[rank_math_breadcrumb]

تھرپارکر کا گاؤں ویڑھی جھپ گاؤں جو اونٹوں اور گھوڑوں کے ساز و سنگار کے اشیا کا مرکز سمجھا جاتا ہے

تھرپارکر ضلع میں اونٹوں اور گھوڑوں کے ساز و سنگار کا سامان تیار کرنے والے کاریگروں کے مطابق انتہائی محنت سے بنائے جانے والے سامان کی مناسب قیمت نہ ملنے کے بعد اب اس شعبے کے کاریگر نہ ہونے کے برابر ہیں۔

اونٹوں اور گھوڑوں کے ساز و سنگار کا سامان تیار کرنے والے کاریگروں کی اکثریت مینگھواڑ جاتی کے لوگ ہیں۔

تحصیل ڈیپلو کے گاؤں ویڑھی جھپ جہاں درویش راول فقیر اور پارو فقیر مدفون اور ان کی درگاہ پر ہر سال میلہ لگتا ہے جس میں بڑی تعداد میں عقیتد مند اور زائرین شرکت کرتے ہیں۔

اونٹوں اور گھوڑوں کے ساز و سنگار کا سامان تیار کرنے والے کاریگروں ویڑھی جھپ گاؤں کے رہائشی ہیں۔

پورے پاکستان میں سب سے زیادہ اونٹ تھرپارکر میں پائے جاتے ہیں اور گھوڑوں کی بھی ایک بڑی تعداد تھر میں موجود ہے۔ یہاں کے شوقین افراد کے ساتھ ساتھ پاکستان کے مختلف حصوں اور بیرون ملک سے آنے والے شوقین لوگ بھی ویڑھی جھپ کا رخ کرتے ہیں اور یہاں تیار ہونے والا ساز و سامان خریدتے ہیں، جن میں گھڑوں اور اونٹوں کو سجانے والا ساز و سامان شامل ہیں۔

یہ بہت کم ہوتا ہے کہ ان ہاتھ سے تیار کی گئی اشیا کی مکمل قیمت ان کاریگروں کو مل سکے۔ مڈل مین اور دکاندار ویڑھی جھپ، اسلام کوٹ، چڑیال، سینہار اور دیگر دیہات سے یہ سامان کم قیمت پر خرید لیتے ہیں، مگر کاریگروں کو مناسب اجرت کبھی نہیں ملتی۔ مقامی کاریگر برسوں سے اس ناانصافی کے خلاف آواز اٹھاتے آ رہے ہیں۔

کاریگروں کا کہنا ہے کہ اگر سندھ حکومت چاہے تو دیہات میں جدید طرز کے چھوٹے کارخانے قائم کر سکتی ہے، جو انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا سے منسلک ہوں، تاکہ وہ اپنی تیار کردہ اشیا براہِ راست آن لائن فروخت کر سکیں اور انہیں بروقت اور مکمل معاوضہ مل سکے۔

ویڑھی جھپ گاؤں میں انہی کاریگروں اور دیگر دیہاتیوں کی بچیاں، اسکول کی عمارت موجود ہونے کے باوجود خواتین اساتذہ نہ ہونے کی وجہ سے یا تو گھروں تک محدود ہیں یا پھر بے ترتیبی کے ساتھ اور بعض اوقات لڑکوں کے ساتھ اسکول جانے پر مجبور ہیں۔ دوسری جانب گاؤں میں پہلے کے مقابلے میں اب نصف سے زیادہ کاریگر یہ کام چھوڑ چکے ہیں۔ نوجوان لڑکے یہ آبائی پیشہ ترک کر کے کراچی، حیدرآباد اور حب بلوچستان میں مزدوری کرتے ہیں۔

اس لیے ہاتھ کے ہنر کو فروغ دینے والے اداروں کی ذمہ داری ہے کہ کاریگروں کو مناسب اجرت دلوانے اور دیہات میں پیداواری مراکز قائم کرنے میں مدد کریں، تاکہ صدیوں سے چلا آ رہا یہ ہنر زندہ رہ سکے۔

اسی بارے میں: