تھرپارکر دنیا کے چند منفرد سبز ریگستانی خطوں میں شمار ہوتا ہے۔ یہاں کا جغرافیہ، زمین کی ساخت، ثقافت، روایات، پودے اور جنگلی حیات اسے ایک الگ شناخت دیتے ہیں۔ ماہرین ماحولیات کے مطابق تھرپارکر پاکستان کے ان خطوں میں شامل ہے جہاں جیو ویودتا نمایاں طور پر موجود ہے۔ اسی وجہ سے اسے اکثر اوپن ایئر میوزیم سے تشبیہ دی جاتی ہے۔
گزشتہ دو دہائیوں میں تھرپارکر موسمیاتی تبدیلی اور انسانی سرگرمیوں کے باعث شدید ماحولیاتی دباؤ کا شکار ہوا ہے۔ بارشوں کے غیر یقینی سلسلے، بار بار خشک سالی، آبادی میں اضافہ اور قدرتی وسائل پر بڑھتا ہوا انحصار اس خطے کے قدرتی توازن کو متاثر کر رہا ہے۔ ان حالات میں جنگلی حیات خاص طور پر خطرے میں ہے۔
چنکارا ہرن، جسے ہندی غزال بھی کہا جاتا ہے، تھرپارکر کی نمایاں جنگلی پرجاتیوں میں شامل ہے۔ یہ ہرن پاکستان، انڈیا اور ایران کے خشک اور نیم خشک علاقوں میں پایا جاتا ہے۔ اس کا قدرتی مسکن صحرا، خشک جنگلات اور کھلے میدان ہیں۔ اگر محفوظ ماحول میسر ہو تو یہ جانور اپنی رہائش گاہ سے دور نقل مکانی نہیں کرتا۔
ماہرین کے مطابق چنکارا ایک نسبتاً چھوٹا اور پھرتیلا ہرن ہے۔ اس کی جسامت متناسب، رنگت موسم کے مطابق بدلتی رہتی ہے اور یہ اپنی تیز حرکات کی وجہ سے پہچانا جاتا ہے۔ یہی خصوصیات اسے شکاریوں سے بچنے میں مدد دیتی ہیں، مگر موجودہ حالات میں یہ صفات بھی اسے مکمل تحفظ فراہم نہیں کر پا رہیں۔
تھرپارکر میں چنکارا ہرن کی موجودہ آبادی کے بارے میں کوئی مستند اور تازہ سائنسی اعداد و شمار دستیاب نہیں۔ عالمی سطح پر جنگلی حیات کی درجہ بندی کرنے والے ادارے بھی پاکستان میں چنکارا کی درست تعداد یا آبادی کے رجحان کے بارے میں واضح اعداد و شمار فراہم نہیں کرتے۔ مقامی سطح پر مختلف اندازے اور مشاہدات ضرور بیان کیے جاتے ہیں، مگر ان کی سائنسی بنیاد پر تصدیق نہیں ہو سکی۔
یہ امر البتہ واضح ہے کہ غیر قانونی شکار، رہائش گاہوں کی تباہی اور ماحولیاتی دباؤ نے چنکارا کے لیے خطرات میں اضافہ کیا ہے۔ تھر میں شکاری سرگرمیاں اب بھی یادداشتوں اور مقامی بیانات کا حصہ ہیں، مگر ان کے بارے میں مستند اور مکمل رپورٹنگ کم ہوتی ہے۔ اکثر واقعات رپورٹ ہی نہیں ہو پاتے۔
ماضی میں تھر کے مقامی سماج، خاص طور پر راجپوت اور آدی واسی قبائل، زمین اور اس کے جانداروں کے ساتھ ہم آہنگ زندگی گزارا کرتے تھے۔ ان کے غیر تحریری سماجی اصولوں میں جنگلی حیات کے احترام اور تحفظ کا تصور شامل تھا۔ ہرنوں اور پرندوں کو نقصان پہنچانا معیوب سمجھا جاتا تھا۔ وقت کے ساتھ یہ سماجی ڈھانچہ کمزور پڑ گیا اور اس کے ساتھ فطرت کے تحفظ کی روایت بھی متاثر ہوئی۔
چنکارا ہرن کا ذکر برصغیر اور فارسی شاعری میں حسن، نرمی اور پھرتی کی علامت کے طور پر ملتا ہے۔ تھر کے لوک ادب اور کہانیوں میں بھی اس جانور کی موجودگی نمایاں رہی ہے۔ مقامی دانشور اور شاعر آج اس بات پر افسوس کا اظہار کرتے ہیں کہ وہ صحرا، جہاں ہرنوں کی چھلانگیں اور موروں کا رقص عام تھا، اب تیزی سے خاموشی کی طرف بڑھ رہا ہے۔
تھرپارکر میں رن کچھ وائلڈ لائف سینکچری سنہ 1980 سے اور مٹھی چنکارا سینکچری سنہ 2010 سے قائم ہیں، مگر ان علاقوں کے لیے جامع اور مؤثر مینجمنٹ پلان تاحال سامنے نہیں آ سکا۔ وائلڈ لائف کی سائنسی بنیادوں پر باقاعدہ سروے نہ ہونے کے باعث درست صورت حال کا اندازہ لگانا مشکل ہے۔ یہی خلا غیر یقینی اور متضاد دعوؤں کو جنم دیتا ہے۔
وائلڈ لائف آرڈیننس 1972 کے تحت سینکچری علاقوں میں شکار پر پابندی عائد ہے اور ان کے اطراف میں بھی ہتھیار لے جانا ممنوع قرار دیا گیا ہے۔ تاہم زمینی حقائق یہ بتاتے ہیں کہ قانون پر مؤثر عمل درآمد ایک مستقل چیلنج بنا ہوا ہے۔ مقامی سطح پر اکثر یہ سوال اٹھایا جاتا ہے کہ جب خلاف ورزی سامنے آتی ہے تو سزائیں کیوں مؤثر ثابت نہیں ہوتیں۔
ضلع تھرپارکر تقریباً 19 ہزار مربع کلومیٹر پر پھیلا ہوا ہے اور اسے دنیا کے گنجان آباد صحراؤں میں شمار کیا جاتا ہے۔ یہاں کی معیشت کا انحصار زیادہ تر زراعت اور لائیو اسٹاک پر ہے، جن دونوں کا دارومدار بارش پر ہوتا ہے۔ موسمیاتی تبدیلی کے باعث بارشوں کا نظام متاثر ہونے سے قدرتی چراگاہیں اور مقامی درخت تیزی سے ختم ہو رہے ہیں، جو کبھی چنکارا ہرن کی خوراک اور پناہ گاہ تھے۔
ماہرین ماحولیات کے مطابق چنکارا جیسے جانور کسی بھی صحرا کے قدرتی حسن اور ماحولیاتی توازن کی علامت ہوتے ہیں۔ جہاں یہ موجود ہوں، وہاں زندگی کے آثار نمایاں رہتے ہیں۔ تھرپارکر میں چنکارا کے تحفظ کے لیے سائنسی سروے، مؤثر مینجمنٹ پلان، سخت قانون نافذ کرنے اور مقامی کمیونٹیز کی شمولیت ناگزیر ہو چکی ہے۔

