمر کے ستونوں کے پیچھے ڈوبتا ہے۔ اور کہیں صحرا کے نیچے، شاید مزید مورتیاں ابھی بھی سو رہی ہیں، اپنی کہانیاں سنانے کا انتظار کر رہی ہیں۔

    آخری جین خاندان 1972 میں اونٹ پر سوار ہو کر چلا گیا۔ مگر مندر رہ گئے۔

    اور وہ اب بھی بول رہے ہیں۔

  • تھرپارکر کے ماحول، مویشیوں اور مقامی آبادی کے روزگار کو بہتر بنانے والا منصوبہ ‘CAMELL’سینیٹ کمیٹی میں مذاق کیوں بنا؟

    تھرپارکر کے ماحول، مویشیوں اور مقامی آبادی کے روزگار کو بہتر بنانے والا منصوبہ ‘CAMELL’سینیٹ کمیٹی میں مذاق کیوں بنا؟

    سینیٹ کی اسٹینڈنگ کمیٹی برائے قومی غذائی تحفظ و تحقیق کے حالیہ اجلاس میں ‘تھر کمیونٹی ایکشنز فار دی مینجمنٹ آف سسٹین ایبل ایکوسسٹم، لائیوسٹاک اینڈ لائیولی ہڈ’ (CAMELL) منصوبے کے نام کو بعض ارکان کی جانب سے اونٹ (Camel) سے جوڑنے پر سوشل میڈیا پر خاصی گرماگرمی اور تنقید ہوئی، تاہم اجلاس میں دی گئی بریفنگ کے مطابق یہ منصوبہ دراصل تھرپارکر کے ماحول، مویشیوں اور مقامی آبادی کے روزگار کو بہتر بنانے کے لیے ایک اہم ترقیاتی اقدام ہے۔

    سینیٹر سید مسرور احسن کی سربراہی میں کمیٹی اجلاس کو بتایا گیا کہ CAMELL منصوبہ آئندہ مالی سال 2026-27 کے پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام میں شامل کرنے کی تجویز ہے۔

    بعض ارکان نے اس منصوبے کو ترقیاتی پروگرام میں تاخیر سے شامل کرنے پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ تھرپارکر جیسے پسماندہ اور خشک سالی سے متاثرہ علاقے کے لیے ایسے منصوبوں کی فوری ضرورت ہے۔

    اسٹیٹ منسٹر ملک رشید احمد خان کے مطابق وفاقی حکومت نے متعلقہ اداروں کی مشاورت سے اس منصوبے کا ابتدائی خاکہ تیار کیا ہے جبکہ اس کا پی سی-ون تیاری کے مرحلے میں ہے۔ اس کو آئندہ مالی سال کے بجیٹ میں شامل کرنے کا ارادہ ہے۔

    منصوبے کی بنیادی فنڈنگ وفاقی حکومت فراہم کرے گی، جبکہ مستقبل میں بین الاقوامی ترقیاتی شراکت داروں اور دیگر اداروں کی معاونت بھی حاصل کی جا سکتی ہے۔ منصوبہ باقاعدہ منظوری کے بعد شروع کیا جائے گا اور حکام کا کہنا ہے کہ منظوری ملتے ہی عملی کام کا آغاز کر دیا جائے گا۔
    کیمل منصوبے کا مقصد تھرپارکر میں ماحولیاتی نظام کو بہتر بنانا، قدرتی وسائل کا پائیدار استعمال یقینی بنانا اور مقامی لوگوں کے معاشی مواقع بڑھانا ہے۔ اس منصوبے کے تحت چراگاہوں کی بحالی، مقامی مویشیوں کی نسلوں کے تحفظ، پانی کے ذخائر کی بہتری اور حیاتیاتی تنوع کے تحفظ کے لیے مختلف اقدامات کیے جائیں گے۔

    اس کے علاوہ علاقے میں جدید تشخیصی لیبارٹریوں کے قیام کی تجویز بھی شامل ہے تاکہ مویشیوں کی بیماریوں کی بروقت تشخیص اور علاج ممکن ہو سکے۔

    حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ منصوبے میں کمیونٹی کی شمولیت کو خاص اہمیت دی جائے گی۔ مقامی آبادی کو ماحول دوست زرعی اور لائیوسٹاک طریقوں کی تربیت دی جائے گی تاکہ وہ قدرتی وسائل کو نقصان پہنچائے بغیر اپنی آمدنی میں اضافہ کر سکیں۔

    اسی مقصد کے لیے مختلف تربیتی پروگرام، آگاہی مہمات اور مقامی سطح پر کمیونٹی تنظیموں کے قیام کا بھی منصوبہ بنایا گیا ہے۔
    منصوبے کے تحت بارش کے پانی کو محفوظ کرنے کے نظام کو بہتر بنانے پر بھی کام کیا جائے گا تاکہ خشک موسم میں لوگوں اور مویشیوں کے لیے پانی کی دستیابی ممکن ہو سکے۔ اس کے ساتھ ساتھ شجرکاری مہم کے ذریعے علاقے میں سبزہ بڑھانے اور ماحولیاتی توازن کو بہتر بنانے کی کوشش کی جائے گی۔

    چراگاہوں کی بحالی کے اقدامات سے مویشی پالنے سے وابستہ ہزاروں خاندانوں کو فائدہ پہنچنے کی توقع ہے۔
    حکام کے مطابق خواتین اور نوجوانوں کو منصوبے کا اہم حصہ بنایا جائے گا۔ خواتین کو دستکاری، گھریلو صنعتوں اور چھوٹے کاروبار کے لیے تربیت فراہم کی جائے گی جبکہ نوجوانوں کو جدید زرعی اور مویشی پالنے کے طریقوں سے آگاہ کیا جائے گا تاکہ وہ اپنے علاقوں میں روزگار کے نئے مواقع پیدا کر سکیں۔

    مقامی کمیٹیوں کے قیام کے ذریعے لوگوں کو منصوبہ بندی اور عملدرآمد کے مراحل میں شامل رکھا جائے گا تاکہ منصوبے کے نتائج دیرپا ثابت ہوں۔
    سرکاری ذرائع کا کہنا ہے کہ منصوبے کی حتمی مدت اور آغاز کی تاریخ منظوری کے بعد جاری کی جائے گی، تاہم اس نوعیت کے ترقیاتی منصوبے عموماً تین سے پانچ سال کے عرصے پر مشتمل ہوتے ہیں۔ ابتدائی تیاریوں کا عمل پہلے ہی شروع کیا جا چکا ہے تاکہ منظوری کے بعد کام میں تاخیر نہ ہو۔
    ماہرین ماحولیات اور سماجی کارکنوں کا کہنا ہے کہ تھرپارکر میں پانی کی کمی، چراگاہوں کی خرابی اور محدود روزگار کے مواقع جیسے مسائل کے حل کے لیے جامع منصوبوں کی اشد ضرورت ہے۔

    ان کے مطابق اگر یہ منصوبہ مؤثر طریقے سے نافذ کیا گیا تو اس سے نہ صرف ماحول کے تحفظ میں مدد ملے گی بلکہ ہزاروں خاندانوں کے معاشی حالات میں بھی نمایاں بہتری آ سکتی ہے۔

    کمیٹی ارکان نے بھی اس منصوبے کو علاقے کی ترقی کے لیے اہم قرار دیتے ہوئے متعلقہ وزارت کو ہدایت کی ہے کہ منصوبے کی تیاری اور منظوری کے عمل کو تیز کیا جائے تاکہ اسے جلد از جلدپبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام میں شامل کر کے عملی اقدامات شروع کیے جا سکیں۔

    توقع کی جا رہی ہے کہ یہ منصوبہ تھرپارکر میں پائیدار ماحول اور روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے میں اہم کردار ادا کرے گا اور علاقے کی مجموعی سماجی و معاشی ترقی کو فروغ دے گا۔

  • تھرپارکر میں مویشی پالنے والے افراد اپنے مویشیوں کے گلے میں مختلف سائز کی گھنٹیاں کیوں باندھتے ہیں؟

    تھرپارکر میں مویشی پالنے والے افراد اپنے مویشیوں کے گلے میں مختلف سائز کی گھنٹیاں کیوں باندھتے ہیں؟

    روز صبح سورج طلوع ہونے سے پہلے تھر کے دیہات میں رہنے والے چرواہے اپنی بھیڑ بکریوں کو جنگل کی طرف لے جاتے ہیں۔ اس وقت پورے گاؤں میں اذان اور مندروں کی گھنٹیوں کی آواز کے ساتھ جانوروں کے گلے میں بندھی گھنٹیوں کی آواز بھی سنائی دیتی ہے۔ یہ مدھر آواز دیہاتیوں کو میٹھی نیند سے جگا دیتی ہے۔

    یہ گھنٹیاں چرواہے قریبی چھوٹے بڑے شہروں میں لگنے والی جانوروں کی منڈیوں سے خریدتے ہیں۔ ان منڈیوں میں گھنٹیاں بیچنے والے باقاعدہ دکانیں لگاتے ہیں۔

    گھنٹیاں عموماً چھوٹے شہروں میں بسنے والے لوہار قبیلے کے لوگ بناتے ہیں۔ تاہم ان میں سر دیہات میں رہنے والے ماہر افراد سیٹ کرتے ہیں۔ یہ لوگ گھنٹیوں میں سر درست کرنے کے ماہر مانے جاتے ہیں۔

    دیہاتی بتاتے ہیں کہ ان گھنٹیوں کے اندر ایک لکڑی لگائی جاتی ہے جسے مقامی زبان میں لار کہا جاتا ہے۔ یہ لار خاص طور پر تھر میں پائے جانے والے کونبہٹ کے درخت سے تیار کی جاتی ہے۔ اس میں کنبھٹ کی لکڑی کا بیچ والا کالا حصہ استعمال ہوتا ہے جسے مقامی زبان میں کرسی کہا جاتا ہے۔ ماضی میں بعض اوقات جانوروں کی ہڈیاں بھی لار کے طور پر استعمال کی جاتی تھیں۔

    لکڑی لگانے کے بعد گھنٹی کا سر سیٹ کیا جاتا ہے۔ اس دوران ماہر فرد گھنٹی کو ہاتھ سے بجاتا ہے اور ایک چھوٹی لوہے کی ہتھوڑی سے آہستہ آہستہ مارتا ہے۔ جب مطلوبہ سر بن جاتا ہے تو اس کی آواز کانوں کو خوشگوار محسوس ہوتی ہے۔

    چرواہوں کے مطابق جانوروں میں باندھی جانے والی گھنٹیوں کے دو سر ہوتے ہیں۔ ایک سر کو مقامی زبان میں ہکڑ کہا جاتا ہے جبکہ دوسرے کو سرلو کہتے ہیں۔ ہکڑ کو کڑوا سر اور سرلو کو میٹھا سر سمجھا جاتا ہے۔

    چرواہے بتاتے ہیں کہ تھر میں خاص طور پر بارشوں کے موسم میں گھنٹیاں باندھی جاتی ہیں کیونکہ اس دوران زیادہ تر زمین کاشت ہوتی ہے۔ اگر جانور کسی کے کھیت میں داخل ہو جائیں تو گھنٹیوں کی آواز سے فوراً معلوم ہو جاتا ہے۔ اس طرح کاشتکار کو بھی خبر ہو جاتی ہے۔ موسم کے بعد یہ گھنٹیاں جانوروں سے اتار لی جاتی ہیں۔

    کچھ گھنٹیاں ایسے جانوروں میں باندھی جاتی ہیں جو ریوڑ کی رہنمائی کرتے ہیں۔ یہ جانور آگے چلتا ہے اور باقی سب اس کے پیچھے ہوتے ہیں۔ اسی طرح جو جانور ریوڑ سے الگ ہو جائے اس میں بھی مخصوص گھنٹی باندھی جاتی ہے جسے ہکڑ کہا جاتا ہے۔ کئی چرواہے شوقیہ طور پر بھی جانوروں میں گھنٹیاں باندھتے ہیں۔

    چرواہوں کا کہنا ہے کہ بارشوں کے موسم میں وہ اکثر رات کے وقت جانور چرانے لے جاتے ہیں۔ اس وقت جانور نظر نہیں آتے مگر گھنٹیوں کی آواز سے ان کی نقل و حرکت پر نظر رکھی جاتی ہے۔ چرواہے یہ بھی کہتے ہیں کہ وہ اپنے جانوروں کی گھنٹیوں کی آواز پہچان لیتے ہیں۔

    گھنٹیاں ان کے سائز کے حساب سے بھی پہچانی جاتی ہیں اور ہر سائز کا الگ نام ہوتا ہے۔ سب سے چھوٹی گھنٹیاں بکری اور بھیڑ میں باندھی جاتی ہیں جنہیں کڑک کہا جاتا ہے۔ گائے میں باندھی جانے والی بڑی گھنٹی کو اٹھ آنی کہا جاتا ہے۔ ہر جانور کے قد اور جسامت کے مطابق گھنٹی منتخب کی جاتی ہے۔

    آج بھی تھر کے چراگاہوں میں یہ گھنٹیاں سنائی دیتی ہیں۔ چرواہوں کے لیے یہ آوازیں صرف شناخت نہیں بلکہ چراگاہوں کی موسیقی ہیں جو پورے علاقے کو ایک خاص لے میں باندھ دیتی ہیں۔

  • تھرپارکر کا گاؤں ویڑھی جھپ گاؤں جو اونٹوں اور گھوڑوں کے ساز و سنگار کے اشیا کا مرکز سمجھا جاتا ہے

    تھرپارکر کا گاؤں ویڑھی جھپ گاؤں جو اونٹوں اور گھوڑوں کے ساز و سنگار کے اشیا کا مرکز سمجھا جاتا ہے

    تھرپارکر ضلع میں اونٹوں اور گھوڑوں کے ساز و سنگار کا سامان تیار کرنے والے کاریگروں کے مطابق انتہائی محنت سے بنائے جانے والے سامان کی مناسب قیمت نہ ملنے کے بعد اب اس شعبے کے کاریگر نہ ہونے کے برابر ہیں۔

    اونٹوں اور گھوڑوں کے ساز و سنگار کا سامان تیار کرنے والے کاریگروں کی اکثریت مینگھواڑ جاتی کے لوگ ہیں۔

    تحصیل ڈیپلو کے گاؤں ویڑھی جھپ جہاں درویش راول فقیر اور پارو فقیر مدفون اور ان کی درگاہ پر ہر سال میلہ لگتا ہے جس میں بڑی تعداد میں عقیتد مند اور زائرین شرکت کرتے ہیں۔

    اونٹوں اور گھوڑوں کے ساز و سنگار کا سامان تیار کرنے والے کاریگروں ویڑھی جھپ گاؤں کے رہائشی ہیں۔

    پورے پاکستان میں سب سے زیادہ اونٹ تھرپارکر میں پائے جاتے ہیں اور گھوڑوں کی بھی ایک بڑی تعداد تھر میں موجود ہے۔ یہاں کے شوقین افراد کے ساتھ ساتھ پاکستان کے مختلف حصوں اور بیرون ملک سے آنے والے شوقین لوگ بھی ویڑھی جھپ کا رخ کرتے ہیں اور یہاں تیار ہونے والا ساز و سامان خریدتے ہیں، جن میں گھڑوں اور اونٹوں کو سجانے والا ساز و سامان شامل ہیں۔

    یہ بہت کم ہوتا ہے کہ ان ہاتھ سے تیار کی گئی اشیا کی مکمل قیمت ان کاریگروں کو مل سکے۔ مڈل مین اور دکاندار ویڑھی جھپ، اسلام کوٹ، چڑیال، سینہار اور دیگر دیہات سے یہ سامان کم قیمت پر خرید لیتے ہیں، مگر کاریگروں کو مناسب اجرت کبھی نہیں ملتی۔ مقامی کاریگر برسوں سے اس ناانصافی کے خلاف آواز اٹھاتے آ رہے ہیں۔

    کاریگروں کا کہنا ہے کہ اگر سندھ حکومت چاہے تو دیہات میں جدید طرز کے چھوٹے کارخانے قائم کر سکتی ہے، جو انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا سے منسلک ہوں، تاکہ وہ اپنی تیار کردہ اشیا براہِ راست آن لائن فروخت کر سکیں اور انہیں بروقت اور مکمل معاوضہ مل سکے۔

    ویڑھی جھپ گاؤں میں انہی کاریگروں اور دیگر دیہاتیوں کی بچیاں، اسکول کی عمارت موجود ہونے کے باوجود خواتین اساتذہ نہ ہونے کی وجہ سے یا تو گھروں تک محدود ہیں یا پھر بے ترتیبی کے ساتھ اور بعض اوقات لڑکوں کے ساتھ اسکول جانے پر مجبور ہیں۔ دوسری جانب گاؤں میں پہلے کے مقابلے میں اب نصف سے زیادہ کاریگر یہ کام چھوڑ چکے ہیں۔ نوجوان لڑکے یہ آبائی پیشہ ترک کر کے کراچی، حیدرآباد اور حب بلوچستان میں مزدوری کرتے ہیں۔

    اس لیے ہاتھ کے ہنر کو فروغ دینے والے اداروں کی ذمہ داری ہے کہ کاریگروں کو مناسب اجرت دلوانے اور دیہات میں پیداواری مراکز قائم کرنے میں مدد کریں، تاکہ صدیوں سے چلا آ رہا یہ ہنر زندہ رہ سکے۔

  • مٹھی کے نوجوان کی سائیکل مہم، پباسرو پوائنٹ پر خواب کی تکمیل

    مٹھی کے نوجوان کی سائیکل مہم، پباسرو پوائنٹ پر خواب کی تکمیل

    تھرپارکر کے نوجوان سروپ کھتری نے مٹھی شہر سے نگرپارکر کے قریب واقع پباسرو پوائنٹ تک سائیکل پر سفر کر کے اپنے ایک ذاتی خواب کو حقیقت میں بدل دیا۔ اس سفر کے دوران انہوں نے کیمرے سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ سائیکل پر اس راستے کو طے کرنا ان کا دیرینہ خواب تھا، جو اب پورا ہو گیا ہے۔

    سروپ کھتری کے مطابق یہ سفر آسان نہیں تھا، مگر راستے میں تھر کے بدلتے مناظر، خاموش ریگستان اور کھلے آسمان نے تھکن کا احساس کم کر دیا۔ پباسرو پوائنٹ پہنچ کر انہوں نے اس مقام کی قدرتی خوبصورتی دکھائی اور بتایا کہ انہوں نے وہیں رات گزارنے کے لیے کیمپ بھی لگایا۔

    پباسرو پوائنٹ نگرپارکر کے اس خطے میں واقع ہے جہاں ریت، پتھریلی زمین اور کھلے میدان ایک دوسرے سے جڑے نظر آتے ہیں۔ یہ علاقہ اپنی قدرتی ساخت، پرسکون فضا اور دور تک پھیلے مناظر کی وجہ سے مقامی سیاحوں کے لیے خاص کشش رکھتا ہے۔ یہاں انسانی مداخلت نسبتاً کم ہے، جس کے باعث فطری ماحول اب بھی بڑی حد تک برقرار ہے۔

    ماہرین ماحولیات کے مطابق نگرپارکر اور اس کے اطراف کے علاقے تھر کے ماحولیاتی نظام کا اہم حصہ ہیں۔ یہ خطہ مختلف مقامی پودوں اور جانوروں کی بقا کے لیے اہم سمجھا جاتا ہے اور بارش کے بعد یہاں کی زمین اور نباتات میں نمایاں تبدیلی دیکھی جا سکتی ہے۔ اسی وجہ سے ایسے مقامات کو محفوظ رکھنا ماحولیاتی توازن کے لیے ضروری قرار دیا جاتا ہے۔

    سروپ کھتری کا کہنا ہے کہ اس طرح کے سائیکل سفر اور کیمپنگ نہ صرف جسمانی صحت کے لیے مفید ہیں بلکہ انسان کو فطرت کے قریب بھی لے جاتے ہیں۔ ان کے مطابق تھر میں موجود ایسے مقامات نوجوانوں کے لیے مثبت سرگرمیوں اور فطرت سے جڑنے کا موقع فراہم کر سکتے ہیں، بشرطیکہ سیاحت ذمہ داری کے ساتھ کی جائے۔

    یہ سفر صرف ایک ذاتی مہم نہیں بلکہ اس بات کی یاد دہانی بھی ہے کہ تھرپارکر میں موجود قدرتی مقامات خاموشی، سادگی اور حسن کا ایسا امتزاج رکھتے ہیں جو آج کے تیز رفتار دور میں کم ہی دیکھنے کو ملتا ہے۔ سروپ کھتری کا سائیکل سفر اسی حسن کو محسوس کرنے اور دکھانے کی ایک کوشش ہے۔

  • تھرپارکر: صحرا تھر میں چنکارا ہرن کے تحفظ کی فوری ضرورت

    تھرپارکر: صحرا تھر میں چنکارا ہرن کے تحفظ کی فوری ضرورت

    تھرپارکر دنیا کے چند منفرد سبز ریگستانی خطوں میں شمار ہوتا ہے۔ یہاں کا جغرافیہ، زمین کی ساخت، ثقافت، روایات، پودے اور جنگلی حیات اسے ایک الگ شناخت دیتے ہیں۔ ماہرین ماحولیات کے مطابق تھرپارکر پاکستان کے ان خطوں میں شامل ہے جہاں جیو ویودتا نمایاں طور پر موجود ہے۔ اسی وجہ سے اسے اکثر اوپن ایئر میوزیم سے تشبیہ دی جاتی ہے۔

    گزشتہ دو دہائیوں میں تھرپارکر موسمیاتی تبدیلی اور انسانی سرگرمیوں کے باعث شدید ماحولیاتی دباؤ کا شکار ہوا ہے۔ بارشوں کے غیر یقینی سلسلے، بار بار خشک سالی، آبادی میں اضافہ اور قدرتی وسائل پر بڑھتا ہوا انحصار اس خطے کے قدرتی توازن کو متاثر کر رہا ہے۔ ان حالات میں جنگلی حیات خاص طور پر خطرے میں ہے۔

    چنکارا ہرن، جسے ہندی غزال بھی کہا جاتا ہے، تھرپارکر کی نمایاں جنگلی پرجاتیوں میں شامل ہے۔ یہ ہرن پاکستان، انڈیا اور ایران کے خشک اور نیم خشک علاقوں میں پایا جاتا ہے۔ اس کا قدرتی مسکن صحرا، خشک جنگلات اور کھلے میدان ہیں۔ اگر محفوظ ماحول میسر ہو تو یہ جانور اپنی رہائش گاہ سے دور نقل مکانی نہیں کرتا۔

    ماہرین کے مطابق چنکارا ایک نسبتاً چھوٹا اور پھرتیلا ہرن ہے۔ اس کی جسامت متناسب، رنگت موسم کے مطابق بدلتی رہتی ہے اور یہ اپنی تیز حرکات کی وجہ سے پہچانا جاتا ہے۔ یہی خصوصیات اسے شکاریوں سے بچنے میں مدد دیتی ہیں، مگر موجودہ حالات میں یہ صفات بھی اسے مکمل تحفظ فراہم نہیں کر پا رہیں۔

    تھرپارکر میں چنکارا ہرن کی موجودہ آبادی کے بارے میں کوئی مستند اور تازہ سائنسی اعداد و شمار دستیاب نہیں۔ عالمی سطح پر جنگلی حیات کی درجہ بندی کرنے والے ادارے بھی پاکستان میں چنکارا کی درست تعداد یا آبادی کے رجحان کے بارے میں واضح اعداد و شمار فراہم نہیں کرتے۔ مقامی سطح پر مختلف اندازے اور مشاہدات ضرور بیان کیے جاتے ہیں، مگر ان کی سائنسی بنیاد پر تصدیق نہیں ہو سکی۔

    یہ امر البتہ واضح ہے کہ غیر قانونی شکار، رہائش گاہوں کی تباہی اور ماحولیاتی دباؤ نے چنکارا کے لیے خطرات میں اضافہ کیا ہے۔ تھر میں شکاری سرگرمیاں اب بھی یادداشتوں اور مقامی بیانات کا حصہ ہیں، مگر ان کے بارے میں مستند اور مکمل رپورٹنگ کم ہوتی ہے۔ اکثر واقعات رپورٹ ہی نہیں ہو پاتے۔

    ماضی میں تھر کے مقامی سماج، خاص طور پر راجپوت اور آدی واسی قبائل، زمین اور اس کے جانداروں کے ساتھ ہم آہنگ زندگی گزارا کرتے تھے۔ ان کے غیر تحریری سماجی اصولوں میں جنگلی حیات کے احترام اور تحفظ کا تصور شامل تھا۔ ہرنوں اور پرندوں کو نقصان پہنچانا معیوب سمجھا جاتا تھا۔ وقت کے ساتھ یہ سماجی ڈھانچہ کمزور پڑ گیا اور اس کے ساتھ فطرت کے تحفظ کی روایت بھی متاثر ہوئی۔

    چنکارا ہرن کا ذکر برصغیر اور فارسی شاعری میں حسن، نرمی اور پھرتی کی علامت کے طور پر ملتا ہے۔ تھر کے لوک ادب اور کہانیوں میں بھی اس جانور کی موجودگی نمایاں رہی ہے۔ مقامی دانشور اور شاعر آج اس بات پر افسوس کا اظہار کرتے ہیں کہ وہ صحرا، جہاں ہرنوں کی چھلانگیں اور موروں کا رقص عام تھا، اب تیزی سے خاموشی کی طرف بڑھ رہا ہے۔

    تھرپارکر میں رن کچھ وائلڈ لائف سینکچری سنہ 1980 سے اور مٹھی چنکارا سینکچری سنہ 2010 سے قائم ہیں، مگر ان علاقوں کے لیے جامع اور مؤثر مینجمنٹ پلان تاحال سامنے نہیں آ سکا۔ وائلڈ لائف کی سائنسی بنیادوں پر باقاعدہ سروے نہ ہونے کے باعث درست صورت حال کا اندازہ لگانا مشکل ہے۔ یہی خلا غیر یقینی اور متضاد دعوؤں کو جنم دیتا ہے۔

    وائلڈ لائف آرڈیننس 1972 کے تحت سینکچری علاقوں میں شکار پر پابندی عائد ہے اور ان کے اطراف میں بھی ہتھیار لے جانا ممنوع قرار دیا گیا ہے۔ تاہم زمینی حقائق یہ بتاتے ہیں کہ قانون پر مؤثر عمل درآمد ایک مستقل چیلنج بنا ہوا ہے۔ مقامی سطح پر اکثر یہ سوال اٹھایا جاتا ہے کہ جب خلاف ورزی سامنے آتی ہے تو سزائیں کیوں مؤثر ثابت نہیں ہوتیں۔

    ضلع تھرپارکر تقریباً 19 ہزار مربع کلومیٹر پر پھیلا ہوا ہے اور اسے دنیا کے گنجان آباد صحراؤں میں شمار کیا جاتا ہے۔ یہاں کی معیشت کا انحصار زیادہ تر زراعت اور لائیو اسٹاک پر ہے، جن دونوں کا دارومدار بارش پر ہوتا ہے۔ موسمیاتی تبدیلی کے باعث بارشوں کا نظام متاثر ہونے سے قدرتی چراگاہیں اور مقامی درخت تیزی سے ختم ہو رہے ہیں، جو کبھی چنکارا ہرن کی خوراک اور پناہ گاہ تھے۔

    ماہرین ماحولیات کے مطابق چنکارا جیسے جانور کسی بھی صحرا کے قدرتی حسن اور ماحولیاتی توازن کی علامت ہوتے ہیں۔ جہاں یہ موجود ہوں، وہاں زندگی کے آثار نمایاں رہتے ہیں۔ تھرپارکر میں چنکارا کے تحفظ کے لیے سائنسی سروے، مؤثر مینجمنٹ پلان، سخت قانون نافذ کرنے اور مقامی کمیونٹیز کی شمولیت ناگزیر ہو چکی ہے۔

  • تھرپارکر کے کارونجھر سے انڈیا کے اراولی تک: پہاڑی سلسلوں کے تحفظ کے لیے تحریکیں متحرک

    تھرپارکر کے کارونجھر سے انڈیا کے اراولی تک: پہاڑی سلسلوں کے تحفظ کے لیے تحریکیں متحرک

    تھرپارکر کے کارونجھر پہاڑی سلسلے کو بچانے کے لیے مقامی لوگ مسلسل اور پُرامن جدوجہد نے سرحد پار ایک نئی ماحولیاتی بیداری کو جنم دیا ہے۔ اسی جدوجہد سے حوصلہ پاکر مغربی انڈیا میں اراولی پہاڑی سلسلے کے تحفظ کے لیے ایک منظم، غیر جانبدار اور شہری بنیادوں پر قائم تحریک سرگرم ہو چکی ہے۔

    اس تحریک میں نیشنل کیپیٹل ریجن سمیت انڈیا کے مختلف علاقوں کے عام شہری شامل ہیں، جن کا کسی سیاسی جماعت، مذہبی تنظیم یا کاروباری گروہ سے کوئی تعلق نہیں۔ ان کا واحد مقصد اراولی پہاڑی سلسلے کو تباہی سے بچانا ہے۔

    اراولی پہاڑی سلسلہ شمال مغربی انڈیا میں تقریباً سات سو کلومیٹر تک پھیلا ہوا ہے۔ یہ گجرات سے شروع ہو کر راجستھان، ہریانہ سے گزرتا ہوا دہلی تک پہنچتا ہے۔ یہ پہاڑ اپنے راستے میں آباد بستیوں کے لیے ایک خوبصورت قدرتی پس منظر بناتے ہیں۔ اراولی کی سب سے بلند چوٹی گرو شکھر راجستھان میں واقع ماؤنٹ آبو پر ہے۔

    انڈیا میں 1970 کی دہائی کی معروف چپکو تحریک اور سندھ کے صحرا میں 2019 کی گگرال کے درخت کو راکھی باندھ کر بچانے کی تاریخی ماحول دوست جدوجہد آج اراولی بچاؤ تحریک کے لیے ایک مثال اور رہنمائی کا ذریعہ ہیں۔

    اراولی بچاؤ تحریک کے رہنماؤں کے مطابق اس وقت اراولی پہاڑی سلسلہ شدید ماحولیاتی دباؤ کا شکار ہے۔ پہاڑوں میں بڑے پیمانے پر کان کنی ہو رہی ہے، رہائشی اور تجارتی عمارتیں تیزی سے بن رہی ہیں، غیر قانونی قبضے بڑھ رہے ہیں اور ماحول کے تحفظ سے متعلق قوانین کو کمزور کیا جا رہا ہے۔

    ان تمام سرگرمیوں کے باعث اراولی کو ایسا نقصان پہنچ رہا ہے جس کی بھرپائی ممکن نہیں۔
    ماہرین ارضیات کے مطابق اراولی کی اہمیت صرف انڈیا تک محدود نہیں۔ اس کا ارضیاتی رشتہ پاکستان کے جنوب مشرقی صوبہ سندھ سے بھی جڑتا ہے۔ یہاں پائی جانے والی گرینائٹ جیسی چٹانیں اسی قدیم نظام سے منسلک سمجھی جاتی ہیں جو اراولی میں بھی پائی جاتی ہیں۔

    بعض تحقیقی مطالعات کے مطابق نگرپارکر کے کارونجھر پہاڑی سلسلے کے گرینائٹ ذخائر مغربی راجستھان میں موجود قدیم آتش فشانی سلسلے کی توسیع ہیں، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ سرحد کے دونوں جانب ایک ہی ارضیاتی تاریخ کے اثرات موجود ہیں۔
    سندھ کے سرکاری معدنیاتی ریکارڈ میں بھی نگرپارکر کے اس قدیم چٹانی نظام کے پھیلاؤ کی نشاندہی ملتی ہے، جو رن آف کچھ کے قریب واقع ہے۔


    راجستھان میں اراولی پہاڑی سلسلے کے بلند ترین مقام گرو شکھر سے نظر آنے والا منظر

    اسی طرح سکھر کے قریب روہڑی کے علاقے میں موجود چٹانی ٹیلے مکمل پہاڑی سلسلہ تو نہیں، مگر ماہرین انہیں مشرقی سرحد کے ساتھ واقع انڈیای پہاڑی علاقوں سے جوڑتے ہیں۔

    روہڑی کے سماجی رہنما ستار زنگیجو کے مطابق خیرپور کے کوٹ بنگلو اور روہڑی کی چٹانیں اسی خطے سے مشابہ ہیں، اور سندھ کے شہری اراولی کے تحفظ کی شہری تحریک کی اخلاقی حمایت کرتے ہیں۔

    دو ماحولیاتی طور پر متنازع انڈین منصوبے
    اراولی پہاڑی سلسلے کی عمر کروڑوں سال بتائی جاتی ہے۔ یہ سلسلہ شمال مغربی انڈیا کے موسم کو متوازن رکھنے میں کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔ اراولی نہ صرف گریٹر تھر کے صحرا کو پھیلنے سے روکتی ہے بلکہ زیرِ زمین پانی کو محفوظ رکھنے اور لاکھوں افراد کو پینے اور زراعت کے لیے پانی فراہم کرنے میں بھی مدد دیتی ہے۔

    حالیہ برسوں میں انڈین حکومت نے دو ایسے بڑے منصوبے شروع کیے ہیں جنہیں ماہرین ماحول دشمن قرار دے رہے ہیں۔ پہلا منصوبہ اراولی چٹانوں کی کٹائی سے متعلق ہے۔

    اکتوبر 2025 میں سپریم کورٹ کے ایک فیصلے کے تحت ایک سو میٹر سے کم اونچائی والی چٹانوں کو پہاڑوں کے بچائو کے قانونی دائرے سے خارج کر دیا گیا، جس کے نتیجے میں راجستھان، ہریانہ، دہلی اور گجرات تک پھیلی اراولی چٹانوں کی بڑی مقدار قانونی تحفظ سے محروم ہو گئی ہے۔

    اس فیصلے کے بعد ان چٹانوں کی کٹائی اور ہمواری کی راہ ہموار ہو گئی ہے۔
    دوسرا متنازع منصوبہ راجستھان کے صحرائی خطے میں جالور اندرونی بندرگاہ کی تعمیر ہے۔ اس منصوبے کے تحت گجرات کے ساحل سے سمندری پانی کو سینکڑوں کلومیٹر اندر لا کر ایک بندرگاہ قائم کی جائے گی، تاکہ اراولی کی معدنیات کو بحری جہازوں کے ذریعے برآمد کیا جا سکے۔

    ماہرین کے مطابق سمندری پانی کو اتنا اندر لانے سے زیرِ زمین پانی کے نمکین ہونے کا شدید خطرہ ہے، جس سے آبی نظام مستقل طور پر متاثر ہو سکتا ہے۔ یہ منصوبہ لونی اور جاوائی دریاؤں پر انحصار کرتا ہے، جہاں پہلے ہی آلودگی اور پانی کی قلت موجود ہے۔ بڑے پیمانے پر کھدائی سے ان دریاؤں کے قدرتی بہاؤ پر مزید دباؤ پڑنے کا خدشہ ہے۔

    انڈیا کے اراولی پہاڑی سلسلے کا نقشہ: یہ سلسلہ شمال مغربی انڈیا میں تقریباً سات سو کلومیٹر تک پھیلا ہوا ہے۔

    پاکستان کی سرحد سے جڑا مغربی راجستھان کا صحرائی ماحولیاتی نظام نہایت نازک سمجھا جاتا ہے۔ یہاں کی نباتات اور جنگلی حیات محدود وسائل پر قائم ہیں، اور بندرگاہ کی تعمیر اور بڑھتی ہوئی آمد و رفت سے اس توازن کے بگڑنے کا اندیشہ ہے۔

    موسمیاتی تبدیلی نے صورتحال کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔ درجہ حرارت میں اضافہ، بارشوں کی غیر یقینی کیفیت اور زیرِ زمین پانی کی سطح میں مسلسل کمی ماہرین کے لیے تشویش کا باعث بن رہی ہے۔

    سندھ کے صحرا اور ماحولیاتی نظام کو درپیش خطرات
    بظاہر یہ منصوبے انڈیا کے اندرونی ترقیاتی اقدامات دکھائی دیتے ہیں، مگر پاکستانی ماہرین کے مطابق ان کے اثرات سرحدوں تک محدود نہیں رہیں گے۔ ماہر ماحولیات عرفان عباسی کا کہنا ہے کہ اگر جالور اندرونی بندرگاہ اور 2025 کی نئی سپریم کورٹ تعریف کے بعد اراولی کی مسلسل کٹائی جاری رہی تو اس کے ماحولیاتی اثرات پورے خطے کو اپنی لپیٹ میں لے سکتے ہیں۔

    ان کے مطابق سندھ کے ساحل سے لے کر ہمالیہ تک ایک سلسلہ وار موسمی تبدیلیاں شروع ہو سکتی ہیں۔

    جالور بندرگاہ کا منصوبہ رن آف کچھ اور بحیرۂ عرب سے جڑنے کی وجہ سے پاکستان کے صوبہ سندھ کے ساتھ مشترکہ سمندری اور آبی نظام کو براہِ راست متاثر کرتا ہے۔

    جالور بندرگاہ کے لیے 262 کلومیٹر طویل نہر کی کھدائی سے خلیجِ کچھ میں مد و جزر کے نظام میں تبدیلی کا خدشہ ہے۔
    سندھ میں پہلے ہی سجاول اور بدین اضلاع میں سمندری پانی کی دراندازی ایک سنگین مسئلہ ہے، جس نے زرخیز زمینوں کو بنجر بنا دیا ہے۔ یہ منصوبہ انڈس ڈیلٹا میں میٹھے پانی کی باقی ماندہ گزرگاہوں میں نمکین پانی کے پھیلاؤ کو مزید تیز کر سکتا ہے۔

    سرحد کے قریب تعمیراتی سرگرمیوں اور بحری آمدورفت میں اضافے سے انڈس ڈیلٹا کے تمر یا مینگرووز کو بھی خطرات لاحق ہیں۔ گزشتہ چند دہائیوں میں یہ مینگرووز تقریباً 42 فیصد کم ہو چکے ہیں، حالانکہ یہی جنگلات ساحلی سندھ کو سمندری طوفانوں اور کٹاؤ سے بچانے کا سب سے مضبوط دفاع ہیں۔

    اگرچہ جالور منصوبہ انڈیای دریائی نظام تک محدود ہے، تاہم رن آف کچھ کے آبی توازن میں تبدیلی سندھ کے ڈیلٹا میں نمکین اور میٹھے پانی کے نازک توازن کو متاثر کر سکتی ہے، جس سے ماہی گیری، جھینگا فارمنگ اور ساحلی معیشت کو نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے۔

    ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ اگر اراولی پہاڑی سلسلہ کمزور پڑ گیا تو تھر کے ریگستان سے اٹھنے والی ریت اور گرد و غبار کی آندھیاں بغیر کسی قدرتی رکاوٹ کے ہریانہ اور قومی دارالحکومت کے خطے تک پہنچیں گی، جس سے صحرا زدگی کا عمل تیز اور ماحولیاتی بحران مزید گہرا ہو جائے گا۔

    ماحولیاتی ماہر عرفان عباسی کے مطابق پاکستان کو انٹرنیشنل کورٹ آف جسٹس میں دونوں ماحول دشمن منصوبوں کے خلاف کیس داخل کرنا چاہیے۔

  • مٹھی: گائے کی زچگی کے دوران موت ہونے یتیم نر بچھڑے ’سورجیو بیل’ کی مقامی افرادتمام عمر اجتماعی کفالت کیسے کرتے ہیں؟

    مٹھی: گائے کی زچگی کے دوران موت ہونے یتیم نر بچھڑے ’سورجیو بیل’ کی مقامی افرادتمام عمر اجتماعی کفالت کیسے کرتے ہیں؟

    سندھ کے ضلع تھرپارکر میں اگر زچگی کے دوران گائے مر جائے اور نر بچھڑا زندہ بچ جائے تو اس یتیم بچھڑے کو مٹھی شہر کے مرکزی چوک پر رکھ دیا جاتا ہے اور مٹھی کے رہائشی اجتماعی طور پر اس یتیم بچھڑے کو پال کر نہ صرف بڑا کرتے ہیں، مگر جب تک وہ زندہ ہوتا ہے اس بیل کی اجتماعی کفالت کی جاتی ہے۔

    یتیم بچھڑے کے بڑے ہونے پر اس کو ’سورجیو بیل’کا نام دیا جاتا ہے اور مٹھی شہر کے راستوں پر ٓج پر درجنوں ’سورجیو بیل’دیکھے جاسکتے ہیں۔
    سندھ میں ایک منفرد سماجی اور مذہبی روایت پائی جاتی ہے جسے مقامی طور پر سورج بیل کہا جاتا ہے۔ اس روایت کا تعلق ایسے بیل بچھڑے سے ہوتا ہے جو ولادت کے دوران گائے کی موت کے بعد زندہ بچ جائے۔ مقامی عقیدے کے مطابق جب گائے زچگی کے دوران مر جائے اور اس کا بچہ زندہ رہے تو وہ بچھڑا یتیم تصور کیا جاتا ہے اور اسے کسی ایک فرد کی ملکیت نہیں رہنے دیا جاتا۔

    مقامی افراد کے مطابق سورج بیل یا ’سورجیو بیل’کو کسی ایک گھر یا باڑے میں بند نہیں کیا جاتا بلکہ اسے آزاد چھوڑ دیا جاتا ہے تاکہ وہ شہر میں گھوم پھر سکے۔ اس طرح یہ بیل پورے شہر کی مشترکہ ذمہ داری بن جاتا ہے۔

    شہر کے مختلف علاقوں میں گھومتے ہوئے سورج بیل کو دکاندار، راہگیر اور مقامی رہائشی خوراک فراہم کرتے ہیں۔ دکانوں کے سامنے اس کے لیے اناج، سبز چارہ، روٹیاں، دودھ اور دیگر اشیائے خورونوش رکھی جاتی ہیں۔

    مٹھی کے بازاروں میں سورج بیل کا آنا ایک معمول کی بات سمجھی جاتی ہے اور لوگ اسے دیکھ کر خوراک پیش کرتے ہیں۔ سورج بیل اکثر انہی راستوں پر گھومتا ہے جہاں انسانی سرگرمیاں زیادہ ہوتی ہیں۔

    مقامی ہندو برادری کے مطابق بیل کو مذہبی اہمیت حاصل ہے اور اسے طاقت، محنت اور تحفظ کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ مٹھی میں سورج بیل کی روایت اسی مذہبی اور سماجی سوچ سے جڑی ہوئی ہے۔ یہاں گائے کے ساتھ ساتھ بیل کو بھی مقدس جانور مانا جاتا ہے۔ اسی لیے یتیم بچھڑے کو تنہا چھوڑنے کے بجائے اجتماعی نگہداشت کا حصہ بنایا جاتا ہے۔

    ’سورجیو بیل’کی دیکھ بھال کے لیے کوئی باقاعدہ کمیٹی یا ادارہ قائم نہیں ہوتا بلکہ یہ ذمہ داری فطری طور پر شہر کے لوگوں میں تقسیم ہو جاتی ہے۔ بعض اوقات مقامی لوگ اس کی صحت کا خیال رکھنے کے لیے جانوروں کے ڈاکٹر سے بھی رجوع کرتے ہیں۔ اگر سورج بیل بیمار ہو جائے تو علاج کے اخراجات بھی اجتماعی طور پر برداشت کیے جاتے ہیں۔

    یہ بیل عموماً پُرامن اور مانوس ہوتا ہے کیونکہ اسے شروع سے انسانوں کے درمیان رہنے کی عادت ہو جاتی ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ سورج بیل کسی کو نقصان نہیں پہنچاتا اور ٹریفک یا بازار میں بھی محتاط انداز میں چلتا ہے۔ پولیس اور بلدیاتی عملہ بھی اس بیل کو شہر کی روایت کا حصہ سمجھتے ہوئے اسے ہٹانے کی کوشش نہیں کرتا۔

    مٹھی کی یہ روایت کئی دہائیوں سے جاری ہے اور مقامی ثقافت کا حصہ بن چکی ہے۔ ’سورجیو بیل’نہ صرف مذہبی عقیدے سے جڑا ہوا ہے بلکہ یہ روایت مٹھی میں اجتماعی ذمہ داری، جانوروں سے ہمدردی اور سماجی ہم آہنگی کی ایک مثال کے طور پر دیکھی جاتی ہے۔ شہر میں آنے والے مہمانوں اور سیاحوں کے لیے ’سورجیو بیل’ایک منفرد منظر ہوتا ہے جو تھرپارکر کی سماجی زندگی کی عکاسی کرتا ہے۔

     

  • تھرپارکر: ملیے کارونجھر کی پہاڑیوں میں یوگا کرنے والے نوجوان سے

    تھرپارکر: ملیے کارونجھر کی پہاڑیوں میں یوگا کرنے والے نوجوان سے

    سندھ کے ضلع تھرپارکر کے ہیڈکواٹر والے شہر مٹھی کے رہائشی نوجوان سروپ کھتری مٹھی سے تقریباً 130 کلومیٹر دور ننگرپارکر میں واقع منفرد پہاڑی سلسلے کارونجھر میں یوگا کرنے جاتے ہیں۔

    سروپ کھتری کارونجھر کی پہاڑیوں اور غاروں میں یوگا کرتے ہیں۔
    کارونجھر پہاڑی سلسلہ رن آف کچھ کے شمالی کنارے کے پر واقع وسیع رقبے پر پھیلا ہوا ہے۔ کارونجھر کی پہاڑیاں بنیادی طور پر رنگ برنگے گرینائیٹ پتھروں پر مشتعمل ہیں۔ یہاں چائنا کلے کے ذخائر بھی پائے جاتے ہیں۔ کارونجھر پاکستان کی ان چند مقامت میں ایک ہیں، جہاں آج بھی جین مذہب کے مندر موجود ہیں۔

    کارونجھر میں مختلف جنگلی جانور پائے جاتے ہیں، جن میں مور اور ہرن شامل ہیں۔ سندھ کی حکومت نے اسے ثقافتی اور ورثہ سائٹ کے طور پر محفوظ قرار دیا ہے۔

    مون سون بارش کے بعد اس منفرد پہاڑی سلسلے سے متعدد چھوٹی بڑی ندیاں بہتی ہیں۔
    سروپ کھتری کے مطابق وہ ذہنی سکوں اور جسمانی فٹنیس کے لیے یوگا کرتے ہیں۔

    ساگا ڈیجیٹل اے آئی سے گفتگو کرتے ہوئے سروپ کھتری نے کہا: ‘کارونجھر کی پہاڑیاں انتہائی پرسکوں ہیں، جہاں کئی اقسام کے درخت، پودے، گھاس کے ساتھ پرندوں کے چہچانے کی آواز ماحول کو فطرت کی قریب کردیتیں ہیں۔

    ‘مجھے کارونجھر میں یوگا کرتے ہوئے ذہنی سکون کے ساتھ میں اس جگہ یوگا کرکے جسمانی طور پر خود کو انتہائی فٹ سمجھتا ہوں۔’
    سروپ کھتری بتاتے ہیں کہ جب وہ دباؤ یا اداسی محسوس کرتے ہیں تو وہ پہاڑوں پر جا کر مخصوص جسمانی مشقیں کرتے ہیں، جس سے انہیں ذہنی اور جسمانی سکون ملتا ہے۔

    ان کا کہنا ہے کہ یہ مشقیں کسی مذہبی روایت کے طور پر نہیں بلکہ صحت اور توانائی کے لیے کی جاتی ہیں۔
    بقول سروپ کھتری: ‘یہ مشقیں دراصل یوگا کہلاتی ہیں، جو برصغیر کی قدیم روایت ہے اور جسم، ذہن اور سانس کے درمیان توازن قائم کرنے پر زور دیتی ہے۔

    ‘یوگا کی مختلف اقسام یا ‘آسن’ ہیں، جن میں جسمانی حرکات اور سانس کے مخصوص معمولات شامل ہوتے ہیں۔ مشق کرنے والے اپنے جسم کی لچک، قوت برداشت اور ذہنی توجہ کو بہتر بنا سکتے ہیں۔
    ‘عام طور پر لوگ یوگا کو ہندومت کے عبادت سمجھتے ہیں، مگر ورزش کی اس اقسم کا مذہب سے کوئی تعلق نہیں۔ یورب، امریکہ سمیت مختلف ممالک کے لوگ یوگا سیکھنا چاہتے ہیں۔

    ‘کئی ممالک میں ایسی اکیڈمیاں اور ادارے ہیں جہاں یوگا کو مضمون کے طور پر پڑھایا جاتا ہے اور یہ ایک ادائیگی والا تعلیمی کورس ہوتا ہے۔ اس میں طلبہ کو جسمانی حرکات، سانس کے طریقے اور ذہنی توازن کے اصول سکھائے جاتے ہیں۔’
    سروپ کھتری کئی سالوں سے یوگا کی مشقیں کررہے ہیں۔