Tag: اجرک

  • منفرد رنگوں اور معنی خیز ڈیزائنوں میں چھپی صدیوں پرانی داستان، سندھ کی پہچان اجرک کیسے تیار کی جاتی ہے؟

    منفرد رنگوں اور معنی خیز ڈیزائنوں میں چھپی صدیوں پرانی داستان، سندھ کی پہچان اجرک کیسے تیار کی جاتی ہے؟

    یہ صرف ایک کپڑا نہیں۔ یہ سندھ کی پہچان ہے۔ اجرک، ایک ایسی روایت جو وقت کے ساتھ ختم نہیں ہوئی بلکہ اور گہری ہوتی گئی۔ اس کے رنگ، اس کے نقش، اور اس کی خوشبو میں تاریخ کے کئی باب محفوظ ہیں۔

    حیران کن بات یہ ہے کہ موئن جو دڑو سے ملنے والے مشہور مجسمے ‘کنگ پریسٹ’ کے کندھے پر جو کپڑا دکھایا گیا ہے، اس کا ڈیزائن آج کی اجرک سے حیرت انگیز حد تک ملتا جلتا ہے۔ ماہرین آثار قدیمہ کے مطابق اس مجسمے پر بنے تین پتیوں والے نقش اور جیومیٹرک پیٹرن اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ سندھ میں کپڑے پر نقش بنانے کی روایت ہزاروں سال پرانی ہو سکتی ہے، اگرچہ موجودہ اجرک اپنی موجودہ شکل میں بعد کے ادوار میں ترقی پاتی رہی۔

    سندھ میں اجرک صرف لباس نہیں بلکہ احترام کی علامت ہے۔ آج بھی جب کسی مہمان کا استقبال کیا جاتا ہے تو اسے اجرک اور سندھی ٹوپی پہنائی جاتی ہے۔ یہ روایت صرف ایک رسمی عمل نہیں بلکہ عزت دینے کا ایک ثقافتی اظہار ہے جو نسلوں سے جاری ہے۔

    اجرک بنانے کا عمل خود ایک فن ہے، اور یہ فن آسان نہیں۔ ایک روایتی اجرک تیار کرنے کے لیے کپڑے کو تقریباً بیس مراحل سے گزارا جاتا ہے۔ پہلے کپڑے کو بار بار دھویا جاتا ہے تاکہ اس میں موجود فیکٹری کیمیکل ختم ہو جائیں۔ اس کے بعد اس پر مٹی، گوند اور دیگر قدرتی اجزاء کا لیپ کیا جاتا ہے، جسے مقامی زبان میں ‘کچھو’ کہا جاتا ہے، تاکہ رنگ کپڑے میں اچھی طرح جذب ہو سکے۔

    اس کے بعد لکڑی کے ہاتھ سے تراشے گئے بلاکس استعمال کیے جاتے ہیں۔ ہر بلاک ایک مخصوص نقش رکھتا ہے، اور ایک مکمل اجرک بنانے کے لیے یہی بلاکس بار بار کپڑے پر لگائے جاتے ہیں۔ یہ عمل انتہائی صبر اور مہارت کا متقاضی ہوتا ہے، اور ایک اجرک تیار ہونے میں عموماً دو ہفتے یا اس سے بھی زیادہ وقت لگ سکتا ہے۔

    اجرک کے رنگ بھی اس کی پہچان ہیں۔ اس کا گہرا نیلا رنگ نیل کے پودے سے حاصل کیا جاتا ہے، جبکہ سرخی مائل رنگ قدرتی جڑوں اور معدنی مادوں سے بنایا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ روایتی اجرک کے رنگ وقت کے ساتھ مدھم نہیں پڑتے بلکہ مزید نکھر جاتے ہیں۔ جدید کیمیائی رنگوں کے مقابلے میں یہ قدرتی رنگ زیادہ پائیدار سمجھے جاتے ہیں۔

    اجرک کے ڈیزائن محض خوبصورتی کے لیے نہیں ہوتے۔ ان میں ستارے، دائرے اور جیومیٹرک اشکال شامل ہوتی ہیں۔ بعض محققین کے مطابق یہ ڈیزائن کائنات، زمین اور توازن کی علامت سمجھے جاتے ہیں۔ یعنی اجرک کا ہر نقش ایک کہانی سناتا ہے، ایک معنی رکھتا ہے۔

    ایک کم معروف حقیقت یہ بھی ہے کہ اجرک بنانے والے کئی کاریگر آج بھی سو سال سے زیادہ پرانے لکڑی کے بلاکس استعمال کرتے ہیں۔ یہ بلاکس نسل در نسل منتقل ہوتے ہیں، اور ہر کاریگر اپنے خاندان کی شناخت انہی نقشوں میں محفوظ رکھتا ہے۔

    آج کے دور میں اجرک صرف دیہات تک محدود نہیں رہی۔ یہ شہروں میں بھی ثقافتی شناخت کا حصہ بن چکی ہے۔ سیاسی جلسوں سے لے کر ثقافتی تقریبات تک، اجرک ایک علامت کے طور پر نمایاں نظر آتی ہے۔

    اجرک ہمیں یہ یاد دلاتی ہے کہ ثقافت صرف کتابوں میں نہیں ہوتی، بلکہ روزمرہ زندگی میں زندہ رہتی ہے۔ یہ ایک کپڑا ضرور ہے، مگر اس میں سندھ کی تاریخ، روایت اور شناخت کی پوری داستان لپٹی ہوئی ہے۔

  • ‘اجرک کی بنیاد انڈیا کے خطے کَچھ سے ہوئی’: اداکارہ عالیہ بھٹ کا دعویٰ کتنا سچا؟

    ‘اجرک کی بنیاد انڈیا کے خطے کَچھ سے ہوئی’: اداکارہ عالیہ بھٹ کا دعویٰ کتنا سچا؟

    حال ہی میں ایک ویڈیو میں انڈین اداکارہ عالیہ بھٹ نے یہ دعویٰ کیا کہ اجرک کا تعلق انڈیا کے کَچھ خطے سے ہے۔ یہ بات تاریخی اور تہذیبی حقائق سے مطابقت نہیں رکھتی، اس لیے اس معاملے کی اصل حقیقت سامنے لانا ضروری ہے تاکہ ایک قدیم ورثے کے بارے میں ابہام دور ہو سکے۔

    اجرک محض ایک کپڑا نہیں بلکہ ہزاروں سال پرانی وادی سندھ کی تہذیب کی علامت ہے۔ اس کے رنگ، نقش و نگار اور ترتیب محض آرائش نہیں بلکہ ایک مکمل فکری اور ثقافتی زبان ہیں، جو صدیوں سے سندھ کے معاشرتی شعور کا حصہ رہی ہے۔

    موہن جو دڑو سے ملنے والے آثار اس حقیقت کی تصدیق کرتے ہیں کہ اجرک جیسی ڈیزائن روایت آج سے ہزاروں سال پہلے سندھ میں موجود تھی۔ موہن جو دڑو کے مشہور پجاری کنگ پریسٹ کے مجسمے پر اوڑھی ہوئی شال پر وہی جیومیٹریائی نقش دکھائی دیتے ہیں جو آج بھی اجرک میں نظر آتے ہیں، جو تہذیبی تسلسل کا واضح ثبوت ہیں۔

    دلچسپ بات یہ ہے کہ اجرک کے روایتی رنگ نیلا اور سرخ فطری ذرائع سے حاصل کیے جاتے تھے۔ نیلا رنگ نیل کے پودے سے جبکہ سرخ رنگ انار، مٹی اور دیگر قدرتی اجزا سے تیار کیا جاتا تھا۔ اس پورے عمل میں کئی دن لگتے تھے اور ہر مرحلہ مخصوص مہارت کا تقاضا کرتا تھا۔

    اجرک کی بلاک پرنٹنگ میں لکڑی کے ہاتھ سے بنے بلاکس استعمال ہوتے ہیں، جن کے نقش نسل در نسل منتقل ہوتے رہے ہیں۔ سندھ کے بعض کاریگر آج بھی وہی بلاکس استعمال کر رہے ہیں جن کی عمر کئی دہائیوں پر محیط ہے، جو اس ہنر کی زندہ روایت کو ظاہر کرتا ہے۔

    یہ بات درست ہے کہ آج انڈیا کے کچھ علاقوں، خاص طور پر کَچھ اور راجستھان میں بھی اجرک نما کپڑے تیار کیے جاتے ہیں۔ مگر تاریخی طور پر یہ اثرات سندھ اور وادی سندھ کی تہذیب سے وہاں تک پہنچے، جو قدیم تجارتی راستوں اور ثقافتی روابط کا نتیجہ تھے۔

    ثقافتیں جدید سیاسی سرحدوں سے کہیں زیادہ قدیم ہوتی ہیں۔ اجرک اس حقیقت کی واضح مثال ہے کہ تہذیبی علامتیں زمانے، سلطنتوں اور ریاستوں کی تبدیلی کے باوجود اپنی اصل شناخت برقرار رکھتی ہیں۔

    اجرک سندھ کی پہچان ہے، وادی سندھ کی وراثت ہے، اور ایک ایسی تہذیبی داستان ہے جو ہزاروں سال کے سفر کے بعد بھی زندہ ہے۔ اسے کسی ایک جدید خطے سے جوڑنا تاریخ اور تہذیب دونوں کے ساتھ ناانصافی کے مترادف ہے۔