حال ہی میں ایک ویڈیو میں انڈین اداکارہ عالیہ بھٹ نے یہ دعویٰ کیا کہ اجرک کا تعلق انڈیا کے کَچھ خطے سے ہے۔ یہ بات تاریخی اور تہذیبی حقائق سے مطابقت نہیں رکھتی، اس لیے اس معاملے کی اصل حقیقت سامنے لانا ضروری ہے تاکہ ایک قدیم ورثے کے بارے میں ابہام دور ہو سکے۔
اجرک محض ایک کپڑا نہیں بلکہ ہزاروں سال پرانی وادی سندھ کی تہذیب کی علامت ہے۔ اس کے رنگ، نقش و نگار اور ترتیب محض آرائش نہیں بلکہ ایک مکمل فکری اور ثقافتی زبان ہیں، جو صدیوں سے سندھ کے معاشرتی شعور کا حصہ رہی ہے۔
موہن جو دڑو سے ملنے والے آثار اس حقیقت کی تصدیق کرتے ہیں کہ اجرک جیسی ڈیزائن روایت آج سے ہزاروں سال پہلے سندھ میں موجود تھی۔ موہن جو دڑو کے مشہور پجاری کنگ پریسٹ کے مجسمے پر اوڑھی ہوئی شال پر وہی جیومیٹریائی نقش دکھائی دیتے ہیں جو آج بھی اجرک میں نظر آتے ہیں، جو تہذیبی تسلسل کا واضح ثبوت ہیں۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ اجرک کے روایتی رنگ نیلا اور سرخ فطری ذرائع سے حاصل کیے جاتے تھے۔ نیلا رنگ نیل کے پودے سے جبکہ سرخ رنگ انار، مٹی اور دیگر قدرتی اجزا سے تیار کیا جاتا تھا۔ اس پورے عمل میں کئی دن لگتے تھے اور ہر مرحلہ مخصوص مہارت کا تقاضا کرتا تھا۔
اجرک کی بلاک پرنٹنگ میں لکڑی کے ہاتھ سے بنے بلاکس استعمال ہوتے ہیں، جن کے نقش نسل در نسل منتقل ہوتے رہے ہیں۔ سندھ کے بعض کاریگر آج بھی وہی بلاکس استعمال کر رہے ہیں جن کی عمر کئی دہائیوں پر محیط ہے، جو اس ہنر کی زندہ روایت کو ظاہر کرتا ہے۔
یہ بات درست ہے کہ آج انڈیا کے کچھ علاقوں، خاص طور پر کَچھ اور راجستھان میں بھی اجرک نما کپڑے تیار کیے جاتے ہیں۔ مگر تاریخی طور پر یہ اثرات سندھ اور وادی سندھ کی تہذیب سے وہاں تک پہنچے، جو قدیم تجارتی راستوں اور ثقافتی روابط کا نتیجہ تھے۔
ثقافتیں جدید سیاسی سرحدوں سے کہیں زیادہ قدیم ہوتی ہیں۔ اجرک اس حقیقت کی واضح مثال ہے کہ تہذیبی علامتیں زمانے، سلطنتوں اور ریاستوں کی تبدیلی کے باوجود اپنی اصل شناخت برقرار رکھتی ہیں۔
اجرک سندھ کی پہچان ہے، وادی سندھ کی وراثت ہے، اور ایک ایسی تہذیبی داستان ہے جو ہزاروں سال کے سفر کے بعد بھی زندہ ہے۔ اسے کسی ایک جدید خطے سے جوڑنا تاریخ اور تہذیب دونوں کے ساتھ ناانصافی کے مترادف ہے۔
